بلند آواز سے ذکر کرنا

User Rating: 4 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Inactive
 
(15) بلند آواز سے ذکر کرنا
بریلویوں کے حکیم الامت مفتی احمد یار خان صاحب لکھتے ہیں:
پہلا باب ذکر بالجہر کے ثبوت میں
(جاء الحق ص344)
مخالفین اس کو حرام کہتے ہیں اور طرح طرح کے حیلوں سے اس کو روکنا چاہتے ہیں۔
(جاء الحق ص344)
جب کہ فقہاء منع فرماتے ہیں۔ فتاویٰ عالم گیری ج4 ص92 میں لکھا ہے:
’’ولو اجتمعوا فی ذکر اﷲ تعالٰی والتسبیح والتہلیل یخفون‘‘
(فتاویٰ عالمگیری ج4 ص90)
اگر اﷲ تعالیٰ کے ذکر اور تسبیح و تہلیل کے لیے اکھٹے ہوں تو آہستہ پڑھیں۔
فتاویٰ بزازیہ میں ہے:
’’رفع الصوت بالذکر حرام وقد صح عن ابن مسعود انہ سمع قومًا اجتمعوا فی مسجد یھللون ویصلون علیہ الصلٰوۃ والسلام جہرًا فراح علیہم فقال عہدنا ذٰلک علٰی عہدہ علیہ السلام ولا اراکم الا مبتدین فما زال یذکر ذٰلک حتی اخرجہم عن المسجد
(فتاویٰ بزازیہ برحاشیہ عالمگیری ج2 ص378)
ذکر میں آواز بلند کرنا حرام ہے، حضرت ابن مسعود سے ثابت ہے کہ انہوں نے کچھ لوگوں کو جمع ہو کر کلمہ طیبہ اور صلوٰۃ و سلام پڑھتے دیکھا تو ان کے پاس گئے اور فرمایا: ہم نے حضور کا زمانہ دیکھا ہے اور میرا خیال تمہارے متعلق نہیں ہے مگر یہ کہ تم بدعت گڑھنے والے ہو، حضرت ابن مسعود اس بات کو دہراتے رہے یہاں تک کہ ان کو مسجد سے نکال دیا۔