اولیاء اﷲ کے نام پر جانور پالنا

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
 
(16) اولیاء اﷲ کے نام پر جانور پالنا
مفتی احمد یار خان صاحب لکھتے ہیں:
بحث نمبر20 اولیاء اﷲ کے نام پر جانور پالنا۔
(جاء الحق ص358)
پہلا باب اس کے جواز کے ثبوت میں
(جاء الحق ص359)
بعض لوگ جو کہ فاتحہ گیارہویں یا کہ میلاد شریف کے پابند ہیں وہ اس کے لیے کچھ عرصہ سے بکرے اور مرغے وغیرہ پالتے ہیں اور ان کو فربہ کرتے ہیں۔ تاریخ فاتحہ پر ان کو بسم اﷲ پر ذبح کر کے کھانا پکا کر فاتحہ کرتے ہیں اور فقراء اور صلحاء کو کھلاتے ہیں۔ چونکہ وہ جانور اس نیت سے پالا گیا ہے اس لیے کہہ دیتے ہیں۔ گیارہویں کا بکرا یہ غوث پاک کی گائے وغیرہ یہ شرعاً حلال ہے۔
(جاء الحق ص358)
مفتی صاحب لکھتے ہیں:
یہ گیارہویں وغیرہ کا جانور حلال ہے اور یہ فعل باعث ثواب۔
(جاء الحق ص361)
لیکن فقہاء احناف منع کرتے ہیں:
حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی لکھتے ہیں:
‘’وحیوانات را کہ نذر مشائخ مے کنندہ وبرسر قبر ہائے ایشاں رفتہ آن حیوانات را ذبح مے نمایند در روایات فقیہ ایں عمل راہ نیزد اخل شرک ساختہ اند‘‘
اور یہ لوگ بزرگوں کے لیے جانوروں کی نذر مانتے ہیں اور پھر ان کی قبروں پر جا کر ان بکروں اور مرغوں وغیرہ کو وہاں ذبح کرتے ہیں، فقہ کی روایات میں ان کے اس عمل کو بھی داخل شرک کیا گیا ہے۔
(مکتوبات شریف دفتر سوم مکتوب نمبر 41)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
بادشاہ یا کسی بڑے آدمی کے آنے پر جانور ذبح کیا تو وہ حرام ہے کہ اس پر غیر خدا کا نام پکارا گیا۔ اگرچہ اس پر اﷲ ہی کا نام لیا گیا ہو۔
قارئین ہم نے نمونہ کے طور پر کچھ بدعات و رسومات کا ذکر کر دیا ہے بدعات تو بہت زیادہ ہیں مگر ہم یہاں پر ان ہی پر اکتفا کرتے ہیں۔ کیوں کہ ابھی آگے بہت کچھ لکھنا ہے۔ ان شاء اﷲ