دفن کرنے کے بعد قبر پر اذان دینا

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
 
(12) دفن کرنے کے بعد قبر پر اذان دینا
مفتی احمد یار صاحب لکھتے ہیں:
مسلمان میت کو قبر میں دفن کر کے اذان دینا اہل سنت کے نزدیک جائز ہے۔
(جاء الحق ص310)
مفتی صاحب لکھتے ہیں:
پہلا باب اذان قبر کے ثبوت میں۔
(جاء الحق ص311)
مفتی صاحب لکھتے ہیں:
قبر پر بعد دفن اذان دینا جائز ہے احادیث اور فقہی عبارات سے اس کا ثبوت ہے
(جاء الحق ص311)
لیکن فقہائے احناف منع کرتے ہیں کیوں کہ اذان ایک عبادت ہے اور اسی موقع پر دی جا سکتی ہے جہاں سنت سے ثابت ہو۔ اسی لیے جنازہ، عیدین اور نوافل وغیرہ کے لیے بالاتفاق اذان نہیں دی جا سکتی کہ یہ سنت سے ثابت نہیں ہے۔ موت کے بعد اگر اذان دی جاتی تو جنازہ کی نماز کے لیے دی جاتی مگر ایسا نہیں کیا جاتا کہ شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔
پس چونکہ میت کو قبر میں داخل کرتے وقت بھی اذان دینی کسی وزنی دلیل سے ثابت نہیں اس لیے یہ عمل بھی بدعت ہو گا۔
علامہ ابن عابدین شامی فرماتے ہیں:
’’لا یسن الاذان عند ادخال المیت‘‘
میت کو قبر میں داخل کرنے کے وقت اذان (کہنا جیسا کہ آج کل عادت ہو گئی ہے) مسنون نہیں ہے۔
علامہ شامی حافظ ابن حجر شافعی کا فتویٰ نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’قد صرح ابن حجر فی فتاواہ بانہ بدعۃ‘‘
(رد المحتار ج1 ص659)
ابن حجر نے اپنے فتاویٰ میں صراحت کی ہے کہ یہ بدعت ہے۔
(13) قبروں کی زیارت کے لیے عرس کے موقعہ پر اور دیگر اوقات میں دور دراز سے سفر کر کے آنا
بریلوی مسلک کے حکیم الامت مفتی احمد یار نعیمی لکھتے ہیں:
بحث نمبر17 زیارت قبور کے لیے سفر کرنا۔ پھر آگے لکھتے ہیں: عرس بزرگان اور زیارت قبور کے لیے سفر کرنا بھی جائز اور باعث ثواب ہے۔
(جاء الحق ص330)
مفتی صاحب لکھتے ہیں:
پہلا باب سفر عرس کے ثبوت میں
(جاء الحق ص330)
مفتی صاحب لکھتے ہیں:
غرضیکہ سفر کا حکم معلوم کرنا ہو تو اس کے مقصد کا حکم دیکھ لو۔ عرس خاص زیارت قبر کا نام ہے اور زیارت قبر تو سنت ہے۔ لہٰذا اس کے لیے سفر بھی سنت ہی میں شمار ہو گا۔
(جاء الحق ص330)
جب کہ شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی حدیث لا تشد الرحال الا الی ثلاثۃ کے تحت لکھتے ہیں: حق میرے نزدیک یہ ہے کہ قبر اور اولیاء اﷲ میں سے کسی ولی کی عبادت کا محل اور طور سب کے سب اس نہی میں برابر ہیں۔
(حجۃ اﷲ البالغہ ج1 ص192)
شاہ ولی اﷲمحدث دہلوی لکھتے ہیں:
کہ جو شخص اجمیر میں حضرت خواجہ (معین الدین) چشتی کی قبر پر یا حضرت سالار مسعود غازی کی قبر یا ان کی مانند کسی اور قبر پر اس لیے گیا کہ وہاں کوئی حاجت طلب کرے تو اس نے ایسا گناہ کیا جو قتل اور زنا سے بھی بدترین گناہ ہے۔
(تفہیمات الٰہیہ ج2/45)