ایصال ثواب کے کھانےپر ختم پڑھنا

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
 
(9) ایصال ثواب کے کھانےپر ختم پڑھنا
مفتی احمد یار خان نعیمی گجراتی لکھتے ہیں:
معلوم ہوا کہ ختم قرآن کے وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایصالِ ثواب بھی دعا ہے لہٰذا اس وقت ختم پڑھنا بہتر ہے۔
(جاء الحق ص262)
مفتی صاحب مزید لکھتے ہیں:
اس سے معلوم ہوا کہ بعض جگہ جو رواج ہے کہ بعد موت سات روز تک برابر روٹیاں خیرات کرتے ہیں اور ہمیشہ جمعرات کو فاتحہ کرتے ہیں
(جاء الحق ص262)
حالانکہ کھانے پر جو مروجہ فاتحہ دی جاتی ہے اس کی کوئی اصل نہیں اور یہ صریح بدعت ہے۔ شریعت نے اصول متعین کر دیا ہے کہ جو ذبیحے ہوں ان پر ذبح کے وقت’’بسم اﷲ اﷲ اکبر‘‘ کہا جائے اور دوسرے کھانے پر مسنون ہے کہ کھانے سے پہلے’’بسم اﷲ وعلیٰ برکۃ اﷲ‘‘ اور کھانے کی تکمیل پر کلمہ
’الحمد ﷲ الذی اطعمنا وسقانا وجعلنا من المسلمین‘‘
کہا جائے۔ اس کے علاوہ کوئی ذکر نہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہو۔
اس مروجہ فاتحہ یعنی ختم کا کہیں کوئی ذکر ہے؟ اور نہ اس کی کوئی اصل ہے؟ ایصالِ ثواب کے لیے جو کھانا دینا ہو تو اس پر فاتحہ کی ضرورت نہیں کہ وہ صدقہ کے حکم میں ہے اور صدقات کی جتنی صورتیں شریعت میں ہیں یعنی زکوٰۃ و صدقہ فطر وغیرہ جس کا مقصود صدقہ کرنے والے کا اپنے آپ کو ثواب پہونچانا ہوتا ہے ان میں کہیں یہ حکم نہیں کہ سامنے رکھ کر کچھ مخصوص آیات پڑھ کر فاتحہ دی جائے تب ہی زکوٰۃ و صدقہ قبول ہو گا ورنہ نہیں یا کم از کم از راہِ استحباب ہی اس پر فاتحہ دینے کا حکم ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ان چیزوں پر کوئی فاتحہ نہیں دیتا۔ فتاویٰ سمر قندیہ میں ہے کہ سورہ فاتحہ اور اخلاص اور کافرون کا کھانے پر پڑھنا بدعت ہے۔
(بحوالہ الجنہ ص155)