افضل الانبیاء والرسل صلی اللہ علیہ وسلم …حصہ دوم

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
افضل الانبیاء والرسل صلی اللہ علیہ وسلم …حصہ دوم
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انبیاء و رسولوں میں سب سے زیادہ فضیلت والے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو باقی انبیاء کرام علیہم السلام پر افضلیت حاصل ہے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فُضِّلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِسِتٍّ: أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَهُوْرًا وَمَسْجِدًا وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ•
صحیح مسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، حدیث نمبر522
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے چھ چیزیں عطاکرکے مجھے باقی انبیاء کرام علیہم السلام پرفضیلت دی ہے:
1: اللہ نےمجھے
جوامع الکلم
دیے۔
2: رعب عطافرماکے میری مددکی ہے۔
3: مال غنیمت کو میرے لیے حلال کیا ہے۔
4: پوری زمین کومیرے لیے
”طَھُوْر“
بنادیاہے۔
5: پوری زمین کو میرے لیے سجدہ گاہ بنا دیا ہے۔
6: مجھے پوری مخلوق کانبی بنادیا ہے۔
) ان کا خلاصہ یہ ہے کہ( مجھے اللہ نے آخری نبی بنادیا ہے۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث مبارک میں ایک دعوی کیا ہے
”خُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ“
کا کہ اللہ رب العزت نے مجھ پہ نبوت کا سلسلہ ختم فرمادیا، میں آخری نبی ہوں،میرےبعداب کوئی نبی پیدانہیں ہو گا اس کےلئے اللہ کےنبی صلی اللہ علیہ و سلم نے چھ دلائل پیش فرمائے ہیں۔
جامع کلمات:
اللہ نے ہمارے نبی کو
”جوامع الکلم“
دیے ہیں،پہلے انبیاء علیہم السلام کو
”کَلِمْ“
دیے ہیں۔ ”
کَلِمْ“
اور
”جوامع الکلم“
میں فرق یہ ہےکہ
”کلمہ“
اسے کہتے ہیں کہ لفظ ایک ہواورمعنی بھی ایک ہواور
”کلمہ جامعہ“
اس کو کہتے ہیں کہ لفظ ایک ہو اورمعانی زیادہ ہوں۔ پہلے انبیاء علیہم السلام کواللہ نےکلمات دیے، ہمارے نبی کوکلمات جامعات دیے۔ اس لیے کہ پہلے نبی ایک بستی یاایک قوم کے نبی تھے، انہیں تھوڑے مسائل کی ضرورت تھی اللہ نے تھوڑے سےکلمات دےدیے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم قیامت تک کے نبی ہیں، سارے زمانوں کے نبی ہیں، ساری قوموں کے نبی ہیں، ہمارےنبی کوکروڑوں مسائل چاہیے تھے جوعرب وعجم، شرق وغرب اورقیامت تک کے آنے والے تمام افراد کوکافی ہوجائیں۔ اب اگراللہ کروڑوں مسائل کے لیے ہمارے نبی کو کروڑوں الفاظ دیتے تو ان کو محفوظ کرنا بہت دشوار ہوتا۔ اللہ نے کرم یہ فرمایا کہ ہمارے نبی کو کلمات جامعات دیے اور ان کی تہہ میں کروڑوں مسائل رکھ دیے۔ اب قیامت تک مسئلہ پیش آتاجائے توحدیث کی تہہ سے نکلتاجائے گااورمجتہد اورفقیہ نکال کر امت کو دیتے جائیں گے۔
رعب:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ
اللہ نے رعب عطاکرکے میری مددفرمائی ہے۔
رعب عطاکرکے مددکرنے کامطلب کیا ہے؟ اس کو سمجھنے کے لیے اس حدیث کے ساتھ ایک دوسری حدیث مبارک کوملائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ
صحیح البخاری، حدیث نمبر 335
اگر میری امت کا کوئی فرد مجھ سے اتنا دور ہوکہ میرے پاس آنے میں اس کو ایک مہینہ لگ جائے، میں یہاں پہ ہوتاہوں میرا رعب اس وقت اس پروہاں چلا جاتا ہے۔ ایک دو روز کی مسافت کی بات نہیں ہے بلکہ فرمایا ”مَسِيرَةَ شَهْرٍ“ کہ اگرامت کا کوئی فردمجھ سے اتنا دور ہو کہ مجھ تک آنے میں اس کو ایک ماہ لگے تو اتنی دور تک کا خدا نے مجھے رعب دے کر میری مدد فرمائی ہے۔
یہ اعزاز اللہ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کیوں دیا ہے، پہلے انبیاء کرام علیہم السلام کو کیوں نہیں دیا؟ کیونکہ پہلے نبی کا دائرہ نبوت چھوٹا ہے،اُن کادائرہ ایک قوم، ایک بستی، ایک شہر ہے۔ توجب ایک شہرہے تونبی وہاں تک خود جائے گا، نبی کی بستی ہے توبستی میں ہرشخص کے پاس نبی خود جائے گا۔ ہمارے نبی کادائرہ ایک بستی، ایک شہراور ایک قوم نہیں ہے،ہمارے نبی کادائرہ دنیامیں ساری قومیں، ساری بستیاں، سارے شہر، سارے ممالک بلکہ ہمارےنبی کادائرہ قیامت تک آنے والے سارےزمانےہیں اورحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ہرایک کے پاس خودنہیں جانا، دائرہ نبوت بڑاہے لیکن نبی کامقام مخصوص ہے۔
ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دائرہ نبوت اتناوسیع ہےکہ دنیا میں کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں سے لے کر مدینہ پہنچنے میں ایک مہینے سے زیادہ وقت لگتاہو۔ آج کےدورمیں سب سے تیزرفتار سواری ہوائی جہازشمارہوتاہے۔ عام جہاز کی رفتار 1170کلومیڑ فی گھنٹہ ہے اور ابھی تک جوجہاز ایجاد ہوئے ہیں تو تیز ترین جہاز 13000کلومیڑ فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرتا ہے۔ اس کامعنی یہ ہے کہ دنیا کے ایک کونے سے لے کر مدینہ تک تیز ترین جہاز پہنچے تو ایک گھنٹہ نہیں لگتا۔ گویا اللہ کےنبی صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں کہ میرے پاس آنے والااتنادورہو کہ میرےپاس آنے میں ایک ماہ لگے تو میرا رعب وہاں تک بھی جاتا ہے۔
میرےنبی مدینہ منورہ میں موجود ہیں کوئی جگہ ایسی نہیں بچتی جہاں سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آنے میں ایک ماہ سے زیادہ مسافت ہو،اس کامعنی یہ ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہیں مدینہ میں لیکن حضورصلی اللہ علیہ وسلم کارعب ہے پوری کائنات میں۔
مالِ غنیمت:
وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ•
میرے لیے مالِ غنیمت کوحلال قراردے دیاگیا۔
مالِ غنیمت کے حلال ہونے کا معنی یہ ہے کہ مسلمان میدان جنگ میں کفار کے ساتھ جہاد کے لیے نکلے اور کافر کا جو مال ان کو جنگ کے بعد ملے یہ ”مالِ غنیمت“ ہے۔ پہلے انبیاء علیہم السلام کے لیے یہ حلال نہیں تھا، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اعزاز یہ ہے کہ دشمن کے مدِ مقابل حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی امت نکلے،میدان جنگ میں کفار سے لڑے،جو مال غنیمت ملے وہ ان کےلیے حلال ہے جوپہلے والوں کےلیے حلال نہیں تھا۔ مال غنیمت حلال کیوں ہے؟ وجہ ”خُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ“ ہےکہ آخری نبی جوہیں، جانا دور تک ہے، اب یہ کمائیں یاجہاد کریں،توفرمایاکہ اے پیغمبر! ہم نے آپ کی یہ مشکل بھی حل کر دی، مال غنیمت ہی کوحلال کردیا ہے۔
زمین ذریعہ طہارت:
وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَهُورًا•
خدانے پوری زمین کومیرے لیے طہور یعنی پاک کرنے کا ذریعہ بنادیا۔
پہلے نبیوں کے لیے تیمم کی گنجائش نہیں تھی۔ اس امت کے لیے تیمم کی گنجائش موجود ہے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے پوری زمین کو ان کے لیے ”طہور“ بنا دیا۔ پچھلی امتوں کے لیےجوکام پانی سے لیا اس امت کے لیے وہی کام مٹی سے لیا ہے۔ اس کی ضرورت کیا تھی؟ پہلے نبی ایک بستی کا نبی ہے جہاں بستی ہوتی وہاں پانی بھی تو ہوتا،اگرپانی نہ ہوتو”بستی“ بستی ہی نہیں ہے۔ بستی تب ہوتی ہے جب بسنے کی جگہ تو ہو، اگر بسنے کی جگہ نہ ہو تواسے بستی کہتے ہی نہیں ہیں،توبستی وہاں ہو گی جہاں پانی ہو، شہروہاں ہوگا جہاں پانی ہو،آبادی وہاں پہ ہو گی جہاں پانی ہو گا۔ ایک شہر کا نبی ہے توشہروہاں ہو گا جہاں پانی بھی ہے،ایک قوم کانبی ہےقوم وہیں ٹھہرے گی جہاں پانی بھی ہے،ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ایک بستی کے نہیں،ایک قوم کے نہیں بلکہ اقوامِ عالم کے نبی ہیں، تمام جہانوں کے نبی ہیں، اس کامعنی یہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور دیگر انبیاء علیہم السلام میں فرق یہ ہے کہ پہلے نبی کی امت نے نمازتوپڑھی ہے لیکن بستی میں کیوں کہ امت ایک بستی تک محدود تھی۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی امت نے وہاں بھی جانا ہے جہاں پانی نہیں، اگر پانی ہے توکبھی اتنانہیں ہے کہ جس سے وضوکریں یا جس سے غسل کریں، اتنا ہے کہ بس پی سکتے ہیں وضو یا غسل نہیں کرسکتے۔ پہلی امت نے چونکہ مخصوص جگہ پہ رہنا ہے اس کےلیے پانی تھا توتیمم کی ضرورت نہیں تھی،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی امت نے ایسی جگہوں پہ جاناہو گاجہاں غسل کی حاجت ہوگی لیکن پانی نہیں ہو گا، وضوکی حاجت ہوگی اگروضوکےلیےپانی نہیں تومٹی سے تیمم،اگرغسل کےلیے پانی نہیں تومٹی سے تیمم، باقی انبیاء علیہم السلام کی جگہ محدودتھی وہاں پرپانی تھا، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ غیرمحدود ہے جہاں پانی نہیں، تو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت وہاں بھی ہے جہاں پانی نہیں ہو گا۔
روئے زمین سجدہ گاہ:
وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا•
میرے لیے پوری زمین کوسجدہ گاہ بنا دیاگیا ہے۔
پوری زمین کوسجدہ گاہ کیوں بنایا؟ پہلے عبادت کےلیے مخصوص مکان تھے وہاں ٹھہرکے نمازپڑھیں، اس امت کے لیےمخصوص مکان بھی ہے جہاں ٹھہر کے نمازپڑھیں لیکن کسی بھی جگہ نماز پڑھیں تو اللہ نے اسے سجدہ گاہ بنا دیا ہے۔یہ اعزاز صرف ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کودیا ہے۔کیونکہ پہلے نبی ایک ایک بستی اور شہر کے نبی ہیں، وہاں ایسا مکان بنایاجاسکتا ہے کہ لوگ وہیں آکے نمازپڑھیں۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ایک بستی، شہر اور ایک ملک کے نبی نہیں ہیں بلکہ پورے عالَم کے نبی ہیں، ہمارے نبی ان جگہوں کے بھی نبی ہیں جہاں آبادی نہیں ہے تو اللہ نے اعزازیہ دیا کہ پوری زمین کوان کے لیے سجدہ گاہ بنادیاگیا۔ ایک مسجدوہ ہے جووقف ہو،یہاں مرادعام ہے ”مصلی“ یعنی نماز پڑھنے کی جگہ۔ تو پہلے انبیاء علیہم السلام کی ضرورت نہیں تھی توان کے لیے پوری زمین کوسجدہ گاہ نہیں بنایا، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو ضرورت تھی تو ان کے لیے پوری زمین کو سجدہ گاہ بنادیا۔
رسالت عامہ:
وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً•
اللہ نے مجھے پوری مخلوق کا نبی بنایا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا:
اُرْسِلْتُ اِلَی الْاِنْسِ وِ الْجِنِّ جَمِیْعًا
مجھے انسان اور جنات کا نبی بنایا۔بلکہ: أُ
رْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً
•مجھے پوری مخلوق کانبی بنایا۔ پوری مخلوق میں جن، حور، غلمان، فرشتے، امتیں، امتوں کے نبی بھی ہیں۔
یہ تو ذی روح ہیں، فرشتہ، انسان، حور و غلمان ذی روح ہیں۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ نہیں فرمایا کہ میں صرف ذی روح کا نبی ہوں، بلکہ فرمایا میں پوری مخلوق کا نبی ہوں۔ مخلوق میں ذی روح بھی ہے، مخلوق میں جوروح والا نہیں وہ بھی ہے، پتا یہ چلا کہ مخلوق میں مکین روح والابھی ہے،مخلوق میں مکان جوروح والانہیں وہ بھی ہے،مخلوق میں زمان بھی ہے، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سارے مکانات کے نبی ہیں، ہمارےنبی سارے مکینوں کے نبی ہے، ہمارے نبی سارے زمانوں کے نبی ہیں۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب سارے مکانوں کے نبی ہیں تومکانوں میں دنیا بھی ہے، مکانوں میں برزخ بھی مکان ہے، تو حضور یہاں کے بھی نبی، حضور وہاں کےبھی نبی، ہمارے نبی سارے زمانوں کے نبی، ہمارے نبی قیامت تک کے نبی ہیں،جب دنیا بنی تھی تب بھی نبی تھے،جب دنیا نہیں ہوگی تب بھی نبی ہوں گے۔
قرآن کریم میں ہے کہ جب مشرکین نے کہا تھا:
اَللّٰهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيْمٍ
.
سورۃ الانفال، آیت نمبر 32
ترجمہ: اےاللہ! اگریہ دین محمدسچا ہے تو ہمارے اوپرآسمان سے پتھر برسا دے یا ہمیں درد ناک عذاب دےدے۔
اللہ نے آسمان سے پتھرکیوں نہیں برسائے؟ خدا نے اس کی دلیل دی ہے، فرمایا:
وَأَنْتَ فِيهِمْ
سورۃ الانفال، آیت 33
میں ان پرپتھرنہیں برساتا اس لیےکہ میرانبی آپ جو اِن میں ہیں۔
 آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے پتھر نہیں برسے، وجہ
”وَأَنْتَ فِيهِمْ
 آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکل کرمدینہ میں چلے گئے پتھرنہیں برسے، وجہ
”وَأَنْتَ فِيهِمْ
 آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے تبوک چلے گئے، ان پر پتھرنہیں برسے، وجہ
”وَأَنْتَ فِيهِمْ“
 آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرش پہ گئے ان پر پتھر نہیں برسے، وجہ
”وَأَنْتَ فِيهِمْ
 آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبرمیں گئے ان پرپتھرنہیں برسے، وجہ
”وَأَنْتَ فِيهِمْ
اللہ نےفرمایا ان کوہلاک اس لیے نہیں کرتاکہ آپ ان میں موجودہیں، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کےبھی نبی ہیں، مدینہ کےبھی نبی ہیں، فرش کے بھی نبی ہیں،عر ش کےبھی نبی ہیں، اِس جہان کےبھی نبی ہیں، اُس جہان کے بھی نبی ہیں۔
”أُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً“
حضورصلی اللہ علیہ وسلم پوری مخلوق کے نبی ہیں۔ یہ بھی مخلوق، وہ بھی مخلوق،یہ جہان بھی مخلوق وہ جہان بھی مخلوق۔
مفتی اعظم پاکستان مفتی محمدشفیع رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں: نبی جن کا نبی ہو ان میں زندہ بھی ہوتا ہے۔ مکہ کے نبی، مکہ میں زندہ، مدینہ کے نبی مدینہ میں زندہ، زمین کے نبی زمین پہ زندہ، فرش کے نبی فرش پہ زندہ، عرش کے نبی عرش پہ زندہ، یہاں کے نبی یہاں پہ زندہ، وہاں کے نبی وہاں پہ زندہ توپھر مان لے نبی یہاں بھی زندہ تھے، نبی وہاں بھی زندہ ہیں،یہاں کے بھی نبی ہیں،وہاں کے بھی نبی ہیں،یہاں بھی زندہ وہاں بھی زندہ۔
حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو تما م مخلوقات کی طرف کیوں بھیجا گیا ہے؟ تو وجہ حضور نے خود بتائی ہے، فرمایا:
”خُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ“
آخری نبی جو ہوں۔ پہلے نبی پوری مخلوق کے نبی کیوں نہیں تھے؟اس لیے کہ ان کے بعدنبی اورآنا تھا۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم پوری مخلوق کے نبی کیوں ہیں؟ اس لیے کہ ان کے بعدکوئی اور نبی آنا جو نہیں ہے، اس لیے پوری مخلوق کے نبی ہیں۔
نبی جن کا نبی ہوان میں نبی سے زیادہ حسین بھی کوئی نہیں ہوتا،ان میں نبی سے بڑاعالم بھی کوئی نہیں ہوتا۔ معلوم ہوا کہ حضرت آدم سےلے کر حضرت عیسیٰ علیہم السلام تک سارے نبیوں کاعلم ملالیاجائے توہمارے نبی کا علم زیادہ ہے،قیامت تک آنے والےسب انسانوں کے علم کو ملالیں تو میرے نبی کا علم زیادہ ہے،کیوں کہ نبی جن کا نبی ہوان میں نبی سے بڑا عالم کوئی نہیں ہوتا، پوری کائنات کا علم ایک طرف ہو تو بھی ہمارے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا علم زیادہ ہے۔
نبی جن کا نبی ہو ان میں نبی سے زیادہ حسین کوئی نہیں ہوتا۔ ہمارے نبی کا حسن سارے نبیوں سے زیادہ، اِن کا حسن امت سے زیادہ،اِن کاحسن جنت سے زیادہ،یہ جنت کابھی نبی ہے،جنتی کابھی نبی ہے توجنتی سے بھی زیادہ مصطفیٰ حسین ہے، جنت سے بھی زیادہ مصطفیٰ حسین ہے۔
”وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً“
فرمایامیں پوری مخلوق کا نبی ہوں۔ وجہ
”وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ“
کہ آخری نبی ہوں کہ میرے بعد کسی نبی نے آنا جو نہیں ہے۔
حضورصلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا کہ خدانے مجھے چھ اعزازدیے:
1:
”أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ“
مجھے جوامع الکلم دیے، وجہ؟
”خُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ“
کہ میں آخری نبی جوہوں میری ضرورت تھی۔
2:
”وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ“
مجھے رعب دے کرمیری مددکی، وجہ؟
”خُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ“
کہ میں آخری نبی جوہوں میری ضرورت تھی۔
3:
”وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ“
مالِ غنیمت میرے لیے حلال کیا، وجہ؟
”خُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ“
کہ میں آخری نبی جوہوں میری ضرورت تھی۔
4:
”وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَهُورًا“
ساری زمین کومیرے لیے طہور بنا دیا، وجہ؟
”خُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ“
کہ میں آخری نبی جوہوں میری ضرورت تھی۔
5:
”وَمَسْجِدًا“
پوری زمین کومیرے لیے سجدہ گاہ بنایا، وجہ؟”
خُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ“
کہ میں آخری نبی جوہوں میری ضرورت تھی۔
6:
”وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً“
مجھے پوری مخلوق کا نبی بنایا، وجہ؟
”خُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ“
کہ میں آخری نبی جوہوں میرے بعد کسی نبی نے آنا جو نہیں۔
یہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باقی انبیاء علیہم السلام پر فضیلت اور افضلیت ہے ۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں،ہم آخری امت ہیں،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے بعدکوئی نبی پیدانہیں ہوگا، اس امت کے بعد کسی امت نے آنانہیں اوراللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےایک بارصحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بعدوالوں کا تذکرہ فرمایا:
متى ألقى إخواني؟
میں اپنے بھائیوں سے کب ملوں گا؟صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یارسول اللہ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ فرمایا:
بل أنتم أصحابي، وإخواني الذين آمنوا بي ولم يروني، أنا إليهم بالأشواق
.
کنز العمال، حدیث نمبر 34583
تم تومیرے اصحاب ہو، میرے بھائی وہ ہیں جنہوں نے مجھے دیکھا نہیں اورمیراکلمہ پڑھا ہے، ان کی ملاقات کا میں بھی شوق رکھتا ہوں، میرادل کرتا ہے میں ان سے ملوں جنہوں نے مجھے دیکھا نہیں لیکن میرا کلمہ پڑھا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہمیں دیکھیں گے اورہم حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی حوض کوثر پر زیارت کریں گے۔ دعا کریں کہ اللہ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں جام کوثر عطافرمائے،اللہ رب العزت مجھے اور آپ کو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کاسچاعشق نصیب فرمائے اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا سچاغلام بنائے۔
آمین بجاہ افضل الانبیاء والمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
والسلام
محمد الیاس گھمن
خانقاہ چشتیہ ، شاہ عالم سلنگور ملائیشیا
جمعرات، 13 دسمبر، 2018ء