درسِ قرآن کا طریقہ

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
 
درسِ قرآن کا طریقہ
اگر آپ کسی مسجد کے امام، خطیب ہیں تو اپنی مسجد کے مقتدیوں کو بلاناغہ اور باقاعدہ درسِ قرآن دیں۔ اس کی سب سے مؤثر اور بہترین صورت یہ ہے کہ کسی بھی نماز کے بعد [ جس میں اکثر اہل محلہ کو آسانی ہو] ایک ہی مکتبے کے مطبوعہ قرآن کریم تپائیوں پر رکھوا دیے جائیں، درسِ قرآن کے شرکاء ترتیب کے ساتھ بیٹھ جائیں ، ترتیب یہ ہونی چاہیے:

1

سب پہلے الفاظ قرآن کو الگ الگ کر کے تلاوت کریں۔ ساتھ ساتھ نماز ی او شرکاء درس بھی تلاوت کریں۔

2

اس کے بعد ان آیات کا بالکل سادہ اور عام فہم ترجمہ کریں۔

3

اجمالی طور پر تلاوت شدہ آیات کا خلاصہ بیان کریں۔

4

اس کے بعد ان کی تفسیر کریں۔

5

تفسیر کرتے وقت اس بات کو بطور خاص ملحوظ رکھیں اگر ان آیات میں کوئی عقیدہ ہے تو سب سے پہلےاس کی خوب وضاحت کریں۔ پھر علی الترتیب مسائل اور واقعات وغیرہ بیان کریں۔

6

ایسی آیات جن کا تعلق محکمات سے ہے عوام میں صرف وہی بیان کی جائیں۔

7

متَشابہات آیات کو عوام الناس میں بیان کرنے سے گریز کیا جائے۔

8

وقت کا دورانیہ بہت زیادہ طویل نہ ہو۔

9

شرکائے درس میں سے کوئی سوال وغیرہ کرے تو اس کو موقع دیا جائے۔

10

آخر میں تمام امت کے لیے گڑ گڑا کر دعا کریں۔