تعظیم رسول صلی اللہ علیہ وسلم …حصہ اول

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
تعظیم رسول صلی اللہ علیہ وسلم …حصہ اول
اللہ تعالیٰ نےاپنی تمام مخلوقات میں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو عزت و شرافت، احترام و تعظیم اور مقام و مرتبہ عطا فرمایا ہے اتنا کسی اور کو نہیں دیا گیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دل سے وجہ تخلیق کائنات، مقصد تخلیق کائنات، واجب الاتباع، خاتم الانبیاء، شفیع المذنبین، رحمۃللعالمین، محسن، مشفق، ہادی، رہبر اور محبوب جاننا اور ماننا ضروری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے امت پر جتنے حقوق ہیں ان میں اطاعت کے بعد دوسرا بڑا حق آپ کی تعظیم بجا لانا ہے۔ تعظیم کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی شان کے لائق آپ سے تعلق رکھا جائے، ادب و احترام کا ازحد خیال کیا جائے،آپ کی تعلیمات پر دل و جان سے ایمان لا کر عمل کیا جائے۔
اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں اہل ایمان کو جو سب سے پہلے خطاب فرمایا ہے اس میں تعظیم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انظُرْنَا وَاسْمَعُوا وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 104
ترجمہ: اے ایمان والو!تم )اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے ( راعنا نہ کہو بلکہ انظرنا کہا کرو اور بات کو اچھی طرح سنا کرو اور کافروں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔
فائدہ: مدینہ کے یہودی جب آپ سے بات چیت کرنے کے لیے آتے تو” راعنا“ کہتے جس کا عام طور پر مطلب یہ بنتا ہے کہ ہماری رعایت فرمائیں لیکن اگر اس میں عین کو ذرا کھینچ کر بولا جائے تو اس کے معنی بنتے ہیں اے ہمارے چرواہے! چونکہ اس لفظ سے بے ادبی اور گستاخی کا وہم پیدا ہوتا ہے اس لیے اللہ رب العزت نے ایسا لفظ بولنے پر پابندی لگا دی جس سے تعظیم رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ذرہ برابر بھی فرق پڑتا ہو۔ ”راعنا“ کے بجائے ”انظرنا“ کہنے کا حکم دیا جس کا معنی ہے ہم پر نظر شفقت فرمائیں۔
لَا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُم بَعْضًا قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنكُمْ لِوَاذًا فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
سورۃ النور، آیت نمبر 63
ترجمہ: تم )اللہ کے (رسول کو اس طرح سے نہ پکارو جیسے آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو اللہ ان لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے جو تم آہستگی سے نکل جاتے ہیں لہٰذا جو لوگ اللہ کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں وہ اس بات سے ڈریں کہ ان تک کوئی آفت )آزمائش ( آ پہنچے یا کوئی دردناک عذاب نازل ہوجائے۔
فائدہ: عموماً جب لوگ ایک دوسرے کو بلاتے ہیں تو اس بلانے میں زیادہ اہمیت نہیں ہوتی بلکہ برابری کی سطح پر بلاتے ہیں، آیت مبارکہ میں اس انداز سے روکا جا رہا ہے کہ اس سے تعظیم رسول میں دراڑ پڑتی ہے۔ حکم ہے کہ ادب اور تعظیم کے ساتھ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا کرو۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارنے کے بارے میں آج بھی یہی ضابطہ ہے کہ دور سے نہ پکارا جائے اور روضہ مبارکہ کے قریب آہستہ سےصلوٰۃ وسلام عرض کیا جائے اور اپنی شفاعت کی درخواست بھی آہستہ آواز میں عرض کی جائے۔
إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا لِّتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ وَتُسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا۔
سورۃ الفتح، آیت نمبر 9،8
ترجمہ: اے پیغمبر!یقیناً ہم نے آپ کو گواہی دینے والا، ) اللہ کی طرف سے ملنے والے انعام و ثواب کی (خوشخبری دینے اور )اللہ کے عذاب سے (ڈرانے والا بنا کر بھیجا۔ تاکہ )لوگو(تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اس کی نصرت کرو اور اس کی تعظیم کرو اور صبح و شام اللہ کی تسبیح بیان کرتے رہو۔
فائدہ: آیت مبارکہ میں بتایا جا رہا ہے کہ رسول پر ایمان لاؤ، ان کے مشن میں ان کا ساتھ دو اور ان کا بلند مقام و مرتبہ تسلیم کر کے ان کی تعظیم کرو یعنی ان کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارو۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ O يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ O إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِندَ رَسُولِ اللَّهِ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَىٰ ۚ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ O إِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِن وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ O وَلَوْ أَنَّهُمْ صَبَرُوا حَتَّىٰ تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ ۚ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ O
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 1 تا 5
ترجمہ: اے ایمان والو!اللہ اور اس کے رسول کے آگے نہ بڑھا کرو، اللہ سے ڈرتے رہو یقیناً اللہ تعالیٰ سب کچھ سنتا بھی ہے اور اچھی طرح جانتا بھی ہے۔ اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند نہ کرو، اور نہ ان سے بات کرتے ہوئے اس طرح زور سے بولا کرو جیسے تم ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو، ایسانہ ہو کہ تمہارے اعمال برباد ہو جائیں اور تمہیں پتہ بھی نہ چلے۔ بے شک جو لوگ بارگاہ نبوت میں اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے خوب جانچ کر تقویٰ کےلیے منتخب کر لیا ہے، ان کو مغفرت بھی حاصل ہے اور زبردست اجر بھی۔اے پیغمبر!وہ لوگ جو آپ کو حجروں کی پیچھے سے آواز دے کر بلاتے ہیں ان میں سے اکثر بے عقل ہیں۔
فائدہ: ان آیات مبارکہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و جلالت شان اور آداب کا تذکرہ ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ جن معاملات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمانا ہو، آپ نے مشورہ طلب بھی نہ کیا ہو تو ایسے معاملات میں پہلے ہی سے کوئی رائے قائم کر کے اس پر اصرار نہ کرو اور نہ ہی ایسا انداز اختیار کرو جس سے بارگاہ نبوی میں بحث و مباحثہ کی صورت بن جائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں اپنی آوازوں کو ادب و تعظیم کی وجہ سے پست رکھو۔ کیونکہ کسی بڑے کی مجلس میں زور سے بولنا ادب کے خلاف ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر کے حقیقی مصداق ہیں۔ روضہ مبارکہ پر آیت مبارکہ
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ …الخ
لکھی ہوئی موجود ہے، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیاوی حیات میں یہ حکم تھا وفات کے بعد قبر اطہر میں ملنے والی حیات برزخیہ کی وجہ سے یہی حکم اب بھی باقی ہے۔ اس لیے روضہ مبارکہ پر جانے والے زائر کو ادب اور تعظیم کا خیال کرتے ہوئے مناسب آواز میں صلوٰۃ وسلام عرض کرنا چاہیے۔ مسجد نبوی کے احاطے میں بلند آواز سے باتیں کرنا منع ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں تعظیم رسول کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم۔
والسلام
محمد الیاس گھمن
خانقاہ حنفیہ، قلعہ احمد آباد، نارووال
جمعرات، 22 نومبر، 2018ء