تیجہ، دسواں، چالیسواں اور برسی کرنا

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
(7) تیجہ، دسواں، چالیسواں اور برسی کرنا
یہ لوگ کسی کے مرنے کے بعد بہت سے بدعتیں کرتے ہیں جو مرنے کے بعد سال ہا سال جاری رہتی ہیں۔
مفتی احمد یار خاں نعیمی لکھتے ہیں:
بحث فاتحہ تیجہ، دسواں، چالیسواں کا بیان۔
(جاء الحق ص 260)
مفتی صاحب لکھتے ہیں:
فاتحہ تیجہ، دسواں، چالیسواں وغیرہ اسی ایصال ثواب کی شاخیں ہیں۔
(جاء الحق ص261)
مفتی صاحب لکھتے ہیں:
تیجہ و چہلم کا اجتماع سنت سلف ہے۔
(جاء الحق ص262)
موت کے بعد’’سوم‘‘ اور’’چہلم‘‘ کا رواج جو ہمارے ملک میں ہے اور جس میں اکثر اوقات ان لوگوں کی شرکت بھی ہو جاتی ہے جن کو اہل دین و تقویٰ سمجھا جاتا ہے، بالکل غیر شرعی اور خلافِ کتاب و سنت ہے۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
ولا یباح اتخاذ الضیافۃ ثلاثۃ ایام کذا فی التاتار خانیہ
(فتاویٰ عالمگیری ج1 ص86)
موت کے تیسرے دن ضیافت کا اہتمام جائز نہیں۔
ملا علی قاری لکھتے ہیں:
قرر اصحاب المذہب انہ یکرہ اتخاذ الطعام فی الیوم الاول والثالث وبعد الاسبوع
(مرقات ج5 ص483)
اصحاب مذہب نے ثابت کیا ہے کہ پہلے، تیسرے دن اور ایک ہفتہ کے بعد ضیافت کا اہتمام مکروہ ہے۔
اسی طرح تعزیت کی ایسی مجلسیں جس میں آنے والوں کے لیے کھانے کا اہتمام بھی ہو، کراہت سے خالی نہیں۔ حضرت جعفر کی وفات کے موقع سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اہل خانہ کے لیے کھانا بنوایا، اس کی تشریح کرتے ہوئے ملا علی قاری لکھتے ہیں:
واصطناع اہل البیت لہ لاجل اجتماع الناس علیہ بدعۃ مکروہۃ بل صح عن جویریۃ کنا نعدہ من النیاحۃ و ہو ظاہر فی التحریم قال الغزالی ویکرہ الا کل منہ وہٰذا اذا لم یکن من مال الیتیم او الغائب و الا فہو حرام بخلاف۔
(مرقاۃ المفاتیح 2/393)
میت کے اہل خانہ کا لوگوں کے اجتماع کے لیے کھانا بنانا مکروہ بدعت ہے، بلکہ صحیح طور پر ثابت ہے (یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے وہ فرماتے ہیں) کہ ہم لوگ ایسا نوحہ کرنے والوں کے لیے (جاہلیت) میں کیا کرتے تھے اور اس کا حرام ہونا ظاہر ہے، امام غزالی نے کہا ہے کہ اگر یتیم یا کسی غیر موجود وارث کا مال اس میں شریک نہ ہو تو اس دعوت میں کھانا مکروہ ورنہ حرام ہے۔
مشہور حنفی فقیہ علامہ ابراہیم حلبی فرماتے ہیں:
’’ویکرہ اتخاذ الطعام فی الیوم الاول والثالث وبعد الاسبوع ونقلالطعام الی القبر فی المواسم واتخاذ الدعوۃ بقرأۃ والقراٰن وجمع الصلحاء والقراء للختم او لقرأۃ سورۃ الانعام والاخلاص۔‘‘
(کبیری:565)
پہلے دن، تیسرے دن اور ایک ہفتہ پر کھانا بنانا، قبر پر خصوصی، مواقع پر کھانے کا لے جانا، قرآن خوانی کے لیے دعوت کا اہتمام کرنا، صالحین اور حفاظ و قراء کو ختم قرآن کے لیے جمع کرنا یا سورہ انعام اور سورہ اخلاص پڑھنے کے لیے جمع کرنا مکروہ ہے۔
علامہ طحطاوی حنفی لکھتے ہیں:
’’وتکرہ ضیافۃ من اہل البیت لانہا شرعت فی السرور لا فی الشرور وہی بدعۃ مستقبحۃ۔‘‘
(طحطاوی علی مراقی الفلاح: 339)
اہل میت کی طرف سے ضیافت مکروہ ہے اس لیے کہ یہ موقع خوشی کے لیے ہے نہ کہ مواقعِ غم کے لیے اور یہ بدترین بدعت ہے۔
(8) اذان میں انگوٹھے چومنا
مفتی احمد یار نعیمی لکھتے ہیں:
بحث اذان میں انگوٹھے چومنے کا بیان۔
(جاء الحق ص394)
مفتی صاحب لکھتے ہیں:
جب مؤذن کہے’
’اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلَ اﷲِ‘‘
تو اس کو سن کر اپنے دونوں انگوٹھے یا کلمے کی انگلی چوم کر آنکھوں سے لگانا مستحب ہے۔ اس میں دنیاوی و دینی بہت فائدے ہیں۔
(جاء الحق ص394)
اس بارے میں بریلویوں کی طرف سے جو روایتیں پیش کی جاتی ہیں وہ سب سخت قسم کی ضعیف یا موضوع ہیں۔
امام زرقانی کا بیان ہے:
’’مسح العینین بباطن اعلی السبابتین بعد تقبیلھا عند قول المؤذن اشھد ان محمدًا رسول اﷲ لا یصح‘‘
(مختصر المقاصد الحسنہ ص182)
شہادت کی انگلیوں کے بالائی حصہ کا بوسہ لے کر مؤذن کے’’اشہد ان محمدا رسول اﷲ‘‘ کہنے کے وقت آنکھوں پر پھیرنا درست نہیں ہے۔ اور یہی رائے سخاوی، ابن ربیع، غرس الدین خلیلی جیسے بلند پایہ ناقدین کی ہے۔
(المقاصد الحسنہ ص382،تمیز الطیب 15 لابن ربیع، کشف الالتباس 1/306لغرس الدین)