پارہ نمبر: 27

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
پارہ نمبر: 27
سورۃ الذٰریٰت
یہ سورۃ پارہ نمبر 26 کے آخر سے شروع ہورہی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کاقصہ کچھ پارہ نمبر 26 میں ہے، کچھ پارہ نمبر 27 میں۔
چار قسم کی مخلوق کی قسم:
﴿وَالذّٰرِیٰتِ ذَرۡوًا ۙ﴿۱﴾ فَالۡحٰمِلٰتِ وِقۡرًا ۙ﴿۲﴾ فَالۡجٰرِیٰتِ یُسۡرًا ۙ﴿۳﴾ فَالۡمُقَسِّمٰتِ اَمۡرًا ۙ﴿۴﴾﴾
قسم ہے ان ہواؤں کی جو گر د وغبار کو اڑاتی ہیں، اور پھر ان بادلوں کی جو بوجھ اٹھاتے ہیں اور پھر ان کشتیوں کی جو آسانی سے چلتی ہیں اور فرشتوں کی جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے چیزیں تقسیم کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مخلوق کی قسمیں کھائیں تو اس سے یا تو قرآن کریم کی فصاحت وبلاغت کو بیان کرنا مقصود ہوتا ہےیا پھر قسموں کے بعد والی چیز (قیامت ضرور آئے گی) پر قسموں کو دلیل بنانا مقصود ہوتاہے۔
مؤمنین متقین کی صفت:
﴿وَ فِیۡۤ اَمۡوَالِہِمۡ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَ الۡمَحۡرُوۡمِ ﴿۱۹﴾﴾
مؤمنین کے اموال میں مانگنے والوں اور محروم لوگوں کا حق ہوتاہے۔ بعض محتاج وہ ہیں جو مانگتے ہیں، بعض محتاج وہ ہیں جو مانگتے نہیں۔ تو مؤمنین متقین کی صفت یہ ہے کہ مانگنے والے اور نہ مانگنے والے؛ دونوں کو دیتے ہیں۔
ابراہیم علیہ السلام کا قصہ:
﴿ہَلۡ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ ضَیۡفِ اِبۡرٰہِیۡمَ الۡمُکۡرَمِیۡنَ ﴿ۘ۲۴﴾﴾
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قصہ قرآن کریم میں کئی مقامات پر آیاہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس فرشتے آئے۔ فرشتوں کے آنے بنیادی سبب دو تھے: ایک آپ کو بیٹے(حضرت اسماعیل علیہ السلام) کی خوشخبری دینی تھی۔ دوسرا مجرم قوم یعنی حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کوتباہ وبرباد کرنا تھا۔
مختلف قوموں کے انجام:
﴿وَ فِیۡ مُوۡسٰۤی اِذۡ اَرۡسَلۡنٰہُ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۳۸﴾﴾
یہاں سے کچھ آیات تک اللہ تعالیٰ نے مختصراً قوم فرعون، قوم عاد،قوم ثمود اور قوم نوح کی سرکشی اور ان کے انجام بد کا ذکرفرمایاہے۔
تخلیقِ باری تعالیٰ کے نمونے:
﴿وَ السَّمَآءَ بَنَیۡنٰہَا بِاَیۡىدٍ وَّ اِنَّا لَمُوۡسِعُوۡنَ ﴿۴۷﴾ ﴾
اللہ تعالیٰ نے آسمان کو طاقت سے پیدا کیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ آسمان سے بارش برساتے ہیں اور پھر بارش کے ذریعے لوگوں کے رزق میں وسعت پیدا فرمادیتے ہیں۔ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ کی تخلیق کا ایک اور نمونہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے جوڑے جوڑے بنائے ہیں۔ کالا پیدا کیا تو سفید بھی پیدا کیا، میٹھا پیدا کیا تو کڑوا بھی بنایا، مرد کو بنایا تو عورت کو بھی بنایا، مسلمان کو پیدا کیا تو کافر کو بھی پیدا کیا۔ یہ اس کی قدرت کی نشانی ہے۔
سورۃ الطور
پانچ قسمیں:
﴿وَالطُّوۡرِ ۙ﴿۱﴾ وَ کِتٰبٍ مَّسۡطُوۡرٍ ۙ﴿۲﴾ فِیۡ رَقٍّ مَّنۡشُوۡرٍ ۙ﴿۳﴾وَّ الۡبَیۡتِ الۡمَعۡمُوۡرِ ۙ﴿۴﴾ وَ السَّقۡفِ الۡمَرۡفُوۡعِ ۙ﴿۵﴾ وَ الۡبَحۡرِ الۡمَسۡجُوۡرِ ﴿۶﴾ۙ﴾
قسم ہےطور کی۔ قسم ہے کتاب کی جو کھلے ہوئے کاغذ میں لکھی ہوئی ہے، مراد اس سے یا تو لوحِ محفوظ ہے یا اعمال نامہ ہے یا قرآن کریم ہے۔ قسم ہے بیتِ معمور کی، بیت معمور بیت اللہ کے بالکل محاذات میں ساتویں آسمان پر ملائکہ کا قبلہ ہے، ہر روز ستر ہزار فرشتے طواف کرتےہیں پھر انہیں قیامت تک موقع نہیں ملتا۔ قسم ہے بلند چھت کی،مراد اس سے آسمان ہے۔ قسم ہے اس دریا کی جو پانی سے بھرا ہوا ہے۔ مذکورہ پانچ قسمیں اپنے بعد آنے والی چیز (تمہارے پروردگار کے عذاب نے آ کر رہنا ہے، اس عذاب کوکوئی روک نہیں سکتا) پر گواہ ہیں۔
مجرمین کا انجام:
﴿اِصۡلَوۡہَا فَاصۡبِرُوۡۤا اَوۡ لَا تَصۡبِرُوۡا ۚ سَوَآءٌ عَلَیۡکُمۡ ؕ اِنَّمَا تُجۡزَوۡنَ مَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۶﴾﴾
دنیا میں آدمی کو تکلیف آتی ہے اور وہ گڑ گڑاتا ہے تو تکلیف دینے والے کو ترس آ جائے تو وہ کبھی چھوڑ بھی دیتا ہے۔ لیکن آخرت کا معاملہ یوں نہیں ہے، فرمایا: اس جہنم میں داخل ہو جاؤ، اب تم برداشت کرو یا تم برداشت نہ کرو تمہارے لیے برابر ہے، اب تمہارے اعمال کا بدلہ مل کے رہے گا۔
متقین کا انعام:
﴿اِنَّ الۡمُتَّقِیۡنَ فِیۡ جَنّٰتٍ وَّ نَعِیۡمٍ ﴿ۙ۱۷﴾ فٰکِہِیۡنَ بِمَاۤ اٰتٰہُمۡ رَبُّہُمۡ ۚ وَ وَقٰہُمۡ رَبُّہُمۡ عَذَابَ الۡجَحِیۡمِ ﴿۱۸﴾ ﴾
گزشتہ آیت میں مجرمین کا ذکر تھا، یہاں متقین کا ذکر ہے کہ متقین باغات میں ہوں گے، اللہ کی نعمتوں میں ہوں گے، خوش ہوں گے ان انعامات میں جو خدانے انہیں دیے ہوں گے۔ ان کا رب ان کو جہنم کے عذاب سے بچا لے گا۔ حکم ہوگا کہ مزے سے کھاؤ اور پیو، یہ تمہارے اعمال کے بدلے میں تمہیں دیا جا رہا ہے۔ جنتی لوگ نشستوں پر ٹیک لگا کر بیٹھے ہوں گے اور یہ نشستیں ترتیب سے بچھی ہوں گی۔ بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ہم ان کا نکاح فرمائیں گے۔ دعا کریں اللہ ہم سب کو عطا فرمائے۔ (آمین)
الیکشن نہیں سلیکشن:
﴿اَمۡ عِنۡدَہُمۡ خَزَآئِنُ رَبِّکَ اَمۡ ہُمُ الۡمُصَۜیۡطِرُوۡنَ ﴿ؕ۳۷﴾﴾
یہ بات پہلے گزر چکی ہے کہ طائف والے کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی بنانا تھا تو ہم میں سے کسی دولت والے بڑے آدمی کو بناتے! اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کیا اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانے ان کے پاس ہیں کہ جس کو چاہیں نبی بنائیں اور جس کو چاہیں نبی نہ بنائیں؟نبوت الیکشن سے نہیں بلکہ سلیکشن سے ملتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ نبوت کسبی نہیں بلکہ وہبی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے تو دنیوی مال و متاع اور رزق بھی اپنے اختیار میں رکھا ہے، تو نبوت جیسا بڑا رتبہ کیسے ان کی خواہش کے تابع ہوسکتا ہے؟
فرائض خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم:
﴿وَ اصۡبِرۡ لِحُکۡمِ رَبِّکَ فَاِنَّکَ بِاَعۡیُنِنَا وَ سَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّکَ حِیۡنَ تَقُوۡمُ﴿ۙ۴۸﴾ وَ مِنَ الَّیۡلِ فَسَبِّحۡہُ وَ اِدۡبَارَ النُّجُوۡمِ ﴿٪۴۹﴾ ﴾
یہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوفرائض بیان کیے: اپنے پروردگار کے حکم پر صبر کریں اور تین اوقات میں اللہ تعالیٰ کی حمد کے ساتھ تسبیح کریں۔ آپ صبر کریں کیونکہ آپ ہماری حفاظت میں ہیں، مخالفین آپ کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے۔ اور یہ جو آپ کو پریشانی ہے کہ یہ لوگ بات نہیں مانتے تو آپ خود کو مشغول کر لیں تین اوقات میں خصوصیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی حمد کے ساتھ تسبیح کریں: نمبر ایک کسی مجلس سے اٹھتے ہوئےیاتہجد کےلیےاٹھتے ہوئے۔ نمبردو رات کے وقت یعنی نماز مغرب اور عشاء۔ نمبر تین ستاروں کے ڈوبنے کے وقت یعنی فجر کے وقت۔
سورۃ النجم
"نجم"کے معنی ستارہ کے ہیں۔ اس سورت کا آغاز ہی لفظ نجم سے ہے اس لیے سورت کا نام بھی سورۃ النجم ہے۔
ستارے کی قسم کھانے میں حکمت:
﴿وَ النَّجۡمِ اِذَا ہَوٰی ۙ﴿۱﴾مَا ضَلَّ صَاحِبُکُمۡ وَ مَا غَوٰی ۚ﴿۲﴾ ﴾
ستارے کی قسم کھانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ جس طرح عرب ستارے کی مدد سے راستہ تلاش کرتے تھےاسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی لوگوں کےلیے روشنی اور ہدایت ہیں۔ ستارے کا جو راستہ مقرر ہے وہ اسی پر چلتاہے بالکل اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہ راستہ بھولے ہیں اور نہ ہی بھٹکے ہیں۔ ستارہ تھوڑے وقت کے بعد غائب ہوجاتاہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی دنیا میں تھوڑے وقت کےلیے تشریف لائے ہیں۔ اس لیےآپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فائدہ حاصل کرنے والوں کو جلدی کرنی چاہیے۔
قرآن وحدیث کی حجیت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش سے کچھ بھی نہیں بولتے بلکہ یہ خالص وحی ہے جو ان کے پاس آئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کوئی بات فرماتے ہیں تو وحی سے فرماتے ہیں۔ اگر مراد معانی اورالفاظ دونوں ہوں تو اس کا نام قرآن ہے۔ اگر مراد یہ ہو کہ معنی بتادیا جائے اور الفاظ نہ بتائے جائیں تو اس کا نام حدیث ہے اور اس کو سنت بھی کہہ دیتے ہیں۔
خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل کو دیکھنا:
﴿عَلَّمَہٗ شَدِیۡدُ الۡقُوٰی ۙ﴿۵﴾ذُوۡ مِرَّۃٍ ؕ فَاسۡتَوٰی ۙ﴿۶﴾وَ ہُوَ بِالۡاُفُقِ الۡاَعۡلٰی ؕ﴿۷﴾﴾
مشرکین اعتراض کرتے تھے کہ جبرائیل امین علیہ السلام؛ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انسانی شکل میں وحی لے کر آتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے پتا چلتا ہے کہ یہ فرشتہ ہے؟ یہاں انہیں جواب دیا جارہا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرائیل کو اصلی شکل میں دومرتبہ دیکھا ہے۔
ایک مرتبہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمائش کی تھی کہ اصلی شکل میں آئیں۔ دوسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کے موقع پر دیکھا تھا۔
آگے کی آیات میں واقعہ معراج کا بیان ہے۔
مشرکین کی تردید:
﴿اَفَرَءَیۡتُمُ اللّٰتَ وَ الۡعُزّٰی ﴿ۙ۱۹﴾ وَ مَنٰوۃَ الثَّالِثَۃَ الۡاُخۡرٰی ﴿۲۰﴾ ﴾
مشرکین نے تین بت لات،عزیٰ اور منات اپنے اپنے خدا بنا رکھے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ جو لات، منات اور عزیٰ تم نے خدا بنا رکھے ہیں کیا ان میں کبھی تم نے غور کیا ہے؟ یہ تو صرف چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آباء و اجداد نے خود رکھے ہیں۔ کافر لوگ اپنے خیالات و خواہشات کی پیروی کرتےہیں۔
مشرکین کے غلط عقیدے کی تردید:
﴿اِنَّ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ لَیُسَمُّوۡنَ الۡمَلٰٓئِکَۃَ تَسۡمِیَۃَ الۡاُنۡثٰی﴿۲۷﴾ وَ مَا لَہُمۡ بِہٖ مِنۡ عِلۡمٍ ؕ اِنۡ یَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ ﴿ۚ۲۸﴾ ﴾
مشرکین اللہ تعالیٰ کےلیے بیٹیاں بناتے اور ثابت کرتے تھے۔ یہاں ان کے اس عقیدے کی تردید کی جارہی ہے کہ ان کےپاس اپنے اس عقیدے پر کوئی دلیل نہیں ہے۔
کو ئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا:
﴿اَفَرَءَیۡتَ الَّذِیۡ تَوَلّٰی ﴿ۙ۳۳﴾ وَ اَعۡطٰی قَلِیۡلًا وَّ اَکۡدٰی ﴿۳۴﴾﴾
ان آیات کا پس منظر یہ ہے ایک شخص نے قرآن مجید کی آیات سنیں اور اس کا دل ایمان کی طرف مائل ہو گیا تو اس کو اس کے دوست نے کہا کہ تو اپنے باپ دادا کے دین کو چھوڑ کر نیا دین کیوں اختیار کر رہا ہے؟ یوں اس کو کچھ عار دلائی۔ اس نے کہا کہ میں تو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہوں کہ کہیں آخرت میں میری پکڑ نہ ہو جائے! دوست نے کہا کہ اگر تم مجھے کچھ پیسے دے دو تو میں ذمہ داری لیتا ہوں کہ آخرت کی پکڑ سے تمہیں بچا لوں گا۔ یہاں ان کی اس بات کی تردید کی جارہی ہے کہ کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ اس بات پر قادر ہے کہ اسے جہنم کے عذاب سے بچا لے؟اگلی آیت میں ہے " کہ کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا "۔
آیت سجدہ:
﴿فَاسۡجُدُوۡا لِلہِ وَ اعۡبُدُوۡا ﴿٪ٛ۶۲﴾ ﴾
آیت سجدہ عربی میں پڑھنے اور سننے والے پر سجدہ تلاوت واجب ہوجاتاہے۔ سورۃ النجم پہلی سورۃ ہے جس میں آیت سجدہ نازل ہوئی۔ مجمع میں علی الاعلان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت یہ آیت تلاوت فرمائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسلمانوں نے سجدہ کیا۔
سورۃ القمر
صداقتِ نبوت ؛چاند کا دوٹکڑے ہونا:
﴿اِقۡتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَ انۡشَقَّ الۡقَمَرُ ﴿۱﴾ ﴾
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں تھے اور رات کا وقت تھا۔ مشرکینِ مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی نبوت پر معجزہ طلب کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر معجزہ اور نشانی دکھا دوں تو تم کلمہ پڑھ لو گے؟ کہا پڑھ لیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا، اللہ کے حکم سے چاند دو ٹکڑے ہوا۔ ایک ٹکڑا مشرق اور ایک مغرب کی جانب چلا گیا۔ مشرکین نے اسے جادو کہہ کر نہ مانا اور بدستور اپنی ضد اور کفر پر قائم رہے۔
قوم نوح پر طوفان:
﴿کَذَّبَتۡ قَبۡلَہُمۡ قَوۡمُ نُوۡحٍ فَکَذَّبُوۡا عَبۡدَنَا وَ قَالُوۡا مَجۡنُوۡنٌ وَّ ازۡدُجِرَ﴿۹﴾ فَدَعَا رَبَّہٗۤ اَنِّیۡ مَغۡلُوۡبٌ فَانۡتَصِرۡ ﴿۱۰﴾ ﴾
حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں آتا ہے کہ ان کی قوم والے بسا اوقات ان کے گلے کو دباتے، نوح علیہ السلام بے ہوش ہو جاتے لیکن پھر بھی اللہ سے دعا مانگتے کہ اللہ! ان کو ہدایت دے دیں، ان کو پتا نہیں کہ میں ان کا کتنا خیر خواہ ہوں۔ ساڑھے نو سو سال اس تکلیف میں گزارے اور بالآخر اللہ سے مدد مانگی کہ اے اللہ! میری مدد فرما۔ اللہ تعالیٰ نے طوفان کے ذریعہ قوم کو تباہ فرمادیا۔
قرآن کریم آسان ہے:
﴿وَ لَقَدۡ یَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّکۡرِ فَہَلۡ مِنۡ مُّدَّکِرٍ ﴿۱۷﴾﴾
آسان ہونے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کی ایک حیثیت واعظ اور ناصح ہونے کی ہے۔ قرآن کریم کی دوسری حیثیت شارع (عقائد واحکامات)ہونے کی ہے۔ پہلی حیثیت کے اعتبار سے آسان ہے۔ عقائد واحکامات کی حیثیت آسان نہیں ہے، اس اعتبار سے محنت کرنی پڑتی ہے، پوری زندگیاں کھپانی پڑتی ہیں اور پھر بھی آدمی سمجھتا ہے کہ شاید مجھ سے کہیں غلطی نہ ہو گئی ہو۔
پہلی قوموں کے واقعات:
﴿کَذَّبَتۡ عَادٌ فَکَیۡفَ کَانَ عَذَابِیۡ وَ نُذُرِ ﴿۱۸﴾﴾
یہاں سے لے کر اگلے رکوع کے بعد تک اللہ تعالیٰ نے پہلی امتوں میں سے تین کے واقعات کو بیان فرمایا ہے۔ قوم عاد، جنہوں نے حضرت ہود علیہ السلام کی تکذیب کی۔ قوم ثمود جنہوں نے حضرت صالح علیہ السلام کی نافرمانی کی، قوم لوط جنہوں نے حضرت لوط علیہ السلام کی دعوت کو نہ مانا،قوم فرعون جنہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تکذیب کی۔ ان واقعات کو بیان کرنے کا مقصد بعد والوں کےلیے درسِ عبرت ہے۔
مجرمین اور متقین کا انجام:
﴿اِنَّ الۡمُجۡرِمِیۡنَ فِیۡ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ ﴿ۘ۴۷﴾ ﴾
یہاں سے لے کر سورۃ کے آخر تک اللہ تعالیٰ نے مجرمین اور متقین کے انجام کو بیان فرمایاہے۔ مجرمین بڑی گمراہی اور بے عقلی میں پڑے ہوئے ہیں۔ قیامت کے دن ان کے منہ کو آگ میں گھسیٹا جائے گا۔
﴿اِنَّ الۡمُتَّقِیۡنَ فِیۡ جَنّٰتٍ وَّ نَہَرٍ﴾
متقین کو آخرت میں اللہ تعالیٰ انعامات کے طور پر باغات اور نہریں عطا فرمائیں گے۔
سورۃ الرحمٰن
اس سورت کا آغاز "الرحمن" سے ہے۔ اس کانام بھی یہی رکھ دیاہے۔
لفظ رحمٰن سے سورت کے آغاز کی وجہ:
﴿اَلرَّحۡمٰنُ ۙ﴿۱﴾ ﴾
مشرکینِ مکہ رحمٰن کے نام سے واقف تو تھے لیکن ان میں یہ اسمِ گرامی زیادہ معروف نہیں تھا۔ بطورِ ضد بھی وہ کہا کرتے تھے:
”مَا الرَّحْمٰنُ؟“
کہ رحمٰن کیا ہے؟ اس لیے اللہ تعالیٰ نے رحمٰن کے نام سے پوری سورت نازل فرمائی اور اس کا آغاز بھی لفظ رحمٰن سے کیا ہے۔
قرآن سب کو سیکھنا چاہیے:
﴿عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ ؕ﴿۲﴾ ﴾
رحمٰن نے قرآن سکھایا ہے۔ جو سکھایا ہے اس کا ذکر تو ہے اور جس کو سکھایا ہے اس کا ذکر نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی براہ راست جس شخصیت کو تعلیم دی گئی وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ یہ سب کو معلوم ہے۔ پھر آپ کے واسطے سے آپ کی امت کو تعلیم دی گئی۔ یا اس کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ قرآن کریم کی تعلیم ہر کسی کو دینی ہے اس لیے اس کا مفعول بہ ذکر نہیں فرمایا۔
جن اور انس کو خطاب:
﴿فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۱۳﴾ ﴾
اللہ تعالیٰ کی پوری کائنات میں مختلف قسم کی بے شمارنعمتیں پھیلی ہوئی ہیں۔ اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے صراحتاً انسانوں اور جنوں کو خطاب کرکے یہ نعمتیں یاد دلائی ہیں۔ ایک بار نہیں بلکہ باربار اس آیت " اب بتاؤتم اپنے پروردگارکی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟" کو دہرایاہے۔
زمین کی ہر چیز فنا ہو جائے گی:
﴿کُلُّ مَنۡ عَلَیۡہَا فَانٍ ﴿ۚ۲۶﴾ وَّ یَبۡقٰی وَجۡہُ رَبِّکَ ذُو الۡجَلٰلِ وَ الۡاِکۡرَامِ﴿ۚ۲۷﴾﴾
ہر چیز جو زمین پر ہے وہ ختم ہو جائے گی اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات رہ جائے گی۔
وَجْہُ رَبِّکَ
سے مراد اللہ کی ذات ہے۔ زمین وآسمان سب ختم ہو جائیں گے لیکن چونکہ پہلے تذکرہ زمین کا تھا اس لیے فرمایا کہ زمین کی ہر چیز فنا ہو جائے گی۔
فنا کی دو قسمیں ہیں: امکانی اور عملی۔ ذات باری تعالیٰ میں نہ فنائے عملی ہے نہ ہی فنائے امکانی۔ اس کی مزید وضاحت کےلیے میری کتاب
"شرح عقیدہ طحاویہ "
کا مطالعہ فرمائیں۔
جن وانس کی بے بسی:
﴿یٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ اِنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ اَنۡ تَنۡفُذُوۡا مِنۡ اَقۡطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ فَانۡفُذُوۡا ؕ لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلۡطٰنٍ ﴿ۚ۳۳﴾﴾
اے جن اور انس! اگر تم آسمان اور زمین کی حدود سے نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ، لیکن یہ نکلنا بغیر طاقت کے نہیں ہے اور طاقت تمہارے پاس ہے نہیں تو تم کیسے نکلو گے؟ مطلب یہ ہے کہ جن وانس اللہ تعالیٰ کی پوچھ گچھ اور عذاب سے اگر کہیں بھاگناچاہیں بھی تو نہیں بھاگ سکتے ہیں۔
آگے کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے سورۃ کے آخر تک اہل ایمان جنوں اور انسانوں کےلیے جو بے شمار نعمتیں پیدا فرمائی ہیں ان کا ذکر فرمایاہے۔ جنت اور جنت کے انعامات، باغات اور چشموں کا ذکر کیا، جنت کی حوروں کا ذکر کیا پھر ان حوروں کے اوصاف بیان فرمائے تاکہ مؤمنین کی توجہ ان نعمتوں کی طرف ہوجائے اور دنیا کی گندی چیزوں سے بچ جائیں اور آخرت کی پاک صاف نعمتوں کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان نعمتوں کے لیے کوشش کرنے کی توفیق مرحمت فرمائیں۔
سورۃ الواقعہ
"واقعہ " اس کی پہلی آیت میں یہ لفظ موجود ہے۔ مراد اس سے قیامت ہے۔ اسی سے سورۃ کانام بھی رکھ دیا ہے۔
قیامت کی ہولناکی کا بیان:
﴿اِذَا وَقَعَتِ الۡوَاقِعَۃُ ۙ﴿۱﴾ لَیۡسَ لِوَقۡعَتِہَا کَاذِبَۃٌ ۘ﴿۲﴾﴾
جب قیامت آئے گی اور قیامت کے واقع ہونے میں کوئی شک نہیں ہے، یہ سچی بات ہے۔ کفار کو جھکا کے رکھ دے گی۔ دنیا میں کافر قیامت کا انکار کرتے رہے جب قیا مت کاواقعہ رونما ہوگا تو اس وقت کفار بھی اسے نہیں جھٹلا سکیں گے۔
انسانوں کی تین جماعتیں:
﴿وَّ کُنۡتُمۡ اَزۡوَاجًا ثَلٰثَۃً ؕ﴿۷﴾ ﴾
قیامت کے دن تمام انسان اپنے انجام کے اعتبار سےتین جماعتوں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ پہلی جماعت اللہ تعالیٰ کے ان مقرب بندوں کی ہو گی جوایمان اور اعمال صالحہ کے اعتبار سے عالی مقام پر ہوں گے۔ دوسری جماعت ان خوش نصیب عام ایمان والوں کی ہو گی جنہیں نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ تیسری جماعت ان کفار کی ہو گی جنہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ پھر آگے مذکورہ تینوں جماعتوں کو پیش آنے والے حالات کو بیان کیا گیا ہے۔
اہل جنت کے لیے انعامات:
﴿اُولٰٓئِکَ الۡمُقَرَّبُوۡنَ ﴿ۚ۱۱﴾ فِیۡ جَنّٰتِ النَّعِیۡمِ ﴿۱۲﴾ ﴾
اہل جنت کو جنت میں نعمتیں؛ باغات، بیٹھنے کےلیے آمنے سامنے اونچی اونچی نشستیں جن پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے،شراب وغلمان، پھل اور پرندوں کا گوشت وغیرہ عطا کی جائیں گی۔
اہل جہنم کے عذاب کا ذکر:
﴿وَ اَصۡحٰبُ الشِّمَالِ ۬ۙ مَاۤ اَصۡحٰبُ الشِّمَالِ ﴿ؕ۴۱﴾ فِیۡ سَمُوۡمٍ وَّ حَمِیۡمٍ ﴿ۙ۴۲﴾ ﴾
اصحاب الشمال [بائیں ہاتھ والوں] یعنی اہل جہنم کو آخرت میں مختلف قسم کے عذابوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ گرم لُو،کھولتا ہوا پانی اور دھواں وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائیں۔
اللہ تعالیٰ کی چار عظیم نعمتیں:
﴿اَفَرَءَیۡتُمۡ مَّا تُمۡنُوۡنَ ﴿ؕ۵۸﴾ ءَاَنۡتُمۡ تَخۡلُقُوۡنَہٗۤ اَمۡ نَحۡنُ الۡخٰلِقُوۡنَ ﴿۵۹﴾﴾

تخلیق انسانی: یہ بتاؤ! کہ تم جو نطفہ ٹپکاتے ہو کیا تم پیدا کرتے ہو یا ہم پیدا کرتے ہیں؟

کھیتی اگانا: یہ بتاؤ! کہ جو کھیتی تم بوتے ہو کیا اسے تم اگاتے ہو یا ہم اگاتے ہیں؟

پانی کی فراہمی: یہ بتاؤ! جو پانی تم پیتے ہو کیا تم اس کو بادلوں سے اتارتے ہو یا ہم اتارتے ہیں؟

آگ کی نعمت: اچھا یہ بتاؤ! یہ جو آگ تم جلاتے ہو اس کا درخت تم اگاتے ہو یا ہم اگا رہے ہیں؟
صداقتِ قرآن:
﴿ اِنَّہٗ لَقُرۡاٰنٌ کَرِیۡمٌ ﴿ۙ۷۷﴾ فِیۡ کِتٰبٍ مَّکۡنُوۡنٍ ﴿ۙ۷۸﴾ لَّا یَمَسُّہٗۤ اِلَّا الۡمُطَہَّرُوۡنَ﴿ؕ۷۹﴾﴾
ان آیات میں مشرکین کے اعتراض کا جواب دیا جارہا ہے کہ یہ قرآن کریم لوح محفوظ میں درج ہے اور بغیر کسی کمی بیشی کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ حضرت جبرائیل علیہ السلام دیا گیا ہے۔ بغیر وضو کے قرآن کریم کو چھونا جائز نہیں۔
منکرین بعث بعد الموت کی تردید:
﴿فَلَوۡ لَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الۡحُلۡقُوۡمَ ﴿ۙ۸۳﴾ وَ اَنۡتُمۡ حِیۡنَئِذٍ تَنۡظُرُوۡنَ ﴿ۙ۸۴﴾ وَ نَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَیۡہِ مِنۡکُمۡ وَ لٰکِنۡ لَّا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿۸۵﴾ ﴾
مشرکین مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے کے منکر تھے گویا ان دعوی تھا کہ ان کی زندگی اور حیات ان کے قبضے میں ہے۔ یہاں ان کی تردید کی جارہی ہے کہ اگر کوئی شخص قریب الموت ہو اور تم اس کی روح نکلتے ہوئے دیکھ رہے ہو اورتم چاہتے بھی ہوکہ اس کی روح نہ نکلے مگر تمہیں اس وقت احساس ہوجاتاہے کہ اس کی روح کو کوئی بھی نہیں روک سکتا۔ تو پھر تم بھی اللہ تعالیٰ کی گرفت نہیں بچ سکتے۔ اللہ تعالیٰ تمہیں آخرت میں دوبارہ اٹھائیں گے۔
سورۃ الحدید
"حدید" لوہے کو کہتے ہیں۔ چونکہ اس سورۃ میں لوہے کا ذکر کیا گیا ہے اس لیے اس سورۃ کانام حدید رکھا ہے۔
اول اور آخر کا مطلب:
﴿ہُوَ الۡاَوَّلُ وَ الۡاٰخِرُ وَ الظَّاہِرُ وَ الۡبَاطِنُ ۚ وَ ہُوَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۳﴾﴾
اللہ تعالیٰ اول حقیقی اور آخر حقیقی ہے۔ اول حقیقی کا معنی کہ جس کی کوئی ابتدا نہیں یعنی اس سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی۔ آخر حقیقی کا معنی کہ جس کی کوئی انتہا نہیں یعنی جب ہر چیز فنا ہوجائے گی وہ اس وقت بھی موجود رہے گا۔ اللہ تعالیٰ ظاہر بھی ہیں اور باطن بھی ہیں۔ ظاہر اس اعتبار سے کہ اس کے وجود وقدرت کی نشانیاں ہر جگہ پھیلی ہوئی ہیں۔ باطن اس اعتبارسے کہ دنیا میں وہ آنکھوں سے نظر نہیں آتا۔
انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب:
﴿وَ مَا لَکُمۡ اَلَّا تُنۡفِقُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ وَ لِلہِ مِیۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ﴿٪۱۰﴾﴾
تم اللہ کے راستے میں مال خرچ کیوں نہیں کرتے؟ حالانکہ زمین وآسمان کا وارث تو اللہ تعالیٰ ہے۔ یہاں بتانا یہ مقصود ہے کہ مال جو تمہیں دیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا ہے، تمہیں تھوڑے وقت کے لیے دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کا مال اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے سے انسان کو رکنا نہیں چاہیے بلکہ بڑھ چڑھ کر خر چ کرنا چاہیے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان فرقِ مراتب:
﴿لَا یَسۡتَوِیۡ مِنۡکُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَ قٰتَلَ اُولٰٓئِکَ اَعۡظَمُ دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِیۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَ قٰتَلُوۡا وَ کُلًّا وَّعَدَ اللہُ الۡحُسۡنٰی ﴿٪۱۰﴾﴾
وہ صحابہ کرام جو سا بقین ہیں یعنی وہ فتح مکہ سے قبل مسلمان ہوئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر جہاد وانفاق کیا ان صحابہ کرام سے درجہ اور ثواب میں بڑے ہیں جنہوں نے یہ کام فتح مکہ کے بعد کیے۔ البتہ جنتی ہونے میں اور صحابی ہونے میں سب برابر ہیں۔
مؤمنین اور منافقین کاذکر:
﴿یَوۡمَ تَرَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ یَسۡعٰی نُوۡرُہُمۡ بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ بِاَیۡمَانِہِمۡ ﴿ۚ۱۲﴾﴾
پھر مؤمنین کاذکر فرمایا کہ جب وہ پل صراط کی طرف جائیں گے تو ان کا نور ان کے سامنے بھی ہو گا اور دائیں جانب بھی ہو گا۔ اور مؤمن اور منافق دونوں پل صراط کی طرف آئیں گے تو وہاں منافقین کا نور ختم ہو جائے گا۔ اس وقت یہ لوگ پریشان ہوں گے اور مؤمنین کو پکار کر کہیں گے ہمیں بھی تھوڑا سا نور دے دو ان سے کہا جائے گاکہ پیچھے مڑ جاؤ اور نور تلاش کرو!
انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا مقصد:
﴿لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلَنَا بِالۡبَیِّنٰتِ وَ اَنۡزَلۡنَا مَعَہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡمِیۡزَانَ لِیَقُوۡمَ النَّاسُ بِالۡقِسۡطِ﴿٪۲۵﴾﴾
انبیاء ورسل علیہم السلام کو معجزات،کتب اور ترازو دے کر بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ حقوق اللہ اور حقوق العباد میں اعتدال پر قائم رہیں۔
رہبانیت کی ابتدا:
﴿وَ رَہۡبَانِیَّۃَۨ ابۡتَدَعُوۡہَا مَا کَتَبۡنٰہَا عَلَیۡہِمۡ اِلَّا ابۡتِغَآءَ رِضۡوَانِ اللہِ فَمَا رَعَوۡہَا حَقَّ رِعَایَتِہَا ﴿۲۷﴾﴾
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمانوں پر اٹھائے جانے کے بعد عیسائیوں کا ایک طبقہ دنیا سے الگ تھلگ رہنے لگا۔ نہ وہ شادی کرتااور نہ ہی دنیا کی لذتوں کو استعمال کرتااور اپنے دین کو بچانے کےلیےشہروں سے دور رہنا شروع کردیا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس کا انہیں حکم نہیں دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انہوں نے پھر اس رہبانیت کی بھی رعایت نہیں کی۔
یاد رہے کہ اسلام میں رہبانیت کی کوئی گنجائش نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے دین پر صحیح معنوں میں عمل کرنے والا بنائیں۔
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ