نماز جنازہ کے بعد دعا مانگنا

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
 
(10) نماز جنازہ کے بعد دعا مانگنا
بریلوی عالم مفتی احمد یار نعیمی گجراتی لکھتے ہیں:
پہلا باب دعا بعد نماز جنازہ کے ثبوت میں۔
(جاء الحق ص274)
مفتی صاحب لکھتے ہیں:
عقل کا بھی یہی تقاضا ہے کہ بعد نماز جنازہ دعا جائز ہو۔
(جاء الحق ص277)
مفتی صاحب لکھتے ہیں:
معلوم ہوا کہ بعد نماز جنازہ دعائے مغفرت جائز ہے۔
(جاء الحق ص275)
حالانکہ فقہائے احناف جنازہ کے بعد دعا کو منع کرتے ہیں۔
قرآن و حدیث سے جنازہ کے بعد یہ مخصوص دعا ثابت نہیں ہے، اسی طرح نمازِ جنازہ سے پہلے قرآن مجید کی تلاوت یا اس کے بعد مروجہ طور پر تلاوت اور دعا بھی شرعاً ثابت نہیں ہے۔
صاحب ِ خلاصۃ الفتاویٰ لکھتے ہیں:
’’لا یقوم بالدعاء فی قرآۃ القرا الجنازۃ و لا یقوم بالدعاء فی قرأۃ القراٰن لاجل المیت بعد صلٰوۃ الجنازۃ وقبلھا‘‘
(خلاصۃ الفتاوٰی، ج1 ص225)
نمازِ جنازہ کے بعد پھر دعا کے لیے نہ کھڑا ہو اور نہ نمازِ جنازہ سے پہلے یا اس کے بعد قرأت قرآن کے ساتھ دعا کی جائے۔
علامہ ابن نجیم مصری لکھتے ہیں:
کرہ ان یقوم رجل بعد ما اجتمع القوم للصلٰوۃ ویدعو للمیت ویرفع صوتہٗ
(البحر الرائق 5/319)
لوگ نماز جنازہ کے لیے جمع ہوں تو اس موقع پر ایک شخص کا کھڑا ہو کر زور زور سے باآواز بلند دعا کرنا مکروہ ہے۔
ملا علی قاری فرماتے ہیں:
’’و لا یدعو للمیت بعد صلٰوۃ الجنازۃ لانہ یشبہ الزیادۃ فی صلٰوۃ الجنازۃ‘‘
(مرقات 2/219)
نمازِ جنازہ کے بعد مردہ کے لیے الگ دعا نہ کرے کہ اس سے نماز جنازہ میں اضافہ کا شبہ پیدا ہوتا ہے۔
ہاں البتہ تدفین کے بعد قبر پر کچھ دیر تک ٹھہرنا، تلاوت کرنا اور مردہ کے لیے دعا کرنا درست ہے۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
’’ویستحب اذا دفن المیت ان یجلسوا ساعۃ عند القبر بعد الفراغ بقدر ما ینحر جزور ویقسم لحمھا یتلون القراٰن ویدعون للمیت۔‘‘
(فتاویٰ عالمگیری ج1 ص85)
تدفین کے بعد اونٹ کے ذبح کرنے اور اس کا گوشت تقسیم کرنے کے بقدر قبر پر لوگوں کا بیٹھنا قرآن مجید کی تلاوت کرنا اورمیت کے لیے دعا کرنا مستحب ہے۔