حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث

User Rating: 1 / 5

Star ActiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
بَابُ : مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب : حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث مبارک کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَخِي جُوَيْرِيَةَ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ : مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا سِلاَحَهُ وَبَغْلَتَهُ وَأَرْضًا جَعَلَهَا صَدَقَةً.
ترجمہ: حضرت ام المؤمنین(میری امی) جویریہ رضی اللہ عنہا کے بھائی حضرت عمر و بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وراثت میں صرف کچھ ہتھیار ، ایک خچر اور زمین ہی چھوڑی اور ان کو بھی صدقہ فرمادیا تھا۔
زبدۃ:
ان کے علاوہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے استعمال کے کپڑوں کا بالکل ہی تھوڑی مقدار میں ہونے کی وجہ سے ذکر نہیں کیا۔
حدیث: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں اور پوچھا کہ آپ کا وارث کون ہوگا؟ آپ نے فرمایا کہ میرے اہل وعیال میرے وارث ہوں گے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے پھر پوچھا: میں اپنے والد حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی وارث کیوں نہیں بنی؟ آپ نے جواب دیا: اس لیے کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا۔ البتہ جن کی کفالت حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے ان کی کفالت میں بھی کروں گا اور جن لوگوں پر حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم خرچ فرمایا کرتے تھے میں بھی ان پر خرچ کروں گا۔
زبدۃ:
1: حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو چونکہ اس مسئلہ کا علم نہیں تھا اس لیے انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے اپنے والد حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی وراثت کا مطالبہ کیا تھا مگر جب ان کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اصل مسئلہ سمجھا دیا تو پھر انہوں نے اس مسئلہ پر کبھی بات نہیں فرمائی بلکہ خاموش ہوگئیں، کوئی مطالبہ نہ کیا حتیٰ کہ آپ رضی اللہ عنہا اپنے خالقِ حقیقی سے جاملیں۔
2: حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مسئلہ شرعیہ بیان فرمایاتھا کہ میرے بعد میرے اہل وعیال وارث بنیں گے، اگرچہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی جو اپنا تھوڑا بہت سامان تھا بیت المال میں جمع فرمادیا تھا اور ان کا بھی کوئی وارث نہیں بنا۔
حدیث : حضرت ابو البختری فرماتے ہیں کہ حضرت عباس اور حضرت علی رضی اللہ عنہما دونوں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جھگڑتے ہوئے آئے۔ دونوں میں سے ہر ایک دوسرے پر بد نظمی کا اعتراض کر رہا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اکابر صحابہ حضرت طلحہ ، حضرت زبیر ، حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت سعد رضی اللہ عنہم کو (جو اسوقت آپ کے پاس موجود تھے) قسم دلا کر پوچھا کہ تم نے حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہیں سنا کہ نبی کا مال صدقہ ہوتا ہے سوائے اس مال کے جو اس نے خود کھالیا یا اپنے اہل و عیال کو کھلا دیا، کیونکہ ہم انبیاء کی جماعت کسی کو اپنا وارث نہیں بناتے۔ اس حدیث میں طویل قصہ ہے۔
زبدۃ:
حضرت عباس اور حضرت علی رضی اللہ عنہما ایک مشترکہ باغ اور زمین کے متولی تھے اور دونوں کے مزاج مختلف تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نہایت فیاض، سخی، زاہد اور متوکل تھے، حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے طرز کے موافق جو آیا فوراً تقسیم کرا دینا چاہتے تھے مگر حضرت عباس رضی اللہ عنہ انتہائی منتظم مزاج اور دوراندیش تھے اور ہر مال کو نہایت احتیاط سے آہستہ آہستہ خرچ کرنے کے حق میں تھے اور ضرورت کے مواقع کے لیے ذخیرہ فراہم رکھنا چاہتے تھے۔ تولیت مشترک ہونے کی وجہ سے کوئی کام کرنے سے پہلے دونوں کا متفق ہونا ضروری تھا۔اس لیے اس جائیداد سے حاصل ہونے والی آمدنی میں دونوں حضرات کا اکثر جھگڑا رہتا تھا۔ تو یہ دونوں خلیفہ وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تاکہ یہ روز کا جھگڑا ختم ہوجائے اور وہ ان کے درمیا ن اس زمین اور باغ کو تقسیم فرمادیں تاکہ ہر آدمی الگ حصہ کا متولی ہو اور اپنی مرضی کے مطابق آمدنی کو تقسیم کرسکے، مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم کو گواہ بناکر یہ ثابت فرمایا کہ نبی کا کوئی وارث نہیں ہوتا، اس لیے اس زمین کےتم وارث نہیں ہو۔
رہا مسئلہ تولیت کا کہ زمین اور باغ تقسیم کرکے دونوں کو الگ الگ حصہ کا متولی بنادیتے تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس کا بھی انکار فرمادیا۔آپ کا نظریہ یہ تھا کہ اگر میں نے آج صرف بطورِ متولی ہی تمہارے درمیان زمین اور باغات تقسیم کردیے تو ممکن ہے کہ کل تمہاری اولادیں اس کو وراثت سمجھ کر تقسیم کرنا شروع کردیں۔ اس لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صاف صاف فرمایا کہ اگر تم دونوں حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار ہونے کی حیثیت سے اسی طرح مشترکہ تولیت کو نبھاسکتے ہو تو ٹھیک ہے ورنہ میں کسی دوسرے شخص کو اس کا متولی بنا دیتا ہوں۔
حدیث:
حضرت ام المؤمنین(میری امی) عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم انبیاء کا کوئی وارث نہیں ہوتا، جو کچھ ہم چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔
زبدۃ:
اس بات پر پوری امت کا اتفاق ہے کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ترکہ میں وراثت نہ تھی اور اکثر علماء کی رائے یہ ہے کہ جس طرح حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی وراثت نہ تھی اسی طرح دیگر انبیا ء علیہم السلام کی بھی وراثت نہ تھی۔ انبیاء علیہم السلام کی وراثت نہ ہونے کی علماء کرام نے چند وجوہات تحریر فرمائی ہیں :
(۱): انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہوتے ہیں۔ لہذا ان کی ملکیت باقی رہتی ہے، اسی طرح ان کی بیویوں سے نکاح بھی جائز نہیں ہوتا۔
(۲): مزید یہ کہ نبی تو زندگی میں بھی کسی چیز کو اپنی ملکیت نہیں سمجھتا بلکہ متولیانہ طور پر استعمال فرماتا ہے۔
(۳): نبی اپنی امت کے لیے بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے۔لہٰذا اس کی وارث بھی صرف اس کی حقیقی اولاد ہی نہیں بلکہ پوری امت ہوتی ہے۔
(۴): نبی کی وراثت اس لیے بھی نہیں ہوتی کہ لوگ کہیں یہ گمان نہ کرنے لگیں کہ نبی بھی العیاذ بااللہ عام دنیا داری کی طرح اپنی اولاد اور آئندہ نسلوں کے لیے مال جمع کرکے رکھتے تھے بلکہ نبی کی تو شان یہ ہے: ”لَا یَدَّخِرُ لِغَدٍ“ کہ نبی تو دوسرے دن کے لیے بھی کچھ باقی نہیں رکھتا چہ جائیکہ اولاد کے لیے جمع کرے۔
(۵): اگر نبی کی اولاد میں وراثت چلنے کا قانون ہوتا تو ممکن تھا کہ کوئی بد بخت جائیداد کے حصول کی غرض سے نبی کو ہلاک کرنے کی کوشش کرتا جو کہ اس کی دنیا وآخرت دونوں کو برباد کردیتی۔