سورۃ آل عمران

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
درس : سورۃ آل عمران
بتاریخ : 02-11-2012
بوقت : بعد از نماز عشاء
بمقام : جامع مسجد عثمانیہ نزد واپڈا آفس
اقبال کالونی Yبلاک سرگودھا

< class="mainheading">سورۃ آل عمران

اَلْحَمْدُ لِلهِ نَحْمَدُہُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ،وَنَعُوذُ بِاللهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا . مَنْ يَهْدِهِ اللّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ ، وَنَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيْكَ لَهُ وَنَشْهَدُ أَنَّ سَيِّدَنَا مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ،صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ تَسْلِيمًا كَثِيرًا اَمَّابَعْدُ.فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الم؀ اللّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ؀ نَزَّلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَنْزَلَ التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ؀ مِنْ قَبْلُ هُدًى لِلنَّاسِ وَأَنْزَلَ الْفُرْقَانَ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوْا بِآيَاتِ اللّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَاللّهُ عَزِيزٌ ذُو انْتِقَامٍ؀
 سورۃ آل عمران1تا4
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔
تمہید:
آپ تمام حضرات کے علم میں ہے کہ درسِ قرآن کا عنوان” مضامین سورۃ آل عمران“ہے۔ گزشتہ درسِ قرآن میں سورۃ البقرہ کے مضامین کا خلاصہ میں نے پیش کیا تھا اور آج کے درسِ قرآن و سنت میں سورۃ آل عمران کے مضامین کا خلاصہ بیان ہو گا ان شاء اللہ۔ سورۃآل عمران مدنی سورۃ ہے۔ اس میں 200 سو آیتیں اور 20 رکوع ہیں۔ میں نے آپ سے گزارش کی تھی کہ اگر سورۃ آل عمران یا کسی بھی سورۃ کے تمام مضامین کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا جائے تو بہت زیادہ وقت لگتاہے۔ اس لیے ہم نے یہ طے کیا کہ ہر سورۃ کے اہم مضامین کواختصار کےساتھ آپ کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ درس ِقرآن کریم کا تسلسل بھی باقی رہے اور بہت سارے اہم مسائل بھی آپ کی خدمت میں پیش کیے جاسکیں۔
عقائد و نظریات کا تحفظ:
میں ہر دفعہ اس کی وضاحت اس لیے کرتا ہوں تا کہ آپ حضرات کے دماغ میں بیٹھ جائے۔ بعض لوگ کہیں گے کہ فلاں مسئلہ بھی تھا، فلاں بھی تھا ،مولانا صاحب نے فلاں مسئلہ بیان نہیں کیا۔ میں نے اس لیے وضاحت کی تھی کہ ہر بندہ اپنے عنوان پر کام کرتا ہے۔ اہل السنت والجماعت کے عقائد و نظریات کا تحفظ یہ بنیادی طور پر میرا مشن اور میرا کام ہے۔
انتخاب آیات کا پہلو:
اس لیے میں سورۃ کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے کوشش کرتا ہوں کہ ان آیات کا تذکرہ تفصیل سے کیا جائے جس میں ہمارے ان نظریات کا بیان ہو جس پر عموماً آج موجودہ دور میں لوگ حملہ آور ہوتے ہیں۔ اس لیے ہم اس کاتذکرہ اہمیت کے ساتھ کرتے ہیں۔ باقی تذکرہ اور مضامین بھی درمیان میں آجاتے ہیں۔
شان نزول اور شان ورود:
پہلی بات یہ سمجھیں کہ سورۃ اٰل عمران کا شان نزول کیا ہے ؟ دولفظ آپ نے کتابوں میں پڑھے ہیں اور علماء سے سنے ہیں۔

1)

شان نزول۔

2)

شان ورود۔
یہ دولفظ یاد رکھیں جو واقعہ کسی آیت کے نازل ہونے کا سبب بنے اس واقعہ کو” شان نزول“ کہتے ہیں اور جو واقعہ حدیث مبارک کے فرمانے کا سبب بنے اسے” شان ورود“ کہتے ہیں۔ بعض واقعات وہ ہیں جو قرآن کی آیت اترنے کا سبب بنتے ہیں اور بعض واقعات وہ ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کےارشاد فرمانے کا سبب ہیں۔ تو جو واقعہ قرآن کی آیت اترنے کا سبب بنے اسے کہتے ہیں فلاں آیت یا سورۃ کا” شان نزول“ اور جو واقعہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےارشاد فرمانے کا سبب بنے اسے کہتے ہیں کہ یہ واقعہ اس حدیث کا ”شان ورود“ ہے۔ نازل کامعنیٰ ہوتا ہے نزول ،اترنا اور ”وُرود“ کا معنیٰ ہوتا ہے آنا ، لغوی معنیٰ اگر ایک بھی ہو تو لیکن اصطلاح میں ”شان نزول “ کا مطلب الگ ہے اور” شان ورود“ کا مطلب الگ ہے۔
سورۃ آل عمران کا شانِ نزول :
سورۃ ”آل عمران “ کا شان نزول کیاہے؟ نجران کے علاقے کے عیسائیوں کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا۔ اس وفد میں اور آدمی بھی تھے لیکن تین آدمی اس میں بڑے اہم تھے۔ ان میں سے ایک کا نام”ایہم السید“ تھا یہ ان کا سردار تھا، دوسرے کا نام ” العاقب عبد المسيح “ تھا یہ مدبر اور سیا ست دان تھا۔ تیسرے آدمی کا نام ”ابو حارثہ بن علقمہ“ تھا یہ ان کا پادری اور بہت بڑا عالم تھا۔
)تفسير البحر المحيط ج2ص389(
تو یہ وہ لوگ تھے جو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے کے لیے آئے اور بڑی اہمیت کے ساتھ آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مقام بھی دیا اورجگہ بھی دی ،رہائش کا انتظام بھی کیا اور ان کے ساتھ خوب کھل کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گفتگو بھی کی۔
اہل باطل سے گفتگو کا طریقہ کیا ہونا چاہیے ؟ :
جو تمہارے پاس دلائل ہیں تم پیش کرو اور جو میرے پاس ہیں وہ میں پیش کروں گا۔ تم اپنا مذہب سمجھاؤ! میں اپنا مذہب سمجھاؤں گا اور بات دلیل سے کرو۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دلیل کے ساتھ ان سے بات کی اور رعایت کتنی فرمائی ہے؟ یہ مدینہ منورہ میں ٹھہرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم مسجد نبوی میں نماز پڑھیں گے تو منہ کعبہ کی طرف نہیں کریں گے بلکہ بیت المقدس کی طرف کریں گے جو مشرق کی جانب بنتی ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھیک ہے تم رخ ادھر کرو !مگر جب ہمارے ساتھ بات کرو تو دلائل کے ساتھ کرو۔ اس طر ح بہت فائدہ ہوتا ہے۔
نظریاتی اختلافات اور مہمان نوازی:
میرے پاس ایک دفعہ گوجرانوالہ سے بریلوی علماء کا وفد آیا،ایک خاص موضوع پر مشاورت کےلیے۔ وہ آئے بیٹھے ہم نے کھانا کھلایا بات چلتی رہی۔ جب نماز کا وقت ہوا تو میں نے ان سے کہا کہ ہماری نماز کا وقت ہوگیا ہے ،آپ حضرات مہمان خانے میں نماز پڑھیں۔ اس لیے کہ آپ کا اور ہمارے نظریات کا اختلاف ہے۔آپ کی نماز ہمارے پیچھے ہوتی نہیں ہے اور ہماری آپ کی پیچھے نہیں ہوتی؟ ہم آپ کو مجبور نہیں کریں گے ،مہمان خانے میں آپ نماز پڑھیں۔ آپ یقین فرمائیں کہ وہ میرے اس جملے سے بے حد خوش ہوئے انہوں نےکہا مولوی صاحب ! ہوتی ہے یا نہیں ہوتی یہ الگ بات ہے مگرآج ہم تیرے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ ہم نے پہلی بار ایسا مولوی دیکھا جو اپنے مدرسے میں بھی کہتا ہے کہ تم اپنی نماز پڑھو۔کیونکہ نظریات کا اختلاف ہے ، انہوں نے پھر ہمارے پیچھے نماز پڑھی۔ حالانکہ وہ اپنے مسلک کے مناظر تھے۔
نبوت کی تعلیم …مہمان کا اکرام :
تو حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا اکرام فرمایا۔ آنے والا مہمان اگر کافر بھی ہو تو اکرام اس کا حق ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِالله وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ۔
) صحیح بخاری رقم الحدیث:6135(
جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ مہمان کا اکرام فرمائے۔ یہ نہیں فرمایا کہ ”مسلمان“ کا اکرام فرمائے، مسلمان کا اکرام الگ چیز ہے۔ لیکن کافر اگر مہمان بن جائے تو بحیثیت مہمان اس کی میزبانی اور اکرام مسلمان کی ذمہ داری میں شامل ہے۔مہمان؛ مہمان ہوتا ہے خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر۔
گفتگو کرنے میں مراتب کی پاسداری:
بہر حال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے گفتگو فرمائی۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ ان حضرات کو اپنی شاعری پر بہت ناز تھا۔ تو فرمایا کہ تم اپنے شاعر کو کھڑا کرو ان کے شاعر نے شاعری کی تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا اے حسان ! اٹھو ذرا مقابلہ کرو حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے جب شعر پڑھے تو عیسائیوں کے دانت کھٹے ہو گئے۔ انہوں نےکہا کہ آپ کا شاعر ہمارے شاعر سے بڑا ہے۔
پھرانہیں اپنی خطابت پہ بڑا ناز تھا انہوں نے کہا کہ ہم بہت بڑے خطیب ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ آجاؤ انہوں نےا پنا خطیب کھڑا کیا، اس نے تقریرکی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ سے فرمایا یہ دربارِ نبوت کے خطیب تھے کہ اٹھو ذرا اپنی خطابت کے جوہر دکھاؤ۔ انہوں نے کہا کہ جی آپ کا خطیب بھی ہم سے تگڑا ہے۔
قوت دلیل سے گفتگو سنت ہے :
تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دلائل کی بات مجھ سے کرو، میں تو شاعر اور خطیب بھی نہیں۔ میں تو اللہ کا نبی ہوں۔ اس لیے اگر دشمن شاعر لائے تو شاعروں کو پیش کرنا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ اگر دشمن خطیب لائے تو خطیب پیش کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک سنت ہے۔
خطابت کا مذاق نہ اڑایا جائے:
تو خطابت کا مذاق نہ اڑایا کرو!ہاں خطابت کو پیشہ بنانا جرم ہےلیکن جب ضرورت ہوتو خطابت کا جوہردکھانا ایمان ہے اور خود اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا۔
) صحیح بخاری رقم الحدیث:5146(
بعض خطابت ایسے اثر کرتی ہے جیسے بندے پر جادو اثر کرتا ہے۔ اللہ کے نبی نے تو خطابت کی ترغیب دی ہے۔
الوہیت عیسٰی پر عقلی جواب:
خیر!دلائل شروع ہوئے،ان کامسئلہ چلتا رہا کہ عیسیٰ علیہ السلام خدا ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نےان کے دلائل کو توڑ ا اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دلائل دیے۔ ایک بہت بڑی دلیل فرمائی ” اِنَّ عِیْسیٰ یَاتِیْ عَلِیْہِ الْفَنَا“ عیسیٰ پر تو موت آئے گی ،کیا خدا پر بھی موت آیا کرتی ہے ؟ فرمایا کہ عیسیٰ پر موت آئے گی حالانکہ عیسائیوں کا عقیدہ بالکل الگ ہے۔
عیسائیوں کا عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں نظریہ :
عیسائیوں کا عقیدہ کیا ہے ؟ عیسیٰ علیہ السلام پر موت آئی ہے ،سولی پر چڑھے ہیں پھر ان کو زندہ کیا گیا ہے پھر آسمان پرگئے ہیں۔ مسلمان کا نظریہ کیا ہے ؟ عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پرنہیں لٹکایا گیا، ان پر موت نہیں آئی توان کے عقیدے کے مطابق یہ فرمانا چاہیے تھا”اِنَّ عِیْسیٰ اَتٰی عَلَیْہِ الْفَنَا“ کہ عیسیٰ علیہ السلام پر تو موت آچکی ہے۔
جواب دینے کا انداز:
لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر بھی اپنا عقیدہ بیان فرمایا کہ”اِنَّ عِیْسیٰ یَاتِیْ عَلِیْہِ الْفَنَا“اگر تمہارے بقول عیسیٰ علیہ السلام پر موت آئی ہے تو جس پر موت آجائے وہ خد ا نہیں ہوا کرتا ادھر موت بھی مانتے ہو اور خدا بھی مانتے ہو؟ اس کا ان کے پاس کوئی جواب موجود نہ تھا۔ تو پہلے قرآن نے عقلی دلیل بیان فرمائی ہے
”الم اللهُ لا إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ۔
)سورۃ آل عمران:1(
اللہ وہ ہے جو خود بھی زندہ ہے اور دوسروں کو بھی زندہ رکھتا ہے وہ جوخود ہی زندہ نہ رہےاسے تم نے خدا کیسے مان لیا ؟ کچھ عقل سے کام لو۔ یہ عقلی دلیل دی ہے۔
الوہیت عیسیٰ کی تردید پر نقلی دلیل:
آگے ” نَزَّلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ“سےحضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نقلی دلیل دی ہے کہ اللہ وہ ہے جس نے انجیل نازل کی ہے ،تورات نازل فرمائی ہے، زبور نازل فرمائی ہے، کتابیں نازل کیں ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام نے کتاب نازل نہیں کی ان پر کتاب نازل ہوئی ہے۔ خدا وہ نہیں ہوتا جس پر کتاب اترے خدا وہ ہوتا ہے جو کتاب اتارے۔ تم نے کیسے ان کو خدا مان لیا؟ اب دیکھو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کیسے پیارے دلائل ہیں۔ اس کا ان سے جواب نہیں بن پڑا۔
مباہلے کی نوبت:
دلائل میں ہار گئے ،تھک گئے تو فرمایا کہ بتاؤ بھئی کوئی بات رہ گئی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ یونہی کام نہیں چلے گا۔ اللہ کے نبی نے فرمایا کہ چلو تم دلائل سے ہمارا مقابلہ نہیں کرسکتے آؤ پھر ہم مباہلہ کر لیتے ہیں۔ پھر حضور علیہ السلام نے ان سے مباہلے پر بات کی ہے۔ آگے آئے گی آیت
فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنْفُسَنَا وَأَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَۃَ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ؀
)سورۃ آل عمران:61(
کے تحت کہ اللہ کے نبی نےمباہلے پہ بات کی ہے۔
مباہلہ اور اس کا طریقہ؟ :
مباہلہ اس وقت بھی تھا مباہلہ آج بھی ہے مباہلے کا مطلب کیا ہے ؟ فریقین میں سے ہر ایک یہ دعا مانگے کہ جو جھوٹا ہو اس پر اللہ کی لعنت ہو ، اس پر اللہ کا قہر ہو اور وہ برباد ہوجائے۔
عیسائیوں کی سمجھداری؛ مباہلہ سے انکار:
نجران کے عیسائیوں کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کرتے ہو مباہلہ؟ ان میں سے بعض کا خیال تھا کہ مباہلہ کریں۔ جب اللہ کے نبی اپنے گھر سے حضرت حسن وحسین رضی اللہ عنہم کو لے کر نکلے اوربی بی زہرا ساتھ تھیں۔ عیسائیوں کے عالم نے کہا ان کےمبارک وجود کو دیکھ لو، کبھی یہ جرم نہ کرنا اور یہ حماقت کبھی نہ کرنا ان کے ہاتھ اٹھ گئے تو پوری وادی پر آگ برسے گی۔
صلح کی پیشکش اور شرائط:
بہتر ہے کہ ان سے صلح کرکے واپس ہوجاؤحضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ٹھیک ہے صلح کرنا چاہو تو کر لو انہوں نے کہا کہ جی ہم کرتے ہیں۔ فرمایا کہ یوں صلح نہیں ہو گی کلمہ پڑھو یا جزیہ دو یا جاؤ جا کے جنگ کی تیاری کرو ہم آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جی ہم جزیہ دے کر صلح کےلیے تیار ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیہ قبول کیا اور صلح کر کے وفد واپس ہوگیا اس پر سورۃ آل عمران کی دو سو آیات نازل ہوئیں۔
عمران سے کون سا شخص مراد ہے ؟ :
میں بتا یہ رہا تھا کہ سورۃ کا”شان نزول“ کیاہے ؟ اس میں لفظ ہے آلِ عمران۔ آل کا معنیٰ ہوتا ہے اولاد۔ اور عمران کون ہے ؟ ایک عمران حضرت موسیٰ علیہ السلام کے والد کا نام ہے اور ایک عمران حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نانا کا نام ہے حضرت مریم کے جو والد تھے ان کا نام بھی عمران تھا۔ لیکن اس میں جو” آل عمران“ ہے اس کا تعلق موسیٰ علیہ السلام کے والد کے ساتھ نہیں اس کا تعلق ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نانا حضرت مریم کے والد کے ساتھ ہے۔
اولاد کو وقف کرنا سابقہ شریعتوں میں ؟ :
حضرت مریم کے والد کا نام عمران تھا۔ اور یہ بیت المقدس مسجد اقصیٰ کے امام تھے۔ اس دور میں ان انبیاءمیں ایک رواج چلتا تھا کہ اپنی اولاد میں سے ایک بیٹے کو دین کے لیے وقف کردیا کرتے۔ یہ ان انبیاء علیہم السلام کی شریعت تھی کہ باقی بیٹے دنیا کے کام کریں اور ایک کوخالص دین کےلیے وقف کردو یہ دین کا کام کرتا رہے۔
حضرت مریم کی منت :
ان کے دستور کے مطابق حضرت مریم کی والدہ نے اللہ سے منت مانی اے اللہ! جومیرے پیٹ میں حمل ہے اور جس امید کے ساتھ میں ہوں اے مولا کریم اگر یہ بیٹا پیدا ہوا تو میں منت مانتی ہوں کہ تیری راہ میں وقف کر دوں گی میں اس کو دین کے لیے پیش کر دوں گی۔ حضرت مریم کی والدہ زندہ تھیں اور امید کے ساتھ تھیں تو والد فوت گئے۔ اب والد تو تھے نہیں۔ حضرت مریم جب پیدا ہوئیں تو ان کی والدہ نے اللہ رب العزت سے یہ کہا
” رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا أُنْثَى“۔
)سورۃ آل عمران:36(
حضرت مریم کی پریشانی پر خدائی دلاسہ :
اے اللہ اگر بیٹا ہوتا ہے تو میں تیری راہ میں وقف کردیتی اب توبیٹا نہیں، میں نے بیٹی کو جنا ہے اب میں کیا کروں؟ لیکن جس بیٹی کو جنا تھا اس بیٹی کو لے کر بیت المقدس پہنچ گئیں جب اس نے کہا” رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا أُنْثَى“اےاللہ میں نے بیٹی کو جناہے یہ حسرت کا جملہ تھا۔ اپنی بیٹی کو دین کےلیے کیسے پیش کروں ؟ میں بیٹی کو کہاں لے کر جاؤں؟ اللہ نے جواب یہ دیا
”وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالأُنْثَى“
) سورۃ آل عمران:36(
اے مریم کی ماں جو بیٹا تو نے مانگا تھا اس بیٹی کی طرح نہیں ہے جو ہم نے دی ہے۔ تو نے بیٹا مانگا اپنی حیثیت کے مطابق اور خدانے بیٹی دی ہے اپنی شان کے مطابق۔ اب تیری حیثیت کہاں اور خدا کی شان کہاں؟ بس تو اسی کو پیش کردے۔ مریم کی والدہ نے مریم کو لیا، چھو ٹی بچی ہے اس کو لے کر بیت المقدس میں آگئی۔
حضرت مریم کی پرورش اور کفالت:
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے”بیان القرآن“میں لکھا ہے ان کو دودھ پلانے کے لیے دائی کا انتظام کیا گیا یا ان کو دودھ پلانے کی نوبت ہی نہیں آئی یہ بغیر دودھ پیے بچپن میں بڑھتی چلی گئیں۔ اس لیے قرآن کہتا ہے کہ اللہ نے ان کی بڑے اچھے طریقے سے پرورش کی یعنی بہت جلدجسم میں طاقت عطا فرمائی کہ اگر عام بچی کی ایک مہینے میں ایسی پرورش ہوتی ہے تو وہ ایک دن میں ایسی تھیں جب وہا ں پہنچی مریم کی والدہ اپنی بیٹی کو لے کر گئی اور بیت المقدس میں علماء تھے اور حضرت زکریا علیہ السلام بھی تھے اگر مریم کے والد زندہ ہوتے جو بیت المقدس کے امام تھے اپنی بیٹی کی تربیت وہ کرتے۔ اب باپ تو تھا نہیں حضرت زکریا علیہ السلام نے فرمایا کہ مجھے دے دو کیونکہ حضرت زکریا کی جو بیوی ہے حضرت مریم کی خالہ ہے انہوں نےکہا ہے کہ مجھے دے دو کیونکہ یہ ہماری بیٹی بھی اور میری بیوی اس کی خالہ جو ہے وہ اس کی تربیت کرے گی۔
بڑے خاندان سے نسبت کی خواہش:
لیکن باقی جو علماء تھے انہوں نے کہا کہ نہیں ہم اس کی تربیت کریں گے۔ کیونکہ ہر بندے کی خواہش ہوتی ہے کہ بڑے خاندان کی بیٹی یا بیٹا ہو وہ چاہتا ہے کہ میرا شاگرد بنے۔ بڑے خاندان سے میرا تعلق قائم ہو۔بڑے خاندان سے مراد دولت نہیں بلکہ علم وفضل ہے۔
کفالت مریم اوراختلاف رائےکا مرحلہ:
ان کی خواہش یہ تھی کہ اس کی تربیت ہم کریں اب فیصلہ نہ ہوا کہ تربیت کون کرےگا حضرت مریم کی تربیت کرنے پر اختلاف ہوا زکریا علیہ السلام نے اپنا حق جتایا باقی علماء نے اپنا حق جتایا۔
اختلاف کا آسان حل قرعہ اندازی:
اب اس میں طے یہ ہوا کہ یوں کرو قرعہ اندازی کرلو، جس کے نام کا قرعہ نکلے گاوہ اسی کی تربیت کرےگا۔ اس آیت میں قرعہ کا مسئلہ موجود ہے۔ اللہ فرماتے ہیں
”وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُونَ أَقْلامَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ ؀
) سورۃ آل عمران:44(
اے میرے پیغمبر! آپ وہاں موجود نہیں تھے جب ان میں قرعہ اندازی ہو رہی تھی کہ کفالت کون کرے گا؟
قرعہ اندازی کا طریقہ:
اب قرعہ طے کیسے ہوا؟ انہوں نے کہا جو مریم کی کفالت کے امید وار ہیں وہ اپنا اپنا قلم دریامیں ڈالیں اور جس کا قلم ادھر جائے جدھر دریا کا پانی جاتاہے وہ اس مریم کو نہ لے جائے اور جس کاقلم پانی کے بہاؤ کے مخالف سمت میں چلے حضرت مریم کی کفالت وہ کرےگا۔ قلم ڈالےگئے تو حضرت زکریا علیہ السلام کا قلم ادھر چل دیا جدھر سے پانی آرہا تھا۔ نبی جو تھے۔
بچیوں کے مدارس کا ثبوت :
پھر مریم ان کی تربیت میں آگئی۔ پھر زکریا علیہ السلام نے مریم کی تربیت شروع فرمادی مریم بہت چھوٹی عمر میں بلوغ تک پہنچی ہیں۔ مریم علیہ السلام کی تربیت کے لیے زکریا علیہ السلام نے بچیوں کا مدرسہ بنادیا۔ لوگ کہتے ہیں بچیوں کے مدرسے کا ثبوت کہاں ہے ؟ میں نےکہا قرآن کریم میں ہے۔ آدمی قرآن پڑھے تو ثبوت مل جاتا ہے اور یہ مدرسہ ہی تھا زکریا علیہ السلام کا۔
کرامت کا ظہور:
ایک کمرہ تھا وہاں مریم کو رکھتے اور پھر دعوت وتبلیغ کے لیے چلے جاتے واپس آتے تو اس بیٹی کو کھانا پیش کر دیتے لیکن ایک بار حضرت مریم جس کمرے میں تھیں جب تالا کھولا تو سامنے تازہ بے موسمے پھل نظر آئے،حضرت زکریا علیہ السلام نے تعجب سے پوچھا
” يَا مَرْيَمُ أَنّٰى لَكِ هَذَا؟ “
)سورۃ آل عمران:37(
اےمریم !تالا بندہے دروازے پہ تالا لگا ہے یہ پھل کہاں سے آتا ہے ؟ حضرت مریم نے کہا
” هُوَ مِنْ عِنْدِ اللهِ “
)سورۃ آل عمران:37(
یہ اللہ کی طرف سے میرے پاس آیا ہے میں نے لفظ” عِنْدِ اللهِ “پر آج بات کرنی ہے ان شاء اللہ۔ آپ دیکھنا عقیدہ کیسے سمجھ آتا ہے؟ اس کو یہاں چھوڑ دیں اس پہ بعد میں بات کروں گا۔
انبیاء کرام بھی اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں :
حضرت زکریاعلیہ السلام سجدے میں گر گئے ،کیوں؟ اس لیے کہ حضرت زکریا علیہ السلام کی عمر سو سال کے قریب ہے۔ بیوی کی عمر نوے سال کے لگ بھگ ہے اولاد سے بالکل محروم ہیں۔ نبی کے گھر میں اولاد نہیں ہے حضرت زکریا علیہ السلام سجدے میں گر گئے اور اللہ سے دعا مانگی
” رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً۔
)سورۃ آل عمران:38(
اے اللہ !اس مریم کوبغیر موسم کے میوے دے سکتا ہے تو مجھے بھی بغیر موسم کے اولاد دے سکتا ہے۔ اے مولا کریم! جس طرح اس کو پھل دیا ہے مجھے بھی اولاد عطا فرمادے۔
دعا کی قبولیت اور بچے کا نام :
حضرت زکریا علیہ السلام نے جب دعا مانگی قرآن میں ہے پھر فرشتوں نے آ کربشارت دی کہ اللہ نے تمہاری دعا قبول کر لی ہے
” أَنَّ اللهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيٰى مُصَدِّقاً بِكَلِمَةٍ مِنَ اللّهِ وَسَيِّداً وَحَصُورًا وَنَبِيّاً مِنَ الصَّالِحِينَ “
)سورۃ آل عمران:39(
اللہ تمہیں خوشخبری دیتا ہے تمہارے ہاں بیٹا پیدا ہوگااوروہ سید اور سردار بھی ہوگا وہ نبی بھی ہوگا وہ نیک بھی ہوگا۔” وَحَصُوْرًا“ اور وہ نکاح نہیں کرےگا وہ دنیا کی خواہشات سے الگ تھلگ رہیں گے اور اللہ تمہیں بیٹا عطا فرمائےگا اور جس کا نام بھی اللہ نے یحییٰ رکھ دیا ہے۔ خدا نے خود نام رکھا ہے یحییٰ۔ بتاؤیہ کتنا عجیب بیٹا ہوگا فرمایا ”یحییٰ“ یہ اللہ نے نام رکھا ہے۔ یہ بیٹا تمہارےہاں پیدا ہوگا۔
فرطِ بشارت میں تعجب خیز سوال:
حضرت زکریا علیہ السلام کو جب بشارت ملی تو تعجب سے پوچھنے لگے میرے ہاں بیٹا کیسے پیدا ہوگا؟
رَبِّ أَنَّى يَكُونُ لِي غُلامٌ وَقَدْ بَلَغَنِي الْكِبَرُ وَامْرَأَتِي عَاقِرٌ
)سورۃ آل عمران:40(
میں بوڑھا ہوں میری بیوی بانجھ ہے۔ اب یہ اللہ کی قدرت سے اشکال نہیں تھا ،اعتراض نہیں تھا وہ سمجھنا چاہ رہے تھےمیں بوڑھا ہوں کیا میں جوان ہوجاؤں گا یا بڑھاپے کی عمر میں خدا دے گا؟ اللہ کیسے بیٹا پیدا ہوگا؟ آپ سمجھ گئے ؟ خدا کی قدرت پر اعتراض نہیں تھا وہ سمجھنا چاہ رہے تھے کہ آخر کیسے ہوگا ؟
انسانی مزاج مزید اطمینان:
کبھی آدمی کو پورا یقین ہوتا ہے۔ پھر کہتے ہیں یار ہمیں سمجھاؤ آخر یہ ہوگا کس طرح ؟ اب اگر آپ کی مسجد ہے، اللہ نہ کرے اس کے اے سی میں کوئی خرابی پیدا ہوجائے ہم کہیں کہ یہ ہمارے پاس چھوڑ جاؤ !ہم ٹھیک کر دیں گے۔ آپ کہتے ہیں آپ ٹھیک کر دیں گے یہ ہم جانتے ہیں مگر پھر بھی آپ تھوڑا سا سمجھائیں تو سہی۔ تو اس طرح کی باتیں آدمی اطمینان کےلیے کرتا ہے۔
مناظرے میں پشتو زبان کی شرط:
ہمارا ایک دفعہ صوابی میں مناظرہ طے ہوگیا یہ آج سے چار پانچ سال پہلے کی بات ہے۔ جب مناظرہ طے ہوا مجھے وہاں کےذمہ دار حضرات نے فون کیا انہوں نے کہا کہ مولانا صاحب مناظرہ ہے حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عنوان پہ ہمارے پاس مگر ہمارے پاس کوئی پشتو مناظرنہیں ہے۔ تو پھر کیا کریں ؟ میں نے کہا آپ مناظرہ طے کرو، پشتو والی شرط میں اڑا دوں گا یہ میری ذمہ داری ہے آپ بس طے کرو اگلا کام میرے ذمے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری شوریٰ بیٹھی ہے وہ کہتے ہیں مولانا صاحب سے پوچھو وہ یہ شرط کیسے توڑیں گے؟ میں نے کہا یہ میرا مسئلہ ہے تمہارانہیں ، تم مناظرہ طے کرو !وہ کہتے ہیں ہمیں پورا یقین ہے آپ توڑ دیں گے، لیکن یہ تو بتائیں آپ شرط توڑیں گے کیسے ؟ بس ہم قلبی اطمینان کے لیے چاہتے ہیں۔
مذکورہ شرط توڑنے کا اصولی قاعدہ:
میں نے کہا میں نے کہہ دیا توڑوں گا آپ تسلی رکھو۔ انہوں نے کہا پھر بھی آپ ہمیں اشارہ دے دیں۔ میں نے کہامیں ان سے پوچھوں گا ایک میری جماعت ہے ایک تمہاری جماعت ہے ان دونوں جماعتوں کا مناظرہ ہونا ہے۔ تمہاری یہ جماعت قومی ہے یا صو بائی ہے ؟ اگر وہ کہیں گے صوبائی ہے تو میں کہوں گا کہ پنجاب میں گجرات کارہنے والا تمہارا ناظم اعلیٰ کیسے ہے؟ اگر صو بائی ہے تو پنجاب کے عہدے ختم کرو اگر قومی ہے تو قومی زبان اردو ہے لہٰذا مناظرہ اردو میں کرو۔ یہ سن کر وہ بہت زیادہ خوش ہوئے۔
ازالہ فکر اور بیٹے کی نشانی :
تو حضرت زکریا علیہ السلام نے پوچھا اے اللہ! یہ کیسے ہوگا ؟ بیٹا تو ہونا ہے آپ نے فرمادیا، لیکن کیسے ہوگا؟ ہمیں اس بڑھاپے کے بعد جوانی ملے گی یا بڑھاپے میں آپ دیں گے ؟ اللہ نے فرمایا اسی طرح ہوگا تم فکر نہ کرو اسی طرح ہوگا بڑھاپابھی رہے گا اور بیٹا پیدا ہوگا ، ہاں میں تمہیں ایک نشانی دیتا ہوں جب تمہاری اہلیہ امید کے ساتھ ہو جائے گی تو تم اپنی زبان سے بول نہیں سکو گے، یہ بولنا بند ہوجائے گا تم اشاروں سے بات کرو گے، تب سمجھنا کہ تمہارے ہاں امید لگ گئی ہے۔
عورت کو خدا نبی نہیں بناتا:
اب اس میں دوسرا مطلب سمجھیں واقعہ تو آپ نے سن لیا ہے یہ خلاصہ تھا مریم علیہ السلام کے واقعے کا۔ اسی طرح حضرت زکریا علیہ السلام کو بیٹا ملا۔ ایک بات درمیان میں سمجھ لیں ، حضرت مریم علیہا السلام ولیہ ہیں نبی نہیں ہیں۔ خدا نے کسی بھی عورت کے سر پہ تاج نبوت نہیں رکھا۔
فرشتہ اور جن بھی نبی نہیں ہوسکتا:
نہ کسی جن کونبوت دی ہے ،نہ ملائکہ کو نبوت دی ہے ، اگر دی ہے تو بشر کو دی ہے اور بشر میں سے بشر کامل کو دی ہے بشر تو انسان ہوتا ہے نا پھر انسانوں میں کامل انسان مرد ہوتا ہے عورت نہیں ہوتی۔
عورت کی عقل اور دین ناقص کیسے ہوتا ہے ؟
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت کا دین بھی ناقص ہےعورت کی عقل بھی ناقص ہے۔ پوچھا گیا کہ حضور وہ کیسے ؟ فرمایا : دین ان کا اس طرح ناقص ہے کہ

مرد پورا مہینہ نماز پڑھتا ہے اور یہ مہینے میں کچھ دن نماز نہیں پڑھتی ہے۔

مرد رمضان کا پورا مہینہ روزے رکھتا ہےاور کچھ دن ان کوروزے چھوڑنے پڑتے ہیں۔
ان کا دین ناقص ہے۔ پوچھا کہ عقل کیسے ناقص ہے؟ فرمایا: اگر کسی کیس میں دومرد ہوں تو عدالت ان کی گواہی قبول کرتی ہے دو عورتیں ہوں تو عدالت گواہی قبول نہیں کرتی۔ دو مرد ہوں یا ایک مرد اور دو عورتیں ہوں تو پھر گواہی قبول کی جائے گی۔ دو عورتوں کو ایک مرد کے قائم مقام رکھا گیااگر ان میں سے ایک بھول جائے تو دوسری یاد کرا دے۔ پتہ چلا کہ ان کی عقل بھی ناقص ہے۔ تو ان کی عقل بھی ناقص ہے اور دین بھی ناقص ہے۔ بتاؤ جو خود ناقص ہے وہ کامل بن کرنبی کیسے بنے گی؟ جو خود کمزور ہے وہ کامل بن کر نبی کیسے بنے گی؟
عورت ہے تو ناقص العقل لیکن ……؟ :
یہ تو ایک وجہ ہے بہت سی وجوہات ہیں کہ عورت نبی کیوں نہیں بنتی ؟ نبی کے کندھے پہ جو نبوت کا بوجھ ہوتا ہے اس کو اٹھانا عورت کے بس میں نہیں ہے یہ مرد ہی اٹھا سکتا ہے عورتوں کے اختیار میں نہیں ہے۔ لیکن ایک بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی کہ یہ ہیں تو ناقص عقل والی لیکن بڑے بڑوں کی عقلیں اڑا کے رکھ دیتی ہیں۔ ان کی اپنی عقل تو ناقص ہے لیکن عقل والوں کی عقلیں اڑاد یتی ہے۔ اللہ فتنے سے حفاظت فرمائے۔
امت کا خطرناک فتنہ ……عورت:
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد جتنے بھی فتنے آئیں گے مردوں کے لیے سب سے خطر ناک فتنہ میری امت میں عورتوں کا فتنہ ہے، یہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم فر ما رہے ہیں۔ اس لیے ہم بار بار کہتے ہیں حدود کا خیال رکھو۔
عورت کا مساجداور عیدگاہ میں آنے کا مسئلہ:
اب یہ سلسلہ شروع ہوگیا کہ عورتیں عید گاہ میں لے جاؤ، یہ مستقل فتنہ ہے۔عورتوں کو مسجد میں نمازوں کے لیے لے آؤ یہ مستقل فتنہ ہے اور آئے دن یہ فتنے بڑھ رہے ہیں۔
عورت کا مسجد میں اعتکا ف کرنا:
اب تھوڑے عرصے سے ایک نئی مصیبت شروع ہو گئی ہے کہ عورتوں کو مساجد میں اعتکاف بٹھاؤ! یہ مستقل فتنہ ہے۔پھر اس میں جو معاشرتی مفاسد اور برائیاں ہیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ اس کی وجہ سے کئی ایک ایسے نازیبا اور ناگفتہ بہ واقعات رونما ہوچکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے۔
عورت کی بہترین عبادت گاہ :
جس میں عورتیں الگ نماز پڑھیں مسجد میں مت اعتکاف بیٹھیں ، گھر میں بیٹھیں عورت اپنے گھر بیٹھے عورت جنازہ گاہ میں مت جائے۔ عورت گھر میں بیٹھے۔ آپ تو مسجد عثمانیہ کے اعتکاف کی بات کرتے ہو ”ام حمید الساعدیہ“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابیہ ہیں انہوں نے کہا یا رسول اللہ! میرا دل کرتا ہے مسجد نبوی میں آپ کی امامت میں نماز پڑھوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب سننا فرمایا
” قَدْ عَلِمْتُ أَنَّكِ تُحِبِّينَ الصَّلاَةَ “
) صحيح ابن خزيمہ رقم :1689(
مجھے پورا یقین ہے کہ تیرا دل کرتا کہ ہے میرے پیچھے نماز پڑھے لیکن ام حمید سن! عورت کا بند کمرے میں نماز پڑھنا برآمدے میں نماز پڑھنے سےبہتر ہے جب کہ برآمدے میں نماز پڑھنا صحن میں نماز پڑھنے سے افضل ہے۔ صحن میں نماز پڑھنا اپنے محلے کی مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے اور محلے کی مسجد میں نماز پڑھنا مجھ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں نماز پڑھنےسے بھی افضل ہے۔
اور یہ آج کا دور ……اُف اللہ :
یہ کس دور کی بات ہے؟ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود مسجد نبوی میں نماز پڑھا رہے تھے۔ اس دور میں بھی عورت کی گھر میں نماز مسجد میں پڑھنے سے افضل تھی۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دور میں ابتدائی طور پہ عورت کو اجازت دی ہے لیکن بعد میں عورتیں گھر میں نمازپڑھتی تھیں۔ مسجد میں جاکے نمازنہیں پڑھا کرتی تھیں۔
دین کے نام پر بڑے فتنوں کا مقابلہ:
کبھی فتنے دنیا کے نام پہ ہوتے ہیں اور کبھی فتنے دین کے نام پہ ہوتے ہیں۔ دنیا کے نام پہ فتنہ کو سمجھنا بہت آسان ہے اور مقابلہ بھی بہت آسان ہے۔ اور دین کے نام پہ فتنہ کو سمجھنا بھی ذرا مشکل ہے اور اس کا مقابلہ بھی بڑا مشکل ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ عورتوں کے دین کے دشمن ہیں۔ ان بے چاریوں کی اتنی رغبت ہے اور آپ کہتے ہیں مسجد نہ آئیں۔ اس کے بعد جو فسادات کھڑے ہوتے ہیں وہ بیان بھی نہیں کیے جا سکتے۔آپ حضرات کا ایک محلہ ہے۔ ہمارے پاس دنیا کے لوگ مسائل پوچھتے ہیں پھر رابطے کرتے ہیں پھر بعد میں جو حالات پیش آتے ہیں ان کواسٹیج پہ بیان کرنے کی بھی طاقت نہیں رکھتے۔ میں خدا کی قسم اٹھا کے کہہ رہا ہوں میرے علم وہ مسجدیں ہیں کہ عورت اعتکاف کے لیے آئی ہے اور اعتکاف ہی سے دوڑی ہے۔ میں تمہیں کیسےبتاؤں ادھر عورتیں اعتکاف میں ہیں ادھر مرد اعتکاف میں ہیں درمیان میں پتلا سا ایک کپڑا ہے۔ اب بتاؤ فتنہ پھیلے گا یا نہیں پھیلے گا؟ فتنہ پھیل جائے گا آپ کس کس فتنہ کا رونا روئیں گے؟ دین کے نام پہ آنے والے فتنے بڑے مشکل ہیں اور ان کا مقابلہ بھی بڑا مشکل ہے۔ اس پر انسان کو اپنوں کی ملا متیں سننا پڑتی ہیں کہ یہ کوئی مسئلہ بتانے والا تھا؟ یہ کوئی بات کرنے والی تھی ؟ اور دنیا میں مسئلے تھوڑے ہیں؟
حضرت حذیفہ بن یمان کی خصوصیت:
میں سمجھتا ہوں ہمارا جو مزاج ہے ناں یہ مزاج حذیفی ہے۔ کیا مزاج ہے؟ مزاج حذیفی(سامعین) کچھ آپ بھی سمجھ لیں مزاج حذیفی کیا ہے؟ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بن یمان ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں اور ان کی خصوصیت کیا ہے؟ ”صَاحِبُ السِّرِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ “آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راز دان ہیں۔
فضائل اعمال کا ایک واقعہ:
میرا جمعہ بھاگٹانوالہ میں تھاتو تبلیغ والے ساتھی بڑی کثرت سے آتے ہیں میں نے کہا فضائل اعمال کو سمجھ لو الجھنیں ختم ہو جائیں گی اورکازسمجھ آئے گا۔شیخ الحدیث مولانا زکریا رحمہ اللہ نے فضائل اعمال میں ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ معمول تھا کہ مدینہ منورہ میں جب کسی کا جنازہ اٹھتا تو پوچھتے کہ اس جنازے میں سیدنا حذیفہ ہیں یا نہیں؟ اگر بتایا جاتا کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ موجود ہیں تو عمر رضی اللہ عنہ جنازہ پڑھتے ورنہ جنازہ نہ پڑھتے۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے راز دان ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بتایا تھا کہ مدینہ میں کون کون منافق ہیں اور منافق کا جنازہ عمر نہیں پڑھ سکتا۔
قیامت کو اعلان ہوگا:
یہ مولانا الیاس گھمن کی دعوت نہیں ہے یہ فضائل اعمال کی دعوت ہے۔ فرق کیا ہے ؟ ہم کھل کر بات کہتے ہیں اور وہ کھل کر بات نہیں کرتے مسئلہ سمجھا دیتے ہیں، اس سے عقل مند آدمی سمجھ سکتا ہے۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ مزاج ہے تو میں اور آپ کون ہوتے ہیں کہ ہر کسی کے جنازے میں گھسیں؟ یہ کیا مصیبت پڑی ہے؟ جی ہماری مجبوری ہے، میں نے کہا کہ تمہاری مجبوری ہے ہماری کوئی مجبوری نہیں۔ کل قیامت کو جو الگ کھڑا ہونا ہے تو دنیا میں الگ ہوجاؤ۔ قیامت کو علیٰحدگی ضروری ہوگی۔ اختیاری علیٰحدگی کا اجر ملتا ہے اضطراری کا اجر نہیں ملتا۔ قیامت کے دن اعلان ہو گا
” وَامْتَازُوا الْيَوْمَ أَيُّهَا الْمُجْرِمُونَ “
)سورۃ یٰسین:59(
مجرم الگ ہو جائیں اور نیک الگ ہو جائیں۔
فسادِ عقیدہ کا جرم اور سزا:
عمل کا جرم چھوٹا جرم ہوتا ہے عقیدے کا جرم بڑا جرم ہوتا ہے۔ عقیدے کے معاملے میں ہمارا کوئی سمجھوتہ نہیں ہے۔ ہم دنیا میں بھی کہتے ہیں اور قیامت میں بھی کہ اللہ ہم کو جو ذمہ دے ہم نے گالیاں سن کر بھی اسے پورا کرنا ہے۔ آج مان لو تو کل قیامت کے دن مزے کروگے نہیں مانو گے تو پھر بھگتنا پڑے گا۔
حکیم الامت تھانوی کا حکیمانہ جواب:
حکیم الامت مولانا تھانوی رحمہ اللہ کو ایک بندے نے خط لکھا اس نے کہا میں نے داڑھی رکھی ہے لوگ ہنستے ہیں حکیم الامت مولانا تھانوی رحمہ اللہ نے کہا ”آج لوگ ہنستے ہیں کل قیامت کے دن تجھے نہیں رونا پڑے گا آج رکھ لے قیامت میں یہ روئیں گے اور تو ہنسے گا “اللہ ہمیں بات سمجھنے کو تو فیق دے۔
کرامت دیکھ کر خدا سے مانگنا:
خیر جو بات میں سنا رہا تھا وہ یہ ہے کہ حضرت مریم علیہاالسلام ولی ہیں نبی نہیں اورزکریا علیہ السلام نبی ہیں۔ حضرت مریم کو جو یہ کھانا ملا جو یہ پھل ملا اور بغیر موسم کے ملا یہ مریم علیہا السلام کی کرامت ہے اور اس کرامت کو قرآن نے بیان کیا ہے۔ اب جو بندہ کرامتِ اولیاء نہیں مانتا وہ ان کا انکار نہیں قرآن کا انکار کرتا ہے۔ اب قرآن بیان کرے تو کون بندہ کرامت اولیاء کا انکار کر سکتا ہے۔ کرامت کو ہم مانتے ہیں فرق کیا ہے؟ زکریا علیہ السلام نے حضرت مریم کی کرامت کو دیکھا تو مریم سے مانگا یا مریم کے خدا سے مانگا ؟ مریم سے نہیں مریم کےخدا کے سے مانگا۔
کرامت کے انکار کا شرعی حکم :
آج جھگڑا ہی یہی ہے عیسائی مریم علیہا السلام سے مانگتا ہے ،اب ہم مریم علیہا السلام سے نہیں مریم علیہا السلام کے خدا سے مانگتے ہیں۔ ولی کی کرامت کو دیکھ کر ولی سے مانگنا یہ” عیسائیت“ہے ،ولی کی کرامت کو دیکھ کر ولی کے خدا سے مانگنا یہ ”اسلام“ ہے۔ہم کرامت مانتے ہیں لیکن ولی کے خدا سے مانگتے ہیں۔ جھگڑا یہ نہیں ہے کہ کرامت کو نہیں مانتے، کرامت کا انکار تو کفر ہے۔
فرشتہ انسان کے روپ میں :
بہرحال مریم علیہا السلام کی تربیت مکمل ہوئی زکریا علیہ السلام کے ہاں سے چلی گئی پھر مریم علیہا السلام کے ہاں حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے مریم علیہا السلام نے پردہ کیا کہا تو کون ہے؟ انہوں نے کہا میں انسان نہیں ہوں فرشتہ ہوں۔
حضرت مریم کو بیٹے کی خوشخبری:
حضرت مریم نے کہا کیسے آئے ہو؟ انہوں نے کہا کہ بیٹے کی خوشخبری دینے آیا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کیسا بیٹا؟ نہ تو میرے پاس کوئی بشر آیا نہ میرا نکاح ہے نہ میں ایسی کوئی گندی عورت ہوں میرے ہاں بیٹا کیسے ہوگا ؟ انہوں نے کہا اسی طرح اللہ نے حکم دیا ہے میں خدا کے حکم سے آیا ہوں۔ حضرت جبرائیل امین نے مریم علیہا السلام کے گریبان میں پھونک ماری ہے،ا سی سے امید لگی ہے اسی سے بچہ پیدا ہوا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش:
اب مریم علیہا السلام کے ہاں جب ولادت ہونے لگی پیٹ ظاہر ہوا تو مریم علیہا السلام نے کہا یا اللہ !کاش میں اس دن سے پہلے مرجاتی، لوگوں کو میں کیا جواب دوں گی؟ لوگوں کو میں کیا سمجھاؤں گی کہ یہ پیٹ اللہ کی طرف سے ہے ، کون میری بات مانے گا ؟ اللہ نے فرمایا مریم یہ تمہارے ذمے نہیں ہے بیٹا ہم نے دیا ہے تو گواہی بھی ہمارے ذمے ہے، جب بیٹا پیدا ہو جائے گا تو لوگ پوچھیں گے کہاں سے لائی ہو تو بچے کی طرف اشارہ کرنا کہ مجھ سے نہیں اس سے پوچھو۔
چپ کا روزہ پہلی شریعتوں میں جائز تھا:
مریم تو نہ بول یہ خود بولے گا۔ مریم علیہا السلام کے پیٹ میں جو بیٹا تھا وہ آ گیا،گود میں ہے لوگوں نے پوچھا مریم یہ کیا؟ تو کس خاندان کی لڑکی ہے یہ کیا کیا؟ اس نے کہا جی میرا تو روزہ ہے چپ کا ، چپ کا روزہ اس امت میں تھا اب نہیں ہے۔
حضرت عیسیٰ کی سب سے پہلی بات:
انہوں نے کہا اس سے پوچھو لوگوں نے کہا اس سے پوچھیں ؟ یہ بچہ ہے۔ لیکن عیسیٰ علیہ السلام بول پڑے اور فرمایا
” إِنِّي عَبْدُ اللهِ “
) سورۃ مریم:30(
میں اللہ کا بندہ ہوں ،خدا کا کلمہ ہوں اللہ کے حکم سے پیدا ہوا ہوں اللہ نے مجھے نبوت عطا فرمائی ہے۔ اللہ تعالی مجھے کتاب دے گا۔ میری ماں تو پاک دامن ہے میری ماں پر کیا الزام لگاتے ہو ؟
عیسیٰ علیہ السلام کا دفاع قرآن کی زبان سے :
دیکھو! عیسائیت سے ہم کہتے ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ پر جو الزام لگایا گیا اس کا دفاع بھی خد ا کے قرآن نے کیا ہے اگر قرآن دفاع نہ کرتا تو دنیا کی کوئی کتاب موجود نہیں ہے جو عیسیٰ علیہ السلام کا دفاع کر سکتی ہو۔ عیسائیوں کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں تھی جو دفاع کرتی۔ ہمارے قرآن نے دفاع کیا۔
میں بات یہ کہہ رہا تھا کہ آل عمران میں عمران کون ہیں ؟ موسیٰ علیہ السلام کے والد کا نام بھی عمران تھا اور ایک حضرت مریم کے والد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نانا کا نام بھی عمرا ن تھا اسی نسبت سے اللہ پاک نے اس سورۃ کا نام سورۃ آل عمرا ن رکھا ہے۔ جس کی 200 آیتیں اور 20رکوع ہیں چند ایک مسائل میں پیش کر رہا ہوں۔ جو سورۃ کو بڑی اہمیت کے ساتھ بیان کریں۔
آیات محکمات اور متَشابہات کا مسئلہ:
هُوَ الَّذِيْ أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ۔
)سورۃ آل عمران:7(
محکمات اور متشَابہات کا مسئلہ،قرآن کریم نے خود بیان کیا ہے۔ قرآن کریم کی آیات دو قسم کی ہیں بعض آیات محکمات اور بعض متَشابہات۔ خوب سمجھ لیں ”محکمات “ان آیات کو کہتے ہیں جن کا معنیٰ بڑا واضح ہو اور ”متَشابہات“ اسےکہتے ہیں جن کا معنیٰ واضح نہ ہو۔ اللہ پاک فرماتے ہیں
الم اللَّهُ لا إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ۔
)سورۃ آل عمران:1(
اس میں ہے ”الم“ یہ متَشابہات میں سے ہے اس کا معنیٰ کسی کو معلوم نہیں تو بعض آیات مشابہات ہیں کہ جس کا معنیٰ کسی کو معلوم نہ ہو ”الم“ کا معنیٰ اللہ کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں ہے۔اللہ فرماتے ہیں
فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ۔
)سورۃ آل عمران:7(
جن کے دل میں کجی ہے ، جو گمراہ ہیں وہ محکمات نہیں متَشابہات کو پیش کرتے ہیں امت کو گمراہ کرنے کے لیے۔ مگروہ لوگ جن کا علم مضبوط ہے وہ اس کا معنیٰ بیان نہیں کرتے ،کہتے ہیں ہم ایمان لائے اس کا جو بھی معنیٰ ہے ہم اس کو مانتے ہیں۔ اللہ کے سپرد کرتے ہیں۔
متَشابہات میں بحث نہیں کرنی چاہیے :
اچھا عجیب بات ہے کہ پہلے علم والے بحث کرتے تھے اب جاہل بحث کرتے ہیں۔ اللہ پاک فرماتے ہیں علم والا ہو وہ متَشابہات سے بحث نہیں کرتا۔ وہ کہتا ہے جو اللہ نے فرما دیا وہ حق ہے ہم ایمان لائے ہیں اور جو جاہل ہے جس کے دل میں کجی اور گمراہی ہے وہ متَشابہات کے پیچھے پڑتا ہے۔ اس سے پتہ چلا کہ اب آپ معاشرے میں دیکھتے رہنا جو محکما ت کی بات کرے وہ راسخ فی العلم ہے اور جو متَشابہات کی بات کرے یہ جاہل اور گمراہ آدمی ہے۔ اللہ ہم سب کو گمراہی سے محفوظ رکھےاور اللہ ہم سب کو محکمات پر عمل کرتے ہوئے ایمان کی نعمت عطا فرمائے۔ (آمین) محکمات کی بات کرنی چاہیے اور متَشابہات میں بحث نہیں کرنی چاہیے۔
ہمارا مذہبی تعارف:
ہمارے ہاں بہت سے لوگوں نے اپنے نام رکھے ہیں کوئی کہتا ہے میرا فلاں نام ہے، کوئی کہتا ہے میرا یہ نام ہے، کوئی کہتا ہے میرا یہ نام ہے۔ ہمارا نام ہے اہل السنت والجماعت۔ کیا نا م ہے ؟ اہل السنت والجماعت۔ تفسیر الدر المنثور میں ہے کہ جب یہ آیت اتری
” يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ“
) سورۃ آل عمران:106(
قیامت کے دن بعض کے چہرے سفید ہوں گے اور بعض کے چہرے سیاہ ہوں گے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن کے چہرے سفید ہیں وہ کون ہیں اور جن کے چہرے سیاہ ہیں وہ کون ہیں ؟ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جن کے چہرے سفید ہیں ”ہم أَهْلُ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ “وہ اہل السنت والجماعت ہیں اور جن کے چہرے سیاہ ”ھُمْ أهْلُ الْبِدَعِ والضَّلَالَةِ “وہ اہل بدعت ہیں۔ اہل بدعت کا چہرہ سیاہ ہوگا اور اہل السنت والجماعت کا سفید ہوگا۔
اہل السنۃ والجماعۃ کا معنیٰ؟ :
اہل السنت والجماعت کا مطلب کیا ہے؟ اہل السنت والجماعت کا معنیٰ سمجھیں۔ سنت سے مراد پیغمبر کی ذات اور والجماعت سے مراد جماعتِ صحابہ۔ اب اہل السنت والجماعت کا مطلب یہ ہے کہ جو حدیث پیغمبر سے لے اور حدیث کا معنیٰ پیغمبر کے صحابی سے لے۔ یہ اہل السنت والجماعت ہے۔
لفظ اور معنیٰ دونوں صحابی سے :
اب جو لفط صحابی سے لے اور معنیٰ وہابی سے لے وہ اہل السنت والجماعت میں نہیں۔ ہم لفظ صحابی سے لیتے ہیں اور معنیٰ بھی صحابی سے لیتے ہیں اس طرح ہم اہل سنت و الجماعت ہیں۔ میں دو مثالیں دیتا ہوں تاکہ مسئلہ آپ پر کھل جائے۔
نماز جنازہ کے بعد دعا کا مسئلہ:
ایک شخص مجھے کہنے لگا کہ جنازے کے بعد دعا مانگنی چاہیے؟ میں نے کہا کہ آپ کا کیا خیال ہے؟ کہتا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں مانگ لینی چاہیے میں نےکہا دلیل کیا ہے؟ کہتا ہے کہ حدیث موجود ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماتے ہیں
” إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَى الْمَيِّتِ فَأَخْلِصُوا لَهُ الدُّعَاءَ “
)سنن أبی داود رقم الحدیث:3202(
جب تم میت پر جنازہ پڑھو تو دعا اخلاص سے مانگنا۔ دیکھو جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب جنازہ پڑھو تو دعا اخلاص کے ساتھ مانگنا۔ جنازہ پہلے ہے اور دعا بعد میں ہے۔ دیکھو حدیث میں آگیا میں نے کہا بالکل آگیا۔ کہتا ہے کہ پھر کیوں نہیں مانگتے؟ میں نے کہا کہ اگلی حدیث پڑ ھ! حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ خود حدیث کے روای ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
” أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلّٰى عَلٰى جَنَازَةٍ قَالَ:اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا اَللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الإِسْلاَمِ ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الإِيمَانِ “
)سنن ترمذی باب ما يقول فی الصلاة على الميت(
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب میت پر جنازہ پڑھتے تو دعا مانگتے۔ میں نے کہا تو نے کہا نہ کہ حضور نے کہا کہ جب جنازہ پڑھو تو دعا مانگو، اس کا معنیٰ بعد میں تو صحابی فرماتے ہیں” جب اللہ کے نبی میت پر جنازہ پڑھتے تو دعا مانگتے“اب دعاجنازہ کے بعدہے تو بات تیری ٹھیک اگر جنازہ کے اندر ہے تو بات میری ٹھیک۔ ایک بات پر قائم رہو خود کیوں معنیٰ بیان کرتے ہو؟ معنی ٰ صحابی سے لو۔ اہل السنت والجماعت کسے کہتے ہیں کہ حدیث صحابی سے لیں اور حدیث نبی کی ہو اور معنیٰ صحابی سے۔
داڑھی کا مسئلہ:
اسی طرح ایک شخص کہنے لگا داڑھی کتنی رکھتے ہو؟ میں نے کہا ایک مٹھی۔ لمبی کیوں نہیں رکھتے ؟ میں نے کہا کہ تم بتا دو! آپ کبھی بھی اپنے ذمے دلیل نہ لیا کرو دلیل مخالف کے ذمے لگاؤ اور خودسوال کرو۔ آپ دلیل اپنے ذمے لیتے ہیں وہ اعتراض شروع کر دیتا ہے پھر آپ کو جواب دینا پڑتا ہے پھر ہمارا فون نمبر تلاش کرتے ہیں جب فون نہیں ملتا کہتے ہیں اچھا عجیب بندہ ہے۔
چلیں میں مسئلہ سمجھاتا ہوں۔ میں نے کہا کہ جی آپ فرمائیں، کہتے ہیں حدیث پاک میں آیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
خَالِفُوا الْمُشْرِكِينَ وَفِّرُوا اللُّحٰى وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ۔
) صحیح بخاری رقم:5892(
مشرکین کی مخالفت کرو ، ڈاڑھی بڑھاؤ اور مونچھیں کٹاؤ تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ڈاڑھی بڑھاؤ! میں نے کہا کہ آگے حدیث پڑھ۔ اس میں امام بخاری رحمہ اللہ فرماتےہیں: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا عمل یہ تھا
وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا حَجَّ أَوْ اعْتَمَرَ قَبَضَ عَلَى لِحْيَتِهِ فَمَا فَضَلَ أَخَذَهُ۔
) صحیح بخاری رقم:5892(
داڑھی اپنی مٹھی میں لیتے جو بڑ ھ جاتی تراش دیتے۔ میں نے کہا ہم نے معنی ٰ صحابی سے لیا ہے تم نے وہابی سے لیا ہے۔ اہل السنت والجماعت کا معنیٰ سمجھ گئے؟
فتنوں سے بچیے :
بہت سے حضرات کو میرے بعض جملوں پہ شبہ ہوتا ہے اس لیے کہ ان کے گھر میں فتنہ نہیں آیا۔ جب تمہارے گھر میں آیا توپھر تم نے کہنا ہے مولانا گھمن صاحب کا نمبر تو دیں یہ پورے ملک کا رواج ہے۔

جب تک ہمارے گھر میں کوئی فتنہ نہیں ہے۔

میرے گاؤں میں کوئی فتنہ نہیں ہے۔

میری برادری میں بھی کوئی فتنہ نہیں ہے۔
ہم خالص دین سمجھ کر یہ بات کرتے ہیں۔ بعض لوگوں کے گھر میں فتنہ ہوتا ہے تو پھر متحرک ہوتے ہیں ہم گھر میں فتنہ آنے سے پہلے پوری امت کی فکر کرتے ہیں اللہ ہمیں فتنے سے امت کو بچانے کی توفیق عطا فرمائے۔
حذیفی مزاج کیا ہے ؟
ایک بات درمیان میں رہ گئی وہ کہہ دوں میں نے کہا کہ ہمارا کام کون سا ہے؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ والا، ہمارا کام کون سا ہے؟ حذیفی۔ حذیفی کا مطلب کیا ہے؟ صحیح بخاری میں روایت ہے حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْخَيْرِ وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنْ الشَّرِّ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا كُنَّا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَشَرٍّ فَجَاءَنَا اللَّهُ بِهَذَا الْخَيْرِ فَهَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ؟ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ وَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ؟ قَالَ نَعَمْ وَفِيهِ دَخَنٌ قُلْتُ وَمَا دَخَنُهُ؟ قَالَ قَوْمٌ يَهْدُوْنَ بِغَيْرِ هَدْيِي تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُ؟ قُلْتُ فَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ؟ قَالَ نَعَمْ دُعَاةٌ إِلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ صِفْهُمْ لَنَا؟ فَقَالَ هُمْ مِنْ جِلْدَتِنَا وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا۔ قُلْتُ فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ؟ قَالَ تَلْزِمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ۔ قُلْتُ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلَا إِمَامٌ؟ قَالَ فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ بِأَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلٰى ذٰلِكَ۔
) صحیح بخاری رقم :3606(
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کی باتیں پوچھتے اور میں شر کی پوچھتا۔ وہ خیر کی پوچھتے تاکہ عمل کریں میں شر کی پوچھتا تاکہ امت کو بچالوں۔ یہ ہے مزاجِ حذیفی اور یہ بڑا مشکل کام ہے۔ خیر کی باتیں کہنے پر شاباش ملتی ہے اور شر سے بچانے پر اپنے بھی ملامت کرتے ہیں۔ یہ بات کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ لو پھر مسئلے شروع کردیے۔ یہ مزاج حذیفی ہے اور ملامت کی پرواہ کیے بغیر بیان کرنا بڑے حوصلے کا کام ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو فتنوں کے خلاف کام کرے گا قرب قیامت اللہ اسے جہاد کا اجر عطا فرمائیں گے۔
دور حاضر میں قرعہ اندازی کا مسئلہ:
خیر جو مسئلہ میں سمجھا رہا تھا عنوان ہے نا ذہن میں؟ حضرت مریم علیہاالسلام کی کفالت میں جو قرعہ اندازی ہوئی ہے۔ آج قرعہ اندازی ہو سکتی ہے یا نہیں ؟ اس کو اچھی طرح سمجھ لیں بعض چیزوں کے اسباب شریعت نے مقرر کر دیے ہیں ان پر قرعہ اندازی جائز نہیں۔ جن کے اسباب شریعت سے مقرر نہیں کیے گئے بندے کی رائے کے سپرد ہے ان پر قرعہ اندازی جائز ہے۔
ناجائز قرعہ اندازی :
میں ذرا تفصیل سمجھاتا ہوں۔مثلاً اب بیٹی کا حصہ ایک گنا بیٹے کا حصہ دو گنا شریعت نے مقرر کر دیا اب باپ فوت ہوگیا ایک بیٹی ہے اور ایک بیٹا ہے۔ وراثت میں دو حصے بیٹے کو اور ایک حصہ بیٹی کو ملے گا۔ بعض کہتے ہیں نہیں یا ر قرعہ اندازی کر لو۔ اگر قرعہ نکل آئے تو بیٹی یہ لےلے اگر نہیں تو بیٹا۔ اب قرعہ اندازی جائزنہیں ہے شریعت نے طے کر دیا کہ بیٹے کا اتنا اور بیٹی کا اتنا ہے۔ اب کوئی قرعہ اندازی نہیں۔
جائز قرعہ اندازی :
قرعہ اندازی کس چیز میں ہو سکتی ہے؟ اب بات سمجھنا اس میں قرعہ اندازی ہو سکتی ہے کہ باپ نے تین پلاٹ چھوڑے ہیں پانچ پانچ مرلے کے اب ان میں سے دو پلاٹ بیٹے کے ہوں گے اور ایک پلاٹ بیٹی کا۔ بیٹی کو کون سا دیں؟ یہ تو شریعت نے نہیں بتایا۔ اب اس میں قرعہ اندازی کر سکتے ہیں۔ بھئی اب قرعہ ڈال لو ایک دو تین نمبر نکال لو اب نمبر طے کر لیں جس کے نام پر قرعہ نکلے وہ پلاٹ لے لے۔اب اس میں قرعہ اندازی جائز ہے۔ بات سمجھ آ گئی۔ وراثت کے حصے مقرر ہیں اس میں قرعہ اندازی جائز نہیں لیکن کون کون سا پلاٹ لے اس پر قرعہ اندازی جائز ہے۔ اس میں اعتراض کی بات ہی نہیں ہے۔ میں بات یہ کہہ رہا تھا کہ جن چیزوں کے اسباب مقرر ہیں ان میں قرعہ اندازی جائز نہیں ہے۔ جن کے اسباب بندے کی رائے کی سپرد ہیں ان میں جائز ہیں۔ میں مثال پھر دیتا ہوں تاکہ بات آپ پر کھل جائے۔
جائز قرعہ اندازی کی ایک اور مثال:
ایک باپ کے دو بیٹے ہیں اور باپ نے کہا کہ میں دونوں کو عمرہ کرواؤں گا ، ٹھیک ہے؟ اب اس میں قرعہ اندازی کی کیا ضرورت ہے کہ جس کا قرعہ نکلے وہ جائے جس کا نہ نکلے وہ نہ جائے۔ جانا تو دونوں نےہی ہے اب قرعہ اندازی کس پر ہے ؟ قرعہ اندازی اس پر ہے کہ پہلے کون جائے گا ، اس پر قرعہ اندازی کر لو۔
قرعہ اندازی میں رسول اللہ کا عمل:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات 9 ہیں۔ اب سفر میں جائیں تو کس بیوی کو لے کر جائیں۔ فرمایا کہ قرعہ اندازی کر لو جس کا نام نکلا وہ چلی جائے اور جس کا نام نہ نکلے وہ نہ جائے۔ جانا تو کسی ایک نے ہی ہے سب نے تو نہیں جانا۔ میں بتا یہ رہا تھا کہ جس کے اسباب متعین ہوں اس پر قرعہ اندازی جائز نہیں ہے۔ اور جس کے اسباب آدمی کی رائے کے سپر د ہو اس پر قرعہ اندازی جائز ہے۔
عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے زندہ اٹھا لیا تھا:
ایک اور مسئلہ سمجھیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مسلمانوں کا نظریہ اور عقیدہ یہ ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے زندہ آسمان پر اٹھا لیا ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جب یہودی پکڑنے لگے مارنے کےلیے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام وہاں سے دوڑ گئے ، ایک کمرے میں جا کر چھپ گئے ،جو یہودی گرفتار کرنے کے لیے گئے ان میں سے ایک کی شکل کو خدا نے عیسیٰ علیہ السلام کے مشابہ بنا دیا اور عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔ اب جب یہ باہر نکلا تو کہتا ہے عیسیٰ علیہ السلام نہیں ہیں ،انہوں نے کہا کہ تم خود ہی تو ہووہ کہتا ہے عیسیٰ علیہ السلام نہیں ہیں۔ وہ کہنے لگے واہ جی واہ پکڑو اسے سولی پہ چڑھا دو۔ پکڑا اور سولی پر چڑھا دیا گیا۔ عیسائی کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام تھے۔ قرآن کہتا ہے
” وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ “
)النساء:157(
یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں تھے بلکہ عیسیٰ علیہ السلام کے مشابہ تھا۔ اللہ نے اس کی شکل عیسیٰ علیہ السلام جیسی بنا دی۔ جو اللہ عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا سکتے ہیں کیا وہ شکل ایک جیسی نہیں بنا سکتے۔یہ کوئی ظلم بھی نہیں ہے یہ نبی کے قاتل تھے ان کو تو ایک کو نہیں سب کو مارنا چاہیے تھا۔ یہ تو خدا کا کرم ہے کہ ایک مارا باقی سب بچ گئے یہ تو سارے لوگ نبی کو قتل کرنے کےلیے گئے تھے۔ ان کا تو اتنا بڑا جرم تھا اس میں سارے مر جاتے تو کیا فرق پڑتا؟
غامدی فتنے کے خدوخال:
جو مسئلہ میں نے سمجھانا ہے ذرا وہ سمجھیں! ہمارے ہاں پاکستان میں ایک بہت بڑا فتنہ ہے اللہ پاک ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ پاکستان سے تو وہ چلا گیا ہے لیکن کچھ اپنی باقیات اور کچھ فتنے باقی چھوڑ گیا ہے اس شخص کا نام جاوید احمد غامدی ہے۔ غامدی چلا گیا ہے پاکستان سے دوڑ گیا ہے ملائشیا ڈیرے لگا لیے ہے۔ شاید اس نے سمجھا ہوگا کوئی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دیوانہ مجھ تک پہنچ نہ جائے۔
مسئلہ حرمت رسول اور غامدی نظریہ:
کیونکہ جن دنوں حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مسئلہ تھا اُن دنوں میں اس نے فتویٰ دیا تھا کہ توہین رسالت کا مرتکب واجب القتل نہیں ہے۔ اس پر یہ دلائل دے کر کافروں کو خوش کر رہاتھا۔ ان ہی دنوں میں یہ دوڑ گیا۔ میں نے کہا یہ سمجھتا ہوگا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دیوانہ مجھ تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ میں نے وہ یہاں سے چلا گیا کہ دیوانہ کوئی نہ پہنچے، مگر ملک الموت تو وہاں بھی پہنچے گا۔ آدمی موت سے بچ سکتا نہیں ہےبہتر ہے اپنے نظریات کی اصلاح کرے۔
وفاتِ عیسیٰ کا غامدی نظریہ:
جو بات میں نے سمجھانی ہے ذرا اس کو سمجھیں۔ یہ میں نے براہ راست غامدی کا نیٹ پہ بیان سنا ہے۔ وہ کیا کہتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام پر موت آئی ہے پھر اللہ نے آسمان پہ اٹھایا ہے۔ ہمارا عقیدہ کیا ہے ؟ کہ موت نہیں آئی ہے بلکہ اللہ نے زندہ آسمان پر اٹھا لیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ان پر موت آئی ہے وہ زندہ نہیں ہے۔ دلیل کیا ہے قرآن کریم میں ہے
” إِذْ قَالَ اللهُ ياعِيسٰى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ“
)سورۃ آل عمران: 55(
کہتا ہے اللہ نے فرمایا عیسیٰ علیہ السلام ” إِنِّي مُتَوَفِّيكَ إِلَيَّ “ میں تجھے وفات دوں گا ”وَرَافِعُكَ“اور تجھے آسمان کے اوپر اٹھا لوں گا۔تو دیکھو خدا نے پہلے وفات کی بات کی ہے پھر اٹھانے کی بات کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام سے فرمایا اے عیسیٰ ! میں تجھے موت دے دوں گا،آسمان پہ اٹھاؤں گا، تیری لاش کی بے حرمتی کافر نہیں کرسکے گا ،ہم تیری لاش کو اٹھائیں گے اور تجھے محفوظ رکھیں گے۔ اس سے پتہ چلا کہ پہلے موت بھی ہے پھر اوپر اٹھایا ہے۔ یہ ہے اس کی دلیل کا خلاصہ۔
غامدی کے نظریے کی تردید:
میں اس کی دلیل کا جواب دینے لگا ہوں اب دیکھو! حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مسئلہ کیا تھا، جب عیسیٰ علیہ السلام کے پیچھے یہودی دوڑے عیسیٰ علیہ السلام کو گرفتار کر کے قتل کرنے کےلیے۔ عیسیٰ علیہ السلام ایک کمرے میں چھپ گئے۔ اب اللہ پاک نے عیسیٰ علیہ السلام کو تسلی دی ہے۔ اے عیسیٰ! آپ نے گھبرانا نہیں ہے”إِنِّي مُتَوَفِّيكَ“موت تو میرے اختیار میں ہے یہ تجھے نہیں مار سکتے۔ موت تو میں نے دینی ہے۔ بات سمجھ آرہی ہے ؟ اب عیسیٰ علیہ السلام عرض کرتے ہیں یا اللہ موت تو آپ کے اختیار میں ہے آپ ہی دیں گے میں سمجھتا ہوں لیکن یہ تو باہر آگئے ہیں۔ تو اس موقع پر ”إِنِّي مُتَوَفِّيكَ“ کا کہہ کرتسلی دی ہےاور”وَرَافِعُكَ“ کہہ کے اٹھا لیا ہے۔
تسلی آمیز کلمات کا استعمال:
میں آپ کی مسجد میں بیان کر رہا ہوں ، اللہ نہ کرے باہر پولیس آجائے اب میں آپ حضرات سے کہتا ہوں دیکھو باہر پولیس آگئی ہے، مجھے گرفتار کرنا چاہتی ہے ،آپ کہیں گے مولوی صاحب تسلی رکھو ہمارے ہوتے ہوئے آپ کو کچھ نہیں ہوگا۔ میں کہتا ہوں کہ ہمارے دروازے پہ کھڑی ہے۔ آپ کہتےہیں جی نہیں پکڑتی میں کہتا ہوں اچھا جی پھر آپ کیا کروگے؟ قاری صاحب کہتے ہیں پیچھے دیکھو یہ دروازہ ہے۔ آپ یہاں سے آجاؤ اب دیکھو تسلی ہو گئی یا نہیں۔
پس منظر کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا:
حضرت عیسیٰ سے اللہ نے فرمایا” إِنِّي مُتَوَفِّيكَ“ عیسیٰ وفات میں نے دینی ہے یہ یہودی تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ اے اللہ یہ تو باہر کھڑے ہیں فرمایا ”وَرَافِعُكَ “ اچھا تو ہم اٹھا لیتےہیں۔ ہم دیکھتے ہیں تجھے مارتے کیسے ہیں، تو پہلے” إِنِّي مُتَوَفِّيكَ“ کہہ کر تسلی دی ہے اور پھر”وَرَافِعُكَ “ کہہ کے اٹھا لیا ہے۔ اب بتاؤ قرآن سمجھنا کیا مشکل ہے؟ اگر یہ سارا پس منظر آدمی کے ذہن میں ہو تو معاملہ بالکل الگ ہے۔ پس منظر کو چھوڑ دو تو پہلے اور آگے معاملہ الگ ہوگا۔
عیسیٰ علیہ السلام سے متعلقہ چند عقائد:

ہمارا عقیدہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو خدا نے زندہ آسمان پر اٹھایا ہے۔

قرب قیامت اللہ پاک عیسیٰ علیہ السلام کو دوبارہ دنیامیں نازل فرمائیں گے۔

وہ خلافت کا نظام قائم کریں گے۔

اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہوگی۔

مدینہ منورہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارکہ میں دفن ہوں گے

آج بھی وہاں چوتھی قبر کی جگہ خالی ہے، جہاں عیسیٰ علیہ السلام نے جاناہے۔
مسیح موعود کی چار علامتیں:
چنیوٹ میں ہمارا جلسہ تھا۔ ختم نبوت کے عنوان پہ تھا ،مجھ سے قبل ایک بہت بڑے عالم نے بیان فرمایا۔ فرمانے لگے، بھئی چنیوٹ والو ایک دلیل سمجھو یہ مرزائی کہتے ہیں کہ غلام احمد قادیانی کہتا ہے میں عیسیٰ ہوں یہ جھوٹ بولتا ہے۔ ایک دلیل سمجھو کہ ایک روایت میں آتا ہے مسند ابو یعلیٰ الموصلی کی روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام جب آئیں گے:

حاکم عادل بنیں گے، حکومت کریں گے۔

خنزیر کو قتل کرکے یہودیت کو ختم کر دیں گے۔

صلیب توڑ کے عیسائیت کا وجود ختم کر دیں گے۔

مال اتنا عام ہوگا کوئی بندہ نہیں لےگا۔
یہ چار نشانیاں ہیں۔اور مرزا کے دور میں نہ وہ حاکم عادل بنا، نہ یہودیت مٹی ، نہ عیسائیت مٹی نہ مال عام ہوا تو پتا چلا کہ یہ مرزا عیسیٰ نہیں ہے۔
پانچویں علامت بھی بیان کی جائے!:
اس کےبعد میرا بیان تھا میں نے کہا کہ قبلہ! یہ بات ہم مانتے ہیں لیکن اس حدیث میں پانچویں علامت بھی ہے وہ بھی ارشاد فرماؤ! دو بندوں کی وجہ سے کیوں چھوڑ دی ہے؟ وہ بھی بیان کریں اسی حدیث میں ہے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے حاکم عادل بن کے،یہودیت کو مٹا دیں گے ، عیسائیت کو ختم کردیں گے،مال عام ہو جائےگا اور پانچویں نشانی یہ ہے
” ثُمَّ لَئِنْ قَامَ عَلَى قَبْرِي فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ! لَأُجِيبَنَّهُ “
) مسند ابی یعلیٰ ص 1149بیروت(
پھر میری قبر پہ آئیں گے یا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کہیں گے اور میں جواب دوں گا۔ میں نے کہا جی تو مدینہ گیا ہی نہیں پانچویں نشانی بیان کرو۔
مگر وہ نہ سمجھیں میری بزم کے قابل نہ رہا:
ہماری یہ نشانی ہے ہم چند لوگوں کی وجہ سے مسئلہ چھپاتے نہیں پورا مسئلہ بیان کرتے ہیں ،اگر پورا بیان کرنا ہے تو اسٹیج پر بیٹھیں نہیں تو ہماری جان چھوڑیں۔ ہم اپنا مسئلہ کیوں چھپائیں کہ یہ ناراض ہوگا وہ ناراض ہوگا پوری دنیا ناراض ہوجائے خد ا ناراض نہ ہو۔
لوگ سمجھیں مجھے محروم وقار و تمکین

مگر وہ نہ سمجھیں میری بزم کے قابل نہ رہا

لوگوں کے سمجھنے سے کیا ہوتا ہے آج آپ راضی ہیں کل روٹھ جائیں تو کیا ہوگا؟ کچھ بھی نہیں ہوتا بس اپنے مولا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ناراض نہ کرو۔ دنیا کی محبت کچھ بھی نہیں ہے اللہ کی قسم اگر خدا اور حبیب خدا راضی ہیں ،تو پوری دنیا تمہاری غلام ہے۔ اگر وہ ناراض ہیں توپھر دنیا کی غلامی ہم نے کرنی ہے۔ اللہ ہم سب کو بات سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
میں زمانے پہ چھا گیا:
ہمار ےشیخ عارف باللہ حضرت اقدس الشاہ حکیم محمد اختر رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ جگر شاعر گزرا ہے۔ آپ نے سنا ہے ؟ آپ ہم سے زیادہ شاعری پڑھتے ہیں جگر نے کہا تھا۔
میرا کمال بس اتنا ہے اے جگر

وہ مجھ پہ چھا گئے میں زمانے پہ چھا گیا

خدا کی بات میں نے مانی ہے ،زمانے نےبات میری مانی ہے۔ اس کی غلامی کرو دنیا میں شاہی کروگےکچھ فرق نہیں پڑتا اگر لوگ ناراض ہو جائیں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگ ناراض تھے مکہ سے نکالا، وہاں ناراض ہوئے مدینے والے۔ لیکن پھر ایک دور آیا مکہ بھی حضور کا مدینہ بھی حضور کا۔ مکہ مدینہ کیا؟ پورا عالم حضور کا۔اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟
غلامی رسول کامیابی کا ذریعہ ہے :
بس حضور کی غلامی کرو۔ اللہ کی قسم ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کرو، پورا زمانہ آپ کا ہے۔ دو چار لوگوں کے ناراض ہونےسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ ناراض ہو بھی جائیں ،دنیا میں تھوڑی سی ذلت اٹھانی بھی پڑ جائے تو کوئی بات نہیں ، قیامت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرما دیں گے یہ میرا ہے۔ بتاؤ اور کیا چاہیے؟
کفار سے تعلقات کی اقسام:
ایک اور مسئلہ قرآن کریم میں ہے:
”لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِيْنَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ“
)سورۃ آل عمران: 28(
یہ مسئلہ قرآن کریم نے کئی مقام پر بیان کیا ہے۔ دوسری جگہ فرمایا
”يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارىٰ أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ“
)سورۃ المائدہ:51(
کفار سے تعلق رکھنا جائز ہے یا نہیں ؟ مسئلہ سمجھ لیں تعلقات کی چار قسمیں ہیں :

1)

موالات

2)

مواسات

3)

مدارات

4)

معاملات

موالات کا معنیٰ ہوتا ہے دل سے دوستی۔

مواسات کا معنیٰ ہے دل میں تو دوستی نہیں ہے مگر بوقت ضرورت غم خواری اور فکر ہے۔

مدارات کا معنیٰ کیا ہے ؟ غم خواری تو نہیں ہے مگر رکھ رکھاؤ ہے۔

معاملات کا معنیٰ ہے تجارت ،لین دین، مزدوری نوکری ،ملازمت وغیرہ۔
موالات کا حکم:
جہاں تک تعلق ”موالات“ کا ہے یہ تو چھوٹے سے چھوٹے کافر اور بڑے سے بڑے کافر سے بھی جائز نہیں ہے،موالات دل سے دوستی اور دل سے یارانہ۔
مواسات کا حکم :
مواسات یہ بوقت ضرورت ہوتی ہے۔ آپ کے علاقے میں ایک عیسائی ہے اس کا باپ مر گیا ہے تو کچھ ہمدردی کے بول تو بولنے چاِہییں۔ بھئی تمہارا باپ مر ا ہے اس کے مرنے پر ہمیں بھی دکھ ہے۔ ہمیں بھی افسو س ہے۔ بیٹا تھوڑا سا دل بڑا رکھو جو آیا اس نے جانا ہے۔ یہ غم خواری کے لفظ تو کافر کو بھی کہے جا سکتے ہیں۔
مدارات کا حکم :
مدارات کا معنیٰ ہے خاطر تواضع ،رکھ رکھاؤ اس کا مطلب کیا ہے ؟ آپ بازار میں رہتے ہیں بازار میں ایک کافر ہے وہ طاقت میں آپ سے مضبوط ہے۔ اس کے شر سے بچنے کےلیے آپ جب گزریں تو کہتے ہیں کیا حال ہے شیخ صاحب؟ کیا حال ہے ملک صاحب؟ چوہدری صاحب ٹھیک ہو؟۔ اب نہ یہ محبت ہے نہ غم خواری ہے۔ یہ صرف رکھ رکھاؤ ہے اور شریعت نے اس کی اجازت دی ہے۔ وہ بھی اس کے شر سے بچنے کے لیے۔ جب شر سے بچنا ہو تو پھر گنجائش ہے ورنہ ایسی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
معاملات کا حکم :
معاملات اور تجارت کافر سے جائز ہے یا نہیں ؟ اس کے بارے میں حضرت مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ نے ”معارف القرآن“ میں لکھا ہےکہ کافر سے تجارت جائز ہے بشرطیکہ تجارت کی وجہ سے مسلمانوں کو نقصان نہ پہنچے۔ مثلاً آپ کافر کو اسلحہ بیچیں ،یہ ناجائز ہے کیوں کہ اس سے مسلمانوں کی طاقت کمزور ہوگی۔ ایک ایسے کافر کا ما ل خریدیں جو اپنے مال کا کچھ فیصد کفر کے اوپر اسلام کے خلاف خرچ کرتا ہو جیسے مرزائی اور قادیانی ہیں ، اب ان کی مصنوعات کو خریدنا بھی ناجائز ہوگا۔ تو ایسی تجارت جس سے مسلمانوں کو نقصان نہ ہو کافر کے ساتھ بھی کرنے کی گنجائش موجود ہے۔
راہ خدا میں اپنی پسندیدہ چیز خرچ کرو!:
” لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ“
) سورۃآل عمران:92(
قرآن کی آیت اتری اگر تم اللہ کی محبت چاہتے، ہو اگر تم صحیح نیکیاں چاہتے ہو تو پھر وہ مال خرچ کرو جو تمہیں سب سے زیادہ پسند ہے۔ وہ سارا خرچ نہ کرو ان میں سے کچھ خرچ کرو۔
صحابہ کا عمل بالقرآن کیسا تھا؟ :
جب یہ آیت اتری ہے اب صحابہ کا ایمان دیکھو، حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے اور کہا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میری باندی پورے مال میں مجھے سب سے زیادہ پسند ہے، یہ اللہ کے نام پر آزاد ہے۔ یہ سب سے بڑی قربانی ہے۔ دولت قربان کرنی آسان ہوتی ہے اور عورت کی قربانی دینا بہت مشکل ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عورت کی قربانی دی ہے،یہ کنیز اور باندی ہے جو مجھے بہت پسند ہے۔ اللہ نے آیت اتاری ہے،یا رسول اللہ ! خدا کے نام پہ میں نے اسے قربان کر دیا۔
حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ انصار میں سے سب سے زیادہ مال دار تھے۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ کنواں یہ جو باغ ہے مجھے بہت پسند ہے۔جس کا تذکرہ میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ باب عبدالمجید سے داخل ہوں تو کارپٹ کے نیچےتین گول دائرے کے نشانات بنے ہوئے ہیں۔ حضرت ابوطلحہ کے باغ اور تین کنووں کے نشانات۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب یہ آیت اتری تو انہوں نے کہا مجھے سب سے زیادہ یہ کنویں یہ باغ محبوب ہے میں یہ اللہ کے نام پر قربان کرتا ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا یوں نہ کرو تم یوں صدقہ کرنے کے بجائے اپنے قریبی رشتہ داروں پر تقسیم کر دو۔ صدقے کا ثواب بھی ملے گا اور صلح رحمی کا ثواب بھی ملےگا۔
صدقہ اور غریب رشتہ داروں سے صلہ رحمی:
اچھا ایک واقعہ بڑا عجیب لکھا ہے مفسرین نے۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ جو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ بولے بیٹے تھے۔ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اپنا گھوڑا لے کر آئے اور کہا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے پورے مال میں سے یہ گھوڑا سب سے زیادہ مجھے عزیز ہے۔ اللہ کے نام پہ یہ صدقہ کرتا ہوں ان سے لیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بیٹے اسامہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور وہ اسامہ کے حوالے کر دیا ، ان سے لیا اور بیٹے کے حوالے کر دیا۔
انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے دل میں تھوڑی سی خلش ہے کہ میں نے مال تو دیا تھا صدقہ کرنے کےلیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی میرے بیٹے کو دے دیا ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تمہارا صدقہ بھی ہے اور یہ صلہ رحمی بھی ہے تمہارے ثواب کے اندر کوئی بھی کمی نہیں آئی۔ اس سے پتہ کیا چلا؟ آپ غریبوں پہ صدقہ بڑے شوق سے کرو،غریب رشتے داروں کو ذرا مقدم رکھو۔ خاندان میں غریب رشتے دار ہو اس کو پاؤں پہ کھڑا کرو۔ غریب کو صدقہ دینا آسان ہے اور غریب رشتہ داروں کو پاؤں پہ کھڑا کرنا بہت مشکل ہے۔ اس میں بندے کی کچھ رقابت اور کچھ رشتہ داری آڑے آتی ہے۔ پھر اس کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ترغیب عطا فرمائی ہے۔ اللہ ہمیں بات سمجھنے کو توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
منکرین حیات النبی کی شرعی حیثیت:
میں نے ایک مسئلے کا وعدہ کیا تھا اب میں وہ عرض کرتا ہوں۔ آپ ذرا توجہ رکھیں۔ یہ ہمارا عقیدہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں۔ جو اللہ کے نبی کو قبر میں زندہ نہ مانے :

وہ اہل السنت والجماعت سے فارغ ہے۔

وہ بدعتی اور گمراہ ہے۔

ایسے شخص کے پیچھے نماز نہیں ہوتی۔

اگرآپ نے نمازیں پڑھی ہیں تو ان کو لوٹانا آپ کے ذمہ ہے۔
مسئلہ بتانا ہمارا فرض ہے۔ آپ لوٹائیں تو آپ کی مرضی آپ نہ لوٹائیں تو آپ کی مرضی۔ ہم کل قیامت کے دن اپنے کندھے پہ یہ جرم نہیں لے کے جائیں گے کہ اللہ ہم نے مسئلہ چھپا لیا تھا۔
شہید زندہ ہوتا ہے :
قرآن کریم میں یہ موجود ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
”وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ أَمْوَاتاً بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُوْنَ
) سورۃ آل عمران :169(
جو اللہ کے راستے میں قتل ہو جائے ان کو مردہ گمان نہ کرو بلکہ یہ زندہ ہیں اور ان کو خدا کے ہاں سے رزق بھی ملتا ہے۔ ہمارا نظریہ یہ کہ ہے شہید کو یہ مقام نبی کی اطاعت کی برکت سے ملا ہے۔
باجماعت نماز کی ادائیگی میں امام کا اجر بھی شامل ہے :
اگر یہ زندہ ہے تو نبی بھی زندہ ہے۔ حدیث مبارک میں ہے ایک آدمی جماعت کے ساتھ نماز پڑھے 27 گنا اجر ملتا ہے۔ یہ اجر مقتدی کا بتایا ہے یا امام کا ؟ (مقتدی کا) اگر اللہ کےنبی صلی اللہ علیہ وسلم امام کا اجر بتاتے تو مقتدی کا سمجھ میں نہیں آنا تھا۔ لوگ کہتے وہ تو امام ہیں وہ تو قاری صاحب ، مولانا صاحب ہیں نمازپڑھائی ہے تو ثواب ملا ہے۔ ہم نے تو پڑھی ہے ہمیں کیسے 27 گنا۔ مقتدی کا بتایا اور امام کا سمجھ آیا۔
شہید کی زندگی میں نبی کی حیات بھی شامل ہے :
اگر قرآن کہتا نبی زندہ ہے تو لوگ شہید کو زندہ نہ مانتے۔ شہید کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں کیا حیثیت ہے؟ اللہ نے شہید کا مقام بتایا تو نبی کا مقام سمجھ آیا
شہید کہاں زندہ ہے ؟
ایک شخص میرے پاس آیا عیدالفطر کی بات ہےانہوں نے کہا مولانا صاحب!قرآن میں ہے شہید زندہ تو ہے لیکن
” عِنْدَ رَبِّهِمْ“
) سورۃ آل عمران:169(
اللہ کے پاس زندہ ہے۔ میں نے کہا اللہ کہاں پر ہے؟ کہتا ہے اللہ تو ہرجگہ پر ہے۔ وہ تھک گیا پھر اس سے جواب نہیں بن پڑا۔ کیونکہ اتنا تو رٹا ہواتھا طوطے کی طرح وہ رٹا بازی ختم ہوگئی۔
اختیارات اور نسبت کا معاملہ:
میں نے کہا ذرا یہ اصول سمجھ لیں پھر مسئلہ سمجھاتا ہوں۔ اصول یہ کہ ہے اگر کوئی چیز ایسی ہو جو بندے کے اختیار میں ہو تو نسبت بندے کی طرف ہوتی ہے اور جو بندے کے اختیارمیں نہ ہو اللہ کے اختیار میں ہوتو اس کی نسبت اللہ کی طرف ہوتی ہے۔ اصول سمجھ آگیا؟ میں کچھ مثالیں سے دوں گا۔ آپ کو بات سمجھ آئے گی۔
قرآن کریم سے پہلی مثال:
قرآن کریم میں ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
” إِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَامُ “
)سورۃ آل عمران:19(
دین اللہ کے پاس اسلام ہے تو کیا تمہارے نزدیک اسلام نہیں ہے ؟ عند اللہ کا مطلب یہ ہےکہ دین میں رد وبدل کا اختیار بندے کو نہیں ہے۔ نسبت خدا کی طرف کی ہے کہ عند اللہ دین اسلام ہے۔
قرآن کریم سے دوسری مثال:
میں قرآن کی مثالیں دے رہا ہوں ،سورۃ آل عمران میں ہے جب اللہ نےبدر کی بات کی ہے تو فرمایا
” وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللهِ “
)سورۃ آل عمران:126(
اللہ کی مدد آئےگی۔مدد کس کی جانب سے ہے ؟ اللہ کی جانب سےہے۔

اِدھر313 اُدھر1000

اُدھر700اونٹ اور300 گھوڑے۔ اِدھر کیا ہے؟ 2 گھوڑے7 اونٹ 6 تلواریں اور 8 زرہیں۔
تو یہ مدد کیسے ہو سکتی ہے؟ ” مِنْ عِنْدِ اللهِ “ کیوں ؟ اگر اسباب تھوڑے ہوں اور پھر بھی مدد ہوتو یہ بندے کے اختیار میں نہیں ہوتا خدا کی طرف سے ہوتا ہے اس لیے ” مِنْ عِنْدِ اللهِ “ فرمایا۔
قرآن کریم سے تیسری مثال:
حضرت زکریا علیہ السلام آئے جب دروازہ کھولا تو آگے بے موسمےپھل موجودتھے ،پوچھا اے مریم” أَنّٰى لَكِ هٰذَا“ یہ پھل کہاں سے آیا ؟ فرمایا ”هُوَ مِنْ عِنْدِ اللهِ “جو روزانہ زکریا علیہ السلام کھانا دیتے کیا و ہ اللہ کی طرف سے نہیں تھا؟ لیکن مریم اسے نہیں کہتی۔ اسے کہتی ” مِنْ عِنْدِ اللهِ “ کہ اللہ کی طرف سے ہے جو نہ زکریا علیہ السلام لاتے ہیں اگرچہ خدا کی طرف سے ہے،لیکن اس میں اختیار بندے کا ہے۔ لیکن جو بے موسمے پھل ملتے ہیں اس میں بندے کا اختیار نہیں ہے تو جس میں بندے کا اختیار ہو نہ اسے کہتے ہیں مِنْ عِنْدِ اللهِ کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے۔
اللہ کے پاس ہونے کا استعمال عرف عام میں :

آپ نے کہا جی آپ کے ابو کدھر ہیں ؟

کہتا ہے جی لاہور گئے ہیں۔

کیوں؟

ہماری دوکان میں کام تھا سامان لینے کےلیے۔

دادا ابو کدھرہیں؟

اللہ میاں کے پاس۔

ابو کدھر گئے؟

لاہور فلاں بازار گئے، اس فلاں تاجر کے پاس بیٹھے ہیں۔

دادا اللہ میاں کےپاس گئے ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ دادا ابو فلاں قبر ستان میں ہے، ابو فلاں تاجر کے پاس لاہور بیٹھے ہیں۔ بتاؤ خدا قبرستان میں ہے، لاہور میں نہیں ؟ پھر یہ جملہ کیوں بولتے ہو کہ ابو جی فلاں تاجر کے پاس ہیں اور دادا ابو اللہ کے پاس ہے۔
انسان کی مرضی کا دخل :
اس کا مطلب سمجھنا ابو جی مرضی سے گئے ہیں مرضی سے آئیں گے۔ دادا جی نہ مرضی سے گئے ہیں نہ مرضی سے آئیں گے۔ وہ تاجر کے پاس ہیں اور وہ اللہ کے پاس ہیں۔ عندا للہ کا معنیٰ سمجھ آیا ؟ میں عندا للہ کا معنیٰ سمجھا رہا ہوں۔
اللہ تعالیٰ کے گھر کا کیا مطلب ؟
ایک آدمی نے ایک کنال جگہ خریدی ہے۔ اس نے پانچ مرلے کامکان بنا دیا اور 15مرلے کی مسجد بنا دی ہے۔ اب جو 15مرلے کی مسجد ہے یہ کس کا گھر ہے ؟ اللہ تعالیٰ کا اور یہ 5 مرلے کا مکان کس کا ہے عبد الرحیم بھائی کا ،بشیر بھائی کا، نذیر بھائی کا۔ فرق کیا ہے؟ جگہ تو ساری اس شخص نے خریدی ایک کنال کے پیسے تو اس نے لگائے ہیں ، تعمیر اس نے کی ہے فرق کیاہے؟ یہ اس کا گھر اور وہ خدا کا گھر۔ جو پانچ مرلے اس کا گھر ہے بدلنا چاہے تو بدل سکتا ہے ،بیچنا چاہے تو بیچ سکتا ہے۔ مگر جو 15 مرلےکی مسجد ہے نہ بیچ سکتا ہے نہ بدل سکتا ہے ، نہ ہدیہ کر سکتا ہے۔ اس پر اختیار اس کا تھا یہ مکان اس کا تھا مگر اس پہ خدا کا اختیار ہے کیونکہ یہ خدا کا گھر ہے۔ عند اللہ کا معنیٰ سمجھ آیا ؟
مسجد کی زمین کا ٹکڑا اور بادشاہ کی سلطنت :
خلیفہ ہارون الرشید کی بیوی کا نام زبیدہ خاتون ہے۔ بیوی سے خلیفہ کی اَنْ بَن ہو گئی ایک دن خلیفہ نے اپنی بیوی سے غصے میں کہہ دیا اگر شام کا سورج غروب ہونے سے پہلے میری حدود سلطنت سے نہ نکلی تو تجھے طلاق۔ وہ سمجھتا تھا عورت بھی سمجھتی تھی کہ تین طلاق جو دیں تو تین ہی ہوتی ہیں۔
تین طلاق پر پشاور کا سچا واقعہ:
آج تین کو ایک کہنے والے عورتوں کے دماغ سے بھی چھوٹا دماغ رکھتےہیں۔ یہ میں پشاور کا سچا واقعہ پیش کر رہاہوں وہاں ایک عورت تھی اس کو تین طلاق ہوگئی۔ پٹھان تھا تین طلاق دے دی اب وہاں تین مولوی آگئے ،تیں مولوی کون تھے؟ جو تین کو ایک کہتے ہیں ،جو حرام کو حلال کہتے ہیں ،جو زنا کو نکاح کہتے ہیں۔ تین چار مولانا صاحب آگئے اور مسجد میں بیٹھ گئے۔ اس عورت نے کہا مناظرہ مت کرو ان سے میں خود سوال کرتی ہوں۔ میں مطمئن ہوگئی تو شوہر کے پاس چلی جاؤں گی نہ مطمئن ہوئی تو میں نہیں جا سکتی، عورت پٹھان ہے پردہ والی جگہ بیٹھی تھی۔ اس نے سوال کیا تین طلاق دو تو ایک ہوتی ہےمولوی صاحب ؟ انہوں نے کہا جی ایک ہوتی ہے۔ اس نے کہا تم میں سے کوئی ایک مولوی اپنی بیوی کو تین طلاق دے دے پھر گھر رکھ لےمیں بھی چلی جاؤں گی۔ اس نے کہا میرا گھر بچانے کےلیے تم میں سے ایک قربانی دے۔ جب تین طلاق ہوتی ہی ایک ہے تو ایک بار زبان سے کہہ دو ،مباح ہی ہے کوئی حرام تو نہیں ہےجب تین طلاق حرام نہیں مباح ہی ہے تم کہہ دو ایک مرتبہ، ایک بندہ اپنی بیوی کو تین طلاق دےاور پھر رکھ لے میں آج واپس چلی جاتی ہوں۔ علماء چپ اب کوئی بھی نہ بولےپھر اس خاتون نے کہا یہ ہم سے زنا کرواتے ہو خود اس گناہ سے جان چھڑواتے ہو، خود اس گناہ کےلیے تیار نہیں ہو۔
امت کے پہلے چیف جسٹس کا فیصلہ:
خلیفہ نے کہہ دیا بعد میں تو پریشان ہو گئے خلیفہ بھی پریشان اور بیگم بھی پریشان۔ اب بیگم نے قاضی امام ابو یوسف رحمہ اللہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے شاگرد امت کے پہلے چیف جسٹس کے پاس کوئی خادم بھیجا کہ کوئی حل بتلائیں۔ میرے خاوند نے یہ بات کہہ دی ہے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرمانےلگے بیٹی مسئلے کا حل ہے لیکن تمہیں خود آنا پڑےگا اب اس نے آنا تھا ، پھر پوچھا کب آؤں؟ مغرب کے قریب آنا مغرب کے قریب آگئی کہاں بیٹھوں؟ انہو ں کے کہا مسجد میں تھوڑی سی جگہ بنا کر بیٹھ جاؤ وہ بیٹھ گئی۔ انہوں نے کہا جی مسئلہ نماز کےبعد بتاؤں گا۔ ملکہ نے کہا نماز سے پہلے بتا دیں انہوں نے کہا جی نماز کے بعد، تم نے جانا نہیں۔
تین طلاق تو کجا ایک بھی نہیں ہوئی:
ادھر جماعت ہوئی امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے پوچھا بیٹی کیا مسئلہ ہے؟ انہوں کہا جی کیا بتانا اب نہ مسئلہ نہ حل۔ انہوں نے کہا بتاؤ تو سہی تم روتی کس لیے ہو؟ اس نے کہا جی میرے خاوند خلیفہ ہارون الرشید نے کہا تھا کہ اگرسورج غروب ہونے سے پہلے میری سلطنت سے نہ نکلی تو تجھے تین طلاق۔ ملکہ نے کہا امام صاحب اب تو سورج غروب ہو گیا اب تو طلاق ہوگئی ہے۔ امام ابو یوسف فرمانے لگے بیٹی گھر چلی جا تین کجا تجھے ایک طلاق بھی نہیں ہوئی۔ اس نے کہا جی کیوں؟ فرمایا کہ تیرے خاوند نے کہا تھا اگر سورج کے غروب ہونے سے پہلے میر ی سلطنت کی حدود سے نہ نکلی تو طلاق۔ ہم سورج غروب ہونے سے پہلے تیرے خاوند کی سلطنت کی حدود سے نکال کے تجھے مسجد میں لے آئے ہیں۔ دیکھ مسجد پر تیرے خاوند کی سلطنت کا کوئی اختیار نہیں ہے لہٰذا اب تسلی سے گھر چلی جا تجھے طلاق نہیں ہوئی۔ اسے کہتے ہیں فقیہہ۔ اس لیے لوگ فقہاء کے دشمن ہیں کہ وہ امت کے مسائل حل کرتے ہیں۔
مثالوں کا خلاصہ:

اللہ کا گھر ہے بندے کا اختیار تو ختم ہوگیا۔

اسی طرح جو خدا کے راستے میں قتل ہوجائے اسے مردہ مت گمان کرنا کیوں کہ وہ زندہ ہے مگر اس کی حیات پہ کوئی اختیار نہیں۔

اسی طرح رزق دنیا میں بھی خدا دیتا ہے۔ شہید کو بھی خدا دیتا ہے۔

دنیامیں بندے کو رزق ملتا ہے اس میں بندے کے اختیار کا دخل ہوتا ہے۔

اور جو شہادت کےبعد ملتا ہے وہ بلاقصد ملتا ہے۔

اس میں بندے کا اختیار نہیں ہوتا، اس لیے خدا نے”عِنْدَ رَبِّهِمْ“فرمایا۔

اسی قبر میں زندہ اسی قبر میں رزق ملتا ہےتو اللہ نے ”عِنْدَ رَبِّهِمْ“کیوں فرمایا؟ بندے کے اختیار کا دخل نہیں ہے۔
نبی کی محنت اورکامیابی کا مدار:
اس سورۃ آل عمران میں اللہ تعالیٰ نے ایک اور بڑی اہم بات بیان فرمائی ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا
”فَمَنْ زُحْزِحَ عَنْ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَاز“
)سورۃ آل عمران:185(
فرمایا جس شخص کو اللہ نے جہنم کی آگ سے بچا لیا اور جنت میں داخل کر دیا یہی کامیابی ہے۔ کامیابی کا مدار کیا ہے ؟ جہنم سے بچ جائے جنت میں جگہ مل جائے یہی بڑی کامیابی ہے۔ اس لیے اللہ کا نبی آتا ہے یہی نبی کی محنت کا مدار ہوتا ہے کہ امت جہنم سے بچے اور جنت میں چلی جائے۔ اللہ سب کو جہنم سے بچا لے۔ (آمین)اللہ ہمیں جنت میں جانے والا بنائے اور بغیر حساب کے لے جائے۔
ہم جنت کیوں مانگتے ہیں ؟ :
حکیم الامت مولانا تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اے اللہ! تجھ سے جنت اس لیے نہیں مانگتے کہ ہم جنت کے حقدار ہیں۔ اس لیے مانگتے ہیں کہ ہم جہنم کو برداشت نہیں کر سکتے۔ اللہ ہم سب کو جنت عطا فرمائے۔(آمین)
رائے ونڈ کے سالانہ اجتماع میں حاضری:
ان شاء اللہ ہمارا رائیونڈ کا اجتماع شروع ہونے والاہے، میرا خیال ہے ہمارا پہلا اجتماع ہےمگر میرے تو دونوں اجتماع ہیں۔ میں تو دونوں میں وہاں رہتا ہوں تم سے بڑا تبلیغی تو میں ہوں۔ تم نے پہلے کے بعد واپس آجانا ہے میں نے تو دوسرے میں بھی وہاں رہنا ہے۔ ہماری گاڑی میں خاص اسٹیکر ہوتا ہے، ہماری حویلی میں جگہ بنی ہوتی ہے جہاں آپ ترستے ہیں جانے کو۔ مولانا سعد صاحب انڈیا سے تشریف لائیں گے ان کا ناشتہ ہمارے گھر سے جانا ہے ، اس سے بڑی سعادت کیا ہوتی ہے ؟ لیکن مجھے کہتے ہیں جماعت میں وقت کتنا لگایا ہے؟ میں نے کہا حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ نے کتنا لگایا ہے؟ کہتے ہیں تین دن بھی نہیں میں نے کہا کہ ان کو مانتے ہو مجھے نہیں مانتے۔ بابا ہر بندے کے لیے وقت کی قید نہیں ہوتی۔
تبلیغی مرکز رائے ونڈ کے بزرگ امام:
ابھی میں حرم میں تھا مجھے بہت خوشی ہوئی اتنی خوشی کہ میں بتا نہیں سکتا۔ بوڑھے بزرگ تھے تشریف لائے میں نے پوچھا کہ جی آپ کا تعارف ؟ کہتے ہیں میں رائیونڈ کا امام مولانا جمیل ہوں۔ مولانا تمہارا تو بہت نام سنا لیکن ملاقات نہیں ہوئی۔ مجھے بیتے نے بتایا میں نے کہا چلو زیارت بھی کریں، باتیں بھی کریں۔ ابھی جب میں رائیونڈ گیا ملاقات کےلیے تو مولانا جمیل صاحب فرمانے لگے جب رائیونڈ آئیں تو میرے گھر قیام کیا کریں۔ اب بتاؤ وہاں کی دعوت پرمجھے کوئی ضرورت رہ جاتی ہے۔ اللہ ہمیں مشائخ کے ساتھ رکھے۔( آمین)
رہیں سلامت ان کی نسبتیں:
میں واقعے اس لیے سناتا ہوں کہ یہ ہماری سندیں ہیں ،ہماری دلیلیں ہیں۔ ہماری سند کیا ہے؟ سوائے مشائخ کے۔ اپنی سند ہر بندہ بتاتا ہے اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر بتاتا ہے اپنے آپ کو انجنئیر بتاتا ہے۔ ہمارے جو بزرگ ہیں تو ہم اپنا تعارف برزگوں سے کرائیں گے۔ جی کون ہو آپ؟ ہم رائیونڈ والے ہیں، جی ہم برزگوں والے ہیں، ہمارا ان سے تعلق ہے۔ اللہ ہم سب کی اصلاح فرمائے۔ (آمین ) آپ کا اجتماع شروع ہے۔خصوصاً آپ اس کے لیے دعائیں فرمائیں۔

اللہ گناہوں سے محفوظ فرمائے۔

اللہ فتنوں سے محفوظ فرمائے۔

مولا کریم ہم سب کے گناہوں کو معاف فرمادے۔

گناہوں سے درگزر فرما۔

بیماروں کو صحت عطا فرما۔

قرض داروں کے قرض اد ا فرما۔

اللہ جائز حاجات کو پورا فرما۔

جو تشریف لائے ان تمام کا آنا قبول فرما۔

اے میرے مولا کریم رائیونڈ کے اجتماع کو شر اورفتنوں سے محفوظ فرما۔

پورے عالم کےلیے ہدایت کا ذریعہ بنا۔

قیامت کے دن ہم سب کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب فرما۔ (آمین)
وَآخِرُ دَعْوَانا أَنِ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ