سورۃ الانفال

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
سورۃ الانفال
بِسۡمِ اللہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
﴿یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡاَنۡفَالِ ؕ قُلِ الۡاَنۡفَالُ لِلہِ وَ الرَّسُوۡلِ ۚ فَاتَّقُوا اللہَ وَ اَصۡلِحُوۡا ذَاتَ بَیۡنِکُمۡ ۪ وَ اَطِیۡعُوا اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱﴾﴾
تمہید:
سورۃ الانفال مدنی سورت ہے، اس میں 10رکوع ہیں اور 75آیتیں ہیں۔ اس سورۃ کا نام ”سورۃ الانفال“ ہے۔ میں ہر سورۃ کے آغاز میں عرض کرتا رہتا ہوں کہ سورۃ کے نام رکھنے کہ وجہ یعنی ”وجہ تسمیہ“ کیا ہے؟
انفال کسے کہتے ہیں؟:
اس سورۃ کا نام ”سورۃ الانفال“ اس لیے رکھا گیا ہے کہ ”اَنْفَال“ عربی زبان کا لفظ ہے جو ”نَفْلٌ“ کی جمع ہے، ”نَفْلٌ“ کا معنی ”زائد“ بھی ہوتا ہے اور اس کا معنی”فضل“ اور ”احسان“ اور ”اللہ کا کرم“ بھی ہوتا ہے۔ ”نَفْلٌ“ کے لغوی معنی ہیں زائد، فضل اور انعام۔ جب ہم نماز پڑھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اس میں اتنے فرض ہیں، اتنی سنتیں ہیں، اتنے واجب ہیں، اتنے نفل ہیں۔
تو ”نَفْلٌ“ کو نفل کیوں کہتے ہیں؟ اس لیے کہ نفل فرائض سے ایک زائد چیز کا نام ہے، اس لیے نفل کہتے ہیں، یا میں نے عرض کیا کہ ”نَفْلٌ“ کا معنی ہوتا ہے فضل اور انعام۔ اللہ رب العزت اپنے فضل و کرم سے فرائض کی کمی کوپورا کرنے کے لیے نفل عطاء فرماتے ہیں۔ جب انسان نفل ادا کرتا ہے تو فرائض میں جو کمی کوتاہی رہ جاتی ہے نوافل کے ذریعے اس کو پورا کردیا جاتا ہے۔ میں وجہ پیش کر رہا ہوں کہ اس سورت کو ”سورۃ الانفال“ کیوں کہا جاتا ہے؟
مالِ غنیمت کا حلال ہونا:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" فُضِّلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِسِتٍّ."
اللہ رب العزت نے مجھے چھ چیزیں وہ عطا فرمائی ہیں جو گزشتہ انبیاء علیہم السلام کو عطانہیں فرمائیں۔ ان میں سے ایک چیز "
أُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ"
ہے کہ اللہ نے میرے لیے میدان جنگ کے مال”مالِ غنیمت“ کو حلال قرار دیا ہے۔
صحیح مسلم، رقم:523
سابقہ شرائع اور مال غنیمت:
گزشتہ انبیاء علیہم السلام کے لیے مالِ غنیمت حلال نہیں تھا یعنی ان انبیاء علیہم السلام کے لیے مال غنیمت کا استعمال کرنا ٹھیک نہیں تھا، جب جہاد میں نکلتے تھے اور میدان جنگ میں کفار کا مال جمع ہوتا تو اس مال کو کھلے میدان میں رکھ دیا جاتا تھا، آسمان سے آگ آتی اور اس مال غنیمت کو کھا جاتی۔ اگر وہ مال غنیمت آسمانی آگ کھاجاتی تو یہ اس بات کی علامت تھی کہ اللہ تعالیٰ نے جہاد کو قبول فرمالیا اور اگر آگ اس مال کونہ کھاتی تو اس بات کی علامت ہوتی تھی کہ یہ جہاد قبول نہیں ہوا۔
لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے مجھے یہ اعزار بخشا ہے کہ مالِ غنیمت کو میرے لیے حلال کر دیا گیا ہے۔ اب امت جہاد کرے اور میدان جنگ میں کفار سے مال چھینے، اب آگ کے ذریعے اسے جلانے کی ضرورت نہیں، یہ اسے اپنے حلال اور پاکیزہ رزق کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں یعنی یہ ہمارےنبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ایک اعجاز ہے۔
ہمارے نبی کا دائرہ نبوت غیر محدودہے:
اس کی وجہ کیا ہے کہ پہلے انبیاء علیہم السلام کے لیے تو مال غنیمت حلال نہیں تھا ہمارے پیغمبر کے لیے مال غنیمت حلال کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے انبیاء علیہم السلام کا دائرہ نبوت محدود تھا، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا دائرہ نبوت غیر محدود ہے، پہلے نبیوں نے ایک بستی میں رہنا ہے، ایک قوم میں رہنا ہے، ایک گاؤں میں رہنا ہے اور ایک خاص وقت تک اس نبی کی نبوت ہے، ہمارے نبی کی نبوت کا دائرہ محدود نہیں ہے بلکہ پوری دنیا میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی امت نے پوری دنیا میں جانا بھی ہے۔
مال غنیمت حلال نہ ہو تو…؟
اب اگر یہاں سے چلیں اور دنیا کے کسی دوسرے کونے میں جائیں اور جاکر جہاد کریں اور مال غنیمت بھی ان کے لیے حلال نہ ہو تو پھر کھانے کی دو صورتیں ہیں:
1) یا کمائیں اور کھائیں
2) یا پھر مرکز سے مال لائیں اور کھائیں
میدان جہاد میں جاکر کمانا شروع کردیں تو یہ جہاد نہیں کر سکیں گے اور اگرمرکز سے مال لانا چاہیں تو دور ہونے کی وجہ سے مال لا بھی نہیں سکتے۔ تو یہ امت آگے کیسے بڑھے گی؟ اس کے لیے اللہ رب العزت نے ختم نبوت کی برکت سے اعزاز دیا ہے کہ تم بڑھتے چلے جاؤ، کمانا کافر نے ہے اورکھانا تم نے ہے (سبحان اللہ۔ سامعین)
تمہیں کمانے کی ضرورت نہیں ہے، کافر کمائے گا اور تم کھاؤ گے اور یہ کھانا حلال بھی ہوگا اور طیب بھی ہوگا۔
مال کی تین اقسام:
میدان جنگ میں جو مال ملتا ہے اس کی تین قسمیں ہیں:
1: مال غنیمت: مال غنیمت کا معنی کیا ہے؟ کہ میدان جنگ میں گئے ہیں اور کفار سے مقابلہ ہوا ہے اور مقابلے کے بعد آپ کو مال ملا ہے۔
2: مال فئی: بغیر جنگ لڑے کافر خود کو آپ کے حوالے کردے، اس سے بھی مال ملتا ہے، اسے مالِ فئی کہتے ہیں۔
تو جنگ کے ذریعے مال ملے تو ”مال غنیمت“ بغیر جنگ لڑے ملے تو ”مال فئی“ ہے۔
3: انفال: ایک ہوتا ہے”انفال“ جو نفل کی جمع ہوتی ہے، اس کو محدثین اور مفسرین نے تھوڑا عام رکھا ہے۔
مال کی تقسیم کا طریقہ کار:
جب میدان جنگ میں جائیں اور مال غنیمت ملے تو اس مال غنیمت کے پانچ حصے ہوتے ہیں۔ ان میں ایک حصہ جسے ”خمس“ کہتے ہیں یہ تو بیت المال میں جمع ہوتا ہے اور چار حصے ان مجاہدین کے درمیان تقسیم ہوتے ہیں جو جہاد میں شامل ہوتے ہیں، کبھی ان چار حصوں کو ”مال انفال“ کہتے ہیں اور کبھی میدان جنگ میں امیر لشکرکہتا ہے کہ جس شخص نے فلاں کافر کو قتل کیا تو اس کافر کا مال اس قاتل کو دیں گے تو اس مال کو بھی نفل کہتے ہیں۔ اور کبھی جو پانچواں حصہ بیت المال میں جمع ہوا ہے اسی مال میں سے امیر المجاہدین کسی مجاہد کے خاص کارنامے کی وجہ سے اس مجاہد کو بطور اکرام کے دیتا ہے اس مال کو بھی ”مال انفال“ کہتے ہیں اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو مالِ خمس (پانچواں حصہ) بیت المال میں جمع ہوا ہے ایک شخص میدان جنگ میں تو نہیں گیا لیکن مجاہدین کی خدمت کرتا ہے، اس خدمت کرنے والے کو بھی امیر لشکر اس خمس میں سے کچھ مال دیتا ہے تو اس مال کو بھی “مال انفال“ کہتے ہیں۔
سورۃ میں ذکر کردہ زیادہ مضامین:
میں عرض کررہا تھا کہ مال غنیمت ہو، مال فئی ہو یا مالِ انفال ہو کچھ بھی ہو اس سورۃ مبارکہ میں چونکہ زیادہ تر مسائل اور احکام جہاد کے ہیں اور اس سورۃ مبارکہ کا زیادہ تر حصہ اسلام کے پہلے غزوہ ”غزوہ بدر“ پر مشتمل ہے، غزوہ بدر میں جب صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نکلے ہیں میدان میں، مال غنیمت بھی ملا ہے اور مال غنیمت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں تقسیم بھی ہوا ہے، اس مال کی وجہ سے اس سورت کا نام ”سورۃ الانفال“ رکھ دیا گیا ہے۔ اللہ رب العزت ہم سب کو یہ حلال اور پاکیزہ مال عطا فرمائے۔ (آمین)
ہم نے مالِ غنیمت استعمال کیا:
میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ جن دنوں روس افغانستان میں آیا اور بڑا سخت قسم کا جہاد جاری تھا، اللہ رب العزت نے اس مال غنیمت میں سے وافر حصہ ہمیں بھی عطاء فرمایا تھا سبحان اللہ، ہم جتنا اللہ کا شکر ادا کریں کم ہے آپ نے مال غنیمت کا لفظ سنا ہے ہم نے مال غنیمت کو استعمال کیا ہے مال غنیمت کو حلال اور طیب سمجھ کر اسے استعمال کرنا چاہیے خدا کا کرم اور احسان سمجھنا چاہیے۔
مالِ غنیمت اللہ اور رسول کا ہے:
﴿یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡاَنۡفَالِ ؕ قُلِ الۡاَنۡفَالُ لِلہِ وَ الرَّسُوۡلِ﴾
اللہ رب العزت فرماتے ہیں:
﴿یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡاَنۡفَالِ﴾
اے میرے پیغمبر! یہ صحابہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ مال غنیمت کا کیا کرنا ہے؟
﴿قُلِ الۡاَنۡفَالُ لِلہِ وَ الرَّسُوۡلِ﴾
آپ فرمادیں یہ مال غنیمت اللہ کے حکم سے آپ کو ملا ہے اور اللہ کے حکم کے مطابق اور پیغمبر کے بتائے ہوئے طریقے سے تقسیم ہوگا، اس لیے تمہاری مرضی اور تمہاری رائے کو اس مال غنیمت کی تقسیم میں کوئی بھی دخل نہیں ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارکہ:
اس کی وجہ حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ ایک غزوہ میں مجاہدین کے امیر بنے اور تاریخ اسلام کا سب سے پہلا واقعہ تھا حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 11 گیارہ صحابہ کرام دے کر بھیجا اور فرمایا کہ میں رقعہ دے رہا ہوں آپ نے اس کو فلاں مقام پر جا کر پڑھنا ہے اس سے پہلے پڑھنا نہیں ہے وہ رقعہ لیا اور صحابہ کو لے کر چل دیے جب وہ خاص جگہ پر پہنچے تین دن بعد وہاں رقعے کو کھول کر دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فلاں جگہ پر فلاں تمہارا معرکہ ہوگا تم نے اس میں شرکت کرنی ہے حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے صحابہ سے فرمایا یہ رقعہ ہے اور اس میں جہاد کا حکم ہے جو میرے ساتھ چل سکتا ہے چلے اور جو نہیں چل سکتا نہ چلے تمہاری مرضی ہے۔
ان گیارہ کے گیارہ نے عرض کیا کہ کیسے ممکن ہے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک کام کے لیے بھیجیں اور ہم واپس چلے جائیں اور یہ جو گئے اورایک بڑے خاص لشکر پہ حملہ کیا اور اس حملے سے جو ان کو مال غنیمت میں کچھ مال ملا ابھی تک مال غنیمت کا حکم نازل ہوا نہیں تھا اب کرنا کیا چاہیے؟
صحابی رسول کا اجتہاد:
حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے اپنے اجتہاد سے 4 حصے مجاہدین میں تقسیم کردیے اور پانچواں حصہ مدینہ منورہ میں بیت المال میں جمع کروادیا ابھی حکم نازل نہیں ہوا تھا تو جب یہ مدینہ منورہ پہنچے کہا یا رسول اللہ ہمیں مال ملا ہے اور ہم نے یہ کیا اب آپ فرمائیں کیا کریں اللہ فرماتے ہیں:
﴿یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡاَنۡفَالِ﴾
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے پوچھا ہے اور ابھی تک حکم نازل نہیں ہوا ہے لہذا میں کچھ نہیں کہہ سکتا حکم آئے گا تو بتاؤں گا۔
اجمالی اور تفصیلی احکام:
تو جب یہ آیت اتری ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سورۃ کے نازل ہونے کے بعد بہت سارے احکامات بتادیے اس سورت کی پہلی آیت میں اجمال ہے اور جب دسواں پارہ شروع ہوگا
﴿وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمۡتُمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ فَاَنَّ لِلہِ خُمُسَہٗ﴾
وہاں جاکر پوری تفصیل بیان فرمادی ہے چار حصے مجاہدین کے ہیں اور پانچواں حصہ جسے خمس کہتے ہیں بیت المال کا ہے جو امیر اپنی مرضی کے مطابق مختلف شعبہ جات میں اس مال کو تقسیم کرتا ہے اس میں مساکین بھی ہوتے ہیں فقراء بھی ہوتے ہیں اور دیگر کچھ حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔
غزوہ بدر کا خلاصہ:
اس آیت سے آگے غزوہ بدر کے تفصیلی احکام اور تفصیلی تذکرہ بڑی تفصیل سے فرمایا ہے میں بجائے اس کے کہ ایک آیت پڑھوں اور اس آیت سے غزوہ بدر کے مسائل بیان کروں اس میں تو بہت دیر لگ جائے گی میں نے عرض کیااگر ایک ایک آیت پر بات کرتے رہیں تو پورا مہینہ مسلسل اس بیان میں لگ جائے گا، میں خلاصہ عرض کرتا ہوں جو آگے ان آیات میں اللہ رب العزت نے تذکرہ فرمایا ہے غزوہ بدر کے متعلق۔
غزوۂ بدر کیوں پیش آیا؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت فرماکر مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ آئے اس کے بعد کفار کی مسلسل خواہش یہ تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ختم کردیا جائے ان کے اصحاب کو مٹادیا جائے اس کے لیے کافر جو محنت کرسکتے تھے محنت کی ہے اللہ رب العزت نے ہر موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت فرمائی ہے تو کفار مکہ نے ایک مرتبہ اپنے اموال جمع کیے اور ابو سفیان )امیر معاویہ کے والد( ان کی قیادت میں شام کی طرف ایک وفد بھیجا کہ وہاں جاکر تجارت کرو اموال جمع کر کے لاؤ مکہ مکرمہ میں طاقت مضبوط کریں پھر مسلمانوں کا مقابلہ کریں ابو سفیان مکہ مکرمہ کا مال لے کر تجارت کے لیے شام پہنچے اس مال میں مکہ مکرمہ کا شاید ہی کوئی گھر ہو کہ جس گھر نے اپنا مال تجارت کےا ندر نہ لگایا ہو ہر کسی نے اپنا پیسہ اس تجارت میں لگایا اس دور میں ابو سفیان جو مال تجارت لے کر آئے اس کی مالیت بنتی ہے 50 ہزار دینا ر ایک دینار ہوتا ہے ساڑھے 4 ماشے کا اب یہ کتنے تو لہ بنتے ہیں آپ خود حساب کریں سُنَّار ہی حساب کرسکتے ہیں ہمارے بس میں تو حساب نہیں ہے پچاس ہزار دینار کا مال تھا اور ایک دینار ساڑھے چار ماشے کاہوتا ہے اب ساڑھے چار ماشے کو پچاس ہزار سے ضرب دیں تو کتنے ماشے بنتے ہیں؟ کتنے تولے بنتے ہیں؟ تو پھر آپ اندازہ کریں گے کہ کتنے کروڑ مالیت کا سامان تھا جو اس وقت شام سے مکہ مکرمہ لے کر آرہے تھے۔
صحابہ سے مشاورت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب پتا چلا اپنے صحابہ سے مشورہ لیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ کرتے ہیں جو مال شام جارہا ہے اگر اس شام سے واپس آنے والے مال کو راستے میں کفار سے چھین لیا جائے یہ مال ہمارے خلاف استعمال ہونا ہے ہمارے خلاف استعمال ہونے کی بجائے مسلمانوں کے حق میں استعمال ہو میں یہ لفظ کیوں استعمال کر رہا ہوں کہ کسی بندے کا ذہن منفی طرف نہ جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بے گناہ قافلے پر حملہ کر کے ان کا مال العیاذ باللہ لُوٹنا چاہ رہے تھے یہ مقصد نہیں تھا کیونکہ اس مال نے مسلمانوں کے خلاف استعمال ہونا تھا اس لیے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مال راستے سے روک لو بلاک کردو تاکہ یہ مال مکہ نہ پہنچے جو ہمارے خلاف استعمال ہو بلکہ اس مال کو لے کر مسلمانوں کے حق میں استعمال کرنا چاہیے۔
ابھی جنگ کا ارادہ نہیں تھا:
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس ارادے سے مدینہ منورہ سے نکلے ہیں اب چونکہ جنگ کا ارادہ بھی نہیں ہے جہاد کا ارادہ بھی نہیں ہے کوئی لڑنے کا پروگرام بھی نہیں ہے اس لیے جو جانا چاہتا تھا اس کو لے گئے ہیں اور جو نہیں جانا چاہتا تھا اس کو چھوڑ دیا ہے نہ جانےوالے پر کوئی عتاب بھی نہیں ہے کوئی ڈانٹ بھی نہیں کوئی ڈپٹ بھی نہیں اور فرمایا جن کے پاس سواری ہے وہ آجاؤ جن کے پاس سواری نہیں ہے رہنے دو۔
دیہات والے صحابہ کرام سے گفتگو:
بعض صحابہ ایسے بھی تھے جو مدینہ منورہ میں رہتے تھے انہوں نے کہا یا رسول اللہ ہمارے دیہات قریب ہیں وہاں سواری موجود ہے آپ اجازت دیں ہم دوڑ کر لے آتے ہیں فرمایا نہیں رہنے دو موجود ہے تو ٹھیک ہے نہیں ہے تو تم یہیں ٹھہرو ہم چلتے ہیں۔
جب 313 کا قافلہ چل پڑا:
یہ غالباً بارہ رمضان کا واقعہ ہے جب مدینہ سے نکلے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تین سو تیرہ کا لشکر تھا۔ جن کے پاس ستر گھوڑے ہیں دو اونٹ ہیں چھ زرہیں ہیں اور آٹھ ان کے پا س تلواریں ہیں یہ سامان لے کر نکلے ہیں ادھر سے یہ نکلے ادھر ابو سفیان کے قاصد کو کسی نے بتادیا العیاذ باللہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے قافلے کو لوٹنے کے لیے مدینہ سے چل پڑے ہیں۔
ابو سفیان کا خدشہ:
اس دور کا رواج یہ تھا کہ بہت قیمتی سرمایہ لے کر چلنے والا قافلہ ہو تا تو آگے کچھ لوگ دور دراز تک دیکھتے۔ جیسے ہم اپنی زبان میں کہتے ہیں وہ کلیئرنس دیتے رہتے تھے کہ راستہ بالکل صاف ہے پر امن ہے خطرہ نہیں ہے اپنا سفر جاری رکھو۔ تو جوقافلے کے آگے دو چار بندے تھے انہوں نے بتایا کہ تمہارے مال کو مسلمان مدینہ والے لوٹنا چاہتے ہیں ابو سفیان نے اپنا قاصد لیا اور اس دور میں اس کو دو ہزار دینار دیے اور کہا تم یہاں سے مکہ دوڑو اور ان کو جاکر کہو کہ جتنا جلدی پہنچ سکتے ہو ہماری مدد کو پہنچو اس نے اونٹنی کو لیا اور اونٹنی کا کجاوہ الٹا کر دیا اونٹنی کی کوہان کو زخمی کردیا اپنے کپڑے پھاڑ دیے اور اونٹنی کو لے کر چل دیا۔
سابقہ ادوار کی ایمر جنسی علامات:
یہ اس دور میں ایمرجنسی کی علامات تھیں جیسے ہمارے ہاں کوئی ایمرجنسی گاڑی جائے اس پر ہوٹر بھی لگا ہوتا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ یہ ایمرجنسی گاڑی ہے اس کو راستہ دو اس دور میں خطرناک سفر کی علامت یہ ہوتی اونٹنی کا کجاوہ الٹا کردو ،کوہان زخمی کردو اپنے کپڑے آگے سے پھاڑ دو پھر یہ دوڑتا جائے گا تو لوگ یہ سمجھیں گے کہ کوئی بڑی ایمرجنسی خبر لے کر آرہا ہے یہ دوڑا اور مکہ مکرمہ جا رہا تھااللہ کی شان دیکھو ابھی تک یہ مکہ میں داخل نہیں ہوا تھا۔
حضرت عاتکہ رضی اللہ عنہا کا خواب:
اس کے مکہ مکرمہ پہنچنے سے پہلے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی عاتکہ بنت عبدالمطلب کو خواب آیا۔ آپ نے دیکھا کہ ایک شخص مکہ میں اونٹنی پر آرہا ہے اور مکہ میں آکر اعلان کرتا ہے مکہ والو تین دن میں اندر ان جگہوں پر پہنچو جہاں تم نے قتل ہونا ہے۔ یہ اعلان کیا پھر جبل ابی قبیس پر چڑھا اور پہاڑ پر سے چٹان گرائی جب چٹان پہاڑ کے دامن میں آئی تو اس کے ٹکڑے ہوئےاور کوئی نہ کوئی ٹکڑا مکہ کے ہر گھر میں داخل ہوا۔ عاتکہ بنت عبدالمطلب نے اپنے بھائی عباس سے کہا بھائی جان مجھے خواب آیا ہے لگتا ہے کہ مکہ والوں پر کوئی مشکل وقت آرہا ہے لیکن یہ خواب کسی کو بتانا نہیں۔ خواب بڑا اہم تھا۔
حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے خواب سنا ان کا ایک دوست تھا ولید ، اس کو بتادیا جب ولید نے خواب سنا اس نے اپنے باپ عتبہ کو بتادیا عتبہ نے ابو جہل کو بتادیا ابو جہل بے ایمان تھا اور ذہین بہت تھا ابو جہل نے خواب سناتو اس نے کہا یہ تو ہم نے سنا تھا کہ تمہارے مردوں نے نبوت کا دعوی کیا ہے یہ تمہاری عورتوں نے نبوت کا دعوی کب سے شروع کردیا ہے ہم یہ سنتے تھے کہ تمہارے محمد پر وحی آتی ہے یہ تمہاری عورتوں نے بھی نبوت کے دعوے شرع کر دیے؟مطلب یہ تھا کہ کیا تم نے غلط افواہیں پھیلا رکھی ہیں ابھی یہ تذکرہ چل رہا تھا۔
ابوسفیان کے قاصد کی آمد:
غفاری جو ابو سفیان کا قاصد تھا اسی طرح مکہ مکرمہ میں داخل ہوا۔ مکہ والوں نے دیکھا تو ان کو بڑا تعجب ہوا ۔ اس نے فورا کہا جس قدر جلدی ہوسکتا ہے دوڑو اور قافلے کو بچاؤ ورنہ تمہارے قافلے کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان لوٹ لیں گے ابوجہل نے اعلان کیا، اور فوراًسب کو جمع کیا اس نے کہا جتنا جلدی ہوسکتا ہے تم نکلو۔ امیہ سردار تھا اس کا مکہ میں بڑا نام تھا۔
حضرت سعد کی مطاف میں گفتگو:
حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اس امیہ بن خلف کے دوست تھے جب یہ مکہ آتے اس کے پاس ٹھہرتے وہ مدینہ میں جاتا تو ان کے پاس ٹھہرتا آپس میں یاری جو تھی ایک مرتبہ یہ سعد مکہ مکرمہ میں آئے اور طواف کا ارادہ تھا تو انہوں نے اپنے دوست امیہ سے کہا کہ تم مجھے طواف کراؤ لیکن ایسے وقت میں کراؤ کہ مطاف میں بندہ کوئی بھی نہ ہو میں سہولت کے ساتھ طواف کروں دوپہر کو لے کر گئے مطاف خالی ہے کہ میں تمہیں طواف کرا دیتا ہوں جب وہاں گئے ابو جہل نے ان کو دیکھ لیا یہ بڑے پر امن طریقے سے طواف کررہے ہیں ابو جہل نے کہا امیہ یہ کیا تم نے ان بے دین لوگوں کو کھلی چھٹی دی ہے اورساتھ ان کو پناہ بھی دی ہے اور یہ کیسے دندناتا ہوا طواف کررہا ہے۔ ابو جہل دشمنی میں بہت آگے تھا جب اس نے یہ بات کی تو سعد رضی اللہ عنہ نے ڈانٹ کر یہ کہا ابو جہل تم اگر مکہ کے سردار ہو تو میں مدینہ کا سردار ہوں اگر میرے طواف کے رستے کی رکاوٹ بنے تو تمہاری گردن اڑا کے رکھ دوں گا خبر دار کچھ کرنے کی جرأت کی۔
امیہ کے بارے آنحضرت کی پیشن گوئی:
امیہ بن خلف نے کہا سعد میری اور تمہاری یاری ہے لیکن یہ ہمارا سردار ہے ایسی اونچی آواز سے بات نہ کرو حضرت سعد رضی اللہ کے منہ سے ایک جملہ نکلا ان سے کہو کہ تم بھی خیال سے بولو مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بتایا ہے امیہ میرے ساتھیوں کے ہاتھوں قتل ہوگا۔اس نے کہا میرے بارے میں کہا؟ ہاں تمہارے بارے میں۔ اس نے کہا مکہ میں؟ فرمایا جگہ تو مجھے نہیں بتائی، لیکن یہ کہا کہ میرے ساتھیوں کے ہاتھوں قتل ہوگا۔ وہ کانپ گیا اور اسی وقت سے محتاط ہوگیا اور پھر کبھی مکہ سے باہر نہیں نکلا کہ میں صحابہ کے ہاتھوں قتل نہ ہوجاؤں۔
امیہ کا تذبذب:
جب یہ معاملہ پیش آیا تو ابو جہل نے دونوں کو نکالا کہ چلو امیہ سے کہا تم بھی چلو امیہ بن خلف کو سعد کی بات یاد آگئی وہ کہتا ہے میں تو باہر جانے کے لیے تیار نہیں ہوں ابو جہل نے کہا تم سردار ہو اگر تو نہیں گیا تو باقی لوگ کیسے جائیں گے؟ اب اس نے سرداری کی وجہ سے کہا چلو میں چلتا ہوں اور ابو جہل نے یہ بھی کہا کہ اب تم یہاں سے چلو اور میں تیز رفتار اونٹ دوں گا تمہیں کوئی راستے میں خطرہ محسوس ہو تو وہیں سے دوڑ کر واپس آجانا لیکن چلو تو سہی۔
بیوی کی یاد دہانی:
اپنی بیوی ام سفیان سے کہا کہ کجاوہ کسو اور میرے سامان کی تیاری کرو! جب تیاری کرنے لگے تو اس کی بیوی نے کہا: وہ وقت یاد ہے جب تیرے بھائی سعد نے یہ کہا تھا حضرت محمد صلی ا للہ علیہ وسلم کے صحابہ کے ہاتھو ں قتل ہوجائے گا۔ اس نے کہا: مجھے یاد ہے لیکن اس کے بغیر چارہ نہیں ہے لیکن میں حفاظت کے ساتھ واپس آجاؤں گا لیکن نکلنا بڑا مشکل تھا۔
ابو جہل کا لشکر روانہ ہوا:
میں بتایہ رہا تھا یہ تھوڑا ساپس منظر خواب اور یہ مکہ والوں کے حالات بالآ خر ابو جہل اپنے ایک ہزار ساتھیوں کولےکرنکلا جب مدینہ منورہ کے قریب پہنچا تو ابوجہل کو یہ اطلاع ملی کہ ابو سفیان کا قافلہ بچ کر نکل گیا جب ان کو اطلاع ملی کہ حضور صلی ا للہ علیہ وسلم کےصحابہ ہمارے مال پر حملہ کریں گے اور مال لوٹ لیں گے انہوں نے راستہ بدل لیا راستے کو بدل کر دوسرا راستہ اختیار کرلیا لیکن ابو جہل کو اپنی طاقت پہ ناز تھا بڑے بڑے سرداروں نے کہا آؤ ہم واپس چلتے ہیں۔ قافلہ بچ گیا ہے اب لڑنے کی ضرورت نہیں ہے وہ مریں گے تو قریشی ہیں ہم مریں گے تو قریشی ہیں وہ قتل ہوئے تو ہاشمی ہیں ہم قتل ہوئے تو ہاشمی ہیں اپنے ہی خاندان کو مارنا مرنا یہ کوئی عقل کی بات نہیں ہے چلو ہم واپس چلتے ہیں۔
ابو جہل لاؤ لشکر سمیت میدان میں:
لیکن ابوجہل نے کہا میں واپس جانے کے لیے تیار نہیں ہوں بلکہ ہم جشن منائیں گے اور جشن منا کے چلیں گے۔ یہ کہہ کر قتل کے میدان میں اتر گیا ایک جماعت کے بڑے بڑے جری جوان اس کے ساتھ موجود بھی تھے ان کے پاس اونٹ بھی ہیں ان کے پاس دو سو گھوڑے بھی ہیں ان کے پاس چھ سو زرہیں اور تلواریں بھی کافی مقدار میں ان کے پاس سامان موجود تھا ۔وہ قافلہ نکل گیا اور ابو جہل اپنے ساتھیوں کے ساتھ میدان میں اتر گیا۔
رسول اللہ کی صحابہ سے مشاورت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتا چلا کہ ابو سفیان تو چلا گیا ہے اور ادھر تو ابو جہل آگیا ہے اب صحابہ سے مشورہ لیا اب بتاؤ کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ ابو سفیان تو ایک طرف سے نکل گیا ہے اور ابو جہل اپنی طاقت کے ساتھ میدان میں اتر گیا ہے ہمارے پاس سامان بھی نہیں ہے لیکن ایک بات طے شدہ ہےاللہ نے بتادیا ہے کہ ان دو لشکروں میں جس کے ساتھ بھی ہمارامقابلہ ہوگا اللہ تعالی اس لشکر پر ہمیں فتح عطا فرمائے گا،ابو سفیان مل گیا تو مال مل جائے گا اگر ابو جہل مل گیا تو فتح ہماری ہوگی لیکن ابوجہل کے لشکر سے مقابلہ ہوگا اور ابو سفیان کا قافلہ خالی ہے تو اس سے تو لڑائی نہیں ہو گی۔
صحابہ کی خواہش:
صحابہ کی خواہش یہ تھی کہ ہمارا مقابلہ ابو سفیان کے قافلہ سے ہو لڑائی نہ ہو اور مال غنیمت مل جائے اللہ تعالی یہ چاہتے تھے آج اسلام غالب کر کے اسلام کو فتح دے کر ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کی طاقت کا سکہ منوالیاجائے۔
مہاجرین صحابہ کرام کی رائے:
مشورہ ہوا کہ اب کیا کرنا چاہیے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے کہا یا رسول اللہ ہم حاضر ہیں آپ جہاد کا اعلان کریں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے یا رسول اللہ ہم حاضر ہیں آپ جہاد کی بات کریں مقداد کھڑے ہوئے ہم حاضر ہیں آپ جہاد کا اعلان کریں۔
انصار صحابہ کرام کی رائے:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مشورہ دو کیا کرنا چاہیے انصار صحابہ سمجھ گئے کہ یہ مہاجر کھڑے ہو کے اعلان کرتے ہیں اللہ کے نبی پوچھنا چاہتے ہیں کہ انصار کیا کہنا چاہتے ہیں۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ انصاری کھڑے ہوئے انہوں نے کہایا رسول اللہ ہمارا مال بھی آپ کا ہے اور ہماری جان بھی آپ کی ہے سب کچھ جو اللہ کا دیا ہوا ہے آپ کا ہے آپ بسم اللہ پڑھیں اور حکم فرمائیں آپ سمندر میں کہیں گے ہم چھلانگیں لگادیں گے ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں یہ موسی علیہ السلام والی قوم نہیں ہے کہ جس نے اپنے نبی سے کہہ دیا تھا :
﴿فَاذۡہَبۡ اَنۡتَ وَ رَبُّکَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا ہٰہُنَا قٰعِدُوۡنَ﴾
کہ اے موسی! تو اور تیرا خدا لڑیں ہم تو یہاں بیٹھے ہیں ہم آپ کا آخری سانس تک ساتھ دیں گے آپ بسم اللہ پڑھیں۔
گھمسان کا رن:
جب سعد رضی اللہ عنہ نے یہ تقریر کی تو آپ کا چہرہ کھلکھلا اٹھا فرمایا بسم اللہ پڑھو باقی سفر کے لیے کوچ کرتے ہیں اب ادھر یہ تین سو تیرہ ہیں ادھر مقابلہ ایک ہزار کے ساتھ۔ یہ تین سو تیرہ کون سے ہیں جن کے پاس دو گھوڑے ہیں چھ تلواریں ہیں اور آٹھ زرہیں ہیں اور مقابلے میں لڑنے والے ان کے دو سو گھوڑے اور ان کے پاس چھ سو تلواریں اور ان کے پاس زرہیں اور بظاہر جوڑ بھی نہیں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب میدان میں اترے ادھر کفار ہیں ادھر مسلمان ہیں۔
کفار کی چالاکی:
اتفاق اور اللہ کی شان دیکھو کہ جنگ کے لیے جب جگہ کا انتخاب ہونے لگا تو جو چٹیل جگہ تھی اس پر کفار نے قبضہ کرلیا جہاں پانی کے کنویں بھی ہیں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ پہ ہیں جو ریتلا علاقہ ہے، گرم جگہ ہے اگر ہوا آئے ریت اڑ جاتی ہے اس لیے کفار نے یہ سمجھا ہمیں جگہ بڑی عمدہ ملی ہے مسلمانوں کو جگہ بہت خطرناک ملی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں ٹھہرے ادھر مشرک ہیں ادھر اللہ کے نبی ہیں جب آمنے سامنے کھڑے ہوئے صف بندی ہونے لگی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو باوجوداس کے کہ اللہ نے نصرت کا وعدہ فرمادیا تھا حضور صلی ا للہ علیہ وسلم تب بھی سجدے میں گر گئے اور اللہ پاک سے مانگنا شروع کر دیا پوری رات اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سامنے کھڑے اور سجدے میں اللہ سے مانگتے رہے۔
سکون کی نیند:
مفسرین نے کہا ہے کہ ایسا وقت آیا مشرکین مقابلہ میں ہیں صحابہ کرام سوئے ہوئے ہیں حالانکہ میدان جنگ میں کس کو نیند آتی ہے اللہ نے ایسی امن کی نیند عطافرمائی کہ سکون سے سوئے پڑے ہیں جیسے کفار سے مقابلہ نہیں ہے۔
صحابہ کا رسول اللہ کے لیے حفاظتی منصوبہ:
اللہ کے نبی جہاں جس جگہ پہ ٹھہرے ہیں اللہ کی شان دیکھو حضرات صحابہ کرام نے کہا حضور آپ ایسے کریں ہم آگے جاکے لڑتے ہیں ہم آپ کے لیے ایک چھوٹا سا سائبان بنادیتے ہیں چھپر سا بناتے ہیں کپڑے کا آپ اس میں آرام فرمائیں۔ حضرت سعد کہنے لگے یا رسول اللہ ہم میدان میں لڑتے ہیں اور آپ یہاں ٹھہریں اگر اللہ نے فتح عطا فرمادی تو ہم آپ کے ساتھ ہیں اور اگر شکست ہوگئی مارے گئے آپ مدینہ میں چلیں جائیں مدینہ والے آپ کو سنبھالیں گے، ہم کفار سے لڑتے ہیں۔
خلافتِ صدیقی کے اشارے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سائبان بنادیا گیا حضرت سعد رضی اللہ عنہ سائبان سے باہر کھڑے ہوگئے اور اب اس سائبان میں دو آدمی ہیں ایک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ۔ اس کا معنی سارے صحابہ سمجھتے تھے کہ حضور کے بعد وارث صدیق ہیں جیسے نبی کو بچانا ہے ضروری ہے اسی طرح نبی کے صدیق کو بچانا بھی ضروری ہے۔حضرت سعد رضی اللہ عنہ اپنی تلوار لے کرپہرہ دے رہے ہیں۔
بلا فصل خلافت صدیقی اس وقت کے کافروں کو تسلیم تھی:
صحابہ بھی سمجھتے تھے حضور کے بعد وارث صدیق اکبر ہیں اور مشرکین بھی سمجھتے تھے حضور کے بعد باری صدیق اکبر کی ہے آپ کہیں گے وہ کیسے؟ اس پر قرائن تو کئی ہیں ایک دو عنوان ذہن میں رکھ لیں۔ جنگ بدر کے بعد ایک جنگ ہے وہ جنگ احد ہے، جب احد میں کفار نے مسلمانوں کے حوصلے پست کرنے کے لیے ایک گیم کھیلی ایک سازش تیار کی۔ سازش کیا تھی؟ یہ مشہور کردو حضور صلی اللہ علیہ وسلم قتل ہوگئے جب یہ غلط خبر اٹھے گی تو مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ جائیں گے انہوں نے یہ افواہ مشہور کی محمد صلی اللہ علیہ وسلم قتل ہوگئے اس کے بعد دوسری افواہ یہ اڑائی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی قتل ہوگئے پھر افواہ یہ اڑائی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ قتل ہوگئے ہیں اس کا مطلب؟ کافر بھی سمجھتا تھا اگر حضور شہید ہوگئے تو مسلمان حضرت ابوبکر کے پاس جائیں گے تو یہ بھی اعلان کرو کہ حضرت ابوبکر بھی قتل ہوگئے ہیں۔
حضرت ابوبکر اگر شہید ہوگئے تو لوگ حضرت عمر کے پاس جائیں گے تویہ بھی افواہ اڑادو کہ حضرت عمر بھی قتل ہوگئے ہیں جب کہا کہ حضور شہید ہوگئے تو حضور خاموش رہے جب کہا حضرت ابوبکر شہید ہوگئے حضرت ابوبکر صدیق خاموش لیکن جب کہا حضرت عمر بھی شہید ہوگئے تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اوبے ایمانو میں زندہ ہوں میں بھی زندہ ہوں حضور بھی زندہ ہیں اور صدیق بھی زندہ ہیں زیادہ خوشیاں نہ مناؤ۔
وعدہ نصرت خداوندی کے باوجود نبی کیوں روئے؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل دعائیں مانگتے رہے حتی کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم پوری رات جاگتے رہےاور اللہ سے دعائیں مانگتے رہے۔اس پر بعض لوگوں نے ایک اشکال کیا ہے کہ جب اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتادیا اور وعدہ کردیا گیا کہ آپ کو فتح ملے گی پھر اللہ کے نبی کیوں روتے ہیں؟ پھر کیوں دعا مانگتے ہیں اللہ فتح عطاء فرمادے۔ اللہ وعدہ پورا فرمادے۔ اگر یہ مٹھی بھر جماعت ختم ہوگئی تو قیامت تک تیرا نام لینے والا کوئی نہیں ہوگا۔
جواب:
اس کی دو وجوہات ہیں: اللہ نے یہ بتایا کہ آپ کو فتح ملے گی لیکن یہ نہیں بتایا کہ کب ملے گی؟ اللہ کے نبی فرمارہے ہیں اللہ ابھی دے دے اور میری اس جماعت کو بچالے۔ وعدہ تھا لیکن یہ تو نہیں بتایا تھا کہ آج ہے،کل ہے، پرسوں ہے یا ترسوں ہے۔
دوسری وجہ اللہ کے نبی کے سامنے اللہ کی دوشانیں ہوتی ہیں ایک شان اللہ اپنے وعدے کے پکے ہیں دوسری شان اللہ غنی اور بے نیاز ہے اللہ سے کوئی بندہ پوچھ سکتا ہے؟ اللہ نے جب وعدہ کیا اب وعدہ کب تک ہے جب تک ہم ٹھیک ہیں جب ہم بگڑ جائیں گے پھر اللہ کے فتوحات کے وعدے تو نہیں ہیں، نبی؛ اللہ کے وعدے پر ایمان بھی رکھتے ہیں اور ساتھ نبی ؛اللہ کے غنی ہونے پر یقین بھی رکھتے ہیں۔
فتح کی بشارت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعائیں مانگ رہے تھے صدیق اکبر پاس ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اچانک اونگھ آئی تھوڑی سی اونگھ آئی اور فورا ًآنکھ کھل گئی فرمایا: اللہ کی مدد آگئی، "
ھٰذَا جِبْرَئِیْلُ قَامَ عَلٰی فَرَسِہ
ٖ" یہ جبرائیل کھڑا ہوا ہے اپنے گھوڑے کولے کر۔ جبرائیل آگیا گھبرانے کی ضرورت نہیں آپ کو اونگھ آئی ہے اور فوراً آنکھ کھلی ہے فرمایا صحابہ اب کچھ بھی نہ پڑھو اتر جاؤ میدان میں۔
اللہ کی مدد آن پہنچی:
ادھر اللہ نے کرم کیا فرمایا: میدان جنگ میں جانا تھا بادل آئے،بارش شروع ہو گئی اور جس جگہ کافر تھے وہ میدان صاف تھا وہاں کیچڑ ہوگیا مسلمان جہاں تھے وہ ریت تھی وہ جم گئی۔ جنگ کا نقشہ ہی بدل گیا۔ کفار کیچڑ میں پڑے ہیں اور مسلمان ریت میں جمی جگہ کے ساتھ ہیں یہاں موسم ٹھنڈا ہے وہاں کیچڑ والی جگہ یہاں تو پانی نہیں تھا اللہ نے پانی کا انتظام کر دیا اس سے وضو بھی کرو، غسل بھی کرو اس پانی کو پیو۔ اللہ نے آغاز یہاں سے فرمایا جہاں جنگ کا نقشہ بدلا ہے۔
کفراور اسلام کی معرکہ آرائی:
جب مقابلہ میں نکلے ہیں مقابلے میں کفار کی طرف سے سب سے پہلے تین آدمی نکلے ہیں عتبہ،شیبہ اور عتبہ کا بیٹا ولید ادھر سے مسلمانوں کی طرف سے بھی تین آدمی نکلے ہیں یہ مسلمان انصار صحابہ تھے۔ کفار اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتے تھے انہوں نے انصار سے کہا تم کون ہو؟ انہوں نے کہا میں فلاں انصاری ہوں میں فلاں انصاری انہوں نے کہا ہمارا تمہارا کوئی جوڑ نہیں ہے۔ قریشی لاؤ جو ہماری ٹکر کے بندے۔ ہم تم سے لڑنے میں اپنی توہین سمجھتے ہیں انہوں نے واپس جاکر کہا یارسول اللہ ہم لڑنے کے لیےگئے ہیں لیکن مکہ والے کہتے ہیں ہماری ٹکر کے بندے لاؤ!نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے قریش والوں کو بھیجو چنانچہ حضرت عبیدہ، حضرت حمزہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہم میدان میں اترے۔
اسلام کے علمبردار اور دشمن باہم صف آرا:
اُدھر عتبہ ہے مقابلے میں حضرت عبیدہ رضی اللہ عنہ ہیں، اُدھر شیبہ ہے مقابلے میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ ہیں اور اُدھر ولید ہے مقابلے میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہیں۔
ولید نے کہا:علی؟ فرمایا: ہاں علی۔ کہنے لگا:اب مزہ آئے گا لڑنے کا۔ دشمنی بھی تھی پھر کہتے ہیں مقابلے کا بندہ ہوجائے۔ اب یہ تینوں مقابلےمیں آئے سامنے کون آیا عتبہ ان کے مقابلے میں عبیدہ ادھر سے انہوں نے حملہ کیا ادھر سے عتبہ نے حملہ کیا لڑ پڑے اللہ کی شان ادھر یہ دونوں لڑ پڑے اور حضرت حمزہ شیبہ سے حضرت حمزہ نے ایک وار کیا شیبہ قتل ہوگئے حضرت علی نے ایک وار کیا ولید قتل ہوگئے حضرت عبیدہ نے وار کیا تو عتبہ بچ گیا اس نے حضرت عبیدہ رضی اللہ عنہ پہ وار کیاا ن کا پاؤں زخمی ہو گیا پنڈلی سے خون نکلنے لگا حضرت علی اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہما آگے بڑھے اس بے ایمان کو بھی قتل کردیا، تینوں کے تینوں دشمنان اسلام جہنم رسید ہو گئے۔
کاش ابو طالب زندہ ہوتے!
حضرت عبیدہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے زخمی تھے کہا یارسول اللہ! میرے بچنے کی توقع ہے؟ اللہ کے نبی نے فرمایا نہیں تو نہیں بچے گا۔ تو شہید ہوجائے گا حضرت عبیدہ کہنے لگا اے کاش آج ابو طالب زندہ ہوتے! کیوں؟ ابو طالب نے کہا تھاجب تک میں زندہ ہوں تم محمد کے قریب نہیں جاسکتے۔ میں مروں گا پھر محمد کے قریب جاؤ گے۔ عبیدہ کہتے ہیں کاش ابو طالب زندہ ہوتے ان کو پتا چلتا۔ جب تک ہم زندہ ہیں حضور کوئی کافر آپ کے قریب نہیں آسکتا ہم جانتے ہیں ختم نبوت کا مسئلہ ہے اس کے بعد مڈھ بھیڑ شروع ہوگئی ادھر مسلمان ادھر کافر اللہ نے کرم یہ فرمایا کہ کفار کے بڑے بڑے ستر جرنیل مارے گئے اس معرکے میں مسلمان بہت کم ہیں جنہوں نے جام شہادت نوش کیا۔
مشرکین کی قتل گاہوں کی نشاندہی:
اب یہ سارے قتل ہورہے تھے، بھاگ رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس جگہ پہ ابو جہل قتل ہوگا، اس جگہ عتبہ قتل ہوگا، اس جگہ شیبہ قتل ہو گا، اس جگہ ولید قتل ہوگا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مختلف جگہوں پہ نشان لگا لگا کر بتا رہے تھے یہ کس کی قتل گاہ ہے؟ یہ کس کی قتل گاہ ہے؟ 72قتل گاہیں آپ نے بتائیں، خیر یہ سارےقتل ہوگئے۔
امت محمدیہ کا فرعون:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:ابو جہل کا کیا بنا؟چونکہ آپ نے فرمایا تھاابو جہل کا فتنہ فرعون کے فتنے سے بڑا فتنہ ہے۔ آپ کو میں اس کی وجہ بھی عرض کرتا ہوں: بندہ سمجھتا ہے شاید فرعون بہت بڑا ظالم تھا اور ابو جہل اس سے چھوٹا تھا آپ نے یوں تو نہیں فرمایا کہ میری امت کا فرعون موسی کے فرعون سے بڑا فرعون ہے۔ اس کی وجہ کیا تھی؟ کیوں پوچھا کہ ابو جہل کا کیا بنا؟ اس کو کیوں تلاش کرتے پھر رہے تھے؟
دو ننھے صحابہ ؛ابو جہل کی تلاش میں:
دو چھوٹے چھوٹے صحابی ہیں حضرت معاذ اور حضرت معوذ۔ ایک صحابی سے کہنے لگے: چچا جان یہ بتاؤ کہ ابو جہل کون ہے؟انہوں نے پوچھا کہ تم کیا کروگے؟ کہنے لگے ہم اس کو ماریں گے۔ وہ صحابی کہتے ہیں یہ چھوٹے بچے اس کو کیا ماریں گے، حضرت معوذ کا اپنا کندھا کٹ گیا لٹک رہا تھا، کھینچ کر اس کو اپنے جسم سے الگ کردیا اب ان کا ایک ہاتھ موجود ہے۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ یہ چھوٹے ہیں ان دونوں نے باز کی طرح حملہ کیا ابو جہل سامنے تھا اس کی ٹانگ پہ حملہ کیا وہ گھوڑے سے گِرا ہے گِرا تو دیا لیکن مارا نہیں۔ قتل نہیں کیا۔ آخر یہ بچے تھے۔
تواضع نے تکبر سے زمین پاک کر ڈالی:
ابو جہل بے ایمان تکلیف کی وجہ سے کراہ رہا تھا، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی ا للہ عنہ کو نبی نےبھیجا جاؤ تم اس کو قتل کردو۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ؛ ابو جہل کی چھاتی پر چڑھے جب قتل کرنے لگے تو ابو جہل نے پوچھا تم کون ہو؟ انہوں نے کہا میں عبداللہ بن مسعودہوں۔ ابو جہل نے کہا تم بڑی مناسب جگہ پہ آئے ہو کیونکہ تم مکے کے سردار کی چھاتی پر بیٹھے ہو۔
ابن مسعود کا مختصر تعارف:
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بکریاں چرانے والے چرواہے تھے، بعض روایات کے مطابق چھٹے نمبر پہ کلمہ پڑھ کے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود چھوٹے قد، گندمی رنگ،باریک پنڈلیوں، کمزور اور لطیف جسم والےتھے اس امت کے سب سے بڑے فقیہ تھے۔
• صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"اِسْتَقْرِؤُا القُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ."
صحیح البخاری، رقم: 3760
کہ قرآن مجید خاص طور پر چار آدمیوں سے سیکھو! ان میں سے ایک عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں۔
• ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"وَمَا حَدَّثَكُمْ ابْنُ مَسْعُودٍ فَصَدِّقُوهُ"
سنن الترمذی، رقم: 3799
جو بات تمہیں ابن مسعود فرما دیں اس کو ضرور سچا سمجھنا!
• حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَنْ سَرَّهٗ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْهُ عَلٰى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ."
المعجم الاوسط للطبرانی: ج2 ص 294رقم الحدیث 3326
کہ جس شخص کو پسند ہو کہ وہ قرآن اس لہجے میں پڑھے جس لہجے میں نازل ہوا تو وہ عبداللہ بن مسعود کی قرأت کے مطابق پڑھے۔
• حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لَوْ كُنْتُ مُؤَمِّرًا أَحَدًا مِنْ غَيْرِ مَشْوَرَةٍ لَأَمَّرْتُ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ."
سنن الترمذی، رقم: 3809
اگر میں کسی کو بغیر مشورہ کے امیر بناتا تو عبد اللہ بن مسعود کو بناتا۔
ابو جہل کی فرعونیت:
بہر حال! ابو جہل کو جب قتل کرنے لگے تو ابو جہل نے کہا اگر قتل کرنا ہے میری تلوار سے قتل کرو تاکہ پتا لگے سردار؛ سردار کی تلوار سے مارا گیا ہے۔ جب تم نے مجھے قتل کرنا ہی ہے تو میرے شانوں کے قریب سے میری گردن کاٹنا تاکہ جب گردنوں کو اکٹھا کیا جائے تو پتا لگے یہ سردار کی گردن ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اسی طرح کاٹا ۔کس وجہ سے اللہ کے نبی نے کہا کہ یہ ابو جہل موسی کے فرعون سے بھی بڑا فرعون ہے۔ جب قتل ہونے لگا اس نے ایک پیغام دیا جاؤ جاکر محمد کو میرا پیغام دے دینا کہ جتنی تمہاری نفرت میرے دل میں پہلے تھی آج اس سے بھی زیادہ ہے۔
قوم موسیٰ کا فرعون:
اب دیکھو! فرعون جب عذاب میں آیا اس نے کیا کہا تھا، میں کلمہ پڑھتا ہوں میں ایمان لاتا ہوں، موسیٰ کے رب کو مانتا ہوں۔ قوم موسیٰ کا فرعون حالت نزع میں رب موسیٰ و ہارون کو مان رہا تھا۔ لیکن مانا اس وقت جب عذاب نظر آگیا جب حالت نزع ہو تو پھر بندہ کلمہ پڑھ بھی لے تو کلمہ قبول نہیں ہوتا۔ اللہ نے کہا:
﴿آٰلۡـٰٔنَ وَ قَدۡ عَصَیۡتَ قَبۡلُ وَ کُنۡتَ مِنَ الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿۹۱﴾﴾
یونس 10: 91
اب ایمان لاتا ہے اب تیرا کلمہ قابل قبول نہیں ہے تو موسی علیہ السلام کی امت کے فرعون نے مرتے وقت کلمہ پڑھا تھا اگر چہ قبول نہیں ہے لیکن امت محمدیہ کا فرعون ابو جہل مرتے وقت بھی کلمہ پڑھنے کےلیے تیار نہیں، یہ اس سے زیادہ سخت دل تھا اس لیے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاابو جہل میری امت کا فرعون ہے اور قوم موسیٰ کے فرعون سے بڑا فرعون ہے۔ یہ قتل ہو گیا۔
فتح کے بعد پیغمبر کی عادت مبارکہ:
جنگ کا نقشہ بدل گیا اللہ پاک نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو فتح نصیب فرمادی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک یہ تھی کہ جب کسی جنگ میں فتح ہوتی تو 3 دن کے لیے وہاں قیام فرماتے۔ یہ قیام جشن والا نہیں ہوتا تھا بلکہ یہ قیام شکرانے والا ہوتا تھا اور دشمن کو بتانا تھا کہ ہم فاتح قوم ہیں لڑنے کے بعد دوڑتے نہیں ہیں بڑے حلم اور تحمل کے ساتھ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پر تشریف رکھتے۔
قلیب بدر کیا ہے؟
کفار کے جو سردار تھے ان سب کی لاشوں کو جمع کیا اور قلیب بدر ایک کنواں تھا، اس کنویں میں لاشوں کو لاکر جمع کرنا شروع کر دیا۔ کنویں میں لاشیں ڈال دی گئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کفار اور مشرکین کی لاشوں پر کھڑے ہو کر فرمایا:
"فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا"
جو اللہ نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا فتح کا ہم نے سچ پایا۔
"فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا"
صحیح البخاری، رقم: 3976
اے کافرو اور مشرکو! تم بتاؤ جو تم سے جہنم کا وعدہ کیا تم نے جہنم کو دیکھ لیا خدا کا وعدہ پالیا ہے؟
ابن خطاب رضی اللہ عنہ کا اشکال:
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اشکال تھا۔ اشکال پیش کیا کہ یا رسول اللہ! اللہ نے قرآن میں فرمایا:
﴿اِنَّکَ لَا تُسۡمِعُ الۡمَوۡتٰی﴾
آپ مردوں کو سنا نہیں سکتے۔
النمل 27: 80
مماتیوں کا استدلال:
منکرین حیاۃ النبی مماتیت کا یہی استدلال ہے
﴿اِنَّکَ لَا تُسۡمِعُ الۡمَوۡتٰی﴾
یہ لوگ اسی آیت کو بار بار دہراتے رہتے ہیں۔ ایک مولوی صاحب تھے۔ انہوں نے ایک جگہ یہ تقریر کی اور تقریر میں یہ بات کی کہ ہم کہتے ہیں: قرآن کہتا ہے کہ مردے نہیں سنتے،
﴿اِنَّکَ لَا تُسۡمِعُ الۡمَوۡتٰی﴾
یہ ہماری دلیل ہے اور اس آیت سے ہم نے جو سمجھا کہ مردے نہیں سنتے، یہ صرف ہماری فہم نہیں بلکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اسی آیت سے یہی سمجھا کہ مردہ نہیں سنتا۔
جب نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا؟"
اے مشرکین کے سردارو! جو خدا نے تمہارے ساتھ جہنم کا وعدہ کیا تم نے پا لیا؟۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ اشکال تھا کہ یا رسول اللہ! قرآن کہتا ہے:
﴿اِنَّکَ لَا تُسۡمِعُ الۡمَوۡتٰی﴾
یہ نہیں سنتے، آپ ان کو سنا رہے ہیں۔ تو مولوی صاحب کہنے لگے: ہم کہتے ہیں مردہ نہیں سنتا، دلیل
﴿اِنَّکَ لَا تُسۡمِعُ الۡمَوۡتٰی﴾
ہے اور اس آیت سے ہم نے استدلال نہیں کیا بلکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی یہی استدلال کیا تھا۔
پوری بات یہ ہے:
میں نے کہا: تم آدھی بات کرتے ہو، پوری بات نہیں کرتے۔ پوری بات یہ ہے کہ جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا؟"
کہ خدا نے تم سے جو وعدہ کیا تھا کیا تم نے اسے سچا پا لیا؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ!قرآن کہتا ہے:
﴿اِنَّکَ لَا تُسۡمِعُ الۡمَوۡتٰی﴾
کہ یہ نہیں سنتے، آپ فرما رہے ہیں کہ یہ سنتے ہیں۔ہم کس کی بات مانیں؟
فرمایا: عمر!اس وقت جتنا یہ سنتے ہیں تم ان سے زیادہ نہیں سن سکتے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ خاموش ہوگئے۔انہوں نے ایک سوال کیا تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے۔
فاروقی مزاج” مان لینا“ ہے:
میں ان سے کہتا ہوں [منکرین حیات و سماع سے] کہ تم بھی خاموش ہو گئے؟ کہتے ہیں کہ جی وہ حضرت عمر تھے انہوں نے تو مان لیا تھا اس لیے خاموش ہو گئے تھے، ہم کیوں مانیں؟ اگر مان لیا تو پھر تو بات ہی ختم ہوگئی، ہم تو ماننے والے ہی نہیں،ہم کیوں مانیں؟
بھائی! جس پیغمبر پہ قرآن اترا ہے وہ بات کہہ رہے ہیں تو ٹھیک ہے لیکن یہ لوگ کہتے ہیں نہیں ہم کیوں مانیں؟ قرآن تو یہ کہتا ہے، تو اس کا معنی یہ ہے کہ قرآن آپ سمجھے ہیں، جس نبی پر قرآن اترا ہے وہ نبی اس کا معنی نہیں سمجھا۔ (العیاذ باللہ )
مشرکین میدان بدر کے کنویں میں:
جامعہ اشرفیہ لاہور کے شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمہ اللہ اپنی کتاب ”سیرۃ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم“ میں فرماتے ہیں:
جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مشرکین کو خطاب کیا جو قلیب کے بدرکے کنویں میں گرے پَڑے تھے۔ حضر ت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ جو دربار نبوت کے شاعر ہیں، جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ئی بات فرماتے تو حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ شعر میں اس کی تعبیر کرتے تھے۔ حضرت حسان رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اورفرمانے لگے:
يُنَادِيْهِمْ

رَسُوْلُ اللهِ لَمَّا

قَذَفْنَاهُمْ

كَبَاكِبَ فِي الْقَلِيْبٖ

جب ہم نے ان کفار کی جماعتوں کو کنویں میں پھینکا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے خطاب فرمایا۔
أَلَمْ

تَجِدُوْا كَلَامِيْ كَانَ حَقًّا

وَأَمْرُ

اللهِ يَأْخُذُ بِالْقُلُوْبٖ

کیا تم نے میری بات کو حق نہیں پایا اور اللہ رب العزت بندوں کے دلوں کا مالک ہے۔
فَمَا

نَطَقُوْا وَلَوْ نَطَقُوْا لَقَالُوْا:

صَدَقْتَ

وَكُنْتَ ذَا رَأْيٍ مُصِيْبٖ

انہوں نے کوئی بھی جواب نہ دیا، ہاں اگر یہ جواب دیتے تو یہی بات کرتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا اور آپ کی رائے بالکل درست تھی۔
سیرۃ المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم: ج2 ص102، 103
سیدہ امی عائشہ سماع کی منکر نہیں:
حضرت کاندھلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ فی الجملہ میت بھی سنتی ہے۔ جمہور صحابہ وتابعین کا یہی مسلک ہے (اور یہ جو کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سماع کی منکر تھیں، یہ درست نہیں) ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سماع موتیٰ کی منکر نہیں۔
سیرۃ المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم: ج2 ص 103
اَن پڑھ خواتین بھی سمجھتی ہیں :
آج جمعہ کی نماز سے قبل تقریباً 11 یا ساڑھے گیارہ بجے کا واقعہ ہوگا میری گھر والی آئی اور کہا کہ ایک خاتون آئی ہے اور کہتی ہے ہماری مولانا صاحب سے رشتہ داری ہے، ہم نے ملنا ہے میں نے کہا کون ہے؟ کہنے لگیں ہمیں نہیں پتا خیر وہ آئی بوڑھی عورت تھی اس نے کہا: مولانا دعا فرمائیں۔ میں نے کہا: دعا تو کریں گے جو دعا آپ نے کروانی ہے وہ بتائیں۔ پھر مجھے کہنے لگیں اچھا مجھے یہ تو بتائیں کہ مردے قبر میں زندہ ہیں یا مردہ ہیں؟
میں نے کہا آپ کو اس کی کیا ضرورت پیش آئی؟ کہنے لگی: بعض لوگ کہتے ہیں کہ مردہ قبر میں زندہ ہوتا ہےاور بعض کہتے ہیں مرا ہوا ہوتا ہے، مجھے مولانا صاحب یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اگر یہ مرا ہوا ہے تو عذاب کس کو ہوتا ہے؟ ان پڑھ عورت ہے لیکن کہتی ہے کہ اگر اس میں حیات نہیں تو پھر عذاب کس کو ہوتا ہے؟ اس کوعذاب تو اس وقت ہوگا جب اس میں حیات تو ہو۔
ناقصات العقل سے بھی کم عقل ”مولوی“:
ایک بوڑھی عورت بھی سمجھتی ہے کہ جب آپ میت کے عذاب وثواب کےقائل ہیں تو عذاب بھی اس وقت ہوگا جب حیات ہو، جب حیات ہی نہیں ہے تو عذاب کس کو ہوگا؟ میں نے کہا اللہ جو سمجھ اس بوڑھی کو ملی ہے وہ سمجھ اس جوان کومل جائے۔ جواس ان پڑھ کو ملی ہے وہ اس علامہ صاحب کو مل جائے۔
تضادات کا مجموعہ:
اسلام آباد سے ایک کتاب چھپی ہے” آئیے عقیدہ سیکھئے“ اس میں مصنف نے سوال جواب کی صورت میں عقید ے لکھے ہیں۔ اس میں صفحہ نمبر 177لکھا ہے:
”س: کیا مردے سنتے ہیں؟
ج: مردے نہیں سنتے، وہ مردہ ہی کیا ہوا جو سنتا ہو۔“
آگے اسی صفحہ پر لکھا ہے:
”س: کیا مردہ دفن کرنے والوں کی جوتیوں کی آواز نہیں سنتا؟
ج: اللہ تعالیٰ اس کو وہ آواز سناتا ہے۔“
اسی صفحہ پر ایک سوال و جواب یہ بھی ہے:
”س: لوگ تو کہتے ہیں مردے سنتے ہیں؟
ج: تو پھرسن کر جواب کیوں نہیں دیتے حالانکہ مردے میں نہ سننے کی طاقت ہے نہ بولنے کی۔ اس کی یہ صلاحیت موت کے ساتھ ہی ختم ہو جاتی ہے۔“
جبکہ اسی کتاب کے صفحہ نمبر 203 پر ہے:
”س: کیا قبر والےکی چیخ و پکار انسان سنتا ہے؟
ج: مردے کی چیخ وپکار انسان اور جنوں کے علاوہ ہر چیز سنتی ہے۔“
اچھا! اب کیا یہ مردہ زندہ ہو گیا ہے؟
سوال: کیا مردہ بولتا ہے؟
جواب: وہ مردہ ہی کیا جو بول سکے۔
سوال: کیا کچھ بولتا بھی ہے؟
جواب: جب فرشتہ مارےتو چیخ لیتا ہے۔
متضاد باتوں کا مجموعہ:
میں کہتا ہوں: عقل سے کام لو یہ مردہ بول نہیں سکتا، چیخ سکتا ہے۔ سلام کرو تو نہیں سن سکتا، جوتیوں کی آواز سن لیتا ہے۔ یعنی عجیب تضاد ہے اس کتاب میں عقیدہ بھی ہے اور ساتھ میں تردید بھی ہے۔
واقعات برائے واقعات نہیں:
میں نے جنگ بدر کا کچھ خلاصہ آپ کے سامنے پیش کیا ہماری عادت ہے ہم صرف غزوات پیش نہیں کرتے، ان غزوات کے ضمن میں جو عقائداور نظریات ہوتے ہیں ان کو بھی پیش کرتے ہیں۔ان آیات میں اللہ رب العزت نے غزوہ بدر کا تذکرہ تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ اللہ نے بارش عطا فرمائی، فرشتے بھی بھیجے ہیں مدد کےلیے۔
مشرکین کو شیطانی تسلی:
جس وقت مشرک اور مسلمان آمنے سامنے آئے توشیطان نے مشرکین سے کہا:
﴿لَا غَالِبَ لَکُمُ الۡیَوۡمَ مِنَ النَّاسِ وَ اِنِّیۡ جَارٌ لَّکُمۡ﴾
کہ میں تمہارے ساتھ ہوں، میں تمہاری مدد بھی کروں گا،تم گھبراؤ مت مسلمان تمہارے اوپر غالب نہیں آسکتے۔
لیکن جب فرشتے اترے ہیں تو شیطان دوڑا، اس نے کہا:
﴿اِنِّیۡۤ اَرٰی مَا لَا تَرَوۡنَ ﴾
الانفال 8: 48
جومیں دیکھتا ہوں وہ تم نہیں دیکھتےاورمیں تمہارے ساتھ مل کر مسلمانوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔
قبیلہ بنو بکر کے حملے کا خوف:
اس کی وجہ کیا ہے؟ مفسرین نے لکھا ہے کہ جب مکہ والے میدان بدر میں آئے تو انہیں ایک چھوٹا سا خدشہ ہوا کہ یہاں بدر کی زمین کے قریب ایک قبیلہ ہے جس کا نام بنو بکر ہے، اس قبیلے کے ساتھ ہماری لڑائی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم مسلمانوں سے لڑنا شروع کر دیں اور پیچھے سے وہ قبیلہ ہم پر حملہ آور ہو جائے، انہوں نے پیچھے کچھ لوگ پہرے کے لیے کھڑے کر دیے تاکہ وہ قبیلہ ہم پر حملہ آور نہ ہو۔
شیطان ؛ سراقہ بن مالک کے روپ میں:
شیطان اس قبیلے کے مالک سراقہ بن مالک کی شکل میں آیا اور ساتھ کچھ شیاطین بھی لایا اور اس نے کہا: تم قبیلہ بنو بکر کی پرواہ نہ کرو میں تمہارے ساتھ ہوں اور آج کے دن تم پر کوئی حملہ آور نہیں آ سکتا، چونکہ یہ شیطان قبیلہ بنو بکر کے سردار کی شکل میں تھا تو مشرکین مکہ نے اس پر اعتماد کر لیا۔ ادھر سے جب جبرائیل امین علیہ السلام فرشتوں کی فوج لے کر آئے، اس نے فرشتوں کو دیکھا توسراقہ بن مالک دوڑا، ایک قریشی کے ہاتھ میں اس کا ہاتھ تھا، ہاتھ چھڑایا اور دوڑا، قریشی نے پوچھا: کہاں جاتے ہو؟ اس نے کہا:جو میں دیکھتا ہوں تم نہیں دیکھتے۔
شیطان میدان جنگ سے فرار:
یہ تو ابلیس تھا لیکن سراقہ کی شکل میں آیا تھا جب سامنے فرشتے دیکھے جو عذاب دینے کےلیے آئے تھے، ابلیس وہاں سے دوڑ گیا اور اس جگہ کو چھوڑ دیا۔
دوجہانوں کا دھوکے باز:
اب استدلال سمجھنا! اسی طرح قرآن کریم میں ہے:
﴿وَ قَالَ الشَّیۡطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الۡاَمۡرُ﴾
ابراہیم14: 22
جب قیامت کا دن ہوگا شیطان یہ کہے گا میں نے جو تم سے وعدہ کیا وہ جھوٹا تھا، خدا نے جو وعدہ کیا تھا وہ سچا تھا۔ میں تمہارے کام نہیں آسکتا۔ جب میدان بدر میں کفار ذلیل ہونے لگے شیطان تب بھی دوڑا ہے اور جب قیامت کے دن اس کے ماننے والوں کو عذاب ہوگا شیطان تب بھی دوڑے گا۔
قبر پر اذان کا مسئلہ:
اس سے ایک مسئلہ سمجھ آیا آج بہت سارے لوگ جب میت کو قبر میں دفن کرتے ہیں تو دفن کے بعد اذان دیتے ہیں ان سے پوچھو اذان کیوں دی ہے؟ کہتے ہیں جہاں اذان دیں وہاں سے شیطان دوڑ جاتا ہے۔ ہم نے اذان اس لیے دی تاکہ شیطان دوڑے۔ میں نے کہا تمہارے دوڑانے کی ضرورت نہیں جب عذاب کا فرشتہ آئے تو شیطان خود ہی دوڑ جاتا ہے، وہ جب منکر نکیر کو دیکھے گااس نے خود بخود بھاگنا ہے شیطان اتنا بیوقوف بھی نہیں ہے کہ اس سے گناہ کروائے اور جب مار کھانے کی باری آئے تو تمہارے ساتھ کھڑا ہو۔ وہ گناہ کرانے کےلیے آتا ہے اور جب گناہ ہو جاتا ہے تو بھا گ جاتا ہے۔
خدائی عذاب سے بچو!
﴿وَ اتَّقُوۡا فِتۡنَۃً لَّا تُصِیۡبَنَّ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡکُمۡ خَآصَّۃً ۚ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿۲۵﴾﴾
اس میں مسئلہ بیان فرمایا کہ فتنے اور عذاب سے بچو یہ صرف ظالم لوگوں پر نہیں آتا، جب خدا کا عذاب آجائے یہ عوام اور خواص دونوں پر آتا ہے۔ بعض لوگوں کو الجھن ہوتی ہے کہ جب گناہ ایک نے کیا ہے تو عذاب دوسرے پر کیوں ہے؟
قصہ بنی اسرائیل کے عبادت گزار کا:
ایک روایت سنیں بنی اسرائیل میں ایک عابد تھا اللہ نے جب عذاب کے فرشتے کو بھیجا فرشتہ گیا تو واپس آیا اس نے کہا یا اللہ اس بستی میں وہ بندہ بھی ہے جس نے آنکھ جھپکنے کے برابر بھی گناہ نہیں کیا اللہ نے فرمایا پہلے اس کو برباد کرو پھر بستی کو تباہ کرو۔ کیوں؟اللہ نے جواب دیا فرشتے کو کہ یہ خود گناہ تو نہیں کرتا لیکن دوسرے گناہ کریں تو اس کی پیشانی پر بل نہیں آتا۔ پتا یہ چلا کہ صرف گناہوں سے بچنا ضروری نہیں ہے بلکہ گناہ کرنے والے سے دوری اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔
مجلس گناہ سے بھی بچیں!
بعض لوگ کہتے ہیں میں گناہ میں شریک نہیں تھا، بھائی آپ نے گناہ تو نہیں کیا لیکن آپ کو گناہ کے مقامات پر بھی نہیں جانا چاہیے۔بعض لوگ گناہ کے مقام پر چلےجاتے ہیں لیکن وہاں خود گناہ نہیں کرتے وہ مطمئن رہتے ہیں، بھائی ہم نے تو گناہ نہیں کیالیکن صرف گناہ نہ کرنا کافی نہیں ہےبلکہ گناہ والوں کو گناہ سے روکنا بھی ضروری ہے اور اگر ان کو روک نہ سکیں تو اس جگہ سے پھر واپس آنا ضروری ہے۔
بنو قریظہ کے یہودی صلح پر مجبور:
﴿ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَخُوۡنُوا اللہَ وَ الرَّسُوۡلَ وَ تَخُوۡنُوۡۤا اَمٰنٰتِکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۷﴾﴾
اس آیت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوقریظہ یہودی قبیلہ کا محاصرہ کیا 17 دن تک محاصرہ رہایہودی تنگ آگئے انہوں نے کہا ہم صلح کرتے ہیں آپ بتائیں کس شرط پر صلح کرنی ہے؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت سعد کو میں بھیج رہا ہوں جس شرط پر وہ صلح کریں گے وہ ہماری طرف سے صلح ہوگی۔
وہ سمجھتے تھے حضرت سعد یہود کا بڑا مخالف ہے آپ ایسا نہ کریں حضرت ابو لبابہ کو بھیج دیں اس کے ساتھ ہم شرائط صلح طے کرلیتے ہیں۔ اس کی وجہ کیا تھی؟ ابو لبابہ کی زمین ابو لبابہ کے بال بچے ان کے علاقے میں تھے ہو سکتا ہے وہ کچھ گنجائش نکالیں گے۔
حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابو لبابہ تم جاؤ اور ان سے شرائط طے کرو جب وہاں گئے تو یہودیوں کے بچے، یہودیوں کی عورتیں اور مرد جمع ہو کر آ گئے اور رونے لگے انہوں نے کہا ابولبابہ! تم جانتے ہو کہ ہمارے ساتھ کیا ہوگا؟ تم بتاؤ اگر ہم نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان لیں جو فیصلہ سعد کرے ہمیں مان لینا چاہیے تمہارا کیا خیال ہے؟ سعد کیا فیصلہ کریں گے؟ تمہارا کیا خیا ل ہے؟ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے کیا ہے؟
حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ صحابی تھے لیکن اولاد بھی تھی بیوی بھی تھی اور ان کی زمین بھی ان کے علاقے میں تھی کچھ نہ کچھ نرم پڑگئے اور متاثر ہوگئے اور ان کو اپنی گردن کی طرف اشارہ کر کے بتا دیا کہ اگر تم نے فیصلہ مان لیا تو تمہیں قتل کردیا جائے گا۔ اس کا معنیٰ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رازدان تھا اور اس نے راز فاش کر دیا ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز فاش نہیں کرنا چاہیے تھا بلکہ یہ کہنا چاہیے تھا کہ جو حضور کا فیصلہ آیا تمہیں ماننا پڑے گا، ہم حضور سے بات کرتے ہیں جب اس کا نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو پتا چلا کہ ہم نے جو حضرت سعد کو بھیجنا تھا کیوں نہیں بھیجا، ہماری بات سن کر ابولبابہ نے ان کو اطلاع کردی کہ ہم ان کو قتل کردیں گے۔ حضرت ابولبابہ نے خود آکر عرض کیا حضور میں نے جرم کیا اور بہت بڑا جرم کیا ہے کہ آپ کی رائے قبل ازوقت نہیں بتانی چاہیے تھی، لیکن صحابی تھے لغزش ہوگئی۔
صحابی اور نبی میں فرق:
صحابی اور نبی میں کیا فرق ہے؟نبی سے خدا گناہ ہونے نہیں دیتا، صحابی سے گناہ ہوجاتاہےلیکن اللہ اس کے نامہ اعمال میں رہنے نہیں دیتا۔حضرت ابو لبابہ سے گناہ ہوا لیکن مدینہ منورہ مسجد نبوی میں آئے اور مسجد نبوی میں ستونوں کے ساتھ خود کوباندھ لیا اور فرمانے لگے جب تک اللہ مجھے معاف نہیں کریں گے اس وقت تک میں خود کو چھوڑنے کےلیے تیار نہیں ہوں۔ گھر والوں سے کہہ دیا اپنی بیوی اور بیٹی کوجب کوئی ضرورت ہوتی بیٹی آتی ان کو بول دیتے جب ان کو قضائے حاجت کی ضرورت پیش آتی تو کھول دیتے اب کھانا بھی چھوڑ دیا، پینا بھی چھوڑ دیا۔ جب حضور کو اطلاع ہوئی تو اللہ کے نبی فرمانے لگے اس نے خود کو سزا دی ہے اور ہمارے پاس نہ آئے اگر ہمارے پاس آتے تو کچھ نہ کچھ ہوتا اب میرے اختیار میں یہ بات نہیں اس نے خود کو اللہ کے حوالے کیا اب اللہ کا اور ان کا معاملہ ہے۔ جب تک اللہ کوئی فیصلہ نہ فرمائیں میں کچھ نہیں کرسکتا۔ جب سات دن گذرے تو اللہ نے قرآن اتارا اور ان کی توبہ کا اعلان ہوا صحابہ کرام نے ان کو مبارک دی کہ مبارک ہو اللہ نے آپ کی معافی کا اعلان کردیا۔
دینی تقاضوں کو مقدم رکھو:
صحابہ نے کہا تمہیں مبارک ہو اللہ کے نبی نے مغفرت کا وعدہ کیا اور آیت اتر آئی، ابو لبابہ فرمانے لگے: اتنے دن مشقت میں گزارے ہیں اب مجھے کوئی نہ کھولے اگر میں کھلوں گا تو نبوت کے ہاتھ نہیں اٹھیں گئے۔ اب مجھے کوئی نہ کھولے اب وہ خود ہی کھولیں گے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد تشریف لائے ابو لبابہ کی رسی کو کھولا اور ان کو آزاد فرما دیا، اللہ فرماتے ہیں:
﴿وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَاۤ اَمۡوَالُکُمۡ وَ اَوۡلَادُکُمۡ فِتۡنَۃٌ ۙ وَّ اَنَّ اللہَ عِنۡدَہٗۤ اَجۡرٌ عَظِیۡمٌ ﴿٪۲۸﴾﴾
ہم سمجھتے ہیں کہ اموال اور انسان کی اولاد یہ آزمائش کا ذریعہ ہے اپنے مال اور اولاد کی وجہ سے دین کو پس پشت تم کبھی نہ ڈالا کرو دین کے تقاضے کو مقدم رکھو اور باقی سارے تقاضے موخر رکھو۔
مشرکین مکہ کے گھناؤنے جرائم:
﴿وَ اِذۡ قَالُوا اللّٰہُمَّ اِنۡ کَانَ ہٰذَا ہُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِکَ فَاَمۡطِرۡ عَلَیۡنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿۳۲﴾ وَ مَا کَانَ اللہُ لِیُعَذِّبَہُمۡ وَ اَنۡتَ فِیۡہِمۡ ؕ وَ مَا کَانَ اللہُ مُعَذِّبَہُمۡ وَ ہُمۡ یَسۡتَغۡفِرُوۡنَ ﴿۳۳﴾﴾
اس آیت کا خلاصہ سمجھیں! مشرکین مکہ اور ان کے جرائم اتنے گھناؤنے ہیں اللہ معاف فرمائے شیطان کو بھی شرم آئے اور ان کے دعوے کتنے عجیب ہیں کہ مشرکین مکہ کا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مقابلہ ہے۔ مقابلہ کس بات کا؟ کہتے ہیں کہ جو قرآن تو ہمارے پاس لایا ہے اس جیسا قرآن لانا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں،
﴿لَوۡ نَشَآءُ لَقُلۡنَا مِثۡلَ ہٰذَاۤ ﴾
ہم بھی تو لا سکتے ہیں۔ قرآن نے کہا: تو پھر لاؤ ،تم لاتے کیوں نہیں ہو؟ جب اس جیسا قرآن نہ لاسکے تو مشرکین مکہ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے ہیں، دعا بڑی سخت ہے۔ کہنے لگے: اے اللہ اگر یہ دین سچا ہے جو محمد لے کر آیا ہے تو
﴿فَاَمۡطِرۡ عَلَیۡنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَآءِ﴾
اللہ! ہم پر پتھر برسا ہمیں برباد کردے،
﴿اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ﴾
کوئی ہمیں درد ناک عذاب دے، اللہ ہمیں تو ختم کردے۔ اتنی سخت دعا مانگ رہے ہیں اور اللہ انہیں کیا جواب دیتے ہیں؟ فرمایا کہ میرے پیغمبر! جو انہوں نے دعائیں مانگی ہیں ان کا تقاضا تو یہی تھا کہ ان کو ختم کر دیا جاتا اور ان کو ختم کیوں نہ کرتے وہ مسجد حرام سے روکتے ہیں، تمہیں تنگ کرتے ہیں۔
اجتماعی عذاب نہ دینے کی دو وجوہات:
اصل بات تو یہ ہے کہ ان کو مٹادیا جائے لیکن ان کو نہ مٹانے کی دو وجوہات ہیں یہ بڑی اہم بات سننے کی ہے فرمانے لگے:
﴿وَ مَا کَانَ اللہُ لِیُعَذِّبَہُمۡ وَ اَنۡتَ فِیۡہِمۡ﴾
اے میرے پیغمبر! جب تک آپ ان میں موجود ہیں اللہ ان کو عذاب نہیں دے گا،
﴿وَ مَا کَانَ اللہُ مُعَذِّبَہُمۡ وَ ہُمۡ یَسۡتَغۡفِرُوۡنَ ﴿۳۳﴾﴾
اور جب تک یہ استغفار کرتے ہیں خدا تب بھی ان کو عذاب نہیں دیتا۔
مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت تفسیر معارف القرآن میں بڑی عجیب بات لکھتے ہیں: اللہ نے ان کوفرمایا کہ میرے پیغمبر جب تک آپ ان میں موجود ہیں میں ان کو عذاب نہیں دوں گا اور جب تک یہ استغفار کریں گے ہم تب بھی ان کو عذاب نہیں دیں گے۔
سابقہ امتوں پر عذاب:
استغفار والی بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہ گناہ بھی کرتے "غُفْرَانَکَ" بھی کہتے گناہ بھی کرتے استغفراللہ بھی کہتے ہیں، گناہ بھی کرتے ساتھ نیکیاں بھی کرتے اس سے عذاب سے بچنے کی بات تو سمجھ میں آتی ہے۔ تو جب تک اللہ کے نبی مکہ میں تھے ان پر عذاب نہیں آیا، جب نبی نے مکہ چھوڑ دیا اب تو عذاب آجانا چاہیے تھا حضرت لوط علیہ السلام کی قوم نے ان کو ستایا اور بہت بڑے جرم کیے لیکن جب تک لوط علیہ السلام بستی میں تھے عذاب نہیں آیا جب بستی چھوڑ دی پھر عذاب آیا ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے شرک کیا نبی کی بات کو نہیں مانا جب تک نوح علیہ السلام تھے عذاب نہیں آیا لیکن جب کشتی بنائی اور وہاں سے چلے گئے تو قوم پہ عذاب آیا۔ حضرت شعیب علیہ السلام بستی میں ہیں عذاب نہیں آیا جب بستی چھوڑ دی، عذاب آیا ہے۔
ہمارے نبی کی نبوت کا وسیع دائرہ:
یہ بات اچھی طرح سمجھنا! اللہ فرماتے ہیں:
﴿وَ مَا کَانَ اللہُ لِیُعَذِّبَہُمۡ وَ اَنۡتَ فِیۡہِمۡ ؕ﴾
اے میرے پیغمبر! جب تک آپ ان میں موجود ہیں اللہ ان کو عذاب دے کر ہلاک نہیں کرے گا تو جب حضور مکہ چھوڑ کر مدینہ میں آئے اب تو ان پر عذاب آ جانا چاہیے تھا۔
حضرت مفتی شفیع رحمۃ اللہ علیہ عجیب بات فرماتے ہیں: ہمارے نبی اور ان نبیوں میں بہت بڑا فرق ہے کہ وہ نبی بستی چھوڑتا تو بستی والوں پر عذاب آجاتا کیونکہ وہ نبی اس بستی کا نبی تھا نبی نے بستی چھوڑ دی دائرہ نبوت سے چلے گئے جو نبوت کادائرہ ہے وہ بستی ہے اس سے باہر چلے گئے توان پر عذاب آگیا۔ لیکن میرے پیغمبر کا دائرہ نبوت صرف مکہ ہی تو نہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دائرہ نبوت صرف مدینہ ہی تونہیں۔
ادھر نبی لوط علیہ السلام نے بستی کو چھوڑا دوسری بستی میں چلے گئے اب یہ ان پر عذاب کیوں آیا نبی جس بستی کا نبی تھا نبی جس جگہ کا نبی تھا وہ بستی چھوڑ دی تو بستی والوں پر عذاب آیاہے۔ اس امت پر عذاب تو تب آئے گا جب وہ نبی وہ جگہ چھوڑ دے جس جگہ کا وہ نبی ہے۔ یہ تو قیامت تک کرہ ارض کا نبی ہے اس امت پر قیامت تک اجتماعی عذاب آہی نہیں سکتا۔ عذاب تو تب آئے کہ جب آدمی نبوت والی جگہ سے نکل جائے تو پھر عذاب آئے گا۔
چونکہ ہمارے نبی زندہ ہیں اس لیے ……:
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دائرہ نبوت صرف مکہ تو نہیں صرف مدینہ تو نہیں ہے پھر مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں: کہ دو باتیں یاد رکھیں:
1: ہمارے نبی زندہ ہیں
2: قیامت تک زندہ ہیں
فرمایا کہ عذاب تو تب آئے جب نبی اپنی جگہ کو چھوڑ دے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم زندہ بھی ہیں اور قیامت تک زندہ ہیں۔ نبوت قیامت تک کے لیے ہے اور پورے کرہ ارض کے لیے ہے اس لیے امت جتنا بھی بڑا گناہ کرے جب تک نبی موجود ہے امت پر اجتماعی عذاب آ ہی نہیں سکتا۔
باقی انبیاء بستی چھوڑتےتو بستی پر عذاب آجاتا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پورے کرہ ارض کے نبی ہیں اور قیامت تک کے لیے نبی ہیں تو جب تک نبی کرہ ارض پہ ہے اور قیامت تک کے لیے ہے اس وقت تک نبی کی امت پر عذاب آسکتا ہی نہیں۔ کیوں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم زندہ بھی ہیں اور قیامت تک کے لیے زندہ ہیں اب کیسے عذاب آئے گا اس امت پر؟
لوگوں کو پھر بھی شک ہوتا ہے کہ نبی زندہ ہیں یا نہیں؟ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم زندہ نہیں ہیں اور اپنی جگہ سے چلے گئے ہیں تو بتاؤاس امت پر عذاب آجانا چاہیے تھا یا نہیں؟
پیغمبر کے مبارک وجود کی برکت:
یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کی برکت ہے کہ اس امت پر عذاب نہیں آرہااور کس قدر وہ شخص ظالم ہے جو اس وجود اطہر کو زندہ بھی نہیں مانتا۔ لوگ ہمیں سمجھاتے ہیں مولوی صاحب فروعی مسئلہ ہے۔ میں نے کہا مسئلہ فروعی ہے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تو اصولی ہے اگر وہ پیغمبر فروع ہے تو اصول ہوگا کیا؟ اگر نبی اصل نہیں تو پھر بتائیں اصل ہوگا کیا؟ سارے ایمان کا دارومدار نبی کی ذات پر ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق کم ہو جائے گا تو آدمی کے سارے رشتے ٹوٹ جاتے ہیں کوشش کرنی چاہیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس امت کا رشتہ ذرہ برابر بھی کم نہ ہونے پائے۔
دشمنان اسلام سے مقابلے کی تیاری کرو:
﴿وَ اَعِدُّوۡا لَہُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّۃٍ وَّ مِنۡ رِّبَاطِ الۡخَیۡلِ تُرۡہِبُوۡنَ بِہٖ عَدُوَّ اللہِ وَ عَدُوَّکُمۡ وَ اٰخَرِیۡنَ مِنۡ دُوۡنِہِمۡ ۚ﴾
اللہ فرماتے ہیں کہ دشمن کے مقابلہ میں تمہیں طاقت بنانی چاہیے اور طاقت کتنی؟
﴿مَّا اسۡتَطَعۡتُم﴾
جتنی تم طاقت رکھ سکتے ہو اتنی طاقت اختیار کرو۔ اگر دشمن کافر کے مقابلہ میں ہم ایٹم بم بناسکتے ہیں اور نہیں بناتے تو گناہ ہے اگر ہم اس کے مقابلہ میں اسلحہ اختیار کرسکتے ہیں اور نہیں اختیار کرتے تو گناہ ہے۔ درجہ اسباب میں قرآن کا حکم ہے اتنی تیاری کرو، ﴿تُرۡہِبُوۡنَ بِہٖ عَدُوَّ اللہِ وَ عَدُوَّکُمۡ ﴾ جس سے تمہارا دشمن بھی ڈرے اور خدا کا دشمن بھی ڈرے اس لیے مسلمانوں پر جہاد کی تیاری کرنا فرض کے درجے میں داخل ہے۔
توکل کا صحیح مفہوم:
کبھی ان کو ہم پر بھی تعجب ہوتا ہے کہ کیسے مولوی ہیں ان کا تو خدا پر اعتماد نہیں ہے۔ میں وہ بات کہتا ہوں جو لوگ ہمیں کہتے ہیں۔ میں نے کہا اچھا یہ بتاؤ کہ اللہ کے نبی کو اللہ پر اعتماد تھا یا نہیں تھا؟ کہتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تو تھا۔ میں نے پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پہرے دار کیوں رکھے ہوئے تھے؟
آپ اللہ کو رازق مانتے ہیں یا نہیں؟ بتاؤ (مانتے ہیں ) رزق اللہ دے گا یا نہیں دے گا؟(دے گا)تو پھر آپ دوکان کیوں کھولتے ہیں؟ کیا اللہ دوکان کا محتاج ہے؟ پھر کیوں دوکان کھولتے ہو؟ آپ کہتے ہیں خدا کا حکم ہے کہ دوکان کھولیں اللہ رزق دے گا تو پھر ہمیں بھی حکم ہے اسلحہ تم رکھو جان میں بچاؤں گا۔
پیر عزیز الرحمن ہزاروی کی نصیحت:
مولانا پیر عزیز الرحمٰن ہزاروی دامت برکاتہم ایک مرتبہ مجھےفرمانے لگے کہ مولانا اپنی جان کی حفاظت کرو۔ اگر تم قتل ہوگئے تو پھر آپ تو خوش ہوگئے کہ میں شہید ہوگیا ہوں ہمیں ڈر ہے کہ آپ کی پکڑ نہ ہو۔ میں نے کہا: جی وہ کیوں؟ فرمانے لگے کہ تمہارا جسم اب تمہارا نہیں ہے۔ تمہارا جسم قوم کی امانت ہے اور اس کی حفاظت تمہارے ذمہ ہے۔ یہ تمہارا وجودقوم کی امانت ہے پوری دنیا کو تمہارے وجود سے فائدہ پہنچتا ہے اس جسم کی حفاظت تمہارے ذمہ ہےاگر حفاظت نہ کی تو میں ڈر رہا ہوں کہ کہیں خدا تمہاری پکڑ نہ کرلے تو نے اس کو بچایا کیوں نہیں؟
عالم دین کی جان بہت قیمتی ہے:
دوکان میں دو کلوسونا ہے چوکیدار رکھتے ہیں ہمارے جسم کی دو کلو سونا کی قیمت بھی آپ کے ہاں نہیں ہے؟ جوتے کی دکان ہے اور پہرے دار رکھا ہوا ہے اور ایک عالم کی قیمت جوتوں کے برابر بھی نہیں ہے؟ یعنی جوتے کی حفاظت کرنی ہے، گندم کی حفاظت کرنی ہے، دو تولے چاندی کی حفاظت کرنی ہے اور عالم اپنے وجود کی حفاظت کرے تو لوگ کہتے ہیں کیسا مولوی ہے؟ اسے اللہ پر اعتماد ہی نہیں۔
علمائے کرام کی عزت:
اسلام زندہ باد کانفرنس تھی ہم نے بھی شرکت کی ہے اور بھر پور طریقے سے کی ہے ہم پر بعض لوگوں کو اشکال بھی تھا ہمیں ان کے اشکال کی پرواہ بھی نہیں اشکال کرتے ہیں تو ہزار مرتبہ کریں۔ ہمیں بہت سارےاحباب نے کہا: کیوں جاتے ہو؟ ادھر مقابلے میں مختلف جماعتوں نے جلسے کیے۔ہمارے علماء کی عزت کا مسئلہ تھا دنیا دیکھے گی کہ مولوی کیا کرتے ہیں؟ ہم دین کی عزت کی خاطر وہاں پرگئے ہیں تاکہ دنیا کو پتا چلے اگر وہاں اورلوگ آ سکتے ہیں تو مسلمان اور نبی کے وارث بھی آسکتے ہیں۔
جمعیت علماء اسلام کا بھر پور ساتھ دیں:
ایک ساتھی مجھے فرمانے لگے: مولانا صاحب جلسہ ہوا تھا؟ میں نے کہا: جی ہاں۔بولےکیا ضرورت تھی جانے کی؟ میں نے کہا: ضرورت تو تھی۔ بولے: اللہ پاک پر اعتماد نہیں؟ میں نے کہا: اسمبلی میں کس نے آنا ہے؟ اللہ پاک تو خود نہیں آئیں گے، بندے ہی آئیں گئے۔ اگر بولنے والے ہوں گے تو قانون کی حفاظت ہوگی، اگر بولنے والے نہیں ہوں گے تو قانون توڑا جائے گا۔ہمیں اس بات کا خیال کرنا چاہیے۔ اللہ گواہ ہے پانچ سالہ دور اسمبلی میں مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی محنت سے کوئی ایک دن بھی اسلام کے خلاف قانون نہیں بناسکا۔ یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہے! پورے پانچ سالہ دور اسمبلی میں ایک بل بھی خلاف اسلام نہیں چلا سکے۔
کارگزاری سنانی چاہیے:
میں نےمولانا فضل الرحمٰن صاحب اور جمعیت کے قائدین سے بھی کہا: آپ کی ایک بہت بڑی کمزوری یہ ہے کہ آپ اسمبلی کی کارگزاری باہر بتاتےنہیں ہیں، آپ بتائیں کہ میں نے اسمبلی میں یہ کہا، یہ کہا، لوگوں کے علم میں نہیں ہے۔ سارے اپنی کارگزاریاں سناتے ہیں۔ ایک چلہ کی جماعت جائے واپس رائیونڈ جائے تو کارگزاری سناتی ہے یانہیں؟ (سناتی ہے ) سال کی جماعت ہوتو پھر؟ (سناتی ہے) سہ روزہ کی جماعت ہو تو پھر؟ (سناتی ہے) اچھا اگر میں کار گزاریاں سنادوں دیکھو مولوی اپنیاں تعریفاں کردا پھر دا اے کہ میں فلانا کم کیتا اے فلانا کم کیتا اے۔ میں نے کہا تم سہ روزہ بھی لگا کےآؤ تو کارگزاری سناتے ہو میں اپنے سفر کے تذکرے کردوں تو ائے دسن دی کی لوڑ سی دبئی گیاں؟ میں نے کہا میں آپ کو کار گزاری سناؤں گا تو تمہیں تو خوش ہونا چاہیے کہ ہمارے مولانا تو ماشاءاللہ بڑا کام کررہے ہیں بھائی کارگزاری سنانی چاہیے یا نہیں؟ (سنانی چاہیے)اللہ ہمیں بات سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ․