ہندوستان کی تمام مسلم جماعتوں اوراسلامی انجمنوں کی پر زور تکفیر

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
ہندوستان کی تمام مسلم جماعتوں
اوراسلامی انجمنوں کی پر زور تکفیر
مولوی محمد طیب دانا پوری لکھتے ہیں:
’’اسی پیر نیچر (سر سید) کے اذناب و متبعین و مقلدین و مرتدین نیاچرہ ہیں، جو مسلمانوں کے دین و ایمان اور ان کے دنیوی سر و سامان پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے ہمیشہ نئی نئی کمیٹیاں نئی نئی پارٹیاں گھڑتے رہتے ہیں اور کبھی بندگان زر اور بدنام کنندہ نکو نامے چند نام کے مولویوں کو اپنے کفری مقاصد کی ترویج و اشاعت کے لیے اپنا آلہ کار بنا لیتے ہیں۔
مسلم ایجوکیشنل کانفرنس و ندوۃ العلماء و خدام کعبہ و خلافت کمیٹی و جمعیت علمائے ہند و خدام الحرمین و اتحاد ملت و مجلس احرار و مسلم لیگ و اتحاد کانفرنس و مسلم آزاد کانفرنس و نوجوان کانفرنس و نمازی فوج و جمعیۃ تبلیغ الاسلام انبالہ و سیرت کمیٹی پٹی ضلع لاہور و امارت شرعیہ بہار شریف و آل پارٹیز کانفرنس وغیرہ کمیٹیاں اسی مقصد کے لیے انہیں کفرہ نیا چرہ نے اپنی نیچریت و دہریت پھیلانے اور بھولے بالے مسلمانوں کو دین سے آزاد اور دنیوی سر و سامان سے بھی تہی دست بنانے کے لیے وقتاً فوقتاً خود اپنے ہاتھوں سے یا دوسرے بد دینوں و بد مذہبوں کو اپنا شریک کار بنا کر یا بعض جاہلوں، سادہ لوح بے وقوفوں یا چند دین فروش و نیاچرہ و نیا خر ملانوں کو اپنے دام فریب میں پھانس کر انہیں اپنا آلہ کار بنا کر گڑھی ہیں۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص 90)
مولوی محمد طیب دانا پوری لکھتے ہیں:
’’اور نیچری مرتدوں کو اپنی ہنگامہ آرائیوں کے لیے ایسے بھولے بھالے سنی مسلمانوں، دین پاک کے نام پر جی جان سے قربان ہونے والوں کی ضرورت تھی تو ان بے ایمانوں نے ان عوام مسلمین کے پھانسنے کے لیے اصلاح قوم کے نام سے قوی عصبیت کو آڑ بنا کر بننے والوں کی مومن کانفرنس، جمعیۃ المومنین، جمعیۃ الانصار، روئی دھنکنے والوں کی جمعیۃ المنصور، کپڑا سینے والوں کی جمعیۃ الادریسیہ، قصابوں کی جمعیۃ القریش، سبزی فروشوں کی جمعیۃ الراعین، پٹھانوں کی افغان کانفرنس، میمنوں کی میمن کانفرنس، مسلم کھتریوں کی مسلم کانفرنس، عباسیوں کی جمعیۃ آل عباس، کنبوہوں کی آل انڈیا کنبوہ کانفرنس، پنجابیوں کی آل انڈیا پنجابی کانفرنس وغیرہ کمیٹیاں خود گڑھیں یا اپنے دام افتادوں سے گڑھوائیں، تاکہ غریب دین دار مسلمانوں کی قومی جکڑ بندیوں میں جکڑ کر قومی ترقی، قومی اصلاح و فلاح کا سبز باغ دکھا کر ان کو گم راہ کیا جا سکے اور ایسی کمیٹیوں کی بنا محض قومیت پر رکھی۔ دین و مذہب کو نظر انداز کر دیا گیا او رایسے عمل درآمد رکھے گئے کہ اپنی قوم کا ہر فرد اگرچہ وہ دیوبندی ہو، نیچری ہو یا خارجی رافضی ہو یا لیگی خاک ساری ہو یا احراری قادیانی ہو یا گاندھوی کانگریسی ہو وہ اپنا قومی بھائی، اپنے خاندان والا اپنا رشتہ دار ہے۔ اگرچہ وہ کافر مرتد ہو لیکن قومیت کی بنا پر وہ صلہ رحم کے تمام احکام کا حق دار ہے۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص91)
مولوی محمد طیب دانا پوری لکھتے ہیں:
’’جواب سوال پانزدہم! وہابیہ، دیوبندیہ وقادیانیہ وروافض و نیاچرہ و خاک ساریہ و چکڑالویہ و احراریہ و جٹادہاریہ و آغا خانی وہابیہ بہابیہ، وہابیہ غیر مقلدین، وہابیہ نجدیہ و لیگیہ غالیہ وصلح کلیہ غالیہ اپنے عقاید کفریہ قطعیہ یقینیہ کی بنا پر بہ حکم شریعت قطعاً یقینا اسلام سے خارج اور کفار و مرتدین جو مدعی اسلام ان میں سے کسی کے قطعی یقینی کفر یقینی اطلاع رکھتے ہوئے بھی اس کو مسلمان کہے یا اس کے کافر و مرتد ہونے میں شک رکھے یا اس کو کافر مرتد کہنے میں توقف کرے وہ بھی یقینا کافر مرتد ہے اور بے توبہ مرا تو مستحق نار ابد۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص453)
’’نیچریت اگرچہ فی الحقیقت وہابیت ہی کی ایک شاخ ہے، مگر آج کھلے طور پر اسلام کی بیخ کنی اور مسلمانوں کی دینی و دنیوی ضرر رسانی میں نیچریہ مرتدین ان وہابیہ ملعونین سے بدرجہا بڑھے چڑھے ہوئے ہیں۔ بھولے بھالے سنی مسلمانو! بچو تم گم راہوں اور گم گروں سے۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص94)
’’سنی مسلمانوں پر فرض شرعی دینی مذہبی قرآنی ایمانی قطعی یقینی ہے کہ اس قسم کے تمام مریدوں اور بے دینوں سے اگرچہ وہ ان کے باپ یا بھائی یا بیٹے ہوں یا ان کے کنبے قبیلے والے ہوں خدا اور رسول جل جلا لہ وصلی اﷲ علیہ وسلم کی رضا کے لیے قطعاً علاحدہ و بے زار رہیں۔ ان سے نفرت و مجانبت برتیں۔ ان سے مسلمانوں کے سے جملہ تعلقات قطعاً قطع کر دیں۔ ان کو اپنی اپنی جماعت و برادری سے خارج کر دیں۔ اسی میں ان کے ایمان کی سلامتی ہے… اور جو شخص اس حکم شرعی کو حق نہ مانے اور اس کو جھگڑا اور فساد اور نااتفاقی بتائے وہ بہ حکم قرآن عظیم انہیں بے ایمانوں کے حکم میں ہے، انہیں کی طرح کافر ہے۔ قیامت کے روز انہیں کے ساتھ ایک رسی میں باندھا جائے گا، انہیں کے ساتھ ابدی نار میں داخل ہو گا۔ اور جو شخص اس حکم شرعی کو حق مانتا ہو مگر دنیوی راحت و آرام و آسایش کی خاطر باوصف قدرت و استطاعت اس پر عمل نہ کرے وہ سخت ترین فاسق، شدید ترین گناہ گار، مستحق غضب جبار لایق دخول نار سزاوار لعنت کردار ہے۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص454)
مجلس احرار اسلام کے ارکان اور دیگر سیاسی لیڈران کی تکفیر
مولانا ابو الکلام آزاد، شیخ الاسلام سید حسین احمد مدنی، مفتی اعظم ہند مولانا مفتی کفایت اﷲ دہلوی، سرحدی گاندھی عبدالغفار خان پشاوری، امام اہل سنت مولانا عبدالشکور لکھنوی، سحبان الہند مولانا احمد سعید دہلوی کی پرزور تکفیر:
مولانا طیب دانا پوری نے تجانب اہل سنت کے ص:453 میں ہندوستان کی اسلامی انجمنوں اور جماعتوں کی تکفیر کی ہے۔ اس میں مجلس احرار اسلام کا ساتواں نمبر ہے۔ اس کے بعد مجلس احرار اسلام اور موصوف الصدر بزرگان ملت کو جن مہذب الفاظ میں یاد کیا گیا ہے۔ وہ بریلویوں کی تہذیب و شرافت کا ایک روشن منارہ ہے۔
’’فرقہ احرار اشرار بھی فرقہ نیچریت کی ایک شاخ ہے۔ اس ناپاک فرقے کے بڑے بڑے مکلبین یہ ہیں۔ ملکی جی امام الخوارج مبلغ وہابیہ ایڈیٹر النجم عبدالشکور کاکوروی، صدر مدرسہ دیو بند حسین احمد اجودھیا باشی، شبیر احمد دیوبندی، عطاء اﷲ بخاری، حبیب الرحمن لدھیانوی، احمد سعید دہلوی، نائی عن الاسلام کفایت اﷲ شاہ جہان پوری، عبدالغفار خان سرحدی گاندھیاس فرقہ کا سرغنہ ابو الکلام آزاد ہے جو امام الاحرار کہلاتا ہے۔ مرتد عبدالشکور ایڈیٹر النجم خارجی کاکوروی کے عقاید خبیثہ کی تفصیل بازغ مع رد بالغ… میں ملاحظہ ہو۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص160)
(2)…’’بہرحال جو شخص احراریوں کے ان ناپاک اقوال ملعونہ پر مطلع ہونے کے بعد بھی ان کے قائلین کے قطعی یقینی کافر مرتد ہونے میں شک رکھے یا ان کو کافر مرتد کہنے میں توقف کرے وہ بہ حکم شریعت قطعاً یقینا کافر مرتد ہے۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص177)
(3)…’’ان ناپاک ملعون عبارتوں میں دین سے آزاد مسٹر ابوالکلام مرتد نے صاف صاف بک دیا۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص168)
(4)…’’امام الوہابیہ اسماعیل دہلوی کی عبارت کفریہ سے جو ناپاک مطلب کھلم کھلا ظاہر ہے جس کا مرتد ابو الکلام آزاد نے قطعاً یقینا التزام کیا، اس کا ماننے والا اور ایسا بکنے والا قطعاً یقینا کافر مرتد ہے اور بے توبہ مرا تو ابدی حالک و خاسر ہے۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص176)
(5)… اور اسی کتاب تجانب اہل سنت کے صفحہ 89، 164، 166، 167، 169، 174، 176 میں امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزاد کو’’مرتد ابو الکلام آزاد‘‘ کے مہذب لفظ سے یاد کیا گیا ہے۔
بریلوی عالم مولوی محبوب علی خان لکھتے ہیں:
(6)…’’حسین احمد اجودھیا باشی نے کتنے جھوٹ بولے … اجودھیا باشی کو یہ فریب کاری، مکاری، عیاری دجال کرنے کی کیا ضرورت پڑی اور اجودھیا باشی جی کذاب، دجال، مکار، عیار اور مستحق لعنت جبار ہوئے۔‘‘
(برق خداوندی ص5)
(7)…’’اجودھیا باشی کذاب دجال مکار ملعون غدار ہوئے… دیوبندیوں کا شیخ الاسلام اتنا کذاب و دجال ہوا کرتا ہے۔‘‘
(برق خداوندی ص6)
اس کتاب میں امام اہل سنت مولانا عبدالشکور لکھنوی صاحب کو بلاوجہ و بلا سبب اپنی گالیوں کا آماج گاہ بنایا ہے۔ تمام کتاب آپ ہی کی برائیوں سے بھری پڑی ہے۔ صرف دو صفحے میں آپ کے بارے میں یہ الفاظ لکھے گئے ہیں:
1…’’آپ ٹھیٹ کافر مرتد ہوئے۔‘‘
2…’’آپ کھلے ہوئے کافر مرتد ہوئے۔‘‘
3…’’آپ ڈبل کافر مرتد ہوئے۔‘‘
4…’’آپ اشد کافر مرتد ہوئے۔‘‘
5…’’آپ کافر مرتد ہوئے۔‘‘
(برق خداوندی ص143، 144)
شاہ ابن سعود اور عام نجدی مسلمانوں کی پرزور تکفیر:
(1)… مولانا محمد طیب دانا پوری اپنی کتاب تجانب اہل سنت کے صفحہ 257، 259 میں شاہ ابن سعود والی ٔ حجاز کو
’’ابن سعود خَذَلَہُ الْمَلِکُ الْمَعْبُوْدُ‘‘
اورابن سَعُوْد قَبَّحَہُ الْمَلِکُ الْوَدُوْدُ‘‘ جیسے قبیح الفاظ سے یاد کیا گیا ہے۔ اس کے بعد لکھتے ہیں:
’’کفار نجد کے اس مجموعہ خبیثہ میں اور بھی بہ کثرت کفریات قطعیہ وارتدادات یقینیہ اہلے گھلے پھر رہے ہیں، مگر آدمی کے کافر و مرتد ہو جانے کے لیے معاذ اﷲ ایک ہی کفر و ارتداد بس ہے۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص263)
(2)…’’بہرحال شک نہیں کہ وہابیہ نجدیہ علیہم اللعنۃ السرمدیہ اپنے ان عقاید کفریہ قطعیہ کے سبب بہ حکم شریعت قطعاً یقینا کافر ومرتد اور بے توبہ مرے تو مستحق نار ابد ہیں۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص263، 264)
(3)…’’جب ملحدین نجد اپنے کفریات ملعونہ قطعیہ کو صحیح و درست مانتے ہوئے عقیدہ شفاعت پر اپنا ایمان بھی بتاتے ہیں تو بہ حکم شریعت مطہرہ خود اپنے ناپاک فتوے سے بھی کافر و مرتد ہو گئے۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص267)
(4)…’’آپ کو معلوم ہوا کہ دیوبندی و نجدی دونوں ایک ہی طرح کے عقاید کفریہ رکھتے ہیں۔ کفر و ارتداد میں دونوں ایک دوسرے کے سگے بھائی ہیں۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص268)
(5)… اسی کتاب کے صفحہ 259 تا صفحہ 269 تک نجدیوں کو مندرجہ ذیل مہذب الفاظ سے یاد کیا گیا ہے:
(1) ملاعنہ نجد (2) کفرہ نجد (3) مردہ نجد (4) مرتدین نجد (5)بے دینان نجد (6)ملاحدہ نجد (7)ابائسہ نجد (8) نجدی مرتدوں۔
شاہ ابن سعود رحمہ اللہ کے صاحب زادے کا استقبال کرنے والے امام مسجد زکریا (بمبئی) کی پرزور تکفیر:
(1)…’’امام زکریا مسجد بمبئی احمد یوسف نے مردود ابن سعود کے بیٹوں کا استقبال اور آداب بجا لایا۔ حکومت نجدیہ و ابن سعود کے بیٹوں کی تعریف کی، نجدی مرتدوں کی مدح وثنا میں قصیدے پڑھے گئے۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص268)
(2)…’’امام مذکور نے صرف اپنے اعمال و اقوال سے غضب الٰہی کا استحقاق کمانے، عرش الٰہی کے لرزانے، اسلام و سنت کو ڈھانے، مخلوق خدا کو لعنت خداوندی کی طرف بلانے، سنت سے روک کر بد مذہبی پر جمانے ہی پر اکتفا کیا بلکہ اس نے حکومت شقیہ نجدیہ کی دعوت کو صحیح اور ایسی درست بتا کر جس میں کجی و نقصان نہیں او روہابیہ نجدیہ کو مسلمان ٹھہرا کر نجدی مرتدوں کے عقاید کفریہ کی بھی تحسین و تائید کی اور بہ حکم شریعت مطہرہ ایسا شخص کافر و مرتد ہو گیا۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص270)
فرقہ بریلویہ کی طرف سے ممانعت حج کا فتویٰ:
حکومت سعودیہ نجدیہ کی موجودگی میں کسی مسلمان پر حج فرض نہیں ہے:
چونکہ بریلویوں کے نزدیک شاہ ابن سعود معاذ اﷲ ایسے کافر مرتد ہیں کہ جو ان کے کفر و ارتداد میں شک کرے یا ان کو اچھا جانے تو وہ بھی کافر و مرتد ہے۔ اس وجہ سے حرمین طیبین (مکہ مکرمہ و مدینہ طبیہ) کے رہنے والے وہ تمام مقدس مسلمان اور معلمین و مطوفین بھی شاہ ابن سعود کے مسلمان ماننے کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہو گئے۔ اسی طرح بے شمار مسلمانوں کا طواف و حج اور زیارت روضہ اقدس بھی نہ صرف ناجائز و باطل ہو گیا بلکہ ان حجاج کرام کے ایمان و اسلام میں بھی لالے و رخنے پڑ گئے اور نیکی برباد گناہ لازم ہو گیا۔
یہی وجہ ہے کہ مولانا احمد رضا خان بریلوی کے چھوٹے بیٹے مولوی مصطفی رضا خان صاحب نے بڑی جرأت و جسارت سے یہ فتویٰ صادر فرمایا ہے کہ جب تک مکہ مکرمہ و مدینہ طیبہ میں حکومت سعودیہ نجدیہ موجود رہے اس وقت تک کسی مسلمان پر حج فرض ہی نہیں ہوتا، چہ جائے کہ اس کی عدم ادائیگی سے گناہ لازم ہو۔ چناںچہ آپ نے اس مضمون پر ایک مستقل رسالہ تصنیف فرمایا ہے۔ جس کا نام’’تنویر الحجۃ لمن یجوز التواء الحجۃ‘‘ ہے اور مطبع اہل سنت والجماعت بریلی میں طبع ہو کر شائع ہوا۔ اس کی چند قابل تذکرہ عبارتیں درج کی جاتی ہیں۔
سب سے پہلے مصطفی رضا خان صاحب نے حسب عادت شاہ ابن سعود کے بارے میں ایک بے بنیاد مفروضہ اپنے دماغ و ذہن سے یہ تراشا کہ ابن سعود کی حکومت میں بد امنی و غارت گری اور قتل و خون کا بازار گرم ہے، اس لیے کسی مسلمان پر حج فرض نہیں ہے۔ حالاںکہ اس سے زیادہ بڑا جھوٹ اس دنیا میں کبھی بھی نہ بولا گیا ہو گا۔ سنیے وہ لکھتے ہیں کہ
(1)…’’یہ تو کسی سے مخفی نہیں کہ نجس ابن سعود اور اس کی جماعت تمام مسلمانوں کو کافر و مشرک جانتی ہے اور ان کے اموال کو شیر مادر سمجھتی ہے۔ ان کا یہ عقیدہ خبیثہ اور ان کا قتل ونہب مسلمین کا عادی ہونا ہی مسلمانوں کے ان سے خوف ضرب و نہب و قتل و غارت کا کافی ذریعہ ہے اور جب کہ وہ سب ان خبثا نے کر کے دکھا دیا جس کی ان کے اس ملعون عقیدے سے قوی امید ہو سکتی تھی، اب تو عدم امن پر یقین کامل ہو گیا۔ جب ظن غالب ہی سقوط فرضیت یا عدم لزوم ادا کے لیے کافی ہے کہ ظن غالب فقیہات میں ملحق بالیقین ہے تو یقین کامل تو اس سے بھی اعلیٰ ہے۔ اب فرضیت حج یا لزوم ادا کا حکم کیوں کر ہو سکتا ہے؟‘‘
(تنویر الحجہ ص10)
(2)…’’جب یہ معلوم ہو گیا تو ہم کہتے ہیں اور بہ جزم یقین کہتے ہیں کہ آج جب کہ حجاز مقدس میں ابن سعود منحوس اور نامسعود مخذول و مطرود و مردود اور اس کے ہم راہیان نامحمود کا نحس ورود ہے اور حسب بیان سائل فاضل و دیگر کثیر حضرات حجاج و افاضل امام مفقود ہے فرضیت ساقط ہے یا ادائے غیر لازم ہے۔‘‘
(تنویر الحجہ ص9)
(3)…’’تو یہاں سے یہ نتیجہ نکلا کہ اگر دفع شرا شرار لأم ناممکن ہو تو کسی کے نزدیک بھی اس وقت حج کرنا فرض نہیں رہتا اور ہر وہ شخص جس کے سر میں دماغ اور دماغ میں عقل اور پہلو میں دل اور دل میں ذرا سا انصاف اور چہرے پر آنکھیں اور آنکھوں میں حق کی روشنی اور کان اور کانوں میں قوت سمع موجود ہے، دیکھتا، سنتا، سمجھتا اور اعتراف کرتا ہے کہ آج ان نجدیان نافرجام کے اس فتنے کی روک تھام حاجیوں سے ممکن نہیں ہے تو کس طرح ان پر حج کرنا فرض ہو گا؟‘‘
(تنویر الحجہ ص12)
(4)…’’ہمارے اس واضح بیان روشن بتیاں سے یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ جو اس مدت تک حج نہ کریں گے بہ عونہ وکرمہ تعالیٰ فتنہ معلونہ نجدیہ کا استیصال ہو اور استیصال فتنہ سے پہلے ان کا وقت آ جائے گا وہ آثم (گناہ گار) نہیں مریں گے۔ جب کہ اس فتنہ ملعونہ سے پہلے ان پر حج فرض نہ ہو گیا اور انہوں نے وقت ادا نہ پا لیا ہو کہ اس فتنے کے بعد سے جب تک یہ فتنہ رہے۔ ان پر معلوم ہو چکا کہ فرضیت حج یا لزوم ادا ساقط ہے گناہ تو جب ہو کہ ان پر واجب بھی ہوا ہو، نہ ان کے نزدیک وہ گناہ گار ہیں۔‘‘
(تنویر الحجہ ص21)
’’گرامی برادران! یہ تو آفتاب نصف النہار کی طرح ہر ذی عقل پر روشن اور آشکارا ہو لیا کہ ان دنوں آپ پر حج فرض نہیں یا ادا لازم نہیں۔‘‘
(تنویر الحجہ ص23)
پاک بھارت کرکٹ میچ دیکھنے والے سب کافر ہیں:
پاک بھارت کرکٹ میچ دیکھنے والوں کے بارے میں بریلویوں کے حکیم الامت مفتی احمد یار گجراتی مصنف جاء الحق کے فرزند ارجمند مفتی مختار احمد صاحب گجراتی نے فتویٰ دیا ہے کہ یہ سب کافرہیں۔ جو ان کے کافر ہونے میں شک کرے وہ بھی کافر۔ یاد رہے کہ صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے بھی پاک بھارت کرکٹ میچ دیکھا تھا۔ گویا پورا ملک پاکستان مع صدر مملکت کے کفر کی آغوش میں چلا گیا۔ لا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔ اصل فتویٰ ملاحظہ ہو جو روزنامہ امروز میں شائع ہوا تھا۔
’’سیال کوٹ (4؍ اکتوبر ا پ پ) جمعیت علمائے پاکستان کے ممتاز لیڈر اور جامع مسجد کے خطیب مفتی مختار احمد گجراتی نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کرکٹ میچ دیکھنے والوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔ انہوں نے فتویٰ دیا ہے کہ جو شخص پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کرکٹ میچ دیکھتا ہے اسے دائرہ اسلام سے خارج سمجھا جائے۔‘‘
(روزنامہ’ ’امروز‘‘ لاہور، 5 اکتوبر 1978ء ص اول کالم8)
مولانا ظفر علی خان مرحوم نے بریلویوں کے فتاویٰ کفر کے بارے میں بالکل درست اور بجا فرمایا تھا:
جب سے پھوٹی ہے بریلی سے کرن تکفیر کی
دید کے قابل ہے اس کا انعکاس و انعطاف
مشغلہ ان کا ہے تکفیر مسلمانان ہند
ہے وہ کافر جس کو ہو ان سے ذرا بھی اختلاف
ائمہ حرمین شریفین بریلوی فتوؤں کی زد میں
پہلا فتویٰ:
1… استفتاء: کیا حکم شرعی ہے مسئلہ ہذا میں کہ شیخ عبدالعزیز بن صالح امام مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں علمائے اہل سنت وجماعت فرماتے ہیں کہ ان کے پیچھے نماز نہیں ہوتی۔ اس کے بارے میں حکم شرعی ارشاد فرمائیں۔ غلام حسین
الجواب ہو الموفق للصواب
صورت مسؤل عنہا میں معلوم ہو کہ مذکور امام صاحب وہابی عقاید رکھتے ہیں اور وہابی حضرات اہل سنت و جماعت کو مشرک قرار دیتے ہیں۔ ایسی صورت میں ان کی اقتدا میں اہل سنت کس طرح نماز ادا کر سکتے ہیں؟ اگر تفصیل دیکھنا ہو تو محمد ابن عبدالوہاب نجدی کی کتب میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔ نیز اس کے بعد جو علماء اس مسلک کے متبع رہے ہیں ان کی کتابوں سے معلوم ہو سکتی ہے۔
فقط: العبد المجیب سید شجاعت علی قادری 29 فروری 1976ء
دوسرا فتویٰ:
2… استفتاء: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے کے متعلق کہ زید حج کو جا رہا ہے اور وہ سنی حنفی بریلوی مسلک سے تعلق رکھتا ہے۔ اس نے حج اور مدینہ پاک کی حاضر کے مسائل علماء سے سیکھنے شروع کیے۔ ایک عالم یہ فرماتے ہیں کہ حرمین کی حاضری کے دوران بیت اﷲ شریف اور مدینہ پاک میںجماعت سے نماز نہ پڑھنا۔ اس لیے کہ وہاں کے امام سنی بریلوی نہیں اور نہ ہی اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی کے مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے پیچھے نماز بالکل نہیں ہوتی، لہٰذا نماز علیحدہ ہی پڑھنا اور دوسرے عالم فرماتے ہیں کہ حتی الامکان کوشش جدا نماز پڑھنے کی کرنا، کیوں کہ وہ امام وہابی اور گستاخ ہیں۔ اگر مجبوراً نماز ان کے پیچھے پڑھنی پر جائے تو ہو جائے گی۔ براہ کرم آپ بادلیل واضح فرمائیں کہ زید (یعنی بندہ خود) حج پر جا رہا ہے نماز کیسے ادا کرے؟ فتوے سے ذرا جلد نوازیں کیونکہ بندہ خود حج پر جا رہا ہے۔ فقط والسلام مع الاکرام۔
معرفت عبدالرسول ہاشمی، مکان نمبر26، بلاک اے، وہاڑی بازار، بورے والا، ملتان
الجواب وہو الموفق للصواب
حرمین شریفین خلد ہما اﷲ تعالیٰ کے امام غیر مقلد نجدی ہیں، لہٰذا ان کے علاوہ سنی علماء جو دوسرے ملکوں سے حج کے لیے جاتے ہیں اکثر اپنی جماعت علیحدہ کراتے ہیں۔ لہٰذا وہاں کوشش کرنا کہ اہل سنت کا کوئی گروہ مل جائے تو ان کے ساتھ جماعت سے پڑھتے رہیں اور کوئی سنی امام نہ ملے تو پھر اکیلے فریضہ بغیر جماعت ادا کرتے رہنا۔ واﷲ تعالیٰ ورسولہ الاعلیٰ اعلم
ابو الخلیل غفرلہٗ خادم الافتاء جامعہ رضویہ، لائل پور25 نومبر 1975ء
جنرل ضیاء الحق صدر پاکستان، جنرل سوار خان گورنر پنجاب، چوہدری ظہور الٰہی سابق وفاقی وزیر، اور پیر پگاڑا وغیرہ پر کفر کا فتویٰ:
کیا فرماتے ہیں علمائے اہل سنت (اﷲ ان پر رحم کرے) موجودہ دور میں جنرل ضیاء الحق، سوار خان، ظہور الٰہی، پیر پگاڑا وغیرہ بڑے بڑے لیڈر جو دیوبندیوں وہابیوں اور سعودی عرب کے نجدیوں کو مسلمان سمجھتے ہیں اور ان کے پیچھے نمازیں پڑھتے ہیں۔ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی اور ان کے متبع علمائے اہل سنت کے فتویٰ کے مطابق مسلمان ہیں یا کافر و مرتد؟
جمیل احمد رضوی سیالکوٹ
الجواب:
حضور پر نور اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور علمائے اہل سنت والجماعت کے نزدیک دیوبندیوں وہابیوں نجدیوں رافضیؤوں وغیرہ مرتدین کو مسلمان سمجھنے اور ان کی ابتداع کرنے والا بلکہ … کافر و مرتد ہے۔ خواہ کوئی بڑا ہو یا چھوٹا۔
فقط العبد المجیب
سید شجاعت علی قادری 28-9-78