سورۃ الانعام

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
سورۃ الانعام
بِسۡمِ اللہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
﴿اَلۡحَمۡدُ لِلہِ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوۡرَ ۬ؕ ثُمَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِرَبِّہِمۡ یَعۡدِلُوۡنَ ﴿۱﴾﴾
سورۃ کا مختصر تعارف:
سورۃ الاَنعام اس میں 20 رکوع ہیں اور 165آیات ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب اللہ رب العزت نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ سورۃنازل فرمائی تو ستر ہزار فرشتے اس سورۃ کے جلومیں تشریف لائے اس قدر عظمت والی یہ سورۃ ہے۔ سورۃ کا نام ہے سورۃ الاَنعام۔ اَنعام عربی زبان میں چوپائے [چار ٹانگوں والے جانور] کو کہتے ہیں، چونکہ سورۃ مبارکہ میں اَنعام کا ذکر ہے اس لیے اس سورۃ کا نام بھی سورۃ اَنعام ہے۔
پیدا کرنا اور بنانا:
﴿اَلۡحَمۡدُ لِلہِ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوۡرَ ۬ؕ ثُمَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِرَبِّہِمۡ یَعۡدِلُوۡنَ ﴿۱﴾﴾
اللہ نے اس سورت کا آغاز فرمایا الحمد اور تعریف سے، اور دو لفظ ارشاد فرمائے ہیں۔
﴿اَلۡحَمۡدُ لِلہِ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ﴾
اللہ رب العزت وہ ذات ہیں جس نےآسمان اور زمین کو پیدا کیا،
﴿وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوۡرَ﴾
اورظلمات اور نور کو بنایا۔
اس میں دو لفظ ہیں،ان دونوں لفظوں میں فرق سمجھیں۔ سماوات اور ارض کے لیے لفظ خلق اور ظلمات اور نورکےلیے لفظ جعل فرمایا۔
خلق اور جعل میں فرق:
ان دونوں میں کیا فرق ہے؟ جب آسمان اور زمین کا ذکر تھا تو ان کے لیے ”پیدا“ کا لفظ استعمال فرمایا۔ اور جب ظلمات اور نور کی بات کی تو فرمایا ظلمات اور نور کو بنایا، تو پیدا کرنے اور بنانے میں کیا فرق ہے؟ خلق اور جعل میں کیا فرق ہے؟ مفسرین نے لکھا ہے: اس لیے کہ آسمان اور زمین یہ اصل ہیں اور ظلمات اور نور یہ تابع ہیں تو اصل لفظ خلق ہے، اور تابع لفظ جعل ہے۔
فرق کی وضاحت مثال سے:
جیسے مسجد ہے، اصل چیز تو مسجد ہےباقی اس کا رنگ ہے، روغن ہے، روشنی ہے، یہ چیزیں اس مسجد کے تابع ہیں، جب ذکر فرمایا آسمانوں کا توفرمایا خلق پیدا کیا، اور جب آئی ظلمات اور نور کی بات تو فرمایا جعل بنایا۔ یعنی اصل آسمان اور زمین ہیں اور ظلمات اور نور اس کے تابع ہیں۔
سوال: سماوات جمع اور ارض واحد؟:
پھر یہاں اللہ رب العزت آسمان کے لیے لفظ سمٰوات لائے ہیں جو جمع ہے، اور والارض واحد لائے ہیں، حالانکہ جس طرح سات آسمان ہیں اسی طرح سات زمینیں ہیں۔
﴿اَللہُ الَّذِیۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الۡاَرۡضِ مِثۡلَہُنَّ﴾
الطلاق65: 12
قرآن کریم میں ہے کہ جس طرح اللہ نے سات آسمان پیدا فرمائے ہیں اسی طرح سات زمینیں بھی پیدا فرمائی ہیں۔ لیکن یہاں پر آپ دیکھ لیں سمٰوات جمع ہے والارض واحد ہے جس سے معلوم ہوتا ہے آسمانوں کی تعداد زیادہ ہے اور زمینوں کی تعداد کم ہے۔
جواب:
مفسرین نے لکھا ہے: وجہ یہ نہیں ہے، وجہ یہ ہے کہ آسمان اپنی ہیئت اور خصوصیات کے لحاظ سے ہر آسمان دوسرے سے الگ ہے اور سات زمینوں میں سے ہر زمین اپنی ہیئت اور عمومی خصوصیات کی وجہ سے چونکہ ایک جیسی ہے اس لیے آسمان کو جمع لائے، اور زمین کو واحد لائے۔
اور بعض حضرات فرماتے ہیں کہ ارض کی جمع غیر فصیح ہے ، اس لیے واحد کا صیغہ لائے اور لفظ مِثلَھُن سے اشارہ فرما دیا کہ زمینیں بھی سات ہیں۔
اثر ابن عباس اور سات زمینیں:
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا اثرہے، اثر عربی زبان میں کہتے ہیں صحابی کے ارشاد کو۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ رب العزت نے سات زمینیں پیدا فرمائیں، اور ہر زمین میں ایک آدم تمہارے آدم کی طرح، ایک نوح تمہارے نوح کی طرح، ایک موسیٰ تمہارے موسیٰ کی طرح، ایک عیسیٰ تمہارے عیسیٰ کی طرح اور ایک محمد تمہارے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح ۔ علی نبینا وعلیہم الصلوۃ والتسلیم۔ یہ ہےحدیث مبارک۔
بعض لوگوں کا حدیث پر اعتراض:
اب اس حدیث پربعض لوگوں نے اعتراض کیا ہے؟ اعتراض یہ ہے کہ اگر ہر زمین پر ایک حضرت آدم، ایک حضرت نوح، ایک حضرت موسیٰ، ایک حضرت عیسیٰ اور ایک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اور اس زمین پر بھی ہیں۔ تو ہم جو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں تو پھرکون سی زمین والے محمد خاتم النبیین ہیں۔ یہ اس حدیث پر سوال ہے؟
بعض لوگوں نے تو ا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کا ہی انکار کردیا کہ ہم مانتے ہی نہیں ہیں۔
قاسم العلوم والخیرات حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ بانی دار العلوم دیوبند انہوں نے فرمایا: ہم ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے انکار نہیں کرتے ہم معنی وہ کرتے ہیں کہ جس سے اعتراض ہی ختم ہوجائے، ہم صحابی کی بات کو رد کیوں کریں صحابی کی بات کا معنی وہ کریں کہ جس معنی پر اعتراض ہی نہ ہو۔
میں ایک جملہ عرض کرتا ہوں ہمارے ہاں بڑے حضرات ایک جملہ کہتے ہیں اورچھوٹےاس کو سمجھتے نہیں ہیں تو فتنے پیدا ہوجاتے ہیں۔ میرایہ ایک مستقل عنوان ہے، کہ میں ایک جملہ عرض کروں کہ ہمارے بڑوں نے فلاں جملہ، فلاں جملہ، فلاں جملہ فرمایا اور چھوٹے نہ سمجھے تو اس سے فتنے پیدا ہوگئے۔
میں ایک مثال دیتا ہوں ہمارے ہاں چونکہ عموما ً بہت بڑے، بڑے اجتماع ہوتے ہیں تو مجھے ایک ساتھی کہنے لگا: حاجی عبدالوہاب صاحب رائےونڈ والے دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ بڑے بڑے جلسوں سے فتنے پیدا ہوتے ہیں اس لیے بڑے بڑے جلسے کرنے کے بجائے اپنی مسجدوں میں چھوٹے چھوٹے جوڑ رکھا کرو۔ میں نے کہا یہ بات اگردرست ہے تمہارے کہنے کے مطابق، پھر تم بتاؤ کہ رائے ونڈ سے بڑا جلسہ تو پاکستان میں کہیں نہیں ہوتا اگر بڑے جلسے فتنے ہیں تو پھر رائے ونڈ اجتماع کو تم فتنہ کہو گے؟ وہ کہتا ہے جی نہیں۔ تو پھر کہتا ہے حاجی صاحب کےاس جملے کا مطلب؟ میں نے کہا جملے کا مطلب سمجھو اس جملے کو لے کر ہمارے جلسے کاانکار نہ کرو۔ کہتا ہے: جی مطلب کیا ہے؟ میں نے کہا: پوری بات سمجھیں مطلب یہ ہےکہ ایک آدمی بڑا اجتماع کرے اور اس کے بعد سوجائے تو اجتماع فتنہ ہے اور اگر بڑا اجتماع کرکے چلتا رہے تو فتنہ نہیں ہے پھر یہ ٹھیک ہے۔ کیا مطلب ہے؟
مسلسل محنت رنگ لاتی ہے:
مثلاًآپ سرگودھا میں ایک بہت بڑاجلسہ کریں مرزائیوں کے خلاف اور پھر سو جائیں مرزائی متحرک ہوجائیں گے اور آپ سوجائیں گے تو کیا جلسہ ان کو جگانے کے لیے کیا تھا؟ اس لیے بڑے جلسے کے بعد پھر چھوٹی چھوٹی میٹنگز مسلسل جاری رکھیں تاکہ اس جلسے کے پورے پورے فوائد حاصل ہو سکیں، آپ باطل کے خلاف جلسہ کررہے ہیں ان کو جگالیں اور خود آپ چھوڑ دیں تو باطل متحرک ہوجائے گا آپ سوجائیں گے تو بتاؤ جلسے کا فائدہ ہوا یا نقصان [نقصان۔ سامعین ]۔اس لیے ان کا مطلب یہ ہے کہ بڑے جلسے کرو سو یا نہ کرو پھر ان ثمرات کو لوٹا کرو اور جلسے مسلسل جاری رکھا کرو، تو ہم اپنے بڑوں کے جملے سمجھتے نہیں ان کو اپنے لیے مستقل فتنہ بنالیتے ہیں۔ اللہ ہمیں اکابر کی باتوں کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے، اور نا بھی سمجھیں تو رد پھر بھی نہ کریں ایک وقت آتا ہے اللہ بات سمجھا ہی دیتے ہیں، لہذا اپنے بڑوں کی بات رد نہ کیا کرو۔
حضرت نانوتوی کا رسالہ تحذیر الناس:
حضرت مولانا قاسم نانوتوی فرماتے ہیں: ہم حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بات کا انکار نہیں کرتے اس کا معنی کرتے ہیں۔ اس پر مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ کی مستقل کتاب ہے، تحذیر الناس اس کتاب کا نام ہے۔ اور بڑی پڑھنے والی کتاب ہے، دار العلوم دیوبند کے چالیس سالہ مہتمم مولانا، قاری محمد طیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے اس کتاب کو سبقاً پڑھا ہے تو تب مجھے سمجھ آئی ہے اب بتائیں کتنی مشکل کتاب ہوگی۔ میں نے اس کتاب کو ادھر چناب نگر میں تربیتی نشست میں بیان کیاتو مجھے وہ حضرات فرمانے لگے کہ آپ ہمیں یہ کیسٹ بھجوادیں، ہمارا جی چاہرہا ہے کہ اس کو چھاپ دیں اتنا آسان اس کتاب کو بیان کرنا یہ بڑا مشکل ہے۔
خاتم النبیین کون سے محمد ہیں؟
اب اشکال یہ ہے کہ اگر سات زمینوں میں سے ہر زمین پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، تو آخری نبی کون سے محمد ہیں۔ تو مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کہ دنیا کا اصول اور ضابطہ یہ ہے کہ اگر کوئی مکان سات منزلہ بنا ہو تو اس میں ہوتا ہے کہ پہلی منزل کون سی ہے اور آخری کون سی ہے، جو سب سے نیچے ہو اس کو پہلی منزل کہتے ہیں اور جو سب سے اوپر ہو اس کو آخری منزل کہتے ہیں۔ تو اگر سات زمینیں بنی ہیں تو ہماری زمین کے اوپر آسمان ہے اس کے نیچے چھٹی زمین ہے، اس کے نیچے پانچویں اس کے نیچے چوتھی، اس کے نیچےتیسری، اس کے نیچے دوسری اور اس کے نیچے پہلی، تو پہلی زمین سب سے نیچے ہے اور ہماری زمین سب سے آخری ہے تو جب ہماری زمین آخری ہے تو ہماری زمین کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی آخری ہیں، اس لیے آخری نبی یہی ہیں۔ اس میں اشکال کی بات کیا ہے؟ اب دیکھو کوئی بات مشکل تو نہیں ہے نا۔
ظلمات جمع ہے اور نور واحد ……کیوں؟:
میں اس لیے اس پر نکتہ عرض کررہا ہوں کہ اللہ نے زمین سات بنائی اور آسمان بھی سات بنائے ہیں۔
﴿وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوۡرَ﴾
اللہ پاک نے ظلمات بھی بنائے ہیں اور نور بھی بنائے ہیں، نور کو لیں گے تو روشنی ملے گی اور اگرنور کو چھوڑ دیں گے تو اندھیرا ملے گا۔ یہاں بھی اللہ پاک نے ظلمات کو جمع کرکےذکر فرمایا اور نور کو واحد کرکےذکرفرمایا، نور ایک ہے اور اندھیرے کئی ہیں اوریہ بتانے کےلیے کہ حق ایک ہوتا ہے اورباطل کئی ہوتے ہیں، سنت ایک ہوتی ہے بدعتیں کئی ہوتی ہیں۔
ہر علاقے کی بدعت جداہوتی ہے:
آپ پوری دنیا میں گھوم لیں آپ میں سے وہ حضرات جو کاروبار کے لیے جاتے ہیں یا جماعت کے ساتھ جاتے ہیں جماعت والوں کے اسفار تجارت والوں سے بھی زیادہ ہوتے ہیں وہ اس کا تجربہ بخوبی رکھتے ہیں پوری دنیا میں جائیں تو سنت ایک ہی ہوتی ہے لیکن ہر علاقے کی بدعت الگ الگ ہوتی ہے۔ سنت یہ نور ہے اور بدعت یہ ظلمت ہے، بدعتیں کئی ہوتی ہیں اور سنت ایک ہوتی ہے۔
اس لیے فرمایا:
﴿وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوۡرَ﴾
اللہ نے ظلمات بھی بنائے اور نور بھی بنائے،ظلمات اس لیے نہیں بنائے کہ انسان اندھیریوں میں چلا جائے بلکہ اس لیے بنائے کہ انسان اس سے بچے اور نور میں چلا جائےچونکہ دنیا دارالامتحان جو ہے امتحان تو بنتا ہی تب ہے جب نفع کی چیز بھی بنائے اور نقصان کی چیزبھی بنائے اور پھر بندے سے کہے یہ نقصان کی چیز ہے اور یہ نفع کی چیزہے، بندہ نقصان کو چھوڑ کر نفع کو لے لے یہ امتحان ہے اور اگر نقصان والی چیز کو پیدا ہی نہ فرمائیں تو دنیا دارالامتحان بنے گی کیسے؟
جہنم خواہشات کے پردوں میں لپٹی ہوئی ہے:
جب اللہ نے جنت اور جہنم کو پیدا فرمایا تو حکم دیا ملائکہ کو ذرا اس کی سیر کریں، ملائکہ نے کہا یا اللہ دنیا میں کوئی بندہ بھی جہنم میں نہیں جائے گا سارے ہی جنت میں جائیں گے جہنم میں جاتا کون ہے۔ حدیث مبارک میں ہے اللہ نے جہنم کو خواہشات کے ساتھ ڈھانپ دیا اور جنت پر اللہ نے پردہ ڈال دیا اورکہا اب دیکھو جا کے انہوں نے کہا: اللہ اب سارے جہنم میں جانے کی کوشش کریں گے جنت میں جانے والے اب کم ہونگے کیونکہ جہنم پر پردہ خواہشات کا ہے خواہش کی چیزوں سے ڈرو۔یہ جہنم کا پردہ ہے جب وہاں جاؤگے تو نیچے جہنم پڑی ہوگی۔
خواہشات کی قربانی کا نتیجہ جنت ہے:
جنت کا معاملہ ایسا نہیں ہے جنت میں جانے کے لیے نا پسندیدہ چیزوں سے گذرنا پڑتا ہے سخت سردی ہو تو وضو کرنے کو جی نہیں چاہتا ، مسجد میں جا کر نماز پڑھیں تو یہ مشکل لگتا ہے۔ بازار میں جائیں تو جی چاہتا ہے نا محرم عورتوں کو دیکھیں، بازار میں جائیں تو جی چاہتا ہے گانے سنیں یہ جی چاہنے کی باتیں ہیں یہ جو گانے والا پردہ ہے اگر یہ گانا سنے گا تو جہنم میں جائے گا اور اگر نہیں سنے گا تو بظاہر دل کو چوٹ لگے گی یہ دل کی چوٹ انسان کو جنت میں پہنچا دے گی۔
رسول کسے کہتے ہیں؟:
ربیع الا ول میں ایک بحث لمبی چھڑی ہوئی ہوتی ہے اللہ ہمیں بات سمجھنے کی توفیق عطافرمائے۔ میرا اپنے گاؤں میں آج جمعہ پورا لفظ رسول پر تھا اور میں ان کو سمجھا رہا تھا اللہ پاک فرماتے ہیں:
﴿لَقَدۡ جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ﴾
اللہ نے فرمایا تمہارا اعزاز یہ ہے تمہارے پاس وہ رسول آیا ہے جو تم میں سے ہے۔
التوبۃ 9: 128
ہمارا اعزاز ہے کہ اللہ نے جنس بشر میں سے نبی بنایا ہے اور ہم کہتے ہیں ہمیں اعزاز نہیں چاہیئے یہ فرشتوں میں سے ہے،نور یوں میں سے ہے، اللہ کے بندو جبرائیل کو سیدالنور کہتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سید البشر کہتے ہیں۔
سید البشر مخدوم ہیں:
سید النور خادم ہے اور سید البشر مخدوم ہے، مخدوم اعلیٰ ہوتا ہے اور خادم ادنی ہوتا ہے۔ تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مخدوموں کی فہرست میں سے نکال کر خدام کی فہرست میں نہ لاؤ۔ اس لیے ہم کہتے ہیں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بشر ہے اور نبی کےاوصاف سارے کے سارے نور ہیں۔
انسان کی تخلیق مٹی سے:
آگے دوسری آیت میں فرمایا:
﴿ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ طِیۡنٍ ثُمَّ قَضٰۤی اَجَلًا ؕ وَ اَجَلٌ مُّسَمًّی عِنۡدَہٗ ثُمَّ اَنۡتُمۡ تَمۡتَرُوۡنَ ﴿۲﴾﴾
میں نے صرف ایک چھوٹا سا نکتہ بیان کرنا ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔
موت کا مقرر وقت اللہ کے علم میں:
﴿ثُمَّ قَضٰۤی اَجَلًا﴾
اور پیدا کرنے کے بعد تمہاری موت کا ایک وقت مقرر فرمادیا آگے پھر فرماتے ہیں:
﴿وَ اَجَلٌ مُّسَمًّی عِنۡدَہٗ﴾
اور ایک مقرر موت کا وقت اللہ کے پاس موجود ہے، بندہ سمجھتا ہے یہ عجیب جملہ ہے، پہلے فرمایا کہ تمہیں مٹی سے پیدا فرمایا اور موت کا وقت مقرر کردیا پھر فرمایا:
﴿وَ اَجَلٌ مُّسَمًّی عِنۡدَہٗ﴾
اور ایک موت کا وقت مقرر ہے اللہ کے پاس موجود ہے۔
عالَم اجمالی اور عالَم تفصیلی:
اصل وجہ یہ ہے کہ عالم دو قسم کے ہیں،ایک ہوتا ہے عالم اجمالی اور ایک ہوتا ہے عالم تفصیلی، بندے کا وجود یہ عالم اجمالی ہے اور پوری کائنات یہ عالم تفصیلی ہے ایک جہان بندے کا وجود ہے اور ایک جہان پوری کائنات ہے، بندے کا وجودایک مستقل جہان ہے لیکن درجہ اجمال میں ہے لیکن پوری کائنات ایک مستقل جہان ہے جو درجہ تفصیل میں ہے آپ پوری زمین کو دیکھ لیں یا کسی دیکھنے والے سے کہہ دیں جو جو چیزیں آپ کو زمین میں نظر آئیں گی ان سب کا نقشہ اللہ نے انسان کے وجود میں رکھا ہوا ہے۔
حضرت انسان ……عالم اجمالی:
لوگ کہتے ہیں فلاں علاقے کی زمین چٹیل ہے، چٹیل کا معنی وہاں پر گھاس ہوتی ہی نہیں ہے، آدمی کے جسم میں ایسے حصے موجود ہیں جہاں بال ہوتے ہی نہیں ہیں۔ آپ تلوے کو دیکھ لیں یہاں بال اگتے ہی نہیں ہیں ۔ کہتے ہیں جی فلاں ایسی زمین جہاں پر فصل اگتی ہے اور ختم ہوجاتی ہے زمین بڑی شور ہے۔بعضوں کے سر ایسے ہوتے ہیں کہ بال اگتے ہیں اور گر جاتے ہیں۔ اب دیکھو جو جو اقسام آپ زمین کی بتائیں گے وہ انسان کے جسم میں موجود ہیں اور جو آپ دریاؤں اور نالوں کی قسمیں بتائیں گے نا وہ انتڑیوں کی شکل میں انسان کے جسم میں موجود ہیں۔ جو دنیا کے موسم ہیں نا کہیں گرم ہے کہیں سرد ہے انسان کے وجود میں بھی موجود ہیں کوئی حصہ گرم ہے کہیں سرد ہے ایسے ہے کہ نہیں؟ اچھا کہیں پانی جما ہوا ہے کہیں حرکت میں ہے۔ انسان کے وجود میں ہمہ وقت کہیں خون جما ہوا ہے جیسے انسان میں جو کلیجی ہے یہ جما ہوا خون ہے کہیں حرکت والا خون ہے جتنے مناظر دنیا میں درجہ تفصیل میں موجود ہیں، وہ درجہ اجمال میں انسان کےجسم میں موجود ہیں۔
قیامت بڑے جہان کی موت کا نام ہے:
اللہ تعالی فرماتے ہیں میں نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ہےاور پھر موت کا وقت مقرر کردیا ہے۔ایک وقت موت کا میں نے جہانِ اجمالی کا رکھا ہے اور
﴿وَ اَجَلٌ مُّسَمًّی عِنۡدَہٗ﴾
ایک وقت موت جہان ِتفصیلی کا رکھا ہے، جب انسان پر موت آتی ہے تو یہ موت چھوٹے جہان کی ہے اور جب قیامت آئے گی تو موت بڑے جہان کی ہوگی، چھوٹے جہان کا نام انسان ہے اور بڑے جہان کا نام پوری کائنات ہے، موت انسان کے وجود پر بھی آتی ہے اور پوری کائنات پر بھی ہم جسے قیامت کہتے ہیں۔ اللہ فرماتے ہیں:
﴿ثُمَّ اَنۡتُمۡ تَمۡتَرُوۡنَ ﴿۲﴾﴾
روزانہ تم مرتے ہوئے بندے دیکھتے ہو پھر بھی قیامت کے بارے میں شک کرتے ہو۔
حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے تڑپ
﴿وَ اِنۡ کَانَ کَبُرَ عَلَیۡکَ اِعۡرَاضُہُمۡ فَاِنِ اسۡتَطَعۡتَ اَنۡ تَبۡتَغِیَ نَفَقًا فِی الۡاَرۡضِ اَوۡ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاۡتِیَہُمۡ بِاٰیَۃٍ ؕ وَ لَوۡ شَآءَ اللہُ لَجَمَعَہُمۡ عَلَی الۡہُدٰی فَلَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡجٰہِلِیۡنَ ﴿۳۵﴾﴾
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک وصف اللہ نے قرآن کریم میں بیان فرمایا ہے: ﴿حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ﴾ میرے پیغمبر حریص ہیں تم لوگوں پر۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قدر طلب اور تڑپ تھی کہ میرا کوئی امتی جہنم میں نہ جائے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی طلب تھی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اتنا کڑھتے اتنا روتے اتنی محنت فرماتے اللہ رب العزت نے خود ارشاد فرمایا اے میرے پیغمبر اگر یہ ایمان قبول نہ کریں کیا ان کی فکر میں آپ اپنے آپ کو مار کے رکھ دیں گے؟
اے میرے پیغمبر آپ یوں نہ کریں، آپ اپنی صحت کا خیال فرمائیں جن کے مقدر میں ہدایت لکھی ہے وہ سیدھے رستے پر آجائیں گے اور جن کے مقدر میں ہدایت نہیں لکھی وہ نہیں آئیں گے۔
فرمائشی معجزے طلب کرنا:
کفار آپ سے بعض فرمائشی معجزے طلب کرتے۔ ان کا ایک فرمائشی معجزہ یہ بھی تھا اگر آپ اس فلاں پہاڑ کوسونے کا بنادیں تو ہم کلمہ پڑھ کے ایمان لے آئیں گے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش ہوتی یہ سونے کا بن جائے اورشاید یہ ایمان لے آئیں اور جنت میں چلے جائیں ۔اللہ تعالی نے فرمایا میرے پیغمبر تجھے بہت غم ہے اور صدمہ ہے اور تیری خواہش ہے کہ کوئی بھی فرمائشی معجزہ مل جانا چاہیئے میرے پیغمبر اگر آپ کو بہت دکھ ہے نا آپ ان کے ایمان کے لیے بہت ہی حریص ہیں۔
اللہ کی مشیت:
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَ اِنۡ کَانَ کَبُرَ عَلَیۡکَ اِعۡرَاضُہُمۡ﴾
اگر آپ کو اس بات سے بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے کہ یہ کیوں نہیں مانتے،
﴿فَاِنِ اسۡتَطَعۡتَ اَنۡ تَبۡتَغِیَ نَفَقًا فِی الۡاَرۡضِ اَوۡ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ﴾
اے پیغمبر پھر آپ ایسا کریں ایک سیڑھی لے لیں اور آسمان پر چڑھ جائیں یا آپ ایک سرنگ بنائیں اور زمین میں اتر جائیں،
﴿فَتَاۡتِیَہُمۡ بِاٰیَۃٍ﴾
پھر ان کے لیے فرمائشی معجزے لے کر آجائیں۔فرمایا نہیں میرے پیغمبر!
﴿وَ لَوۡ شَآءَ اللہُ لَجَمَعَہُمۡ عَلَی الۡہُدٰی﴾
اگر اللہ چاہتا تو یہ سارے ہدایت پر آجاتے لیکن سب کا ہدایت پر آنا اللہ کو منظور نہیں ہے اللہ نے اختیار دے دیا ہے اس اختیار سے یہ ایمان قبول کریں گے مومن بن جائیں گے نہیں قبول کریں گے تو کافر بن جائیں گے۔
جو دلیل نہیں مانتے:
اس لیے میرے پیغمبر آپ اتنی فکر نہ کریں کہ جس سے آپ کے وجود اطہر کو خطرہ لاحق ہوجائے اللہ رب العزت نے نبی پاک کو تسلی بھی دی ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ ان کے لیے فرمائشی معجزوں کی ضرورت نہیں ہے اس سے بہت بڑا اصول اور مسئلہ سمجھ آیا، مسئلہ کیا سمجھ آیا؟ بعض حضرات ضرورت سے زیادہ فکر مند ہوتے ہیں مولوی صاحب اس لڑکے کی بات سنو۔اچھا سن لی ہے، دلیل دی ہے نہیں مانتا پھر اور کوئی نئی دلیل دیں اچھا پھر کوئی اور خاص ٹائم اس کے لیے نکالیں۔ میں کہتا ہوں کہ دلائل سے سمجھا دیں، اللہ تعالی ہدایت دیں تو بہت بہتر ورنہ اس کی فکر میں دبلا ہونے کی ضرورت نہیں۔
ابلیس کا تکبر اور حسد:
اللہ نے فرمایا: آدم کو سجدہ کرو۔ تمام ملائکہ نے سجدہ کیا، ابلیس نے سجدہ نہیں کیا۔ اللہ نے فرمایا: ابلیس تونے سجدہ کیوں نہیں کیا؟ ابلیس نے کہا: یا اللہ اس کو تو نے مٹی سے بنایا اور مجھے آگ سے بنایا میں اس سے افضل ہوں، کیونکہ مٹی اوپر پھینکو تو نیچے آتی ہے اور آگ نیچے پھینکو تب بھی اوپر جاتی ہے، میں اس سے افضل ہوں میں اس کو سجدہ کیوں کروں؟ یہ بتاؤ جو ابلیس نے دلیل دی تھی اللہ کو اس کا جواب نہیں آتا تھا؟ [آتا تھا۔ سامعین ]پھر جواب دیا [نہیں۔ سامعین ]کیا فرمایا: ”اُخْرُجْ “ دفع ہوجا میری جنت سے۔
اگر سوال کرنے والا ضدی ہو تو:……
ہر بات کا جواب نہیں دیتے یہ دیکھتے ہیں سوال کرنے والا ضدی ہے یا غلط فہمی کا شکار ہے؟ ابلیس ضدی تھا غلط فہمی کا شکار نہیں تھا جواب مل جاتا اس بے ایمان نے پھر بھی نہیں ماننا تھا۔ خدانے فرمایا اس کو باہر نکال دو۔ اللہ تعالی نے فرمایا میرے پیغمبر فرمائشی معجزے ان کو مت دکھائیں،یہ معجزے ماننے والے نہیں ہیں۔ میرے پیغمبر ان کا بات نہ ماننا اگر آپ کو گراں گزرتا ہے تو پھر آپ سیڑھی لیں اور آسمان پر چڑھ جائیں اور خود معجزہ لے کر آجائیں۔ اللہ نے اپنے پیغمبر کو سنایا ہے، مجھے اور آپ کو سمجھانے کے لیے بس آپ دلائل دیا کریں اور ضرورت سے زیادہ فکر مندنہ ہوا کریں آپ بلاوجہ فکر مند ہوجاتے ہیں۔
گناہ اور مجلس گناہ دونوں سے بچیں:
﴿وَ اِذَا رَاَیۡتَ الَّذِیۡنَ یَخُوۡضُوۡنَ فِیۡۤ اٰیٰتِنَا فَاَعۡرِضۡ عَنۡہُمۡ حَتّٰی یَخُوۡضُوۡا فِیۡ حَدِیۡثٍ غَیۡرِہٖ ؕ وَ اِمَّا یُنۡسِیَنَّکَ الشَّیۡطٰنُ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ الذِّکۡرٰی مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۶۸﴾﴾
یہ مسئلہ ذہن میں رکھیں کہ جس طرح گناہ سے بچنا ضروری ہے اسی طرح گناہ کی مجلس سے بھی بچنا ضروری ہے، بعض لوگ خود تو گناہ نہیں کرتے لیکن گناہوں کی مجلسوں میں شرکت کرلیتے ہیں۔ اللہ رب العزت نے فرمایا: ﴿وَ اِذَا رَاَیۡتَ الَّذِیۡنَ یَخُوۡضُوۡنَ فِیۡۤ اٰیٰتِنَا﴾ جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری آیات کے بارے میں مذاق بازی سے کام لیتے ہیں،تو پھر وہاں نہ بیٹھا کرو، ﴿فَاَعۡرِضۡ عَنۡہُمۡ حَتّٰی یَخُوۡضُوۡا فِیۡ حَدِیۡثٍ غَیۡرِہٖ﴾ وہاں سے اٹھ جایا کرو، وہاں مت بیٹھو ان سے الگ ہوجاؤ اس مجلس سے علیحدگی اختیار کرلینی چاہیئے ۔اس سے پتا چلا جس طرح گناہ سے بچنا ضروری ہے اسی طرح گناہ کی مجلس سے بچنا بھی ضروری ہے۔
عدی بن زید کا قیمتی شعر:
حضرت عدی بن زید کا ایک بہت قیمتی شعر ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ
عَنِ الْمَرْءِ لَا تَسْأَلْ وَاَبْصِرْ

قَرِیْنَہٗ

فَکُلُّ قَرِیْنٍ بِالْمُقَارِنِ یَقْتَدِیْ
 
فَاِنْ کَانَ ذَا شَرّ فَجَنِّبْہُ

سُرْعَۃً

وَاِنْ کَانَ ذَا خَیْرٍ فَقَارِنْہُ

تَہْتَدِیْ

اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ نہ دیکھا کرو کہ بندہ کیسا ہے یہ دیکھا کرو کن کے پاس بیٹھتا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ بندہ ہو تو نیک اور مجلس جب بھی رکھے تو برے لوگوں کی۔ اس کا معنی یہ ہے کہ مصنوعی تقویٰ ہے، اس میں غلاظت موجود ہے جو اس مجلس کے بغیر اس کو چین سے بیٹھنے نہیں دیتی۔ تو جس طرح گناہ سے بچنا ضروری ہے اسی طرح گناہ کی مجلس سے بھی بچنا ضروری ہے۔
مال نیک آدمی پر خرچ کریں:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نصیحت فرمائی ہے۔ فرمایا:
" لَا تُصَاحِبْ إِلَّا مُؤْمِنًا وَلَا يَأْكُلْ طَعَامَكَ إِلَّا تَقِىٌّ"
سنن ابی داؤد، رقم: 4832
جب بھی بیٹھو تو نیک آدمی کی مجلس میں بیٹھو، کبھی برے آدمی کی مجلس میں نہ بیٹھا کرو اور دوسری نصیحت فرمائی کہ اس بات کا اہتمام کرو کہ تمہارے مال کو کوئی ایسا آدمی نہ کھائے جو بد کردار ہو، کوشش کرو تمہارے مال کو ایسا آدمی کھائے جو نیک ہو اس کا اہتمام کرو کہ نیک آدمی کھائے۔
مجلس نیک آدمی کی اختیار کریں:
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو مثال سے کیسے سمجھایا ہے یہ بڑی سمجھنے والی مثال ہے جو فضائل اعمال میں موجود ہے۔ فضائل اعمال ہے تو فضائل اعمال لیکن کس کس چیز کے دلائل وہاں موجود ہیں، وہ کبھی فضائل اعمال پڑھنے والے عام آدمی کو خود کوبھی نہیں معلوم ہوگا کہ اس میں کون کون سی دلیل موجودہے۔
فضائل اعمال لاجواب کتاب ہے:
آپ حضرا ت کا بہت بڑا مکان ہے اور مکان کے باہر لان ہے اور ساتھ دو چار کنال جگہ بھی ہے۔ اب اس میں کئی جڑی بوٹیاں موجود ہوتی ہیں اس کا آپ کو پتا نہیں ہوتا، کبھی آپ کا مہمان آجائےاوروہ حکیم ہو تو اس کو پتا ہوتا ہے۔ فضائل اعمال والے فضائل اعمال پڑھتے ہیں ان کو یہ پتا نہیں ہوتا اس میں کون سی دلیل ہے، ہم وہاں سے گزرتے ہیں، ہمیں اندازہ ہوتا ہے اس فضیلت میں دلیل کون سی شیخ نے لکھی ہے حضرت شیخ کا مزاج چونکہ بہت مثبت قسم کا تھا تو فضائل اعمال کے انداز میں اپنے مسلک کے دلائل شیخ نے ارشاد فرمادیےہیں۔
حدیث شریف میں ہے ایک آدمی کی دوستی خوشبو والے سے ہے اس کے پاس بیٹھے گا تو خوشبو ملے گی اگر اس کو خوشبو نہیں دے گا تو خوشبو سونگھتا تو رہے گا اور اگر کسی کی دوستی لوہار سے ہے تو اس کے جسم پر انگارے پڑیں گے اگر انگارے نہ بھی پڑ سکےتب بھی اس لوہے کی بھٹی کا دھواں اس کی ناک میں جاتا رہے گا۔اچھی مجلس کی مثال ایسے ہے جیسے خوشبو والے کی دوستی ہے اور بری مجلس کی مثال ایسے ہے جیسے لوہے والے کی دوستی ہے یا بھٹی والے کی دوستی ہے۔ اللہ نے فرمایا جب ایسی مجلس موجود ہو تو وہاں نہ بیٹھا کرو۔
عام آدمی اور قوم کا مقتدا:
مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ نے فرمایا: کہ دو قسم کے لوگ ہیں اور یہ مسئلہ بڑا یاد رکھنے کا ہے۔ ایک ہے مقتدااور ایک ہے عامی آدمی،بعض مسائل میں مقتدا کے لیے توکوئی گنجائش نہیں ہوتی عامی آدمی کے لیے کچھ گنجائش ہوتی ہے۔ مثلا ایک ایسی مجلس ہے جو خاندان میں ہے اگر یہ بندہ اٹھےتو اس کو یا مال کا خطرہ ہے یا جان کا خطرہ ہے یا آبرو کا خطرہ ہے اور یہ بندہ اس کا متحمل نہیں ہے کہ اپنی برادری کی اس رسم سے جان چھڑا سکے تواس کے لیےاگر گنجائش نکل بھی آئے لیکن مذہبی رہنما کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔
خود کشی کرنے والے کی نماز جنازہ:
یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ اگرکوئی بندہ خود کشی کر کے مرجائے تو عام بندے کو جنازہ پڑھ دینا چاہیے مگر مذہبی رہنما کو نہیں پڑھنا چاہیے۔ کیونکہ اگر مذہبی رہنماء پڑھیں گے،اس کی وجہ سے لوگ کہیں گے شاید خود کشی میں کوئی گنجائش ہے اس لیے اس کو قطعاً نہیں پڑھنا چاہیے۔ ہمیں اس کا بہت خیال رکھنا چاہیئے اور یہ ضروری ہے۔
فتویٰ اور تقویٰ:
حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ ا للہ کے بارے میں ایک واقعہ مذکور ہے کہ امام صاحب کی چادر پر ہلکا سا دھبہ لگ گیا امام صاحب دھونے لگ گئے، ایک آدمی نے کہا: حضرت آپ تو خود فرماتے ہیں: اتنی مقدار کی گنجائش معاف ہوتی ہے اور اپنی چادر کا چھوٹا سا دھبہ بھی دھوتے ہیں۔ امام صاحب نےفرمایا:یہ مسئلہ عام آدمی کا ہے اور میں تمہارا امام ہوں۔ اس لیے مولویوں کے لیے بسااوقات ان مسائل کی گنجائش نہیں ہوتی جس کی گنجائش آپ کے لیے ہوتی ہے۔
عالم دین جہالت کا عذر ناقابل قبول:
مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ نے بڑی پیاری بات لکھی ہے۔ فرمایا: اگر چہ جہالت ایک بہت بڑا جرم ہے اور عذر نہیں ہے۔ لیکن اس درجے میں عذر بن سکتا ہے کہ مجھے مسئلہ کا پتا نہیں تھا۔ بتاؤ عالم کیا عذر پیش کرے گا کہ مجھے پتا نہیں تھا۔ تو جہاں عالم کے فضائل بہت ہیں، وہاں اس کے جرائم پر سزائیں بھی سخت ہیں۔ اللہ پاک ہم سب کو جرائم سے محفوظ رکھے اللہ ہمیں عافیت والی زندگی عطا فرمائے تو گناہ سے بچنا بھی ضروری ہے اور گناہ کی مجلس سے بچنا بھی ضروری ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حق پر ثابت قدمی:
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ایک گفتگو اللہ رب العزت نےنقل فرمائی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی میں تین گفتگوئیں بڑی اہم ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ایک گفتگو ہے اپنے باپ سے، ایک اپنی قوم سے اور ایک ہے بادشاہ سے۔ والد بھی مومن نہیں، قوم بھی مومن نہیں اور بادشاہ بھی مومن نہیں۔ ابراہیم علیہ السلام اکیلے خدا کا نام لے کر ڈٹے ہوئے ہیں۔ یہ باتیں کہنی بہت آسان ہیں اور ان پر عمل کرنا بہت مشکل ہے۔ بادشاہ وقت بھی مخالف ہے، ہمارے محلے کا ایس ایچ او مخالف ہو تو ہمارا پانی بند ہوجاتا ہے اور جب بادشاہ مخالف ہو تو بتاؤ کتنے بڑے حوصلے کی ضرورت ہے؟ جبکہ ابراہیم علیہ السلام ڈٹے رہے ہیں۔
تحمل اور برداشت کا فقدان:
ہم لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر دل چھوٹا کرلیتے ہیں میں یہ بات تمہیں کیسے سمجھاؤں دنیا کا باطل تمہارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا میں کن لفظوں میں کس درد سے میں تمہیں یہ بات سمجھاؤں کہ کچھ نہیں بگڑتا، اپنا حوصلہ اور دل تھوڑا سا بڑا رکھا کرو۔
مشکل اوقات میں استقامت کا مظاہرہ کریں:
مدد ہمیشہ حق والوں کے ساتھ ہے، تھوڑے سے جھٹکے لگتے ہیں۔ بیمار کو شفا ملتی ہے لیکن کچھ انجکشن لگتے ہیں۔ بیمار کو شفا مل جاتی ہے دو چار کڑوی گولیاں کھانی پڑتی ہیں۔ ہم کہتے ہیں کڑوی گولی بھی نہ کھائیں اور بخار اتر جائے یہ اللہ کے قانون کے خلاف ہے ایسا نہیں ہوتا۔ کبھی ہوجاتا ہے لیکن قانون یہی ہے کیونکہ اللہ نے دنیاکودار الاسباب بنایا ہے، کچھ اسباب اختیار کرنے پڑتے ہیں۔ ہمارے حضرات تھوڑی سی مشقت آجائے تو بالکل پھسل جاتے ہیں تھوڑی سی مشقت ہوجائے تو فورًا ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔
مشکلات اہل حق اور اہل باطل دونوں کو پیش آتی ہیں:
اللہ رب العزت نے بڑی پیاری بات ارشاد فرمائی ہے، کبھی تم نے اس پر غور کیا ہے۔ قرآن کریم میں فرمایا: اگر دین کے راستے میں کوئی مشکل آئی ہے تو مشکل تو تمہارے مخالف کو بھی آئی ہے، اگر زخم تمہیں لگے ہیں تو زخم تو ان کو بھی لگے ہیں، اگر دو دن تمہیں جانا پڑا تو دو دن وہ بھی جائیں گے۔ فرق اتنا ہے کہ تم حق پر ہو اور وہ باطل والے ہیں، ان کے لیے عذاب ہوگا تمہارے لیے یہ ثواب ہے۔
اللہ کے نام پرقربانی کا صلہ:
ابراہیم علیہ السلام کی کوئی چھوٹی محنت نہیں ہے۔ باپ مخالف، قوم مخالف اوربادشاہ بلکہ پوری کی پوری سلطنت مخالف ہے اور تنہا خدا کی زمین پر ایک بندہ ڈٹا ہوا ہے۔ جب تھوڑی سی قربانی دی ہے نا تو ہزاروں سال گزرگئے ہیں، ابراہیم علیہ السلام گزرگئے، دنیا میں کوئی کافر بھی اپنے بیٹے کا نام نمرود نہیں رکھتا لیکن مسلمان بیٹے کا نام ابراہیم رکھتےہیں، دنیا میں کوئی کافر بھی اپنے بیتے کا نام فرعون نہیں رکھتا لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نام پر موسیٰ نام رکھتے ہیں، دنیا میں کوئی کافر بھی اپنے بیٹے کا نام ابو جہل نہیں رکھتا لیکن بلال نام رکھا جاتا ہے۔ اس کا مطلب حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا جومقام ہے وہ دنیا کے بڑے بڑے فرعونوں کا مقام بھی نہیں ہے۔
حضرت ابراہیم کی اپنی قوم سے گفتگو:
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تین گفتگو ئیں ہوئی ہیں، ان میں ایک گفتگو جو اپنی قوم سے ہے اللہ تعالیٰ نے اس کویہاں ذکر فرمایا:
﴿وَ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہِیۡمُ لِاَبِیۡہِ اٰزَرَ﴾
اصل گفتگو آگے قوم سے جو ہے، وہ آرہی ہے یہ شروع میں باپ کا تذکرہ ہے۔
حضرت ابراہیم کے والد:
آزر کون تھا؟ بعض مفسرین کہتے ہیں: ابراہیم کے والد کا نام تھا تارخ، اور آزر اس کا لقب تھا۔ اور بعض مفسرین کہتے ہیں: نہیں ان کے چچا کا نام تھا آزراورعربی میں چچا کو باپ کہا جاتا ہے۔ اس آیت میں ﴿
وَ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہِیۡمُ لِاَبِیۡہِ اٰزَرَ
﴾ اپنے باپ سے کہا، اس سے مراد چچا ہے۔
مشرک باپ کا توحیدی بیٹا:
اب ان دونوں میں سے جو بھی ہو،بہرحال اللہ نے فرمایا:
﴿وَ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہِیۡمُ لِاَبِیۡہِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصۡنَامًا اٰلِہَۃً ۚ اِنِّیۡۤ اَرٰىکَ وَ قَوۡمَکَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۷۴﴾﴾
ابا جی آپ بت بناتے ہیں۔اللہ اکبر! باپ بت بنارہا ہے اور بیٹا دین کی دعوت دے رہاہے، باپ مشرک بناتا ہے اور بیٹا توحیدی بناتا ہے،
﴿اَتَتَّخِذُ اَصۡنَامًا اٰلِہَۃً﴾
اور جملہ سنو! حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کیا فرمایا:
﴿اِنِّیۡۤ اَرٰىکَ وَ قَوۡمَکَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۷۴﴾﴾
ابا جی! آپ اور آپ کی قوم دونوں گمراہی پر ہیں، میں تم کو دعوت دیتا ہوں خود کو اور ان کو کفر سے بچانے کی کوشش کرو۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوت توحید:
ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو دلائل سمجھائے، اوردلائل وہ سمجھائے کہ ان کی قوم میں سے بعض وہ تھے جو بت پرست تھے، بعض لوگ ستاروں کی پوجا کرتے تھے۔ بعض لوگ چاند کی اور بعض سورج کی پوجا کرتے تھے ابراہیم علیہ السلام نے سب پر دلائل دیے۔
ستارہ پرستی کی تردید:
جب رات ہوگئی
﴿فَلَمَّا جَنَّ عَلَیۡہِ الَّیۡلُ رَاٰ کَوۡکَبًا﴾
جب رات چھا گئی ستارہ نکل آیا فرمایا:
﴿ہٰذَا رَبِّیۡ﴾
یہ میرا رب ہے؟ اے!قوم تم اسے خدا سمجھتے ہو؟ ابھی دیکھتے ہیں یہ ستارہ رہتا ہے یا نہیں اگر ڈوب گیا تو یہ رب نہیں ہے اور اگر چلتا رہا تو چلو تمہاری بات مانیں گے۔ ﴿فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الۡاٰفِلِیۡنَ ﴿۷۶﴾﴾ جب وہ ستارہ ڈوبا تو فرمایاکہ ڈوبنے والے سے میں پیار نہیں کرتا۔
حضرت تھانوی کی حکیمانہ تشریح:
حکیم الامت تھانوی رحمہ اللہ بیان القرآن میں لکھتے ہیں:یہ نہیں کہا کہ میں خدا نہیں مانتا یہ فرمایا میں محبت نہیں کرتا کیوں آدمی جسے خدا مانتا ہے اس سے محبت بھی کرتا ہے کیسے پیارے انداز میں بات کی ہے۔ یوں نہیں فرمایا میں خدا نہیں مانتا۔ فرمایا: جس سے میں محبت کرنا گوارہ نہیں کرتا اسے خدا ماننا گوراہ کرلوں گا؟ جس کو محبوب بنانا مجھے پسند نہیں ہے اس کو خالق بنانا میں پسند کرلوں گا؟ میں اس کو نہیں مانتا۔
چاند پرستی کی تردید:
﴿فَلَمَّا رَاَ الۡقَمَرَ بَازِغًا ﴾
پھر دیکھا چاند کو وہ ستارے کی نسبت کچھ روشن تھا پھر کہا:
﴿ہٰذَا رَبِّیۡ﴾
یہ میرا خدا ہے،
﴿فَلَمَّاۤ اَفَلَ﴾
جب وہ بھی ڈوبا تو پھر فرمایا:
﴿لَئِنۡ لَّمۡ یَہۡدِنِیۡ رَبِّیۡ لَاَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡقَوۡمِ الضَّآلِّیۡنَ ﴿۷۷﴾﴾
اے میری قوم! اگر خدانے رہنمائی نہ کی تو پھرمیں بھی تمہاری طرح گمراہ ہوجاؤں گا۔ خدا نے مجھے سمجھایا ہے کہ یہ چاند میرا خدا نہیں ہے۔
سورج پرستی کی تردید:
﴿فَلَمَّا رَاَ الشَّمۡسَ بَازِغَۃً قَالَ ہٰذَا رَبِّیۡ﴾ جب سورج چمک رہا تھا تو فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے یہ رب ہے؟ ،
﴿ہٰذَاۤ اَکۡبَرُ﴾
یہ تو بہت بڑا ہے،
﴿فَلَمَّاۤ اَفَلَتۡ قَالَ یٰقَوۡمِ اِنِّیۡ بَرِیۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِکُوۡنَ ﴿۷۸﴾﴾
جب سورج بھی ڈوب گیا تو فرمایا: میں بری ہوں تمہارے شرک سے میں بے زار ہوں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام دلیلیں دے دے کے اپنی قوم کو سمجھارہے تھے کہ ڈوبنے والا کبھی خدا نہیں ہوسکتا۔
قبر کے تین سوال:
اس سے ایک چھوٹا سا نکتہ سمجھیں!
صحیح بخاری میں روایت ہے کہ جب بندہ قبر میں رکھا جاتا ہے تو اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اس سے سوال کرتے ہیں: "مَا كُنْتَ تَقُوْلُ فِيْ هٰذَا الرَّجُلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟" اس شخص یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تو کیا کہتا تھا؟ یہ میں صحیح بخاری کےا لفاظ پڑھ رہا ہوں، بعض کتابوں میں "مَنْ نَبِیُّکَ؟" کے الفاظ بھی آتے ہیں کہ تیرا نبی کون ہے؟
صحیح البخاری، رقم: 1338
اور صحیح بخاری میں یہ الفاظ ہیں:
"مَا كُنْتَ تَقُوْلُ فِيْ هٰذَا الرَّجُلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟"
اس سے اہل بدعت استدلال کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حاضراورناظر ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ پر ہیں۔ دلیل کیا ہے؟ کہتے ہیں میت ہے سرگودھا میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہیں مدینہ میں جیسے تم اھل السنۃ والجماعۃ دیوبند والے کہتے ہو،پھرتوفرشتےکویوں کہنا چاہیےتھا:
"مَا كُنْتَ تَقُوْلُ فِيْ ذٰلِکَ الرَّجُلِ؟
" عربی زبان میں دو لفظ ہیں؛ ایک ہے”
ھٰذَا“
اور دوسرا ہے ”
ذٰلِکَ“
، اگر چیز قریب ہو تو”
ھٰذَا“
کہتے ہیں اور اگر دور ہو تو”
ذٰلِکَ“
کہتے ہیں۔ ”ھٰذَا“ کا معنی یہ اور
”ذٰلِکَ“
کا معنی وہ۔ یہ اصول تو ٹھیک ہے نا۔توپھرفرشتہ کہتا ہے :
"مَا كُنْتَ تَقُوْلُ فِيْ هٰذَا الرَّجُلِ"
اس شخص کے بارے میں تو کیا کہتا تھا؟
نبی کوحاظر و ناظرثابت کرنے کی مبتدعانہ کوشش:
اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول قبر میں آتے ہیں تبھی تو ”ھٰذَا“ کہتا ہے، اگر قبر میں نہ آتے ہوتے اور مدینہ منورہ میں ہوتے تو کہتا: "
مَا كُنْتَ تَقُوْلُ فِيْ ذٰلِکَ الرَّجُلِ؟
ان کے بارے میں تو کیا کہتا ہے؟ لہٰذا فرشتے کا لفظ”ھٰذَا“ کہنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ قبر میں ہیں، اور ایک وقت میں ایک بندہ فوت نہیں ہوتا، ایک وقت میں لاکھوں بندے فوت ہوتے ہیں اس کا معنی یہ ہے کہ رسول لاکھوں قبروں میں تشریف لاتے ہیں یہی معنی تو حاضر وناظر کا ہوا۔
اہل بدعت کی دلیل کا جواب:
اب دلیل کا جواب سمجھنا۔میں نے کہا:حضرت ابراہیم علیہ السلام زمین پر ہیں اور ستارہ آسمان پر ہے۔ زمین اور ستارے کے درمیان کروڑوں کلو میٹر کا فاصلہ ہے اورسرگودھا اور مدینہ منورہ کے درمیان ہزاروں کلو میٹر کا فاصلہ ہے۔
﴿فَلَمَّا جَنَّ عَلَیۡہِ الَّیۡلُ رَاٰ کَوۡکَبًاۚ قَالَ ہٰذَا رَبِّیۡ﴾
جب رات چھاگئی تو ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا:
﴿ہٰذَا رَبِّیۡ﴾
یہ ہے میرارب؟ میں نے کہا: اگر قریب والے کو ”ھٰذَا“اور دور والے کو ”ذٰلِکَ“ کہتے ہیں تو ستارہ تو ابراہیم علیہ السلام سے کروڑوں کلو میٹر کے فاصلے پر تھا تو پھر ”ھٰذَا“ کے بجائے ”ذٰلِکَ“کہنا چاہیے تھا لیکن قرآن نے فرمایا ”ھٰذَا“۔ تو پتا چلا کہ جس طرح قریب والے کو”ھٰذَا“کہتے ہیں اسی طرح دور والے کو بھی ”ھٰذَا“کہتے ہیں۔
قرآن کریم اورعربی گرائمر:
کہنے لگا: نہیں نہیں! یہ تو نحو کے خلاف ہے، گرائمر کے خلاف ہے گرائمر کا ضابطہ تو یہ ہے قریب والے کو یہ، دور والے کو وہ کہتے ہیں، قریب والے کو ”ھٰذَا“اور دور والے کو”ذٰلِکَ“۔ میں نے کہا: قرآن گرائمر کے خلاف نہیں ہے۔ اس گرائمر کے اصول کے نیچے ایک اصول اور ہے، وہ تو نے نہیں پڑھا اس لیے تجھے الجھن پیش آئی ہے، اگر جس چیز کو دیکھا جائے اور دیکھنے والا ان دونوں کے درمیان کوئی رکاوٹ نہ ہو کوئی پردہ نہ ہو، کوئی حجاب نہ ہو دور بھی ہو تب بھی”ھٰذَا“کہتے ہیں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام زمین پر ہیں ستارہ آسمان پر ہے درمیان میں رکاوٹ کوئی نہیں ہے تو ”ھٰذَا“ فرمایا ہے میت یہاں سرگودھا میں ہے نبی مدینہ میں ہے درمیان میں پردہ نہیں ہے تو "
مَا كُنْتَ تَقُوْلُ فِيْ هٰذَا الرَّجُلِ"
فرمایا ہے۔ میں نے کہا یہ نہ کہو کہ دیوبندوالوں کے پاس دلیل نہیں ہے۔
ضابطہ در ضابطہ:
تو نے ایک ضابطہ سنا ہم نے ضابطے کے نیچے ضابطہ تھا وہ بھی سنادیا ہے، صرف ضابطہ نہیں ضابطے کی تہہ میں ایک ضابطہ ہوتا ہے ہمیں اس کا بھی علم ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یوں اپنی قوم کو سمجھایا۔
ایمان اور ظلم کی آمیزش:
﴿اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ لَمۡ یَلۡبِسُوۡۤا اِیۡمَانَہُمۡ بِظُلۡمٍ اُولٰٓئِکَ لَہُمُ الۡاَمۡنُ وَ ہُمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ ﴿٪۸۲﴾﴾
آیت کا مطلب جو لوگ ایمان لائے اور پھر ایمان کے ساتھ ظلم کو ملایا نہیں ہے، انہیں امن بھی ملے گا ہدایت بھی ملے گی۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قرآن کو سمجھتے تھے عربی تھے نا، اور پریشان ہوجاتے، ہم نہ سمجھتے ہیں نہ پریشان ہوتے ہیں۔ قاری صاحب نے کیا پڑھا ،نہ سمجھ آئی نہ پریشانی ہوئی، ہنستے ہوئے آئے ہنستے ہوئے چلے گئے۔
ظلم سے کیا مراد ہے؟:
صحابہ عربی جانتے تھے فورا پریشان ہوجاتے۔ پریشانی کیا لگی؟ قرآن کہتا ہے:
﴿اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ لَمۡ یَلۡبِسُوۡۤا اِیۡمَانَہُمۡ بِظُلۡمٍ اُولٰٓئِکَ لَہُمُ الۡاَمۡنُ وَ ہُمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ ﴿٪۸۲﴾﴾
جو ایمان لائے اور ایمان کے ساتھ ظلم کو نہ ملایا انہیں امن بھی ملے گا ہدایت بھی ملے گی۔ کہا: یا رسول اللہ!
”أَيُّنَا لَمْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ؟“
اللہ کے نبی! ظلم کا معنی کمی کوتاہی ہے۔ ہم میں سے وہ کون سا بندہ ہے جو کمی کوتاہی نہ کرے اس کا کیا مطلب کہ ہمیں ہدایت نہیں ملے گی ؟صحابہ پریشان ہوگئے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہاں ظلم کا معنی وہ نہیں جو تم سمجھے ہویہاں ظلم کا معنی اور ہے۔ سورہ لقمان میں ہے حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو وصیت کی ہے:
﴿یٰبُنَیَّ لَا تُشۡرِکۡ بِاللّٰہِ ؕ اِنَّ الشِّرۡکَ لَظُلۡمٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۳﴾﴾
جو ظلم کو شرک کہا۔یہاں ظلم سے مراد شرک ہے۔
صحیح البخاری، رقم: 6937
اب آیت کا معنی ہوگا :
"اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْ وَلَمْ یُشْرِکُوْا بِاللہِ شَیْئًا"
کہ جو شخص ایمان لائے اور اپنے ایمان کے ساتھ شرک کونہ ملائےاسے امن بھی ملے گا، اسے ہدایت بھی ملے گی۔
قرآن سمجھنے کا اصول:
اس سے ایک اصول نکلا ہے۔توجہ رکھیں! قرآن کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کو قرآن کا پس منظر معلوم ہو اور پس منظر معلوم ہوتا ہے پیغمبر کے صحابہ سے، صحابہ ہوں گے تفسیر سمجھ آئے گی صحابہ نہیں ہوں گے تفسیر سمجھ نہیں آئے گی صحابہ کو چھوڑ کر تفسیر سمجھ آہی نہیں سکتی کیونکہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین بتائیں گے کہ یہ کس موقع پر آیت نازل ہوئی ہے، اترتی دیکھی جو انہوں نے ہے ان کے علاوہ کون بتاسکتا ہے۔
کیا اللہ کو دیکھا جا سکتا ہے؟
﴿لَا تُدۡرِکُہُ الۡاَبۡصَارُ ۫ وَ ہُوَ یُدۡرِکُ الۡاَبۡصَارَ ۚ وَ ہُوَ اللَّطِیۡفُ الۡخَبِیۡرُ ﴿۱۰۳﴾﴾
آیت کا مطلب: کوئی آنکھ بھی خدا کو نہیں دیکھ سکتی،اللہ ساری آنکھوں کو دیکھتے ہیں اللہ لطیف بھی ہے اللہ رب العزت نے فرمادیا اور اللہ خبیر بھی ہے اور لطیف بھی ہیں۔ خبیر کا معنی تمہارے معاملات کی خبر رکھتے ہیں۔ لطیف کا معنی بڑے باریک بین ہیں کوئی ذرہ بھی خدا کی نگاہ سے اوجھل نہیں ہے پہلے آیت کا ترجمہ سن لیں کوئی آنکھ بھی خدا کو نہیں دیکھ سکتی اللہ ساری آنکھوں کو دیکھتے ہیں۔
کیا رویت باری تعالیٰ کا عقیدہ حدیث کے خلاف ہے؟:
گمراہ لوگوں کا ایک نظریہ کیا ہے پہلے اصول ٹھیک بیان کریں گے اس پر مسئلے غلط چڑھائیں گے۔ پہلے اصول سمجھنا! اصول بیان کریں گے جی پہلے قرآن ہے پھر حدیث ہے، اگر حدیث قرآن کے مقابلے میں آجائے قرآن کو لیتے ہیں حدیث کو چھوڑدیتےہیں۔ سمجھ آگئی[ جی ہاں۔ سامعین ]یہ پہلے اصول بیان کریں گے پھر اگلا مسئلہ کہیں گے جی علماء دیوبند کے بعض عقیدے ہیں جو ایسی حدیث سے ثابت ہیں جو حدیث قرآن کے خلاف ہے،اب یہاں یہ دیوبند کے عقیدوں پر رگڑا لگائیں گےاور بحث شروع ہوجائے گی۔ اس آیت کی روشنی میں ایک مسئلہ اور جواب سمجھنا۔
اہل السنت والجماعت کا نظریہ:
ہمارا نظریہ ہے امت مصطفیٰ کو دیکھتی ہے اور مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کو دیکھتے ہیں، امت نے مصطفیٰ کو دیکھا اور مصطفیٰ نے خدا کو دیکھا۔ ایک شخص تقریر کررہاتھا۔ کہتا ہے: دیوبند کا عقیدہ بالکل غلط ہے۔ میں نے کہا: میرا عقیدہ حدیث سے ثابت ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَاٰى رَبَّهُ.
المعجم الکبیر للطبرانی: ج5 ص353 رقم الحدیث 11454
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کو دیکھا ہے۔
حدیث مبارک پر اعتراض کا جواب:
کہنے لگا یہ حدیث قرآن کے خلاف ہے۔ میں نے کہا: کون سی آیت ہے۔ کہتا ہے:
﴿لَا تُدۡرِکُہُ الۡاَبۡصَارُ﴾
کہ کوئی آنکھ بھی خدا کو نہیں دیکھ سکتی، تو جب کوئی بھی آنکھ نہیں دیکھ سکتی تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیسے دیکھ سکتے ہیں؟ میں نے کہا: اپنی بات پر قائم رہنا۔ خدا تجھے ہدایت دے اور ہدایت کے بعد جنت میں جگہ دے۔ ہم تبلیغ والے ہیں ہم بددعائیں نہیں کرتے ہم تمہیں بھی دعائیں دیتے ہیں، ہم رائے ونڈ والے ہیں ہمارے ہاں بددعا نہیں ہوتی۔
میں نے کہا: توجنت میں جائے او روہاں جاکے خدا کو دیکھے گا۔ کہتا ہے: جی ہاں۔ میں نے کہا: کہاں لکھا ہے۔ کہا: جی حدیث میں ہے۔ میں نے کہا: میں نہیں مانتا۔ مجھے کہتا ہے: کیوں؟ میں نے کہا: قرآن کے خلاف ہے۔ کہتا ہے: یہ قرآن کے خلاف نہیں ہے۔ میں نے کہا: کیوں نہیں ہے۔ تو کہا اس آیت کا مطلب ہے زمین پر رہتے ہوئے کوئی خدا کو نہیں دیکھ سکتا، میں زمین پر نہیں جنت میں جا کے دیکھوں گا۔
حضور علیہ السلام نے اللہ کی زیارت کہاں کی؟
میں نےکہا: ہم نے کب کہا کہ مصطفیٰ نے زمین پر دیکھا ہے، ہم بھی کہتے ہیں مصطفیٰ نے عرش معلیٰ پر جا کے دیکھا ہے۔[سبحان اللہ۔سامعین]میں نے کہا: تیری حدیث قرآن کے خلاف نہیں ہے تو ہماری حدیث کیسے قرآن کے خلاف ہے۔بس ضد ہے۔ حدیث آپ کی نہیں ماننی آپ میری مانیں۔ ہم دونوں مانتے ہیں تیری بھی مانتے ہیں اپنی بھی مانتے ہیں۔ امتی جنت میں جائے گا وہ خدا کو دیکھے گا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم عرش پر گئے ہیں تو خدا کو دیکھا ہے۔
دعوت دین کا نبوی طرز:
﴿وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ فَیَسُبُّوا اللہَ عَدۡوًۢا بِغَیۡرِ عِلۡمٍ﴾
المائدۃ 5: 108
اللہ نے ضابطہ بیان کردیا۔ مشرکین مکہ ابو جہل اینڈ کمپنی ابو طالب کے پاس آئےاور کہا اپنے بھتیجے کو سمجھائیں، ہمیں اس کی دعوت پر اعتراض نہیں ہے،بس ہمارے معبودوں کو اور ہمیں کچھ نہ کہے۔ابو طالب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا کہا: بھتیجے یہ تیری شکایت لے کر آئے ہیں۔
فرمایا: چچا میں کہتا ہوں
"لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ"
پڑھ لو عرب وعجم تمہارےغلام بن جائیں گے۔ میرے اللہ نے قرآن کی آیت اتاری ہے میرے نبی جو تیرا طرز ہے نا یہ طرز امت کو توسمجھادے، ﴿وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ فَیَسُبُّوا اللہَ عَدۡوًۢا بِغَیۡرِ عِلۡمٍ﴾ تم معبودان باطلہ کو گالیاں دو گے وہ تمہارے سچے خدا کو گالیاں دیں گے۔ کسی کے جھوٹے خدا کو گالی مت دو تاکہ تمہارا سچا خداگالی سے بچ جائے۔
اپنے ماں باپ کو گالی:
ایک حدیث میں آتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے ماں باپ کو گالیاں مت دو۔ صحابہ نے پوچھا: یارسول اللہ! بھلا کوئی ماں باپ کو گالیاں دے سکتا ہے؟ فرمایا: جی ہاں۔ جب تم کسی کی ماں کو گالیاں دو گے وہ تمہاری ماں کو گالیاں دے گا، کسی کے باپ کو گالی دو گے وہ تمہارے باپ کو گالی دے گا۔ اگر اپنی ماں اور اپنے باپ کو گالی سے بچانا چاہتے ہو تو دوسرے کی ماں اور باپ کو گالی مت دو۔
صحیح البخاری، رقم: 5973
اللہ کو نہ ماننا اور اللہ کی نہ ماننا:
﴿اِنَّ رَبَّکَ سَرِیۡعُ الۡعِقَابِ ۫ وَ اِنَّہٗ لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۶۵﴾٪﴾
اللہ رب العزت نے اس سورت کے اختتام پر ہمیں درس دے دیا ہےکہ بندے دو قسم کے ہیں۔ بعض اللہ کو ماننے والے اور بعض اللہ کو نہ ماننے والے، بعض اللہ کی ماننے والے اور بعض اللہ کی نہ ماننے والے، ان دو لفظوں میں غور کرنا بعض لوگ اللہ کو نہیں مانتے، بعض اللہ کی نہیں مانتے۔ کافر اللہ کو نہیں مانتا، مسلمان اللہ معاف فرمائے اللہ کی نہیں مان رہا۔ اللہ کو بھی مانو اللہ کی بھی مانو۔
تبلیغی جماعت کی محنت کا دائرہ:
میں اس پرایک چھوٹی سی بات کہتاہوں، ہمارے لوگ بھی اعتراض کرتے ہیں جماعت والوں پر، ہمیں دعوت دیتے ہوہندووں کو دعوت دو، ہمیں مسلمان بناتے ہو سکھوں کو دعوت دو، ہم کہتے ہیں کہ تمہیں کیوں غلط فہمی ہے، وہ اللہ کو نہیں مانتا، تُو اللہ کی نہیں مانتا، وہ رسول کو نہیں مانتا ظلم یہ ہے کہ تُو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نہیں مانتا۔ انہیں کہیں گے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مانو تمہیں کہیں گے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مانو۔ ان کو اور دعوت دیں گے تجھے اور دعوت دینی ہے، ان والی دعوت اور ہے تیرے والی دعوت اور ہے۔
اللہ غفور بھی ہیں اور رحیم بھی:
فرمایا:
﴿اِنَّ رَبَّکَ سَرِیۡعُ الۡعِقَابِ﴾
جو آدمی نہ مانے تو خدا سخت اور تیز اور جلدی سزا دے سکتا ہے،
﴿وَ اِنَّہٗ لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ﴾
جو مان لے اور تو بہ کرلے اللہ پھر معاف بھی کرتے ہیں۔
”رَحِیْمٌ“
یہ ”غَفُوْرٌ“ کی علت بیان کی ہے یعنی اللہ اس لیے تمہیں معاف نہیں کرتے کہ معافی تمہارا حق ہے بلکہ اس لیے معاف کرتے ہیں کہ اللہ کو رحیم کہتے ہیں۔ اب میں علماء کے لیے ایک جملہ کہنے لگا ہوں۔ قرآن کریم میں اللہ جب بھی دو صفتیں اکٹھی ذکر فرمائیں تو پہلی صفت دعویٰ ہوتی ہے اور دوسری صفت دلیل ہوتی ہے۔ ”غَفُوْرٌ“ دعویٰ ہے ”رَحِیْمٌ“ دلیل ہے۔ اللہ تمہیں معاف کرے گا، اس لیے نہیں کہ تمہارا حق ہے اس لیے کہ اللہ رحیم ہے۔
حضرت تھانوی کا خوبصورت فرمان:
حکیم الامت حضرت تھانوی رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے ہم اللہ سے جنت مانگتے ہیں اس لیے نہیں کہ ہم جنت کے مستحق ہیں بلکہ اس لیے مانگتے ہیں کہ ہم جہنم کو برداشت نہیں کرسکتے۔ اللہ ہم سب کو جہنم سے محفوظ رکھے ہمیں جنت کی نعمت عطافرمائے۔
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ․