کفن کے اوپر کلمہ یا عہد نامہ وغیرہ لکھنا

User Rating: 1 / 5

Star ActiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
(14) کفن کے اوپر کلمہ یا عہد نامہ وغیرہ لکھنا
یعنی کفنی یا الفی لکھنا
مولانا نعیم الدین مراد آبادی کے شاگرد مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں:
پہلا باب کفنی یا الفی لکھنے کے ثبوت میں
(جاء الحق ص336)
مفتی صاحب لکھتے ہیں:لہٰذا میت کے لیے کفن وغیرہ پر ضرور عہد نامہ لکھا جاوے۔
(جاء الحق ص341)
مگر یہ کفن پر لکھنا نہ قرآن سے ثابت نہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہ فقہ حنفی کی کسی معتبر کتاب سے ثابت بلکہ فقہاء نے تو اس سے منع فرمایا ہے۔
علامہ ابن عابدین شامی نے رد المحتار شرح در مختار میں کفن پر لکھنے سے منع کیا ہے۔ لکھتے ہیں:یعنی ابن صلاح نے کفن پر سورہ کہف اور یٰسین لکھنے کی ممانعت کا فتویٰ دیا ہے کیوں کہ میت کی پیپ سے کفن ناپاک ہو جائے گا اور قرآن مجید کی توہین ہو گی اور یہ کہتے ہیں (مبتدعین) کہ لکھ لینا چاہیے یہ بات مردود ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول نہیں ہے اور ہم پہلے باب المیاہ میں فتح القدیر سے بیان کر چکے ہیں کہ انہوں نے (ابن ہمام حنفی نے) دراہم، محرابوں، دیواروں پر قرآن پاک کی کتابت اور اﷲ تعالیٰ کے اسماء لکھنے سے منع کیا ہے اور یہ ان کا فتویٰ نہیں مگر اس خوف و خطر کی وجہ سے کہ اس سے ان کی اہانت (توہین) ہو گی اور یہاں (کفن و کفنی) پر تو بالاولیٰ منع ہونا چاہیے۔ یہاں تک کہ اس سلسلہ میں کسی مجتہد کا فتویٰ یا حدیث ثابت نہ کی جائے۔ ملخصاً
(فتاویٰ شامی ج2 ص246 کتاب الجنائز)