سورۃ النمل

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
سورۃ النمل
بِسۡمِ اللہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
﴿طٰسٓ ۟ تِلۡکَ اٰیٰتُ الۡقُرۡاٰنِ وَ کِتَابٍ مُّبِیۡنٍ ۙ﴿۱﴾ہُدًی وَّ بُشۡرٰی لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الَّذِیۡنَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ ہُمۡ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ یُوۡقِنُوۡنَ ﴿۳﴾﴾
حروفِ مقطعات:
﴿طٰسٓ ۟﴾
اس پر کل بات ہوئی تھی کہ یہ
”طٰسٓ“
اور اس جیسے کلمات یہ حروف مقطعات میں سے ہیں اور
متشابہات
میں سے ہیں جن کا معنی اللہ رب العزت کی ذات کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔
تذکرہ حضرت موسیٰ علیہ السلام:
﴿اِذۡ قَالَ مُوۡسٰی لِاَہۡلِہٖۤ اِنِّیۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا ؕ سَاٰتِیۡکُمۡ مِّنۡہَا بِخَبَرٍ اَوۡ اٰتِیۡکُمۡ بِشِہَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّکُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴿۷﴾﴾
ان آیات میں حضرت موسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ و السلام کا تذکر ہ فرمایا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام مصر سے مدین تشریف لے گئے اور شعیب علیہ السلام کی بیٹی سے آپ کا نکاح ہوا۔ ان کے ساتھ آپ واپس تشریف لارہے تھے تو راستے میں بعض روایات میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی گھر والی امید سے تھیں۔ چونکہ سردی تھی اس لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو آگ کی ضرورت محسوس ہوئی۔ قریب میں آگ نہیں تھی۔ انہوں نے دیکھا تو دور کوہ طور پر انہیں آگ جلتی ہوئی محسوس ہوئی تو گھر والوں سے کہا
﴿اِنِّیۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا﴾
مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ وہاں آگ ہے، میں وہاں جاتا ہوں اور آگ لے کر آتا ہوں یا ممکن ہے کہ وہاں کوئی بندہ مل جائے جس سے راستے کا پتا چل جائے گا۔ موسیٰ علیہ السلام وہاں تشریف لے گئے تو
﴿نُوۡدِیَ اَنۡۢ بُوۡرِکَ مَنۡ فِی النَّارِ وَ مَنۡ حَوۡلَہَا﴾
وہاں آپ نے یہ آواز سنی کہ بابرکت ہے وہ جو آگ میں ہے اور بابرکت ہے وہ جو آگ کے قریب ہے۔
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی رائے یہ ہے کہ
﴿مَنۡ فِی النَّارِ﴾
سے مراد موسیٰ علیہ السلام کی ذات ہے۔ موسیٰ علیہ السلام ایسی جگہ پر تھے جہاں یہ محسوس کررہے تھے کہ میرے چاروں طرف آگ ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام بھی برکت والے ہیں اور ان کے آس پاس جو ملائکہ ہیں وہ بھی برکت والے ہیں۔
﴿وَ سُبۡحٰنَ اللہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ﴾
اللہ رب العزت جہات سے پاک ہیں، یہ جو خاص جہت میں آپ نے آگ دیکھی ہے یہ خدا نہیں ہے، اللہ جہات سے پاک ہیں۔
درخت سے آواز آئی:
﴿یٰمُوۡسٰۤی اِنَّہٗۤ اَنَا اللہُ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ۙ﴿۹﴾﴾
یہاں سے آواز آئی کہ اے موسیٰ! میں اللہ ہوں، غالب ہوں اور حکمت والا ہوں، اور قرآن کریم کی بعض آیات میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کو آواز اس درخت میں سے آئی تھی
﴿اِنَّنِیۡۤ اَنَا اللہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدۡنِیۡ﴾
باتیں دونوں ٹھیک ہیں یعنی وہ درخت تھا اور یوں محسوس ہو رہا تھا کہ اس درخت کو آگ لگی ہوئی ہے اور اس میں سے آواز آئی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آواز سنی۔ یہ اللہ رب العزت کی آواز تھی جو بالکل بے کیف تھی اور ان کو بتایا گیا کہ یہ آواز اللہ رب العزت کی ہے۔ اب اس درخت سے آواز کا آنا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہ درخت بولتاہے بلکہ اصل بات یہ تھی کہ اس درخت پر تجلی الہی پڑی اور درخت نے اللہ کی آواز کو آگے نقل کر دیا۔
اب یہاں منصور حلاج کا واقعہ سمجھیں کہ جو کہتے تھے
”اناالحق، اناالحق، اناالحق“۔
فقہاء نےان کے قتل کا فتویٰ دیا اور صوفیاء کہتے ہیں کہ وہ بالکل ٹھیک تھے۔ اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ فقیہ کا معاملہ مسائل کا ہے، وہ امت کو اشتباہ سے بچاتا ہے اورصوفیا ء کا معاملہ بالکل جداہے۔ صوفیاء کہتے ہیں کہ وہ جو
”اناالحق“
فرماتے تھے وہ اپنے بارے میں
”انا الحق“
نہیں کہہ رہے تھے بلکہ اللہ رب العزت کا
”اناالحق“
کہنا نقل فرما رہے تھے۔ تو یہ حکایت ہو رہی تھی اور یہ کفر نہیں ہوتا۔
اسی طرح بعض بزرگو ں کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے کہا
”سُبْحَانِیْ مَاأَعْظَمَ شَاْنِیْ“،
تو لوگوں نے کہا کہ یہ کافر ہے۔ جب ہم اللہ کے بارے میں کہیں تو ہم یوں کہیں گے:
” سُبْحَانَہُ مَاأَعْظَمَ شَاْنُہُ“
اور وہ بزرگ جو کہہ رہے تھے
”سُبْحَانِیْ مَاأَعْظَمَ شَاْنِیْ“
تو وہ اپنے بارے میں نہیں کہہ رہے تھے بلکہ اللہ کے کلام کو نقل فرما رہے تھے۔ تو اللہ رب العزت کی جو تجلیات ہیں اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو وہ تجلی منصور حلاج کی زبان پر ہو اور
”أَنَا الْحَقُّ“
کی آواز وہاں سے نکلے، اللہ چاہے تو وہ تجلیات کسی درخت پر پڑیں اور اس سے
﴿اِنَّنِیۡۤ اَنَا اللہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدۡنِیۡ﴾
کی آواز آئے، تو جس طرح وہ درخت سے نکلنے والی آواز درخت کی اپنی نہیں تھی اسی طرح منصورحلاج کی زبان سےنکلنے والی آواز ان کی اپنی نہیں ہے بلکہ وہ حکایت کو نقل فرما رہے ہیں۔
مسئلہ وحدۃ الوجود:
یہاں بعض حضرات نے مختصر طور پر وحدۃ الوجود کا مسئلہ بیان کیا ہے۔ مَیں اس مسئلہ پر مستقل ایک دن تخصص کی درسگاہ میں بات کروں گا کہ وحدت الوجود کیا ہے اور وحدت الشہود کیا ہے؟
وحدت الوجود کا معنی عام لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا میں جو چیز ہے وہ خدا ہی ہے اور صوفیاء کے بارے میں عام لوگوں کا ذہن یہ ہے کہ صوفیاء ہر چیز کو خدا سمجھتے ہیں حالانکہ معاملہ یہ نہیں ہے۔ وحدت الوجود کا معنی ہوتا ہے کہ حقیقی وجود اللہ تعالیٰ کا ہے اور باقی وجود کالعدم ہیں،گویا کہ فنا ہیں۔ایک تو دنیا میں اللہ کی ذات کے علاوہ کسی چیز کا وجود اپنا نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا عطاکردہ ہے۔ دوسرا یہ کہ اللہ کی ذات کے علاوہ دنیا میں کسی وجود کو بقاء حاصل نہیں ہے بلکہ تمام وجود فانی ہیں۔ تو ایسا وجود جو اَز خود ہو اور بغیر کسی کے پیدا کرنے کے ہو اور فانی بھی نہ ہو بلکہ باقی ہو تو وہ صرف اللہ کا وجود ہے، اسے وحدۃ الوجود کہتے ہیں۔
تو خدا کی ذات پر صوفیاء کی نظر اتنی ہوتی ہے کہ باقی اشیاء ان کی نظر میں کالعدم ہوتی ہیں، اس لیے وہ کہتے ہیں کہ دنیا میں صرف ایک ہی وجود ہے، باقی کوئی وجود نہیں ہے۔ اگر یہ بات دیکھیں تو غلط بھی نہیں ہے بالکل ٹھیک ہے۔ حقیقی وجود دنیا میں صرف ایک ہے، باقی وجود فنا کے درجےمیں ہیں، اللہ رب العزت کی ذاتِ گرامی کے مقابلے میں ان کی کوئی حقیقت ہی نہیں ہے۔ تویہ وحدت الوجود کا معنی ہے۔
اور وحدت الشہود کا معنی یہ ہوتاہے کہ دنیا میں ایک اللہ کا وجود ان کو نظر آتاہے اور خدا کی ذات پر اتنی گہری نظر ہوتی ہے کہ باقی چیزوں کے وجود انہیں نظر نہیں آتے۔ اس کی مثال ایسے سمجھیں جیسے سورج نکل آئے تو ستارے ختم نہیں ہوتے، ستارے موجود تو ہوتے ہیں لیکن سورج اتنی تیز روشنی کے ساتھ آتا ہے کہ ستارے ماند پڑ جاتے ہیں اور نظر نہیں آتے۔ تو جس طرح سورج کے ہوتے ہوئے ستارے ماند پڑ جاتے ہیں اور نظر نہیں آتے بالکل اسی طرح صوفیا ء کی اللہ کی ذات پر اتنی گہری نگاہ ہوتی ہے کہ باقی چیزوں کا وجود انہیں نظر نہیں آتا۔ تو اس میں بھی حر ج کی کوئی بات نہیں ہے۔
یہ بات سمجھیں کہ وحدۃ الوجود اور وحدۃ الشہود عقائد کا نہیں بلکہ تصوف کا مسئلہ ہے اور تصوف کے مسائل کو تصوف کی عبارات اور تصوف کی اصطلاحات سے سمجھنا چاہیے، یہ عقائد کی اصطلاحات سے سمجھ میں نہیں آ سکتے۔ باقی وحدۃ الوجود پر مستقل بات کرنے کی ضرورت ہے جس میں اس مسئلہ پر ہونے والے اشکالات کا رد ہو کیونکہ اس کی بنیاد پر بہت سارے لوگ آج کل اہلِ حق پر کفر کے فتوے لگا رہے ہیں کہ تم وحدۃ الوجود کے قائل ہو۔ تو اس مسئلہ کو مستقل سمجھنے کی ضرورت ہے۔
عطائے معجزہ کے وقت موسیٰ علیہ السلام کو تسلی:
﴿وَ اَلۡقِ عَصَاکَ ؕ فَلَمَّا رَاٰہَا تَہۡتَزُّ کَاَنَّہَا جَآنٌّ وَّلّٰی مُدۡبِرًا وَّ لَمۡ یُعَقِّبۡ ؕ یٰمُوۡسٰی لَا تَخَفۡ ۟ اِنِّیۡ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴿٭ۖ۱۰﴾﴾
موسیٰ علیہ السلام کو اللہ رب العزت نے فرمایا کہ اپنی لاٹھی پھینکو! آپ نے پھینکی تو وہ اژدھا بن گیا۔ موسیٰ علیہ السلام اس اژدھے سے خوف محسوس کرنے لگے تو اللہ تعالی نے فرمایا کہ ڈرنے کی بات نہیں ہے! ایسے مقامات پر پیغمبر ڈرتے نہیں ہیں، ڈرتا تو وہ ہے جس نے ظلم کیا ہو - یہ استثناء منقطع ہے- اور وہ بھی اگر توبہ کر لے تو اسے بھی ڈرنے کی ضرورت نہیں ہوتی اور آپ سے تو کوئی گناہ بھی نہیں ہوا۔
یہ بات کہہ کر موسیٰ علیہ السلام کی ایک الجھن کو دور کیاہے کہ جو آپ نے قبطی کو قتل کیا تھا وہ قتل کرنا گناہ تو نہیں تھا لیکن موسیٰ علیہ السلام اپنے اوپر بوجھ محسوس کر رہے تھے کہ میرے ہاتھ سے ایک بندہ قتل ہو گیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿مَنۡ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسۡنًۢا بَعۡدَ سُوۡٓءٍ فَاِنِّیۡ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ﴾
اگر کوئی بندہ واقعتاً ظلم کر لے، پھر توبہ کر لے تو ہم اس کوبھی معاف کر دیتے ہیں اور آپ نے تو کوئی ظلم نہیں کیا، آپ کاکوئی گناہ بھی نہیں تھا پھر بھی آپ اس الجھن میں ہیں، آپ اس الجھن کو چھوڑیں اور کھل کر دین کا کام کریں۔ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ بات سمجھائی جا رہی ہے۔
یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے شاگرد کسی علاقے میں کام کرے اور وہ بعض الجھنیں اپنے استاد کو بتاتا ہے کہ استادجی! جب میں پڑھتا تھا تو مجھ سے یہ غلطی ہوئی تھی۔ استاد کہتاہے کہ یہ تو غلطی تھی ہی نہیں، ہم نے تو اس کا اختیار دیا ہوا تھا،تم اس الجھن کو چھوڑواور بس کام کرو! تو استاد کی طرف سے تسلی دی جا رہی ہوتی ہے۔ تو اللہ رب العزت نے موسیٰ علیہ السلام کی الجھن کو دور کر کے تسلی عطا فرمائی۔ اس موقع پر
﴿مَنۡ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسۡنًۢا بَعۡدَ سُوۡٓءٍ﴾
کا معنی اس کے علاوہ کوئی اور نہیں ہے۔
نو نشانیوں کا بیان:
﴿وَ اَدۡخِلۡ یَدَکَ فِیۡ جَیۡبِکَ تَخۡرُجۡ بَیۡضَآءَ مِنۡ غَیۡرِ سُوۡٓءٍ ۟ فِیۡ تِسۡعِ اٰیٰتٍ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ وَ قَوۡمِہٖ ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِیۡنَ ﴿۱۲﴾﴾
پھر اللہ تعالی نے فرمایا کہ آپ اپنی بغل میں ہاتھ ڈالیں، جَیب کٹی ہوئی چیز کو کہتے ہیں، بعض اسے گریبان کہتے ہیں اور بعض بغل کہتے ہیں، جب بغل میں ہاتھ ڈالیں گے تو ہاتھ چمکتا ہوا باہر نکلے گا،بالکل صاف و شفاف ہوگا، اس میں کوئی عیب نہیں ہو گا۔
﴿فِیۡ تِسۡعِ اٰیٰتٍ﴾
یہ دونوں چیزیں - عصا کا سانپ بننا اور ہاتھ کاچمکتے ہوئے بغل سے نکلنا- ان نو نشانیوں میں سے ہیں جو ہم آپ کو دے رہے ہیں، آپ ان کو لےکر فرعون اور اس کی قوم کی طرف جائیں۔ وہ نو نشانیاں یہ تھیں:
1: ید بیضا․․․ چمکتاہوا ہاتھ۔
2: عصا․․․ جب موسیٰ علیہ السلام لاٹھی پھینکتے تو وہ اژدھا بن جاتی، کبھی لاٹھی پھینکی تو بارہ چشمے نکل آئے، کبھی لاٹھی پھینکی تو سمندر میں بارہ راستے بن گئے۔
3: نقص ثمرات․․․ ایک وقت ایسا آیا کہ فرعونیوں کے پھلوں میں کمی آ گئی۔
4: سنین․․․ یعنی قحط سالی۔ فرعونی قحط میں مبتلا ہوئے، کھانے کو کچھ نہیں ملتا تھا، فرعونیوں نے موسیٰ علیہ السلام سے دعا کی درخواست کی۔ موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی۔ جب قحط ختم ہو گیا تو فرعونی پھر اپنی سرکشی میں مبتلا ہو گئے۔
5: طوفان ․․․ اس طوفان سے گھبرا کر فرعون کی قوم نے موسیٰ علیہ السلام سے دعا کی درخواست کی کہ یہ عذاب ہم سے دور ہو جائے۔ موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے یہ طوفان دور ہوا۔
6: ٹڈی دل․․․ ایک عذاب ٹڈیوں کا ان پر مسلط کر دیا گیا۔ ٹڈی دل نے ان کے سارے کھیتوں اور باغوں کو کھا لیا۔
7: قمل․․․ یعنی جوئیں، کپڑوں میں جوئیں، بالوں میں جوئیں، ہرچیز میں جوئیں پڑگئیں تو ان کے لیے کھانا مشکل ہوگیا، موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ دعا کریں۔ آپ نے دعا کی جوؤوں کا عذاب ختم ہو گیا لیکن یہ لوگ پھر نڈر ہو گئے۔
8: ضفادع․․․ مینڈک، ہر چیز میں مینڈک کھانے میں،پینے میں۔
9: دم․․․ خون، جو کھاتے پیتے وہ خون بن جاتا۔
آپ اندازہ کریں کس قدر ضدی قوم تھی کہ اس قدر تباہیوں کے باوجود یہ پھر بھی ٹھیک نہیں ہوتے تھے۔ اللہ رب العزت ہمیں سمجھ عطا فرمائیں کہ ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحیح امتی بنیں، اسی میں خیر ہے۔ (آمین)
ضد؛ قبول حق میں سخت رکاوٹ ہے:
﴿وَ جَحَدُوۡا بِہَا وَ اسۡتَیۡقَنَتۡہَاۤ اَنۡفُسُہُمۡ ظُلۡمًا وَّ عُلُوًّا ؕ فَانۡظُرۡ کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿٪۱۴﴾﴾
ان لوگوں نے موسیٰ علیہ السلام کے معجزات دیکھے اور انہیں موسیٰ علیہ السلام کی سچائی اور حقانیت کا یقین ہو چکا تھا پھر بھی ظلم اور تکبر کی وجہ سے انکار کرتے رہے۔ یہاں
﴿وَ اسۡتَیۡقَنَتۡہَا﴾
کا جملہ یہ حالیہ جملہ ہے، ترجمہ یوں کریں گے: حالانکہ ان کا دل یقین کرتا تھا کہ بات بالکل ٹھیک ہے لیکن پھر بھی انکار کرتے تھے۔
دنیا میں ایسے ہوتا ہے کہ آدمی ضد اور حسد کی وجہ سے کسی بات کو قبول نہیں کرتا، دل مانتا ہے کہ یہ بات ٹھیک ہے پھر بھی قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالی ہم سب کو ضد اور حسد کی آگ سے محفوظ فرمائے۔ (آمین)
نبی کی وراثت علمی ہوتی ہے:
﴿وَ وَرِثَ سُلَیۡمٰنُ دَاوٗدَ﴾
حضرت داؤد علیہ السلام والد تھے اور حضرت سلیمان علیہ السلام ان کے بیٹے تھے۔ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام حضرت داؤد علیہ السلام کے وارث بنے۔ نبی کی وراثت مالی نہیں ہوتی۔ پیغمبر کے مال کا دنیا میں کوئی وارث نہیں بنتا اور پیغمبر اپنے کسی رشتہ دار کا دنیاوی امور میں وارث نہیں بنتا۔ تو پیغمبر نہ وارث ہوتا ہے نہ مُورِث ہوتا ہے، اس کا معنی یہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام حضرت داؤد علیہ السلام کے وارث بنے اور یہ وراثت مالی نہیں بلکہ علمی اور روحانی تھی۔ حضرت داؤد علیہ السلام کے علم، فکر اور روحانیت کے وارث حضرت سلیمان علیہ السلام بنے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام کا ایک بیٹا تو نہیں تھا بلکہ انیس بیٹے تھے لیکن وارث صرف ایک بیٹا حضرت سلیمان بنا۔ تو اگر یہ وراثت مالی ہوتی تو ایک بیٹے کو نہیں بلکہ تمام بیٹوں کو مساوات کے ساتھ ملتی کیو نکہ مساوات کے بغیر تقسیم پیغمبر کی شان کے لائق نہیں ہے۔ اس لیے حضرت سلیمان علیہ السلام جو حضرت داؤد علیہ السلام کے وارث بنے ہیں تو یہ وراثت مالی نہیں بلکہ یہ وراثت علمی ہے۔
اور مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سےایک روایت ذکر کی ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام حضرت داؤد علیہ السلام کے وارث بنے تھے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سلیمان علیہ السلام کے وارث ہوئے۔
معارف القرآن: ج6 ص566
آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو حضرت سلیمان علیہ السلام کے چودہ سو سال بعد تشریف لا رہے ہیں، درمیان میں لوگ وارث نہیں بنے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وارث بن رہے ہیں۔ اس سے بھی معلوم ہوا کہ یہ وراثت مالی نہیں بلکہ وراثت علمی تھی۔
باغ فدک کا مسئلہ:
اس سے یہ مسئلہ بڑے آرام سے سمجھ آ جاتا ہے کہ جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئیں اور ان سے فرمایاکہ خیبر میرے ابو جی کا مال ہے اور میں ان کی وارث ہوں، تو خیبر کا جو باغ ہے باغ فدک؛ وہ مجھے وراثت میں دے دیں!
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ میں نے خود آپ کے والد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ:
" إِنَّا مَعْشَرَ الْأَنْبِيَاءِ لَا نُوْرَثُ مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ."
المعجم الاوسط للطبرانی: ج3 ص276 رقم الحدیث4578
فرمایا کہ ہم نبیوں کے گروہ ہیں، ہمارے مال میں کوئی وارث نہیں ہوتا، جو مال نبی چھوڑ کر جائے وہ امت کے لیے صدقہ بن جاتاہے۔
حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کو بات سمجھ میں آ گئی، سیدہ رضی اللہ عنہا چھ ماہ تک زندہ رہیں لیکن انہوں نے پھر کبھی بھی باغ فدک کا مطالبہ نہیں کیا، جبکہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ حضر ت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا ناراض تھیں اس لیےبات نہیں کی۔ ہم کہتے ہیں کہ سیدہ رضی اللہ عنہا ناراض نہیں تھیں بلکہ انہوں نے جب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے اپنے بابا صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنی تو انہیں مسئلہ سمجھ میں آ گیا، اسی لیے انہوں نے تا دم حیات پھر کبھی بھی مطالبہ نہیں کیا۔ یہ بات غلط ہے کہ وہ ناراض تھیں، اور ہمیں بہت سی باتوں پر تعجب ہوتا ہے اب آپ کوبھی تعجب ہو گا۔ ہمیں تعجب کیاہے کہ حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا جن کا وراثت کا دعویٰ تھا ان کو مسئلہ سمجھ میں آ گیا اس لیے انہوں نے وراثت پر پھر کبھی بات نہیں کی لیکن تیرہ چودہ سو سال گزر گئے اور آج لوگ لڑ رہے ہیں کہ جی! صدیق نے حضرت زہراء کو وراثت کیوں نہیں دی؟! ہے نا تعجب کی بات کہ جن کا تعلق بھی نہیں ہے وہ ابھی تک لڑ رہے ہیں کہ جی! باغ فدک تھا کس کا اور لے کون گیا! حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کو کیوں نہیں ملا؟
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مطالبے کی وجہ:
یہاں ایک بات سمجھ لیں کہ حضرت زہراء رضی اللہ عنہا کو شبہ کیوں ہوا کہ یہ ہمارا مال ہے؟ دراصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کے فتح ہونے کے بعد اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو پورے سال کا خرچ اس فدک کے با غ سے دیتے تھے لیکن ازواج مطہرات اس مال میں سے ضرورت کا رکھتیں اور باقی خرچ کردیتی تھیں۔ تو حضرت زہراء رضی اللہ عنہا کو شبہ یہ ہوا کہ اگر یہ مال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نہیں تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مال سے سال کا خرچہ گھر والوں کو کیوں دیتے تھے؟ اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ مال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا تھا اور ان کے جانےکے بعد ہم اولاد وارث ہیں لیکن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب یہ مسئلہ سمجھایا تو حضرت زہراء رضی اللہ عنہا کو مسئلہ سمجھ میں آ گیا۔
حیات الانبیاء علیہم السلام کی دلیل بطرزِ نانوتوی:
اسی حدیث کے ضمن میں میں یہ بات کہتا ہوں کہ قاسم العلوم والخیرات بانی دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی نور اللہ مرقدہ اسی حدیث ”إِنَّا مَعْشَرَ الْأَنْبِيَاءِ لَا نُوْرَثُ مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ“ سے استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی اپنی قبر میں زندہ ہوتا ہے۔ دلیل یہ ہےکہ جب تک کوئی شخص زندہ ہو، روح اور جسم کا تعلق ہو تو مال کا مالک وہ بندہ خود ہوتاہے، دوسرے بندے کا اس مال سے حق وابستہ نہیں ہوتا لیکن جب اس شخص کی روح اور جسم کا تعلق ختم ہو جائے، اس پر موت آ جائے تو اس کے وارث اس کے مال کے مالک بن جاتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مال کا کوئی وارث کیوں نہیں بنا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب پیغمبر پر موت آتی ہے تو ظاہر پر موت آ جاتی ہے لیکن قلبِ اطہر میں حیات رہتی ہے تو جب حضور کی روح کا جسم سے تعلق باقی ہے تو آپ کا مال آپ کی مِلک سے نکلا نہیں ہے، اس لیے اس مال کا کوئی وارث بنا بھی نہیں ہے۔
تو پیغمبرکے مال کا رشتہ داروں کی مِلک نہ بننا اس بات کی دلیل ہے کہ روح کا جسد ِاطہرکے ساتھ ایسا تعلق موجودہے کہ پیغمبر کا مال اس کی مِلک سے نہیں نکلتا اور پھر فرمایا
”مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ“
کہ جو مال ہم چھوڑیں وہ ہمارے رشتہ داروں کا نہیں بلکہ امت کے لیے صدقہ ہے۔ حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایاکہ یہ حدیث پاک کا جزء بھی دلیل ہے کہ انبیا ء علیہم السلام اپنی قبور میں زندہ ہیں کیونکہ کسی شخص کا مال صدقہ تب بنتاہے جب صدقہ کرنے والا صدقہ کرتے وقت زندہ ہو، اگر صدقہ کرنے والا صدقہ کرتے وقت زندہ نہ ہو تو مال صدقہ کیسے بنے گا؟! پیغمبر پر موت آ بھی رہی ہے اور مال امت کے لیے صدقہ بن بھی رہاہے، اس کا معنی یہ ہے کہ بوقت موت پیغمبر میں اب بھی حیات موجودہے تبھی تو مال صدقہ بنا ہے! صدقہ بننے کے لیے متصدق کا زندہ ہونا ضروری ہے توحضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہر پر موت ہے لیکن قلبِ اطہر میں حیات ہے، اب بطور وراثت کے مال نبوت کا تقسیم نہ ہونا یہ بھی دلیلِ حیات ہے۔ حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ ساری بحث اپنی کتاب ”آب حیات“ میں لکھی ہے۔
حضرت نانوتوی کے علوم:
حضرت سہارنپوری المہند علی المفند میں لکھتے ہیں کہ حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ نے آب حیات میں وہ تحقیق بیان فرمائی ہے کہ جو آپ سے پہلے کسی نے نہیں فرمائی۔ حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ اس کو ایک مثال سے سمجھاتے ہیں کہ پٹرول میں حرارت ہوتی ہے اگرچہ بظاہر ٹھنڈک ہی کیوں نہ ہو۔ اگر آپ ٹھنڈے پٹرول کو جلتی آگ پر ڈال دیں تو آگ بھڑک اٹھتی ہے حالانکہ پٹرول ٹھنڈا ہے، اس کے ظاہر میں برودت ہے لیکن پٹرول میں حرارت ہے جس کی وجہ سے آگ بھڑک اٹھی ہے، اور اگر آپ جلتی آگ پر گرم پانی ڈال دیں تو آگ پھر بھی بجھ جاتی ہے، کیونکہ اگرچہ پانی اوپر سے گرم ہے لیکن پانی میں خاصہ برودت کا ہے جو آگ کو بجھا رہا ہے۔ اسی طرح پیغمبر کے ظاہر پر موت بھی ہو تو پیغمبر کے قلبِ اطہر میں حیات ہوتی ہے اس لیے مولانا نانوتوی فرماتےہیں کہ پیغمبر کی جو موت ہے وہ مزیلِ حیات نہیں ہوتی بلکہ ساترِ حیات ہوتی ہے یعنی حیات کو چھپا لیتی ہے جبکہ امتی کی موت مزیلِ حیات ہوتی ہے کہ حیات کو ختم کر دیتی ہے۔ جیسے ایک دیا جل رہا ہو، آپ اس کے اوپر الٹا پیالہ رکھیں تو اس پیالے کی وجہ سے دیا بجھتا نہیں ہے بلکہ چھپ جاتاہے تو پیغمبر کے قلبِ اطہر میں جو حیات کا دیا جلتاہے اس کے اوپر موت کا پیالہ آ جائے تو حیات کا دیا بجھتا نہیں ہے، وہ چھپ جاتاہے۔ (سبحان اللہ۔ سامعین)
اگر حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے علوم بندےکو سمجھ آ جائیں تو لطف آتا ہے، جب سمجھ میں نہیں آتے تو
”وَالنَّاسُ أَعْدَاءٌ لِمَاجَہِلُوْا“
پھر لو گ اس کی مخالفت مول لیتے ہیں کہ بندہ ٹھیک نہیں کہتا۔ اللہ رب العزت ہمیں بات سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
پرندوں کی بولیاں:
﴿یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّیۡرِ وَ اُوۡتِیۡنَا مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ ؕ﴾
اے لوگو! ہمیں پرندں کی بولیاں سکھائی گئی ہیں اور ہمیں ضرورت کی ہر چیز دی گئی ہے۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے پرندوں کی بولیوں کے ساتھ دیگر جانوروں کی بولیا ں بھی سکھائی تھیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام سے اور جانوروں نے بھی بات کی اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے ان کو جواب دیا ہے۔ لیکن یہاں بطورِخاص سلیمان علیہ السلام
”مَنۡطِقَ الطَّیۡرِ“
فرما کر پرندوں کی بولی کی بات کر رہے ہیں لیکن باقی جانوروں کی بولیوں کی بات نہیں کر رہے حالانکہ سلیمان علیہ السلام چیونٹی کی بات بھی سمجھتے ہیں جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔ جب چیونٹی نے کہا
﴿یٰۤاَیُّہَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰکِنَکُمۡ﴾
کہ اے چیونٹیو! اپنی اپنی بِلوں میں گھس جاؤ! سلیمان علیہ السلام نے چیونٹی کی آواز کو سنا اور سمجھ بھی گئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف پرندوں کی بولیاں نہیں بلکہ سلیمان علیہ السلام دوسرے جانورو ں کی بولیاں بھی سمجھتے تھے۔ یہاں بطورِ خاص
”مَنۡطِقَ الطَّیۡرِ“
پرندوں کی بولیوں کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ آگے جو گفتگو آ رہی ہے اس کا تعلق پرندے کےساتھ ہے اسی لیے فرمایا کہ ہمیں پرندو ں کی بولیاں بھی سکھائی گئی ہیں۔
اہلِ بدعت کے استدلال کا جواب:
﴿وَ اُوۡتِیۡنَا مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ﴾
حضرت سلیمان علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ہمیں ہر چیز دی ہے۔
﴿کُلِّ شَیۡءٍ﴾
کے بارے میں ایک بات یاد رکھ لیں، اہلِ بدعت عموماً دھوکہ دیتے ہیں۔ اہلِ بدعت کہتے ہیں کہ اللہ نے فرمایا:
﴿وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الۡاَسۡمَآءَ کُلَّہَا﴾
کہ دیکھو! آدم علیہ السلام کو اللہ نے تمام چیزوں کا علم دیا۔ یہاں ”کل “ کا لفظ ہے اور کل عموم کے لیے آتاہے۔ جب آدم علیہ السلام کے پاس ہے تو حضور ان سے افضل ہیں تو حضور کے پاس تو بطریق اولیٰ ہوگا۔ اس سے اہلِ بدعت علم غیب ثابت کرتے ہیں۔
یہ بات یاد رکھیں کہ
”کل“
کا لفظ ہمیشہ عمومِ کلی کے لیے نہیں آتا بلکہ بعض اوقات لفظ ”کل“ لایا جاتا ہے لیکن اس سے ایک خاص حد تک عموم مراد ہوتا ہے بالکلیہ عموم مراد نہیں ہوتا۔ جیسے یہاں فرمایا کہ
﴿وَ اُوۡتِیۡنَا مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ﴾
ہمیں ہر چیز دی گئی تو اب یہاں یہ معنی نہیں کہ دنیا بھر کی تمام چیزیں سلیمان علیہ السلام کو دی گئی تھیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ سلطنت میں جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے حضرت سلیمان علیہ السلام کو وہ دی گئی تھیں جیسے فوج، طاقت، افراد، وزیر، مشیر وغیرہ۔ اگر لفظ ”کل“ کا عموم کلی والا معنی مراد لیا جائے کہ دنیا جہاں اور تمام عالم کی ہر ہر چیز دی گئی تو یہ معنی درست نہیں بنتا کیونکہ آگے جو قصہ آ رہاہے ملکہ سباء کا تو اس کے پاس جو تخت تھا وہ تو حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس نہیں تھا تو پھر عموم کلی والا معنی کیسےٹھیک ہوگا؟ تو یہاں لفظ ”کل“کا یہی مطلب یہ ہے کہ اللہ نے ہمیں حکومت دی ہے اور حکومت کے متعلقہ جتنے امور ضروری ہوتےہیں خدا نے مجھے سارے عطا فرما دیے ہیں، اور یہاں ”کل“ سے عموم کلی مراد نہیں اس پر ایک اور دلیل خود آگے قرآن کریم کی یہ آیت ہے:
﴿اِنِّیۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَۃً تَمۡلِکُہُمۡ وَ اُوۡتِیَتۡ مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ وَّ لَہَا عَرۡشٌ عَظِیۡمٌ ﴿۲۳﴾﴾
ہد ہد نے کہا کہ میں نے ایک ایسی عورت کو دیکھا ہے جو لوگوں پر حکومت کرتی ہے اور اس کو ہر چیز ملی ہے اور اس کا ایک تخت بھی ہے۔ اب اس عورت کو ہر چیز کہاں ملی ہے! اس کو تو شوہر نہیں ملا تھا اور ہر چیز کیا اس کو ملنی ہے! ملکہ بلقیس تو سلیمان علیہ السلام کے پاس آنے سے پہلے کنواری تھی، اس لیے اہلِ بدعت کا
”مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ“
کا معنی یہ کرنا کہ سلیمان علیہ السلام کو ہر ہر چیز ملی ہے، بالکل غلط ہے۔
چیونٹی کی گفتگو سننا:
﴿حَتّٰۤی اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰی وَادِ النَّمۡلِ ۙ قَالَتۡ نَمۡلَۃٌ یّٰۤاَیُّہَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰکِنَکُمۡ ۚ لَا یَحۡطِمَنَّکُمۡ سُلَیۡمٰنُ وَ جُنُوۡدُہٗ ۙ وَ ہُمۡ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۱۸﴾﴾
اس سورت کا نام سورۃ النمل ہے، اس لیے کہ سورت کے درمیانی حصہ میں میں چیونٹیوں کا ذکر آیا ہے۔ سلیمان علیہ السلام کا لشکر جا رہا تھا، راستے میں چیونٹیوں کی بستی تھی تو ایک چیونٹی نے آواز دے کر باقی چیونٹیوں سے کہا:
﴿یٰۤاَیُّہَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰکِنَکُمۡ﴾
کہ اے چیونٹیو! اپنی اپنی بِلوں میں گھس جاؤ!
﴿لَا یَحۡطِمَنَّکُمۡ سُلَیۡمٰنُ وَ جُنُوۡدُہٗ ۙ وَ ہُمۡ لَا یَشۡعُرُوۡنَ﴾
کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان علیہ السلام کالشکر تمہیں روند ڈالے گا اور انہیں پتا بھی نہ چلےکہ ہمارے پاؤں کے نیچے کچھ آیا ہے۔ سلیمان علیہ السلام نے جب چیونٹی کی یہ بات سنی تو
﴿فَتَبَسَّمَ ضَاحِکًا مِّنۡ قَوۡلِہَا﴾
آپ علیہ السلام مسکرا پڑے اور کہا: اے اللہ! آپ نے جو نعمت مجھے دی ہے اور میرے والدین کو دی ہے مجھے اس کا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرما اور مجھے توفیق دے کہ میں نیک اعمال کروں جو تجھے پسند ہوں اور اپنی رحمت کےساتھ مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل فرما! تو سلیمان علیہ السلام کے پاس سب نعمتیں موجود ہیں اس پر اللہ کا شکر ادا فرما رہے ہیں۔
پرندوں کی حاضری اور ہدہد کی غیر حاضری:
﴿وَ تَفَقَّدَ الطَّیۡرَ فَقَالَ مَا لِیَ لَاۤ اَرَی الۡہُدۡہُدَ ۫ۖ اَمۡ کَانَ مِنَ الۡغَآئِبِیۡنَ ﴿۲۰﴾﴾
سلیمان علیہ السلام چونکہ بادشاہ تھے اور بادشاہ کے ذمہ ہے اپنی رعایا کی نگرانی کرنا تو سلیمان علیہ السلام بھی نگرانی کرتے تھے اور پوچھتے تھے کہ فلاں کدھر ہے؟ فلاں کدھر ہے؟ آپ سفرمیں ہیں تو آپ نے سفر میں پوچھا کہ ہد ہد کدھر ہے؟ یہ کیوں پوچھا؟ اس لیے کہ ہدہد کی خاصیت یہ ہے کہ زمین کے نیچے اس کو پانی نظر آتا ہے، پانی کتنا گہرا ہے اس کو پتا چلتاہے۔ تو سلیمان علیہ السلام اپنے لشکرکے ساتھ ہدہد رکھتے تھے، جہاں پڑاؤ ہوتاتو اس سے پوچھتے کہ پانی کہاں پر ہے؟ ہد ہد بتاتا کہ نیچے پانی ہے، آپ علیہ السلام جنات سے فرماتےکہ پانی نکالو۔ وہ نکالتے تو بس تھوڑی دیر بعد وہاں پر تالاب بن جاتا تھا اور لشکر وہاں سے پانی پیتا تھا۔ دنیا میں اللہ نے سلیمان علیہ السلام کو کیا حکومت عطافرمائی تھی!سبحان اللہ۔
چونکہ ہد ہد نہیں تھا اس لیے حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا :
﴿مَا لِیَ لَاۤ اَرَی الۡہُدۡہُدَ ۖ اَمۡ کَانَ مِنَ الۡغَآئِبِیۡنَ﴾
مجھے کیا ہو گیا ہے کہ مجھے ہدہد نظر نہیں آرہا یا وہ کہیں غائب ہو گیا ہے؟! حضرت سلیمان علیہ السلام نے پہلے اپنی بات کی کہ مجھے کیا ہوگیا ہے کہ مجھے ہدہد نظر نہیں آ رہا۔ پہلے نسبت اپنی طرف کی امت کو یہ بات سمجھانے کے لیے کہ میرے ذمہ ہے کہ میں ان کی نگرانی کروں، مجھے خدشہ ہے کہ وہ چھوٹا سا پرندہ ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ میں اس کی نگرانی نہیں کرسکا اور وہ کہیں بھٹک گیا ہو اور اس کو کچھ ہو نہ گیا ہو! یہ میری وجہ سے تو کہیں بھٹک نہیں گیا؟! لیکن جب پورا یقین ہو گیا کہ یہ میری وجہ سے نہیں بھٹکا بلکہ وجہ کوئی اور ہو گی تو فرمایا:
﴿اَمۡ کَانَ مِنَ الۡغَآئِبِیۡنَ﴾
یہاں
”اَمْ“
کا لفظ
”بَلْ“
کےمعنی میں ہے، مطلب کہ میری وجہ سے نہیں بلکہ وہ خود کہیں اِدھر اُدھر ہو گیا ہے۔ اچھا! تلاش کرو کہ وہ کہاں ہے؟ آگے فرمایا کہ اس کو لاؤ
﴿لَاُعَذِّبَنَّہٗ عَذَابًا شَدِیۡدًا﴾
یا تو میں اس کو اچھی خاصی تنبیہ کروں گا اگر معمولی غلطی ہوئی تو اور
﴿لَاَاذۡبَحَنَّہٗ﴾
اگر بہت بڑی غلطی ہوئی تو ذبح کر دوں گا،
﴿اَوۡ لَیَاۡتِیَنِّیۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ﴾
یا اگر معقول عذر ہوا تو میں کچھ بھی نہیں کہوں گا۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کے واقعے سے مستنبط چند مسائل:
اس واقعے سے مفسرین نے چند مسائل بیان فرمائے ہیں :
نمبر 1: ایک مسئلہ یہ بیان فرمایا ہے کہ بڑو ں کی ذمہ داری ہے اپنےماتحتوں کی نگرانی کرنا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا فرماتے تھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا پوچھتے تھے، جب کو ئی نماز میں نہیں ہوتا تو آپ پوچھتے کہ فلاں شخص نماز کے لیے کیوں نہیں آیا؟ جی! بیمار ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جا کر اس کی بیمار پر سی فرماتے۔ فلاں کیوں نہیں آیا؟ جی! اس کی شادی ہے۔ فلاں کیوں نہیں آیا؟ جی! اس کا یہ عذر ہے۔ تو یہ پیغمبر علیہ السلام کا طریقہ ہے۔ اس کا خیال رکھنا چاہیے۔
نمبر 2: ماتحت آدمی اگر کوئی جرم کرے تو اس کو سزا دینی چاہیے۔ دیکھو! یہ پرندہ ہے انسان نہیں ہے اور سلیمان علیہ السلام اس کو بھی سزا دینے کی بات کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ جانور جو پالتو ہوں او ر کوتاہی کریں تو ان کو اس درجے میں سزا دینا جو قابل برداشت ہو یہ قرآن کریم سے ثابت ہے۔ آپ کا پالتو گدھا ہے، پالتو گھوڑا ہے، پالتو بھینس ہے، وہ نافرمانی کریں کوتاہی کریں تو تھوڑی سی سزا دے سکتے ہیں۔
نمبر 3: اگر انسان ہو اور انسان کے ماتحت ہو اور وہ خرابی پیدا کرے تو اس کو تو سزا دینے کی بطریق اولیٰ گنجائش موجود ہے۔
خیر! وہ ہد ہد آ گیا تو ہد ہد نے آ کر بتایا کہ میں نے ایک عورت کو دیکھاہے جس کی بہت بڑی سلطنت ہے،
﴿وَّ لَہَا عَرۡشٌ عَظِیۡمٌ ﴿۲۳﴾﴾
اس کا بہت بڑا تخت ہے۔ بطورِ خاص اس کے تخت کا ذکر کیاہے باقی چیزو ں کا ذکر نہیں کیا، اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کا تختِ شاہی قیمتی بہت تھا اور اس کی پوری سلطنت میں بے بہا قیمت والا اور ایک عجوبہ سے کم نہیں تھا۔ بلقیس نے سات محل بنائے اور ساتوں محلات کے وسط میں اس نے اپنا محل بنایا ہوا تھا یعنی اس کے محل تک پہنچنے کےلیے سات محل کراس کرنے پڑتے تھے۔ ایک بڑا محل، اس میں چھوٹا محل، اس میں پھرچھوٹا، پھر چھوٹا، پھر چھوٹا، پھر چھوٹا۔ اس کا تخت اسی ہاتھ لمبا، چالیس ہاتھ چوڑا اور تیس ہاتھ اونچا تھا اور اس پر جواہرات، سونے اور چاندی جو کچھ اس کے بس میں تھا اس نے لگا دیا تھا۔ تو ہدہد نے کہا کہ وہ لوگ مشرک ہیں، اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر سورج کی پوجا کرتے ہیں شیطان نے ان کے لیے ان کے اعمال مزین کر رکھے ہیں۔
حضرت سلیمان علیہ السلام نے کہا کہ چلو ہم دیکھتے ہیں کہ تم سچ بولتے ہو یا جھوٹ بولتے ہو! تو سلیمان علیہ السلام نے اس کو ایک خط دیا اور فرمایا :جا کر ان تک پہنچاؤ، پھر ایک طرف بیٹھ جانا اور دیکھنا کہ وہ کیا کہتے ہیں! اس خط کو ہدہد نے لیا، یا تو مجلس میں جا کر رکھا یا بلقیس اکیلی تھی اس کے پاس جاکر چھوڑا۔
کسی کی نجی زندگی میں مداخلت نہ کریں!
﴿ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡہُمۡ فَانۡظُرۡ مَا ذَا یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۲۸﴾﴾
حضرت سلیمان علیہ السلام نے ہد ہد سے فرمایا تھا کہ جب خط پہنچا دینا تو ذرا ایک طرف ہٹ کر کھڑے ہو جانا، پھر دیکھنا کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں۔
اس سے مفسرین نے ایک مسئلہ بیان کیا ہے کہ جب کسی کا پیغام لے کر جائیں تو پیغام پہنچا کر اس پر مسلط نہ ہوا کریں بلکہ ایک طرف ہو جائیں، پھر انتظار کریں کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں۔ اس سے کتنی آسانی سے باتیں سمجھ آ رہی ہیں کہ کسی کی چیز کو دیکھو مت! کسی کی چیز کو پڑھو مت! کسی کا میسیج نہ پڑھو! کسی کا خط نہ دیکھو! کسی کی نجی زندگی میں مداخلت نہ کرو!
حضرت سلیمان کا خط ملکہ بلقیس کے نام:
خیر! ہدہد نے خط پیش کردیا۔ اب ملکہ نے اپنے وزرا ءاور خواص کو جمع کیا اور اس نے کہا
”یٰۤاَیُّہَا الۡمَلَؤُا اِنِّیۡۤ اُلۡقِیَ اِلَیَّ کِتٰبٌ کَرِیۡمٌ ﴿۲۹﴾“
اے سرداران قوم! ایک زبردست اور عظیم الشان خط میرے پاس آیا ہے جو سلیمان کی طرف سے ہے اور خط کا مضمون یہ ہے :
﴿بِسۡمِ اللہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ﴿ۙ۳۰﴾ اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَیَّ وَ اۡتُوۡنِیۡ مُسۡلِمِیۡنَ ﴿۳۱﴾﴾
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے۔ میرے مقابلے میں بغاوت اور سرکشی نہ کرو بلکہ فرمانبردار بن کر میرے پاس پہنچو!
پوری تاریخ میں سلیمان علیہ السلام کےخط سے جاندار خط آج تک کبھی کسی کو نہیں لکھا گیا، اس میں کوئی ترغیب نہیں کوئی تمہید نہیں، اتنا جاندار خط پیغمبر کتنی طاقت سے لکھ رہا ہے۔
خط کے بارے میں ہمیشہ یاد رکھیں کہ شروع میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم لکھنی چاہیے اور بسم اللہ لکھنے کے بعد اپنے نام سے خط کا آغاز کرنا چاہیے مثلاً
”مِنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ إِلٰی فُلَانٍ“
یہ خط عبد الرحمٰن کی طرف سے فلاں کے نام پر ہے، اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ بھی یہی ہے۔ اگر کوئی شخص خط کے شروع میں اپنا نام لکھنے کے بجائے خط کے آخر میں لکھے تو جائز یہ بھی ہے لیکن اگر شروع میں اپنا نام لکھنا چاہیں تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے
بسم اللہ
لکھیں، پھر اپنا نام لکھیں اور پھرخط لکھیں۔
خط لکھنے کا طریقہ:
قرآن کریم میں جو خط موجود ہے اس میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا نام پہلے ہے، بعد میں
بسم اللہ
ہے اور اس کے بعد خط ہے۔ اس سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ خط لکھنے والا اگر اپنا نام پہلے لکھے، پھر
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
لکھے، پھر خط لکھے تو یہ بھی جائز ہے۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں ایسا نہیں ہے بلکہ سلیمان علیہ السلام کا خط تو یہ تھا:
”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مِنْ سُلَیْمَانَ بْنِ دَاوٗدَ اِلٰی بِلْقِیْسَ ابْنَۃِ ذِیْ شَرْح وَقَوْمِھَا اَلَّا تَعْلُوْا عَلَیَّ وَ اْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ“
بلقیس نے جب خط اپنی قوم کو پڑھ کر سنایا تو قوم کو آگاہ کرنے اور یہ بتانے کے لیے کہ یہ کس کا خط ہے سلیمان علیہ السلام کا اسم گرامی پہلے ذکر کر دیا اور کہا
”اِنَّهٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ“
تو جو جملہ اس نے کہا تھا قرآن نے اسی کو نقل کر دیا، اس کا معنی یہ نہیں ہے کہ سلیمان علیہ السلام نے اپنا نام بسم اللہ سے پہلے لکھا تھا۔ تو ان مفسرین کا موقف یہ ہے کہ بسم اللہ پہلے لکھی ہوئی تھی اور حضرت سلیمان علیہ السلام کا نام بعد میں۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک طریقہ یہ تھا:
مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللّهِ وَرَسُوَلِهٖ إِلٰى هِرَقْلَ عَظِيْمِ الرُّوْمِ․
صحیح البخاری ، رقم: 7
کہ شروع میں اپنا نام لکھتے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جس کے پاس خط جاتا ہے وہ دیکھتے ہی جان لیتا ہے کہ یہ خط کس کا ہے، پھر آگے خط پڑھنے میں دلچسپی ہوتی ہے اور اگر خط کے بالکل آخر میں نام ہو تو دلچسپی کم ہوتی ہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین بھی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھتے تو سنت نبوی کی اتباع کرتے ہوئے پہلے اپنا نام لکھتے اور بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لکھتے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
مَا كَانَ أَحَد أَعْظَمَ حُرْمَةً مِنْ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَكَانَ أَصْحَابُهٗ إِذَا كَتَبُوْا إِلَيْهِ كِتَابًا بَدَؤُا بِأَنْفُسِهِمْ .
روح المعانی: ج10ص196
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی آدمی قابل تعظیم نہیں لیکن آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم جب آپ کو خط لکھتے تو اپنے نام سے شروع کرتے۔
اس پر دلیل سنن ابی داؤد کی روایت ہے کہ حضرت علاء حضرمی رضی اللہ عنہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خط لکھتے تھے تو اپنا نام شروع میں لکھتے تھے۔
سنن ابی داؤد، رقم: 5134
ملکہ بلقیس کا فیصلہ:
خیر! ملکہ بلقیس نے اپنے وزراء کو بلاکر مشورہ کیا کہ بتاؤ کیا کریں؟ میں تمہارے مشورہ کے بغیر حتمی فیصلہ نہیں کرتی۔ وہ لوگ بڑے سمجھدار تھے، کہا کہ
﴿نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّۃٍ وَّ اُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِیۡدٍ﴾
ہمارےپاس طاقت بھی ہے اور ہم جنگجو بھی ہیں، اس لیے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، باقی تو ہماری بادشاہ ہے جو فیصلہ کرے ہم تیرے ساتھ ہیں لیکن تو نے گھبرا کر فیصلہ نہیں کرنا! یہ بہت سمجھدار عورت تھی اس نے کہا کہ بات سمجھو کہ
﴿اِنَّ الۡمُلُوۡکَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡیَۃً اَفۡسَدُوۡہَا﴾
کہ جب بادشاہ کسی شہر میں داخل ہوں تو تباہی مچا دیتے ہیں،
﴿وَ جَعَلُوۡۤا اَعِزَّۃَ اَہۡلِہَاۤ اَذِلَّۃً﴾
اور عزت والے لوگوں کو ذلیل کر کے رکھ دیتے ہیں، اس لیے جذباتی فیصلے نہ کرو بلکہ سمجھداری سے کام لو۔ میں ان کی طرف ہدیہ بھیجتی ہوں اس سے پتا چل جائے گا کہ وہ بادشاہ ہے جس کی خواہش ہوتی ہے کہ میں کسی اور حکومت پر قبضہ کروں اور میری بادشاہی بڑھ جائے یا وہ اللہ کا نبی ہے جو چاہتا ہے کہ اور ملکوں میں اللہ کی شریعت نافذ ہو۔ تو اگر تمہار امال انہوں نے قبول کر لیا تو اس کا معنی ہے کہ وہ دنیا چاہتے ہیں اور اگر مال قبول نہ کیا تو سمجھنا نبی ہیں، پھر ہمیں ان سے جھگڑنا نہیں چاہیے۔ خیر اس نے ہدیہ بھیجا۔ ہدیہ میں کچھ سونےکی اینٹیں بھیجیں، جواہرات اس کے علاوہ تھے، سو غلام بھیجے اور سو باندیاں بھی۔ باندیوں کو غلاموں والے کپڑےپہنا دیے اور غلاموں کو باندیوں والے کپڑے پہنا دیے تاکہ پتا تو چلےکہ یہ پہچان بھی سکتے ہیں یا نہیں! پھر کچھ سولات بھی کیے۔ سلیمان علیہ السلام کو بذریعہ وحی پتا چل گیا کہ بلقیس نے یہ ہدیہ بھیجا ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ان کے آنے سے پہلے راستے میں جنات کے ذریعے سونے کی اینٹوں کی سڑک بنوا دی اور سڑک کے دونوں طرف عجیب الخلقت جانور بندھوا دیے، جانوروں کا گوبر اور پیشاب سونے کی اینٹوں پر پڑتا تھااور راستے میں دونوں طرف جنات کھڑے کیے۔ تخت شاہی سجایا اور اس پر چار چار ہزار سونے کی کرسیاں لگوائیں، ایک طرف علماء بیٹھے اور ایک طرف وزرائے سلطنت بیٹھے۔ جب وہ آئے تو بعض روایات میں آتا ہے کہ جب انہوں نے سونے کی اینٹوں پر جانوروں کو پیشاب اور گوبر کرتے دیکھا تو سونے کی اینٹیں وہیں پھینک دیں کہ ہم سو اینٹ گفٹ دینا چاہتے ہیں اور یہاں دیکھو کہ جانور سونے پر پیشاپ کر رہے ہیں اور جنات ان کے ماتحت ہیں۔
خیر اس کے باوجود بھی حضرت سلیمان علیہ السلام نے ان کا بہت اکرام کیا، بہت عزت کی جیسےمہمان کی عزت کرتے ہیں، نفرت کی نگاہ سے نہیں دیکھا۔ وہ لوگ آئے تو سلیمان علیہ السلام نے فرمایا:
﴿اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ فَمَاۤ اٰتٰىنَِۧ اللہُ خَیۡرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰىکُمۡ ﴾
کہ تم ہمیں مال دینا چاہتے ہو؟ جو مال اللہ نے ہمیں دیا ہے وہ تمہارے اس مال سے بہت بہتر ہے جو تمہیں دیا ہے،
﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ بِہَدِیَّتِکُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ﴾
بلکہ اپنے ہدیہ پر تم خود خوش رہو!،
﴿اِرۡجِعۡ اِلَیۡہِمۡ﴾
ان کے پاس واپس لوٹ جاؤ اور ان کو جاکر بتاؤ کہ
﴿فَلَنَاۡتِیَنَّہُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَہُمۡ بِہَا وَ لَنُخۡرِجَنَّہُمۡ مِّنۡہَاۤ اَذِلَّۃً وَّ ہُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴿۳۷﴾﴾
کہ ہم اب تمہارے پاس ایسا لشکر لائیں گے جس کے مقابلے کی تمہارے پاس ہمت نہیں ہو گی اور پھر ہم تم لوگوں کو ذلیل کرکے وہاں سےنکال دیں گے۔
ملکہ بلقیس کی دربار سلیمانی میں حاضری:
جب یہ لوگ واپس پہنچے تو جا کر ملکہ بلقیس کو بتایا کہ وہ بہت بڑے لوگ ہیں، ان کے لیے مال و دولت تو کوئی مسئلہ نہیں۔ ملکہ بلقیس سمجھ گئی کہ یہ لوگ کون ہیں! وہ کہنے لگی کہ چلو ہم خود چلتے ہیں او ر چل کر اسلام قبول کرتے ہیں، ان کی اطاعت کر لیتے ہیں۔ جب ملکہ بلقیس چلی تو اس نے بارہ ہزار سردار ساتھ لیے اور ہر سردار کی ماتحتی میں ایک لاکھ فوج رکھی۔ اتنا بڑا لشکر اور طاقت لے کر وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس پہنچی۔ اور یہ طاقت دکھانے کے لیے نہیں لا رہی تھی چونکہ بادشاہ تھی اس لیے شاہانہ طرز سے آ رہی تھی، باقی آ اس لیے رہی تھی تاکہ اسلام قبول کرے۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ نے ہیبت اتنی عطا کی تھی کہ کوئی بندہ آپ کے سامنے بات نہیں کر سکتا تھا۔ ایک دن آپ علیہ السلام نے خود یکھا کہ دور گرد و غبار اڑ رہا ہے تو آپ نے دربار والوں سے پوچھا کہ یہ غبار کیسا ہے؟ آپ کو جواب دیا گیا کہ ملکہ بلقیس اپنے لوگوں کو لے کر خدمت میں حاضر ہو رہی ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ وہ ابھی تین میل کے فاصلے پر تھی کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو اس کی اطلاع ہوئی۔
اس کا تخت کون لائے گا؟
سلیمان علیہ السلام نے اپنے مصاحب جمع کیے کہ وہ آرہی ہے اور پوچھا کہ
﴿اَیُّکُمۡ یَاۡتِیۡنِیۡ بِعَرۡشِہَا قَبۡلَ اَنۡ یَّاۡتُوۡنِیۡ مُسۡلِمِیۡنَ ﴿۳۸﴾﴾
اس کی سلطنت میں سب سے اہم چیز اس کا تخت ہے، بتاؤ اس کے تابعدار بن کر آنے سے پہلے میرے پاس اس کا تخت کون لائے گا؟
﴿قَالَ عِفۡرِیۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ اَنَا اٰتِیۡکَ بِہٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِکَ﴾
ایک طاقت ور اور مضبوط جسم والے جن نے کہا کہ جی میں لاتا ہوں اور مجلس برخاست ہونے سے پہلے پہلے لاؤں گا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ اس سے بھی پہلے لاؤ تو
﴿قَالَ الَّذِیۡ عِنۡدَہٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡکِتٰبِ اَنَا اٰتِیۡکَ بِہٖ قَبۡلَ اَنۡ یَّرۡتَدَّ اِلَیۡکَ طَرۡفُکَ﴾
بعض کہتے ہیں کہ آصف بن برخیا جو حضرت سلیمان علیہ السلام کا وزیر تھا یا آپ کا خالہ زاد بھائی تھا اس کے پاس کتاب کا علم تھا، اس نے کہا کہ جی! مجھے اجازت دو میں لاتاہوں اور اتنی دیر میں لاؤں گا کہ آپ آنکھ بند کر کے کھولیں گے تو تخت آپ کے سامنے ہوگاحضرت سلیمان علیہ السلام نے آنکھ بند کی اور کھولی تو تخت ان کے سامنے آ گیا تھا۔
تخت لانے والا کون تھا؟
اور مفسرین میں سے بہت سارے حضرات کی رائے یہ ہے کہ
﴿الَّذِیۡ عِنۡدَہٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡکِتٰبِ﴾
سے مراد حضرت سلیمان علیہ السلام خود ہیں اور کتاب اللہ کا علم آپ علیہ السلام کے پاس تھا۔ اب مطلب یہ ہے کہ آپ نے عفریت جن سے فرمایاکہ تم تو اس کو اتنی دیر میں لاؤ گے اور میں تیری پلک جھپکنے سے پہلے اس کو لے آتا ہوں۔ بعض حضرات کہتے ہیں کہ اس سے مراد سلیمان علیہ السلام نہیں بلکہ کوئی اور ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ سلیمان علیہ السلام کے پاس خود علم تھا تو آپ نے کسی اور سے کیوں کہا کہ تخت کون لائے گا؟مفسرین کہتے ہیں کہ آپ نے یہ سوال یہ بات بتانے کے لیے کیا کہ پیغمبر کا امتی ولی ہے، خدا نے اس کو علم الکتاب کی بنیاد پر یہ کرامت دی ہے کہ یہ لا سکتا ہے اور میں تو نبی ہوں تو اس سے اندازہ کر لو کہ نبی کے معجزے کی طاقت کتنی بڑی ہوگی؟! اس لیے خود نہیں لائے بلکہ اپنے ماتحت سے کہا کہ تم لے کر آؤ۔
اور یہ عرش کیسے لائے تھے؟ بعض کہتے ہیں کہ انہوں نے تصرف کیا تھا۔ تصرف کہتے ہیں قلبی توجہ اور خیالی طاقت استعمال کرنے کو، وہ اس تخت کو اپنی خیالی طاقت سے لائے تھے۔ حکیم الامت حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے مستقل ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہی ”التصرف“ ہے اور اس میں پوری بحث کی ہے کہ خیالی اور قلبی توجہ کی حیثیت کیا ہے؟ دیکھو! ہمارے اکابر نے کوئی پہلو چھوڑا نہیں ہے۔
اور بعض کہتے ہیں کہ یہ خیالی طاقت نہیں تھی بلکہ یہ اس کی کرامت تھی۔ اچھا جب کرامت تھی تو کرامت تو غیر اختیاری ہوتی ہے تو اس نے کیسے کہا کہ میں پلک جھپکنے سے پہلے لاؤں گا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح یہ اس کی کرامت تھی اسی طریقے سے یہ ان کا بھی کشف تھا اللہ کی طرف سے کہ تم یہ کہہ دو! جتنی جلدی تم کہو گے اتنی جلدی ہم لائیں گے، ا گر ولی کی کرامت برحق ہے تو ولی کا کشف بھی تو برحق ہے، تواس میں الجھن کی کون سی بات ہے؟
یہ بات کہنا اس لیے ضروری ہے کہ ایسے موقع پر ایسی تاویل کریں جو نصوصِ شرعیہ کے خلاف نہ ہو۔ اگر یہ کہیں گے کہ ولی کو اختیا ر ہے تو یہ نصوص کے خلاف ہے۔ تو جب کوئی ایک نص دیگر نصوص کے خلاف نظر آرہی ہو تو وہاں مقام کے مناسب تاویل کرنی پڑتی ہے تاکہ نصوص کا باہمی تعارض نہ ہو۔
ملکہ بلقیس کی عقلمندی:
خیر! جب وہ تخت لے کر آ گئے تو سلیمان علیہ السلام نے کہا کہ تخت کی ہیئت اور شکل وصورت تبدیل کر دو۔ جب ملکہ بلقیس وہاں پہنچی تو سلیمان علیہ السلام نے فرمایا:
﴿اَہٰکَذَا عَرۡشُکِ﴾
بلقیس! تیرا تخت بھی ایسا ہی ہے؟ اس نے کہا:
﴿کَاَنَّہٗ ہُوَ﴾
کہ مجھے تو لگتا ہے کہ یہ ویسا ہی ہے۔ پھر اس نے خود کہا
﴿وَ اُوۡتِیۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِہَا وَ کُنَّا مُسۡلِمِیۡنَ ﴿۴۲﴾﴾
اے سلیمان! ہمیں پہلے پتا چل گیا تھا کہ خدا نے آپ کو نبی بنا کر بھیجا ہے اور ہم آپ کی اطاعت اور فرمانبرداری پہلے ہی قبول کر چکے ہیں۔
اب قرآن کریم نےآگے اس عورت کی تعریف کی ہے، فرمایا:
﴿وَ صَدَّہَا مَا کَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ ؕ اِنَّہَا کَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ کٰفِرِیۡنَ ﴿۴۳﴾﴾
کہ اس عورت کو اللہ پر ایمان لانے سے اس بات نے روک رکھا تھا کہ وہ خدا کے علاوہ کسی اور کی عبادت کرتی تھی اور ایسی قوم سے تعلق رکھتی تھی جو کافر قوم تھی۔ ظاہر بات ہے کہ جب سارا ماحول کافروں کا ہو ایمان کی طرف توجہ نہیں ہوتی لیکن جب اسے اسلام کی طرف بلایا گیا تو فوراً ایمان لائی۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ وہ سمجھدار عورت تھی ضدی نہیں تھی۔ ہاں بعض احوال ایسے تھے کہ جس نے اسے شرک کی طرف مائل کیا ہواتھا لیکن جب تھوڑی سی دلیل سامنے آئی تو وہ شرک چھوڑ کر توحید کی طرف آ گئی۔
شیشے کے محل میں داخلہ:
﴿قِیۡلَ لَہَا ادۡخُلِی الصَّرۡحَ ۚ فَلَمَّا رَاَتۡہُ حَسِبَتۡہُ لُجَّۃً وَّ کَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَیۡہَا﴾
سلیمان علیہ السلام نے ان کے آنے پر جنات سے شیشے کا ایک محل بنوایا اور اس محل تک پہنچنے کے لیے درمیان میں ایک تالاب بنایا اور تالاب کے اوپر ایسا شیشہ فٹ کیا کہ یوں محسوس ہوتا تھا کہ اوپر کچھ بھی نہیں ہے بس پانی ہی ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے کہا کہ آؤ! میں تمہیں ایک محل دکھاؤں! اب ظاہر ہے کہ وہ بادشاہ تھی تو اسی کے مطابق اس کا استقبال ہونا ہے۔ جب آ گئی تو قرآن پاک میں ہے
﴿وَ کَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَیۡہَا﴾
اس نے سمجھا کہ یہ تو پانی میں جانے لگی ہوں تو اس نے فوراً تھوڑسے پائنچے اوپر کر لیے تاکہ پانی سے گیلے نہ ہوں۔ سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ شیشہ ہے آپ آئیں۔
﴿قَالَتۡ رَبِّ اِنِّیۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِیۡ وَ اَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَیۡمٰنَ لِلہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿٪۴۴﴾﴾
اس نے کہا کہ اے میرے رب! میں نے آج تک اپنی جان پر ظلم کیا ہے، میں سلیمان علیہ السلام کے ساتھ اسلام قبول کرتی ہوں۔ فوراً کلمہ پڑھا۔ یہ خدا کا کتنا بڑا کرم ہوتاہے کہ اللہ اتنی بڑی طاقت عطا فرمائے اور پھر بھی بندہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوجائے۔
حضرت سلیمان اور ملکہ بلقیس کا نکاح ہوا یا نہیں؟
اس کے بعد ملکہ بلقیس کا سلیمان علیہ السلام کے ساتھ نکاح ہوا یا نہیں ہوا؟ بعض حضرات کہتے ہیں کہ آپ علیہ السلام نے اسے اپنے نکاح میں لے لیا تھا اور بعض کہتے ہیں کہ نہیں لیا تھا اوربعض مفسرین کی رائے بہت پیاری ہے، وہ فرماتے ہیں کہ اس کا معاملہ
﴿وَ اَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَیۡمٰنَ لِلہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿٪۴۴﴾﴾
پر ختم ہو گیا۔ مطلب یہ کہ قرآن نے جہاں بات ختم کردی وہاں تم بھی ختم کردو۔ اس کے نکاح ہونے نہ ہونے سے تفسیر کا کیا تعلق ہے؟ اور بات صرف اتنی ہے کہ یہ معجزہ ہے یہ کرامت ہے یہ ولی ہے یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی زندگی ہے اور ملکہ بلقیس نے کلمہ پڑھ لیا بات ختم ہوگئی۔ البتہ ابن عساکر نے لکھاہے کہ نکاح ہواتھا، سلیمان علیہ السلام نے نکاح کیا تھا اور اسے اپنے ملک پر برقرار رکھا تھا اور ایک مہینے میں تین دن حضرت سلیمان علیہ السلام ان کے ہاں جا کر ٹھہرتے تھے اور اس کو تین ایسے محل بنا کر دیے کہ جس کی مثال اس کی سلطنت میں نہیں تھی۔ سلیمان علیہ السلام کے لیے جانا کیا مشکل تھا؟! تخت پر بیٹھتے، وہ اڑا کر لے جاتا، پانچ سو کرسیاں تخت پر رکھی ہوئی ہوتی تھیں اور جہاں حکم ہوتا تحت اتر جاتا۔
عورتوں کی عقل کی چند مثالیں:
ملکہ بلقیس بہت سمجھدار تھی۔ یہ بات ذرا سمجھیں کہ ہمیشہ عورت مرد کی نسبت کم سمجھدار ہو ایسا نہیں ہوتا، یہ جو ہے کہ عورت ناقص العقل ہوتی ہے اس کا معنی یہ ہے کہ جنسِ عورت جنسِ مرد کے مقابلےمیں ناقص العقل ہے لیکن ہر عورت ہر مرد کی نسبت ناقص العقل ہو یہ معنی اس کا ہرگز نہیں ہے۔ بعض عورتیں ایسی ہیں کہ مرد سے کئی گنا زیاد ہ عقلمند ہوتی ہیں اور بعض الجھنیں ایسی ہوتی ہیں جسے خاتو ن ہی حل کر سکتی ہے عام مردوں کے بس میں نہیں ہوتا۔
مثلاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے مقام پر ہیں۔ ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا آپ کے ساتھ ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خیمے میں ہیں اور آپ کے چہرے پر پریشانی کے آثار ہیں۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ کیا پریشانی ہے؟ فرمایا کہ میرے ساتھ صحابہ ہیں، عربوں کا خون ہے، ہم مدینہ سے یہاں تک پہنچے ہیں، آگے مکے والے کہتے ہیں کہ ہم عمرہ نہیں کرنے دیں گے، میں نے صلح کر لی ہے، اب میں نے واپس جانا ہے اور میں انہیں کہوں کہ حلق یا قصر کروا کر احرام کھول دو! بہت مشکل ہے، یہ بات کیسے مانیں گے کیونکہ ان کے جذبات اتنے سخت ہیں کہ میں سوچ رہا ہوں کہ کون سی بات کروں کہ یہ فوراً مان لیں! حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یارسول اللہ! اگر اجازت ہو تو میں عرض کروں؟ فرمایا: جی ہاں۔ یہ باتیں میں سمجھانے کے لیے اپنے الفاظ میں بتا رہا ہوں۔ فرمایا کہو! حضور! میری رائے یہ ہے کہ آپ انہیں کچھ بھی نہ کہیں، آپ خیمے سے باہر تشریف لائیں اور اپنا قصر کروا دیں، یہ آپ کے جانثار ہیں، آپ کو دیکھیں گے تو سارے خود بخود شروع ہو جائیں گے اور آپ کو کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم خیمے سے باہر نکلے، بالوں کا قصر یا حلق کروایا، صحابہ رضی اللہ عنہم نے دیکھا تو سارے شروع ہو گئے۔ اب دیکھیں! ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا مشورہ کتنا عمدہ اور اچھا تھا۔ اس لیے ہر عورت ہر مرد کے مقابلے میں ناقص العقل ہو ایسا نہیں ہوتا بلکہ جنسِ عورت جنسِ مرد کے مقابلے میں ناقص العقل ہوتی ہے۔ اللہ ہمیں بات سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
قصور تیرا ہے یا میرا!
اس موقع پر میں کئی بار یہ واقعہ سنایا کرتا ہوں کہ ابو حمزہ ایک شخص تھا۔ اس کے ہاں چار پانچ بچیاں پیدا ہوئیں، کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا۔ تو ہمارے ہاں بھی یہی ہے اور ابوحمزہ بھی یہی سمجھتے تھے کہ عورت منحوس ہے، اس کے ہاں بیٹا پیدا نہیں ہوتا لہذا دوسری شادی کر لو تاکہ بیٹا پیدا ہو جائے۔ تو ابو حمزہ کا بھی یہی ارادہ بنا اور اس نے گھر آنا چھوڑ دیا، اپنی بیوی سے قدرے نالاں تھے کہ اس کے ہا ں بیٹا کیوں پیدا نہیں ہوتا؟ اس کی بیوی سمجھدار بھی تھی اور بلا کی شاعرہ بھی تھی۔ اس نے ابو حمزہ کےنام ایک خط لکھا جس میں کچھ اشعار لکھے:
مَا

لِأَبِيْ حَمْزَةَ لَا يَأْتِيْنَا

غَضْبَانَ أَنْ

لَّا نَلِدَ الْبَنِيْنَا

ابو حمزہ کو کیا ہوگیا کہ ہمارے پاس نہیں آتے، وہ اس بات پر ناراض ہیں کہ ہم بیٹا نہیں جنتیں۔
تَاللهِ

مَا ذٰلِكَ فِيْ أَيْدِيْنَا

فَنَحنُ

كَالْأَرْضِ لِزَارِعِيْنَا

خدا کی قسم! بیٹا جننا ہمارے اختیارمیں نہیں ہے، میری مثال زمین کی طرح ہے اور تمہاری مثال کسان کی طرح ہے۔
وَإِنَّمَا

نَأْخُذُ مَا أُعْطِيْنَا

وَنُنْبِتُ مَا

ذَرَعُوْہُ فِیْنَا

زمین میں وہی بیج ہوتا ہے جو بیج کسان ڈالتا ہے اور زمین وہی پودا اگاتی ہے جو کسان نے بیج ڈالا ہوتا ہے۔
تفسیر الشعراوی: ج1 ص4942 باب 59، وغیرہ
ابو حمزہ! اب بتائیں کہ قصور میرا ہے یا آپ کا ؟ ابو حمزہ نے معذرت کی اور واپس آ کر ہنسنا اور بسنا شروع کر دیا۔ اب بتاؤ! کیسی اس نے سمجھداری کی بات کی ہے۔
میں نے جب پاکستان میں مسلک کا کام شروع کیا تو میں بڑی بھڑکتی خطابت، جذباتی اور بڑی رفتار سے بیان کرتاتھا، میں نے ٹھنڈے انداز سے کام شروع نہیں کیا کیونکہ قوم کو اٹھانا تھا تو قوم اٹھ گئی۔ میرے ایک دوست نے مجھے لاہور سے فون کیا کہ ہمارے گھر آپ کے بیان کی کیسٹ چل رہی تھی تو ہمارے محلے کی ایک خاتون نے کہا کہ یہ بیان مجھے بھی دو۔ اس نے بیان اپنے گھر لگا دیا۔ اس نے کہا کہ اللہ کی شان! اس کی نو بیٹیاں تھیں اوربیٹا کوئی نہیں تھا اور گھر میں اَن بَن رہتی تھی۔ جب عورت نے اس بیان کو سنا، رات شوہر آیا تو کہتی ہے کہ مولانا صاجب کی تقریر سنو! جب یہی واقعہ اس نے گھر میں سنا تو اس کے شوہر نے معذرت کی کہ تیرا قصور نہیں ہے یہ میرا قصور ہے۔ اب دیکھو! عورت کتنی سمجھدار ہے۔ ناقص العقل ہے لیکن جنسِ مرد کے مقابلے میں۔
منکرین سماعِ موتیٰ کے استدلال کا جواب:
﴿اِنَّکَ لَا تُسۡمِعُ الۡمَوۡتٰی وَ لَا تُسۡمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوۡا مُدۡبِرِیۡنَ﴿۸۰﴾ وَ مَاۤ اَنۡتَ بِہٰدِی الۡعُمۡیِ عَنۡ ضَلٰلَتِہِمۡ ؕ اِنۡ تُسۡمِعُ اِلَّا مَنۡ یُّؤۡمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَہُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴿۸۱﴾﴾
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسلسل دعوت سے کفار نہ مانتے تو آپ غمزدہ ہوتے تھے۔ اللہ تعالی نے اپنے پیغمبر کو تسلی دی ہے کہ اے پیغمبر! ان کو سنانا آپ کے ذمے ہے، آپ سنا سکتے ہیں لیکن منوانا آپ کے بس میں نہیں ہے، اس لیے ان کےنہ ماننے پر آپ رنجیدہ خاطر نہ ہوا کریں۔ جس طرح قبر پر آپ کسی مردے کو سنا دیں اور وہ بات قبول نہ کرے اسی طرح اگر یہ بات سنیں اور قبول نہ کریں تو یہ مردوں کی طرح ہیں۔ اس لیے یہ قلباً مردے ہیں، آپ زیادہ پریشان نہ ہوا کریں، آپ کے ذمے کفار کو سمجھانا ہے، کافر نہ سمجھیں تو آپ پریشان نہ ہوں، بس بات سنا کر اور سمجھا کر ختم کر دیں۔
ان آیات کے تحت بعض مفسرین سماعِ موتیٰ کی بحث شروع کر دیتے ہیں اور بعض لوگ ان آیات کے تحت بلا وجہ اس بحث کو چھیڑ دیتے ہیں حالانکہ ان آیات کا سماعِ موتیٰ کے مسئلے کے ساتھ دور کا بھی کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہے۔ اللہ نے اپنے نبی کو سمجھانا ہے اور انہیں تسلی دینی ہے تو اس کے لیے اللہ رب العزت نے یہ تعبیر اختیار فرمائی ہے۔ اب اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ مردے سنتے نہیں ہیں یہ بالکل فضول سی بحث ہے۔ جو لوگ سماعِ موتیٰ کے منکر ہیں ان کا استدلال یہ ہے کہ حضور مردوں کو سنا نہیں سکتے لہذا مردے سن بھی نہیں سکتے، کیوں؟
﴿اِنَّکَ لَا تُسۡمِعُ الۡمَوۡتٰی وَ لَا تُسۡمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ ﴾
کہ اللہ نےموتیٰ کو تشبیہ دی ہے بہرے کے ساتھ اور یہ تشبیہ تب ہی صحیح ہو گی جب مردہ نہ سنے۔ اگر مردہ سن لے تو بہرے کے ساتھ تشبیہ کیسے درست ہو گی؟ تو یہ
”صم“
کا لفظ بتا رہا ہے کہ مردہ نہیں سنتا۔ آپ اندازہ فرمائیں کہ کتنی بڑی بد دیانتی اور دھوکہ دیا جا رہا ہے!
ہم کہتے ہیں کہ پہلی بات یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے اِسماع کی نفی کی ہے اور اِسماع کی نفی سے سماع کی نفی نہیں ہوتی۔ یہ فرمایا ہے کہ آپ مردوں کو سنا نہیں سکتے، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مردے سنتے بھی نہیں۔ قرآن کریم میں ہے:
﴿اِنَّکَ لَا تَہۡدِیۡ مَنۡ اَحۡبَبۡتَ﴾
اے پیغمبر! آپ جسے چاہیں اسے آپ ہدایت نہیں دے سکتے۔ اب اس کا معنی کوئی بندہ یہ کرے کہ ”کسی کو ہدایت مل بھی نہیں سکتی“ تو یہ معنی ہرگز درست نہیں ہے کیونکہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہدایت نہیں دے سکتے، ہدایت دینے کی نفی تو ہے لیکن کیا اس کی بھی نفی ہے کہ کسی کو ہدایت مل بھی نہیں سکتی؟ اس کی نفی نہیں ہے۔ تو نفیِ اِسماع سے نفیِ سماع نہیں ہوتا۔
اور یہ جو ان لوگوں کا استدلال ہے
﴿وَ لَا تُسۡمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ ﴾
سے کہ موتیٰ کو بہرے کے ساتھ تشبیہ دی ہے اگر یہ سن لیں تو بہرے کے ساتھ تشبیہ کیسے ہوئی؟ تو ہم کہتے ہیں کہ قرآن کریم کے آغاز میں سورت بقرۃ کا دوسرا رکوع ہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿صُمٌّۢ بُکۡمٌ عُمۡیٌ فَہُمۡ لَا یَرۡجِعُوۡنَ﴾
کہ یہ کفار بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں، بہرے ہیں تو اب یہ حق کی طرف نہیں لوٹیں گے۔ تو یہاں فرمایا
”صُمٌّ“
یہ کفار بہرے ہیں۔ تو کفار سنتے ہیں یا نہیں؟ کفار تو سنتے ہیں لیکن اللہ فرماتے ہیں کہ یہ بہرے ہیں۔ فرمایا
”بُکۡمٌ“
یہ کفار گونگے ہیں۔ ابوجہل اور اس کے ساتھی بولتے تو تھے تو پھر اللہ انہیں
”بُکۡمٌ“
کیوں کہتےہیں؟
”عُمۡیٌ“
یہ اندھے ہیں حالانکہ وہ دیکھتے تھے پھر
”عُمۡیٌ“
کیوں فرمایا؟ تو
﴿وَ لَا تُسۡمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ ﴾
میں تو موتیٰ کو صرف
”الصُّمَّ“
فرمایا تو تمہیں اشکال ہورہاہے اور سورۃ البقرۃ میں کفار کو
”صُمٌّ“
بھی کہا،
”بُکۡمٌ“
بھی کہا،
”عُمۡیٌ“
بھی کہا حالانکہ یہ سنتے بھی تھے بولتے بھی تھےدیکھتے بھی تھے۔ اب اس کا کیا مطلب ہے؟ ذرا توجہ رکھنا! اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کفار سنتے ہیں لیکن قبول نہیں کرتے، یہ بولتے ہیں لیکن حق نہیں بولتے، یہ دیکھتے ہیں لیکن صحیح بات نہیں دیکھتے کہ دیکھ کر قبول کر لیں۔ تو ان کی حالت اس بہرے کی طرح ہے جو سنتا ہی نہیں ہے، اس گونگے کی طرح ہے جو بولتاہی نہیں ہے، اس اندھے کی طرح ہے جو دیکھتا ہی نہیں ہے، اب دونوں برابر ہیں کیونکہ وہ سنتا نہیں اور یہ سنتے ہیں لیکن قبول نہیں کرتے، وہ دیکھتا نہیں اور یہ دیکھتے ہیں لیکن قبول نہیں کرتے، وہ بولتا نہیں اور یہ بولتے ہیں لیکن حق نہیں بولتے، تو ان کے دیکھنے، بولنے اورسننے کیا فائدہ ہے؟
بالکل اسی طرح اس آیت
﴿اِنَّکَ لَا تُسۡمِعُ الۡمَوۡتٰی وَ لَا تُسۡمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ﴾
میں موتیٰ کو تشبیہ دی ہے
”صُمٌّ“
کے ساتھ جس طرح وہاں کفار کو تشبیہ دی ہے
”صُمٌّ“
کے ساتھ، تو جو معنی کفار کو
”صُمٌّ“
کے ساتھ تشبیہ دینے کا وہاں ہو گا وہی معنیٰ موتیٰ کو
”صُمٌّ“
کے ساتھ تشبیہ دینے کا یہاں ہو گا۔ وہاں معنی یہ ہے کہ کافر بات سن بھی لے تب بھی کوئی فائدہ نہیں ہے اس لیے کافر بہرے کی طرح ہے اور یہاں معنی یہ ہے کہ مردہ سن بھی لےتب بھی کوئی فائدہ نہیں ہے اس لیے مردہ بہرے کی طرح ہے ۔
منکرین حیات کو الزامی جواب:
ہم ایک اور بات کہتے ہیں کہ اگر تشبیہ دیکھنی ہے تو پھر تو قرآن کریم سے یہ تو ثابت ہوجائے گا کہ یہ سنتے نہیں ہیں لیکن ساتھ یہ بھی ثابت ہوجائے گا کہ مردے دوڑتے بھی ہیں کیونکہ قرآن کریم میں ہے:
﴿وَ لَا تُسۡمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوۡا مُدۡبِرِیۡنَ ﴿۸۰﴾﴾
کہ جب ایک شخص بہرا ہو اور واپس دوڑے تو وہ نہیں سنتا۔ تو کیا مردے دوڑتے ہیں؟ (نہیں۔ سامعین) تو اللہ نے مردے کو کس بہرے سے تشبیہ دی ہے؟ بہرا یا دوڑنے والا بہرا؟ (دوڑنے والا بہرا) توپھر کیا مردے دوڑتے بھی ہیں؟ اس لیے یہ بات اچھی طرح سمجھیں کہ ایک چیز ہوتی ہے مقید اور ایک ہوتی ہےمطلق۔ وہاں
صُمٌّۢ ، بُکۡمٌ، عُمۡیٌ
مطلق ہیں مقید نہیں ہیں اور یہاں
”صُمٌّ“
مقید ہے
﴿اِذَا وَلَّوۡا مُدۡبِرِیۡنَ﴾
کی قید کے ساتھ کہ یہاں اس بہرے سے تشبیہ ہے جو دوڑتا بھی ہو، اس کامعنی کہ یہ مردہ اس بہرے کی طرح ہے جو دوڑتا توہے لیکن سنتا نہیں ہے۔ تو اس سے تو پھر مردے کا دوڑنا ثابت ہوگا۔ منکرین حیات کہتے ہیں کہ ہم تو نہیں مانتے! میں نے کہا اب کیوں نہیں مانتے؟! جب قرآن کہہ رہاہے تو پھر آپ کیوں نہیں مانتے؟ آپ نے آدھی بات مان لی اور آدھی بات چھوڑ دی۔ بھائی! جب مقید کے ساتھ تشبیہ دی ہے مشبہ بہ مقید ہے تو مشبہ بھی مقید ہوگا نا! مشبہ بہ مطلق ہے تو مشبہ بھی مطلق ہوگا! تو جو وجہ ِتشبیہ ہے وہ قید کے ساتھ ہے اطلاق کے ساتھ نہیں ہے، آپ نے بات ماننی ہے تو پھر پوری بات مانو۔
”آپ اندھوں کو ہدایت نہیں دے سکتے!“ کا معنی:
﴿وَ مَاۤ اَنۡتَ بِہٰدِی الۡعُمۡیِ عَنۡ ضَلٰلَتِہِمۡ ؕ اِنۡ تُسۡمِعُ اِلَّا مَنۡ یُّؤۡمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَہُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴿۸۱﴾﴾
آپ اندھوں کو گمراہی سے بچا کر ہدایت کا راستہ نہیں دکھا سکتے۔ اب یہاں
”عُمۡی“
کسے کہا جا رہا ہے؟ آپ کہتے ہیں کہ مردے کو کہا جا رہا ہے۔ قرآن کریم نے زندہ کفار کو
”عُمۡی“
کہا ہے کہ جو راہِ حق نہیں دیکھنا چاہتے تو تم انہیں کیسے دکھا سکتے ہو؟
﴿اِنۡ تُسۡمِعُ اِلَّا مَنۡ یُّؤۡمِنُ بِاٰیٰتِنَا ﴾
آپ اس کا ترجمہ کیا کریں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایمان والوں کو سنا سکتے ہیں، آپ کافرو ں کو نہیں سنا سکتے؟
﴿اِنَّکَ لَا تُسۡمِعُ الۡمَوۡتٰی﴾
کا معنی آپ لوگوں نے یہ کیا کہ آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے اور اس کا نتیجہ یہ نکالا کہ مردہ سنتا نہیں ہے تو پھر
﴿اِنۡ تُسۡمِعُ اِلَّا مَنۡ یُّؤۡمِنُ بِاٰیٰتِنَا﴾
کے بارے میں کہیں کہ آپ کافر کو نہیں سنا سکتے لہذا کافر سنتا بھی نہیں ہے! کہتے ہیں جی! کافر تو سنتاہے۔
میں نے کہا کہ آیتیں دونوں ایک طرح کی ہیں۔ تو آپ دونوں کو الگ الگ کیوں بیان کرتے ہیں؟ اس لیے اس کا صحیح معنی یہ ہے کہ یہاں اِسماع کی نفی ہورہی ہے سماع کی نفی نہیں ہورہی اور یہ جو اِسماع کی نفی ہورہی ہےتو اس سے بھی اِسماع نافع اور قبول کی نفی ہورہی ہے کہ آپ ان کو ایسا نہیں سنا سکتے کہ وہ قبول بھی کرلیں جیسے مردہ سن بھی لے تو قبول نہیں کرتا۔ تو اس آیت کا سماع موتی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، خواہ مخوا ہ لوگ اس کو چھیڑ دیتے ہیں اور جب وہ بیان کریں گے تو ہم تردید بھی کریں گے۔بعض لوگ انبیاء علیہم السلام کے سماع کا انکار کرتے ہیں اور دلیل میں سورۃ فاطر کی آیت
﴿اِنَّ اللہَ یُسۡمِعُ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ مَاۤ اَنۡتَ بِمُسۡمِعٍ مَّنۡ فِی الۡقُبُوۡرِ ﴿۲۲﴾﴾
پیش کرتے ہیں، میں ان شاء اللہ سورۃ فاطر کی تشریح میں اس کا ذکر کروں گا اور صحیح تشریح آپ کے سامنے رکھوں گا۔
اب آپ میرا ایک تعجب سننا! میرا تعجب یہ ہے کہ لوگ ان آیات کی روشنی میں سماعِ موتی کی نفی عوام میں بیان کرتے ہیں اور جب ہم ان آیات کا صحیح معنی بیان کرکےعوام میں ان کا رد کرتے ہیں تو لوگ ہمیں کہتے ہیں کہ یہ عوام والا مسئلہ نہیں ہے، یہ تو علمی مسئلہ تھا عوام میں بیان نہیں کرناچاہیے تھا۔ میں نے کہا کہ یہ مسئلہ ہم نے عوام میں بیان کیا ہے؟ بیان انہوں نے کیا تھا ہم نے تو رد کیا ہے، جو بیان کرنے والا ہے اس کو تو آپ کچھ نہیں کہتے اور جو رد کرنے والا ہے آپ اسے کہتے ہیں کہ تم نے علمی مسائل عوام میں شروع کر دیے۔ تو میں نے کہا کہ عوام میں پھر علمی مسائل بیان نہ کیا کریں تو کیا جہالت والے مسائل بیان کیا کریں؟! یعنی مسائل کی دو قسمیں ہیں؛ بعض علمی اور بعض جاہلانہ، درس گا ہ میں علمی مسائل بیان ہونے چاہییں اور عوام میں جاہلانہ باتیں ہونی چاہییں، اس کا تو پھر یہی معنی ہو گا نا؟ بھائی فتنہ جب عوام میں ہو گا تو اس کا رد بھی تو عوام میں ہو گا!
میں نے آپ سے کئی بار کہا کہ آپ لوگ ہمیں اور ان کو برابر کی صف میں کھڑا کر دیتے ہیں۔ آپ بازار میں تھے آپ کے پاس موبائل تھا، ایک شخص آپ سے موبائل چھینتا ہے اور آپ اس سے موبائل واپس لے لیتے ہیں، پولیس دونوں کو پکڑےگی؟ (نہیں۔ سامعین) بھائی! ہماراموبائل ہے وہ چھین رہا تھا، میں تو موبائل کو واپس لے رہا ہوں۔ یہ لوگ عوام میں صحیح عقیدہ کی تردید کر رہے ہیں اور ہم ان کی نفی کرتےہیں تو لوگ کہتے ہیں کہ تم دونوں فتنہ باز ہو! بھائی دونوں ایک جیسے کیسے ہو گئے ہیں؟
اور سماعِ موتی کے مسئلے کو سمجھنے کے لیے آپ حضرت مولانا مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا ایک رسالہ
”تکمیل الھبور بسماع اہل القبور“
ہے اس کا مطالعہ فرمائیں، بڑے آرام سے مسئلہ سمجھ میں آ جائے گا۔ اللہ ہم سب کو بات سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
علامت قیامت؛ دابۃ الارض کا نکلنا
﴿وَ اِذَا وَقَعَ الۡقَوۡلُ عَلَیۡہِمۡ اَخۡرَجۡنَا لَہُمۡ دَآبَّۃً مِّنَ الۡاَرۡضِ تُکَلِّمُہُمۡ ۙ اَنَّ النَّاسَ کَانُوۡا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوۡقِنُوۡنَ ﴿٪۸۲﴾﴾
اورجب ہماری بات پوری ہونے کا وقت ان لوگوں کے پاس آ پہنچے گا یعنی قیامت قریب ہو گی تو ہم ان کے لیے زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے باتیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ یہ جانور اس لیے نکالیں گے کہ لوگ اللہ کی آیتوں پر یقین نہیں رکھتے تھے۔
قیامت کی دس علامات:
حضرت حذیفہ بن اَسِید غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک دس علامات ظاہر نہ ہو جائیں۔
1:
”طُلُوْعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا“
سورج مشرق کے بجائےمغرب سے طلوع ہو گا۔
2 :
”وَخُرُوجُ الدَّابَّةِ“
دابۃ الارض کا نکلنا۔ صفا پہاڑی جو حرم کے بالکل اندر ہے اور مطاف کے بالکل ساتھ ہےوہ پہاڑی پھٹےگی اور اس کے اندرسے ایک جانور نکلے گا مٹی جھاڑتا ہوا، مقام ابراہیم پر پہنچےگا تو کچھ لوگ وہاں سے دوڑ جائیں گے اور کچھ رہ جائیں گے، یہ ان کے چہرے کو نور سےمنور کر دے گا اور یہ دنیا میں ہرکافر تک پہنچے گا، اب یہ کیسے پہنچے گا اس کا حال اللہ کو معلوم ہے، روایات میں بس اتنا ہی آیا ہے اور یہ لوگوں سےباتیں کرے گا کہ تم اللہ کی نشانیوں کو نہیں مانتے تھے، اب قیامت آگئی، بار بار یہی کہے گا کہ تم نہیں مانتے تھے، تم نہیں مانتے تھے،تم نہیں مانتےتھے۔ اس کے آنے کے بعد اگر کوئی کافرکلمہ پڑھنا چاہے گا تو نہیں پڑھ سکے گا چونکہ اب ایسی علامت آ گئی ہے کہ کلمہ پڑھنے کا وقت ختم ہوگیا ہے۔
3:
”وَخُرُوجُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ“
یاجوج ماجوج کانکلنا۔
4، 5، 6:
”وَالدَّجَّالُ وَعِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَالدُّخَانُ“
دجال کا نکلنا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا اور دھویں کا نکلنا۔
7، 8، 9:
”وَثَلاَثُ خُسُوفٍ خَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ“
تین خسوف ہوں گے یعنی لوگ زمین میں دھنسنا شروع ہوجائیں گے، ایک خسوف مغرب میں، ایک مشرق میں اور ایک جزیرۃ العرب میں۔ اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ یہ قیامت کے بالکل قریب قریب کی علامات ہیں۔
10:
”وَآخِرُ ذٰلِكَ تَخْرُجُ نَارٌ مِنَ الْيَمَنِ مِنْ قَعْرِ عَدَنَ تَسُوْقُ النَّاسَ إِلَى الْمَحْشَرِ“
اور آخری علامت یہ ہو گی کہ وسط عدن سے ملک یمن میں ایک آگ نکلے گی جو پوری انسانیت کو گھیرنا شروع کردے گی، لوگ جہاں سونا چاہیں گے وہاں آگ رک جائے گی، جہاں کھائیں گے رک جائے گی، یہ آگ لوگوں کو میدانِ محشر سر زمین شام کی طرف لائے گی۔ او ر اس کے بعد پھر قیامت شروع ہوجائے گی۔
سنن ابی داؤد، رقم: 4311
اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائیں۔ (آمین)
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ․