فرقہ بریلویہ اور تکفیر المسلمین

User Rating: 4 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Inactive
 
فرقہ بریلویہ اور تکفیر المسلمین
اس باب میں ہم یہ ثابت کریں گے کہ فرقہ بریلویہ نے کن کن لوگوں اور کس کس جماعت کی تکفیر کی ہے۔ تمام افراد اور تمام جماعتوں کا ذکر تو یہاں پر بہت مشکل ہے مگر خاص خاص افراد کا ذکر مختصر طور پر ضرور کریں گے۔
مثلاً شاہ اسماعیل شہید، مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا خلیل احمد سہارنپوری، مولانا اشرف علی تھانوی، سید نذیر حسین دہلوی، مولانا امیر حسن سہسوانی، مولانا امیر احمد سہسوانی، ڈپٹی نذیر احمد دہلوی، مولانا شبلی نعمانی، مولانا عبدالماجد بدایونی، مولانا عبد القدیر بدایونی، مولانا معین الدین اجمیری، مولانا ابو الکلام آزاد، مولانا آزاد سبحانی، مولانا ثناء اﷲ امرتسری، مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، مولانا ظفر علی خاں، سرسید احمد خاں، قائد اعظم محمد جناح، علامہ اقبال، مولانا الطاف حسین حالی، ابن سعود اور جنرل محمد ضیاء الحق۔اور جماعتوں میں مسلم لیگ، مجلس احرار، خلافت کمیٹی، خدام کعبہ، سیرت کمیٹی، جمعیت علمائے ہند وغیرہ اور ان کے علاوہ بہت سی جماعتوں کی تکفیر کی ہے۔
حضرت مولانا شاہ محمد اسماعیل رحمہ اللہ شہید کی تکفیر:
خان صاحب بریلوی حضرت شہید رحمہ اللہ کی جانب بے شمار کفریات و شرکیات منسوب کرنے کے بعد یہ قطعی فیصلہ کرتے ہیں کہ
’’بالجملہ ماہ و مہر نیم روز کی طرح ظاہر وزاہر کہ اس فرقۂ متفرقہ یعنی وہابیہ اسماعیلیہ اور اس کے امام نافرجام پر جزماً قطعاً اجماعاً بہ وجوہ کثیر کفر لازم اور بلاشبہ جماہیر فقہائے کرام و اصحاب فتویٰ اکابر اعلام کی تصریحات واضحہ پر یہ سب کے سب مرتد و کافر بہ اجماع ائمہ ان سب پر اپنے کفریات ملعونہ سے بالتصریح توبہ و رجوع اور از سر نو کلمہ اسلام پڑھنا فرض و واجب۔‘‘
(الکوکبۃ الشہابۃ، ص45 مطبوعہ بار پنجم)
اس کے علاوہ خان صاحب نے اپنی کتاب الاستمداد علی اجبال الارتداد، سل السیوف الہندیۃ، الکوکبۃ الشہابیۃ اور فتاویٰ رضویہ ج1، ص46،745 میں بھی بہت گندے الزامات حضرت امام شہید رحمہ اللہ کی جانب منسوب کر کے آپ کے کفر و ارتداد پر مہر لگا دی ہے۔
مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا خلیل احمد سہارنپوری، مولانا اشرف علی تھانوی کی تکفیر:
مولانا احمد رضا لکھتے ہیں:
(1)… سید احمد، خلیل احمد، رشید احمد، اشرف علی کے کفر میں جو شک کرے وہ خود کافر۔
(احکام شریعت وغیرہ)
مولانا احمد رضا لکھتے ہیں:
(2)… اس (حسام الحرمین) میں نانوتوی و دیوبندیوں کی نسبت صاف صریح تصریح ہے کہ
’’مَنْ شَکَّ فِیْ کُفْرِہٖ فَقَدْ کَفَرَ‘‘
جو ان کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔
(عرفان شریعت ج1 ص24)
مولانا احمد رضا لکھتے ہیں:
(3)… اس کے چند سطروں کے بعد مختلف کتابوں سے اپنی تاید و تصدیق میں نقل کرتے ہیں:’’جو ان کے کفر و عذاب میں شک کرے خود کافر ہے… ہمارے ائمہ اعلام کا اتفاق ہے، فرمایا جو کفر کی بات کہے وہ کافر ہے اور جو اس بات کو اچھا بتائے یا اس پر راضی ہو وہ بھی کافر ہے۔
(حسام الحرمین ص113)
مولانا احمد رضا لکھتے ہیں:
(4)… حمد و صلوٰۃ کے بعد میں کہتا ہوں کہ یہ طائفے جن کا تذکرہ سوال میں واقع ہے غلام احمد قادیانی اور رشید احمد اور جو اس کے پیرو ہوں جیسے خلیل احمد انیبٹھی اور اشرف علی وغیرہ ان کے کفر میں کوئی شبہ نہیں، نہ شک کی مجال، بلکہ جو ان کے کفر میں شک کرے بلکہ کسی طرح کسی حال میں انہیں کافر کہنے میں توقف کرے اس کے کفر میں شک نہیں۔‘‘
(حسام الحرمین ص43)
مولانا طیب دانا پوری بریلوی لکھتے ہیں:
(5)… دیوبندیت بھی اسی وہابیت کی ایک شاخ ہے، اس کا بھی مطمع نظر انبیاء و اولیاء علی سیدہم وعلیہم الصلوٰۃ والسلام کی توہین و تنقیص ہے۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص5)
مولانا طیب دانا پوری بریلوی لکھتے ہیں:
(6)… چمر توحیدوں کے امام اول ابلیس نے حکم خداوندی سے کفر و عناد کر کے اپنے آپ کو اس خبیثہ بئیسہ تقویۃ الایمان کا وارث ثابت کر دیا۔ کافر ان گنگوہ و انیبٹھ اس اپنے پیشوائے اول۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص10)
مولانا طیب دانا پوری بریلوی لکھتے ہیں:
(7)…’’اور ابائسہ نجد کے یہ وہ عقائد خبیثہ ہیں جن میں ان کے ساتھ شیاطین دیوبندی بھی برابر کے شریک ہیں۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص268)
مولانا طیب دانا پوری بریلوی لکھتے ہیں:
(8)… اب تو معلوم ہوا کہ دیو بندی و نجدی دونوں ایک ہی طرح کے عقاید کفریہ رکھتے ہیں۔ کفر و ارتداد میں دونوں ایک دوسرے کے سگے بھائی ہیں۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص286)
اسی کتاب کے ص17 میں’’مرتد نانوتوی‘‘ اور ص303 میں’’مرتد تھانوی‘‘ اور’’مرتدان گنگوہ و انبیٹھ‘‘ جیسے سخت الفاظ استعمال کیے ہیں۔
سید نذیر حسین محدث دہلوی، امیر حسن، امیر احمد سہسوانی کی تکفیر
یہ تینوں بزرگانِ غیر مقلد ہیں۔
مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی نے آپ کی اور آپ کی جماعت کی علی الاعلان تکفیر کی ہے۔ حسام الحرمین میں جن فرقوں کی نام لے کر تکفیر کی ہے ان میں ایک آپ کا بھی نام ہے۔ لکھتے ہیں:
’’اور وہ کئی قسم ہیں۔ ایک امیریہ امیر حسن و امیر احمد سہسوانیوں کی طرف منسوب اور نذیریہ نذیر حسین دہلوی کی طرف منسوب۔‘‘
(حسام الحرمین ص101)
اس کے بعد آپ ان تمام فرقوں کے بارے میں جن کا وہ حسام الحرمین میں تذکرہ کر چکے ہیں لکھتے ہیں کہ
’’خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ طائفے سب کے سب کافر و مرتد ہیں، بہ اجماع امت اسلام سے خارج ہیں۔‘‘
(حسام الحرمین ص113)
ڈپٹی نذیر احمد غیر مقلد، مولانا بشیر قنوجی غیر مقلد کی تکفیر:
مولوی محمد طیب دانا پوری لکھتے ہیں:
’’اور نذیرین دہلوین و امیرین سہسوانین و بشیرین قنوجین یعنی نذیر حسین دہلوی و محمد نذیر دہلوی و امیر احمد سہسوانی و امیر حسن سہسوانی بشیر حسن قنوجی و محمد بشیر قنوجی … الجملہ بابی بعید ونیچری پلید وبھائی عنید ومرزائی طرید و دیوبندی خواتمی مرید وہابی شش امثالی شرید یہ چھون فرقے … بہ حکم شریعت مطہرہ قطعاً یقینا کافر، مرتد، مستحق عذاب ابدی شدید و لعنت رب وحید‘‘
(تجانب اہل سنت ص219)
’’جو لوگ وہابیہ ہوں یا غیر مقلدین ایسے کفریات صریحہ کے معتقد ہیں وہ سب بہ حکم شریعت کافر و مرتد ہیں۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص5)
مولانا ثناء اﷲ امرتسری غیر مقلد کی تکفیر:
’’اس ناپاک عبارت میں مرتد ثناء اﷲ امرتسری سرغنہ غیر مقلدین نے کھلے لفظوں میں بک دیا۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص247)
’’اور غیر مقلدین ثنائیہ … سب کے سب بہ حکم شریعت مطہرہ مرتد اکفر ہیںاور بہ مقتضائے
’’ظُلُمَاتٌ بَعْضُھَا فَوْقَ بَعْضٍ‘‘
کفر و ارتداد میں ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص248)
اس کے علاوہ اس کتاب کے صفحہ 11، 90، 175، 247 میں ان حضرات اور ان کی جماعت اہل حدیث کی تکفیر مذکور ہے۔
علامہ شبلی نعمانی کی تکفیر:
مولانا طیب دانا پوری لکھتے ہیں:
(1)…’’صلح کلی کوئی مستقل مذہب نہیں بلکہ ہر اس شخص کو کہتے ہیں جو بد مذہبوں، بے دنیوں پر ردو طرد سے اپنی ناراضگی ظاہر کرے۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص275)
(2)…’’اس ناپاک ترین فرقہ’’صلح کلیہ‘‘ کے افراد ہر طبقے میں ہیں اور ہر ایک طبقے میں علاحدہ علاحدہ مختلف طریقوں سے اپنی صلح کلیت ملعونہ کا پرچار کرتے ہیں۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص278)
علامہ شبلی نعمانی’ ’صلح کلیہ لیڈر‘‘ ہیں:
(3)…’’اور ان صلح کلی نیچری لیڈروں کا مقصد سیاست کے پردے میں بے دینی و دہریت پھیلانا ہے۔ ان صلح کلی لیڈروں میں اعظم گڑھ کے مولوی شبلی بہت نمایاں ہستی رکھتے ہیں۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص289)
فرقہ’ ’صلح کلیہ‘‘ اور اس کے لیڈر کافر ہیں:
(4)…’’صلح کلیہ نابکار جو اﷲ و رسول جل جلالہ و صلی اﷲ علیہ وسلم کی کھلی توہینیں و صریح تکذیبیں کرنے والوں کے کفر و ارتداد کو چھپانے، ان کی تکفیر شرعی کو غلط و باطل ٹھہرانے کے لیے اپنی صلح کلیت بگھارتے ہیں، یہ سب بہ حکم شریعت مطہرہ کفار مرتدین ہیں۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص453)
(5)…’’ان بے ایمان صلح کلیوں کا ملعون فریب ہے۔‘‘(تجانب اہل سنت ص281، 288) اور ان صلح کلیوں کو کفر و ارتدادی لائن میں (نمبر) 14؍ پر رکھا ہے۔
(تجانب اہل سنت ص453)
دوسری وجہ تکفیر:
(6)… علامہ شبلی نعمانی کو فرقہ’’صلح کلیہ‘‘ کے ممتاز لیڈر ماننے کے ساتھ نیچریوں کا بھی لیڈر کہہ کر ان پر کفر و ارتداد کی دوہری مہریں لگا دی ہیں۔
’’شبلی اعظم گڑھی کی نیچریت و دہریت اس کی کتابوں سیرۃ النبی والفاروق اور سیرۃ النعمان میں اپنی زندیقی کرشموں کی بہار و الحادی جو بنوں کی بہار دکھا رہی ہے۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص289)
(7)… علامہ شبلی نعمانی کی ایک مثنوی’’صبح امید‘‘ پر غلط تنقید کرتے ہوئے آپ پر مندرجہ ذیل بے بنیاد الزامات کی وجہ سے کفر و ارتداد کی بوچھاڑ کی ہے۔ لکھتے ہیں کہ:
’’شبلی اعظم گڑھی نے ایک مثنوی صبح امید لکھی ہے، جو نیچریوں کے دار المصنفین نے شائع کی۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص289)
اس کے بعض اشعار پر تنقید کر کے کفر و ارتداد کے الزام لگائے ہیں۔لکھتے ہیں:
’’پھر آگے چل کر مرتد اکفر پیر نیچر (سر سید) کی منقبت میں قصیدہ خوانی کی ہے، حتی کہ اسے راہ ہدایت کا خضر ہی بنا ڈالا۔ پھر نواب محسن الملک و نواب وقار الملک و اشرف علی کی تحریری و تقریری تبلیغ نیچریت کی تعریف و توصیف کر کے صاف کہہ دیا۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص293)
(8)… پھر آگے چل کر پیر نیچر (سر سید) کے قائم کردہ کالج (مسلم یونی ورسٹی) علی گڑھ کی ثنا خوانی میں چند اشعار ہیں، یہاں تک کہ اس کو قوم اسلام کا پشت و پناہ اور اپنی آرزؤں کا کعبہ بھی کہہ ڈالا۔ پھر سر سید کے عقاید کفریہ قطعیہ یقینیہ بر حضرات علمائے اہل سنت دامت برکاتہم نے جو فتاویٰ شرعیہ کو باطل اور پیر نیچر کے عقاید کفریہ ملعون کو حق بھی کہہ دیا۔ پھر کالج نیچریت کے قایم ہونے کو قوم کے دن پھر نا کہا۔ آخر میں اس مرکز نیچریت منبع دہریت کے قیام و بقا کی دعا کر کے پھر بک دیا۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص394)
(9)… اس قسم کے لغو و غلط وجوہ کفر و ارتداد کے اظہار کے بعد علامہ نعمانی کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیا ہے۔ لکھتے ہیں کہ
’’شبلی اعظم گڑھی کے ان اشعار کا کفر یقینی و ارتداد قطعی ہونا مہر نیم روز و ماہ نیم سے بھی بڑھ کر واضح و روشن ہے۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص295)
(10)…’’کیا کسی سنی مسلمان کو اپنے دین و مذہب کی رو سے ان کلمات ملعونہ کے قایل (علامہ شبلی نعمانی) کے قطعی یقینی کافر و مرتد ہونے میں کچھ شک و شبہ رہ سکتا ہے؟‘‘
(تجانب اہل سنت ص296)
مولانا آزاد سبحانی پر کفر کا فتویٰ:
مولانا آزاد سبحانی رحمہ اللہ (م1376ھ/ 1957ء) نے لاہور میں طلبہ کے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
’’کیا وہ راستہ جو ملت اسلامیہ کے اجماع کا راستہ ہے اور جس پر تمام علمائے ہند اور حضرت مولانا محمود حسن رحمہ اللہ جیسے شیخ الاسلام اور صدق و امانت کے حامل آپ کے رہنما ہیں کسی حالت میں گم راہی کا راستہ ہو سکتا ہے؟‘‘
اس پر جماعت مبارکہ رضائے مصطفی بریلی کی طرف سے درج ذیل فتویٰ شایع کیا گیا:
’’لا حول ولا قوۃ الا باﷲ‘‘
یہ محمود الحسن وہی جناب ہیں جن کی مذہبی خباثت نمبر54 میں گزر چکی ہے۔ کیا اسلام ایسے مرتد کو شیخ الاسلام یا صدق و امانت کا حامل یا رہنما یا حضرت مولانا کے لفظ سے تعبیر کرنے کی اجازت کر سکتا ہے؟ کیا جو مرتد کی ایسی تعریف کرے خود کافر مرتد خارج از اسلام نہ ہو گیا؟ مسلمانو! تمہیں انصاف سے کہنا خدا لگتی‘‘۔
(تحقیقات قادریہ ص42، شایع کردہ جماعت رضائے مصطفی بریلی)
مولانا عبدالماجد بدایونی کی تکفیر:
مولانا عبد الماجد بدایونی (م1340ھ/ 1921ء) پر بھی بریلوی حضرات نے کفر کا فتویٰ لگایا تھا۔ ملاحظہ ہو اراکین جماعت مبارکہ رضائے مصطفی کی طرف سے شایع کردہ مضمون بہ عنوان’’رودادِ مناظر جناب مولانا مولوی سید سلیمان اشرف صاحب و مولوی ابو الکلام آزاد‘‘ جو ماہ نامہ’’الرضا‘‘ کے شمارہ رجب 1339ھ/1920ء میں شایع ہوا تھا۔ اس مناظرے کے بارے میں بریلویوں کے صدر الافاضل نعیم الدین مراد آبادی (م1367ھ/ 1948ء) نے احمد رضا خان صاحب کو ایک خط تحریر کیا تھا، جو’’الرضا‘‘ کے شمارہ مذکورہ میں طبع ہوا تھا، مذکورہ خط میں بریلویوں کے صدر الافاضل نعیم الدین مراد آبادی نے فتویٰ مذکورہ کی تائید کرتے ہوئے مولانا عبدالماجد بدایونی رحمہ اللہ کے علاوہ مولانا عبدالباری فرنگی محلی رحمہ اللہ وغیرہ کو بھی کافر قرار دیا ہے۔
ایک جلسے میں مولانا عبدالماجد بدایونی نے حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمہ اللہ کو صدر جلسہ منتخب کرنے کی پرزور تحریک فرمائی اور دیگر علما کی تائید سے حضرت موصوف صدر جلسہ منتخب ہو گئے۔ اس پر جماعت مبارکہ رضائے مصطفی بریلی کی طرف سے مولانا عبدالماجد بدایونی رحمہ اللہ کے اس فعل کو کفر قرار دیا گیا:
’’مرتد کی اس درجہ تعظیم کہ وہ ساری پارٹی کے اوپر ہو اور ساری پارٹی اس کے نیچے ہو، کس درجہ موجب لعنت الٰہی ہو گی؟ افسوس کہ ایسے ہی جلسے میں علمائے اہل سنت کو شرکت کی دعوت دی تھی۔ مسلمانو! تمہیں انصاف سے کہنا خدا لگتی عالم تو عالم کیا ناخواندہ سنی مسلمان بھی (جس کے دل میں اسلام کا درد اﷲ اور رسول سے محبت، دشمنانِ خدا اور رسول سے بہ حکم خدا اور رسول عداوت ہو) ایسے جلسے میں شرکت روا رکھے گا؟ اس پر یہ شور مچایا جاتا ہے کہ اس جلسے میں پانچ سو علما شریک تھے، کیا یہ سب بے دین تھے؟…‘‘ الخ
(تحقیقات قادریہ ص40، شایع کردہ جماعت رضائے مصطفی بریلی)
مولانا عبدالقدیر بدایونی کی تکفیر:
جماعت رضائے مصطفی بریلی کی شایع کردہ کتاب’’تحقیقات قادریہ ملقب بہ پاسبان مذہب و ملت‘‘ کے ابتدائی 16 صفحات میں ان تمام بدایونی بزرگوں کو خوب لتاڑا گیا ہے جو تحریک خلافت میں حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں۔ چنانچہ ان حضرات کی تکفیر کر کے ان کا تعلق اپنے سے کاٹتے ہوئے لکھا گیا کہ
’’جس نے وہابیہ، دیوبندیہ، نیچریہ وغیرہم بدمذہبوں سے علاقہ رکھا اس کا علاقہ ہمارے اکابر کرام سے ٹوٹ گیا۔ وہ قادری برکاتی دائرے سے خارج ہو گیا، بلکہ مدح و ستایش کفار پر یہ فرما دیا گیا کہ کفار کی تعریف کرنے والا انہیں کفار کے شمار میں ہے، انہیں کی رسی میں ہے، انہیں کفار کے ساتھ حشر ہو گا۔‘‘
(تحقیقات قادریہ ص9)
ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے:
’یَوْمَ نَدْعُوْ کُلَّ اُنَاسٍ بِاِمَامِہِمْ‘‘
ارشاد باری ہے: اس (قیامت) دن ہم پکاریں گے ہر گروہ کو اس کے امام کے نام سے۔ اس وقت معلوم ہو گا کہ کون بو الحسینی آل رسولی برکاتی قادری محمدی کہہ کر پکارا جاتا ہے کہ کون گاندھوی تلکی شیخ الہندوی کہہ کرپکارا جاتا ہے؟‘‘
ایک اور جگہ لکھا گیا ہے:
’’جس وقت مرتد کو شیخ الہند و صدر جلسہ بنایا ہو گا مشرکین و مرتدین وہابیہ، دیوبندیہ، نیچریہ غیر مقلدین کو مسند وعظ پر بٹھایا ہو گا، جس وقت ان کو ایڈریس دیے ہوں گے، جس وقت ان کی مدح و ثنا کے خطبے پڑھے ہوں گے… سچ کہہ دینا ورنہ دل ہی میں شرما کر توبہ کا اعلان دے دینا کہ اس وقت مسلمانوں کے آقا قاتل المشرکین والکفار محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسا صدمہ عظیم ہوا ہو گا… مار ہرہ مطہرہ کے مشایخ کرام کی ارواح طیبات پر کیا گزری ہو گی؟ سیدی تاج الفحول بدایونی اور مولوی عبدالقیوم صاحب بدایونی کی ارواح کیسی بے چین و بے قرار ہوئی ہوں گی؟ قبریں لرز گئی ہوں گی۔
زمین چمن گل کھلاتی ہے کیا کیا
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے
کیا شان الٰہی ہے۔ کل جن حضرات کے گھر سے بد مذہبوں کا چمکتا رد ہو رہا تھا۔ مشرکین و کفار پر لعنت برسائی جاتی تھی، تکفیر کفار کی مشین سرگرم تکفیر تھی، آج اس گھر میں بالعکس اس کے مشرکین و کفار و مرتدین و بدمذہباں سے اتحاد، اتفاق، دوستی محبت، مودت و مالات قایم اور ان کے نیچے کام کیا جا رہا ہے۔‘‘
ببین تفاوت راہ از کجا ست تا بکجا
(ص 9،10)
ایک اور مقام پر یوں گوہر افشانی کی جاتی ہے:
’’کدھر ہیں پارٹی والے قادری برکاتی نوری ہونے کے مدعی؟ خصوصاً جلسہ جمعیت علمائے مجموعہ وہابیہ دیوبندیہ غیر مقلدین نیچریہ مشرکین وغیرہ دہلی میں شریک ہو کر اتحادی تقریریں کرنے والے مرتد (حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن) کو اپنا صدر بنانے والے مشرک کو ہادی و مذکر مبعوث من اﷲ کہنے والے اور علمائے اہل سنت ایدہم اﷲ یعنی رضا خانیوں کو مخالف اسلام، نصاریٰ کا تنخواہ دار اور دشمن اسلام بتانے والے؟ ذرا گریبان میں منہ ڈال کر شرمائیں اور خود ہی انصاف کر لیں کہ حضرت میاں صاحب قبلہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے فرمان والا شان کے مطابق شاہ ابو البرکات و جملہ مشایخ کرام سلسلہ مارہرہ سے علاقہ رہایا قطع ہو گیا ببین کہ از کہ بریدی دبا کہ پیوستی
ولیوں سے جدا ہوا ستم گر
ایمان نکل گیا ستم گر
(شعر4 تحقیقات قادریہ ص8)
مولانا عبدالماجد بدایونی رحمہ اللہ اور مولانا عبدالقدیر بدایونی رحمہ اللہ وغیرہ پر مزید غصہ نکالتے ہوئے لکھا جاتا ہے:’’مسلمانو! دیکھا کہ جناب مولوی عبدالماجد صاحب بدایونی کے پردادا اور مولوی عبدالقدیر صاحب کے والد ماجد حضرت تاج الفحول بدایونی علیہ الرحمۃ نے وعظ میں کیا نصیحت کی کہ کفار مرتدین وہابیہ، نیچریہ روافض وغیرہم جیسے لوگوں کے ساتھ شدت بغض و عناد و عداوت کہ فعل صحابہ کرام فرمایا۔‘‘
(ص11)
اسی بنا پر حضرت مولانا محمد منظور نعمانی رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا تھا:
’’(احمد رضا) خان صاحب کی روح اور ان کی موجودہ ذریت مجھے معاف فرمائے کہ جس دن سے افتا ء کا قلم دان خان صاحب کے بے باک ہاتھوں میں گیا ہے اس روز سے تو کفر اتنا سستا ہو گیا کہ اﷲ کی پناہ! ندوۃ العلماء والے کافر، جو انہیں کافر نہ کہے وہ کافر، علمائے دیوبند کافر، جو انہیں کافر نہ کہے وہ کافر، غیر مقلدین اہل حدیث کافر، مولانا عبدالباری صاحب فرنگی محلی کافر اور تو اور تحریک خلافت میں شرکت کے جرم میں اپنے برادران طریقت مولوی عبدالماجد صاحب بدایونی کافر، مولوی عبدالقدیر صاحب بدایونی کافر، کفر کی وہ بے پناہ مشین گن چلی کہ الٰہی توبہ! بریلی کے ڈھائی نفر انسانوں کے سوا کوئی بھی مسلمان نہ رہا۔‘‘
(فیصلہ کن مناظرہ ص75)
مولانا نعمانی رحمہ اللہ نے ڈھائی نفر مسلمانوں کا جو استثنا فرمایا ہے وہ بھی صرف ظاہری اعتبار سے ہے، ورنہ احمد رضا خان صاحب نے کفر کی ایسی زبردست مشین گن چلائی کہ اس کی زد سے خود بھی نہ بچ سکے۔ ملاحظہ ہو: احدی التسعۃ والتسعین اور شکوہ الحاد جو مجموعہ رسائل چاند پوری جلد اول میں شامل ہیں۔
بہرحال اپنے بدایونی پیر بھائیوں کی تکفیر پر آج بھی بریلوی حضرات اظہار ندامت کے بجائے خوش ہیں، بلکہ اس کو احمد رضا خان صاحب کی حقانیت اور کمال ایمان کی علامت قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
’’شریعت غرا کے مقابلے میں ان کا کوئی اپنا نہ تھا نہ کوئی پرایا، نہ یگانہ تھا نہ بیگانہ، نہ رشتہ تھا نہ کنبہ، نہ ہم خیال نہ مخالف، نہ پیر بھائی تھا نہ کوئی استاد بھائی … اس ہنر و خوبی کے اعتراف کے بجائے دشمن دین و ایمان اس کو اعلیٰ حضرت کے لیے معایب و مطاعن کے طور پر استعمال کرتے ہیں کہ یہ سب کو العیاذ باﷲ کافر کہتے ہیں۔ نہ پیر بھائیوں کو چھوڑا نہ ہم خیال علما ءکو بخشا … حالانکہ یہی ان کا ایمان کمال گواہی دے رہا ہے کہ آں جناب کو کسی سے ذاتی پرخاش نہ تھی … اگر ایسا نہ ہوتا تو البتہ دیوبندی حضرات کہتے کہ دیکھیے! میرا اور فلاں کا جرم ایک ہے لیکن ہماری تکفیر کی، فلاں صاحب ان کے ہم عقیدہ و ہم خیال تھے اس لیے ان کی تکفیر نہیں کی، یہ دو رنگی محض اغراض دنیاوی کی بنا ہے۔‘‘
(انوار رضا ص424)
مولانا معین الدین اجمیری کی تکفیر:
سلسلہ خیر آبادی کے خاتم حضرت مولانا معین الدین اجمیری رحمہ اللہ اکابر علمائے دیوبند کو سچا پکا مسلمان سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ’’فیصلہ خصومات‘‘ میں علمائے دیوبند کے سچے پکے حنفی اہل سنت و جماعت ہونے پر جن چھ سو سے زائد اکابر علما کے دستخط موجود ہیں۔ ان میں نمبر137 پر مولانا موصوف کے دستخط موجود ہیں۔ نیز مولانا موصوف نے احمد رضا خان صاحب کے خلاف ایک رسالہ’’القول الاظہر فیما یتعلق بمسئلۃ الاذان عند المنبر‘‘ تالیف فرمایا تھا بعد ازاں احمد رضا خان صاحب کے فرزند ارجمند جناب حامد رضا خان نے مولانا معین الدین اجمیری رحمہ اللہ کے خلاف ایک رسالہ تحریر کیا، اس میں لکھا:
‘’القول الاظہر سے ظاہر و مترشح ہے کہ اس کے مصنف کے نزدیک حد درجے کے مفسدین فی الدین گنگوہی و تھانوی و نانوتوی و دیوبندی مرتدین مسلمان ہیں۔‘‘
(اجلی انوار رضا ص13)
اور جو شخص حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی و حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کو مسلمان سمجھے اس کے بارے میں احمد رضا خان صاحب کا فتویٰ یہ ہے کہ’’جو شخص ان کو مسلمان سمجھے یا ان کے کفر میں شک رکھے یا ان کے کفر میں توقف کرے وہ بھی کافر ہے۔‘‘
(حسام الحرمین ص6 ملخصاً)
مسٹر محمد علی جناح کی تکفیر:
مولوی محمد طیب دانا پوری لکھتے ہیں:
(1)…’’اور مسٹر جینا ان کا قائد اعظم ہے، اگر صرف انہیں دو کفروں پر اکتفا کرتا تو قائد اعظم کی خصوصیت ہی کیا رہتی؟ لہٰذا وہ اپنی اسپیچوں اپنے لیکچروں میں نئے نئے کفریات قطعیہ بکتا رہتا ہے۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص119)
(2)…’’بہ حکم شریعت مسٹر جینا اپنے ان عقاید کفریہ قطعیہ خبیثہ کی بنا پر قطعاً مرتد اور خارج از اسلام ہے۔ جو شخص اس کے کفروں پر مطلع ہونے کے بعد اس کو مسلمان جانے یا اس کے کافر و مرتد ہونے میں شک رکھے یا اس کو کافر کہنے میں توقف کرے وہ بھی کافر و مرتد اور شر اللئام اور بے توبہ مرا تو مستحق لعنت عزیز علام۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص122)
مولوی حشمت علی لکھتے ہیں:
(3)…’’مسٹر جینا جیسے کھلے ہوئے مرتد کو ہند و مسلم اتحاد کا پیغام بر ملکہ سیاسی پیغمبر کہہ دیتا ہے۔‘‘
(مظاہر الحق الاجلی ص33)
(4)… اس کے علاوہ کتاب قہر القادر علی الکفار اللیاڈر مصنف مولوی محمد طیب دانا پوری کے صفحہ4، 12، 18 میں بھی مسٹر جناح کی تکفیر کی گئی ہے۔
ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی تکفیر:
مصور پاکستان علامہ اقبال مرحوم (1357ھ/1938ء) پر بریلویوں کے فتویٰ کفر کے سلسلے میں عبدالمجید سالک (م1379ھ/1959ء) رقم طراز ہیں:
’’سلطان ابن سعود کی تطہیر حجاز کے غلغلے نے ہندوستان میں مسلمانوں کو دو مذہبی کیمپوں میں تقسیم کر رکھا تھا … علامہ اقبال سلطان ابن مسعود کی حمایت میں بیان دے چکے تھے اور بدعتی علما ان کے خلاف خار کھائے بیٹھے تھے۔ اتنے میں ایک خوش طبع مسلمان کو دل لگی سوجھی، اس نے ایک استفتا مرتب کر کے مولانا ابو محمد سید دیدار علی شاہ خطیب مسجد وزیر خاں لاہور کو بھیج دیا۔ یہ صاحب اپنے شوقِ تکفیر کے لیے بے حد مشہور تھے۔ چناںچہ متعدد اکابر مسلمین کو کافر بنا چکے تھے۔ اس خوش طبع مسلمان نے اپنا نام’’پیرزادہ محمد صدیق سہارن پوری‘‘ تجویز کیا۔‘‘
(ذکر اقبال ص127)
چنانچہ احمد رضا خان صاحب کے خلیفہ اور بریلویوں کے’’امام المحدثین‘‘ مولوی دیدار علی صاحب بانی مرکزی انجمن حزب الاحناف لاہور نے علامہ اقبال مرحوم کو کافر قرار دے دیا اور ساتھ ہی ان کے بائیکاٹ کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:’’جب تک ان کفریات سے قایل اشعارِ مذکورہ توبہ نہ کرے اس سے ملنا جلنا تمام مسلمان ترک کر دیں ورنہ سخت گناہ گار ہوں گے۔‘‘
(ذکر اقبال ص129، سرگزشت اقبال ص191)
ڈاکٹر عبدالسلام خورشید اس پر تبصرہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
’’یہ ایک بہت بڑی دھاندلی تھی، چنانچہ چاروں طرف شور مچ گیا، مولوی دیدار علی صاحب پر لعن طعن و ملامت ہوئی، مولانا سید سلیمان ندوی (خلیفہ مجاز حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی) نے اس فتوے کو جاہلانہ فتویٰ قرار دیا۔‘‘
چونکہ اقبال مرحوم پر کفر کا فتویٰ لگانے والے بریلوی عالم ریاست الور کے رہنے والے تھے، اس لیے علامہ نے الور کے عنوان سے مفتی مذکور کے خلاف درج ذیل چار اشعار سپرد قلم فرمائے اور اسے انسانیت سے عاری اور اس کی اس حرکت کو گدھا پن قرار دیا۔
گر فلک در الور انداز وترا
اے کہ می دارمی تمیز خوب
وزشت
گویمت در مصرعہ برجستہ
آں کہ برقرطاسِ دل باید
نوشت
آدمیت در زمین او مجو!
آسمان این دانہ در الور نہ
کشت
کشت اگر زآب و ہو خرستۂ
است
زاں کہ خاکش را خرے آمد سرشت
(ڈاکٹر جاوید اقبال، روز گار فقیر ج2 ص232)
مولانا ظفر علی خان پر فتویٰ کفر:
مولانا ظفر علی خان رحمہ اللہ (م1376ھ/1956ء) کی جانب جب بریلوی علمائے کرام کی عنایات متوجہ ہوئیں تو موصوف کو بھی فتویٰ تکفیر کا نشانہ بننا پڑا۔ چنانچہ احمد رضا خان صاحب کے صاحب زادے اور بریلویوں کے مفتی اعظم ہند محمد حامد رضا خان صاحب نے مولانا ظفر علی خان پر کفر کا فتویٰ لگایا۔ جسے بعد میں بریلویوں کے سابق مفتی اعظم پاکستان اور شیخ الحدیث دار العلوم حزب الاحناف لاہور سید ابو البرکات احمد بن سید دیدار علی شاہ الوری، والد محترم سید محمود رضوی صاحب نے پچیس سے زاید دیگر بریلوی علما سے دستخط کرانے کے بعد کتابی صورت میں شایع کیا اور اس کا نام رکھا’’سیف الجبار علی کفر زمیندار‘‘ مسمیٰ بہ نام تاریخی’’القسورۃ علی ادوار الحمر الکفرۃ‘‘ ملقب بہ لقب تاریخی’’ظفر علی رمۃ من کفر‘‘ اس فتوے پر دستخط کرنے والوں میں بریلویوں کے صدر الشریعہ مولوی محمد امجد علی صاحب مصنف’’بہار شریعت‘‘ اور ان کے صدر الافاضل نعیم الدین مراد آبادی اور شاہ احمد نورانی کے تایا جان مولوی مختار احمد صدیقی میرٹھی بھی شامل ہیں۔ اسی فتوے پر مولانا ظفر علی خان مرحوم نے فرمایا تھا۔
کوئی ترکی لے گیا اور کوئی ایران لے گیا
کوئی دامن لے گیا کوئی گریبان لے گیا
رہ گیا تھا نام باقی اک فقط اسلام کا
وہ بھی ہم سےچھین کر احمد رضا خان لے گیا
مولانا ظفر علی خان رحمہ اللہ کی جب تکفیر کی گئی تو مولانا محمد علی جوہر رحمہ اللہ نے اپنے اخبار’’ہم درد‘‘ میں اس کے بارے میں ایک مضمون شایع فرمایا تھا۔ وہ ہم یہاں پر نقل کرتے ہیں، ملاحظہ فرمائیں۔
شغل تکفیر:
بیسویں صدی ایجادات کے لیے مشہور ہے۔ دنیا کی آنکھوں نے اس صدی میں بہت سی ایجادات دیکھی ہیں۔ ہندوستان جنت نشان کے بعض خاص قسم کے علما ءاگر کوئی خاص قسم کی ایجاد نہ کر سکتے تھے تو کیا ان کے لیے بھی ناممکن تھا کہ فتوائے کفر کے پرانے طریقے کو جلا دے کر اس میں الٹی سیدھی کوئی جدت پیدا کر سکتے۔ ایسے زمانے تو بہت کم ہیں کہ جب علما کا کوئی طبقہ ایسا موجود نہ ہو جو مسلمانوں کو کافر بنائے، لیکن ہمارے ہندوستان کے مولویوں کے اس طبقے نے جس کا دار الصدر بریلی شریف ہے اس سلسلے میں خاص نام پیدا کیا ہے۔شغلِ کفر ہی ان کا دلچسپ مشغلہ ہے۔
مسلمان مریں یا جئیں، ان کی حالت تباہ ہو یا برباد، ان کے لیے ایک اور صرف ایک کام ہے، یعنی اچھے خاصے مسلمانوں کو کافر بنانا، اس صنعت کفر سازی میں خوبیاں پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ چنانچہ یہ جدت بھی یقینا قابل تعریف ہے کہ تو کافر۔ تجھے کافر نہ سمجھنے والا کافر۔ تیری بیوی پر طلاق۔ تجھے کافر نہ سمجھنے والے کی بیوی پر طلاق۔ غنیمت یہ ہے کہ ابھی تک سلسلہ اس سے آگے نہیں بڑھا۔ اگر طبع رسا زیادہ جولانیاں دکھانے لگے تو خدا معلوم سوائے کافر بنانے والے مولانا کے اور کوئی مسلمان باقی رہے بھی یا نہیں؟ یہ تو کچھ مشکل ہی نہیں کہ تو کافر، تیری اولاد کافر، تیری اولاد کی اولاد کافر، تیری بیوی پر طلاق، تیری اولاد کی بیویوں پر طلاق وغیرہ وغیرہ۔ اگر لیل و نہار یہی ہیں تو اندیشہ ہے کہ کفر اور طلاق کے اعلان بالجہر کا مرض بہت بڑھ جائے گا۔ اگر آپ نام نہاد انجمن حزب الاحناف کی کاروائیوں کو پڑھیں تو آپ ہماری طرح اس اندیشے میں گرفتار ہو جائیں گے۔
واقعہ یہ ہے کہ’’سیاست‘‘ و’’زمین دار‘‘ کے مقاطعہ کی تجویز حزب الاحناف میں پیش کی گئی۔ جرم یہ تھا کہ علماء کے خلاف لکھتے ہیں۔ تجویز پر گفتگو میں بات کہاں سے کہاں تک پہنچ گئی۔ مولوی دیدار علی صاحب شعر پڑھنے لگے۔ مولوی ظفر علی خان کے اشعار کفر کی دلیل میں پیش کیے گئے۔ پھر کیا تھا جو اٹھتا تھا کافر بناتا ہوا اٹھتا تھا۔ کافر بنانے والے بڑے باپ کے بڑے بیٹے حامد رضا خان صاحب بھلا اس میں کیوں کر حصہ نہ لیتے؟ انہیں تو بڑا حصہ لینا چاہیے تھا۔ کفر کے فتوے میں کون سی دیر لگتی ہے۔ ظفر علی خان کافر، اس کی بیوی پر طلاق ہے، کافر نہ سمجھنے والا کافر، اس کی بیوی پر بھی طلاق۔ یہ تھا فتویٰ۔
پنجاب کے بڑے پیر جماعت علی شاہ صاحب نے بھی بیان کیا جاتا ہے کہ اس فتویٰ پر مہر تصدیق ثبت کی۔ اصل تجویز تو کچھ بہت پیچھے سی پڑ گئی البتہ کافر گری کا شغل بہت نمایاں ہو گیا لیکن جب کچھ دیر بعد ہوش آیا تو مقاطعہ کی تجویز پھر یاد آ گئی۔ وعدے ہوئے، دعوے ہوئے اور تجویز پاس ہو گئی۔ غرض یہ کہ یہ جلسہ ختم ہو گیا، ممکن ہے کہ بعض لوگوں کو یہ خیال ہو کہ ہم نے بڑا کام کیا۔ لیکن جو شخص سوچ سمجھ سکتا ہے وہ تو اس جلسے کا حال سن کر خون کے آنسو روئے گا۔ آج مسلمانوں کی جو کچھ حالت ہے کیا اس کا اقتضا یہ ہے کہ اس قسم کی لغویات میں وقت ضائع کیا جائے؟ اور ایسی مثالیں دنیا کے سامنے پیش کی جائیں جس سے مسلمان شرمندہ ہوں اور دشمنان اسلام خوش۔
(ہم درد بہ حوالہ روزنامہ سیاست: 4 جون 1925ء: ص7)
مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی کی تکفیر:
علی برادران بھی بریلویوں کے خنجر تکفیر سے نہ بچ سکے چنانچہ مولانا شوکت علی صاحب رحمہ اللہ کو کسی شخص نے حامیانِ اسلام میں سے کہا تو اس پر ارشاد ہوتا ہے:
’’شوکت علی صاحب کو حامیان اسلام میں گنا ہے، مگر یہ وہی ہیں جنہوں نے مشرکین کی خوش نودی خدا کی خوش نودی مانی، رام دہائی پکاری، خدا کی رسی مضبوط پکڑنے پر دین جاتا رہنا بتایا۔‘‘
(دوامغ الحمیر ص21)
نیز ان دونوں حضرات کے وجوہ کفر میں سے ایک وجہ یہ بھی لکھی ہے:
’’میرٹھ میں پنڈت سیتا رام پریذیڈنٹ جلسہ نے ایک قابلانہ تقریر کی اور شوکت علی کو پنڈت اور محمد علی کو لالہ کے خطاب سے منسوب کیا، جس پر ان دونوں نے اظہار مسرت کیا۔‘‘
(تحقیقات قادریہ ص42)
ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے:
’’جب انہوں (علی برادران) نے مشرک کو اپنا امام و رہنما مانا تو امام اوپر ہونا ہی چاہیے اور یہ سب اس کے نیچے ضرور ہوں گے۔ لہٰذا یہ تشبیہ دینی ضرور تھی کہ دماغ (گاندھی) اوپر مخدوم اور ہاتھ (علی برادران) کے نیچے اور دماغ کے خادم ہیں۔‘‘
(تحقیقات قادریہ ص25)
چوں کہ بریلوی حضرات کے نزدیک یہ دونوں حضرات کافر و مرتد تھے اس لیے ان کی وفات کے بعد بریلوی صاحبان غیر مسلموں کے مانند لفظ’ ’آں جہانی‘‘ سے ان حضرات کو یاد کرتے رہے ہیں۔ چنانچہ مسلم ایجوکیشنل کانفرنس والوں کے کفر و ارتداد پر احمد رضا خان صاحب کے فتوے’’الدلائل القاہرۃ علی الکفرۃ النیاشرۃ‘‘ کو جب 1942ء میں مسلم لیگ پر چسپاں کر کے شائع کیا گیا تو اس میں درج تھا:
’’ستمبر 1917ء کے سالانہ اجلاس میں مسلم لیگ میں مشہور گاندھی لیڈر محمد علی آں جہانی اس کے صدر ہوئے، مگر جب وہ بہ وجہ ممانعت گورنمنٹ شریک نہ ہو سکے تو کرسی صدارت پر ان کا فوٹو آویزاں کر دیا گیا۔‘‘
(الدلائل القاہرہ، طبع بمبئی 1942ء ص3)
’’الدلائل القاہرہ‘‘ یہ مسلم لیگ کے خلاف وہ فتویٰ ہے جس پر 80 رضا خانی علما کے دستخط ثبت ہیں، لیکن افسوس کہ اب لاہور کے ایک بریلوی مکتبہ نے مسلم لیگ کے خلاف مواد خارج کر کے شائع کیا ہے۔ مگر الحمد ﷲ! انجمن ارشاد المسلمین لاہور نے رسالہ مذکورہ کا 1942ء والا ایڈیشن عکسی صورت میں شائع کر دیا ہے۔ مولانا شوکت علی رحمہ اللہ کے بارے میں بریلویوں کے شیر بیشہ سنت مولوی حشمت علی صاحب ارشاد فرماتے ہیں:
’’لیگیوں کے ایک بڑے بھاری بھر کم لیڈر آں جہانی بابائے خلافت الخ‘‘
(احکام نوریہ شرعیہ بر مسلم لیگ ص25)
بریلوی حضرات کے فتوے کی رو سے اب جو لوگ ان بزرگوں کو کافر قرار نہیں دیں گے وہ خود کافر ہو جائیں گے (مولانا عبدالباری فرنگی محلی اور علی برادران کے بارے میں توبہ کا جو ڈھونگ آج کل کے بریلویوں نے رچایا ہے، اس کے مکمل اور صحیح پوسٹ مارٹم کے لیے’ ’مجموعہ رسائل چاند پوری، جلد اول کے ص46 تا 51 کا حاشیہ ملاحظہ فرما لیں)۔
مولانا الطاف حسین حالی کی تکفیر:
طیب دانا پوری لکھتے ہیں:
(1)…’’الطاف حسین حالی نے ایک مسدس لکھا، جس کا نام مد و جزر اسلام رکھا۔ نیچری لیڈروں و صلح کلی واعظوں نے اس کی اشاعت میں ایڑی چوٹی کے زور لگائے۔ اس نے اپنے مسدس کے 3 و 4 پر اپنے نیچری شاعر بن جانے کا سبب ان لفظوں میں لکھا ہے۔
(تجانب اہل سنت ص297)
(2)…’’شبلی و حالی دونوں کے اقوال سے اتنا ضرور ثابت ہو گیا کہ ان دونوں کو گمراہ و بے دین بنانے والی، ان دونوں کے دین و ایمان کو مٹانے والی وہی سر سید احمد خان کولی علی گڑھی کی کافرانہ و ساحرانہ نگاہ تھی۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص298)
(3)…’’یہ کفریات معلونہ تو وہی ہیں جو امام الوہابیہ اسماعیل دہلوی نے اپنی ناپاک کتاب تقویۃ الایمان میں بکے۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص298)
(4)…’’حالی نے امام الوہابیہ کی شاگردی میں ان سب کفروں کا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر افترا کر دیا۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص299)
(5)…’’تو اس بے دین قائل (حالی کو) کافر مرتد ماننا پڑے گا۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص302)
(6)…’’اس کفر ملعون میں حالی و مشرقی دونوں متحد و مشترک ہیں۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص324)
(7)…’’مسٹر حالی کے اس مسدس میں بیسویں کفریات کے انبار ہیں اور ہزاروں ضلالات کے طومار۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص334)
(8)…’’بہرحال حالی و شبلی کا محض خدمت خلق و احسان الی الخلق کے حیلہ مکذوبہ و بہانہ کاذبہ کی بنا پر تمام مسلمانوں کو قطعاً کافر و بے دین بنانا… قطعی کفر و ارتداد ہے اور یقینی زندقہ و الحاد۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص322)
اس کے علاوہ اسی کتاب کے صفحہ 302، 304، 316، 317، 360 میں آپ پر’’صلح کلیت‘’نیچریت‘‘ تکذیب آیات الٰہیہ‘’توہین رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اور’’تحریف مسائل ضروریہ‘‘ کا الزام لگا کر کافر و مرتد کہا گیا ہے۔
علامہ اقبال کی تکفیر:
مولانا محمد طیب دانا پوری لکھتے ہیں:
(1)…’’اور زمانہ حال کے مشہور شاعر ڈاکٹر اقبال بہت نمایاں ہستی رکھتے ہیں۔ ان کی’’صلح کلیت‘‘ اپنی حد سے گزر کر شدید نیچریت و دہریت تک پہنچی ہوئی ہے۔ انہوں نے اپنے مضامین میں نظم و نثر کے ذریعے سے نیچریت کا زبردست پرچار کیا ہے۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص289)
(2)…’’اسی طرح فلسفی ڈاکٹر اقبال صاحب نے اپنی فارسی و اردو نظموں میں دہریت اور الحاد کا زبردست پروپیگنڈہ کیا ہے۔ کہیں اﷲ عز و جل پر اعتراضات کی بھر مار ہے، کہیں علمائے شریعت و ائمہ طریقت پر حملوں کی بوچھاڑ ہے، کہیں سیدنا جبرئیل امین و سیدنا موسیٰ کلیم و سیدنا عیسیٰ مسیح علیہم السلام کی تنقیصوں توہینوں کا انبار ہے، کہیں شریعت محمدیہ علٰی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیۃ واحکام مذہبیہ وعقاید اسلامیہ پر تمسخر و استہزاو انکار ہے، کہیں اپنی زندیقیت و بے دینی کا فخر و مباہات کے ساتھ کھلا ہوا قرار ہے۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص334، 335)
اس کے علاوہ اسی کتاب کے صفحہ 336، 337، 341، 343 میں ڈاکٹر اقبال مرحوم پر ان کے اشعار کے تنقیدی سلسلے میں مختلف قسم کے تکفیری و ارتدادی الزامات لگا کر بڑی ہوشیاری سے مندرجہ ذیل عبارت میں آپ کو بھی اسلام سے خارج کر دیا ہے۔
(3)…’’مسلمانان اہل سنت خود ہی انصاف کر لیں کہ ڈاکٹر صاحب کے مذہب کو سچے دین اسلام کے ساتھ کیا تعلق ہے؟‘‘
(تجانب اہل سنت ص341)
مزید لکھتے ہیں:
’’سائنس کے یہی وہ ہمیات کاذبہ اور خرافات باطلہ ہیں جن کا پتا ڈاکٹر اقبال جیسا ترجمان حقیقت جب حضرات علمائے اہل سنت کی درس گاہوں میں نہیں پاتا ہے تو وہ بھی آٹھ آٹھ آنسو رو رو کر بال جبریل کے صفحہ17 پر یہ مرثیہ گاتا ہے… بالجملہ جو شخص سائنس کے وسوسات کاذبہ وہوسات عاطلہ پر آنکھ بند کر کے ایمان لے آئے اور ان پر بھروسا کر کے ارشادات الٰہیہ کو جھٹلائے وہ بہ حکم شریعت مطہرہ یقینا بے ایمان و بے دین ہے۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص334)
سرسید احمد خان کی تکفیر:
(1)… مولانا احمد رضا صاحب ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:’’عرض: بعض علی گڑھ ہی کو سید صاحب کہتے ہیں۔ ارشاد: وہ تو ایک خبیث مرتد تھا۔‘‘
(ملفوظات اعلیٰ حضرت، مطبوعہ لکھنؤٔ ج3 ص71)
مولانا محمد طیب دانا پوری لکھتے ہیں:
(2)…’’نیچریت بھی مادر وہابیت کی دختر نوزایدہ ہے اور اس کے عقاید اس سے بھی اخبث و انجس ہیں۔ اس کا بانی پیر نیچر سر سید احمد خاں کولی علی گڑھی ہے۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص20)
(3)…’’بہرحال جو شخص پیر نیچر (سر سید) کے کفریات قطعیہ یقینہ میں سے کسی ایک ہی کفر پر مطلع ہونے کے بعد اس کے کافر مرتد ہونے میں شک رکھے یا اس کو کافر و مرتد کہنے میں توقف کرے وہ بھی بہ حکم شریعت مطہرہ قطعاً یقینا کافر و مرتد اور بے توبہ مرا تو مستحق عذاب ابدی ہے۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص86)
اس کے علاوہ اسی کے کتاب کے صفحہ22، 23 میں آپ کی تکفیر کی گئی ہے۔ اور صفحہ35، 49، 85، 218، 225 میں سر سید کو’’مرتد اکفر پیر نیچر‘‘ کے خطاب سے یاد کیا گیا ہے۔
سر سید کے نو رتن کی تکفیر:
مولانا محمد طیب دانا پوری لکھتے ہیں:’’جس طرح بے دین بادشاہ اکبر نے اپنے نورتن بنائے تھے جو اس کے وزیران حکومت اور مشیران سلطنت تھے اسی طرح پیر نیچر نے بھی اپنے نو رتن بنا رکھے تھے، جو پیر نیچر کے وزیران نیچریت اور مشیران دہریت اور مبلغین زندیقیت تھے، جن کے نام یہ ہیں:
(1)نواب المحسن الملک مہدی علی خاں، (2)نواب اعظم یار جنگ مولوی چراغ علی خاں، (3)نواب انتصار جنگ مولوی مشتاق حسین، (4)مولوی الطاف حسین حالی، (5)شمس العلماء مولوی ذکاء اﷲ، (6)مولوی مہدی حسن، (7)سید محمود خاں، (8)شبلی نعمانی اعظم گڑھی، (9)ڈپٹی نذیر احمد خاں دہلوی۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص86، 87)