قصے اور کہانیاں فرقہ بریلویہ کی اساس

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
 
قصے اور کہانیاں فرقہ بریلویہ کی اساس
پہلا قصہ:
مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی فرماتے ہیں:
بریلی میں ایک مجذوب بشیر الدین صاحب اخوند زادہ کی مسجد میں رہا کرتے تھے۔ جو کوئی ان کے پاس جاتا کم سے کم پچاس گالیاں سناتے۔ مجھے ان کی خدمت میں حاضر ہونے کا شوق ہوا۔ میرے والد ماجد قدس سرہ کی ممانعت کہ کہیں باہر بغیر آدمی کے ساتھ لیے نہ جانا۔ ایک رات گیارہ بجے اکیلا ان کے پاس پہنچا اور فرش پر جا کر بیٹھ گیا۔ وہ حجرے میں چارپائی پر بیٹھے تھے مجھ کو بغور پندرہ بیس منٹ تک دیکھتے رہے۔ آخر مجھ سے پوچھا: صاحب زادے تم مولوی رضا علی خاں صاحب کے کون ہو؟ میں نے کہا: ان کا پوتا ہوں۔
فوراً وہاں سے جھپٹے اور مجھ کو اٹھا کر لے گئے اور چارپائی کی طرف اشارہ فرمایا۔ آپ یہاں تشریف رکھیے۔ پوچھا: کیا مقدمہ کے لیے آئے ہو۔ میں نے کہا مقدمہ تو ہے لیکن میں اس لیے نہیں آیا ہوں۔ میں دعائے مغفرت کے واسطے حاضر ہوا ہوں۔ قریب آدھے گھنٹے تک برابر کہتے رہے’’اﷲ کرم کرے، اﷲ کرم کرے، اﷲ کرم کرے، اﷲ کرم کرے‘‘ اس کے بعد میرے منجھلے بھائی (مولوی حسن رضا خاں صاحب مرحوم) ان کے پاس مقدمہ کی غرض سے حاضر ہوئے۔ ان سے خود ہی پوچھا: کیا مقدمہ کے لیے آئے ہو؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں! فرمایا مولوی صاحب سے کہنا قرآن شریف میں یہ بھی تو ہے
نَصْرٌ مِّنَ اﷲِ وَفَتْحٌ قَرِیْبٌ
پس دوسرے ہی دن مقدمہ فتح ہو گیا۔
ملفوظات مکمل 4 حصے ص386، مطبوعہ حامد اینڈ کمپنی اردو بازار لاہور
دوسرا قصہ:
مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی فرماتے ہیں:حضرت سیدی موسیٰ سہاگ مشہور مجاذیب سے تھے، احمد آباد میں مزار شریف ہے۔ میں زیارت سے مشرف ہوا ہوں، زنانہ وضع رکھتے تھے ایک بار قحط شدید پڑھا۔ بادشاہ و قاضی و اکابر جمع ہو کر حضرت کے پاس دعا کے لیے گئے۔ انکار فرماتے رہے کہ میں کیا دعا کے قابل ہوں۔ جب لوگوں کی آہ و زاری حد سے گزری ایک پتھر اٹھایا اور دوسرے ہاتھ کی چوڑیوں کی طرف لائے اور آسمان کی جانب منہ اٹھا کر فرمایا: مینہ بھیجئے یا اپنا سہاگ لیجیے۔ یہ کہنا تھا کہ گھٹائیں پہاڑ کی طرح امڈیں اور جل تھل بھر دیئے۔
ایک دن نماز جمعہ کے وقت بازار میں جا رہے تھے، ادھر سے قاضی شہر کہ جامع مسجد کو جاتے تھے آئے، انہیں دیکھ کر امر بالمعروف کیا کہ یہ وضع مردوں کو حرام ہے، مردانہ لباس پہنیے اور نماز کو چلئے اس پر انکار و مقابلہ نہ کیا۔ چوڑیاں اور زیور اور زنانہ لباس اتار کر مسجد کو ہو لیے۔ خطبہ سنا جب جماعت قائم ہوئی اور امام نے تکبیر تحریمہ کہی اﷲ اکبر سنتے ہی ان کی حالت بدلی۔ فرمایا: اﷲ اکبر میرا خاوند حی لا یموت ہے کہ کبھی نہ مرے گا۔ اور یہ مجھے بیوہ کیے دیتے ہیں۔ اتنا کہنا تھا کہ سر سے پاؤں تک وہی سرخ لباس تھا اور وہی چوڑیاں۔
(ملفوظات مکمل 4 حصے ص208، مطبوعہ حامد اینڈ کمپنی اردو بازار لاہور)
تیسرا قصہ:
مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی فرماتے ہیں:
حضرت سیدی عبدالوہاب اکابر اولیائے کرام میں سے ہیں۔ حضرت سیدی احمد بدوی کبیر کے مزار پر بہت بڑا میلہ اور ہجوم ہوتا تھا۔ اس مجمع میں چلے آتے تھے ایک تاجر کی کنیز پر نگاہ پڑی فوراً نگاہ پھیر لی کہ حدیث میں ارشاد ہوا:
اَلنَّظْرَۃُ الْاُوْلٰی لَکَ وَالثَّانِیَۃُ عَلَیْکَ’ ’
پہلی نظر تیرے لیے ہے اور دوسری تجھ پر‘‘ یعنی پہلی نظر کا کچھ گناہ نہیں اور دوسری کامواخذہ ہو گا۔ خیر نگاہ تو آپ نے پھیر لی مگر وہ آپ کو پسند آئی۔ جب مزار شریف پر حاضر ہوئے ارشاد فرمایا: عبدالوہاب وہ کنیز پسند ہے؟ عرض کی ہاں اپنے شیخ سے کوئی بات چھپانا نہ چاہیے ارشاد فرمایا اچھا ہم نے تم کو وہ کنیز ہبہ کی۔ اب آپ سکوت میں ہیں کہ کنیز تو اس تاجر کی ہے اور حضور ہبہ فرماتے ہیں۔ معاً وہ تاجر حاضر ہوا اور اس نے وہ کنیز مزار اقدس کی نذر کی۔ خادم کو اشارہ ہوا انہوں نے آپ کی نذر کر دی اور فرمایا عبدالوہاب اب دیر کاہے کی فلاں حجرہ میں لے جاؤ اور اپنی حاجت پوری کرو۔
(ملفوظات مکمل ص275، 276، مطبوعہ حامد اینڈ کمپنی اردو بازار لاہور)
چوتھا قصہ:
مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی فرماتے ہیں:
حافظ الحدیث سیّدی احمد سجلماسی کہیں تشریف لے جاتے تھے۔ راہ میں اتفاقاً آپ کی نظر ایک نہایت حسینہ عورت پر پڑ گئی۔ یہ نظر اول تھی۔ بلا قصد تھی۔ دوبارہ پھر آپ کی نظر اٹھ گئی۔ اب دیکھا کہ پہلو میں حضرت سیدی غوث الوقت عبد العزیز دباغ آپ کے پیرو مرشد تشریف فرما ہیں اور فرماتے ہیں احمد عالم ہو کر۔
انہیں سیّدی احمد سجلماسی کے دو بیویاں تھیں۔ سیدی عبدالعزیز دباغ نے فرمایا کہ رات کو تم نے ایک بیوی کے جاگتے دوسری سے ہمبستری کی، یہ نہیں چاہیے۔ عرض کیا: حضور اس وقت وہ سوتی تھی۔ فرمایا: سوتی نہ تھی سوتے میں جان ڈال لی تھی۔ عرض کیا: کہ حضور کو کس طرح علم ہوا۔ فرمایا: جہاں وہ سو رہی تھی کوئی اور پلنگ بھی تھا۔ عرض کیا: ہاں ایک پلنگ خالی تھی تھا فرمایا اس پر میں تھا تو کسی وقت شیخ مرید سے جدا نہیں ہر آن ساتھ ہے۔
(ملفوظات مکمل ص169، مطبوعہ حامد اینڈ کمپنی اردو بازار لاہور)
پانچواں قصہ:
مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی فرماتے ہیں:
سیدی محمدی یمینی کے ایک صاحبزادے مادر زاد ولی تھے۔ ایک مرتبہ جب عمر شریف چند سال کی تھی باہر تشریف لائے اور اپنے والد ماجد کی جگہ تشریف رکھی۔ ایک شخص سے کہا لکھ
فُلاَنٌ فِی الْجَنَّۃِ یعنی فلاں شخص جنت میں ہے۔ یونہی نام بنام بہت سے اشخاص کو لکھوایا۔ پھر فرمایا لکھ فُلاَنٌ فِی النَّارِ
یعنی فلاں شخص دوزخ میں ہے انہوں نے لکھنے سے ہاتھ روک لیا، آپ نے پھر فرمایا انہوں نے نہ لکھا آپ نے سہ بار ارشاد کیا۔ انہوں نے لکھنے سے انکار کر دیا۔ اس پر آپ نے فرمایا اَنْتَ فِی النَّارِ تو آگ میں ہے۔
وہ گھبرائے ان کے والد ماجد کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت نے فرمایا
اَنْتَ فِی النَّارِ کہا یا اَنْتَ فِیْ جَہَنَّمَ عرض کی انت فی النار
فرمایا۔ حضرت نے ارشاد فرمایا میں اس کے کہے کو نہیں بدل سکتا اب تجھے اختیار ہے دنیا کی آگ پسند کر یا آخرت کی۔ عرض کی دنیا کی آگ پسند ہے۔ ان کا جل کر انتقال ہوا۔ حدیث میں آگ کے جلے ہوئے کو بھی شہید فرمایا ہے۔
(ملفوظات مکمل ص23، مطبوعہ حامد اینڈ کمپنی اردو بازار لاہور)
چھٹا قصہ:
مولانا احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں:
حضرت یحییٰ منیری کے ایک مرید دریا میں ڈوب رہے تھے۔ حضرت خضر علیہ السلام ظاہر ہوئے اور فرمایا اپنا ہاتھ مجھے دے کہ تجھے نکال لوں۔ اُن مرید نے عرض کی یہ ہاتھ حضرت یحییٰ منیری کے ہاتھ میں دے چکا ہوں اب دوسرے کو نہ دوں گا۔ حضرت خضر علیہ السلام غائب ہو گئے اور حضرت یحییٰ منیری ظاہر ہوئے اور ان کو نکال لیا۔
(ملفوظات مکمل ص164، مطبوعہ حامد اینڈ کمپنی اردو بازار لاہور)
ساتواں قصہ:
مولانا احمد رضا خان بریلوی فرماتے ہیں:
ایک فقیر بھیک مانگنے والا ایک دوکان پر کھڑا کہہ رہا تھا۔ ایک روپیہ دے وہ نہ دیتا تھا۔ فقیر نے کہا: روپیہ دیتا ہے تو دے ورنہ تیری ساری دوکان الٹ دوں گا۔ اس تھوڑی دیر میں بہت لوگ جمع ہو گئے۔ اتفاقاً ایک صاحب دل کا گزر ہوا جن کے سب لوگ معتقد تھے انہوں نے دوکاندار سے فرمایا جلد روپیہ اسے دے ورنہ دوکان الٹ جائے گی۔ لوگوں نے عرض کی حضرت یہ بے شرع جاہل کیا کر سکتا ہے؟ فرمایا: میں نے اس فقیر کے باطن پر نظر ڈالی کہ کچھ ہے بھی معلوم ہوا بالکل خالی ہے پھر اس کے شیخ کو دیکھا اسے بھی خالی پایا۔ اس کے شیخ کے شیخ کو دیکھا انہیں اہل اﷲ سے پایا اور دیکھا۔ وہ منتظر کھڑے ہیں کہ کب اس کی زبان سے نکلے اور میں دوکان الٹ دوں۔
(ملفوظات مکمل ص119، مطبوعہ حامد اینڈ کمپنی اردو بازار لاہور)
آٹھواں قصہ:
مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی فرماتے ہیں:
ایک بار حضرت سیدی اسماعیل حضرمی قدس سرہ العزیز کہ اجلہ اولیائے کرام سے ہیں۔ ایک قبرستان میں گزرے۔ امام محب الدین طبری کہ اکابر محدثین میں سے ہیں ہمراہ رکاب تھے۔ حضرت سیدی اسماعیل نے ان سے فرمایا:
اَتُؤْمِنُ بِکَلاَمِ الْمَوْتٰی
کیا اس پر آپ ایمان لاتے ہیں کہ مردے زندوں سے کلام کرتے ہیں۔ عرض کی ہاں فرمایا اس قبر والا مجھ سے کہہ رہا ہے انا من حشوب الجنۃ میں جنت کی بھرتی میں سے ہوں آگے چلے۔
چالیس قبریں تھیں آپ بہت دیر تک روتے رہے۔ یہاں تک کہ دھوپ چڑھ گئی۔ اس کے بعد آپ ہنسے اور فرمایا تو بھی انہیں میں سے ہے لوگوں نے یہ کیفیت دیکھ کر عرض کی۔ حضرت یہ کیا راز ہے؟ ہماری سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ فرمایا: ان قبور پر عذاب ہو رہا تھا جسے دیکھ کر میں روتا رہا اور حضرت عزت میں میں نے ان کی شفاعت کی۔ مولیٰ تعالیٰ نے میری شفاعت قبول فرمائی اور ان سے عذاب اٹھا لیا۔ ایک قبر گوشے میں تھی جس کی طرف میرا خیال نہ گیا تھا اس میں سے آواز آئی۔
یَا سَیِّدِیْ اَنَا مِنْہُمْ اَنَا فُلاَنَۃُ الْمُغَنِّیَۃُ’
’اے میرے آقا میں بھی تو انہیں میں ہوں فلاں ڈومنی ہوں۔‘‘
مجھے اس کے کہنے پر ہنسی آ گئی اور میں نے کہا اَنْتِ مِنْہُمْ تو بھی انہیں میں ہے۔ اس پر اس سے بھی عذاب اٹھا لیا گیا تو یہ حضرات سراپا رحمت ہیں جس طرف گزر ہو رحمت ساتھ ہے۔
(ملفوظات مکمل ص200، 201، مطبوعہ حامد اینڈ کمپنی اردو بازار لاہور)
نواں قصہ:
مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی فرماتے ہیں:
ایک بی بی نے مرنے کے بعد خواب میں اپنے لڑکے سے فرمایا۔ میرا کفن ایسا خراب ہے مجھے اپنے ساتھیوں میں جاتے ہوئے شرم آتی ہے پرسوں فلاں شخص آنے والا ہے۔ اس کے کفن میں اچھے کپڑے کا کفن رکھ دینا صبح کو صاحبزادے نے اٹھ کر اس شخص کو دریافت کیا۔ معلوم ہوا کہ وہ بالکل تندرست ہے اور کوئی مرض نہیں تیسرے روز خبر ملی اس کا انتقال ہو گیا ہے۔ لڑکے نے فوراً نہایت عمدہ کفن سلوا کر اس کے کفن میں رکھ دیا اور کہا یہ میری ماں کو پہنچا دینا رات کو وہ صالحہ خواب میں تشریف لائیں اور بیٹے سے کہا خدا تمہیں جزائے خیر دے تم نے بہت اچھا کفن بھیجا۔
(ملفوظات مکمل ص95، مطبوعہ حامد اینڈ کمپنی اردو بازار لاہور)
دسواں قصہ:
مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی فرماتے ہیں:
سبع سنابل شریف میں حضرت سیدی فتح محمد قدس سرہ العزیز کا وقت واحد میں دس مجلسوں میں تشریف لے جانا تحریر فرمایا اور یہ کہ اس پر کسی نے عرض کی حضرت نے وقت واحد میں دس جگہ تشریف لے جانے کا وعدہ فرما لیا ہے یہ کیوںکر ہو سکے گا۔ شیخ نے فرمایا کرشن کنہیا کافر تھا اور ایک وقت میں کئی سو جگہ موجود ہو گیا۔ فتح محمد اگر چند جگہ ایک وقت میں ہو کیا تعجب ہے۔
(ملفوظات مکمل ص114، مطبوعہ حامد اینڈ کمپنی اردو بازار لاہور)
گیارہواں قصہ:
مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی فرماتے ہیں:
ایک صاحب اولیائے کرام میں سے تھے۔ آپ کی خدمت میں بادشاہ وقت قدم بوسی کے لیے حاضر ہوا۔ حضور کے پاس کچھ سیب نذر میں آئے تھے۔ حضور نے ایک سیب دیا اور کہا کھاؤ۔ عرض کیا حضور بھی نوش فرمائیں۔ آپ نے بھی کھائے اور بادشاہ نے بھی۔ اس وقت بادشاہ کے دل میں خطرہ آیا کہ یہ جو سب میں بڑا اچھا خوش رنگ سیب ہے اگر اپنے ہاتھ سے اٹھا کر مجھ کو دے دیں گے تو جان لوں گا کہ یہ ولی ہیں۔
آپ نے وہی سیب اٹھا کر فرمایا ہم مصر گئے تھے وہاں ایک جلسہ بڑا بھاری تھا۔ دیکھا ایک شخص ہے اس کے پاس ایک گدھا ہے اس کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہے ایک چیز ایک شخص کی ایک دوسرے کے پاس رکھ دی جاتی ہے۔ اس گدھے سے پوچھا جاتا ہے گدھا ساری مجلس میں دورہ کرتا ہے جس کے پاس ہوتی ہے سامنے جا کر سر ٹیک دیتا ہے۔ یہ حکایت ہم نے اس لیے بیان کی کہ اگر یہ سیب ہم نہ دیں تو ولی ہی نہیں۔ اور اگر دے دیں تو اس گدھے سے بڑھ کر کیا کمال دکھایا۔ یہ فرما کر سیب بادشاہ کی طرف پھینک دیا بس یہ سمجھ گئے کہ وہ صفت جو غیر انسان کے لیے ہو سکتی ہے انسان کے لیے کمال نہیں اور جو غیر مسلم کے لیے ہو سکتی ہے مسلم کے لیے کمال نہیں۔
(ملفوظات مکمل ص342، 343، مطبوعہ حامد اینڈ کمپنی اردو بازار لاہور)
بارہواں قصہ:
مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی فرماتے ہیں:
ایک مرتبہ حضرت سید الطائفہ جنید بغدادی دجلہ پر تشریف لائے اور یا اﷲ کہتے ہوئے اس پر زمین کی مثل چلنے لگے۔ بعد کو ایک شخص آیا اسے بھی پار جانے کی ضرورت تھی۔ کوئی کشتی اس وقت موجود نہ تھی۔ جب اس نے حضرت کو جاتے ہوئے دیکھا عرض کی: میں کس طرح آؤں؟
فرمایا: یا جنید یا جنید کہتا چلا آ۔ اس نے یہی کہا اور دریا پر زمین کی طرح چلنے لگا۔ جب بیچ دریا میں پہنچا شیطان لعین نے دل میں وسوسہ ڈالا کہ حضرت خود تو یا اﷲ کہیں اور مجھ سے یا جنید کہلواتے ہیں۔ میں بھی یا اﷲ کیوں نہ کہوں اس نے یا اﷲ کہا اور ساتھ ہی غوطہ کھایا۔ پکارا۔ حضرت میں چلا فرمایا وہی کہہ یا جنید یا جنید جب کہا دریا سے پار ہوا۔ عرض کی حضرت یہ کیا بات تھی آپ اﷲ کہیں تو پار ہوں اور میں کہوں تو غوطہ کھاؤں۔ فرمایا ارے نادان ابھی تو جنید تک تو پہنچا نہیں اﷲ تک رسائی کی ہوس ہے۔ اﷲ اکبر!
(ملفوظات مکمل ص104، 105، مطبوعہ حامد اینڈ کمپنی اردو بازار لاہور)
تیرہواں قصہ:
مولانا احمد رضا فرماتے ہیں:
دو صاحب اولیائے کرام سے ایک دریا کے اس کنارے اور دوسرے اس پار رہتے تھے۔ ان میں ایک صاحب نے اپنے یہاں کھیر پکائی اور خادم سے کہا تھوڑی ہمارے دوست کو بھی دے آؤ۔ خادم نے عرض کی حضور راستے میں تو دریا پڑتا ہے کیوں کر پار اتروں گا۔ کشتی وغیرہ کا کوئی سامان نہیں۔ فرمایا دریا کے کنارے جا کر کہہ میں اس کے پاس سے آیا ہوں جو آج تک اپنی عورت کے پاس نہیں گیا۔ خادم حیران تھا کہ یہ کیا معمّہ ہے اس واسطے کہ حضرت صاحب اولاد تھے۔ بہرحال تکمیل حکم ضرور تھی۔ دریا پر گیا وہ پیغام جو ارشاد فرمایا تھا کہا۔ دریا نے فوراً راستہ دے دیا۔ اس نے پار پہنچ کر ان بزرگ کی خدمت میں کھیر پیش کی۔ انہوں نے نوش جان فرمائی اور فرمایا ہمارا سلام اپنے آقا سے کہہ دینا۔
خادم نے عرض کی کہ سلام تو جبھی کہوں گا جب دریا سے پار اتر جاؤں۔ فرمایا: دریا پر جا کر کہہ دینا میں اس کے پاس سے آتا ہوں جس نے تیس برس سے آج تک کچھ نہیں کھایا۔ خادم شش و پنج میں تھا۔ یہ عجیب بات ہے ابھی تو میرے سامنے کھیر تناول فرمائی اور فرماتے ہیں اتنی مدت سے کچھ نہیں کھایا مگر بلحاظ ادب خاموش رہا دریا پر آ کر جیسا فرمایا تھا کہہ دیا۔ دریا نے پھر راستہ دے دیا۔ جب اپنے آقا کی خدمت میں پہنچا تو اس سے نہ رہا گیا اور عرض کی حضور یہ کیا معاملہ تھا فرمایا ہمارا کوئی فعل اپنے نفس کے لیے نہیں ہوتا۔
(ملفوظات مکمل ص105، مطبوعہ حامد اینڈ کمپنی اردو بازار لاہور)
چودہواں قصہ:
مولانا احمد رضا فرماتے ہیں:
حضرت سیدی احمد بدوی کبیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جن کی مجلس میلاد مصر میں ہوتی ہے۔ مزار مبارک پر آپ کی ولادت کے دن ہر سال مجمع ہوتا ہے اور آپ کا میلاد پڑھا جاتا ہے۔ امام عبدالوہاب شعرانی الربانی التزام کے ساتھ ہر سال حاضر ہوتے اپنی کتاب میں بھی بہت تعریف لکھی ہے۔ کئی ورقوں میں اس مجلس کے حالات بیان کیے ہیں۔ مجلس تین دن ہوتی ہے ایک دفعہ آپ کو تاخیر ہو گئی۔ یہ ہمیشہ ایک دن پہلے حاضر ہو جاتے تھے۔ اس دفعہ آخر دن پہنچے جو اولیائے کرام مزار مبارک پر مراقب تھے انہوں نے فرمایا کہاں تھے دو روز سے حضرت مزار مبارک سے پردہ اٹھا اٹھا کر فرماتے ہیں عبدالوہاب آیا، عبدالوہاب آیا۔ انہوں نے فرمایا کیا حضور کو میرے آنے کی اطلاع ہوتی ہے۔ انہوں نے فرمایا اطلاع کیسی حضور تو فرماتے ہیں کہ کتنی ہی منزل پر کوئی شخص میرے مزار پر آنے کا ارادہ کرے میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں اس کی حفاظت کرتا ہوں اگر اس کا ایک ٹکڑا رسی کا جاتا رہے گا اﷲ تعالیٰ مجھ سے سوال کرے گا۔
(ملفوظات مکمل ص274، 275، مطبوعہ حامد اینڈ کمپنی اردو بازار لاہور)
پندرہواں قصہ:
مولانا احمد رضا فرماتے ہیں:
حضرت سیدی محمد یمینی نماز فجر کے لیے مسجد میں تشریف لائے۔ دیکھا کہ منبر پر ایک بچہ بیٹھا ہوا ہے سوا حضرت کے کسی نے نہ دیکھا۔ آپ نے کچھ تعرض نہ فرمایا۔ نماز پڑھ کر تشریف لے آئے پھر ظہر کے لیے آئے تو دیکھا کہ ایک جوان بیٹھا ہے نماز پڑھ کر چلے آئے اور اس سے کچھ نہ کہا۔ پھر عصر کے لیے گئے تو وہیں منبر پر ایک بوڑھے کو پایا اب بھی کچھ نہ پوچھا اور نماز سے فارغ ہو کر واپس آئے۔ پھر مغرب کے لیے گئے تو ایک بیل کو وہاں دیکھا۔
اب فرمایا: تو کیا ہے کہ اتنی حالتوں میں مَیں نے تجھے دیکھا ہے؟ اس نے کہا: میں وبا ہوں اگر آپ اس وقت مجھ سے کلام کرتے جب میں بچہ تھا تو یمن میں کوئی بچہ نہ رہتا اور اگر اس وقت دریافت فرماتے جب جوان تھا تو یہاں کوئی جوان نہ رہتا۔ یونہی اگر اس وقت بات کرتے جب میں بڈھا تھا تو اس شہر میں کوئی بوڑھا نہ رہتا۔ اب آپ نے اس حال میں مجھے بیل دیکھا، کلام فرمایا یمن میں کوئی بیل نہ رہے گا۔ یہ کہہ کر غائب ہو گیا۔ یہ اﷲ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر رحمت تھی کہ آپ نے پہلی تین حالتوں میں اس سے سوال نہ کیا۔ بیلوں میں مرگ عام ہو گئی اگر اس وقت کوئی بیل اچھا بھی ذبح کیا جاتا تو گوشت ایسا خراب ہوتا کہ کوئی کھا نہ سکتا اس میں گندھک کی بو آتی۔
(ملفوظات مکمل ص22، 23، مطبوعہ حامد اینڈ کمپنی اردو بازار لاہور)
قارئین کرام ہم نے صرف نمونہ کے طور پر پندرہ قصے نقل کیے ہیں اور یہ تمام قصے مولانا احمد رضا ہی کے ہیں۔ کسی اور کے نہیں۔ اور ان پر تبصرہ بھی نہیں کیا۔ آپ خود فیصلہ کر لیں۔ اس باب کو ہم یہاں پر ہی ختم کرتے ہیں۔