سورۃ النساء

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
 
درس : سورۃ النساء
بتاریخ : 07-12-2012
بوقت : بعد از نماز عشاء
بمقام : جامع مسجد عثمانیہ نزد واپڈا آفس
اقبال کالونی Yبلاک سرگودھا
سورۃ النساء
اَلْحَمْدُ لِلهِ نَحْمَدُہُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ،وَنَعُوذُ بِاللهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَامَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ،وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَ نَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيْكَ لَهُ وَنَشْهَدُ أَنَّ سَيِّدَنَا مُحَمَّدًاعَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ،صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ تَسْلِيمًاكَثِيرًا۔اَمَّابَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَ نِسَاءًوَاتَّقُوْا اللهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيْبًا۔
سورۃالنساء:1
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌاَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔
آج کے درسِ قرآن کاعنوان ہے ”مضامین سورۃ النساء“ یعنی سورۃ النساء میں حق تعالیٰ شانہ نے کون کون سے مضامین ارشادفرمائے؟
رجال اور نساء کا معنیٰ:
عربی زبان میں دو لفظ ہیں، ایک رجال اورایک نساء۔رجال جمع ہےرجل کی جس کامعنیٰ ہوتاہے مرداورنساء جمع ہے”امرأۃ“ کی لیکن لفظ سےنہیں ہےبلکہ دوسرے لفظ سےہےاسےعربی زبان میں کہتے ہیں کہ بعض ایسی جمع ہیں کہ جن کامفرد اس لفظ سےنہیں ہوتا بلکہ اورلفظ سے ہوتاہے۔اگرایک عورت ہوتو عربی میں کہتےہیں ”امرأۃ“ اوراگرکئی عورتیں ہوں ہوتوکہتےہیں”نساء“توایک لفظ رجال ہے جس کا معنیٰ ہےمرداورایک لفظ نساء ہے جس کامعنیٰ ہےعورتیں۔
اسلام اور خواتین کے حقوق:
میں نکتہ عرض کرنےلگاہوں ایک سوچودہ سورتوں میں سےایک بھی ایسی سورۃ نہیں جس کانام ”سورۃ الرجال“ ہواورایک سورۃ موجودہےجس کانام ”نساء“ ہےیہ میں نے ایک بہت بڑےاعتراض کاجواب دیاہےپوری دنیائے یورپ آج کہتی ہےکہ مسلمان ” عورت“کےحقوق کاخیال نہیں کرتےاللہ نےقرآن کریم میں پوری سورۃ عورتوں کےنام سےاتاری ہے۔مردکےنام سےکوئی سورۃ نازل نہیں فرمائی اس سےزیادہ حقوق کاکیاخیال کیا جا سکتاہے؟پوری سورۃ نازل فرمائی ہےتقریبا ًڈیڑ ھ پارےکی اوراس سورۃ کانام ہی سورۃ نساء ہےیعنی سورۃکانام ہی عورتوں کے نام سےہےاس میں حقوق بیان فرمائے، مسائل بیان فرمائےاوراس میں زیادہ ترمسائل وہ ہیں کہ جن کاتعلق گھریلوزندگی کے ساتھ اورمعاشرتی زندگی کےساتھ ہے۔
اسلام سے پہلے عورت کی حیثیت:
اللہ رب العزت نےاس قدررعایت فرمائی ہے خواتین کی اورحضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمدسےقبل جاہلیت کےدورمیں جب عورت کازندہ رہنا باعثِ عار اورباعثِ شرم تھا۔
اسلام نے عورت کو بلند مقام عطا کیا:
اس وقت اللہ کےپیغمبرنےعورت کےحقوق بیان کرتےہوئے اعلان فرمایاکہ جوعورت کی، بچی کی تربیت کرےپھرجوان کرےپھراس کانکاح کردے توقیامت کےدن وہ ایسےہوگامیرے ساتھ جیسےمیری دونوں انگلیاں آپس میں ملی ہوئی ہیں، یعنی وہ پیغمبر جس نےعورت کاحق اتنااداکیاہےکہ لوگ اس کوذلت اور عار سمجھتے ہیں۔ اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایاکہ اس کے قدموں تلے خدا نے جنت رکھی ہے۔
رسول اللہ کی تین پسندیدہ چیزیں:
اور آپ کو حیرانگی ہوگی کہ دنیا میں ہربندے کی اپنی ایک خواہش اورچوائس ہوتی ہے،رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا
إِنَّمَا حُبِّبَ إِلَىَّ مِنْ دُنْيَاكُمُ النِّسَاءُ وَالطِّيبُ وَجُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِىَ فِى الصَّلاَةِ۔
السنن الكبرى رقم: 13836(
مجھےدنیاکی تمام چیزوں سےصرف تین چیزیں سب سےزیادہ پسندہیں۔

1)

النِّسَاءُ یعنی عورت

2)

الطِّيبُ یعنی خوشبو

3)

وَجُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِىَ فِى الصَّلاَةِ،

4)

میری آنکھوں کی ٹھنڈک خدانےنمازمیں رکھی ہے۔
حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےدنیاکی تمام چیزوں میں سےان تین چیزوں پراپنی پسندکااظہارفرمایانمبر(1) عورت (2) خوشبو (3) نماز، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوباوجوداس کےکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کاوجودمبارک ہمیشہ پاکیزہ اور خوشبودار رہتاتھا اگر پیشاب مبارک نکلاہےتواس سےبھی خوشبوآتی، پسینہ مبارک نکلتاتواس سےبھی خوشبو آتی اس کے باوجودبھی حضورخوشبو کااستعمال فرماتے اس سےآپ اندازہ لگائیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو کتنی پسند ہوگی؟ خیرمیں نے عرض کیاکہ سورۃ کانام ہی”سورۃ نساء“ہے میں ہر درس میں عرض کرتاہوں کہ اگرایک ایک موضوع پرصرف نِکات بندہ بیان کرےتوہماراسارا وقت اسی میں پورا ہوجاتاہے، چونکہ مضامین بیان کرنےہوتےہیں اسی لیے میں نکات کوچھوڑکراصل مضامین اور مسائل کی طرف آتاہوں۔
خطبہ نکاح میں کیا پیغام ملتا ہے ؟:
جب بھی کسی شخص کا نکاح ہوآپ خطبہ نکاح سنیں تواس میں یہ آیت ہے جونکاح پڑھانے والے خطیب صاحب تلاوت کرتےہیں
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ ۔
)سورۃ النساء1(
ہم خطبےمیں یہ آیت سنتے ہیں اس وقت اتنے خوش ہوتے ہیں کہ پتہ ہی نہیں چلتامولوی صاحب نے پڑھاکیاہے، لیکن اس آیت پرکبھی غورکیا ہے کہ اللہ پاک اس آیت میں ہمیں کیا سمجھاناچاہتے ہیں؟ یعنی خطبہ نکاح میں دو آیتیں پڑھی جاتی ہیں ان میں ایک آیت سورۃ النساء کی ہےاور دوسری آیت یہ ہے
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيْدًا؀ يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللهَ وَرَسُوْلَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا ؀
) سورۃ الاحزاب:70، 71(
آیت کا خلاصہ:
اس آیت کا خلاصہ کیاہے کہ نکاح کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جوآیت کریمہ تلاوت فرمائی ہے :يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍاےلوگواس خداسےڈروجس نے تم تمام کوایک ہی جان سے پیدا فرمایا ہے، یعنی یہ بتایا ہے کہ جو تمہارے نکاح میں آنے والی ہے وہ الگ نہیں ہے تمہارے ہی جدامجدآدم علیہ السلام کی اولادمیں سے ہے تم کب تک اس کو غیر سمجھتے رہو گے تمہاری نسل کی ہے تمہارے مزاج کی ہے اس کو سمجھوذرا۔ آگے فرمایا :” وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيراً وَنِسَاءً “ پہلےآدم علیہ السلام کوپیداکیاانہی سے ان کی بیوی حضرت حوا علیہا السلام کو پیدا کیا، ان دونوں سے پھرمردوعورت کودنیامیں پھیلادیا۔”وَاتَّقُوااللهَ الَّذِيْ تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ“ فرمایاکہ اللہ کابھی خیال کرواورآپس میں صلہ رحمی کابھی خیال کرو۔کس قدرعورت کے حقوق پرقرآن کریم نے ترغیب دی ہے پھر فرمایا:” إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا“جملے پرغورکرنا اللہ رب العزت تمہارانگران ہے۔
آیت مذکورہ کو نکاح کے وقت پڑھنے کی حکمت:
یہ نکاح کے وقت آیت کیوں پڑھتے ہیں؟ عورت کائنات کے سارے افرادکوچھوڑدیتی ہےایک خاوندکےلئے اس عورت کودنیا میں کوئی پوچھنے والانہیں ہوتا فرمایا:إِنَّ اللهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًااللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اللہ ہوں پوچھنے والا تم یہ نہ سمجھنا کہ اس مظلوم عورت کودنیا میں کوئی پوچھنے والا نہیں، میں خداہوں اس لیےاس کاتم بہت زیادہ خیال کرنا۔
اگر بیوی بدمزاج بھی ہو تو ……؟
میرے شیخ حکیم اختررحمہ اللہ فرماتے تھے، ہمیں تعجب ہوتاہے اس شخص پر جو اس عورت کے منہ پرطمانچے مار تاہے عورت کوپیٹتا ہے ”العیاذ باللہ“ بندےکوسن کرشرم آتی ہے، کہ کس قدرظالم ہیں وہ لوگ جو عورت پر ہاتھ اٹھاتے ہیں، جس نے سارا جہان تیرےلیے چھوڑا ظالم توبھی اس کوپیٹے گا تو بتا دنیا میں وہ کس کوبتائے گی؟ اگرآپ کے گھر ایسی بیوی ہو جس کا مزاج اچھا نہیں، مزاج میں اکھڑ پن ہے تویہ سوچا کروکہ اگر آپ کی بیٹی کسی کے پاس جائے اورآپ کاداماداس کے ساتھ یہ سلوک کرےتوآپ کے دل پرکیاگزرے گی؟ بس آدمی اتنا تصور کر لے توبیوی کے حقوق ادا کرنابہت زیادہ آسان ہوجاتاہے۔ اللہ ہمیں یہ بات سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
یتیم بچیوں سے نکاح کا مسئلہ:
وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامٰى فَانْكِحُوْا مَاطَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنٰى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوْا۔
) سورۃ النساء:3(
اس آیت میں اللہ رب العزت نے ایک مسئلہ بیان فرمایاہے، ہوتا یہ تھاکہ پہلے زمانہ جاہلیت میں کبھی کوئی عورت یتیم ہوتی اس کاوارث کوئی نہ ہوتا تو اس سے نکاح کرلیتے، نکاح کیوں کرتے اس لیے کہ اس کاپوچھنےوالا جو کوئی نہیں اس کا وارث کوئی نہیں ہے ۔ جتناچاہیں حق مہردیں جیسے چاہیں کریں ۔ تو اللہ نے فرمایادیکھواگرکوئی ایسی یتیم بچی ہواور تمہیں یہ خدشہ ہوکہ میں نے اس سے نکاح کیاتوہوسکتاہے کہ اس کے حقوق ادا نہ کرسکوں تو بہترہے تم اس سے نکاح کرنے کے بجائے کسی اور آزاد عورت سےنکاح کرلو۔
ایک سے زائد چار تک شادیوں کی اجازت:
اورتمہیں کون سی پابندی ہے؟ کہ تمہارےنکاح میں اس ایک نے ہی رہناہے تم چاہوتودوکرلو، چاہوتوتین کرلو،چاہوتوچارکرلو، توشریعت نے اجازت دی ”فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ “ہے اگرتم نکاح کرنا چاہو دو سے آغازکیاہے تو دوبیویاں کرواورتین کرلویاتم چارکرلو۔” فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا“ اوراگرتمہیں خدشہ ہوکہ ہم ان کے در میان انصاف نہیں کرسکتےتوپھرتم ایک رکھو۔
شادی کا اعلیٰ مرتبہ:
اس سےپتہ چلاکہ اعلیٰ مرتبہ وہ ایک سے زائد ہے اورادنیٰ مرتبہ ایک ہےہمیں تعجب ہوتاہے جودوسری شادی کرےحالانکہ تعجب ہونا چاہیئے اس پر جو ایک کرےقرآن کاآپ اندازسمجھیں !قرآن کس طرز سے بات کہہ رہاہے ؟
انصاف کی حدود:
اصل یہ ہے کہ تم دو کرو یاتین کرو یا چار کرو اور اگر انصاف نہیں کر سکتے ہو توپھراس کاحل کیاہے؟ پھرایک کرو، انصاف کس حدتک ؟ اس مسئلے کواچھی طرح سمجھوآگے قرآن کریم نے ایک بات تو صاف فرمادی ہے۔
وَلَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِيلُوا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَالْمُعَلَّقَةِ
)سورۃ النساء:129(
قرآن نےکہااگرتم انصاف کرناچاہوتو بھی تمہارےاختیارمیں نہیں ہےبس ایسا نہ کرناکہ ایک بالکل لٹکی ہو اور ایک سے تم ہروقت لپٹے رہو بس ایسانہ کرنا اتنا قرآن کریم نے سمجھایاکیونکہ تمہارےاختیار میں مکمل عدل نہیں۔ کیامطلب ؟ اگرایک سے زائد عورتیں تمہارے نکاح میں ہیں:

مکان دونوں کابرابرہے۔

لباس دونوں کابرابرہے۔

خرچہ دونوں کابرابرہے۔

شب باشی دونوں کے پاس برابرہے۔
لیکن قلبی تعلق انسان کے اختیار میں نہیں ہوتااس لیے اس میں اللہ تعالیٰ نے مساوات رکھی نہیں ہے۔
ملاپ اور قلبی میلان پر عدل نہیں:
میں ایک مسئلہ بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کرنےلگاہوں۔ایک ہوتاہے عورت کولباس دینا، ایک ہے مکان دینا، ایک ہے عورت کوخرچہ دینا، ایک ہے عورت کےساتھ ہمبستر ہونا، اس میں کوئی مساوات نہیں۔ کیوں؟ اس کاتعلق انسان کے قلبی میلان سے ہےجس قدر میلان ہوگا اسی قدرملاپ ہوگا چونکہ میلان اس کے اختیار میں نہیں ہےملاپ پر شریعت نے عدل رکھاہی نہیں ہے کہ جتنا اس کےپاس جاؤ اتنا ہی اس کےپاس جاؤ۔ہاں اگرایک رات ایک کی ہے تودوسری رات دوسری کی ہے اس میں مساوات بہت ضروری ہے۔
نبی اورقلبی مساوات کا معاملہ :
خود حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر دنیامیں کون سی ذات انصاف کرنےوالی ہے ؟ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جملہ ارشاد فرمایا حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں ایک وقت میں نوبیویاں آئیں۔ حضرت خدیجہ انتقال فرماگئیں اور حضرت زینب کاانتقال ہوگیا تو دوبیویاں چلی گئیں نو بیویاں بیک وقت نکاح میں تھیں لیکن ام المومنین امی عائشہ رضی اللہ عنہاان میں بعض خوبیاں ایسی تھیں جن کی وجہ سےنبی پاک کوباقی بیویوں کی بنسبت ان سےلگاؤزیادہ تھا۔نبی پاک نے ایک جملہ ارشادفرمایااللہ رب العزت سے
اللَّهُمَّ هَذَا قَسْمِى فِيمَا أَمْلِكُ فَلاَ تَلُمْنِى فِيمَا تَمْلِكُ وَلاَ أَمْلِكُ۔
) سنن أبی داود رقم: 2136(
حضورکاجملہ سنو:
”اللَّهُمَّ هَذَا قَسْمِى فِيمَا أَمْلِكُ“
اے اللہ! جو ظاہری مساوات میرےاختیار میں تھیں میں نے کردی ہیں قلبی مساوات میرےاختیارمیں نہیں ہےاللہ اس پرمیرامواخذہ نہ فرمانا۔یہ اللہ کےنبی کامعاملہ ہے بتاؤ دوسرابندہ اس میں کیا کرسکتاہے؟
امی عائشہ سے رسول اللہ کی محبت:
حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم اپنے آخری ایام میں روزانہ پوچھتےآج کس کی باری ہے؟ آج کس کی باری ہے؟ازواج مطہرات نےسمجھاکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش ہے کہ میں عائشہ کے پاس جاؤں سب ازواج مطہرات نے کہاکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہم اپنی باری عائشہ کودیتی ہیں تو آپ وہیں قیام فرمائیں۔ آخری دن پھرحضور کے وہیں گزرےہیں اورجب انتقال ہوا تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا سرمبارک امی عائشہ کی گودمیں تھا اور جاں جانِ آفرین کے سپرد کر دی ۔
بیویوں کے درمیان عدل نہ کرنے پر سخت وعید:
میں یہ بات اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ ہم بعض باتیں سمجھتےنہیں ہیں اور بلاوجہ شریعت کے مسائل پر اعتراض شروع کر دیتے ہیں۔ اگرانصاف ہو سکتا ہے تو دونکاح کریں یادوسےزائدنکاح کریں اگرعدل نہیں کرسکتا تو پھر شریعت نےبہت سخت بات کی ہے اگرکسی کاایک سےزائدنکاح ہواس نے عدل نہ کیاتوقیامت کےدن اس حال میں آئےگا کہ اس کادھڑ فالج زدہ ہوگاپھر یوں ہے کہ اگرعدل نہیں کر سکتے توپھر دو شادیاں نہ کرو۔
اگر عدل کی طاقت نہیں ہے تو دوسرا نکاح نہ کریں:
میرےتین نکاح ہیں ۔ میں سب سے کہتاہوں کہ آپ دوسرانکاح مت کروآپ کے بس میں نہیں ہے آپ اس کوسنبھال نہیں پاتے اپنی آخرت اورقبریں بربادمت کرو ضبط کرو اپنےاوپراللہ تمہیں اسی پر اجر عطا فرمائےگا۔
پل صراط سے گزرنا پڑتا ہے :
حکیم الامت مولانااشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی چونکہ دوشادیاں تھیں تو حضرت ”شیخ“ بھی بہت بڑے تھے اور عالم بھی بہت بڑے تھے، مزاج میں ظرافت اورلطافت بھی تھی ،ایک شخص نے حکیم الامت تھانوی رحمہ اللہ سےویسے ازراہِ مذاق عرض کیا حضرت آپ کی دو بیویاں ہیں آپ توجنت میں رہتےہیں۔حضرت نے بڑا پیارا جواب دیافرمایایہ وہ جنت ہے جہاں تک پہنچنےکےلیےپل صراط سے گزرنا پڑتا ہے۔
حضرت تھانوی اور مریدین کی اصلاح:
ایک مریدنے کہاکہ حضرت آپ نے تو دونکاح فرمائے۔فرمایامیں نے اس لئے دو کیے تاکہ تم میں سے کوئی دونکاح نہ کرسکے انہوں نے کہاجی وہ کیسے؟ حضرت نے فرمایاکہ دیکھوجس طرح میں عدل کرتاہوں تم کرسکتےہو؟ کہاجی نہیں۔ کہاپھردونکاح ہی نہ کرو۔
فقر وفاقہ کا علاج ……شادی:
اچھافقر کی وجہ سےکبھی نکاح نہ چھوڑناہماراذہن ہوتاہےکہ ایک کاخرچہ پورانہیں ہوتادوسری کا کہاں سے دیں گے۔اس وجہ سےنکاح کبھی نہ چھوڑناقرآن کا وعدہ ہے
وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَى مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ ۔
)سورۃ النور:32(
اگرتم فقیرہوتوخداتمہیں غنی کردےگا۔
ایک صحابی کا واقعہ:
ایک صحابی کاواقعہ ہے روایات میں۔وہ آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں آئے اور آکرعرض کیا:

یارسول اللہ! فقرو فاقہ ہے۔

فرمایا:شادی کر لو۔

شادی کے بعد پھر آیا عرض کیا: فقر ہے۔

فرمایا:اور کر لو ۔

۝

پھر آیا عرض کیا فقر ہے۔

فرمایا اورکرلو۔

تین شادیاں کیں تو فقرختم ہوگیا۔
اب یہ بات سمجھ نہیں آسکتی مادیت پرست آدمی کو۔ اسی کوسمجھ آتی ہےجوحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات پر یقین رکھتا ہو۔میں کئی مرتبہ بیان میں کہتاہوں یقین کرو جب میری ایک شادی تھی میرےگھرمیں غربت تھی جنوری 2011 میں میرادوسرانکاح ہوا، اپریل میں نئی گاڑی آگئی، میراسال نہیں گزراچالیس لاکھ کا نیا مکان بن گیا آپ حیران ہوں گے دنیابھرمیں میں نے کسی سے نہیں مانگااللہ نے ایسا کرم فرمایاکہ انسان تصوربھی نہیں کرسکتا۔
غربت کے ڈر سے نکاح نہ کرنا درست نہیں:
خیر میں یہ کہہ رہاہوں کہ عدل نہ کرسکو تو نکاح نہ کرنااس بات سے نہ ڈروکہ غربت کیسے جائےگی؟اورمال تو ہمارے اختیارمیں نہیں ہے یہ سوچ غلط ہے۔ مال و دولت کی فراوانی وہ مالک الملک کے اختیارمیں ہے شریعت سمجھ کرکام کرنا پھر دیکھو خداکیسےفقردورکرتاہے۔
تربوز تولا جا سکتا ہے مٹھاس نہیں:
حکیم الامت تھانوی رحمہ اللہ کے ہاں ایک مریددوتربوزلےکرآیاکہ جی یہ دونوں بیویوں کےلئے ہیں۔ حضرت نے فرمایاان دونوں تربوزوں کوکاٹودونوں کو کاٹا آدھا آدھا کیا تو فرمایاآدھا اُدھربھیجو آدھا اِدھر بھیجو۔ دوسرا کاٹا تو فرمایا آدھا ا ِدھر بھیجو آدھا دوسری پاس تو اس نے کہاکہ حضرت! ایساکیوں کیا ہے؟ ہم تو دو تربوز تول کر لائےتھے ہمیں معلوم ہے کہ آپ نے ترازو رکھا ہوا ہے اورآپ تول تول کر دونوں بیویوں کاسامان بھجواتے ہیں ہم اس لیے تول کر لائے تھے تاکہ آپ کوتولنے کی زحمت نہ کرنی پڑےمگر آپ نے کاٹ کر دو ٹکڑے کیے پھر گھر بھجوائے ہیں۔حکیم الامت مولاناتھانوی رحمہ اللہ کاجواب سنیں فرمایابھائی وزن میں توآپ نے تول لیالیکن مٹھاس توآپ نہیں جانتے نا؟ اگرایک بیوی ہاں میٹھا چلا گیا اور دوسری بیوی کے ہاں پھیکا چلا گیا تواس کاجواب اللہ کے ہاں کون دےگا؟اس لیے ہم نے دونوں تربوزکاٹے تاکہ دونوں پھیکے یامیٹھے ہیں تواسی حساب سےدونوں کوملیں یہ عدل ہے۔ تو بھائی عدل کرسکتےہیں تونکاح فرمالیں اگرنہیں کرسکتے تونہ فرمائیں۔ میری گزارش سمجھ رہے ہیں میں اس لیے کہہ رہاہوں کہ شریعت کے معاملہ میں اپنے دماغ کوہم بالکل صاف رکھیں تاکہ الجھن کے اندرمبتلانہ ہوں۔
وصیت کے احکام :
يُوصِيْكُمُ اللهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا فَرِيضَةً مِنَ اللهِ إِنَّ اللهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا۔
) سورۃالنساء:11(
اس آیت میں اللہ رب العزت نے وصیت کے مسائل بیان فرمائے ہیں۔ میں وصیت کےمسائل پورےتوبیان نہیں کرتاکیونکہ اس میں کافی دیرلگتی ہے۔
تقسیم وراثت اور وصیت کا واجب ہونا:
وصیت کےمعاملےمیں اس بات کاخیال رکھیں کہ آدمی کواگریہ یقین ہوکہ میری موت کے بعدمیرےورثاشریعت کے مطابق میری وراثت کو تقسیم نہیں کریں گے اگر یہ یقین ہوتووصیت کرکےفوت ہوناآدمی کے ذمے فرض اورواجب ہے اگر وصیت نہ کی توپھرگناہ گارہوگااگرپتہ ہوکہ میرے ورثامیری وراثت کو صحیح تقسیم نہیں کریں گےتوپھروصیت کرےکہ بھائی دیکھووراثت تقسیم کرنا اور میرےذمے فلاں قرض ہے وہ بھی اداکرناان سب چیزوں کاخیال کرنابہت ضروری ہے۔
معاشرے کا غیر منصفانہ اورظالمانہ رواج:
ہم وصیت کے معاملےمیں بہت بڑی غلط فہمی کا شکارہیں آج کل ہمارےہاں یہ رواج چلتاہے کہ والدمحترم اپنی وفات سے پہلےہی اپنا مال بیٹوں میں تقسیم کردیتے ہیں اور اپنی بچیوں کومحروم کردیتےہیں۔ یہ بہت بڑاظلم ہے عورت کو وراثت سے کبھی بھی محروم نہ کرنا۔
بچیوں کی وراثت اور جہیز:
ہمارےہاں رواج کیاہے؟ ہم یہ سمجھتےہیں کہ وراثت اس لیے عورت کو نہیں دیتے کہ ہم نے جہیزجودیاہےبھائی جہیزدیناتوآپ کے ذمےہی نہیں تھاجوآپ کے ذمے نہیں تھاوہ تو آپ نےکرلیااپنا ناک رکھنےکےلئے اورجوآپ کے ذمےتھااس کو آپ نے چھوڑدیا۔ جہیزتوآپ کےذمےنہیں، کیوں؟ اس لیے کہ جہیز کامعنی ہوتاہے وہ سامان جوعورت کے گھرکی ضرورتیں ہیں توگھرکی ضرورتیں اس کے شوہر کے ذمے ہیں جس کی وہ بیوی ہے، باپ کے ذمےنہیں ہے۔ اگرباپ دیتاہے تو یہ اس کی مروت ہے اگرنہ بھی دے تو باپ کے ذمے نہیں ہے۔
بی بی فاطمہ کا جہیز یا ………؟:
لوگوں کے ذہن میں یہ دلیل آتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہاکوجہیزدیا تھا وہ اس کوبطوردلیل کے پیش کرتے ہیں۔ کہتےہیں فاطمۃ الزہرا کایہ جہیزتھا آپ مجھے بتائیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی چاربیٹیاں ہیں ایک بیٹی تونہیں ہے حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ عدل کرنے والاکون ہے؟اگرجہیزدیاہوتاتوحضورچاروں کو دیتے۔یہ تو نہیں تھاکہ ایک کو جہیزد یتے اور تین کو محروم فرمادیتے جب تین کونہیں دیاتواس کامعنی ہے یہ جہیزنہیں تھا۔
پھر یہ کیا تھا؟ حضرت علی کرم اللہ وجہہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت میں تھےبچپن سے، حضرت علی حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہی جوان ہوئے، ان کوگویابیٹے کی طرح پالاتھااب حضرت علی جب جوان ہوئے توان کےنکاح کا مسئلہ تھااگرحضرت فاطمۃ الزہرا سے نکاح نہ ہوتاکسی اورعورت سے ہوتاتوحضرت علی کو گھرکاسامان کس نے دیناتھا؟(سامعین۔حضور پاک نے) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نےبیٹاجوبنارکھاتھاجب فاطمۃ الزہرا سے نکاح کر دیا تو پھر ساتھ سامان بھی دینا تھا اگر زہرا نہ آتی کوئی اورآتی سامان توتب بھی دیناتھا۔حقیقت اس کی یہ تھی اورہم سمجھتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زہرا کو جہیز عطا فر ما د یا اللہ پاک ہمیں یہ بات سمجھنے کی توفیق عطافرمائے )آمین)
انبیاء کی وراثت کا مسئلہ:
یہ وراثت کامسئلہ امت کےلیے ہے نبی کےلئے نہیں ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایاکہ ہم انبیاء ہیں اورنبی کادنیامیں کوئی شخص مالی وارث نہیں ہوتانبی کی مالی وراثت خاندان میں کبھی بھی تقسیم نہیں ہوتی۔ یہ حدیث سمجھ میں آ جائے،اس سے ایک مسئلہ باغ فدک کاحل ہوجاتاہے۔
باغ فدک کا قضیہ:
لوگ آج سمجھتےہیں کہ باغ فدک حضرت فاطمۃ الزہرا کاتھاابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے غصب کرلیا اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اولادکودیانہیں بھائی غصب کیسے کرلیا؟صحیح بخاری میں روایت ہے کہ حضرت زہرا آئیں کہ جی باغ فدک ہماراہے، ہمیں دےدو!صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کاارشادمیرے علم میں ہے کہ نبی کاکوئی مالی وارث دنیامیں نہیں ہوتانبی جومال چھوڑکرجاتےہیں وہ صدقہ بن جاتاہےحضرت زہرا خاموش ہوگئیں اورکبھی بھی اپنے حق کامطالبہ نہیں کیا۔
باغ فدک کا مطالبہ کیوں کیا؟
میں نے کہاکہ وہ خاموش ہوگئیں اور آج جنگیں جاری ہیں کہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے باغ فدک کیوں نہیں دیا؟ وہ تو خاموش ہوگئیں ممکن ہے کہ آپ کے ذہن میں ایک سوال آئے کہ زہرا نے باغ فدک مانگاکیوں تھا؟ جب ان کاحق ہی نہیں تھاتومانگاکیوں تھا؟ اصل وجہ یہ تھی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح خیبرکے بعدیہ ترتیب بنائی تھی کہ اپنی ازواج مطہرات کے خرچہ کیلئے ایک باغ رکھ لیاتھااوراس سےسال بھرکاخرچہ ایک ایک بیوی کودےدیتے وہ بھی ازواج مطہرات تھیں جتنا ملا آگے امت کے حوالے فرمادیتی تھیں، وہ سال بھرکا رکھتی ہی نہیں تھیں۔ حضرت زہرا نے سمجھاکہ حضوراس باغ سے ہماری کفالت کرتےتھے توشایدیہ ہماراہی ہے، یہ غلط فہمی تھی۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے مسئلہ بتایاتوامی زہرا سے غلط فہمی دورہوگئی اور باغ فدک کامطالبہ کرناچھوڑدیا۔
نبی کی مالی وراثت کیوں نہیں چلتی؟:
بانی دارالعلوم دیوبندمولانامحمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ نے بڑاعجیب مسئلہ بیان فرمایا: نبی کی وراثت کیوں دنیامیں تقسیم نہیں ہوتی؟اس کی وجہ یہ ہے کہ وراثت اس کی ہوتی ہے جس کی مال سے ملکیت ختم ہوجائے۔ مرنےوالے کی ملکیت ختم ہوگی تو اولادکو منتقل ہوگی۔ اگر مرنے والے کی ملکیت ختم نہ ہوتواولادکو منتقل کیسے ہوگی؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کی صورت یہ ہوتی ہے کہ نبی کی روح مبارک پورےجسم سےقلب اطہرمیں سمٹ آتی ہے ،مکمل حیات کاانقطاع ہوتاہی نہیں ہے اس لیےنبی کی وراثت امت میں تقسیم نہیں ہوتی۔
نبی کی روح مبارک قلب اطہر میں سمٹ آتی ہے :
پیغمبرکی روح مبارک چونکہ پورے جسم سے قلب اطہرمیں جمع ہوجاتی ہے توقلب اطہرمیں حیات رہتی ہے جب قلب اطہرمیں حیات باقی ہے توبتاؤمال سے ملکیت ختم ہوگئی؟ جب ملکیت ہی ختم نہیں ہوئی ہے تومال وراثت میں تقسیم کیسے ہوگا؟
حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لاجواب دلیل:
دوسری بات کہ نبی کامال صدقہ کیوں ہوجاتاہے؟ توجہ رکھنا! مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ فرماتےہیں
مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ ۔
)صحیح مسلم رقم الحدیث 1757(
یہ جواللہ کے نبی نے فرمایاکہ جومال نبی چھوڑ کر جائے امت میں صدقہ ہے فرمایایہ بھی دلیل ہے نبی کی حیات کے اوپر، یہ نبی کی حیات کے اوپرکیوں دلیل ہےصدقہ تب بنتاہے جب مال دینےوالازندہ ہواگرزندہ نہ ہو توصدقہ بنتاہی نہیں جوحضرات فرماتےہیں کہ بوقت موت نبی کا مال صدقہ ہوتاہے اس کامطلب یہ ہے کہ بوقت موت نبی کے قلب میں حیات موجودہوتی ہے ۔کتناآسان سامسئلہ ہے لوگوں نے ایسے الجھادیاہے اس کو۔اللہ ہمیں بات سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)
دو جلیل القدر اماموں کا دلچسپ مکالمہ:
مجھےاسی مسئلہ پرایک چھوٹاساواقعہ یادآیاحضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کوفہ سےمکہ مکرمہ گئےامام جعفر صادق رحمہ اللہ کوسلام کیاانہوں نے سلام کاجواب دیالیکن زیادہ خوش ہوکرنہیں دیا ایسے دیا جیسےناراض ہوتےہیں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے پوچھاکیا ناراضگی ہے؟ آپ نے خوش ہوکرجواب نہیں دیا۔
فرمایا:اے ابوحنیفہ! ہم نے تیرے بارے میں سناہے ایک طرف آیت ہوتی ہے ایک طرف حدیث ہوتی ہے توقیاس کو لے لیتاہے اورحدیثیں چھوڑدیتاہے۔ امام صاحب نے فرمایاکہ چلیں میں آپ سے ایک دومسئلےپوچھتاہوں مجھے آپ جواب ارشاد فرمائیں۔ میری عقل یہ بات کہتی ہے کہ عورت کو وراثت میں دو گنا مال دینا چاہیے اور مرد کو ایک گنا دینا چاہیے کیوں کہ مردطاقتورہے اورعورت کمزورہے مرد باہر جاکرکمالےگااس نے تو کمانانہیں ہے تو طاقتورکووراثت سے تھوڑا دو اور کمزور کو دو گنادوتاکہ اس کی حوصلہ افزائی ہومیری عقل یہ بات کہتی ہے لیکن میں نے اللہ کےفرمان کی وجہ سے عقل کی بات چھوڑدی ہے۔
امام صاحب فرمانے لگےکہ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ جب عورت کے ماہواری کے دن ہوتےہیں تونمازبھی نہ پڑھےاوروہ روزہ بھی نہ رکھے بعد میں نمازکی قضانہ کرےاورروزے کی کرےمیری عقل کہتی ہے کہ نمازکی قضاکرے اور روزے کی قضا نہ کرےچونکہ نمازاہم ہے اورروزہ اس کے مقابلے میں غیراہم ہے تونمازکی قضا کرےاورروزے کی نہ کرے لیکن حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ روزے کی کرے اور نماز کی نہ کرے تودیکھومیں نے عقل کی بات چھوڑدی اور آپ کے نانا جی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر عمل کیا ہے۔ امام جعفر صادق اٹھے اور امام صاحب کی پیشانی کابوسہ لے کرفرمایاابوحنیفہ ہم نے تیرے بارے میں غلط سنا تھا توبالکل سچ کہتاہے۔ امام صاحب کے بارے میں لوگوں نے شبہات پیداکیے ہیں اللہ ہمیں دور کرنےکی توفیق عطافرمائے(آمین )
توبہ کی قبولیت کا وقت:
”إِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللَّهِ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السُّوءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ يَتُوبُونَ مِنْ قَرِيبٍ فَأُولَئِكَ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا“
) سورۃ النساء:17(
اس آیت میں اللہ رب العزت نے توبہ کاتذکرہ فرمایا ہے کہ توبہ اس وقت تک ہوتی ہے کہ جب تک انسان کے اوپرموت کے آثارنہ آئیں اورجب موت کے آثارآجائیں تواس وقت آدمی پر توبہ کے دروازے بندہوجاتےہیں اگرموت کے آثارظاہرہونے کے بعدبھی یہ توبہ کادروازہ کھلاہوتاتو پھر فرعون کی توبہ بھی قبول ہوجاتی کیوں کہ مرتے وقت فرعون نے بھی کہاتھا اے اللہ! میں مانتاہوں فرمایا
آلئٰن وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ۔
) سورۃ یونس:91(
بے ایمان تواب مانتاہے جب تجھے نظرآگیا ہے۔
ایمان کیا ہے ؟
معلوم ہوانظرآئے اور پھر مانے اس کانام ایمان نہیں ہے اس کانام مشاہدہ ہے نظرنہ آئے پھر بھی مانے اس کانام ایمان ہے۔ سمجھ نہ آئےتوپھرمانے اس کانام ایمان ہے سمجھ آئے اور پھرمانے اس کا نام ایمان نہیں ہے۔
عقیدہ حیات النبی عقلی مسئلہ نہیں :
آج لوگ کہتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم قبرمیں زندہ ہیں تو چھوٹی سی قبرہے سانس کیسے لیتے ہیں؟ چھوٹی سی قبرہے کھڑے کیسے ہوتےہیں؟ چھوٹی سی قبرہے نمازکیسے پڑھتےہیں؟ بھائی سمجھ آئےتب مانا اس کانام مشاہدہ ہے نہ سمجھ آئے پھر مانااس کانام ایمان ہے۔
قبولیت توبہ کی شرائط:
توبہ کی شرائط میں سے تین شرطیں بنیادی ہیں۔ یعنی جب آدمی توبہ کرےتو بوقت توبہ یہ تین کام کرے۔

گناہ کو چھوڑ دے ۔

آیندہ نہ کرنےکاعزم کرے۔

اپنےگناہ پرندامت بھی ہو۔

اگرگزشتہ گناہ نہ چھوڑےتوپھربھی توبہ کرے۔
لاحول پر لاحول بھی لاحول پڑھتا ہوگا:
یہ کیسی توبہ ہے؟ بازارجاتےہیں نیم عریاں لڑکیوں کی تصاویرہیں ،کہتےہیں
لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِالله
کتنی بے حیائی ہے لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِالله بھی پڑھ رہےہودیکھ بھی رہے ہو؟اس لاَ حَوْلپر تو لاَ حَوْل بھی لاَ حَوْل پڑھتا ہوگا۔
بدنظری سے خود کو بچائیں:
جب سامنے تصویر ہے تو اس سے آنکھیں نیچی کروپھر لاَ حَوْلَ پڑھو قرآن کریم کاحکم کیاہے؟
”قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوامِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ“
کہ جب آؤ تو اپنی آنکھیں نیچی کروتواس کانام ہے پردہ۔ اس سائن بورڈ کو دیکھ بھی رہے ہیں اورکہتےہیں لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِالله دیکھوہمارے سرگودھاکے اندربھی کتنی بڑی بے حیائی شروع ہورہی ہے؟ بھائی اپنی آنکھیں نیچی کرو۔
توبہ کی بنیادی تین شرائط:
میں گزارش کررہاتھاکہ توبہ کیلئے تین بنیادی شرطیں ہیں:

1.

گناہ کو چھوڑ دے۔

2.

آئندہ نہ کرنےکاپکا عزم کرے۔

3.

اپنےگناہ پرندامت بھی ہو۔
جب آدمی اپنے گناہ پر ندامت کا اظہار کرے تو صرف یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس گناہ کو معاف کرتےہیں بلکہ پچھلے گناہوں کوبھی اللہ نیکیوں میں بدل دیتےہیں۔
اہل دنیا کا قانون :
میں ایک بات کہتاہوں اللہ کی عدالت کامعاملہ دنیاکی عدالت سے بہت مختلف ہے دنیاکی عدالتیں اگرمجرم کومعاف بھی کردیں اس کے ریکارڈ کو ضائع نہیں کرتیں ایک آدمی چوری کے کیس میں پکڑاجائے اوردوبارہ وہ چارمہینے بھی لگالے چلہ بھی لگا لے اور نیک ہوجائے مگر جب بھی چوری ہوگی تھانے والے ایک مرتبہ ضرور آئیں گے پھر امیر صاحب صفائی دیں گے کہ جی اب یہ بدل گیا ہے اب اس کی جان چھوڑدو اگلاS.H.O پھرپہنچ جائےگا کہ جناب ہمارے پاس تو اس کا ریکارڈ پڑا ہے۔ تودنیاکاقانون کیاہے؟ عدالت اگر مجرم کومعاف بھی کردے مگراس معافی کے باوجود اس کاریکارڈختم نہیں کرتی۔
احکم الحاکمین کا قانون:
خدا کا نظام یہ ہے: إذا تاب العبدُ أنسى اللهُ الحفظةَ ذنوبَه وأنسى ذلك جوارحَه ومعالِمَه من الأرض حتى يلقى اللهَ وليس عليه شاهدٌ من اللهِ بذنبٍ
)جامع الأحاديث ج2ص461(
حدیث مبارک میں ہے:جب بندہ گناہ سے توبہ کرےتو اللہ تعالیٰ وہ گناہ مٹا دیتے ہیں حتیٰ کہ

فرشتوں کوبھی بھلا دیتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ جسم کے اعضاکوبھی بھلادیتےہیں۔

اللہ تعالیٰ اس زمین کوجہاں گناہ کیے ہیں اس کوبھی بھلا دیتے ہیں۔
جب قیامت میں خداکےدربارمیں جائےگا تو کوئی ایک بھی اس کے خلاف گواہ نہیں ہوگا۔اللہ صرف گناہ معاف نہیں کرتے،اللہ تعالیٰ ریکارڈبھی ختم کر دیتے ہیں دنیاکی عدالتیں جرم تومعاف کر دیتی ہیں لیکن ریکارڈختم نہیں کرتیں اللہ رب العزت ریکارڈ کوبھی ختم فرمادیتےہیں۔
بیوی کو دیے ہوئے مال کا دوبارہ مطالبہ نہ کرو:
”وَإِنْ أَرَدْتُمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَكَانَ زَوْجٍ وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا أَتَأْخُذُونَهُ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا“
) سورۃ النساء:20(
اس آیت میں بنیادی طورپرایک مسئلہ بیان فرمایا اگر ایک عورت سے نکاح ہوا اوران کاآپس میں مزاج نہیں ملتااورطلاق کی نوبت آجاتی ہے تو پھر جو کچھ اس دوران تم نے عورت کودیاہے حق مہر، یاکچھ مال، تواس مال کا واپس مطالبہ نہ کرو۔جب طلاق ہوتی ہے تو اکثر کہتےہیں ہم نے تو وہ بھی دیاتھایہ بھی دیاتھاقرآن کہتاہے یوں نہ کیاکرودیکھو ایک مدت تم دونوں ایک ساتھ رہے ہو اکٹھے وقت گزارا ہے مروت اورغیرت بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ اب واپسی کاتقاضانہیں کرنا چاہیےحق مہرجوتم نے دیا لاکھ دیاہے یاکروڑ دیاہے اب اس کی واپسی کامطالبہ نہ کرویہ مردکےلئے جائزنہیں تواس سے آدمی کوبچناچاہیے۔ اس پر میں دو باتیں عرض کرتا ہوں۔
شادی کی رسومات اور مہر فاطمی:
حق مہر کے حوالےسےہمارےہاں عموماً مزاج کیاہے؟ جب مسجدمیں نکاح ہوگاپہلےمنگنی پرپیسے خرچ کریں گےپھرجہیزپرلڑکی والوں سے جہیزلیں گے،پندرہ بیس لاکھ کااوردوسو بندے ان کے کھانے پرلائیں گے اس میں ان کے پانچ لاکھ خرچ کروائیں گےان کےبیس لاکھ پچیس لاکھ خرچ کروا لیں گے۔ جب پوچھاکہ نکاح میں حق مہرکتناہے؟ توکہیں گے مولوی صاحب حق مہر فاطمی کتنا ہوتا ہے؟ بھائی جب تم نے جہیز مانگا تھا پھر حضرت فاطمہ یاد نہیں ہے، جب دوسو لوگوں کی بارات لے کرآئے پھرحضرت فاطمہ یاد نہیں ہے؟ جب بچی کوحق مہر دیناہے تو پھر پوچھتےہو مولانا صاحب بتاؤ حق مہر فاطمی کتنا ہوتا ہے؟ اب یہ کتنا سادہ مسلمان بن گیا؟ کیسانیک آدمی ہے؟ آدمی کی یہ باتیں غیرت اورمروت کےبھی خلاف ہیں یہ کس طرح کس منہ سے تقاضاکرتےہیں، اچھا ایک جب عورت کی باری آئےتوپوچھتےہیں مہر فاطمی کتناہے۔
مولوی طبقے سے ناروا سلوک:
دوسراجب مولوی صاحب کی باری آئے تو کہتےہیں کہ جی مولاناصاحب کے لئے مسجدکیلئے کتنے پیسے دو گے؟ جی ہمارے ہاں تو دو سو روپے دیتے ہیں باقی آپ جیسے مناسب سمجھو بندے کو سن کر بھی شرم آتی ہے بارات دیکھو تو ٹو، ڈی گاڑیوں پر لاتے ہیں کھانادیکھوتودس ڈشیں پکی ہیں اور مولاناصاحب کی باری آئے تو کہتےہیں ہمارے ہاں تو دو سو روپے دیتے ہیں باقی آپ جیسے مناسب سمجھومناسب سمجھنے کا مطلب کہ آپ دوسو روپیہ اور بڑھادیں میں کہتاہوں کہ آپ بارات پر پیسے خرچ نہ کرو اور اگر آپ نے خرچ کرنے ہی ہیں تومسجدکے امام کاکیاقصورہے 50ہزار روپے اس کوبھی دے دو کیافرق پڑتاہے ؟
مسنون حق مہر کتنا ہے ؟:
میں آپ سے پیسے نہیں مانگتا ہم نے نکاح کی ترتیب یہ نہیں رکھی۔ میں اپنے گاؤں میں بھی نکاح پڑھاؤں تونکاح کی فیس مسجدکے امام کی ہوتی ہے، میں عید پڑھاؤں تواعلان کرکے مسجدکے امام کیلئے خود جمع کرتاہوں،مسجدکےخادم کوبھی دواورامام کوبھی دو۔ ایک تو میں نے عرض کرناہے کہ حق مہرکتناہوتاہے 10درہم چاندی اس سے کم حق مہرکی تو گنجائش ہی نہیں لیکن حق مہرہوناکتناچاہیے؟ اس میں دوچیزوں کی رعایت کرنا ضروری ہے اتناکم نہ دوکہ عورت اپنی سہیلیوں کو بتاتے ہوئے شرمائے اور اتنا زیادہ بوجھ نہ ڈالوکہ لڑکا دے نہ سکےبس ان دونوں کی رعایت کرویہ حق مہر مسنون ہے۔ اتناکم نہ دوکہ لڑکی کوبتاتےہوئے شرم آئے ایک لڑکی کروڑ پتی ہے باپ کی دس دکانیں ہیں اس کا حق مہر پانچ ہزار ہو تو وہ کسی کو کیسے بتائے کہ میرا حق مہر اتنا ہے، حق مہراس کااتنارکھوکہ لڑکی کوسہیلیوں کو بتاتے ہوئے شرم نہ آئے۔
بیوی کی سہیلیوں کا بھی خیال کرو:
جیسے آپ کے دوست ہیں اس کی بھی توسہیلیاں ہیں،اپنے دوستوں کی رعایت کرتے ہو توبیوی کی سہیلیوں کی رعایت کیوں نہیں کرتے؟ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشادفرمائی ہے میں اور آپ کون ہوتےہیں کہ نہ کریں۔حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہاوفات پاگئیں، دنیاسے چلی گئیں اندازہ کرودنیاسے چلی گئیں اورحضورصلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج یہ تھاکہ جب گھر میں بکری ذبح ہوتی یا جب بھی گھرمیں گوشت ہوتا تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کی سہیلیوں کے گھروں میں گوشت بھجواتے۔ اپنی فوت شدہ بیوی کی سہیلیوں کا اتنا خیال فرماتے۔اس کابہت خیال کیا کرو یہ جوہمارے گھروں کا نظام بگڑتاہے ناں میں کون کون سا رونا رؤوں گااس میں ہمارے بہت سارے معاملات کودخل ہے مجھ سے کبھی بہت سےبے تکلف ساتھی پوچھتےہیں: مولوی صاحب!آپ کے گھر میں کبھی لڑائی نہیں ہوتی میں نے کہاکبھی نہیں ہوئی کیوں نہیں ہوتی؟ میں نے کہا الحمدللہ ہم رعایت کرتے ہیں، میں اپنے دوستوں کی رعایت کرتاہوں گھروالوں کی سہیلیوں کی بھی رعایت کرتا ہوں۔ کہ بھئی تمہاری سہیلیاں ہیں جو دینا چاہو دے دو۔
گھریلو نظام زندگی کو پر سکون بنائیں:
حکیم الامت تھانوی رحمہ اللہ فرماتےہیں کچھ ایساماہانہ خرچہ اپنی بیوی کو دینا چاہیے کہ جس کااس سے تم حساب نہ مانگاکرویہ حکیم الامت مولانا تھانوی رحمہ اللہ فرما رہےہیں کچھ ا یساخرچہ دوجس کاحساب نہ مانگو۔میں خودکہتاہوں کہ بھئی تمہاری کوئی سہیلی ہو اس کو سو دوسو کا کارڈ بھیجنا چاہو تو بھیج دو۔ یہ ہدیہ کسی سہیلی کودیناچاہو تو بے شک دے دو، مجھ سے پوچھا نہ کرو، تمہاری کوئی بھی سہیلی ہو اس کی بلاکردعوت کرو خرچہ سارا میرے ذمےہےخوش رکھو اپنی سہیلیوں کو، کیوں ؟بھائی آپ کے پاس کروڑ روپیہ ہے آپ کے پاس دو دوکانیں ہیں تو بیوی کا امیج بھی توبڑھناچاہیے اس کو آپ رگڑ کے رکھتےہیں دوستوں کو آپ باہر تِکے کھلاتے ہیں تو پھر گھر میں کُڑکُڑتوہوگی پھر لڑائی تو ہونی ہے ۔ اللہ ہم سب کوبات سمجھنے کی توفیق عطافرمائے(آمین)
حضرت عمر کے سامنے خاتون کی حق گوئی:
مجھے اس پرایک چھوٹاساواقعہ یادآیاحضرت عمررضی اللہ عنہ کاایک مرتبہ جی چاہاکہ حق مہرمقررکردیں تاکہ اس مقدارسے زیادہ لوگ حق مہرنہ دیں شادیاں مہنگی نہ ہوں اور امت پربوجھ نہ پڑے حضرت عمررضی اللہ عنہ نے جمعہ کےدن خطبہ دیا اور خطبہ میں مسئلہ بیان فرمایا ایک مقدارمقررکرنےکےلئے کہ بھائی اتناحق مہر دیا کرو اوراس سے زیادہ حق مہرنہ دوتاکہ شادیاں مہنگی نہ ہوں حضرت عمرنے جوں ہی خطبہ دیا ایک عورت کھڑی ہوگئی اسے کہتےہیں حق گوئی، ایک عورت کھڑی ہوگئی اس نے کہا عمرتم کون ہوتے ہوحق مہرکومتعین کرنے والے ؟ قرآن نے تومتعین کیاہی نہیں قرآن کہتا” وَإِنْ أَرَدْتُمْ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَكَانَ زَوْجٍ “ہے اگرتم کسی عورت کوحق مہرمیں سونے کاڈھیربھی دےچکےہوتوطلاق دوتوواپس نہ لوقرآن سونے کا ڈھیر دینےکی اجازت دیتاہے عمرآپ کیسے متعین کرسکتےہو؟ حضرت عمرفرمانےلگےہاں جی اگریہ عورت نہ ہوتی تو عمر برباد ہو جاتا، اپنی رائے واپس لے لی۔ اسے کہتےہیں حق گوئی، حضرت عمررضی اللہ عنہ جیسےجری آدمی نےفرمایامیں رائے واپس لیتاہوں واقعتاً جس آیت پرتیری نگاہ پڑی اس پرمیری نگاہ نہیں تھی۔
خلفائے راشدین کا عمل حجت ہے :
خلفاء راشدین کا عمل کیوں حجت ہے؟ اسی وجہ سے حجت ہے کہ خلیفہ راشدصحابہ کے دورکابندہ ہے ان سےغلطی ہو تو وہ غلطی پرقائم رہ نہیں سکتا، فوراًصحابہ کی جماعت کہتی ہے نہیں !نہیں! ایسے نہیں ہو سکتا۔
مال غنیمت اور ایک لمبا کرتا:
حضرت عمررضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ نے سناہے مال آیاہے غنیمت کاہے کپڑاہے باقی لوگوں کا ایک ایک جوڑا بنا، حضرت عمر کاقدلمباتھا اس کپڑے سے حضرت عمرکاجوڑابن ہی نہیں سکتاتھا۔جمعہ کے دن خطبہ کےلیے آئے ایک شخص کھڑا ہوااعرابی دیہاتی تھا اس نے کہاعمر! خطبہ بعدمیں دوپہلے ہمیں حساب دو جتنا تمہارا قد ہےجتناکپڑاتقسیم ہوااس سے تمہاراسوٹ بن ہی نہیں سکتاپہلےاس کاجواب دو پھر تقریرشروع کرنا۔
حضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایااس کاجواب میرابیٹاعبداللہ دےگا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما کھڑےہوئے اور کہامجھے پتہ تھامیرے باپ کا قد لمبا ہے میں نے اپنے حصے کاکپڑاان کودیاہے تاکہ میرے بابا کاسوٹ بن جائے حضرت عمررضی اللہ عنہ اس سے بہت خوش ہوئے فرمایاجب عمرکی فوج اورماتحت میں ایسے بندے موجودہوں توعمرکبھی بھی خراب نہیں ہوسکتا اس پر بندےکوخوش ہوناچاہیے اگرکوئی غلطی پرنشاندہی کرے۔
عورت پر مرد کی فوقیت:
الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ
)سورۃ النساء:34(
اس آیت میں بنیادی طورپردومسئلے ہیں ایک مسئلہ یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے اس آیت میں مردکی فوقیت کوبیان فرمایاہے” الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ“دو وجہیں بیان فرمائیں یہ بڑی اہم بات ہے مردکواللہ نے عورت پرفوقیت دی ہے اور دو دلیلیں بیان فرمائیں۔
وہبی اور کسبی صلاحیت :
ایک دلیل ایسی ہےجو کسبی ہے اورایک ایسی ہے جووہبی ہے۔وہبی کہتےہیں جوبغیربندےکے اختیار کے ہو۔کسبی کہتےہیں جوبندے کے اختیار میں ہو۔
مرد کی فوقیت کی پہلی وجہ:
اللہ پاک فرماتےہیں کہ مرد کو عورت پرفوقیت ہے دوباتوں پر
بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ
پہلی وجہ یہ ہے اللہ کانظام یہ ہے کہ اللہ نے بعضوں کوبعضوں پرترجیح دی ہے، یہ ہمارافیصلہ ہے کہ مردکوعورت پرفوقیت ہے اس نظام کو تم بدل نہیں سکتے۔یہ مردکی وہبی صلاحیت ہےاس میں مردکے اختیارکودخل ہی نہیں ہے۔
مرد کی فوقیت کی دوسری وجہ:
” وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ “
دوسری وجہ یہ ہے کہ مردخرچ کرتاہے اورعورت خرچ کرواتی ہے خرچہ کرنے والا ہاتھ اوپرہوتاہے اورخرچہ لینےوالاہاتھ نیچےہوتاہے، اوپر والے ہاتھ کونیچے والےہاتھ پرفوقیت ہوتی ہے دیکھواللہ نے کیسی عقلی بات فرمائی ہے اور دونوں باتیں سمجھائی ہیں۔
بعض خواتین مردوں سے افضل ہیں :
اچھایہ مسئلہ سمجھیں یہ جومسئلہ بیان کیا ہے ناں کہ مردکوعورت پر فوقیت حاصل ہے یہ جنس مرد کو جنس عورت پرہے ورنہ جزوی طورپربعض عورتیں جو مردوں سے افضل ہوتی ہیں۔ میری بات سمجھ آگئی؟ یعنی عموماًکہاہےجیسے ہم کہتے ہیں کہ عالم عابدسے افضل ہے لیکن اگر کوئی مولوی صاحب بھی ہوٹیلی ویژن بھی دیکھتا ہو گناہ بھی کرتا ہو اورعابدیہ کام نہ کرتاہوتوپھرہم اس ٹی وی دیکھنے والے مولوی صاحب کوتونہیں افضل کہہ سکتے ۔میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ یہ عمومی ضابطہ ہے کہ مرد عورت سے افضل ہے لیکن بعض عورتیں ایسی ہوتی ہیں جوبعض معاملات میں مردوں سے بہت زیادہ سمجھ دارثابت ہوتی ہیں۔
خواتین کی سمجھداری کے چند واقعات:
میں اس پہ اگر واقعات عرض کرو ں تو بہت زیادہ وقت لگے گا ۔ اتنے واقعات ہیں کہ بعض معاملات میں عورتوں نے ایسے مسائل پیش فرمائے جس کاحل وقتی طورپرمردبھی نہ پیش کرسکا۔
پہلا واقعہ:
ایک واقعہ تورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی زندگی کاہے آپ نے سنا ہوگاجب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سےمکہ معظمہ عمرےکیلئے تشریف لے گئےاورحدیبیہ کے مقام پرروک دیاگیا، صلح کی شرطیں طے ہوگئیں معاہدہ ہوگیا، رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم واپس جانےلگے کہ اگلے سال عمرےپرآئیں گے اب رسول پا ک صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سےفرمایا کہ بھئی ہم عمرہ تونہیں کرسکتےواپس جاناہے توواپس جانےکیلئے یہیں احرام کھولنا پڑے گا لہٰذا یہاں قصرکرو، احرام کھولیں اورواپس چلیں، صحابہ بھی تو عرب تھے ،مکہ کےقریشی تھے،اپنے جذبات بھی تھےتو ایسا معاملہ ہوا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین دنگ رہ گئےاتنالمباسفرکیاہےہم حق پر ہونے کے باوجود اتنانرم معاہدہ کرتےہیں اورحلق اورقصرکراکے احرام کھول کرواپس چلےجائیں یہ مدینہ والوں کوکیاجواب دیں گے؟واپسی کس منہ سےجائیں اور اتنے دینی جذبات تھے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوداس میں تھوڑا سا تردد ہوا کہ میں ان کواب کیسے سمجھاؤں کہ حلق کروالو، قصرکروالو، ان کے جذبات کومیں کیسے کنٹرول کروں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اسی کیفیت میں اپنے خیمےمیں تشریف لائے اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر کچھ غم کے آثارباقی تھے۔
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں انہوں نے پوچھا:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیاپریشانی ہے آج آپ کے چہرے پرغم کے آثارہیں فرمایاام سلمہ پریشانی یہ ہے کہ اس طرح میں ا ن کوکہوں تواحرام کھولیں گے؟ اگراحرام نہ کھولا توایمان کامسئلہ ہے اگرکھولیں گے توبہت مشکل ہےان کے مزاج پر بہت شاق گزرے گامیں کیسے ان سے کہو ں کہ احرام کھولو؟ام سلمہ رضی اللہ عنہادیکھوعورت ہیں اورایسابہترین حل عرض کیاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کاچہرہ مبارک بھی کِھل اٹھاانہوں نے کہا یا رسول اللہ آپ ان سےکچھ بھی نہ کہیں آپ خیمے سےباہرتشریف لے جائیں اوراپناقصرکروالیں یہ جانثارہیں خود ہی بال کاٹ دیں گے آپ کچھ بھی نہ فرمائیں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم خیمے سے باہر نکلےجوں ہی قصر کروایا سب صحابہ شروع ہوگئے چلوبھائی حلق کراؤحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کروادیاہے دیکھو کیسا حل پیش فرمایا حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہانے جو خاتون اور عورت ہیں۔
دوسرا واقعہ:
ایک اور واقعہ سنیں ایک بہت معروف آدمی تھے، ان کاتاریخ میں تذکرہ ملتا ہے ابوحمزہ ان کی کنیت مشہورتھی نام مشہورنہیں تھااس نے نکاح کیا دو، چار، پانچ، دس، سال گزرے توبیٹانہیں ہورہا بیٹی پھربیٹی پھر بیٹی، پھر بیٹی اب انہوں نے سوچاکہ اس عورت کوطلاق دے دوں اس کے ہاں تو بیٹاہی نہیں ہوتا جیسا آج کل ہمارے ہاں رواج ہے عورت کے ہاں دو، چار، بیٹیاں ہوجائیں تولوگ سمجھتے ہیں یہ عورت منحوس ہے۔اس نے سوچاکہ میں اس کوطلاق دےدوں جب طلاق دینے کاارادہ کیاتورات کو اپنے گھر آنا چھوڑدیا کسی اپنے دوست کے ہاں رہنے لگے بیوی ان کی سمجھ دارتھی اس کوبھی اندازہ ہوا کہ میراشوہر شاید مجھے طلاق دینے کاارادہ کرچکاہے اوروجہ یہ ہے، بیوی سمجھ دار بھی تھی اور شاعرہ بھی تھی، اس نے کاغذپرچنداشعارلکھ کراپنے خاوند کو بھجوا دیے اس نے لکھا ۔
مَا لأبي حمزةَ لاَ يأتِينَا
غَضْبانَ ألاَّ نَلِدَ البَنِينا

تَاللهِ مَا ذَلكَ فِي أَيْدينا

فَنَحنُ كَالأَرْضِ لغارسينا

نُعطِي لَهُم مِثْل الذِي أُعْطِينَا

)تفسیر شعراوی تحت آیت الا ساء ما یحکمون(
اس نے کہا ابوحمزہ کو کیاہوا؟ ہمارے پاس آتاہی نہیں ہے، ہمارا ہمسایہ ہےاس کے گھرمیں رہنا شروع ہوگیا، وہ ناراض ہے کہ ہمارے پیٹ سے بیٹاپیدانہیں ہوتا، خداکی قسم کہ یہ ہمارے اختیارمیں نہیں ہے، میری مثال زمین کی سی ہے تیری مثال کسان کی ہے، زمین میں وہی بیج ہوتاہے جوکسان ڈالتاہے، اوردرخت وہی نکلتاہے جوکسان نے بیج ڈالا ہوتا ہے بتاؤ میراکیا قصورہے؟ ابوحمزہ نے معافی مانگی اورگھرآگئے۔
تیسرا واقعہ:
ایران کاایک بادشاہ تھادوران گفتگواس کی زبان سے ایک جملہ نکلا جملہ کیا تھا ”در ابلق در جہان کسے کم دیدہ بود“ کہ دنیا میں ایساموتی کسی نے نہیں دیکھا جو سفید ہو اوراس کے اندرسیاہی ملی ہو اب جملہ زبان سے نکلاشعراء سے کہاشعرپوراکروشعراء زورلگارہےہیں شعرپورانہیں ہورہا۔ اس نے کہا شعر پورا کرو ورنہ میں تمہیں سیٹ کر دوں گااب جوروزانہ بادشاہ کےٹکڑوں پر پلتےہیں کبھی توپھنس ہی جاتےہیں۔ اللہ سرکاری بننے سے محفوظ رکھے (آمین)سرکاری بننابہت خطرناک ہے جوپھنستاہے پھر نکل نہیں سکتا۔اس نے کہابھئی یہ شعرتلاش کرواب شاعروں سےاس کاجواب تلاش نہیں ہورہا یہ شعر ایران سے چلتاچلتاہندوستان میں پہنچا باتیں تو اڑتی ہیں ۔یہی اڑتی ہوئی بات ہندوستا ن میں پہنچی ہندوستان میں ایک بادشاہ عالمگیر بہت نیک تھااس کی بہن تھی زیب النساء اس نے نکاح بھی نہیں کیاایسےہی دنیاسے رخصت ہوگئی زیب النساء اس کی بہن تھی بہت بڑی فاضلہ،عالمہ اورشاعرہ تھی ایک دن آئینہ کے سامنے کھڑی تھی اور اپنی آنکھوں میں سرمہ ڈالا جوں ہی سرمہ ڈالااس سے آنسونکلا اب دیکھو سفید آنسو ہے اس کے اندرسرمہ ملا ہو موتی بنا کہ نہیں؟ دیکھو یہ بھی شاعرہ تھی فوراً شعرمکمل کیا عالمگیر سےکہابادشاہ کوشعربھیجو اس نے کہا:
در ابلق دو جہاں کسے کم دیدہ بود

مگر اشک بتاں کہ در سرمہ آلود

دنیا میں ابلق موتی کسی نے نہیں دیکھا لیکن محبوب کی آنکھ کا آنسوجس میں سرمہ ملے اسے ”دُرِابلق“ کہتےہیں ۔ شاعرہ تھیں تو شاعرانہ جواب دیااب جب شعر وہاں پہنچا توبادشاہ تڑپ اٹھاکہ ایسابلا کا شاعردنیامیں کون ہے؟ ایک تو شعر پورا کیا دوسرا اس ظالم نے مصرعہ کون سا بنایا؟ شاعر تو محبت کی باتوں پہ تڑپتےہیں۔
اب بادشاہ نے پھرہندوستان پیغام بھیجاکہ اس شاعرکوہمارےدربارمیں بھیجا جائےاب عالمگیرکے پاس پیغام پہنچا عالمگیر نے زیب النساءسے کہا بادشاہ بلارہے ہیں اب کیا کرنا چاہیے؟ بہت نیک عورت تھی اس نے کہامیراشعر لکھو اور باد شاہ کوبھیج دو اس نے پھرشعرلکھا، بڑاعجیب اس نے کلام کیا، ایسی بلاکی شاعرہ تھی۔ اس نےکہا
مخفی منم در سخن من

چوں بوئے گل در برگِ گل

میں اپنے کلام میں ایسے چھپی ہوں جیسےخوشبوپھول کے اندر چھپی ہوتی ہے بندہ پھول کودیکھ سکتاہے ،خوشبوکونہیں دیکھ سکتا۔ تُومیرا کلام سن سکتاہے ، مجھے دیکھ نہیں سکتا۔ بادشاہ سمجھ گیاکہ شاعرنہیں ، شاعرہ ہے۔ یہ مردنہیں، عورت ہے۔ بتاؤکیسی سمجھ دار عورت تھی ۔
خیر میں یہ عرض کررہاتھاکہ اللہ نےمردوں کوعورتوں پرفوقیت عطافرمائی ہے لیکن اتنا بھی نہ اکڑیں۔ بعض عورتیں بہت سمجھ دارہوتی ہیں ۔اللہ آپ سب کو سمجھ دار بیویاں،سمجھ دار بیٹیاں،سمجھ دار بہنیں اور سمجھ دار گھر کا ماحول عطا فرمائے ۔ گھر کا ماحول سمجھ دارہوتو دین کا کام کرنا بہت آسان ہوتاہے گھرکی عورتیں سمجھ دارہوں تو کارو باربھی بہت اچھا چلتا ہے سمجھ دار خواتین اللہ سب کو عطا فرمائے۔ (آمین)
اگر بیوی بات نہ مانے تو کیا کریں؟:
وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا
)سورۃالنساء:35(
اسی آیت میں ایک چھوٹاسامسئلہ تھا میں اختصار سے عرض کرتا ہوں اگر کبھی خاوند اور بیوی میں کچھ ناچاقی ہوجائے اور خاوندسمجھےکہ بیوی میری بات نہیں مانتی توقرآن نے تین درجے بتائے ہیں۔

1.

” وَاللاَّتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ“

2.

جس عورت سے تمہیں نافرمانی کااندیشہ ہویعنی تمہاری بات نہیں مانتی تو اس کوپہلےدن مارنا شروع نہ کرو

3.

” فَعِظُوهُنَّ “ان کو پیارسےسمجھاؤ ان کومحبت سے سمجھاؤ۔
میں تو چھوٹا ہوں اس لیے ایسی بات نہیں کہتا۔مفتی اعظم پاکستان مفتی رشیداحمدلدھیانوی رحمہ اللہ کابیان میں نےسامنے بیٹھ کر سناہےبالکل سامنے بیٹھ کرہم بچپن میں سنتےتھے فرماتےہیں کہ اپنی بیوی سےکہوکہ تومیری لیلیٰ ہے مجھے تجھ سے بہت محبت ہے،میں تجھے جہنم میں جاتابرداشت نہیں کرسکتا۔مجھے تجھ سےبہت پیارہے میں تجھے بگڑتاہوا برداشت نہیں کرسکتا، یہ میرےبس میں نہیں ہے۔ ایسے الفاظ اختیارکرو وہ سمجھے کہ میرےشوہرکومجھ سےبہت پیارہےپھرا س کوبات سمجھانی شروع کروپھردیکھوکیسے بات نہیں سمجھتی، ہم پہلے ہاتھ اٹھاتے ہیں پھرڈنڈاتجھے شرم نہیں آتی؟ تجھےنہیں پتہ توکس کے نکاح میں ہے؟ تجھےپتہ نہیں توکس خاندان سےاٹھ کرآگئی ہے؟ اللہ اکبر! آدمی کوسوچناچاہیے آپ یقین فرمائیں اتنا دکھ ہوتا ہے۔
معاشرے میں خواتین کو عزت نہیں دی جاتی:
میں پاکستان سے باہرایک ملک کے دورے پر تھا۔ایک خاتون کوفون کیا۔ میں نے اس کا نام لے کر کہہ دیا کہ بیٹا … ہم آرہےہیں ہمارےلیے فلاں کھاناتیارکرو!وہ روپڑی میں نے کہا کیا ہوا؟
اس نے کہاآپ نے میرانام لیا میں روپڑی،اس لیے کہ آپ بڑے ہیں تو آپ نے نام لیامجھے عرصہ گزرگیاہے اس کے نکاح میں اس ظالم نے آج تک میرانام نہیں لیا اس ظالم نے کبھی میرانام لے کرمحبت سے نہیں پکارا۔ میں میٹرک پڑھی ہوں، باپ میراتھانہیں، میں باپ کے بغیرتھی، میری ماں نے اس کے نکاح میں دیاتوکہتا ہے ہم اتنےبڑے لوگ تھے تو کوڑے کے ڈھیر پر پڑی تھی، تجھے اٹھاکرسینے سےلگایا ہے آج توباتیں کرتی ہے؟ اس نے کہا بتاؤ دنیا میں میرااس کےعلاوہ کوئی بھی نہیں یہ بھی کہتاہےکہ کوڑے کے ڈھیر پرپڑی تھی بتاؤ میراکلیجہ پھٹتاہےمیں کہاں جاؤں؟
باباعورت کاتعلق توخاوندکےساتھ ہوتاہے،خاوندبڑےخاندان کاہے تو چھوٹی عورت بڑی بن جاتی ہے اگرخاوندچھوٹے خاندان کاہوتوبڑی عورت چھوٹی بن جاتی ہے فرمایا” فَعِظُوهُنَّ “ان کو پہلے سمجھاؤ اگر پھر بھی نہ سمجھے تو

بسترالگ کردو۔

مکان الگ نہ کرو۔

بستر الگ کردو۔
ہم ناراض ہوں تو گھرمیں نہیں جاتے نہیں بسترالگ کرو اگر پھر بھی نہ سمجھے تو ”وَاضْرِبُوهُنَّ“ پھراس کو مارو۔
مارنے کی حدود کیا ہیں ؟
مارنے کا مطلب بھی سمجھ لو اس کے چہرے پرتھپڑکی کوئی گنجائش نہیں ہے ، جوتےسے مارنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، سوٹی سے مارناکہ اس کے جسم پرنشان پڑیں کوئی گنجائش نہیں ہے ہلکاسامارو، یہ ہے مارنے کا مطلب۔ کیوں کہ بڑے خاندان کی سمجھ دار عورت ہوتواس پرہاتھ بھی اٹھانا اس کے مرجانے کے برابر ہوتا ہے توجوتے مارنے سےتم اس کی ساری جھجک اتار دوگے پھردوبارہ اس نے ٹھیک کیسےہوناہے ؟
ایک بچی کا المناک واقعہ:
اوراللہ کی قسم !اتنا دکھ ہوتاہےہمارےہا ں ایک بچی کانکاح ہواوالدہ کے ساتھ آئی روپڑی کہتی ہے میں کیا بتاؤں آپ کو؟ میرا خاوندسےنکاح ہوا:

پردے کا اہتمام میں کرتی ہوں۔

نمازیں میں پڑھتی ہوں۔

گھر کے سارے کام کرتی ہوں ۔

خدمت ساری کرتی ہوں۔
ملک سے باہر رہتا ہے پاکستان آیاکسی رشتہ دارکےہاں جاتے ہیں وہیں پہ پکڑ کر مجھےجوتےسے مارناشروع کردیا۔
کہتےہیں جی باہربہت تہذیب سکھاتےہیں ابھی چنددن گزرےوہ عورت حمل کےساتھ ہے پھراس کوطلاق بھی دےدی ہے میں نےکہا بتا ظالم اللہ تجھے بخشے گا؟ خداتجھے معاف کرےگا؟ کتنابڑاظلم تونےایک عورت کے ساتھ کیا۔
خیر پہلے اس کو سمجھاؤ پھر بستر الگ کرواگرپھربھی نہیں سمجھتی تواتنا ماروجس سے اس کوزخم نہ پڑے اس کاآپ خیال کرو۔
شرعی احکام میں تحریف یہودانہ روش ہے :
مِنَ الَّذِينَ هَادُوا يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِهِ وَيَقُولُونَ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَاسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ وَرَاعِنَا لَيًّا بِأَلْسِنَتِهِمْ وَطَعْنًا فِي الدِّينِ وَلَوْ أَنَّهُمْ قَالُواسَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَاسْمَعْ وَانْظُرْنَا لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ وَأَقْوَمَ وَلَكِنْ لَعَنَهُمُ اللهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا ۔
) سورۃ النساء:46(
اس میں اللہ رب العزت نے یہودکی ایک نشانی بیان فرمائی ہے میں اب ذرابات کو سمیٹتا ہوں یہودکی علامت کیاہے؟ وہ اپنے مقامات سے کلمے بدل دیتےہیں جس موقع پرکلمہ ہوتاہے اس پر کہتے نہیں ہیں اورایسے کلمات جس سے اشتباہ پڑ جائے وہ بولتے ہیں۔ زبان سےکہتےہیں ”سَمِعْنَا “اور دل میں کہتےہیں ہم نہیں مانتے اور کہتے ہیں” وَاسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ“اےنبی! تو سن ایسی بات جس کی بات مانی نہ جائے۔اللہ فرماتےہیں بہت ظلم کیاہے اپنی زبانیں موڑکرکچھ جملے کہتےہیں اللہ فرماتاہےیوں نہیں کہنا چاہیے ان کوصاف صاف ” سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا “کہناچاہیے۔
کفار اور فاسق لوگوں کی مشابہت سے بچیں:
اس سےآپ کومیں نے جو بات سمجھانی ہے وہ سمجھوایساجملہ کہنا جس سے اشتباہ پڑے اس سے بچنابہت ضروری ہے ایسالباس پہنناجس سے اشتباہ پڑے اس سے بچنا بہت ضروری ہے۔
محرم کے دنوں میں کالا کپڑا:
مجھ سے ایک ساتھی نے مسئلہ پوچھاکہ مولاناصاحب محرم کے دنوں میں کالا لباس پہننا کیساہے؟ ہم کہتےہیں کہ کالالباس پہننا تو جائز ہے مگر محرم کے دنوں میں نہیں پہنناچاہیے ۔محرم کے دنوں میں کالے لباس کامطلب یہ ہوتاہے کہ یہ شیعہ ہے اس لیے ایسالباس نہ پہنوکہ لوگ تمہیں رافضی سمجھیں ۔بس اس کااحتیاط کرواشتباہ سے بچنابہت ضروری ہوتاہے۔
اشتباہ سے بچنے کا حل قرآن کریم سے :
قرآن کریم میں ہے کہ جب حضرت موسی علیہ السلام کے جادوگرایمان لائے توانہوں نے کہا
آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ ۔
) سورۃ الاعراف:121(
ہم رب العالمین پرایمان لائے اتناجملہ کافی نہیں
رَبِّ مُوسَى وَهَارُونَ
)سورۃ الاعراف:122(
رب العالمین کے ساتھ رب موسیٰ وہارون بھی فرمایا تھا اگر صرف ”رب العالمین“کہتےتوفرعون سمجھتاکہ مجھ پرایمان لائے کیوں کہ رب العالمین تومیں ہی ہوں۔انہوں نے غلط فہمی کودورکردیاکہ رب العالمین سے مراد تو نہیں ہے رب العالمین سے مرادرب موسی ورب ہارون ہے یعنی جو موسی اورہارون کارب ہے ہم اس پرایمان لائے اس سے ایک بات سمجھ میں آئی کہ مکان اشتباہ سےبچو۔
عقیدہ حیات کے منکرپر شرعی حکم :
میں آج کے حوالے سے ایک اہم عقیدےپربات کہناچاہتاہوں کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ انبیاءعلیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں جوشخص نبی کوبتعلق روح قبراطہرمیں زندہ نہیں مانتا:

وہ اہل السنت والجماعت سے خارج ہے۔

ایسے بندے کےپیچھےنمازمکروہ تحریمی ہے۔

اپنی نماز اس کولوٹانےکااہتمام کرناچاہیے۔
منکرین حیات کی دھوکہ بازی:
میں یہ بات کہناچاہتاہو ں کہ آج کے دورمیں جولوگ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کوزندہ نہیں مانتےوہ بھی کہتےہیں کہ ہم تو زندہ مانتےہیں۔آپ لوگ غلط فہمی کےاندرہیں۔ یاروہ کہتےہیں: ہم مانتےہیں ۔آپ کہتےہیں: نہیں مانتے ۔اب اشتباہ تو پڑگیاجب اشتباہ پڑگیاتواللہ پاک فرماتےہیں اشتباہ میں مت پڑو ایساجملہ کہوجس سے اشتباہ پڑے ہی نہ۔
منکرین حیات سے آسان سا سوال:
ان سے آپ فوراًپوچھیں کہ آپ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا والے جسد مبارک کو زندہ مانتے ہیں؟ جوروضہ اطہرمیں قبر مبارک ہے اس قبرمیں زندہ مانتےہیں؟ کہتےہیں ہم تواعلیٰ حیات مانتےہیں ہم نےکہابتاؤکہ ا س جسم کومانتےہویا نہیں مانتے؟بالکل دوٹوک بات کرو ۔
علیین کے نام پر دھوکہ :
کہتےہیں ہم تواعلیٰ حیات کومانتےہیں۔ اعلیٰ حیات کامطلب کیاہےکہ حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم کی روح علیین میں ہے، ہم علیین میں توزندہ مانتے ہیں ہم نے کہاکہ نبی پاک کی روح علیین میں ہےیاجسم علیین میں ہے؟ ارےجگہ وہ اعلیٰ ہےجہاں پیغمبر کا جسد اطہر موجود ہے علیین کیسے اعلیٰ ہوگئی؟ اعلیٰ تو وہ جگہ ہے جہاں پیغمبر کاجسد اطہرموجودہے۔
علیین والی حیات اعلیٰ کیسے ہے ؟
دیوبندکاعقیدہ شیخ الحدیث مولانامحمدزکریارحمہ اللہ نے تحریر فرمایا ہے کہ جس جگہ پیغمبرکاوجوداطہرموجودہے قبرمبارک کی وہ مٹی جونبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم سےلگی ہےیہ کعبہ سےبھی اعلیٰ ہے، عرش سےبھی اعلیٰ ہے اورآپ کہتےہیں علیین اعلیٰ ہے، وہ حیات اعلیٰ کیسے؟حیات تو یہ اعلیٰ ہےجب شبہ پڑجائے تو کیا کرو حضورپاک کے دنیاوی جسم کی حیات کا تعلق روح کےساتھ زمینی قبرمیں زندہ مانتا ہےیا نہیں مانتا؟ پھر دیکھنا حیات مانتاہےیا نہیں مانتا۔اشتباہ کے موقع پرعقیدے کوصاف رکھنا بہت ضروری ہے۔
رحمت باری تعالیٰ سے مایوس نہیں ہونا چاہیے:
إِنَّ اللهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللهِ فَقَدِ افْتَرَىٰ إِثْمًا عَظِيمًا۔
)سورۃ النساء:48(
اس آیت کامفہوم توآپ سمجھتے ہیں میں نے اس کے تحت ایک واقعہ عرض کرناہے جو ملا علی قاری مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں لکھا ہے اور تفسیر خازن کے اندر بھی موجود ہے ۔ واقعہ بڑاسننے والاہے۔ اللہ رب العزت جب کسی پرنظرکرم فرماتےہیں تو اللہ اس کی ہدایت کیلئے دروازے کیسےکھولتے ہیں ؟
حضرت وحشی کے قبول اسلام کا واقعہ:
وحشی؛ جوبعدمیں وحشی رضی اللہ عنہ بنے ۔اس وقت واقعتاً وحشی تھے بعد میں حضرت وحشی رضی اللہ عنہ بنے۔ جنگ احدمیں آئے ہندہ کے غلام تھے ۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی والدہ اورحضرت سفیان کی بیوی ہندہ، ان کے غلام تھے۔ ہندہ کے بھائی کوحضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے میدان بدرمیں قتل کیا ۔ توہندہ نے کہااگرتم حضرت حمزہ کوقتل کردومیں تمہیں آزادکردوں گی ۔ وحشی چھوٹانیزہ چلانے کا ماہر تھا آزادی کے لالچ میں آکر وحشی نے چھپ کر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو نیزہ مارا حضرت حمزہ کے پیٹ میں لگا، حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ شہیدہوگئے۔ ہندہ نے اس کو آزادکردیا۔اب بتاؤ!کتنابڑاجرم ہے؟
قبول اسلام کی پہلی دعوت:
لیکن جب اللہ کی رحمت متوجہ ہوتوکیسے متوجہ ہوتی ہے۔نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ عرصےبعدکہ جاؤجاکے وحشی کواسلام کی دعوت دوصحابی گئے کہاکلمہ پڑھ لو بولے میں کلمہ کیسے پڑھ لوں کوئی بندہ زناکرے، چوری کرےقرآن کہتاہے”یبق اثاما“ یہ بہت بڑاگناہ ہے اس کوکئی گنا عذاب ملیں گے جوبندہ چوری کرے زنا کروے وہ توجہنمی ہے میں نے تو سارے گناہ کیے ہیں میں نے کلمہ پڑھ بھی لیامیں توجہنمی ہوں جہنم میں جلوں گا کیسے کلمہ پڑھوں؟
قبول اسلام کی دوسری دعوت:
اب یہ صحابی واپس آئے یارسول اللہ! آپ نے ہمیں اپنا سفیر بناکر بھیجا ہم نے دعوت دی اس نے اشکال کردیا ہے قرآن کریم کی آیت اترآئی” إِلاَّ مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلاً صَالِحاً فَأُوْلَئِكَ يُبَدِّلُ اللهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ“ جوبندہ ایمان لایانیک عمل کیااورتوبہ کی خدااس کےسارے گناہ معاف کریں گےبلکہ گناہ کی جگہ پربھی نیکیاں لکھ دیں گے وحشی کے پاس پیغام بھیجاوحشی کہنے لگایہ توفرمایاجس نے توبہ کی جس نے نیک عمل کیایہ” ھذا شرط شدید“ توبڑی سخت شرط ہے ہوسکتا ہے مجھ سے توبہ نہ ہو تو پھرمیں کلمہ کیوں پڑھوں؟
قبول اسلام کی تیسری دعوت:
یہ سفیرپھرواپس آیا، حضور!وحشی نے پھر اشکال کردیا ہے پھرقرآن کریم کی آیت اتری
” إِنَّ اللهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ“
اللہ شرک کومعاف نہیں کرتے باقی جوگناہ وہ چاہے معاف کردیتےہیں وحشی سے کہااب تو آجاؤ وحشی نے پھراشکال کردیاکہ اللہ چاہے تومعاف کرتےہیں پتہ نہیں میری معافی چاہتے ہیں یا نہیں۔ میں کیسے کلمہ پڑھوں؟
قبول اسلام کی چوتھی دعوت:
پھرواپس آئے صحابی کہ حضور وحشی نے یہ اعتراض کیا ہے پھرقرآن کی آیت اتری
”قُلْ يٰعِبَادِي الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللهِ“
خداکی رحمت سے مایوس نہ ہو خدا سارے گناہ معاف کردےگا حضور پاک نے فرمایا جاؤ وحشی کو بتاؤ وحشی کہتاہے اب ٹھیک ہے اب مجھے کلمہ پڑھادواورمسلمان ہوگئے۔ دیکھو اللہ کی رحمت جب متوجہ ہوتی ہے تو کیسے بندے کو کھینچ لیتی ہے ۔
مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کا قتل :
حضرت وحشی خودکہتےہیں کہ میں نے اتنابڑاجرم کیاتھاکہ میرا دل کرتاتھا کفارے میں نیکی بھی کوئی بہت بڑی کروں جتنابڑامسلمان قتل کیاہے دل چاہتاہے اتنا بڑاکافربھی قتل کروں۔ مسیلمہ کذاب نے دعوی نبوت کیاحضرت وحشی نے مسیلمہ کذاب کوقتل کیاحضرت وحشی فرمایاکرتےتھے” قَتَلْتُ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ خَیْرَ النَّاسِ وَقَتْلَتُ فِی الْاِسْلَامِ شَرَّ النَّاسِ“ کہ میں نے جس طرح زمانہ جاہلیت میں بڑا اچھا آدمی ماراتھاتومیں نے زمانہ اسلام میں سب سےگنداآدمی قتل کیا۔ میرادل بڑاخوش ہے کہ میں نے جتنابڑاجرم کیانیکی بھی اتنی بڑی کی ہے۔ توخیرمیں بتارہاتھاکہ اللہ کی رحمت متوجہ ہو تو اللہ یوں ہی معاملہ آسان فرمادیتےہیں۔
بیت اللہ کی تولیت:
إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ إِنَّ اللهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ إِنَّ اللهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا۔
) سورۃالنساء: 58(
میں صرف اس آیت کا چھوٹا ساپس منظربتانا چاہتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں تھے بیت اللہ میں گئے مکہ مکرمہ میں جو اس وقت بیت اللہ کا متولی تھاوہ عثمان بن طلحہ تھے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اندرجانےلگےتو اس نے کہا میں نہیں جانےدیتا۔ اس نے ترش روئی سے کام لیا ،سخت الفاظ کہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:عثمان بن طلحہ! اس وقت کا انتظار کرو جس وقت دن اللہ کی چابی میرےپاس ہوگی ۔اللہ اکبر!اوربیت اللہ میں وہی داخل ہوگاجس کومیں چاہوں گا۔عثمان بن طلحہ کہتےہیں مجھےبڑا تعجب ہواکہ کیسی بات کرتےہیں؟ عثمان بن طلحہ نےکہاکہ پھروہ وقت توقریش کیلئے بہت بدترہوگا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں وہ وقت قریش میں سب سے زیادہ عزت کاہوگا۔نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر کے لیے بیت اللہ میں گئے واپس آئے۔
حضور علیہ السلام کے اخلاق حسنہ کا اثر:
جب مکہ فتح ہوا تواس وقت نبی پاک مکہ مکرمہ میں گئے بیت اللہ میں داخل ہونے لگے داخل ہوئے اورباہرنکلے، فرمایا: عثمان لاؤچابی دو! عثمان نے ایک جملہ کہامیں بطورامانت آپ کودیتاہوں، حالانکہ امانت کیسی؟ متولی تونبی ہے والی ہے وہ جسے چاہے چابی دے دے مگراس نےکہاجی میں بطورامانت آپ کوچابی دیتاہوں۔
حضورنے چابی لے لی اور فرمایا: عثمان وہ وقت یادآگیاجب میں نے تم سے کہا تھاکہ اس وقت کا انتظارکرو جب چابی میرے پاس ہوگی ؟ میں چاہوں گاتو کوئی بیت اللہ میں داخل ہوگااس نے کہاحضورمجھے اچھی طرح یاد آگئی۔ اللہ کے نبی نے فرمایا یہ لومیں تجھے چابی واپس دیتا ہوں اوراعلان کرتاہوں کہ قیامت تک یہ چابی تمہارے خاندان میں ہی رہے گی۔ عثمان بن طلحہ نے کلمہ پڑھ لیا
لاَ إِلَهَ اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ۔
)تفسیر خازن، الکشف والبیان، تفسیر السعود(
اور دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے جب حضورکعبہ سے باہرتشریف لائے توزبان پر یہ آیت جاری تھے
إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا۔
)سورۃ النساء:58(
اللہ نے حکم دیاہے کہ امانت والے کوامانت واپس لوٹادو۔
کسی کی بات کی رعایت رکھنا:
مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ فرماتےہیں اگرچہ امانت تھی نہیں لیکن اس نے زبان سے امانت کہہ دیاتونبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان کی بھی رعایت فرمائی اورفرمایاتم نے امانت کہاتھالوہم تمہیں واپس دیتےہیں حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بھی رعایت فرمائی۔
فقہا ء کی بات ماننا بھی ضروری ہے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ إِلَى اللهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا۔
)سورۃ النساء:59(
اس آیت کو دیکھ کر بعض لوگ کہتےہیں ہم قرآن بھی مانتےہیں حدیث بھی مانتےہیں فقہ کہاں سے آئی ؟ اللہ بھی مانتےہیں رسول بھی مانتےہیں فقہاءکہاں سے آئے؟ اس آیت کےتحت مفسرین نے لکھاہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتےہیں” اولی الامر“سے مراد فقہاء ہیں اس کامطلب کیاہوا؟

اللہ کی بات بھی مانو۔

پیغمبرکی بات بھی مانو۔

اورفقہاء کی بات بھی مانو۔

اللہ کی بات کو”قرآن“ کہتےہیں۔

پیغمبرکی بات کو”حدیث“کہتےہیں۔

فقہاء کی بات کو”فقہ“ کہتےہیں۔

تو”قرآن“ کاتذکرہ بھی قرآن میں۔

”حدیث“ کاتذکرہ بھی قرآن میں۔

”فقہ “ کاتذکرہ بھی قرآن میں ہے۔

ہم قرآن بھی مانتےہیں۔

حدیث بھی مانتےہیں۔

فقہ بھی مانتےہیں۔

اللہ کوبھی مانتےہیں۔

اللہ کےرسول کوبھی مانتےہیں۔

فقہاءکوبھی مانتےہیں۔
انقلاب کے دلفریب نعرے:
آج بڑےبڑےسائن بورڈوں پرایک جملہ لکھاہواہے اس کوبڑی اچھی طرح تنقیدی نگاہ سے دیکھنا! آپ سائن بورڈ دیکھتےہیں یا اس کے پاس سے گزر جاتے ہیں؟ تونئے نئے سائن بورڈوں پرایک جملہ لکھاجارہاہے ”انقلاب کے تین نشان۔ اللہ، محمد اورقرآن ۔“ نہیں پڑھا؟آپ ذرا بڑے بڑے بورڈدیکھیں! وہ ایسی جماعت ہے جو سیاسی بھی ہے اورمذہبی بھی ہے ۔اب توآپ کو سمجھ جاناچاہیے ایسی جماعت جومذہبی ہے اوراپنی سیاست ؛مذہب کے نام پرکرتی ہے۔ آپ دیکھیں لکھاہواہے انقلاب کےتین نشان اللہ، محمد اور قرآن۔
حدیث اور فقہ کہاں چلی گئیں؟:
بتاؤ حدیث گئی یا نہیں؟ سمجھے!قرآن کانام لیا، حدیث کانام نہیں لیا آپ کہتے ہیں کہ جب محمدآگئے تو حدیث بھی آ گئی۔ میں کہتاہوں جب اللہ آ گیا توقرآن بھی آ گیاپھرقرآن کانام لینے کی کیاضرورت ہے؟اللہ،محمداورقرآن۔اس میں حدیث کا تذکرہ بھی ختم ،فقہاءکاتذکرہ بھی ختم اور فقہ کا تذکرہ بھی ختم بتاؤیہ کون سا انقلاب ہے؟جس میں نہ پیغمبرکی حدیث ہواورنہ پیغمبر کےوارث فقہاء ہوں۔ بتاؤ !یہ کون سا انقلاب ہو سکتاہے؟
استشفاع کا عقیدہ :
وَمَاأَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللهِ وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللهَ تَوَّابًا رَحِيمًا۔
) سورۃ النساء:64(
اس آیت میں اللہ پاک نےیہ مسئلہ بیان فرمایاہےکہ اگرکوئی آدمی ظلم کرے اپنی جان پراگرکسی شخص سےگناہ ہوجائےتوبخشش کاطریقہ یہ ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئےخودبھی گناہوں کی معافی مانگےاورحضورسےگزارش کرےکہ آپ اللہ سےفرمائیں کہ اللہ میرے گناہ معاف کردے۔پیغمبراس کیلئے معافی مانگیں گے خدااسے معاف کردیں گے۔
استشفاع کا حکم آج بھی باقی ہے :
مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ نے لکھاہے آپ گھر جاکر معارف القرآن اٹھاکردیکھواگرتم دیوبندی ہوتو گھرجاکردیکھو۔مفتی اعظم رحمہ اللہ لکھتے ہیں جس طرح یہ حکم حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی دنیاوی زندگی میں تھااسی طرح یہ حکم آج بھی موجودہے آج بھی نبی کی قبر پر جاؤ اوروہاں جاکرکہو: اللہ! میں اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں اورحضورسےگزارش کرتا ہوں کہ آپ بھی میرے گناہوں کی معافی مانگیں! نبی گناہوں کی معافی مانگیں گے خدا تمہارے گناہوں کومعاف کردیں گےیہ حکم آج بھی موجودہے اور اس پرمفتی اعظم پاکستان نے واقعات بھی بیان فرمائے ہیں ۔
ایک واقعہ تفسیر ابن کثیرمیں ہے۔ ایک واقعہ الجامع لاحکام القرآن میں امام قرطبی رحمہ اللہ نے نقل کیاہے اور یہ دونوں شافعی عالم ہیں۔ کوئی حنفی بھی نہیں ہیں۔
استشفاع کا پہلا واقعہ:
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتےہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے تین بعد ایک اعرابی آیاحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی قبر اطہر پر یہ آیت پڑھی اوراسی طرح حضورسے گزارش کی۔ میں خداسے معافی مانگتاہوں حضورآپ بھی سفارش کریں فرماتےہیں نبی پاک کی قبرسےآوازآئی خدا نے تیرے گناہ معاف کر دیے ہیں۔
استشفاع کا دوسرا واقعہ:
دوسراواقعہ کیاہے آج بھی آپ روضہ رسول پرجائیں، آج بھی اشعاردرج ہیں محمدبن عبیداللہ عتبی عاشق پیغمبرتھےوہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی حضورپاک کےروضے پرآئے پہلےسلام پیش کیاپھر یہ آیت پڑھی اےاللہ کے پیغمبر!میں آپ کے پاس آیا ہوں خود بھی گناہوں کی معافی مانگتا ہوں اور آپ گزارش کرتاہوں کہ آپ بھی اللہ سےسفارش کریں کہ وہ میرےگناہ معاف فرمادے!یہ کہااور واپس جانے لگے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے روضے پریہ شعرپڑھے:
يا خير من دفنت بالقاع أعظمه
فطاب من طيبهن القاع والأكم
نفسي الفداء لقبر أنت ساكنه

فيه العفاف وفيه الجود والكرم

)تفسیر ابن کثیر ج 2ص 348(
آج بھی یہ اشعارروضہ اقدس پر درج ہیں اس نےکہاحضوردنیامیں جتنےبھی لوگ مدفون ہیں سب سےبہترآپ کی جگہ ہےاس روضے کی برکت سے کائنات منورہوتی ہے اس نے جملہ کیاکہاہے؟”انت ساکنہ“مجھے آپ بتاؤ”ساکن“ کس کوکہتےہیں زندہ کویا مردہ کو؟ بتاؤساکن کس کو کہتے ہیں؟ مسکن کہتے ہیں مکان کو ساکن رہنے والے کو، سکنٰی رہنے کی جگہ کو۔ جب نکاح ہوتاہے تو شوہرکے ذمے دو چیزیں ہیں نان ونفقہ اورسکنٰی نان ونفقہ کامعنی ہے کھاناپینااورکپڑےاورسکنٰی کامعنی ہے اس کو مارنے کی جگہ یااس کوزندہ رکھنے کی جگہ (سامعین، زندہ رکھنے کی جگہ) توساکن کامعنی کیاہے؟ رہنے کی جگہ۔
اب یہ شاعر کیاکہتےہیں”نفسی الفداء“ حضورمیری جان فداہو اس قبرپرجس میں آپ ساکن ہیں میری جان اس قبرپر فداہوجائے، اس میں عفت بھی ہے اس میں جودبھی ہے اس میں سخاوت بھی ہے، یہ جملےکہے۔
عقیدہ حیات النبی کو شرک کہنے والوں سے ایک سوال :
لوگ کہتےہیں عقیدہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم شرک ہے تو حضورکے روضے پرکیوں لکھاہواہے نہیں سمجھے؟ادھر آپ کہتے ہو نبی پاک نے دعامانگی”اللھم لا تجعل قبری وثنا یعبد“اللہ میری قبرکے اوپرکبھی شرک نہ ہو۔
)موطا امام مالک ج 2ص 241 رقم الحدیث (593
حضورکی دعاکی ہے ،خدانے قبول فرمائی ہے۔
یہ عقیدہ شرک ہے تونبی پاک کے روضے پر کیوں لکھاہواہے؟ میری بات سمجھ آئی؟ ادھرآپ کہتےہیں کہ حضورکی دعاقبول ہوگئی قبرپرکبھی شرک نہیں ہو سکتا توپھریہ عقیدہ شرک کیسے ہے؟
اس نے کیا کہا” نفسی الفداء“ میری جان بھی قربان ہواس قبرپرجس میں حضور آپ تشریف فرماہیں خیر یہ چلےگئے محمدبن عبیداللہ عتبی فرماتےہیں میں سوگیامیں نے خواب میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا حضور آئے فرمایاجاؤاس دیہاتی بندے کوملواس کوبتاؤخدانے اس کے گناہ معاف کردیے ہیں۔ آج بھی جاؤ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی قبرپریوں کرو، اس مسئلے کانام ہے ”استشفاع“ اس کا مطلب ہے شفاعت کی درخواست کرنایہ اہل السنت والجماعت کاعقیدہ ہے۔
جو نبوت کا فیصلہ نہ مانے…………؟:
فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا۔
)سورۃ النساء:65(
حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ حضورکے دورکی بات ہے ایک یہودی اور ایک منافق کے درمیان جھگڑا ہوگیا دونوں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمادیایہودی کے حق میں یہ دونوں واپس آگئے تواب منافق کاخیال یہ تھاکہ ہم حضرت عمررضی اللہ عنہ کے پاس جاتےہیں حضرت عمر یہودیوں کےسخت دشمن ہیں تویہ فیصلہ میرے حق میں کریں گے اور یہودی کی مخالفت کریں گے۔ منافق کسے کہتےہیں؟ اوپرسےمسلمان اندر سے کافر یہ اوپر سے مسلمان تھا یہ گئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اور منافق کہنے لگا ہمارافیصلہ کرو یہودی کہنے لگا عمر!یہودی کوپتہ تھا کہ عمرہمارے دشمن ہیں لیکن فیصلہ غلط نہیں کرسکتے اس نے کہا اے عمر!ہمارا فیصلہ کرنے سےپہلے ایک بات سماعت فرمالیں ہم دونوں پہلے حضور پاک کے پاس جاچکےہیں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم فیصلہ میرے حق میں کرچکےہیں اب آپ کی مرضی ہےاب آپ جیسا چاہو فیصلہ کرو۔
حضرت عمرنے پھرکیس کی سماعت کیا فرمانی تھی فرمایاتم تھوڑی دیر ٹھہرو میں گھرسے ہوکر آتاہوں حضرت عمر گھر گئے اور گھر سے تلوار اٹھاکرلائے اور آ کر منافق کی گردن کوکاٹ کر رکھ دیا، اور فرمایاجونبی کے فیصلے کونہیں مانتااس کافیصلہ عمرکی تلوارکرتی ہے منافق سارے اکٹھے ہوگئے کہ عمرنے زیادتی کی ہے کیس سنانہیں ہے قتل کافیصلہ بنتانہیں تھاحضرت عمرکے پاس توکوئی گواہ نہیں ہے اس نے بات غلط کی ہے یاٹھیک کی ہے کوئی گواہ نہیں تھا تو قرآن اترا۔
قرآن نےفرمایا
” فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ “
میرے پیغمبر!یہ منافق ہے مومن وہ ہوتاہے جوآپ کے فیصلے مان لے جوآپ کافیصلہ نہ مانے وہ توکافرہے عمرنےمسلمان نہیں مارا منافق ماراہے، حضرت عمررضی اللہ عنہ کے حق میں قرآن اتراہے اور18 آیتیں عمر کے حق میں نازل ہوئی ہیں ایک نہیں 18 موقع پرقرآن بولاہےحضرت عمرکے حق میں۔
صراط مستقیم کی چار علامات:
وَمَنْ يُطِعِ اللهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُوْلَئِكَ رَفِيقًا۔
)سورۃ النساء:69(
اس آیت کاخلاصہ کیاہے اس آیت میں اللہ نے صراط مستقیم کی چارعلامات بیان فرمائی ہیں: نمبر1۔نبیین 2۔ صدیقین3۔ شہداء4۔ صالحین۔

انبیاء کاراستہ

صحابہ کاراستہ

شہداءکاراستہ

اولیاءکاراستہ۔
توجہ رکھنا!یہ صراط مستقیم کی علامات ہیں۔

مرزائی اورقادیانی وہ نبیین سےنکل گئےکیونکہ وہ انبیاءکونہیں مانتے،مرزا غلام احمدقادیانی کومانتےہیں۔

صدیقین سےایران کاتخم نکل گیا وہ صحابہ کونہیں مانتے۔

شہداء سے اہل بدعت نکل گئے کہ ان کے پلڑے میں کوئی شہیدنظرہی نہیں آتا۔

صالحین سےوہ شخص نکل گئے جو اولیاء کو نہیں مانتے۔

دیوبند والےانبیاءکوبھی مانتےہیں۔

صحابہ کوبھی مانتےہیں۔

شہداء کوبھی مانتے ہیں۔

اولیاءکوبھی مانتےہیں۔
اس لیے ہمیں کوئی الجھن نہیں ہے کیونکہ ہم صراط مستقیم پر ہیں، اللہ ہمیں مرتے دم تک صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطافرمائے (آمین)
اجماع حجت شرعیہ ہے :
وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا۔
) سورۃ النساء:115(
توجہ رکھنا!یہ مسئلہ بڑاسمجھنے کاہے حضرت محمدبن ادریس الشافعی رحمہ اللہ سےکسی نے پوچھاکہ آپ کہتےہیں اجماع حجت شرعیہ ہے اس کی دلیل کیاہے کہ اجماع حجت ہے؟
اجماع اور اس کے حجت ہونے کی دلیل:
اجماع سےمرادکیا ہے؟ جس مسئلے پرسارے فقہاء جمع ہوجائیں اس مسئلے کا نام اجماع ہے ۔اجماع کے حجت ہونے کی دلیل کیاہے امام شافعی رحمہ اللہ نےتین دن تک مسلسل قرآن کی تلاوت کی۔ دن کو قرآن کی تلاوت ، رات کو قرآن کی تلاوت ۔ ہر وقت تلاوت ہی تلاوت چھ دفعہ مکمل قرآن پڑھا اور پھر فرمایاکہ یہ آیت اجماع کےحجت ہونےپر دلیل ہے۔
)الابہاج لامام السبکی:ج2ص353(
اجماع کے منکر کی دو سزائیں:
اللہ نے فرمایاکہ جوشخص پیغمبراور مسلمانوں کے راستے کو چھوڑ دے ہم ان کودوسزائیں دیتےہیں (1)دنیامیں ہدایت نہیں دیتے (2)آخرت میں اس کو جنت نہیں دیتے۔ اجماع امت دلیل شرعی ہے اورجوبندہ اجماع کاانکار کرے تو اس سےدلیلیں نہ پوچھا کریں۔
اجماع کا سب سے پہلا منکر :
سمجھیں بات کو اس کودلیل نہ دیاکریں اس کونکال دیا کریں۔ دفع ہوجا!ہم سے دلیلیں پوچھتاہے۔ میں اس پر ایک واقعہ سناتاہوں۔آدم علیہ السلام کے بارے میں اللہ نے فرمایا :” اُسْجُدُوا لآدَمَ“میرے آدم کو سجدہ کرو”
فَسَجَدَ الْمَلائِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ“
تمام ملائکہ نے سجدہ کیا”إِلاَّ إِبْلِيسَ“ مگر ابلیس نہیں کیا۔ کس نے نہیں کیا؟(ابلیس نے) تمام فرشتوں نے تو سجدہ کیا صرف ابلیس نے نہیں کیا۔ اب بتاؤ! اس کائنات میں سب سے پہلے اجماع کا انکار کس نے کیا؟ (ابلیس نے، سامعین ) تو پھر اللہ پاک نے تین جملے ارشاد فرمائے ”أَبٰى “ ابلیس نے انکار کیا”وَاسْتَكْبَرَ“تکبر کیا” وَكَانَ مِنْ الْكَافِرِينَ“اور یہ کافر ہوگیا۔
منکر ِاجماع کی” دلیل“:
پھراللہ پاک نے پوچھا:
”يَا إِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ “ اے ابلیس تونے میرے آدم کو سجدہ کیوں نہیں کیا ؟ اس نے دلیل دی ” أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ
“ اللہ میں تو اس سے بہتر ہوں، مجھے آگ سے بنایا، اسے مٹی سے بنایا۔ دیکھو! مٹی کو اوپر سے پھینکو نیچے آتی ہے آگ کو نیچے ڈالو پھر بھی اوپر جاتی ہے،آگ مٹی سے افضل ہوتی ہے۔ افضل کیسے مفضول کو سجدہ کرے؟ یہ منکر اجماع کی دلیل تھی ۔
منکر اجماع سے کیا کہنا چاہیے ؟:
چونکہ ابلیس نے اجماع کا انکار کیا تھا اس لیے خدا نے اجماع کے منکر کو دلیل کا جواب نہیں دیا بلکہ فرمایا:”اُخْرُجْ “ نکل جا، دفع ہو جا۔ سمجھ گئے؟ اور آپ دلیل دینے میں لگے رہتے ہیں۔ اب خوب سمجھ لو کہ انبیاء کرام کی اپنی قبروں میں حیات پر امت کا اجماع ہے اور اجماعِ امت کے منکر کو دلیل نہیں دیتے”اُخْرُجْ “ کہہ کر اپنی صفوں میں سے نکال دیتے ہیں۔ او بھئی تو ہمارا نہیں ہے، نکل جا !یہاں سے۔
اوجی ہمارے پاس قرآن ہے۔ کیا فقہاء کے پاس قرآن نہیں تھا؟ انہوں نے قرآن کے خلاف اجماع کر لیا؟ مجھے سمجھ نہیں آتی کیسی بے عقلی کی بات کرتے ہیں پھر آپ کہتے ہیں جی وہ دلیل ؟ میں کہتا ہوں اجماعِ امت کے خلاف دلیل نہیں سنتے، ”اُخْرُجْ “ کہہ کر صفوں سے نکال دیتے ہیں۔ ان کی صفیں الگ ہیں ہماری صفیں الگ ہیں۔ اللہ ہمیں الگ الگ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)
اختیاری اور اضطراری علیٰحدگی:
سرگودھا کے دوستو میری بات پہ ناراض نہ ہونا میں نے بات کھل کے تمہیں سمجھا دی ہے میں قیامت کے دن خدا کا مجرم نہیں ہوں۔ اس دن اعلان ہوگا ”وَامْتَازُوا الْيَوْمَ أَيُّهَا الْمُجْرِمُونَ “ مجرم لوگ الگ الگ ہوجائیں۔وہاں الگ ہوں گے لیکن اضطراراً الگ ہوں گے۔ یہاں الگ کرو اختیاراً کرو اضطراراً الگ کرنے پر نیکی نہیں ملتی۔ جب وہاں الگ ہونا ہی ہے تو یہیں سے الگ ہوجاؤ۔ اللہ ہمیں نبی کا عاشق بنائے (آمین) اللہ ہم سب کونبی کا غلام بنائے(آمین)
عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کی ناکام یہودی سازش:
” وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ“
اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت میں اللہ پاک نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی برات بیان فرمائی ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کی برات اس طرح ہے کہ جب یہود سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کےلیے گئے۔مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ نے امام ضحاک رحمہ اللہ کے حوالے سے نقل فرمایا ہے کہ
عیسیٰ علیہ السلام اپنے حوارین کے ساتھ موجود تھے اور ابلیس نے یہودیوں کو جا کر بتایا کہ عیسیٰ علیہ السلام فلاں کمرے میں چھپے ہیں۔ جاؤ! انہیں گرفتار کرکےقتل کرو۔ یہودی جمع ہو کے آگئے باہر یہودی ہیں اندر عیسیٰ علیہ السلام اپنے حواریوں کے ساتھ۔ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا یہودی آگئے ہیں تم میں سے کوئی ایسا بندہ ہے جو اپنی جان قربان کردے ؟ تو وہ کل قیامت کے بعد جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ ایک حواری نے کہا جی میں تیار ہوں۔ عیسیٰ علیہ السلام نے اس کو اپنی مبارک پگڑی دی اور اپنی مبارک قمیص دی۔ انہوں نے پگڑی بھی سر پہ رکھ لی اور قمیص بھی پہن لی۔ اللہ نے شکل بھی عیسیٰ علیہ السلام جیسی بنادی تو جب یہ باہر نکلے تو یہودیوں نے سمجھا یہی عیسیٰ ہیں تو اسی کو قرآن نے بیان کیا کہ عیسیٰ علیہ السلام سولی پہ نہیں چڑھے بلکہ ان کا جو شبیہ تھا اس کو انہوں نے سولی پہ چڑھا یا۔ وہ قتل ہوگیا عیسیٰ علیہ السلام بچ گئے۔
طیطلانوس کون تھا؟
بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ ایک آدمی تھا ا س کانام غالباً طیطلانوس تھا وہ یہودی تھا، جب اس کو انہوں نے گرفتار کرنے کے لیے اندر بھیجا تو اس کی شکل کو اللہ نے تبدیل کر دیا جب باہر نکلا تو یہود نے پوچھا جی کیا بنا؟ کہتا ہےاندر عیسیٰ نہیں ہے ۔ یہودی کہنے لگے واہ جی خود ہی عیسیٰ ہے اور کہتا ہے وہ نہیں ہے۔ اس کو پکڑا اور سولی پہ چڑھا دیا۔ بہر حال جو بھی روایت ہو قرآن کا فیصلہ ہے ” وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ“ اللہ نے عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہ بنادی تھی یہود ان کو نہ قتل کر سکے اور نہ صلیب پر چڑھا سکے۔ اللہ نے ان کوآسمان پہ اٹھا لیا۔ دوبارہ آسمان سے عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے او ر سارے یہود ونصاریٰ بھی ان پر ایمان لائیں گے اور عیسٰی علیہ السلام کے زمانہ میں ایک وقت آئے گا کہ دنیا میں کوئی ایک بھی کافر نہیں ہوگا۔
قرب قیامت اور نزول عیسیٰ علیہ السلام:
مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور جنت میں موجود ہیں۔ قرب قیامت دنیا میں پھر تشریف لائیں گے اور دوبارہ حضور علیہ السلام کا امتی ہونے کی حیثیت سے امت کو حضور کا پیغام دیں گے۔ بعض بزرگوں نے بڑی عجیب بات لکھی ہے کہ جونبی کو حالتِ ایمان میں دیکھے وہ صحابی بنتا ہے تو عیسیٰ علیہ السلام نبی بھی ہیں اور صحابی بھی ہیں کیوں؟ عیسیٰ علیہ السلام نے بیت المقدس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو دیکھا ہے تو اس موت سے پہلے ہی دیکھا ہے تو جو حضور علیہ السلام کو حالتِ ایمان میں دیکھے وہ صحابی بنتا ہے، اس لیے جو ایمان والے عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ لیں گے تو وہ تابعی بنیں گے۔ یہ بزرگوں نے نکتہ بیان کیا ہے۔ بہرحال ہمارا عقیدہ کہ آسمان پہ زندہ ہیں اگر ہماری زندگی میں آئے تو اللہ ہمیں ان کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائیں۔(آمین)
عیسائی پادری اور مسلمان عالم کا مکالمہ:
میں اس پر ایک نکتہ بیان کرکے بات ختم کرتا ہوں ایک عیسائی عالم نے ایک مسلمان عالم سے پوچھا کہ بھائی بتاؤ دوبندے ہیں ایک بندہ سورہا ہے اور ایک بندہ جاگ رہا ہے تو تم راستہ کس سے پوچھو گے؟ مسلمان عالم نے بڑا پیارا جواب دیا کہ جو جاگ رہا ہے اگر وہ بھی اس انتظار میں ہو کہ سونے والا اٹھے گا تو میں اس سے راستہ پوچھوں گا تو بتاؤ کہ اب ہم کس سے راستہ پوچھیں گے؟ اس نے کہا جی اسی سونے والے سے۔ فرمایا پھر انتظار کرو اسی سونے والے سے ہی راستہ پوچھیں گے۔ اللہ پاک ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت نصیب فرمائے۔ (آمین)
وَآخِرُ دَعْوَانا أَنِ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِين

َ