سورۃ البقرۃ

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
سورۃ البقرۃ
بِسۡمِ اللہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
﴿ الٓـمّٓ ۚ﴿۱﴾ ذٰلِکَ الۡکِتٰبُ لَا رَیۡبَ ۖ فِیۡہِ ۛہُدًی لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَیۡبِ وَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ۙ﴿۳﴾﴾
تمہید:
آپ حضرات کے علم میں ہے کہ گزشتہ درسِ قرآن کا عنوان تھاسورۃ الفاتحہ۔ہم اس پر مسلسل مشورہ کرتے رہے کہ درسِ قرآن کی ترتیب کیا بنائیں؟ اگر ایک ایک رکوع کو لےکر چلتے ہیں توسورۃ البقرہ میں ہی کئی سال گزر جانے ہیں اور سورۃ البقرہ نے ختم نہیں ہونا۔ اس لیے سب سے بہتر اور مناسب حل یہ تجویز کیا کہ ہم ماہانہ درسِ قرآن میں پوری سورۃ کا خلاصہ آپ کی خدمت میں پیش کر یں۔
سورۃ الفاتحہ کی سات آیات میں نے آپ کے سامنے پیش کی تھیں۔سورۃالبقرہ کا آج پورے اڑھائی پارے کا خلاصہ میں آپ کی خدمت میں پیش کروں گا۔ اس لیے کہ سورۃالبقرہ میں 286 آیات اور 40 رکوع ہیں۔ اب اگر ایک ایک رکوع کو بیان کریں تو 40 مہینے اس کےلیے چاہییں۔ آپ خوداندازہ فرمائیں مزید کتنے سال لگیں گے۔ اس لیے پھر یہ مناسب سمجھا کہ پوری سورۃ کا خلاصہ اختصار کے ساتھ ایک گھنٹے میں بیان کر دیں۔
عقائد و نظریات ……اہم پہلو:
آپ سمجھتے ہیں میرا خاص موضوع ہے عقائد اور نظریات پر کام کرنا، میں عقائداور نظریات کےحوالے سےجتنے مسائل ہیں اس پر عرض کروں گا باقی سارے مسائل کو بیان کرنا تو بہت مشکل ہے،ایک گھنٹے میں آدمی سورۃ البقرہ کی تلاوت کرے تو وہ پوری نہیں ہوتی، اس میں پورے مضامین کیسے بیان کیے جا سکتے ہیں؟
سورۃ البقرہ کی بنیادی معلومات:
علامہ قرطبی رحمہ اللہ نے الجامع لاحکام القران میں ابن عربی رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ سورۃ البقرۃ میں:

1000اوامر ہیں۔

1000 نواہی ہیں۔

1000 حکمتیں ہیں

1000 اخبار اور قصص ہیں ۔
الجامع لاحکام القرآن للقرطبی: ج1 ص80
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور سورۃ البقرہ:
سورۃ البقرہ کتنی اہم سورۃ ہے؟ علامہ قرطبی رحمہ اللہ نے نقل فرمایا ہے: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سورۃالبقرہ کو بارہ سال میں حفظ کیا ہے اور ان کے بیتے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو آٹھ سال لگے۔
الجامع لاحکام القرآن للقرطبی: ج1 ص80
وہ سورۃ البقرہ جتنی سمجھتے تھے اتنی یاد کر لیتے تھے سمجھتے بھی تھے اور یاد بھی کرتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سورۃ البقرہ کے حفظ سے فارغ ہوئےتو ایک اونٹ ذبح کر کے دعوت کی تھی۔
الجامع لاحکام القرآن للقرطبی: ج1 ص25
ختم قرآن پر چندہ کی رسم:
مجھے بعض ساتھی کہنے لگے: ادھر آپ منع کرتے ہیں کہ قرآن مجید ختم کریں تو مٹھائی تقسیم نہ کریں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مثال بھی دیتے ہیں؟ میں نے کہا ہم منع کرتے ہیں کہ ان سے چندہ جمع نہ کریں خود تقسیم کریں تو کون منع کرتا ہے؟ یہ دس د س روپے جمع نہ کریں کہ قرآن کا ختم ہے، دس دس روپےدے کر یوں قرآن کی توہین،بے عزتی اورتذلیل نہ کریں۔ ہاں کسی کو اللہ توفیق عطا کرے وہ کہے جی میں قرآن ختم کرتا ہوں اور اس پر مٹھائی کھلائے کون منع کرتا ہے؟
ختم قرآن کی خوشی:
میں الحمد للہ ہر سال قرآن مجید ختم کرتا ہوں اور کہیں سے بھی شروع کروں میرا 29ویں رات کو ختم قرآن اپنے مرکز اھل السنۃ والجماعۃ سرگودھا میں ہوتا ہے میں اپنی جیب سے تمام آنے والے حضرات کی مٹھائی کے ساتھ خاطر تواضع کرتا ہوں، مجھے خوشی ہوتی ہے اور میں خوشی کا اظہار بھی کرتا ہوں۔ کبھی اس پر نہ ہم نے چندہ کیا ہے اورنہ ہی اپنے ختم قرآن کےلیے اللہ کبھی چندہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اپنی جیب سے لگانے کی عادت ڈالنی چاہیے، اس کا بہت فائدہ ہوتا ہے۔
درسِ قرآن کے لیے محنت:
خیر میں عرض کررہاتھا کہ سورۃ البقرہ مضامین کے حوالے سے اتنی اہم سورۃ ہے اس میں تین چار باتیں میں نے آپ لوگوں کو سمجھانی ہیں۔ اللہ تعالیٰ مجھے صحیح سمجھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ میں صرف توجہ دلانے کے لیے عرض کر تا ہوں اس پر کتنی محنت کرنی پڑتی ہے؟ یقین فرمائیں آپ کو اندازہ نہیں ہے۔ اس کی تیاری کے لیے میں رات چار بجے تک جاگا ہوں ، چار بجے کے بعد کتنا وقت بچتا ہے؟ ڈیڑھ گھنٹا سویا، ساڑھے پانچ بجے پھر اٹھ گیا، پھرآدھا گھنٹا سویا، پھر کام شروع کیا،آپ کا ایک درس ہے میں نے صبح ساڑھے نو بجے الگ بیان کیا ہے، جمعہ کا الگ بیان کیا ہے، پھرچناب نگر کانفرنس کا آخری بیان الگ کیا ہے یہ چوتھی جگہ میرا درس قرآن ہے۔
درسِ قرآن کا انداز:
یہ درسِ قرآن میں بڑا دھیما دھیما دیتا ہوں اس لیے کہ میں نے خطابت والا درس دیا تو تمہاری مسجد کے نمازی کہیں گے یہ عید گاہ تو نہیں ہے یہ مسجد عثمانیہ ہے۔ مولانا صاحب کو سمجھاؤ! سیدھی سیدھی تقریر کرے تو اس لیے میں آپ حضرات کی بہت رعایت کرتا ہوں۔ لیکن مجھے اتنا دکھ ہوتاہے کہ بعض حضرات اس رعایت کوبھی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ بندے کو کتنی تکلیف ہوتی ہوگی؟ خیر ہمیں اللہ بات سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
دکھ برداشت کرنے پر نصرت خداوندی:
جب آدمی کو دکھ ہوتا ہے اور پھر دکھ کا جواب نہ دے تو اس پر اللہ کی مدد اور نصرت بہت زیادہ آتی ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے صحابی رضی اللہ عنہ کی کسی بات پر آپس میں ناخوشگوار بات ہوئی اور تکرار شروع ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے مسکرا رہے تھے، حضرت ابو بکر رضی اللہ نے تھوڑی دیر بعد تکرار کا جواب دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑا سا ناراضگی کا اپنے چہرے مبارک سے اظہار فرمایا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ عرض کیا: حضور! پہلے آپ مسکرا رہے تھے، پھر آپ نے ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"اِنَّہٗ كَانَ مَعَكَ مَلَكٌ يَرُدُّ عَنْکَ فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهٖ وَقَعَ الشَّيْطَانُ."
مسند احمد: ج9 ص264 رقم الحدیث 9590
جب تو چپ تھا تو فرشتہ تیری بات کا جواب دے رہاتھا اور جب تو نے جواب دینا شروع کیا تو شیطان پڑ گیا۔ کیا مطلب ؟ کہ اب فرشتہ چلا گیا اور اب شیطان خوش ہو رہا ہے۔
تو میں مسکرا اس لیے رہا تھا کہ تیرا دفاع فرشتے کرتے ہیں اور تجھے اپنا دفاع کرنے کی کیا ضرورت ہے؟
مخالفین کے پروپیگنڈے:
یہ اتنی انوکھی بات نہیں کہ میں تمہیں نہ بتاؤں ابھی چند دن پہلے میں گرفتار ہوا، پھر لوگوں نے احتجاج کیا تو تین دن بعد رہا ہوا۔ اب مجھے اتنا دکھ ہوا کہ بتا نہیں سکتا سرگودھا میں ایک مستقل طبقہ لگا ہوا ہے کہتا ہے کہ جی لیڈر بننے کی خاطر تین دن جیل میں رہا۔ میں نے کہا ایک دن تو بھی ادھر چلا جا تاکہ تجھے پتا چلے یہ کتنا مشکل کام ہے۔ میں نے کہا میں تو شہرت کا بھوکا تھا یہ جو روڈ پر نکلے تھےان کو کیا ہوا تھا؟ ان کوکون سی شہرت چاہیےتھی؟
یقین کرو! بندے کو اتنا دکھ ہوتا ہے۔تین سال قبل رات کو میں سندھ سے آ رہا تھا، فائرنگ ہوئی، میرے ڈرائیور کو گولیاں لگیں، دونوں بازؤوں سے کراس کر گئیں، اللہ نے مجھے بچا لیا میں اپنی سیٹ پر سویا ہوا تھا۔ اور پروپیگنڈا دیکھیں۔میں جدہ گیا، مجھے وہاں کے ایک ساتھی نے کہا: لوگ کہتے ہیں کہ مولوی صاحب نے ڈرائیور کو گولیاں مروائی ہیں لیڈر بننے کے لیے میں نے کہا حاشا وکلّا اللہ معاف فرمائے، کوئی حد ہوتی ہےپروپیگنڈے کی!
عقائد کی محنت جاری رہے گی:
خیر میں صرف یہ گزارش کرتا ہوں کہ جب صحیح عقیدے پر محنت ہو تو یہ پروپیگنڈا ہوتا ہے اور اس پروپیگنڈے کو ہم نے برداشت کرنا ہے اور عقیدے کی محنت جاری رکھنی ہے ان شاء اللہ، عقیدے کی محنت ہم چھوڑ نہیں سکتے۔خیر میں مضمون آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں، اللہ ہمیں سمجھانے کی توفیق عطا فرمائے، سمجھ آئے تو اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
سورۃ البقرہ نام رکھنے کی وجہ؟:
پہلی بات یہ سمجھیں کہ سورۃ البقرۃ کا نام ”البقرۃ“ کیوں ہے؟”بقرۃ“ عربی زبان میں کہتے ہیں ”گائے “کو، کیونکہ اللہ رب العزت نے اس سورۃ میں گائے کا ایک بہت اہم واقعہ بیان فرمایا ہے، اس ذکر کی وجہ سے اس سورۃ کا نام”سورۃ البقرۃ“ہے یعنی گائے والی سورۃ ہے۔ اب عید آ رہی ہے نا اور ا س کو بعض لوگ عید الاضحیٰ بھی کہتے ہیں اور بعض بڑی عید بھی کہتے ہیں چونکہ تین دن کی ہےنا، اور بعض لوگ بقرہ عید بھی کہتے ہیں، کیونکہ گائے ذبح ہوتی ہے، توبقرہ کا معنی گائے ہے، چونکہ اس سورۃ میں گائے کا ذکر ہے،اس لیے اس کو ”سورۃ البقرۃ“ کہتے ہیں۔
سورۃ الفاتحہ کے مضامین سے ربط:
دوسری بات سمجھیں۔ سورۃ البقرہ کا پچھلی سورۃ سے ربط کیا ہے؟ کوئی بھی آدمی جب فصاحت کے ساتھ گفتگو کرتاہے اس کے کلام میں ربط ہوتا ہے بے ربط گفتگو نہیں ہوتی تو اللہ کا کلام کیسے بے ربط ہوسکتا ہے؟ سورۃ الفاتحہ کے بعد سورۃ البقرہ کیوں ہے اور ان کا آپس میں تعلق کیا ہے؟ سورۃالفاتحہ اس پر ختم ہے ہم نے اللہ سے دعا مانگی تھی ﴿اِہۡدِ نَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ﴾ اللہ ہمیں صراط مستقیم پر چلا دے، ہدایت کی دعا مانگی تھی اس کا آگے جواب آیا ﴿لَا رَیۡبَ فِیۡہِ ہُدًی لِّلۡمُتَّقِیۡنَ﴾
جو تم نے ہدایت کی دعا مانگی تھی ہم تمہیں ہدایت کے مضمون دے دیتے ہیں ان مضامین پر عمل کرو گے تو تمہیں صراط مستقیم یعنی ہدایت مل جائے گی، ان مضامین کو چھوڑ دو گے تو تمہیں صراط مستقیم نہیں ملے گی۔ یہ سورۃ الفاتحہ کا سورۃ البقرہ کے ساتھ ربط ہے۔
سورۃ البقرہ کےفضائل:
تیسری بات سمجھیں سورۃ البقرہ کے فضائل کیا ہیں؟ ہر سورۃ کے اپنے فضائل ہیں قرآن کریم کے فضائل توہیں ہی لیکن ہر سورۃ کے الگ الگ فضائل ہیں۔ اس وقت دو فضیلتیں ذہن نشین فرما لیں۔
پہلی فضیلت:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لَا تَجْعَلُوْا بُيُوْتَكُمْ مَقَابِرَ ."
لوگو! گھروں کو قبرستان مت بناؤ!
کیا مطلب کہ اپنے گھروں میں قرآن کی تلاوت کیا کرو! مردے قرآن کی تلاوت نہیں کرتے، تم قرآن کی تلاوت کیا کرو!
اللہ کےنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِيْ تُقْرَأُ فِيْهِ سُوْرَةُ الْبَقَرَةِ."
صحیح مسلم، رقم780
جس گھر میں سورۃ البقرہ کی تلاوت ہو اس گھر سے شیطان دوڑ جاتا ہے۔ اب بتاؤ! اس سے بڑی فضلیت کیا ہوسکتی ہے؟

خاوند اوربیوی کی لڑائی کیوں ہے؟ شیطان کی وجہ سے۔

داماد اور سسر میں لڑائی کیوں ہے ؟ شیطان کی وجہ سے۔

والدین اور اولاد میں لڑائی کیوں ہے؟ شیطان کی وجہ سے۔

بھائیوں کی آپس میں لڑائی کیوں ہے؟ شیطان کی وجہ سے۔
جب شیطان گھر سے دوڑ جائے گا پھر ظاہر ہے یہ لڑائیاں ختم ہوجائیں گی۔ اگر شیطان گھر میں رہے گا تو لڑائیاں کیسے ختم ہو سکتی ہیں؟
تصویر اور ٹی وی کی نحوست:
لاہور میں ہمارے رشتے دار تھے، میں ان کے گھر گیا تو انہوں نے مجھے کہا الیاس! تو چیک شیک وی کر لینداں ایں؟ یعنی تعویذ دھاگہ کرلیتے ہو؟ میں نے کہا: کوئی ضرورت ہو تو دیکھ لیتے ہیں۔ میرا یہ پیشہ اور مزاج نہیں ہے جیسے میں خواب کی تعبیر بتاتا ہوں لیکن مستقل یہ کام نہیں کرتا کیونکہ لوگ خوابوں کی تعبیر پوچھتے ہیں اور مسئلہ پوچھنا چھوڑ دیتےہیں اور میں تعویذ بہت کم دیتا ہوں کیونکہ لوگ جب بھی آتے ہیں تو تعویذ ہی لیتے ہیں مسائل نہیں پوچھتے۔ ہماری خواہش ہوتی ہے کہ عقیدے اور مسائل کی باتیں کریں۔ میں نے کہا چلیں ٹھیک ہے کوئی وجہ تو بتائیں؟انہوں نے کہا کہ ہمارے گھر میں کچھ اثرات ہیں، ہمیں بعض لوگوں نے بتایا۔ میں نے کہا کہ دیکھو تم نے سامنے گھر میں تصویریں لٹکا رکھی ہیں اور جس گھر میں تصویریں ہوں اس میں رحمت کا فرشتہ نہیں آئے گا تو اس میں شیطانی اثرات تو ہوں گے۔ آپ سب سے پہلے تصویریں نکالیں اور گھر سے ٹی وی کو خیر باد کہیں۔
گناہوں سے پرہیز:
اب یہ تو نہیں ہوسکتا کہ میٹھی چیز چھوڑنی ہی نہیں ہم نے ،چینی بھی نہیں چھوڑنی، رس گلے، گلاب جامن بھی نہیں چھوڑنے اور کہتے ہیں کہ میری شوگر کاعلاج کرو۔ اب ایسے کون علاج کرے گا؟ بلکہ کہا جائے گا کہ پرہیز کرو پھر علاج ہوگا اس لیے لوگ ہم سے علاج نہیں کرواتے کہ ہمارا پرہیز بہت سخت ہوتاہے ۔ آپ سخت پرہیز کا اہتمام کریں تو اللہ پاک گھروں میں محبتیں پیدا کر دیں گے۔
گھریلو نظام زندگی اور تعدد ازواج:
میں آپ سے کئی باتیں بڑی بے تکلفی سے کہہ دیتا ہوں کہ دیکھو آپ سے ایک بیوی نہیں سنبھلتی، میری تین ہیں اور کوئی لڑائی نہیں ہے۔میں نے چھپ کے اور چوری نکاح نہیں کیا۔ جب بھی نکاح کیا ہے تو آپ کو مٹھائی کھلائی ہے، اب دعا کرو چوتھی ہوجائے ہم پھر آپ کو مٹھائی کھلائیں گے۔
ہندوانہ مزاج اور دوسری شادی:
آپ مذاق سمجھتے ہیں،میں مذاق نہیں سمجھتا، میری مذاق کرنے کی عادت نہیں آپ میرے ہزاروں بیانات سنیں ان میں آپ کو کہیں لطیفے، مذاق اور بے ہودگی نہیں ملے گی۔ میں اس لیے اس پر زور دیتاہوں کہ یہ ہندوؤں کا مزاج ہے دوسری شادی کے نام پہ چڑنا،آپ نہ کر سکیں مگر کم از کم اس کو اچھی نگاہ سے تو دیکھیں۔
نکاح عبادت ہے، عیاشی نہیں:
کفار کے ہاں نکاح عیاشی کا نام ہے اور مسلمان کے ہاں نکاح عبادت کا نام ہے۔ کیونکہ ہم اس کو عیاشی سمجھتے ہیں۔ اس لیے کہتے ہیں کہ جی فلاں بندے نے دو زنانیاں رکھی ہوئی ہیں، بھائی یہ عبادت ہے عیاشی تھوڑی ہے۔ ایک آدمی تہجد پڑھتا ہے، نوافل، اشراق، اوابین بھی پڑھتا ہے آپ اس کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں یا ذلت کی نگاہ سے؟ لیکن جو دوسرا نکاح کرے تو اس کو عیاشی کی نگاہ سے کیوں دیکھتے ہو؟
رسوم و رواج کا خاتمہ …علماءکے عمل سے:
میں گزارش کرتا ہوں کہ وہ کام جس کو عوام عیب دار سمجھے عالم اور مقتدا کے ذمے ہے کہ وہ کام کرے اور اپنے عمل سے عیب کو توڑے یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ میں نے تیسرا نکاح کیا ہے۔ میری بیوی مجھ سے پانچ سال بڑی ہے ، بیٹی اس کی شادی شدہ ہے، بچے اس کے جوان ہیں، اب بتاؤ!اپنے سے بڑی عمر والی بیوہ سے کوئی شادی کرتا ہے؟ لیکن ہم نے کی ہے۔ امت کے رسم کوعمل کے ساتھ مٹاؤ، کیوں؟ جو دین دار ہوں گے وہ خوش ہوں گے اور جو بے دین ہوں گے وہ ناراض ہوں گے۔
بے دین لوگوں کی ناراضگی:
بے دین ناراض ہو جائیں تو کیا فرق پڑتا ہے؟ کبھی بھی احوال کی پرواہ نہ کریں اور جب قوم کا مقتدا حالات کی وجہ سے شریعت پر عمل نہ کرے تو اس قوم کا اللہ ہی حافظ ہے۔ اس لیے علماء کی ذمہ داری ہے عمل کے ساتھ قوم کو سمجھائیں۔
دل جیتنے کے گُر:
میں یہ بات کہہ رہاتھا یہ مسائل مشکل نہیں ہیں۔ میں ابھی یہاں کھانا کھا کر پہنچا ہوں، بھائی اشرف کے گھر سے انہوں نے کباب بنائے تھے۔ میں نے کہا: ہمیں مت کھلاؤ، اسے پیک کرو۔ کہتا ہے: کیوں؟ میں نے کہا: وہ جو خوش ہوتی ہیں نا! ان کی خوشی یہی راز ہوتا ہے وہ کہیں گی کہ ہمارا خاوند کتنا اچھا ہے؟ خود نہیں کھائے ہمارے لیے لے کر آ گیا ہے۔ کچھ جملے ایسے ہوتے ہیں جو بیوی کا دل جیت لیتے ہیں اور بعض بیوی کے چھوٹے جملے خاوند کا دل جیت لیتے ہیں اور بعض جملے استاذ کا دل جیت لیتے ہیں اور بعض چھوٹے جملے شاگرد کا دل جیت لیتے ہیں ۔ یہ چھوٹے چھوٹے جملے بھی کہنا سیکھا کرو۔ اللہ ہمیں بات سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
جنات اور آسیب سے حفاظت:
چلو خیر میں بات کر رہا تھا سورۃ البقرہ کے فضائل کیا ہیں؟ ایک فضیلت میں نے عرض کی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس گھر میں سورۃ البقرہ کی تلاوت ہو اس گھر سے شیطان دوڑ جاتا ہے۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتےہیں: سورۃ البقرہ میں دس آیات ایسی ہیں اگر آدمی سوتے وقت پڑھ لے تو نہ اس گھر میں شیطان آ سکتا ہے نہ اس گھر میں جن آ سکتا ہے نہ اس گھر میں رات کو مصیبت آ سکتی ہے ۔ اگر مجنوں پر بھی یہ آیتیں پڑھ کر دم کر دی جائیں تو اللہ شفا دیتے ہیں۔ بتاؤ اس سےبڑی فضیلت کیا ہوسکتی ہے؟
سورۃ البقرہ کی دس منتخب آیات:
لیکن افسوس کہ آج کے مسلمان کو قرآن پر اعتماد نہیں رہا،خود پڑھو اور دم کرو لیکن اعتماد کے ساتھ۔ یہ آیتیں کون سی ہیں؟ چار آیتیں بالکل شروع میں اور تین درمیان میں ہیں۔ ایک آیت الکرسی اور آیت الکرسی کے بعد والی دو آیتیں، کتنی ہو گئیں؟ چار اور تین سات، اور تین سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں،یہ دس ہو گئیں۔
مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ نے بعض اکابر کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بڑا ہی بد بخت آدمی ہو گا جو سوتے وقت سورۃ البقرہ کی دس آیتوں کی تلاوت نہ کرے۔ تو آج سے اہتمام کرو جن کو زبانی یاد ہے وہ زبانی پڑھ لیا کرو اور جن کو یاد نہیں ہے وہ سوتے وقت گھر میں پڑھ لیا کرو۔ اہتمام کر لوگے؟ یاد رکھو یہ چار آیتیں شروع میں ہیں، تین آیتیں درمیان میں ہیں یعنی ایک آیت الکرسی اور اس کے بعد کی دو آیتیں اور تین آیتیں بالکل آخر میں ہیں اس کو تلاش کرنا کوئی مشکل نہیں ہے۔ اللہ ہمیں ان کو اہتمام کے ساتھ پڑھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ اہتمام کر کے دیکھیں پھر دیکھیں نتیجہ کیسے نکلتا ہے اللہ ضرور نتیجہ عطا فرمائیں گے۔
سورۃ البقرہ کے اہم واقعات:
سورۃ البقرہ میں بعض واقعات اللہ نے اہمیت سے بیان فرمائے ہیں۔ میں ان میں سے صرف چار واقعات آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں تو چار واقعات کو ذہن نشین فرمالیں۔ قرآن کریم نے قصے اور واقعات ہمارا ایمان بچانے کے لیے بیان فرمائے ہیں اور عبرت کے لیے بیان فرمائے ہیں۔
بنی اسرائیل کے ایک مقتول کا واقعہ:
بنی اسرائیل میں ایک آدمی تھا ، اس کا نام تھاعامیل۔ یہ بندہ قتل ہو گیا اور اس کا قاتل نہیں ملتا تھا اور قتل کی دو وجوہ لکھی ہیں۔ ایک وجہ یہ لکھی ہے کہ قاتل بھتیجا تھا اس نے اپنے چچا کو قتل کیا ہے اس کے پاس دولت تھی بھتیجے کو دیتا نہیں تھا اس وجہ سے اس کو قتل کیا ہے ۔ دولت کو لوٹنے کے لیے اپنے چچا کو قتل کیا اور بعض کہتے ہیں رشتے کا مسئلہ تھا اس کو بیٹی نہیں دی اس وجہ سے قتل کیا ہے۔
بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے عرض کی کہ ہم چاہتے ہیں قاتل کو تلاش کریں لیکن ہمیں قاتل ملتا نہیں ہے آپ اللہ سے پوچھ کر بتا دو تاکہ ہمیں قاتل کا پتا چلے۔ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے گزارش کی کہ اے اللہ عامیل کے قاتل کا بتا دے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ ان سے کہہ دو اگر تمہیں عامیل کا قاتل چاہیے تو ایک گائے لے لو اوراسے ذبح کرو، گائے کا ایک ٹکڑا کاٹو اور مقتول کے جسم کو لگا لو تو اللہ مقتول کو زندہ کردے گا اور یہ خود بتائے گا کہ میرا قاتل کون ہے؟
بے تکے سوالات اور خدائی مزاج:
اب بنی اسرئیل یہ سمجھتے تھے اگر ایسا کیا تو مسئلہ حل ہو جائے گا۔ وہ چاہتے تھے یہ ڈرامہ بازی چلتی رہے۔ وہ اللہ کے نبی کو دھوکہ دیتے تھے وہ لوگ کہتے تھے اللہ سے پوچھ کر بتاؤ وہ گائے کیسی ہو؟ چھوٹی ہو، بڑی ہو، جوان ہو، کس قسم کی ہو؟ موسی ٰ علیہ السلام نے اللہ سے پوچھا اللہ نے کہا وہ گائے نہ بالکل بوڑھی ہو نہ بالکل جوان ہو اس کے درمیان ہو۔ پھر کہنے لگے اللہ سے پوچھو اس کا رنگ کس قسم کا ہو؟ اگر بنی اسرائیل گائے کو ذبح کرنا چاہتے ہیں تو زرد رنگ کی گائے ہو جو دلوں کو خوش کردے، ایسی گائے تم لاؤ۔ پھر کہنےلگے ہمیں تھوڑا سا شبہ ہے کہ وہ گائے ہل چلاتی ہو یا نہ چلاتی ہو؟ وہ گائے کنویں سے پانی نکالتی ہو نہ نکالتی ہو کیسی گائے ہو؟ مزید وضاحت کریں ۔
گائے کی تلاش اور قاتل کی پہچان:
پھر اللہ کی طرف سے وحی آ گئی کہ وہ گائے نہ زمین میں ہل چلاتی ہو اور نہ کھیتوں کو پانی دیتی ہو، ایسی گائے لاؤ ۔ پھرگائے تلاش کی تو وہ گائے مل گئی۔ اور جس بندے کی گائے تھی اس نے کہا کہ ایک شرط پہ گائے دیتا ہوں گائے ذبح کرو اور چمڑے سے گوشت نکالو اور چمڑے کو سونے سے بھرو۔اگر اتنا سونا مجھے دوگے تو میں گائے دوں گا ورنہ میں گائے نہیں دیتا۔ شرط لگ گئی پھر انہوں نے اس گائے کو خریدا اوراس کو ذبح کیا،اس کے چمڑے میں سونا بھر دیا، پھر اس بندے کو دیا۔ مقتول کے ساتھ ایک ٹکڑ الگایا پھر مقتول زندہ ہوگیا، اس نے کہا میرا قاتل یہ ہے اور پھر مر گیا۔
ماں کی خدمت کا صلہ:
اس کی بعض حضرات، علامہ عثمانی رحمہ اللہ نے اور بعض مفسرین کرام رحمہ اللہ نے بڑی عجیب وجہ بیان کی ہے کہ یہ ایسے کیوں ہوا؟یہ ایسے انہوں نے کیا نہیں تھا مگر یہ اللہ کی طرف سے کروایا جا رہا تھا۔ اصل میں ایک بہت غریب آدمی تھا جس نے اپنی ماں کی خدمت بہت کی تھی اس کی ماں نے اس کو دعا دی کہ اللہ تیرے مال میں وسعت دے اور برکتیں عطا فرمائے۔ اور وہ گائے کسی کے پاس نہیں ملتی تھی سوائے اس غریب کے جس نے ماں کی خدمت کی۔ اللہ نے اس کو ماں کی خدمت کا صلہ جوانی اور زندگی میں دیا اور اتنی اہم گائے دی کہ ان سے سوالات ہوتے رہے اور گائے ان کی شرطوں کے مطابق یہی نکلی تو یہ اس کو ماں کی خدمت کا صلہ ملا۔
برکات کیسے حاصل ہوسکتی ہیں؟:
میں ایک بات عرض کرتا ہوں جو یہ چاہے کہ میری دولت میں برکت ہو وہ ماں باپ کی خدمت کرے اور جو چاہے میرے علم میں برکت ہو تو وہ اپنے استاذ کی خدمت کرے ۔ استاذ کی خدمت کرنے سے علوم میں برکت آتی ہے اور ماں باپ کی خدمت کرنے سے دولت میں برکت آتی ہے۔ ایساکبھی نہیں ہوسکتا کہ بندہ اپنےماں باپ کو سہارا دے اور اللہ اس کو رسوا کر دے۔ اگر علم چاہتے ہیں تو استاذ کو سنبھال لیں اوراگردولت چاہتے ہیں تو والدین کو سنبھال لیں دونوں کو چاہتے ہیں تو استاذ کوبھی سنبھال لیں اور والدین کو بھی۔ اللہ علم بھی عطا فرما دیں گے اور دولت بھی۔
میں تحدیث بالنعمۃ کے طور پر ایک بات عرض کرتا ہوں کہ میرے تمام اساتذہ میں سے کوئی ایک بھی استاذ ایسا نہیں ہے جو مجھ سے ناراض ہو یا ناراض ہوکر دنیا سے گیا ہو یا زندہ ہو اور اس وقت مجھ سے ناراض ہو۔ اگر کبھی طالب علمی میں کسی استاذ سے غلط فہمی تھی تو خدا گواہ ہےمسجد میں بیٹھا ہوں میں نے عالم بننے کے بعد جاکر اساتذہ کے پاؤ ں پکڑ پکڑ کر معافیاں مانگی ہیں کہ استاذجی میں نے دین کا کام شروع کردیا ہے بچپن میں کچھ غلطیاں ہوجاتی ہیں۔ آپ شفقت فرمائیں اور دل سے ہمیں معاف کریں اور دعا دے کر میدان میں نکال دیں۔ آج ان اساتذہ کی دعاؤں کی برکت ہے ہم بیٹھے ہوئے دیہات میں ہیں اللہ کام پورے عالم میں پھیلا رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے:
میر ا بحرین کا سفر تھا آپ یقین کریں مجھے اتنا تعجب ہوا میں بتا نہیں سکتا۔ کبھی بنگلہ دیش کے علماء آ رہے ہیں، کبھی انڈیا کے اور کبھی پاکستان کے آ رہے ہیں۔ میں نے کہا آپ مجھے کیسے جانتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ پر آپ کے بیانات اور لٹریچر کو دیکھ کر اپنا عقیدہ محفوظ کر کے بیٹھے ہیں۔ آخری دن مجھے وہاں کمانڈو کا ایک انسٹرکٹر ملا تو کہنے لگا مولانا آپ میرا موبائل دیکھیں ، اس موبائل میں آپ کی ویڈیو ہے۔ میرے جتنے کمانڈو شاگرد ہیں کوئی ایک بھی ایسا نہیں جس کے پاس آپ کے بیان نہ ہوں۔ اب افسوس ہے کہ ہمیں پتا اس وقت چلا جب آپ واپس جارہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے کام لیتے ہیں کہ بندہ تصوربھی نہیں کرسکتااللہ تعالیٰ آپ کےعلم اور آپ کی دولت میں برکتیں عطا فرمائیں۔
ہم برکت کی بات کرتے ہیں کثرت کی بات نہیں کرتے۔ یہ نہیں کہتے کہ اللہ تمہیں دو گاڑیاں دے ہم کہتے ہیں اللہ ایک دے لیکن اچھی دے۔ برکت اور کثرت تو میں آپ کو سمجھاتا رہتا ہوں ۔ ایک روٹی ہو اور دس کو پوری ہو جائے اس کو برکت کہتے ہیں۔ اور دس روٹیاں ہوں ایک کو پوری نہ ہوں اس کو کثرت کہتے ہیں۔ تو مال کثرت والا چاہیے یا برکت والا چاہیے؟ برکت والا۔
بادشاہ طالوت کی نشانی:
دوسرا واقعہ حضرت طالوت کا ہے یہ واقعہ بڑا اہم ہے مسئلہ کیا تھا؟ حضرت شموئیل علیہ السلام اللہ کے نبی تھے ۔ بنی اسرائیل پر بڑا ظلم ہوا ان کے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے وہ غلامی میں گئے، تو انہوں نے اپنے نبی حضرت شموئیل علیہ السلام سے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اللہ کی طرف سے ہمارا کوئی ایک بادشاہ مقرر کریں ہم اس بادشاہ کے ساتھ ملیں اور جہاد کریں اور قوم سے آزادی حاصل کریں۔ حضرت شموئیل علیہ السلام نے کہا اللہ نے فیصلہ فرمایا ہے کہ بادشاہ ہم تمہیں دیتے ہیں اور بادشاہ کا نام طالوت ہوگا۔ ا س کو بادشاہ بناؤ اور اس کی کمان میں آپ جہاد شروع کرو ۔ انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے طالوت غریب آدمی تھے قوم نے اس کو بادشاہ ماننے سے انکار کردیا۔
یہ غریب آدمی ہے ہم اس کو کیسے مانیں ؟ ہمیں ایسا بندہ چاہیے جس کے پاس دولت ہو وہ بڑا آدمی ہو ۔ اس غریب اور فقیر کو کون مانتا ہے؟ شموئیل علیہ السلام نے فرمایا: اللہ نے اس کو علم بھی عطا فرمایا ہے اور جسمانی وجاہت بھی عطا فرمائی ہے۔ اس کا حق ہے کہ تم اس کو باشاہ مان لو۔ وہ قوم بڑی عجیب تھی ، پھر انہوں نے کہا چلو ہم اس کو بادشاہ مانتے ہیں لیکن ایسا کریں اس کی باد شاہت کی نشانی یا علامت بتا دیں دیکھو عجیب سوال ہے نبی بات کہہ رہا اور قوم کہہ رہی ہے اللہ کی طرف سے نشانی بھی دے دو۔ شموئیل علیہ السلام نے کہا کہ چلو ہم نشانی بتا دیتے ہیں۔
نشانی یہ تھی کہ گزشتہ بنی اسرائیل کے انبیاء کے تبرکات پرمشتمل ایک صندوق تھا کسی نبی کا عصا ہے، کسی نبی کی پگڑی ہےاور کسی کا کوئی اور سامان۔ جب بھی بنی اسرائیل والے اس صندوق کو لے کر جہاد میں جاتے تو اللہ اس صندوق کی برکت کی وجہ سے ان کو فتح عطا فرماتے ۔
وسیلہ کاثبوت اور جائز ہونا:
اس صندوق کی برکت کی وجہ سے اللہ فتح عطا فرماتے مگر آج لوگ کہتے ہیں کہ ولی کا وسیلہ جائز نہیں ہے اور قرآن میں تو صندوق کا وسیلہ بھی ثابت ہے۔ لوگ کہتے ہیں ولی کا وسیلہ جائز نہیں ہے۔ ارے ان کے تبرک دیکھیے صندوق کی برکت سے اللہ ان کو فتح دیتے ہیں ۔ بتائیں وسیلہ کہتے کس کو ہیں؟ ہمیں سمجھ نہیں آتی ۔
میرے پاس ایک ساتھی آیا کہ بڑا اہم مسئلہ ہے مولانا! مجھے وہ کہنے لگا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ نبی کا وسیلہ بھی جائز ہے، زندہ ولی کا وسیلہ بھی جائز ہے اور جو فوت ہوگیا اس کا وسیلہ جائز نہیں ہے۔ میں نے کہا آپ مجھے یہ بتائیے جو زندہ ہے اس کا وسیلہ کیوں جائز ہے؟ کہتا ہے بہت نیک آدمی ہے۔ میں نے کہا جو فوت ہوگیا وہ برا ہوگیا؟ جو زندہ ہے اس پر تو شک ہے اس کا خاتمہ ایمان پر ہو گا یا نہیں ہوگا؟ اور جس ولی کا ایمان پر خاتمہ ہوگیا اس کا ولی ہونا تو یقینی ہے۔ جس کا ایمان پر مرنا مشکوک ہے اس کا وسیلہ جائز ہے جس کا ایمان پر مرنا یقینی تھا اس کا وسیلہ کیسے ناجائز ہے؟ میں نے کہا کہ بتاؤ کوئی مشکل بات ہے؟ تو کہنے لگا نہیں۔ میں نے کہا اتنی سی بات ہے لوگوں نے آپ کو دھوکے میں ڈالا ہوا ہے ۔
برکت والا صندوق:
خیر میں بات کر رہا تھا کہ اس وقت کا بادشاہ جو ان پر ظلم کرتا تھا اس کے پاس یہ صندوق تھا لیکن وہ بادشاہ ظالم تھا۔ لیکن ہوا یہ کہ وہ جہاں رکھتے وہاں وبا پھیلتی۔ جس بستی میں رکھتے وہاں بیماری پھیل جاتی انہوں نے وہ صندوق ایک بیل گاڑی میں رکھا اور جنگل کی طرف ہانک دیا اور بیل ان کے صندوق کو لے کر چلے گئے۔ اور جو ظالم بادشاہ تھا اس کی بستیاں وبا سے محفوظ رہیں۔ اصل میں تو اللہ نے ان کو دینی تھی۔
تو جب وہ بیل اس صندوق کو لے کر دوڑے اور حضرت طالوت کے گھر کے سامنے کھڑے ہوگئے تواللہ کے نبی نے کہا:
﴿وَ قَالَ لَہُمۡ نَبِیُّہُمۡ اِنَّ اٰیَۃَ مُلۡکِہٖۤ اَنۡ یَّاۡتِیَکُمُ التَّابُوۡتُ فِیۡہِ سَکِیۡنَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ بَقِیَّۃٌ مِّمَّا تَرَکَ اٰلُ مُوۡسٰی وَ اٰلُ ہٰرُوۡنَ تَحۡمِلُہُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۲۴۸﴾﴾
تم نے نشانی مانگی تھی اللہ نے یہ نشانی عطا فرما دی یہ دیکھو اس کو فرشتے اٹھا کر پھرتے ہیں اور یہ تمہارے گھر پہنچ گیا ہے۔ یہ طالوت کی نشانی ہے وہ برکت والا صندوق تمہیں اس کے پاس ملے گا وہ طالوت کے پاس ملا۔
جالوت سے مقابلہ اور خدائی امتحان:
وہ جہاد کے لیے نکلے مقابلے کے لیے جو بادشاہ تھا اس کانام جالوت تھا بہت ظالم تھا اور طالوت بہت نیک تھے ان کے ساتھ اسی ہزارآدمی جہاد کے لیے نکلے ۔ لیکن اللہ نے امتحان لینا تھا کہ ان میں کھرے کتنے ہیں اور کھوٹے کتنے ہیں؟ راستے میں نہر آگئی طالوت نے فرمایا دیکھو اللہ تمہارا امتحان لے گا جس آدمی نے اس نہر سے پانی پیا وہ ہمارے ساتھ نہیں چل سکتا۔ اس کو پیاس لگے گی کمزور ہوجائے گا ۔ حالانکہ پانی پینے سے پیاس بجھتی ہے لیکن تم پانی پیو گے تو پیاس بڑھ جائے گی۔ اگر چُلو بھر تھوڑا بہت پی لو پھر خیر ہے، گنجائش ہے۔
مان کر چلنے والے غالب رہتے ہیں:
اسی ہزار آدمیوں میں سے سب نے پانی پی لیا سب کو پیاس لگ گئی ۔ کوئی جہاد کے قابل نہ رہا صرف تین سو تیرہ بچے طالوت اور نبی شموئیل علیہ السلام تین سو تیرہ کو لے کر چل پڑے اور ساتھ یہ اعلان کیا:
﴿ کَمۡ مِّنۡ فِئَۃٍ قَلِیۡلَۃٍ غَلَبَتۡ فِئَۃً کَثِیۡرَۃًۢ بِاِذۡنِ اللہِ﴾
اللہ زیادہ کو نہیں دیکھتے اللہ ایمان کو دیکھتے ہیں ایمان والے تھوڑے بھی ہوں تو زیادہ پر غالب آجاتے ہیں۔
داؤد علیہ السلام کی جہاد میں شمولیت:
یہ تین سو تیرہ جالوت کے مقابلے میں نکلے جالوت ظالم بھی تھا اور بہادر بھی۔ وہ ایسا آدمی تھا جو مقابلے میں اکیلا نکلا۔ اس نے کہا کہ پہلے میں اکیلا تم سب سے لڑوں گا ، پھر میری فوج آئے گی ۔ شموئیل علیہ السلام اللہ کے نبی تھے انہوں نے داؤد علیہ السلام کے والد سے کہا ، داؤد کے والد بھی جہاد میں تھے اور داؤد علیہ السلام چھوٹے بچے تھے یہ بھی جہاد میں تھے۔ شموئیل علیہ السلام نے کہا تم اپنے بیٹے لاؤ تو داود علیہ السلام کے والد اپنے چھ بیٹے لائے۔ شموئیل علیہ السلام نے پوچھا کہ ساتواں بیٹا کیوں نہیں لائے؟ والد نے کہا کہ ان کی عمر ابھی تھوڑی تھی اور قد بھی چھوٹا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ نہیں تم ساتواں بیٹا بھی لاؤ بہر حال داؤد علیہ السلام آئے۔ شموئیل علیہ السلام نے پوچھا کہ کیا تم جہاد میں جاؤ گے؟ انہوں نے کہا جی ہاں جاؤں گا شموئیل علیہ السلام نے کہا چلو تم یہ تلوار لو اور جہاد میں نکلو۔
جالوت کی شکست:
حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: جب داؤد علیہ السلام گزرے تو ابھی بچے تھے راستے میں تین پتھر ملے ان پتھروں نے بول کر کہا آپ ہمیں لے جاؤ جالوت کو ہم ماریں گے۔ اللہ نے پتھروں کو گویائی عطافرمائی۔ داؤد علیہ السلام نے ان کو لیا اور سامنے جالوت نکلا پورا جسم لوہے میں چھپا ہوا تھا صرف اس کا ماتھا خالی تھا۔ داؤد علیہ السلام نے فلافن کوگھما کر جب پتھر مارے تو وہ اس کے ماتھے پر لگے اور اور پیچھے سے نکل گئے۔ جالوت گر گیا۔ خدا نے ان کو فتوحات عطا فرمائیں۔
تفسیر عثمانی: ج1 ص156
اللہ جب فتح دینے پر آئیں تو اللہ اسباب کا پابند نہیں ہے بغیر اسباب کے فتوحات عطا فرما دیتےہیں۔
مناظرے کا ثبوت:
تیسرا واقعہ حضرت ابرہیم علیہ السلام کا ہے۔ یہ بالکل تیسرے پارے کے شروع میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡ حَآجَّ اِبۡرٰہٖمَ فِیۡ رَبِّہٖۤ اَنۡ اٰتٰىہُ اللہُ الۡمُلۡکَ ۘ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہٖمُ رَبِّیَ الَّذِیۡ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ ۙ قَالَ اَنَا اُحۡیٖ وَ اُمِیۡتُ ؕ قَالَ اِبۡرٰہٖمُ فَاِنَّ اللہَ یَاۡتِیۡ بِالشَّمۡسِ مِنَ الۡمَشۡرِقِ فَاۡتِ بِہَا مِنَ الۡمَغۡرِبِ فَبُہِتَ الَّذِیۡ کَفَرَ ؕ وَ اللہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۲۵۸﴾ۚ﴾
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نمرود سے مناظرہ ہوا۔ اس مناظرے کو اللہ پاک نے قرآن پاک میں ذکر فرمادیا۔ میں ان حضرات سے کہتا ہوں کہ جو مناظروں کی مخالفت کرتے ہیں کہ وہ قرآن کی اس آیت کو سنیں، کیا تم قرآن کی اس آیت کو قرآن سے نکال دو گے؟
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مناظرانہ گرفت:
ابراہیم علیہ السلام اور نمرود کی گفتگو اس پر ہوئی کہ ابراہیم علیہ السلام نے کہا دیکھو میں تمہیں خدا نہیں مانتا نمرود کا مزاج یہ تھا جو بھی اس کے دربار میں آتا تو سجدہ کرتا ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا میں تجھے سجدہ نہیں کرتا، نمرود نے پوچھا کیوں نہیں کرتے؟ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: میں تمہیں خدا مانوں تو سجدہ کروں میں نہ تمہیں خدا مانتا ہوں نہ تمہیں سجدہ کرتا ہوں۔
نمرود نے پوچھا کہ کیوں نہیں مانتے؟ تو ابراہیم علیہ السلام نے دلیل دی کہ خدا وہ ہوتا ہے جو زندہ بھی کرتا ہے اور مارتا بھی ہے تو نہ زندہ کرسکتاہے نہ مار سکتا ہے۔ نمرود بد دماغ آدمی تھا اس نے دو قیدی لیے ایک جس کے لیے بری ہونے کا فیصلہ تھا بے قصور تھا اس کو قتل کردیا اور جو قصور وار تھا اس کو آزا د کردیا۔ اس نے کہا کہ دیکھو میں نے زندہ کر دیا اور مار دیا ہے نمرود بد دماغ تھا وہ موت اور حیات کامعنیٰ نہیں سمجھتا تھا ۔ اگر اس کو موت اور حیات کا معنی سمجھ آتا تو کیا وہ اس دھوکے میں پڑتا؟ ایک کو مارنا اور دوسرے کو آزاد کر دینا اس کا نام موت اور حیات نہیں ہوتا۔
مخاطب کی عقل کے مطابق گفتگو:
عدم سے وجود اس کا نام حیات ہے اور وجود سے عدم اس کا نام موت ہے۔ ابراہیم علیہ السلام نے اپنی دلیل نہیں بدلی بلکہ دلیل کا رخ بدل دیا کیونکہ نمرود نے بات ایسی کی کہ جیسے آدمی عوام کے اعصاب پر چھا جائے۔ بعض لوگ ایسی بات مجمع میں کہتے ہیں کہ عوام اس بات سے بہت متاثر ہوتی ہے پھر بات کو سمجھانے کے لیے مناظر کو ایسا رخ اختیار کرنا پڑتا ہے کہ لوگ اس کے دھوکے میں نہ آئیں۔ میں اس کی چھوٹی سے مثال دیتا ہوں۔
مناظرے میں بیدار مغزی:
علامہ خالد محمود دامت برکاتہم جو مسلک دیوبند کے بہت بڑے عالم ہیں ان کا مناظرہ ہوا مرزائیوں سے اور مناظرہ ہوا لاہور میں بریلویوں کی مسجد میں جس کے ساتھ اصل مناظرہ تھا وہ مناظر موقع پر تشریف نہ لا سکے بیمار ہونگے یا کوئی اور وجہ بن گئی ہوگی۔ تو ایمرجنسی میں علامہ خالد محمود صاحب کو مناظرے کے لیے بلا یا گیا اور علامہ صاحب تشریف لے آئے جب مناظرہ شروع ہوا تو علامہ خالد محمود صاحب نے مرزا غلام احمد قادیانی کی کتاب”ازالۃ الا وھام“کے حوالے دے کر مرزا کے خلاف دلیل پیش کی مرزائی مناظر بہت چالاک تھا وہ مناظر کہنے لگا کہ علامہ صاحب آپ نے شرطیں نہیں پڑھیں؟ علامہ صاحب نے شرطیں پڑھی بھی نہیں تھیں وہ تو اچانک آئے تھے۔ لیکن اگر مناظر کہہ د ے کہ نہیں پڑ ھیں تو اس کے پلے کیا رہ جائے گا۔ وہ کہنےلگا کہ علامہ صاحب آپ نے شرطیں نہیں پڑھیں۔
اب اگر علامہ صاحب کہیں کہ میں نے پڑھی ہیں تو جھوٹ تھا اور اگر کہتے ہیں کہ میں نے نہیں پڑھیں تو وہ کہتا کہ مولوی صاحب پہلے آپ شرطیں پڑھو پھر مناظرہ کرو، پھر بے عزتی ہونی تھی۔ اس لیے علامہ صاحب نے جواب دیا کہ کون سی شرط ہے جس کی میں نے مخالفت کی ہے؟ نہ تو یہ کہا کہ میں نے نہیں پڑھی اور نہ یہ کہا کہ میں نے پڑھی ہیں۔ مرزائی مناظر کہنے لگا کہ شرائط میں لکھا ہوا ہےکہ بات قرآن وحدیث سے کریں گے اور آپ نے حوالہ”ازالۃ الا وھام“ کا دیا ہے جو غلام احمد قادیانی کی ہے نہ آپ نے قرآن پیش کیا اور نہ آپ نے حدیث پیش کی ہے، آپ نے شرط کوچھوڑ دیا ہے۔ علامہ صاحب فرمانے لگے اگر مرزا نبی ہے تو یہ حدیث کی کتاب ہے اور اگر یہ حدیث نہیں تومرزا نبی نہیں، میں نے تو شرط کی مخالفت نہیں کی۔ مناظر چپ ہو گیا لیکن تھا تو مناظر اس سے جواب نہیں بنا خاموش تو اس نے نہیں ہونا تھا۔
یا اللہ …یا محمد:
اس نے پینترا بدلہ علامہ صاحب آپ ہمیں کافر کہتے ہو یہ دیکھو اوپر کیا لکھاہواہے ہمیں کافر کہتے ہو اور کن کی مسجد میں ہم سے مناظر ہ کرتے ہو۔ علامہ صاحب نے کہا کیا لکھا ہوا ہے کہتا ہے یا اللہ یا محمد یہ شرک نہیں؟" مشرکاں دی مسیت وچ ساڈے نال مناظرہ کردےاو" ( مشرکوں کی مسجد میں ہمارے ساتھ مناظرہ کرتے ہو؟)اب بتائیں کیسا وار تھا ؟ دیوبندی بریلوی کی لڑائی شروع ہو جانی تھی جنگ مرزائی کی ہے اور اس نے بریلویوں اور دیوبندیوں والی جنگ شروع کروادی۔ علامہ صاحب نے سوچا کہ دیوبندی بریلوی کی جنگ نہیں ہونے دینی ۔علامہ صاحب فوراً فرمانے لگے تم یہ بتاؤ کہ اس مجمع میں کتنے لوگ ہیں جو حج پر گئے ہیں ؟ پانچ سات آدمی کھڑے ہو گئے کہا کہ کتنے لوگ ہیں جو عمرے پر گئے ہیں اب دس بارہ اور بھی کھڑے ہو گئے۔ پوچھا کہ کیا آپ نے جدہ میں ”یا اللہ یا محمد“ لکھا دیکھا ہے؟ لوگوں نے کہا نہیں، آپ نے مکہ مکرمہ میں دیکھا ہے؟ لوگوں نے کہا نہیں۔ مدینہ منورہ میں دیکھا ہے؟ لوگوں نے کہانہیں۔
مناظر سمجھ دار ہونا چاہیے:
علامہ صاحب فرمانے لگے اگر یہ”یا“ عربی کا ہوتا تو جدہ میں لکھا ہوتا عربی کا ہوتا تو مکہ میں لکھا ہوتا عربی کا ہوتا تو مدینہ میں لکھا ہوتا،او کافر یہ”یا“ عربی کا نہیں ہے پنجابی کا ہے۔ انہاں نے لکھیا اے یا اللہ نوں مندےآں یا محمد نوں مندے آں مرزا قادیانی نوں نہیں مندے، اے تیرے پیو تے انہاں نے کفر دی مہر لائی اے۔ (انہوں نے لکھا ہے ہم اللہ کو مانتے ہیں یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتے ہیں۔ مرزا ملعون کو نہیں مانتے۔ یہ تو انہوں نے تیرے باپ مرزا ملعون کے کفر پر مہر لگائی ہے) اب دیکھو اپنی لڑائی کو بچا لیا اور اصل لڑائی پر کھڑے ہیں ۔ یہ مناظر کا کام ہوتا ہے کہ میں نےبات کیسے سمجھانی ہے ؟
نمرود کی شکست اور حق کی فتح:
ابراہیم علیہ السلام کا نمرود سے مناظرہ تھا ابرہیم علیہ السلام نے فرمایا اللہ وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے تو اس نے کہا کہ یہ کام تو میں بھی کرتا ہوں اب دیکھو عوام پر رعب پڑ گیا؟ اب ابراہیم علیہ السلام نے دلیل نہیں بدلی بلکہ دلیل کا رخ بدلا دلیل یہ تھی کہ اللہ وہ ہوتا ہے جو عدم سے وجود میں لائے اورجو وجود کو عدم دے یہ خداہے اس کی مثال دی کہ میرا خدا زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام نے فوراً رخ بدلا اور فرمایا:
﴿فَاِنَّ اللہَ یَاۡتِیۡ بِالشَّمۡسِ مِنَ الۡمَشۡرِقِ فَاۡتِ بِہَا مِنَ الۡمَغۡرِبِ﴾
خدا وہ ہے جو سورج مشرق سے لاتا ہے اگر تو خدا ہے تو مغرب سے لا!،﴿فَبُہِتَ الَّذِیۡ کَفَرَ ؕ﴾ اب وہ بالکل خاموش ہوگیا اور اس دلیل کا کوئی جواب نہ دے سکا۔
غیر اللہ کے نام کی منت:
ایک بات اور سمجھیں کہ غیر اللہ کے نام کی منت ماننا ٹھیک نہیں ہے، میں کراچی پڑھتا تھا وہاں ہمارے ایک استاذ تھے مولانا عالم خان صاحب ،پٹھان تھے اللہ ان کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔ پٹھان کا علم پٹھانوں والا ہوتا ہے ہمیں سبق پڑھا رہے تھے سبق میں کہتے ہیں: اگر تم دیکھو کوئی قبر کو پوجتاہے، بتوں کو پوجتاہے، اپنے بیٹے کا نام رکھتا ہے پیراں دِتہ۔ پوچھو کہ پیراں دتہ نام کیوں رکھا؟ تو کہتا ہے بیس سال ہو گئے شادی کو نماز پڑھی ہے، عمرے کیے ہیں، منتیں مانی ہیں، بیٹا نہیں ملا۔ مٹھے شاہ معصوم دی منت مانی ہے تو بیٹا مل گیا ہے اس لیے میں نے نام اللہ دتہ نہیں رکھا بلکہ پیراں دتہ رکھا ہے۔
پیراں دتہ یا اللہ دتہ؟
استاذ عالم خان صاحب عجیب بات فرمانے لگے کہ اس مشرک کو وہ دلیل دو جو ابراہیم علیہ السلام نے نمرود کو دی تھی۔ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: دیکھو دو راستے ہیں ایک مشرق اور ایک مغرب کا خدا مشرق سے لاتا ہے اگر تو خدا ہے تو تو مغرب سے لا۔ اس مشرک سے کہو کہ دو راستے ہیں؛ ایک پاخانے کا اور ایک اولاد کا اللہ نے اولاد کا راستہ بنایا ہے۔ اگر خدا نے نہیں دیا تو پھر پیر سے کہو تو راستہ بدل کے دے۔ اگر بچہ راستہ بدل کے آئے تو پیراں دتہ، اگر اسی راستے سے آئے تو اللہ دتہ ہے۔ آپ کہیں گے کہ مولوی صاحب نے یہ کیسی دلیل دی ہے؟ لیکن ہم نے آپ کو مسئلہ سمجھانا ہے یہ وہ دلیل ہے جس کا کوئی جواب نہیں ہے۔
موت کے بعد زندہ ہونا:
ابراہیم علیہ السلام کا ایک واقعہ اللہ نے یہ بیان فرمایا ۔ایک آیت چھوڑ کر پھر دوسرا واقعہ بیان کیا ہے ابراہیم علیہ السلام نے اپنے اللہ سے عرض کیا اے اللہ میں جانتا ہوں آپ زندہ بھی کرتے ہیں اور مارتے بھی ہیں ۔ زندگی بھی آپ دیں گے اور موت بھی آپ دیں گے۔لیکن میرا جی چاہتا ہے کہ میں اپنی آنکھوں سے دیکھوں کہ آپ قیامت کو بندے کیسے زندہ کریں گے؟ اللہ نے پوچھا: ﴿اَوَ لَمۡ تُؤۡمِنۡ﴾ تجھے یقین نہیں؟ تو فرمایا: ﴿بَلٰی﴾ کیوں نہیں یقین تو ہے ، ﴿وَ لٰکِنۡ لِّیَطۡمَئِنَّ قَلۡبِیۡ﴾ لیکن آنکھوں سے دیکھ لوں گا تو میرا دل مطمئن ہو گا کہ اللہ آپ کیسے زندہ فرمائیں گے؟ فرمایا کہ چار پرندے لے لو کبوتر، کوا،مرغ،مور یہ چار پرندے تھے ان چار پرندوں کا چمڑا اتارو سر الگ کرو دھڑ الگ کر و ٹانگیں الگ کرو ان کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دو اور یہ چار پہاڑ ہیں ایک پر ان کے سر رکھو، اور ایک پر ان کی ٹانگیں رکھو اور ایک پر ان کے پر رکھو۔لیکن ذبح کرنے سے پہلے چند دن پرندوں کو اپنے پاس رکھنا ان کو مانوس کر لینا ابراہیم علیہ السلام نے رکھ دیا اب فرمایا ذرا درمیان میں کھڑے ہوکر پکارو پھر دیکھو کیسے آتے ہیں۔ انہوں نے ایک کو آواز دی مثلاً کبوتر کو۔ پہلے اس کا سراٹھا پھر اس کا دھڑ اٹھا پھر اس کی ٹانگیں آئیں پھر اڑتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا ۔ فرمایا کہ ہم اسی طرح قیامت کو لے آئیں گے ۔
قبر کا مفہوم کیا ہے؟
اس سے یہ بات سمجھیں بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ جہاں مردہ دفن ہو وہ قبر ہے۔ اچھا یہ بتائیں جو آدمی سمندر میں جائے اور جسم گل جائے اس کی قبر کون سی ہے؟ اگر کسی کو جلا دیں اورجلا کر راکھ کر دیں اس کی قبر کون سی ہے؟ اگر کسی کو جانور کھالے تو اس کی قبر کون سی ہے؟ ہم نے کہا کہ قبر اس کو کہتے ہیں جہاں میت یا میت کے اجزاء ہوں یہ ساری ان کی قبر ہے۔ اب دیکھو سر، دھڑ،ٹانگیں الگ الگ پڑے تھے اللہ نے ان کو جمع کیا کہ نہیں؟ چاروں اجزاء کا آپس میں رابطہ موجود ہے۔ ایک کو آ واز دی ہے تو چاروں جگہ سے جسم کے اعضاء جمع ہونا شروع ہو گئے بالکل اسی طرح جہاں آدمی کی میت کے اجزاء تحلیل ہوکر پورے پانی میں بکھر گئے ہیں یہ ساری اس کی قبر ہے ۔ اللہ تمام اجزاء سے روح کا تعلق جوڑ دیتے ہیں نیک ہیں تو جنت کا مزہ دیتے ہیں اور بد کردار ہے تو جہنم کا عذاب دیتے ہیں۔ اللہ قادر ہیں یا نہیں؟(بے شک قادر ہے)
توحیدی کون ہو سکتا ہے؟
ایک آدمی کہنے لگا کہ اس طرح نہیں ہوسکتا تو میں نے کہا کہ تُو توحیدی کیسے ہے ؟ میں نے کہا کہ توحیدی تو ہم ہیں اجزاء دنیا میں پھیل گئے ہیں ہم کہتے ہیں خدا ہر جز سے روح کا تعلق جوڑ کر عذاب، ثواب دیتا ہے ۔ توحیدی ہم ہیں یا تو ہے؟ جو خدا کی قدرت نہ مانیں کیا وہ کبھی توحیدی ہو سکتا ہے؟ قدرت بھی نہیں مانتا اور کہتا ہے کہ توحید ۔ یہ کیسی توحید ہے؟ تم کیسی توحید لیےپھرتے ہو؟
اللہ کیسے زندہ کریں گے؟
چوتھا واقعہ حضرت عزیر علیہ السلام کا تیسرے پارے میں ہے وہ یہ ہے کہ حضرت عزیر علیہ السلام بخت نصر بادشاہ کے دور میں تھے۔ وہ بہت ظالم بادشاہ تھا اس نے بنی اسرائیل کو قید کیا، توراۃ کو جلا دیا او ر عزیر علیہ السلام اس کی قید میں تھے۔ عزیر علیہ السلام اس کی قید سے رہاہوئے اور رہا ہو کر جا رہے تھے ایک جگہ بستی سے گزرے اور پوری بستی تباہ شدہ تھی۔ عزیر علیہ السلام نے دیکھا تو پوچھا:
﴿اَنّٰی یُحۡیٖ ہٰذِہِ اللہُ بَعۡدَ مَوۡتِہَا﴾
اللہ یہ بستی تباہ وبرباد ہے آپ اس کو زندہ کیسے کریں گے؟ یہ مسئلہ سمجھنے کے لیے اللہ سے سوال کیا۔
100سال کی موت اور پھر زندگی:
حضرت عزیر علیہ السلام گدھے پر سوار تھے روٹی ان کے پاس تھی۔ بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ خشک روٹی تھی اور اوپر انگور لیے انگور کا شیرہ ان پر نچوڑا اور اس کو کھانے لگے اس حالت میں اللہ سے سوال کیا وہیں پر اللہ نے موت دے دی۔ روٹی بھی پڑی ہے ساتھ گدھا بھی ہے اور عزیر علیہ السلام خود بھی ہیں۔
سوسال اسی طرح گزر گئے پھر اللہ نے اٹھایا،
﴿فَاَمَاتَہُ اللہُ مِائَۃَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَہٗ ؕ قَالَ کَمۡ لَبِثۡتَ ؕ﴾
اللہ نےپوچھا عزیر علیہ السلام بتاؤ کتنا عرصہ ٹھہرے؟ انہوں نے کہا:
﴿لَبِثۡتُ یَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ یَوۡمٍ﴾
اللہ ایک دن یا دن کا بعض حصہ ہے ٹھہرا ہوں اس لیے کہ جس وقت وہ فوت ہوئے تو صبح تھی اور جب اٹھے تو شام تھی۔
100سال بعد کھانے پینے کی اشیاء:
اب ان کے ذہن میں تھا کہ اگر آج ہی اٹھا ہوں تو دن کا بعض حصہ ہے اگر کل سویا آج اٹھا ہوں تو پور ا دن گزر گیا ہے۔ اللہ نے فرمایا: ﴿بَلۡ لَّبِثۡتَ مِائَۃَ عَامٍ﴾ آپ سو سال تک اس حالت میں ٹھہرے، ﴿فَانۡظُرۡ اِلٰی طَعَامِکَ وَ شَرَابِکَ لَمۡ یَتَسَنَّہۡ﴾ عزیر آپ اپنے کھانے کو دیکھو بغیر فریج کے صحیح پڑا ہوا ہے اور سو سال گزر گئے تم اپنا مشروب دیکھو اسی طرح پڑا ہے۔
مردوں کو بھی اللہ زندہ کریں گے:
اب ذرا اپنے گدھے کو دیکھو،
﴿وَ انۡظُرۡ اِلٰی حِمَارِکَ وَ لِنَجۡعَلَکَ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ وَ انۡظُرۡ اِلَی الۡعِظَامِ کَیۡفَ نُنۡشِزُہَا ثُمَّ نَکۡسُوۡہَا لَحۡمًا ؕ﴾
فرمایا دیکھو اب گدھے کی ہڈی آئی ہے پھرگدھے کی ہڈی پر گوشت چڑھا پھر اس پر کھال چڑھی ہے گدھا بالکل آواز دیتا ہوا ۔ شاہ عبدالقادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ گدھا ہنہناتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا۔ پھر فرمایا: جیسے ہم نے گدھے کو زندہ کیا ہے اسی طرح کل قیامت کے دن مردوں کو اٹھائیں گے۔
قوم نے عزیر علیہ السلام کی پہچان کیسے کی؟
عزیر علیہ السلام اٹھے اور اپنے علاقے میں گئے تو لوگوں نے ان کو پہچانا نہیں۔ سو سال پورا گزر گیا بابا اب کون پہچانے؟ نسل ہی بدل گئی کہا میں عزیر ہوں تمہارا آدمی ہوں تو انہوں نے کہا کیا نشانی ہے؟ کیونکہ ساری تورات کی کتابیں جلا دیں تھیں اور عزیر علیہ السلام تورات کے حافظ تھے کہا لو میں تمہیں تورات سناتا ہوں ۔ جب پوری تورات زبانی سنائی تو لوگوں کو یقین آ گیا کہ یہ وہی عزیر نبی ہے جو سوسال پہلے تھاتورات تو اب ہے ہی نہیں تو یہ تورات کا حافظ آخر کہاں سے آ گیا ؟
وفات کے بعد زندگی اور سننا:
اس سے ایک چھوٹی سی بات ذرا سمجھیے جو لوگ بطور دلیل کے پیش کرتے ہیں۔ میں مسئلہ صاف کرتا ہوں بعض لوگ کہتے ہیں نبی قبر میں ہو اور نبی کو قبرمیں آواز دو، درود سلام پڑھو تو نبی نہیں سنتا۔ دلیل کیاہے؟ ہم کہتے ہیں اللہ کے نبی قبر میں زندہ ہیں وہ کہتے ہیں نبی قبر میں زندہ نہیں ۔ توجہ رکھو وہ د لیل میں اس واقعہ کو پیش کرتے ہیں کہ عزیر علیہ ا لسلام سو سال تک اس حالت میں رہے جب سو سال بعد اللہ نے کھڑا کیا تو اللہ نے پوچھا: ﴿کَمۡ لَبِثۡتَ﴾ کتنا عرصہ ٹھہرے ہو؟ انہوں نے جواب دیا ﴿لَبِثۡتُ یَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ یَوۡمٍ﴾ اگر زندہ ہوتے تو ان کو پتا نہ ہوتا؟ سوال سمجھ گئے؟ زندہ ہوتے تو ان کو پتا ہوتا ان کو پتا نہ چلنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ زندہ نہیں ہیں۔ اب اس پر لوگ پریشان ہوتے ہیں کہ جی علامہ صاحب نے تو بڑی دلیل دی ہے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی موت پر۔میں نے کہا اچھا یہ بتاؤ قرآن پاک میں اصحاب کہف کا واقعہ ہے وہ کتنے سال سوئے رہے؟ تین سو نو سال۔ کتنے سال ؟ تین سو نو سال۔ جب اٹھے نا تو اللہ نے فرمایا: ﴿کَمۡ لَبِثۡتُمۡ﴾ ہاں بھئی کتنا عرصہ سوئے ہو؟ انہوں نے کہا:
﴿لَبِثۡنَا یَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ یَوۡمٍ﴾
الکہف18: 19
دن یا دن کا بعض حصہ وہ سوئے تھے یا موئے؟ بولو نا! (سوئے)۔قرآن کہتا ہے:
﴿وَ تَحۡسَبُہُمۡ اَیۡقَاظًا وَّ ہُمۡ رُقُوۡدٌ﴾
الکہف18: 18
وہ تو سوئے پڑے تھے وہ تو مردہ نہیں تھے ا ان کو پتا کیوں نہیں چلا ۔ سمجھیے کہتے ہیں عزیر علیہ السلام زندہ نہیں تھے اگر زندہ ہوتے پتا چل جاتا تو اصحاب کہف تو زندہ تھے نا۔ جب اٹھے تھے ان کو پتا نہ چلا اگر پتا نہ چلنا دلیل موت ہوتی تو اصحاب کہف کو سویا نہ کہتے اصحاب کہف کو مویا کہتے۔
عدمِ علم کا عقلی جواب:
میں آپ میں سے کسی بندے سے پوچھوں اچھا آپ بتائیں درس قرآن شروع ہوئے کتنے منٹ ہوئے ہیں؟ تو آپ کو پتا نہ ہو تو کیا یہ مردہ ہونے کی دلیل ہے؟ میں ایک اورجواب دیتا ہوں سنیں، آپ کو لطف آئے گا۔ایک یہ عالم ہے ایک وہ عالم ہے بات سمجھنا ،دونوں میں فرق کیاہے: ﴿کَاَلۡفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ﴾
الحج 22: 47
ایک وہ جہاں ایک یہ جہاں:
قرآن میں ہے کہ اس عالم کا ایک دن ہو تو یہاں کے ہزار دن بنتے ہیں۔بات سمجھیں اس عالم کا ایک دن اس عالم کے ہزار دن کے برابر ہے۔ اِس جہان کا ایک دن تو اُس جہان کے ہزار دن بنتے ہیں۔ عزیر علیہ السلام کتنا عرصہ ٹھہرے؟ 100 سال۔ کتنا بنا؟ ایک تو نہیں بنا، اللہ پوچھتا ہے: ﴿کَمۡ لَبِثۡتَ﴾ عزیر علیہ السلام کتنا عرصہ ٹھہرے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: ﴿لَبِثۡتُ یَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ یَوۡمٍ﴾اللہ! میں دن کا کچھ حصہ ٹھہرا ہوں۔ فرمایا نہیں نہیں! وہاں کی بات نہیں ہے ہم یہاں کی پوچھتے ہیں یہاں کا 100بنتا ہے وہاں کا بعض بنتا ہے۔ نہیں سمجھے یہ جواب ٹھیک ہے یا غلط ہے؟ ﴿بَلۡ لَّبِثۡتَ مِائَۃَ عَامٍ﴾یہاں کا 100وہاں کا بعض ہے ۔ پتا کیسے نہیں چلا بتا تو دیا ہے۔ سمجھ آئی آپ کو؟ میں اس لیے کہتا ہوں کہ ان دلائل کی آپ قیمت جانا کرو پھر ان کو سنبھال کر رکھا کرو۔ یہ حضرت عزیر علیہ السلام کا واقعہ ہے۔
خلاصہ واقعات:
تو کتنے واقعات ہیں؟ چار

1.

بقرہ کا

2.

طالوت علیہ السلام کا۔

3.

سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کا۔

4.

حضرت عزیر علیہ السلام کا ۔
اب میں کچھ مسائل عرض کرتا ہوں بڑے اختصار کے ساتھ
اللہ کا قادر ہونا اور بندے کا عاجز ہونا:
بندے کا عاجز ہونا اور خدا کا قادر ہونا ہے۔ یہ کہاں پر ہے؟ ﴿الٓـمّٓ ﴾میں۔ قرآن کریم کا متن سورۃ الفاتحہ ہے اور سورۃ البقرہ سے لے کر آخر سورۃ الناس تک ایک سو تیرہ سورتیں پورے قرآن کریم کی شرح ہے۔ جب شرح ہوئی ہے تو فرمایا ﴿الٓـمّٓ ﴾سے شروع کرو اس کا معنیٰ کسی کو بھی نہیں پتا سوائے اللہ کی ذات کے۔ اللہ نے بتا دیا دیکھو تمہارا علم اتنا ہے تمہیں الف کا معنیٰ بھی نہیں آتا ۔ تمہارا علم اتنا ہے تمہیں لام کا معنیٰ بھی نہیں آتا۔ کس بات پر اکڑتے ہو؟ اور تمہیں میم کا معنیٰ نہیں آتااگر قرآن سمجھنا ہے تو پہلے یہ بات مانو کہ ہم عاجز ہیں اور تو قادر ہے، پھر تمہیں دین سمجھ آئے گا۔ ﴿الٓـمّٓ ﴾یہ قرآن کا آغاز ہورہا ہے۔ اس میں بندے کا عاجز ہونا اور خدا کا قادر ہونا سمجھایا ہے۔
دفاع صحابہ پر دلیل:
اس میں دفاع صحابہ رضی اللہ عنہم ہےآپ بیانات سنو دفاع صحابہ پہ یہ دلیل شاید کوئی پیش کرے گا۔ ﴿ذٰلِکَ الۡکِتٰبُ لَا رَیۡبَ فِیۡہِ﴾
میں کبھی احباب سے کہتا ہوں کہ بھائی ہم سے لڑائی مول نہ لو، ہم سے دفاع صحابہ سنو، دفاع صحابہ کے دلائل ہم سے لو، پھر دیکھو صحابہ رضی اللہ عنہم کی وکالت کیسے ہوتی ہے؟ ﴿ذٰلِکَ الۡکِتٰبُ﴾توجہ کرو! عربی زبان میں دو لفظ ہیں ایک لفظ ہے ”ھٰذَا “ ایک لفظ ہے ”ذٰلِکَ“ اگر کوئی چیز سامنے ہو اور قریب ہو اس کو کہتے ہیں ”ھٰذَا“ جس کا اردو معنیٰ ہے ”یہ“ اگر کوئی چیز دور ہو یا غائب ہو اس کو کہتے ہیں "ذٰلِکَ" اردو میں معنیٰ ہے ”وہ“ اللہ فرماتے ہیں: ﴿ذٰلِکَ الۡکِتٰبُ لَا رَیۡبَ فِیۡہِ﴾ اس کتاب میں کوئی شک نہیں اس پر اعتراض ہوتا ہے یا اللہ آپ کو ”ذٰلِکَ “ نہیں کہنا چاہیے ”ھٰذَا“ فرمانا چاہیے تھا کیونکہ قرآن تو یہ ہے قرآن وہ تو نہیں ہے قرآن تو سامنے موجود ہے۔ آپ فرماتے”ھٰذَا الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِیْہِ“ کہ اس کتاب میں کوئی شک نہیں لیکن ”ھٰذَا“ نہیں فرمایا بلکہ ”ذٰلِکَ“ فرمایا۔ وجہ یہ ہے کہ جو قرآن جبرائیل علیہ السلام نے حضور کو دیا اس پر کوئی اعتراض نہیں کرتا۔
صحابہ امانت دار تھے:
اور جو قرآن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دیا اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں کرتا۔ لوگ اعتراض اس پر کرتے ہیں کہ جو قرآن صحابہ نے ہمیں دیا ہے اس میں کمی بیشی کی گئی ہے۔ اللہ نے فرمایا نہیں! نہیں!” ذٰلِکَ“ وہ قرآن جو جبرائیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا وہ لکھا ہوا نہیں تھا وہ بھی ﴿لَا رَیۡبَ فِیۡہِ﴾ہے جو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو دیا وہ لکھا ہوا نہیں تھا وہ بھی ﴿لَا رَیۡبَ فِیۡہِ﴾ ہے۔
جمع قرآن اور کاتبین وحی صحابہ:
اور یہ لکھا کب ہے؟ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے فرمانے پر اور جمع کب ہے؟ حضرت عمر،حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے فرمانے پر۔ فرمایا جو جبرائیل علیہ السلام نے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا وہ لکھا ہوا نہیں وہ بھی ﴿لَا رَیۡبَ فِیۡہِ﴾ اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو دیا وہ بھی لکھا ہوا نہیں وہ بھی﴿لَا رَیۡبَ فِیۡہِ﴾ہے ”ذٰلکَ“ یعنی وہ قرآن جو صدیق رضی اللہ عنہ لکھوائے گا وہ قرآن جو عمر رضی اللہ عنہ لکھوائے گا اور معاویہ رضی اللہ عنہ لکھے گا وہ ﴿لَا رَیۡبَ فِیۡہِ﴾اس میں بھی شک نہ کرنا جس طر ح وہ ﴿لَا رَیۡبَ فِیۡہِ﴾ہے یہ بھی ﴿لَا رَیۡبَ فِیۡہِ﴾ہے۔ اس میں بھی شک نہیں اُس میں بھی شک نہیں۔
کلام، کتاب اور قرآن:
اس کو ”کلام“ بھی کہتے ہیں، ”کتاب“ بھی کہتے ہیں او ر اسے ”قرآن“ بھی کہتے ہیں۔

جب اللہ تکلم کرے تو کلام پاک ہے۔

جب نبی پڑھے تو قرآن پاک ہے۔

اور جب معاویہ رضی اللہ عنہ لکھے تو کتاب پاک ہے۔
یہ کتاب تو بنتی ہی تب ہے جب صحابی رضی اللہ عنہ لکھے جب نہ لکھے تو کتاب بنی کیسے؟ کیسے اس میں شک کرے گا؟ ﴿ذٰلِکَ الۡکِتٰبُ لَا رَیۡبَ فِیۡہِ﴾ اس میں دفاع صحابہ رضی اللہ عنہم ہے۔
عقیدہ ختم نبوت پراکابر دیوبند کی خدمات:
آگے چلیں اگلی آیت میں ختم نبوت کا بیان ہے۔ مفتی محمود رحمہ اللہ نے یہ آیت پیش کی تھی اسمبلی میں جب بعض ایم این ایز نے پوچھا تھا کہ قرآن میں کہاں لکھا ہے؟ تو مفتی محمود رحمہ اللہ نے کہا کہ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 4 کے شروع میں لکھا ہے۔ پوچھا کیسے؟ تو کہا اللہ نے فرمایا کہ ایمان والے کون ہیں؟ ﴿وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۚ﴾ اے میرے پیغمبر!ایمان والے وہ ہیں جو اُس کتاب پر ایمان لائیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اور اس وحی پر بھی ایمان لائیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسل م سے پہلے انبیاء پر آئی، اگر حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی آنا ہوتا تو اللہ یوں فرماتے ایمان والے وہ ہیں جو اس کتاب پر ایمان لائیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اور اُس وحی پر بھی ایمان لائیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے انبیاء علیہم السلام پر آئی اوراس پر بھی ایمان لائیں جو آپ کے بعد آئی۔ خدا نے بعد کا تذکرہ نہیں کیا۔ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کیا اور پہلی وحی کا تذکرہ کیا۔اس سے پتا چلا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی بند ہے ہمارے نبی کے بعد کسی نبی نے نہیں آنا ورنہ اس کوبھی ذکر فرما دیتے۔ سورۃ البقرہ کا آغاز ہے اور اللہ اس مسئلے کو بیان فرمادیا کہ ختم نبوت کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔
قرآن کریم ایک معجزہ ہے:
آگے مسئلہ ہے اعجاز قرآن کا۔ اعجاز قرآن کا معنیٰ ہے کہ قرآن اللہ کے نبی کا اعجاز ہے معجزہ ہے معجزہ کا معنیٰ یہ ہے کہ جس دور میں جس فن کا چرچا تھا اللہ اپنے نبی کو اسی فن میں ایسی چیز عطا فرماتے کہ فن والے عاجز ہوتے۔
موسیٰ علیہ السلام کا پہلا معجزہ:
موسیٰ علیہ السلام کے دور میں جادو کا چرچا تھا خدا نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا یہ لاٹھی لیں اور جب وہ لاٹھیاں پھینکیں گے تو وہ سانپ بنیں گے نہیں سانپ نظر آئیں گے اور جو تو لاٹھی پھینکے گا سانپ نظر نہیں آئے گا بلکہ سانپ بنے گا ان کی لاٹھیاں سانپ بنتی نہیں تھیں، ﴿یُخَیَّلُ اِلَیۡہِ مِنۡ سِحۡرِہِمۡ اَنَّہَا تَسۡعٰی﴾
الحج 22: 47
محسوس ہوتا تھا سانپ بنے ہیں لیکن تم لاٹھی پھینکو گے تو سانپ بنے گا ۔ اس دور میں لاٹھی کا سانپ بننا ایک جادو تھا موسی علیہ السلام کی لاٹھی کو خدا نے سانپ بنا دیا یہ معجزہ تھا جب یہ معجزہ آیا تو جادو گر عاجز ہوگئے۔
موسیٰ علیہ السلام کا دوسرا معجزہ:
موسیٰ علیہ السلام کا دور جادو کا دور تھا۔ موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کے اپنے ہاتھ کو بغل کے نیچے رکھو اور نکالو وہ سورج کی طرح چمکے گا جادو گروں سے کہو کہ اس طرح تم بھی چمکا کر دکھاؤ، جادو گر تمہیں بڑے جادو دکھائیں گے مگر سمندر کو روک دیں یہ جادوگر نہیں کر سکتے۔ اے موسیٰ ذرا عصا کو مار ہم بارہ راستے دریا میں نہ بنا دیں تو پھر کہنا، پتھروں سے پانی نکالیں یہ جادوگر نہیں کرسکتے ۔ پتھر پر عصا تو مار! ہم 12 چشمے جاری کردیں گے یہ موسیٰ علیہ السلام کا معجزہ ہے۔
عیسیٰ علیہ السلام کا معجزہ:
عیسیٰ علیہ السلام کے دور میں طب اور حکمت کا چرچا تھا۔ طبیب بڑے تھے فرمایا ان کی کون سی طب ہے؟ تو ان سے کہہ کہ ذرا کوڑھی کو ٹھیک کریں انہوں نے کہا کہ ہم تو ٹھیک نہیں کرسکتے عیسیٰ علیہ السلام نے ہاتھ پھیرا تو ٹھیک ہوگیا اور مادر زاد اندھے کو ٹھیک کرنا ان کے بس میں نہیں تو ہاتھ پھیر! ہم مادر زاد اندھے کو بھی ٹھیک کر دیں گے۔ بے جان میں جان ڈالیں یہ ان کے بس میں نہیں ہے تو چڑیا مٹی کی بنا کر پھونک مار، ہم اس میں جان ڈال دیں گے۔ کوئی مرے اور دنیا میں آئے یہ حکمت کے ساتھ نہیں ہو سکتا قبر پر کھڑے ہو کر تو ” قُمْ بِاِذْنِ اللہِ“ کہہ ہم مردے کو قبر سے نکال کر لے آئیں گے۔ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معجزہ ہے اس دور میں طب کا چرچا تھا تو طبیب کہتے تھے کہ یہ طب نہیں ہے یہ معجزہ ہے۔ جہاں طب جواب دیتی ہے وہاں سے معجزہ کا آغازہوتا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ علمی:
قریشیوں میں فصاحت، بلاغت ، خطابت اور اشعار کی شہرت تھی۔ اتنی شہرت تھی کہ قصیدہ لکھ کے بیت اللہ پہ لٹکا دیتے اور کہتے کہ دنیا میں کوئی ہے جو اس کا جواب دے گا۔ اللہ فرماتے ہیں: اے محمد!( صلی اللہ علیہ وسلم) ہم شعر میں تو نہیں نثر میں قرآن پیش کرتے ہیں اور قرآن پیش کیا۔ لوگ کہتے ہیں کسی کا بنایا ہوا ہے، فرمایا:
﴿قُلۡ لَّئِنِ اجۡتَمَعَتِ الۡاِنۡسُ وَ الۡجِنُّ عَلٰۤی اَنۡ یَّاۡتُوۡا بِمِثۡلِ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ لَا یَاۡتُوۡنَ بِمِثۡلِہٖ﴾
الاسراء 17: 88
آپ ان سے فرمائیں کہ اگر سارے جن و انس اس بات پر جمع ہو جاؤ کہ اس قرآن جیسا بنا کر لاؤ تب بھی تم نہیں لا سکتے۔
پھر کہا چلو ایک چیلنج ہے ایسا کر و
﴿فَاۡتُوۡا بِعَشۡرِ سُوَرٍ﴾
ھود:11: 13
دس سورتیں لے کر آؤ، نہیں لا سکے تو چیلنج تھوڑا سا کم ہو گیا۔
فرمایا
: ﴿فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَۃٍ مِّثۡلِہٖ﴾
یونس10: 38
ایک سورۃ لے آؤ اور سارے جمع ہو جاؤ پھر بھی تم نہیں لا سکتے۔ تو پھر مان لونا یہ بشر کا نہیں یہ خدا کا کلام ہے۔ اللہ نے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطابت، فصاحت و بلاغت دے کر تمام عربوں کو عاجز کر دیا۔
دیگر انبیاء کے معجزے اور ہمارے نبی کا معجزہ:
اس میں ایک بات میں نے عرض کی، ذر ا آپ بھی سمجھنا یہ قرآن کریم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے باقی انبیاء کو معجزے عملی دیے ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو عملی بھی دیے اور علمی بھی دیا۔ عملی معجزہ مثلاً موسیٰ علیہ السلام کو عصا والا دیا اور ہمارے نبی کو عملی بھی دیا اور علمی بھی دیا۔
آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو علمی معجزہ کیوں دیا گیا؟
پہلے انبیاء کو علمی معجزہ نہیں دیا کیونکہ جب عامل جاتاہے تو عمل ساتھ چلا جاتا ہے ۔

مولاناصاحب نماز پڑھاتے ہیں ان کے پیچھے بابا جی نماز پڑھ رہے تھے فوت ہوگئے نمازیں ختم، ایک اور تھے وہ چلے گئے نمازیں ختم۔

ہر سال حج کرتے تھے، فوت گئے تو حج ختم۔

ہر سال زکوٰۃ دیتے تھے، فوت ہوگئے زکوٰۃ ختم۔

ہرسال روزے رکھتے تھے فوت ہوگئے تو روزے ختم۔

عامل جب جائے عمل ساتھ جاتا ہے

اور جب عالم جائے تو علم چھوڑ کے جاتا ہے۔

قاری صاحب پڑھا رہے ہیں دنیا سے چلے گئے ہیں دس بچے حافظ بنے ہیں۔

حافظ صاحب چلے گئے پچاس کو قرآن سکھا دیا۔

شیخ الحدیث چلے گئے پچاس محدّث پیدا کر دیے۔

ایک عالم جائے تو علم چھوڑ کر جاتا ہے۔
عامل جائے تو عمل ساتھ جاتا ہے عالم چلا جائے علم کے نتیجے چھوڑ کے جاتا ہے۔ پہلے انبیاء کی نبوت محدود تھی معجزہ عملی دیا ۔نبی گیا معجزہ ساتھ چلا گیا۔ ہمارے نبی کی نبوت قیامت تک کے لیے تھی معجزہ علمی دیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے علم اب بھی باقی ہے ۔ ان کی نبوت محدود تھی اس لیے معجزہ وہ دیا جو نبی( علیہ السلام )کے ساتھ ہی ختم ہو گیا نبوت کا زمانہ جو تھوڑا تھا ۔ ان کی نبوت کا زمانہ محدود تھا تومعجزہ عملی نہیں بلکہ علمی دیا ۔ اللہ گواہ ہے میں صرف اس علم وعمل پر گھنٹوں دلائل دوں کہ علم وعمل میں فرق کیا ہے۔
صاحب علم کی اجرت زیادہ ہوتی ہے:
ایک نکتہ ذہن میں رکھناعمل بھی علم پر چلتا ہے عمل زیادہ ہوتا ہے اور اجرت کم ہوتی ہے علم میں تھوڑا کام کریں اجرت بہت زیادہ ہوتی ہے مزدور آٹھ گھنٹے کام کرتا ہے تنخواہ پانچ ہزار ہے انجینئر ایک گھنٹا دیتا ہے تنخواہ دو لاکھ ہوتی ہے کیونکہ مزدور کے پاس عمل ہے انجینئر کے پاس علم ہے ۔
دیگر انبیاء کا عمل:
حضرت نوح علیہ ا لسلام نے 950 سال تبلیغ کی ہے اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے 23 سال کی ہے مقام اُن کا نہیں اِن کا بڑا ہے کیونکہ اُدھر عمل اِدھر علم ہے۔ ُادھر عمل تھا اور اِدھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا علم کام کرتا ہے ۔ عمل کا مدار تو علم ہوتا ہے نا ۔
نبوت کا اصل کمال علم میں ہوتا ہے:
ایک اور بات ذہن میں رکھیں نبی میں اصل کمال علم ہوتا ہے نبی کا اصل کمال عمل نہیں ہوتا ۔ کوئی بندہ نبی سے علم میں بڑھ جائے ایسا نہیں ہوسکتا۔ لیکن بظاہر دیکھنے میں عمل امتی کے زیادہ ہو سکتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حج کیا تھا تمہاری مسجد میں ایسے کئی حاجی ہوں گے جنہوں نے تین حج کیے ہوں گے۔ بظاہر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی عمر 23 سال ہے اور 23 سال ہی نماز پڑھی ہے نا ایک آدمی کی اسی سال عمر ہے اس کی کتنی زیادہ نمازیں ہوگی ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ قرآن پوری زندگی میں پڑھا کیونکہ جب مکمل ہوا تب ہی مکمل پڑھیں گے نا جب مکمل نازل ہی نہیں تھا تو مکمل پڑھیں گے کیسے ؟ اور آپ کتنے قرآن پڑھتے ہیں؟ مجھ جیسا نالائق آدمی بھی رمضان میں 4 مرتبہ قرآن پڑھ لیتا ہے۔ پہلے ایک مرتبہ قرآن پڑھا، پھر اس کے بعد سنا دیا، پھر ایک مرتبہ پھیرا دیا، پھر رات کو مصلّے پر پڑھا تو مجھ جیسا نکما حافظ بھی رمضان میں کم از کم چار قرآن پڑھتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری زندگی میں ایک مرتبہ پورا قرآن پڑھا ہے ۔
امتی کاعمل کیفیت میں نبی سے نہیں بڑھ سکتا:
اب دیکھیے! بظاہر امتی عمل میں آگے نکل گیا لیکن علم میں آگے نہیں نکل سکتا لیکن امتی کروڑ مرتبہ قرآن پڑھے اور نبی ایک مرتبہ ”اَلْحَمْدُلِلہِ“ کہہ دے اس کا کروڑ مرتبہ قرآن پڑھنا نبی کی ایک مرتبہ ”اَلْحَمْدُلِلہِ“کہنے کے برابر نہیں ہوسکتا۔ اور یہ کیوں نہیں ہو سکتا؟ اس کی کئی وجوہ ہیں، پھر عرض کروں گا ۔ میں عرض کر رہا تھا کہ قرآن کا اعجاز ہے اور قرآن نے چیلنج کیا پہلے کہا کہ پورا قرآن لاؤ یہ نہیں لا سکتے پھر کہا کہ دس سورتیں لاؤ پھر آخر میں چیلنج کیا کہ ایک سورۃ لاؤ۔
مسئلہ تین طلاق:
ایک اور مسئلہ قرآن میں ہے تین طلاق کا ،
﴿ فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنۡۢ بَعۡدُ حَتّٰی تَنۡکِحَ زَوۡجًا غَیۡرَہٗ ؕ﴾
البقرۃ2: 230
پوری امت کا اجماع ہے، قرآن کا مسئلہ ہے، احادیث کا مسئلہ کہ اگر تین طلاق دو تو تین طلاق ہوتی ہیں تین طلاق دو تو ایک ہر گز نہیں ہوتی ۔
تین طلاقوں کو ایک کہنا کس کا مذہب ہے؟:
تین طلاقوں کو ایک طلاق کہنا یا تو مرزائیوں کا مذہب ہے یا شیعوں کا مذہب ہے اور تین طلاقوں کو تین کہنا اھل السنۃ والجماعۃ کا مذہب ہے۔ یہ اچھی طرح ذہن نشین فر مالیں : ﴿ فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنۡۢ بَعۡدُ حَتّٰی تَنۡکِحَ زَوۡجًا غَیۡرَہٗ ؕ﴾
یہ قرآن میں ہے،سورۃ البقرہ کی آیت نمبر230 نکال لیں اور کوئی بھی تفسیر اٹھا کر دیکھ لیں وہاں یہ لکھا ہوگا کہ تین طلاقیں دینے سے تین ہوتی ہیں تین طلاقیں دینے سے ایک کبھی نہیں ہوتی۔
تین طلاق مناظرے کی دلچسپ روداد:
میں اس پر آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں۔مولانا امین صفدر اوکاڑوی رحمہ اللہ کا مناظرہ تھا اور مناظرہ تین طلاق پہ تھا ادھرسے مناظرہ رکھا اور ساتھ تھانیدار کو فون کر دیا تھانیدار آگیا اور کہا کہ مولوی صاحب تمہارا مناظرہ نہیں ہوگا مولانا فرمانے لگے کہ مناظرہ کیوں نہیں ہوگا مناظرہ تو ہوگا ، اس نے کہا کہ میں نہیں ہونے دوں گا مولانا فرمانے لگے تُو مناظرہ ہونے دے تو تھانیدار ہے طاقتور ہے ثالث بن جا فیصلہ کر دے۔ اس نے کہا کہ اگر تم باز نہ آئے تو میں تمہیں جوتے ماروں گا اور مناظرہ نہیں ہونےدوں گا۔ مولانا اوکاڑوی رحمہ اللہ فرمانے لگے میں بڑا خوش ہوں تیری بات سن کے۔ تو ابھی جوتا اتار مجھے بھی مار او ر اس مولوی کو بھی مار اس کو تین مار کے ایک گننا اور مجھے تین مار کے پورے تین گننا۔ مجھے تین مار اور اس کو نومار، اس نے پوچھا کہ وہ کیوں؟ مولانا اوکاڑوی رحمہ اللہ فرمانے لگے کہ میں کہتا ہوں تین تین ہوتے ہیں اور یہ کہتا ہے تین ایک ہوتا ہے۔ یہ کہتا ہے تین طلاقیں ایک طلاق ہے اور میں کہتا ہوں کہ تین طلاقیں تین ہوتی ہیں۔ میں اس کو سمجھا رہا ہوں لیکن یہ نہیں مانتا پھر یہ تیرے جوتوں سے مسئلہ سمجھے گا میری دلیل سے اس کو مسئلہ سمجھ نہیں آئے گا۔ کیا صرف طلاق میں تین ایک ہے باقی ہر جگہ تین تین ہوتے ہیں؟
زنا کو نکاح کا نام دینے کی جسارت:
عجیب بات ہے اللہ پاک محفوظ رکھے۔ میں تمہیں ہاتھ جوڑ کر اور دیانت داری سے کہتا ہوں کہ کوئی لڑکا رنڈی خانے سے لڑکی گھر میں لے کر آئے اور زنا کرے اتنا بڑا گناہ نہیں ہے جتنا تین طلاقوں کے بعد بیوی کو گھر میں رکھے تو گناہ ہے ۔ میں بڑے اعتماد کے ساتھ بات کہتا ہوں، میں نے خدا کو جواب دینا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جس نے زنا کے لیے لڑکی رکھی ہے اس کو باپ بھی کہتا ہے کہ زنا ہے ماں بھی کہتی ہے کہ زنا ہے خاندان بھی کہتا ہے کہ تُو کنجر ہے۔ تُو لڑکی لے کر آیا ہے لیکن جو تین طلاقوں کے بعد رکھتاہے اس کو کوئی نہیں کہتا کہ یہ زناہے اس کے زنا کو بھی نکاح کہتے ہیں اور زنا کو نکاح سمجھ کر قبول کرنا اس میں کفر کا خطرہ ہے۔ یہ کتنا بڑا جرم ہے!
سوشل بائیکاٹ کرنا چاہیے:
اگر تمہارے خاندان میں کوئی بندہ یہ جرم کرے تو اس سے بائیکاٹ کرو۔ اس کو خاندان سے فارغ کر دو۔ اس جرم میں کبھی شریک نہ ہونا۔ ہمارے ذمہ مسئلہ بتانا تھا ہم نے بتا دیا عمل کر و تمہارا بھلا نہ عمل کرو تو قیامت میں ہم سرخروہیں۔ ہم نےمسئلہ کھول کر بتایا ہے بغیر ڈر کے، بغیر جھجک کے مسئلہ کھولا ہے مانو تو آپ کی مرضی اور نہ مانو تو بھی آپ کی مرضی ۔ تو تین طلاقیں تین ہی ہوتی ہیں۔
مسئلہ حیاتِ انبیاء علیہم السلام:
ایک بات اورسمجھیں اسی طرح قرآن میں سورۃ البقرہ میں ایک مسئلہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے فرمایا:
﴿وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ یُّقۡتَلُ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ اَمۡوَاتٌ ؕ بَلۡ اَحۡیَآءٌ وَّ لٰکِنۡ لَّا تَشۡعُرُوۡنَ ﴿۱۵۴﴾﴾
قرآن کریم کی کوئی بھی اھل السنۃ والجماعۃ کی تفسیر اٹھانا اہل بدعت کی مت اٹھانا۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ وہ مومن آدمی جو اللہ کے راستے میں قتل ہو وہ زندہ ہے اور نبی کا کلمہ پڑھا ہے تو اس کو یہ سعادت ملی ہے تو نبی اس سے بڑھ کر زندہ ہے ۔
نبوت کا مقام شہادت کے رتبے سے اعلیٰ ہے:
جب یہ شہید زندہ ہے تو نبی زندہ کیوں نہیں؟ نبوت کا مقام تو شہادت سے اوپر ہے شہادت کا مرتبہ تو نبی کے صدقے ملا ہے صدقے والا تو زندہ ہے تو نبی خود قبر میں زندہ کیوں نہیں ہوگا؟۔
حکیم الامت مولانا تھانوی کا مسلک:
مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ نبی کی حیات شہید سے بڑھ کر ہوتی ہے کیوں؟ شہید کی حیات کے ساتھ جنازہ ہے اور نبی دنیاسے گئے ہیں ان کا جنازہ ایسے نہیں تھا جیسے شہید کا جنازہ ہے۔ روضے پر جاؤ درود پڑھو۔ یہ صحابہ کا جنازہ تھا اس طرح جنازہ نہیں تھا جیسے شہید کا ہوتا ہے۔
دعائے جنازہ کے الفاظ سے دھوکے کی کوشش:
ہمارے سرگودھا کے ایک مولوی صاحب ہیں ایک جگہ تقریر کی اور مسئلہ بیان کر رہے تھے کہ شہید زندہ نہیں ہوتا مجھے اتنا دکھ ہوا کہ بتا نہیں سکتا۔ کہتے ہیں کہ جب شہید مر جائے توکیا دعا پڑھتے ہو؟ بندہ قتل ہوجائے تو کیا دعا پڑھتے ہو؟
"اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِيْرِنَا وَكَبِيْرِنَا وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا."
مولوی صاحب تقریر کررہے تھے کہتا ہے کیا پڑھتے ہو؟ "اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا" مولوی صاحب کہتا ہے: ”مَيِّتِنَا“ کیوں پڑھتے ہو؟ ”حَيِّنَا وَحَيِّنَا“ کیوں نہیں پڑھتے؟ پھر مان نا کہ زندہ نہیں۔آپ سمجھ گئے؟ یہ بہت بڑی دلیل پیش کی ہے۔ شہید کو قرآن نے زندہ کہا ہے یا ہم نے کہا؟ اشکال ہم پر ہے یا قرآن پر ہے؟ پھر اللہ سے کہو کہ جب یہ زندہ ہے تو ہمیں یہ دعا کیوں سکھائی ہے یہ اعتراض ہمارےاوپر کیوں کرتے ہو ؟ یہ تو بد دماغی ہے۔
دھوکے کا الزامی جواب:
جب میں اس علاقے میں گیا تو مجھے سب ساتھیوں نے کہا کہ تمہارے سرگودھا کے مولوی صاحب یہ دلیل دےکر گئے ہیں اور جواب بھی سرگودھا سے اچھا لگتاہے۔ میں نے کہا جی پھر سرگودھا کا جواب سنیں میں نے کہا: "اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا." یہ کیوں؟یہ سامنے ہے یا غائب ہے؟ پھر کہو نا "شَاهِدِنَا و شَاهِدِنَا"جواب آیا کہ نہیں؟ آگے "وَصَغِيْرِنَا وَكَبِيْرِنَا" کیوں؟ یہ بچہ تو نہیں ہے پھر کہونا "وَکَبِیْرِنَا وَکَبِیْرِنَا" میں نے کہا یہ صغیر نہیں ہے، کبیر ہے۔ آگے "وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا" کیوں؟آپ کا باپ مرا ہے وہ عورت تو نہیں ہے نا تو پھر کہو "وَذَكَرِنَا وَذَكَرِنَا"، "وَأُنْثَانَا" کیوں کہا؟
دعائے جنازہ کے الفاظ کی حکمت:
میں نے کہا کہ اب جواب سمجھو! جنازہ اس کا ہے جو سامنے ہے تو کہا "وَشَاهِدِنَا" اور "وَغَائِبِنَا" کہہ کر اس کو شامل کیا ہے جو غائب ہے۔ جنازہ اس کا ہے جوکبیر ہے "وَصَغِيْرِنَا" کہہ کر بچوں کو دعا میں شامل کیا ہے۔ اگر جنازہ باپ کا ہے تو "وَأُنْثَانَا" کہہ کر عورتوں کوشامل کیا ہے۔ اگر جنازہ ماں کا ہے تو "وَذَكَرِنَا" کہہ کر مَردوں کو شامل کیا ہے۔ اگر جنازہ شہید کا ہے تو کہا "حَيِّنَا" اور "وَمَيِّتِنَا" کہہ کر مُردوں کو شامل کیا۔ اگر جنازہ غیر شہید کا ہے تو کہا "وَمَيِّتِنَا"اور "حَيِّنَا" کہہ کر شہید کو شامل کیا ہے ۔
علمائے حق اور ملحدین کی سازشیں:
اب اگلا جواب سنو! اب دوبارہ اعتراض نہیں ہوگا۔ کل میرے پاس ساتھی آئے تھے قصور کے تھے ایک اہل حدیث تھا اور کہا: مولانا! میں تو ان پڑھ ہوں مجھے تو بات کا پتا نہیں میں نے کہا پھر آئے کیوں ہو؟ اگر ان پڑھ ہو کہنے لگا ایک بات پوچھنی ہے مولانا آپ بھی عالم ہو مولوی توصیف الرحمٰن بھی عالم ہے میں نے کہا توصیف الرحمٰن مولانا طارق جمیل صاحب پر اعتراض کرتا ہے دو گھنٹے وڈیو سی ڈی بنائی ہے میں نے دو گھنٹے میں اس کا جواب دیا ہے چار سال گزر گئے آپ مولانا صاحب سے کہونا کہ جواب دو، نہیں سمجھے؟ انہیں کہو جواب دو یہ ان سے پوچھو مجھ سے کیوں پوچھتے ہو؟ وہ جواب دے تاکہ پتا چلے دونوں عالم ہیں مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہو؟ ایک مولوی ہے ایک جاہل ہے انہوں نے فضائل اعمال پر اعتراض کیا ہے میں نے جواب دیا ہے انہیں کہو نا کہ جواب دو۔بات سمجھ آرہی ہے؟
اپنے عقائد کا پرچار کرتے رہیں:
میں سمجھا رہا تھا کہ مسئلہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی سورۃ بقرہ میں ہے آپ مانتے ہیں کہ نہیں مانتے؟ اھل السنۃ والجماعۃ کا اجماعی عقیدہ ہے کہ اللہ کا نبی اپنی قبر میں زندہ ہے یہاں سے درود پڑھو تو فرشتے پہنچاتے ہیں اور قبر پر پڑھو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم خود سنتے ہیں ۔ یہ ہمارا عقیدہ ہے ہم اپنا عقیدہ اپنی مساجد میں بیان کرتے رہیں گے ۔
سورۃ البقرہ میں اختتامی بیان:
میں آخری بات عرض کرتا ہوں۔ سورۃ البقرہ کا آغاز ہے ﴿ذٰلِکَ الۡکِتٰبُ لَا رَیۡبَ ۛ فِیۡہِۛ ہُدًی لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ۙ﴿۲﴾﴾ اور اختتام ہے ﴿سَمِعۡنَا وَ اَطَعۡنَا﴾ یعنی تم نے غیب کو مانا ہے نظر آئے تو بھی مانو نہ نظر آئے تو بھی مانو، ﴿سَمِعۡنَا وَ اَطَعۡنَا﴾ سمجھ آئے تب بھی مانو نہ سمجھ آئے تب بھی مانو۔ قرآن کی آیت اتری : ﴿وَ اِنۡ تُبۡدُوۡا مَا فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمۡ اَوۡ تُخۡفُوۡہُ یُحَاسِبۡکُمۡ بِہِ اللہُ ؕ﴾
البقرۃ 2: 284
اگرتم اپنے اندر کی بات چھپاؤ گے یا بیان کروگے اللہ سب جانتا ہے۔
غیر اختیاری وساوس کا کیا کریں؟:
صحابہ رضی اللہ عنہم بہت پریشان ہوگئے یارسول اللہ کبھی ایسے خیالات آتے ہیں جو مناسب نہیں ہوتے کیا اللہ تعالیٰ اس پر ہمارا محاسبہ کریں گے؟ غیر اختیاری وسوسے آتے ہیں ہم اس میں بے بس ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ تو اختیاری پر مواخذہ ہے غیر اختیاری پر نہیں ہے۔ جواب تو یہی تھا لیکن یہ جواب نہیں دیا بلکہ کہا کہ اے صحابہ! تم یہ کہو ﴿سَمِعۡنَا وَ اَطَعۡنَا﴾ اللہ نے آگے دوسری آیت اتار کر جواب دے دیا کہ غیر اختیار ی پر مواخذہ نہیں ہوگا بلکہ اختیاری پر ہوگا ۔ لیکن مسئلہ بعد میں سمجھایا، ﴿سَمِعۡنَا وَ اَطَعۡنَا﴾ پہلے سمجھایا تاکہ مزاج بن جائے کہ نظر آئے تب بھی مانیں گے اور نہ نظر آئے تب بھی مانیں گے۔ اہل السنت کا عقیدہ ہے کہ نبی کا فیصلہ سمجھ آئے تب بھی مانیں گے اور نہ سمجھ آئے تب بھی مانیں گے۔
نبی کا غلام اور عقل کا پجاری:
حضور مکہ سے چلے، عرش تک گئے ہیں واپس آئے ابو جہل آیا اور کہا کہ میں نہیں مانتا کیونکہ میری عقل میں نہیں آتا اور صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں تو مانتا ہوں ابوجہل نےکہا کہ جب عقل میں نہیں آتا تو پھر کیوں مانتے ہو؟ انہوں نے فرمایا عقل کا کلمہ نہیں پڑھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھا ہے۔
صدیق کا بیٹا اور ابو جہل کا بیٹا:
میں کہتا ہوں ہاں خدا کی قسم! جونبی کے فرمان پرعقل قربان کر دے وہ صدیق کا بیٹا ہے اور جوعقل کی وجہ سے نبی کے فرمان کو چھوڑ دے وہ ابو جہل کا بیٹا ہے۔ ہم ابو جہل والے نہیں ہیں ہم صدیق رضی اللہ عنہ والے ہیں۔سمجھ آئے تب بھی مانتے ہیں اور نہ سمجھ آئے تب بھی مانتے ہیں، نظر آئے تب بھی مانتے ہیں نہ نظر آئے تب بھی مانتے ہیں۔ کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرما دیا وہ برحق ہے۔ اس کے سامنےہماری عقل کی حیثیت کیاہے۔اللہ ہم سب کو بات سمجھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
وَاٰخِرُ دَعْوَانا أَنِ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ.