پہلی نصیحت تقویٰ اختیار کرنا

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
﴿تقویٰ اختیار کرنا ﴾
حدیث مبارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
أَوْصَيْتُكَ بِتَقْوَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّهُ أَزْيَنُ لِأَمْرِكَ كُلِّهِ
میں تمہیں ہر حال میں اللہ کی نافرمانی سے بچنے کا تاکیدی حکم دیتا ہوں یہی وہ چیز ہے جس کی وجہ سے تمہارے سارے کام اچھے طریقے سے انجام کو پہنچیں گے۔
تقویٰ کا وسیع مفہوم :
تقویٰ کا مطلب ہوتا ہے گناہوں سے بچنا اور اگر گناہ ہو جائے تو فوراً توبہ کرنا۔ یہی وہ وصف ہے کہ جب انسان میں آجاتا ہے تو انسان صحیح معنوں میں” انسان“ کہلانے کا مستحق بن جاتا ہے یہاں تک کہ وہ تنہائی میں بھی حرام اور گناہوں سے بچنے کی پوری کوشش کرتا ہے اگر گناہ ہوجائے تو فوراً توبہ کرتا ہے۔معلوم ہوا کہ گناہ نہ کرنے والا بھی متقی ہے اور گناہ کر کے توبہ کرنے والا بھی متقی ہے۔
گناہ گار سے نفرت نہ کریں:
جب یہ بات دل میں بیٹھ جائے گی تو انسان دوسروں کے عیوب تلاش کرنے سے باز آ جائے گا اس لیے کہ جب آپ کسی کو گناہ کرتے دیکھیں تو خود کو یہ سمجھائیں کہ یہ ابھی گناہ کر رہا ہے لیکن بعد میں توبہ کر کے متقی بن جائے گا جیسے میں پہلے گناہ کیا کرتا تھا اور اللہ کی توفیق سے توبہ کر کے اسے چھوڑ دیا تو یہ بھی چھوڑ دے گا اس سے گناہ گار کی نفرت دل میں نہیں آئے گی۔
آدم بے زاری:
باقی رہا آدم بے زاری ، ترک دنیا اور خدائی نعمتوں سے روگردانی کرنا، خودساختہ عبادت کا ایسا طریقہ ہے جس کی قرآن کریم نے بھرپور مذمت کی ہے، اس کو تقویٰ کا عنوان دینا غلط ہے ۔ مجموعی طور پر تقویٰ کے چھ بنیادی فائدے ہیں۔
1:حق و باطل کے درمیان فرق:
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
اِنْ تَتَّقُوا اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّکُمْ فُرْقَانًا
سورۃ الانفال،رقم الآیۃ: 29
ترجمہ: اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو اللہ تمہیں نور باطن عطا فرمائیں گے )جس کی وجہ سے تم حق و باطل میں فرق کر سکو گے ۔(
2:مصیبت سے بچنے کا راستہ :
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا
سورۃ الطلاق ،رقم الآیۃ: 2
ترجمہ: اور جو شخص خدا خوفی کرے گا )اس پر جب کوئی مصیبت آئے گی تو ( اللہ اسے نکلنے کا راستہ عطا فرما دیں گے ۔
ہر شخص کی ضرورت:
آج ہر شخص پریشان حال ہے مصائب و مشکلات کا شکار ہے اور اللہ تعالیٰ مصائب سے بچنے کا آسان نسخہ بتلا رہے ہیں کہ اللہ کی نافرمانیوں سے خود کو بچا لو اگر گناہ ہوجائے تو فوراً توبہ کرو اللہ ہمیں مشکلات و مصائب سے بچا لیں گے۔ یہ وہ بات ہے جس کی ہمارے اسلامی معاشرے میں ہر شخص کو ضرورت ہے ۔
3:بے گمان رزق :
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ۔
سورۃ الطلاق ،رقم الآیۃ: 3
ترجمہ: اللہ اس کو وہاں سے رزق دیں گے جہاں اسے گمان بھی نہیں ہوگا ۔
رزق کا مدار:
آج ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے لوگ روزی کی خاطر دیس بدیس دھکے کھا رہے ہیں ، حلال و حرام کا فرق بھلا بیٹھے ہیں ، جائز ناجائز کی تمیز ختم کر بیٹھے ہیں، حرام طریقوں سے مال کمایا جا رہا ہے ۔ چوری ، ڈکیتی ، لوٹ کھسوٹ ، رشوت ، سود سب کچھ کر رہے ہیں، صرف روزی کے لیے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس رزق کا مدار تقویٰ پر رکھا ہے کہ تم اللہ کی نافرمانیوں سے خود کو بچاؤ اللہ تمہیں رزق کی پریشانیوں سے بچائے گا ۔
4:مشکلات میں آسانی :
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا۔
سورۃ الطلاق ،رقم الآیۃ: 4
ترجمہ: جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کی مشکلات کو آسان فرما دیتے ہیں۔
آج ہمیں جن مشکلات کا سامنا ہے ان کا حل اللہ کریم نے تقویٰ کو قرار دیا ہے ۔ انسان محنت کرے بلکہ خوب محنت کرے،مشکلات سے بچنے کے لیے تدابیر اختیار کرے لیکن یہ بات ذہن میں رہے کہ مشکل آسان تب ہوتی ہے کہ جب انسان صحیح معنوں میں تقویٰ اختیار کرتا ہے۔ تقویٰ کے بغیر مشکلات وقتی طور پر کم ضرور ہوتی ہیں لیکن ختم اور آسان نہیں ہوتیں ۔ مشکلات کا حل تقویٰ اختیار کرنے میں ہے ۔
5:گناہوں کی معافی :
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ ۔
سورۃ الطلاق ،رقم الآیۃ: 5
ترجمہ: جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں ۔
زندگی میں انسان صحیح عقائد کے ساتھ نیک عمل کرے تو اللہ تعالیٰ اس پر ثواب جبکہ برے عمل پر عذاب دیں گے یہ اللہ تعالیٰ کا قانون عدل ہے ۔ ہم میں سے ہر شخص اپنے اپنے گریبان میں جھانکے تو اسے معلوم ہوگا کہ وہ خود کتنا گناہ گار ہے ۔اب اللہ تعالیٰ اپنے قانون عدل کی وجہ سے اس پر سزا و عقاب اور عذاب و عتاب دیں تو یہ بات بالکل برحق ہے لیکن اللہ کا قانون کرم یہ ہے کہ جو شخص دل میں اللہ کا ڈر رکھتے ہوئے گناہوں سے باز آجائے یا گناہ ہونے کے بعد توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں قیامت کو اسے ان گناہوں کی سزا نہیں ملے گی ۔ معلوم ہوا تقویٰ کے عموم میں توبہ بھی شامل ہے۔ کتنی خوش نصیبی کی بات ہے کہ انسان تقویٰ اختیار کرلے اور اللہ سے اپنے گناہوں کو معاف کرا کے جنت میں داخل ہو جائے ۔
6:اجرِ عظیم :
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
:وَيُعْظِمْ لَهُ أَجْرًا ۔
سورۃ الطلاق ،رقم الآیۃ: 5
ترجمہ : اور )آخرت میں (اللہ اسے بہت بڑا اجر عطا فرمائیں گے ۔
اللہ تعالیٰ نے تقویٰ پر ملنے والے ایک انعام کا تذکرہ درج بالا الفاظ میں فرمایا ہے کہ متقی کو مرنے کے بعد روز محشر بہت بڑا اجر عطا فرمائیں گے ۔ ایک بات ہمیں ہر وقت ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ دنیا چند دن کا کھیل ہے جو دن بدن اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ یہاں کی مشکلات عارضی اور وقتی ہیں اور یہاں کی خوشیاں بھی دائمی نہیں ۔ اس لیے مسلمان کی نظر ہمیشہ آخرت پر ہونی چاہیے دنیاوی مشکلات اور خوشیوں کی وجہ سے آخرت کو داؤ پر نہیں لگانا چاہیے ۔
اب ہم یہ بتلاتے ہیں کہ متقی بننے کا طریقہ کیا ہے ؟
1:سچے متقین کی صحبت میں رہنا :
یٰۤاَیُّہَا الَّذِینَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ کُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ
سورۃ التوبۃ،رقم الآیۃ: 119
ترجمہ: اے ایمان والو!اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ رہو۔
ان لوگوں کے ساتھ رہو جو تقویٰ میں سچے ہیں اللہ تمہیں بھی تقویٰ عطا فرمادیں گے۔ یہ بات یاد رکھیں کہ اپنی زندگی کے اکثر اوقات متقین لوگوں کے ساتھ گزارنے سے اللہ تقویٰ جیسی دولت عطا فرماتے ہیں۔ علامہ سید محمود آلوسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : خَالِطُوْهُمْ لِتَكُوْنُوْا مِثْلَهُمْ ان کے ساتھ اتنا زیادہ رہو کہ تم بھی ان جیسے بن جاؤ۔ کبھی کبھار ان کے پاس آنے جانے سےوہ فائدہ نہیں ملتا جو ملنا چاہیے یہ ٹھیک ہے کہ کبھی کبھار بھی آنا جانا فائدے سے خالی نہیں ۔ بقول مولانا روم مرحوم
یک زمانہ صحبتے با اولیا
بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا
حدیث مبارک میں اولیاء کی صحبت کی تاثیر یہ بتلائی گئی ہے کہ وہ انسان کو شقی ہونے سے بچاتی ہے هُمُ الْجُلَسَاءُ لَا يَشْقَى بِهِمْ جَلِيسُهُمْ اور جو شقی ہونے سے محفوظ رہا وہ ہمیشہ جہنم میں رہنے سے محفوظ رہا ۔جبکہ محض عبادات اگرچہ بے ریا ہی کیوں نہ ہوں ان میں مردودیت سے حفاظت کی ضمانت نہیں ، شیطان نے برسہا برس عبادت کی لیکن پھر بھی مردود ہونے سے نہ بچ سکا ۔
2:یہ دعا مانگتے رہنا :
اَللَّهُمَّ أَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَأرْزُقْنَا اتِّبَاعَهُ وَأَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَأرزقنَا اجْتِنَابَهُ۔
اے اللہ ہمیں حق کا راستہ دکھا !اور اس پر چلنے کی توفیق عطا فرما! اے اللہ ہمیں باطل کا راستہ سجھا اور اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما!