اصولِ مناظرہ

User Rating: 3 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar InactiveStar Inactive
 
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اصولِ مناظرہ
مناظر کیلئے اصول مناظرہ کے حوالے سے دس باتوں کا جاننا اور سمجھنا ضروری ہے:
1:تعریف علمِ مناظرہ
2: موضوع علمِ مناظرہ
3: غرض علمِ مناظرہ
4: مناظرہ
5: طریقہ مناظرہ
6: ثبوتِ مناظرہ
7: حکمِ مناظرہ
8: آدابِ مناظرہ
9: متعلقاتِ مناظرہ
10: اہمیت و حیثیت مناظرہ
[1]:تعریف علم مناظرہ
ھُوَ عِلْمٌ یُّعْرَفُ بِہٖ کَیْفِیَّۃُ آدَابِ اِثْبَاتِ الْمَطْلُوْبِ اَوْ نَفْیِہٖ اَوْنَفْیِ دَلِیْلِہٖ مَعَ الْخَصْمِ.
ترجمہ : علم مناظرہ وہ علم ہے جس میں اپنے دعویٰ کے اثبات یا فریق مخالف کے دعویٰ یا اس کی دلیل کو توڑنے کے طریقے معلوم کئے جائیں۔
[2:] موضوع علم مناظرہ
اَلْأَدِلَّۃُ مِنْ حَیْثُ أَنَّھَا تُثْبِتُ الْمُدَّعٰی عَلَی الْغَیْرِ.
ترجمہ : وہ دلائل جو دوسرے کے خلاف دعویٰ کو ثابت کریں۔
[3]:غرض علم مناظرہ
صِیَانَۃُ الذِّھْنِ عَنِ الْخَطَأِ فِی الْوُصُوْلِ اِلَی الْمَطْلُوْبِ.
ترجمہ : مقصود تک پہنچنے میں ذہن کو غلطی سے بچانا۔
[4]: مناظرہ
لغوی معنی :
(۱) اگر مناظرہ ’’نظیر‘‘ سے مشتق ہو تو معنی ہوگا ’’ہم مثل ہونا‘‘۔ اسی لئے کہتے ہیں: ”یَنْبَغِیْ لِلْمُنَاظَرَیْنِ أَنْ یَّکُوْنَا مُتَسَاوِیَیْنِ فِی الْعِلْمِ“ یعنی دونوں مناظروں کو علم میں ہم پلہ ہونا چاہئے۔
فائدہ: ’’تساوی فی العلم ‘‘امر تقریبی ہے، تحقیقی نہیں ہے۔ مثلاً دونوں مناظر اپنے اپنے مسلک کے وفاق کے فاضل ہوں۔
(۲) اگر مناظرہ ’’ نظر‘‘ بمعنی ’’رؤیت‘‘سے مشتق ہو تو معنی ہوگا ’’ایک دوسرے کو دیکھنا‘‘۔ اسی لئے کہتے ہیں :’’یَنْبَغِیْ لِلْمُنَاظِرَیْنِ أَنْ یُّبْصِرَ کُلُّ وَاحِدٍ مِّنْھُمَا الْآخَرَ‘‘ یعنی مناظرین کو چاہئے کہ ہر ایک دوسرے کو دیکھتا رہے۔
(۳) اگر مناظرہ’’ نظر‘‘ بمعنی ’’غور وفکر‘‘ سے مشتق ہو تو معنی ہوگا ایک دوسرے کے کلام میں غور و فکر کرنا۔ اسی لئے کہتے ہیں:’’یَنْبَغِیْ لِلْمُنَاظَرَیْنِ أَنْ یَتَفَکَّرَ کُلُّ وَاحِدٍ مِّنْھُمَا فِیْ کَلاَمِ الْآخَرِ‘‘ یعنی دونوں مناظروں میں سے ہر ایک کو دوسرے کے کلام میں غور و فکر کرنا چاہئے۔
(۴) اگر مناظرہ ’’ نظر‘‘ بمعنی ’’انتظار‘‘ سے مشتق ہوتو معنی ہوگا ’’انتظار کرنا‘‘۔ اسی لئے کہتے ہیں :’’یَنْبَغِیْ لِلْمُنَاظِرَیْنِ أَنْ یَّنْتَظِرَ کُلُّ وَاحِدٍ مِّنْھُمَا انْتَھَائَ کَلَامِ الْآخَرِ“ یعنی مناظرین میں سے ہر ایک کو دوسرے کے کلام ختم ہونے کا انتظار کرنا چاہیے۔
اصطلاحی معنی:
تَوَجُّہُ الْمُتَخَاصِمَیْنِ فِی النِّسْبَۃِ بَیْنَ الشَّیْئَیْنِ اِظْھَارًا لَّلصَّوَابِ.
ترجمہ: دو چیزوں کے درمیان نسبت کے بارے میں درست بات کو ثابت کرنے کیلئے فریقین کا گفتگو کرنا۔
فائدہ نمبر1: لغوی و اصطلاحی معنی کا مطلب :
لغوی معنی : لفظ کا اصلی معنی جو اہل زبان مراد لیتے ہیں۔
اصطلاحی معنی: لفظ کا وہ معنی جو اہل زبان یا اہل علاقہ یا اہل فن متعین کر لیں۔ مثلاً ”اَطْوَلُ یَدًا“ کا لغوی معنی ’’لمبے ہاتھ والا ہونا ‘‘ہے، لیکن اہل زبان اس سے وصفِ سخاوت مراد لیتے ہیں۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن سے فرمایا:
أَسْرَعُکُنَّ بِیْ لِحَاقاً أَطْوَلُکُنَّ یَدًا.
(صحیح مسلم: ج 2ص291 باب فضائل زینب ام المومنین رضی اللہ عنہا)
ترجمہ: میری وفات کے بعدتم میں سے سب سے پہلے اس بیوی کی وفات ہو گی جس کے ہاتھ لمبے ہوں گے۔
اس سے مراد حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا تھیں کیونکہ وہ سخاوت میں ممتاز تھیں۔
فائدہ :
یہ حدیث مبارک تفصیلا امام ابو القاسم سلیمان بن احمد الطبرانی (ت 360ھ) نے نقل کی جویہ ہے :
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ يَوْمٌ مِنَ السَّنَةِ تَجْمَعُ فِيْهِ نِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهُ يَوْمًا إِلَى اللَّيْلِ، قَالَتْ: وَفِي ذٰلِكَ الْيَوْمِ قَالَ: "أَسْرَعُكُنَّ لُحُوقًا أَطْوَلُكُنَّ يَدًا". قَالَتْ: فَجَعَلْنَا نَتَذَارَعُ بَيْنَنَا أَيُّنَا أَطْوَلُ يَدَيْنِ، قَالَتْ: فَكَانَتْ سَوْدَةُ أَطْوَلُهُنَّ يَدًا، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ زَيْنَبُ عَلِمْنَا أَنَّهَا كَانَتْ أَطْوَلَهُنَّ يَدًا فِي الْخَيْرِ وَالصَّدَقَةِ"
(المعجم الاوسط للطبرانی: ج4 ص 370 رقم الحدیث 6276)
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں سال میں ایک مرتبہ تمام ازواج مطہرات صبح سے شام تک حضور علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوتیں۔ ایک مرتبہ ایسے موقع پہ آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: میری وفات کے بعدتم میں سے سب سے پہلے اس بیوی کی وفات ہو گی جس کے ہاتھ لمبے ہوں گے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ہم نے ہاتھ ناپنا شروع کردئیے تاکہ دیکھیں کس کے ہاتھ زیادہ لمبے ہیں! تو سب سے لمبے ہاتھ سیدہ سودہ کے تھے لیکن جب سیدہ زینب کی وفات ہوئی تو ہمیں بات سمجھ آئی کہ وہ سخاوت میں سب سے آگے تھیں ۔
نوٹ : فن بد ل جائے تو معنی اصطلاحی بدل جاتاہے جیسے لفظ ’’ کلمہ‘‘ جب درجہ حفظ کی درس گاہ میں بولا جائے گا تو اس سے مراد’’کلمہ طیبہ‘‘ ہوگا، علم نحو میں اس سے مراد’’لَفْظٌ وُضِعَ لِمَعْنًی مُفْرَدٍـ‘‘ ( وہ لفظ جو ایک معنی کیلئے وضع کیاگیا ہو )۔ اسی طرح تصوف کے باب میں ’’مشکل کشا‘‘ کا معنی’’تزکیہ کرنے والا‘‘ ہے اور باب عقیدہ میں اس کامعنی ’’ما فوق الاسباب مدد کرنے والا‘‘ ہے۔
فائدہ نمبر2:
نسبت سے’’ نسبۃ تامہ خبریہ بین الشیئین‘‘ مراد ہے ،کیونکہ نسبت ناقصہ اور نسبت تامہ انشائیہ میں مناظرہ نہیں ہوتا۔ اسی لئے کہتے ہیں:
لَا یَتَحَقَّقُ الْمُنَاظَرَۃُ فِی النِّسْبَۃِ النَّاقِصَۃِ بَیْنَ الشَّیْئَیْنِ وَلَا فِی الْاِنْشَائِیَّاتِ.
ترجمہ: مناظرہ دو چیزوں میں پائی جانے والی نسبتِ ناقصہ میں نہیں ہوتا اور نہ ہی انشائیات میں ہوتا ہے۔
تنبیہ:
نسبت کی تین قسمیں ہیں:
1:نسبت ناقصہ:
وہ کلام ہوتا ہے جس سے سامع کو کوئی فائدہ حاصل نہ ہو، سماعت کے بعد سامع کا اس پر خاموش رہنا درست نہ ہوجیسے غلام عمر۔
2:نسبت تامہ خبریہ:
وہ کلام ہوتا ہے جس کے قائل کو سچا یا جھوٹا کہا جاسکے جیسے زید قائم ،الانبیاء احیاء فی قبورھم یصلون ۔
3:نسبت تامہ انشائیہ:
وہ کلام ہوتا ہے جس کے قائل کو سچا یا جھوٹا نا کہا جاسکے۔جیسے انصر، لا تضرب۔
فائدہ نمبر3: مناظرہ ، مجادلہ اور مکابرہ میں فرق:
مناظرہ :
تَوَجُّہُ الْمُتَخَاصِمَیْنِ فِی النِّسْبَۃِ بَیْنَ الشَّیْئَیْنِ اِظْھَارًا لَّلصَّوَابِ .
ترجمہ : دو چیزوں کے درمیان نسبت کے بارے میں درست بات کو ثابت کرنے کیلئے فریقین کا گفتگوکرنا۔
مجادلہ :
أَلْمُنَازَعَۃُ لَا لِاِظْھَارِ الصَّوَابِ بَلْ لِاِ لْزَامِ الْخَصْمِ.
ترجمہ : فریقین کا اثبات حق کیلئے نہیں بلکہ فریق مخالف کو چپ اور رسوا کرنے کیلئے گفتگو کرنا۔
مکابرہ:
أَلْمُنَازَعَۃُ لَا لِاِظْھَارِ الصَّوَابِ وَلَالِاِلْزَامِ الْخَصْمِ .
ترجمہ : فریقین کا اثبات حق اور فریق مخالف کو خاموش کرانے کے علاوہ کسی اور مقصد مثلاً شہرت وغیرہ کیلئے گفتگو کرنا۔
[5]: طریقہ مناظرہ
فریقین میں سے ایک مدعی اور دوسرا مدعیٰ علیہ ہو۔ مدعی کو معلل ، مجیب اور مدعیٰ علیہ کو منکر، سائل اور نافی بھی کہتے ہیں۔
مدعی:
مَنْ نَصَبَ نَفْسَہُ لِاِ ثْبَاتِ الْحُکْمِ بِالدَّلِیْلِ أَوِالتَّنْبِیْہِ.
ترجمہ: مدعی وہ ہے جو دعویٰ کو دلیل یا تنبیہ کے ساتھ ثابت کرنے کی ذمہ داری قبول کر ے۔
سائل :
مَنْ نَصَبَ نَفْسَہُ لِنَفْیِ الْحُکْمِ.
ترجمہ : سائل وہ شخص ہے جو مدعی کے دعویٰ کو توڑنے کی ذمہ داری قبول کرے۔
فائدہ نمبر1:
دلیل: دلیل کی عموماً دو تعریفیں کی جاتی ہیں۔
1: أَلْمُرَکَّبُ مِنَ الْقَضْیَتَیْنِ لِلتَّعَدِّیْ اِلٰی مَجْھُوْلٍ نَظْرِیٍّ.
ترجمہ : مجہول نظری تک پہنچنے کیلئے دو قضیوں سے مرکب شئی کو’’دلیل‘‘ کہتے ہیں۔
فائدہ:
مجہول نظری:
وہ ہوتاہے جس میں غور وفکر کی اور کچھ مقدمات ملانے کی ضرورت پڑے جیسے عالم کاحادث ہونا ۔حدوث عالم کوسمجھنے کے لئے غور وفکر اور مقدمات کی ترتیب ضروری ہوتی ہے کہاجاتاہے :العالم متغیر وکل متغیر حادث العالم حادث۔
2: مَا یَلْزَمُ مِنَ الْعِلْمِ بِہِ الْعِلْمُ بِشَيْئٍ آخَرَ.
ترجمہ : دلیل وہ چیز ہے جس کے علم سے دوسری چیز کا علم از خود ہو جائے۔
تنبیہ : دعویٰ کے خفاء کو جس وضاحت سے دور کریں اس وضاحت کو’’ تنبیہ ‘‘کہتے ہیں۔ مثلاً ہمارا دعویٰ ہے کہ انبیاء علیہم السلام اپنی قبور میں زندہ ہیں ، اس پر دلیل یہ حدیث مبارک ہے:
أَلْاَنْبِیَائُ أَحْیَائٌ فِیْ قُبُوْرِھِمْ یُصَلُّوْنَ.
(مسند ابی یعلیٰ: ص658 رقم الحدیث3425 عن انس)
ترجمہ: تمام انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نماز پڑھتے ہیں۔
اس پر منکرین حیات الانبیاء یہ اعتراض کرتے ہیں کہ کوئی شخص اپنے زندہ باپ کو قبر میں دفن نہیں کرتا۔ اگر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زندہ ہیں تو کیا صحابہ رضی اللہ عنہم (العیاذباللہ) اتنے ظالم تھے کہ زندہ نبی کو دفن کر دیا؟ جواب دیتے ہوئے ہم نے اپنے دعویٰ کی وضاحت یوں کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عالم دنیا میں فوت ہوئے اور عالم برزخ میں زندہ ہیں۔
فائدہ نمبر 2:
دعویٰ کبھی اثباتاً ہوتا ہے، جیسے کوئی غیر مقلد کہے: ”فاتحہ خلف الامام فرض ہے“ اور کبھی نفیاً ہوتا ہے ،جیسے کوئی غیر مقلد کہے: ”مقتدی کی نماز امام کے پیچھے بغیر فاتحہ کے نہیں ہوتی۔“
فائدہ نمبر3:
مدعی نے چونکہ اپنا دعویٰ ثابت کرنا ہوتا ہے اس لئے پہلی نشست مدعی کی ہوتی ہے اورمدعی نے چونکہ اپنے دعویٰ کو ثابت کرنے کی ذمہ داری لی ہے اس لئے مناظرہ میں آخری نشست بھی مدعی کی ہوتی ہے۔
فائدہ نمبر 4:
آخری نشست میں مدعی کوئی نئی دلیل پیش نہیں کر سکتا ،البتہ یہ بیان کر سکتا ہے کہ اس نے کس کس دلیل سے اور کیسے اپنے دعویٰ کو ثابت کیا ہے۔
[6]: ثبوت مناظرہ
دلیل نمبر1:
قَالَ اللّہُ تَعَالٰی : ﴿اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْ حَاۗجَّ اِبْرٰہٖمَ فِیْ رَبِّہٖٓ اَنْ اٰتٰہُ اللّہُ الْمُلْکَ ۘ اِذْ قَالَ اِبْرٰھٖمُ رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ ۙ قَالَ اَنَا اُحْیٖ وَاُمِیْتُ ۭ قَالَ اِبْرٰھٖمُ فَاِنَّ اللّٰہَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِھَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُھِتَ الَّذِیْ کَفَرَ ۭ وَاللّہُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ﴾
(سورۃ البقرۃ آیت: 258)
ترجمہ : (اے نبی !) کیا آپ نے اس کو بھی دیکھا کہ جس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اس کے رب کے معاملہ میں حجت کی تھی اس غرور میں آکر کہ اس کو خدا نے سلطنت دی تھی جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ میرارب تو وہ ہے کہ جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے ، اس نے کہا میں بھی تو زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا :میرا رب تو آفتاب کو مشرق سے نکالا کرتا ہے سو تو اس کو مغرب کی طرف سے نکال دے ، تب وہ کافر حیران رہ گیا اوراللہ تعالیٰ ناانصاف لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔
توضیح : حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دونوں دلیلوں کی بنیاد یہ تھی کہ عدم کو وجود دینا اوروجود کوعدم دینامیرے رب کاکام ہے، مگر دوسری دلیل چونکہ عوامی سطح کی تھی جسے عوام سمجھ گئی اس لیے نمرود مناظرہ ہار گیا۔ حضر ت ابراہیم علیہ السلام نے انداز بدلاہے دلیل کی بنیاد نہیں بدلی۔
استدلال:
(۱) مشہور متکلم، مفسر اور فقیہ امام ابو منصور محمد بن محمد بن محمود ماتریدی الحنفی رحمہ اللہ (ت333ھ) اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:
وَفِيْهِ إِبَاحَةُ التَّكَلُّمِ فِي الْكَلَامِ وَالْمُنَاظَرَةِ فِيْهِ وَالْحِجَاجِ بِقَوْلِهٖ: (حَاۗجَّ اِبْرٰہٖمَ فِیْ رَبِّہٖ) وَرَدٌّ عَلٰى مَنْ يَمْنَعُ التَّكَلُّمَ فِيْهِ لِأَنَّا أُمِرْنَا بِدُعَاءِ الْكَفَرَةِ جَمِيْعًا إِلٰى وَحْدَانِيَةِ اللهِ تَعَالٰى وَالْإِقْرَارِ لَهٗ بِذٰلِكَ وَالْمَعْرِفَةِ لَهٗ أَنَّهٗ كَذٰلِكَ، وَكَذٰلِكَ الْأَنْبِيَاءُ بَأَجْمَعِهِمْ أُمِرُوْا وَنُدِبُوْا إِلٰى دُعَاءِ الْكَفَرَةِ إلٰى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيْكَ لَهٗ فَإِنْ دَعَوْنَاهُمْ إِلٰى ذٰلِكَ فَلَا بُدَّ مِنْ أَنْ يَطْلُبُوْا مِنَّا الدَّلِيْلَ عَلٰى ذٰلِكَ وَالْبَيَانَ عَلَيْهِ وَالْوَصْفَ لَهٗ كَمَا هُوَ وَالتَّقْرِيْرُ عِنْدَهُمْ أَنَّهٗ كَذَا ؛ فَلَا يَكُوْنُ ذٰلِكَ إِلَّا بَعْدَ الْمُنَاظَرَةِ وَالْحِجَاجِ فِيْهِ. لِذٰلِكَ قُلْنَا: إِنَّہٗ لَا بَأْسَ بِالتَّكَلُّمِ وَالْمُنَاظَرَةِ فِيْهِ.
(تاویلات اہل السنۃ: ج1ص218)
ترجمہ: اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿حَاۗجَّ اِبْرٰہٖمَ فِیْ رَبِّہٖ﴾ سے ثابت ہوتا ہے کہ علم الکلام میں گفتگو کرنا، مناظرہ کرنا اور بحث و مباحثہ کرنا جائز ہے۔ نیز اس آیت میں ان لوگوں کا بھی رد ہے جو علم الکلام میں گفتگو سے منع کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم کفار کو اس بات کی دعوت دیں کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے، اس کے ایک ہونے کا اقرار کیا جائے اور اس بات کو دل سے مانا جائے کہ وہ ایسے ہی ہے (یعنی وحدہ لا شریک ہے) اسی طرح تمام انبیاء علیہم السلام کو یہ حکم دیا گیا ہے اور اس بات کی تلقین کی گئی ہے کہ وہ کفار کو ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيْكَ لَهٗ“ کی گواہی کی دعوت دیں۔ چنانچہ جب ہم انہیں اس بات کی دعوت دیں گے تو لازمی طور پر وہ ہم سے اس کی دلیل مانگیں گے اور یہ مناظرہ اور گفتگو کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔ اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ علم الکلام میں گفتگو کرنا اور اس میں مناظرہ کرنا جائز ہے۔
(۲) امام ابوعبد اللہ محمد بن احمد بن ابوبکر المعروف قرطبی رحمہ اللہ ت671ھ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
وَتَدُلُّ عَلىٰ إثْبَاتِ الْمُنَاظَرَةِ وَالْمُجَادَلَةِ وَإقَامَةِ الْحُجَّةِوَفِي الْقُرْآنِ وَالسُّنَّةِ مِنْ هٰذا كَثِيْر لِمَنْ تَأَمَّلَهُ
(الجامع لاحکام القرآن سورۃ البقرہ آیت:257)
(۳)علامہ ابو البرکات حافظ الدین عبد اللہ بن احمد بن محمود النسفی رحمہ اللہ (م710ھ) اس آیت کی تفسیر میں فر ما تے ہیں:
وَالْآيَةُ تَدُلُّ عَلٰى إِبَاحَةِ التَّكَلُّمِ فِي عِلْمِ الْكَلَامِ وَالْمُنَاظَرَةِ فِيْهِ لِأَنَّهٗ قَالَ ﴿اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْ حَاۗجَّ اِبْرٰہٖمَ فِیْ رَبِّہٖ﴾ وَالْمُحَاجَّةُ تَكُوْنُ بَيْنَ اثْنَيْنِ فَدَلَّ عَلٰى أَنَّ إِبْرَاهِيْمَ حَاجَّهٗ أَيْضًا وَلَوْ لَمْ يَكُنْ مُبَاحًا لَمَا بَاشَرَهَا إِبْرَاهِيْمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لِكَوْنِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ مَعْصُوْمِيْنَ عَنِ ارْتِكَابِ الْحَرَامِ وَلِأَنَّا أُمِرْنَا بِدُعَاءِ الْكَفَرَةِ إِلَى الْإِيْمَانِ بِاللهِ وَتَوْحِيْدِهٖ وَإِذَا دَعَوْنَاهُمْ إِلٰى ذٰلِكَ لَا بُدَّ أَنْ يَطْلُبُوْا مِنَ الدَّلِيْلَ عَلٰى ذٰلِكَ وَذَا لَا يَكُوْنُ إِلَّا بَعْدَ الْمُنَاظَرَةِ كَذَا فِيْ شَرْحِ التَّأْوِيْلَاتِ.
(مدار ک التنزیل وحقائق التاویل المعروف تفسیر المدارک: ج1 ص201)
ترجمہ: یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ علم الکلام میں گفتگو کرنا اور مناظرہ کرنا جائز ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْ حَاۗجَّ اِبْرٰہٖمَ فِیْ رَبِّہٖ﴾ اور دلیل و حجت قائم کرنا فریقین کے درمیان ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی اس شخص سے مناظرانہ گفتگو فرمائی تھی۔ اگر مناظرہ جائز نہ ہوتا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کبھی یہ گفتگو نہ فرماتے اس لیے کہ انبیاء علیہم السلام حرام کے ارتکاب سے محفوظ اور بچے ہوئے ہیں۔ مناظرہ کے جواز کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم کفار کواللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور اس کی توحید کی دعوت دیں تو جب ہم انہیں اس بات کی دعوت دیں گے تو لازمی طور پر وہ ہم سے اس کی دلیل مانگیں گے اور یہ مناظرہ کے بعد ہی ممکن ہو گا۔اسی طرح کی بات شرح التاویلات (تاویلات اہل السنۃ لابی منصور الماتریدی) میں ہے۔
(۴) شیخ التفسیر حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی (م1394ھ) اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:
”ان آیات میں ابراہیم علیہ السلام کا نمرود بن کنعان سے مناظرہ اور مکالمہ بیان کرتے ہیں۔“ (معارف القرآن: ج1 ص498)
دلیل نمبر2:
ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ مِنَ الضَّأْنِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَيْنِ قُلْ آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ أَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ الْأُنْثَيَيْنِ نَبِّئُونِي بِعِلْمٍ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
(سورۃ الانعام آیت 143)
ترجمہ: (مویشیوں کے) کل آٹھ جوڑے اللہ نے پیدا کیے ہیں۔ دو صنفیں (نر اور مادہ) بھیڑوں کی نسل سے اور دو بکریوں کی نسل سے، ذرا ان سے پوچھو کہ: ”کیا دونوں نروں کو اللہ نے حرام کیا ہے یا دونوں مادہ کو؟ یا ہر اس بچے کو جو دونوں نسلوں کی مادہ کے پیٹ میں موجود ہو؟ اگر تم سچے ہو تو کسی علمی بنیاد پر مجھے جواب دو!
استدلال:
1مشہور مفسر،محدث ،فقیہ ابواللیث نصر بن محمد بن ابراہیم السمرقندی رحمہ اللہ ت 375ھ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: فَفِيْ هٰذِه الآيَة دَلِيْل إثْبَاتِ الْمُنَاظَرَةِ فِي الْعِلْمِ لِأنَّ اللهَ تَعالٰى اَمَرَ النَّبِيَّ صَلىَّ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأن يُنَاظِرهُمْ ويُبَيِّن فَسَادَ قَوْلِهِمْ
(بحرالعلوم المعروف تفسیرا لسمرقندی سورۃ الانعام آیت 143)
ترجمہ: یہ آیت کریمہ علمی مناظرہ کے جواز کی دلیل ہے کیونکہ اللہ تعالی نے اس آیت میں اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ ان مشرکین سے مناظرہ کریں اور جانوروں سے متعلق ان کے غلط اقوال کا فسادواضح فرمائیں۔
2: امام ابوعبد اللہ محمد بن احمد بن ابوبکر المعروف قرطبی رحمہ اللہ( ت671ھ) اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
فَدَلَّتْ عَلٰی إثْبَاتِ الْمُنَاظَرَةِ فِي الْعِلْمِ لِأنَّ اللهَ تَعالٰى اَمَرَ نَبِيَّهُ عَلَيْهِ السَّلام بِأن يُنَاظِرهُمْ ويُبَيِّن فَسَادَ قَوْلِهِمْ
(تفسیر الجامع لاحکام القرآن سورۃ الانعام آیت 143)
ترجمہ: یہ آیت کریمہ علمی مناظرہ کے جواز کی دلیل ہے کیونکہ اللہ تعالی نے اس آیت میں اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ ان مشرکین سے مناظرہ کریں اور جانوروں سے متعلق ان کے غلط اقوال کا فسادواضح فرمائیں۔
دلیل نمبر3:
﴿اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ اِنَّ رَبَّکَ ھُوَاَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِہٖ وَھُوَ اَعْلَمُ بِالْمُھْتَدِیْنَ﴾
(النحل: 125)
ترجمہ : اپنے رب کے رستے کی طرف حکمت اور عمدہ وعظ سے بلائیے اور ان سے بحث بھی کرو تو پسندیدہ طریقہ سے کرو۔ آپ کے رب کو خوب معلوم ہے کہ کون اس کے رستہ سے بہکا ہوا ہے اور ان کو بھی خوب جانتا ہے جو ہدایت پر ہیں۔
استدلال:
1: اس آیت کے تحت علامہ ابو البرکات حافظ الدین عبد اللہ بن احمد بن محمود النسفی رحمہ اللہ (م710ھ) لکھتے ہیں :
وَھُوَ رَدٌّ عَلٰی مَنْ یَاْبیٰ الْمُنَاظَرَۃَ فِی الدِّیْنِ.
(مدارک التنزیل وحقائق التاویل المعروف تفسیر المدارک: ج1 ص207)
ترجمہ: اس آیت میں اس آدمی کی تردید ہے جو دین میں مناظرہ کا قائل نہیں۔
2:مشہور مفسر،محدث،مورخ ابوالفداء عمادالدین اسماعیل بن عمر المعروف ابن کثیر رحمہ اللہ ت774ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
أي: مَنِ احْتَاجَ مِنْهُمْ إِلٰى مُنَاظَرَة وَجِدَال فَلْيَكُنْ بِالْوَجْهِ الْحَسَنِ بِرِفْق وَلَيِّن وَحُسْنِ خِطَاب
(تفسیر القرآن العظیم المعروف تفسیر ابن کثیر سورۃ النحل آیت 125)
ترجمہ: مناظر کوچاہئے کہ مناظرہ،بحث مباحثہ کی ضرورت پیش آنے پر بہترین اسلوب ،نرمی اورشائستگی کے ساتھ مناظرہ کرے۔
3:حاشیہ جلالین میں اس آیت کے تحت لکھا ہے:
’’أَلْمُجَادَلَۃُ ھِیَ الْمُنَازَعَۃُ لَا لِاِظْھَارِ الصَّوَابِ بَلْ لِاِ لْزَامِ الْخَصْمِ کَمَا فِی الرَّشِیْدِیَّۃِ لٰکِنَّ الْمُرَادُ ھٰھُنَا الْمُنَاظَرَۃُ وَالْجَدَلُ الْاَحْسَنُ أَنْ یَّکُوْنَ دَلِیْلاً مُرَکَّباً مِنْ مُّقَدَّمَاتٍ مُسَلَّمَۃٍ فِی الْمَشْھُوْرِ عِنْدَ الْجُمْہُوْرِ وَ مُقَدَّمَاتٍ مُسَلَّمَۃٍ عِنْدَ ذٰلِکَ الْقَائِلِ ہٰکَذَا فِی الْکَبِیْرِ‘‘(حاشیہ جلالین ص 228)
ترجمہ: فریقین کا اظہار صواب کیلئے نہیں بلکہ ایک دوسرے کو چپ کرانے کے لیے گفتگو کرنا ”مجادلہ“ ہے جیسا کہ رشیدیہ میں ہے، لیکن یہاں مراد مناظرہ ہے اور بہترین مناظرہ وہ ہے جس میں دلیل ایسی ہو جو ایسے مقدمات سے مرکب ہو جو مشہور قول کے مطابق جمہور کے ہاں ثابت شدہ ہیں یا فریق مخالف کے ہاں ثابت شدہ ہیں ، اسی طرح تفسیر کبیر میں ہے۔
4: حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ (م1394ھ) اس آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’اے نبی ! دعوت دے اور بلا تو اپنے پر وردگار کی راہ کی طرف علم و حکمت کی باتوں کے ساتھ اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اور اگر بحث و مباحثہ کا وقت آن پڑے تو نہایت عمدہ طریقے کے ساتھ ان سے مناظرہ کرو‘‘۔ (معارف القرآن ج4 ص 426)
فائدہ :
دعو ت کے اصل اصول دوہیں:
(1) حکمت کے ساتھ ،یعنی دلائل قطعیہ سے۔
(2) موعظہ حسنہ کے ساتھ ،یعنی دلائل ظنیہ ،قصص واقعات وغیرہ سے۔
رہا مجادلہ و مناظرۃ تو یہ ایک ہنگامی ضرورت ہے ،جو معاند اورضدی کیلئے سود مند ثابت ہوتاہے۔
امام فخر الدین محمد بن عمر بن الحسین بن الحسن الرازی رحمۃ اللہ علیہ (ت604ھ) فرماتے ہیں:
وَمِنْ لَطَائِفِ ھٰذِہِ الْاٰیَۃِ اَنَّہٗ قَالَ ﴿اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ﴾ فَقَصَرَ الدَّعْوَۃَ عَلیٰ ذِکْرِ ھٰذَیْنِ الْقِسْمَیْنِ لِاَنَّ الدَّعْوَۃَ اِنْ کَانَتْ بِالدَّلاَئِلِ الْقَطْعِیَّۃِ فَھِیَ الْحِکْمَۃُ ،وَاِنْ کَانَتْ بِالدَّلاَئِل الظَّنِّیَّۃِ فَھِیَ الْمَوْعِظَۃُ الْحَسَنَۃُ، اَمَّاالْجَدَلُ فَلَیْسَ مِنْ بَابِ الدَّعْوَۃِ ،بَلِ الْمَقْصُوْدُ مِنْہُ غَرْضٌ اٰ خَرُ مُغَایِرٌ لِلدَّعْوَۃِ وَھُوَ الْاِلْزَامُ وَالْاِفْحَامُ ، فَلِھٰذَا السَّبَبِ لَمْ یَقُلْ:اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَالْجِدَالِ الْاَحْسَنِ ،بَلْ قَطَعَ الْجَدْلَ عَنْ بَابِ الدَّعْوَۃِ تَنْبِیْہًا عَلٰی اَنَّہٗ لاَیَحْصُلُ الدَّعْوَۃُ ،وَاِنَّمَا الْغَرْضُ مِنْہُ شَیْئٌ اٰخَرُ ، وَاللّٰہُ اَعْلَمُ (مفاتح الغیب المعروف التفسیر الکبیر::ج 20 ص112 )
ترجمہ : اس آیت کے لطائف میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے﴿اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ﴾ فرما کر دعوت کوصرف دو قسموں میں منحصر کر دیا ہے، اس لیے کہ اگر دعوت دلائل قطعیہ کے ساتھ ہو تو حکمت ہے اور اگردلائل ظنیہ کے ساتھ ہو توموعظہ حسنہ ہے۔ رہا جدل (بحث و مباحثہ) تو یہ دعوت کے طریق سے نہیں بلکہ اس سے مقصود کچھ اور ہوتا ہے جو دعوت سے الگ ایک چیزہے یعنی کسی کو چپ کرانا۔ اس لیے اللہ نے اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَالْجِدَالِ الْاَحْسَنِ نہیں فرمایا، جدل کو دعوت کے باب سے الگ ذکر کیا یہ بتانے کے لیے کہ اس کے ذریعے دعوت حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کا مقصد کچھ اور ہوتا ہے۔
مفتی بغداد علّامہ ابوالثناء محمود آلوسی آفندی بغدادی الحنفی (ت1270ھ ) اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
إِنَّمَالَمْ يَقُلْ اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ وَالْجِدَالِ اْلأَحْسَنِ لِمَا أَنَّ الْجِدَالَ لَيْسَ مِنْ بَابِ الدَّعْوَةِ بَلِ الْمَقْصُوْدُ مِنْہُ غَرْضٌ اٰ خَرُ مُغَایِرٌ لَھَاوَھُوَ الْاِلْزَامُ وَالْاِفْحَامُ
(روح المعانی فی تفسیرالقرآن العظیم والسبع المثانی سورۃ النحل :آیت125 )
ترجمہ: اس آیت میں اللہ تعالی نے اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ وَالْجِدَالِ الْاَحْسَنِ نہیں فرمایا،کیونکہ جدل (بحث و مباحثہ) دعوت کے طریق سے نہیں بلکہ اس سے مقصود کچھ اور ہوتا ہے جو دعوت سے الگ ایک چیزہے یعنی کسی کو چپ کرانا۔
مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ (ت1396ھ) فرماتے ہیں:
’’آیت کے نسق سے معلوم ہوتاہے کہ اصول دعو ت اصل میں دو ہی چیزیں ہیں:حکمت اور موعظت ،تیسری چیز ’’مجادلہ ‘‘ اصولِ دعوت میں داخل نہیں، ہاں طریق دعوت میں کبھی اس کی بھی ضرورت پیش آجاتی ہے۔
صاحب روح المعانی کااستدلال اس پر یہ ہے کہ اگر یہ تینوں چیزیں اصول دعوت ہوتیں تو مقتضائے مقام یہ تھا کہ تینوں چیزوں کو عطف کے ساتھ اس طرح بیان کیا جاتا ’’بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَالْجِدَالِ الْاَحْسَنِ‘‘ مگر قرآن حکیم نے حکمت و موعظت کو تو عطف کے ساتھ ایک ہی نسق میں بیان فرمایا اور مجادلہ کیلئے الگ جملہ ’’وَجَادِلْھُمْ بِالَّتِی ھِیَ أَحْسَن‘‘ اختیار کیا ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مجادلہ فی العلم در اصل دعوۃ الی اللہ کا رکن یا شرط نہیں ،بلکہ طریق دعوت میں پیش ہونے والے معاملات کے متعلق ایک ہدایت ہے، جیسا کہ اس کے بعد کی آیت میں صبر کی تلقین فرمائی ہے ، کیونکہ طریق دعوت میں لوگوں کو ایذاؤں پرصبر کرنا ناگریز ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اصول دعوت دو چیزیں ہیں: حکمۃ او رموعظۃ ، جن سے کوئی دعوت خالی نہ ہونی چاہیے ،خواہ علماء و خواص کو ہو یا عوام الناس کو ، البتہ دعو ت میں کسی وقت ایسے لوگوں سے بھی واسطہ پڑجاتاہے جو شکوک و اوہام میں مبتلا او رداعی کے ساتھ بحث و مباحثہ پر آمادہ ہیں تو ایسی حالت میں مجادلہ کی تعلیم دی گئی ، مگراس کے ساتھ ’’ بِالَّتِی ھِیَ أَحْسَن‘‘کی قید لگا کر بتلادیا کہ جو مجادلہ اس شرط سے خالی ہو اس کی شریعت میں کوئی حیثیت نہیں۔ ‘‘
(معارف القرآن ج5ص422:تحت سورۃالنحل آیت125)
دلیل نمبر4:
وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ
(سورۃ العنکبوت آیت 46)
ترجمہ: اہل کتاب سے اچھے طریقہ سے مناظرہ کرو۔
استدلال:
علامہ ابو البرکات حافظ الدین عبد اللہ بن احمد بن محمود النسفی رحمہ اللہ (ت710ھ) اس آیت کی تفسیر میں فر ما تے ہیں:
والْآيَةُ تَدُلُّ عَلىٰ جَوَازِ الْمُنَاظَرَةِ مَعَ الْكَفَرَةِ فِي الدِّيْنِ وَعَلىٰ جَوَازِ تَعَلُّم عِلْم الْكَلَامِ الذِيْ بِه تَتَحَقَّقُ الْمُجَادَلَة
(مدارک التنزیل وحقائق التاویل المعروف تفسیر المدارک: ج2 ص294)
ترجمہ: اس آیت کریمہ سے ایک تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ کفار سے مناظرہ کرناجائز ہے دوسرایہ کہ علم الکلام سیکھناجائزہے کیونکہ علم الکلام کے ذریعہ ہی مناظرہ ہوسکتاہے۔
احادیث مرفوعہ:
دلیل نمبر5:
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَم قَالَ تَمَارُوْا فِي الْغُسْلِ عِنْدَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ أَمَّا أَنَا فَإِنِّيْ أَغْسِلُ رَأْسِيْ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا أَنَا فَإِنِّيْ أفِيْضُ عَلىٰ رَأْسِيْ ثَلَاثَ أَكُفّ
(صحیح مسلم: باب استحباب إفاضة الماء على الرأس وغيره ثلاثا)
ترجمہ:حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین نے غسل کے بارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں مباحثہ کیا ایک صحابی نے کہامیں تواپنے سرپہ اتنی مقدار پانی ڈالتاہوں ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :میں اپنے سرپہ تین بار پانی بہاتاہوں ۔
علامہ محی الدین ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی (ت676ھ) لکھتے ہیں
وَفِيْهِ جَوَازُالْمُنَاظَرَهِ وَالْمُبَاحَثَةِ فِي الْعِلْمِ وَفِيْهِ جَوَاز مُنَاظَرَة الْمَفْضُوْلِيْنَ بِحَضْرَةِ الْفَاضِلِ وَمُنَاظَرَةُ الْاَصْحَابِ بِحَضْرَةِ اِمَامِهِمْ وَكَبِيْرِهِمْ
(شرح مسلم للنووی: باب استحباب إفاضة الماء على الرأس وغيره ثلاثا)
ترجمہ: اس حدیث پاک سے معلوم ہواکہ علمی مناظرہ ومباحثہ جائزہے نیز اس سے یہ بھی ثابت ہواکہ چھوٹا بڑے کی موجودگی میں اور ادنی مقام والااعلی مرتبہ والے کی موجودگی میں مناظرہ کرسکتا ہے۔
دلیل نمبر6:
نجران کے نصاری کا ایک وفد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت عیسی علیہ السلام کی الوہیت اور ابنیت کا دعوی کیا تو :
ثُمَّ أَخَذَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَاظِرُ مَعَهُمْ فَقَالَ:أَلَسْتُمْ تَعْلَمُوْنَ أَنَّ اللهَ حَيّ لَا يَمُوْتُ وَأَنَّ عِيْسىٰ يَأْتِيْ عَلَيْهِ الْفَنَاءُ ؟
قَالُوْا: بَلىٰ ۔
قَالَ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُوْنَ أَنَّهُ لَا يَكُوْنَ وَلَد إلَّا وَيُشْبِهُ أَبَاهُ ؟
قَالُوْا: بَلىٰ ۔
قَالَ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُوْنَ أَنَّ رَبَّنَا قَيِّم عَلىٰ كُلِّ شَيء يَكْلَؤُهُ وَيَحْفِظُهُ وَيَرْزُقُهُ فَهَلْ يَمْلِكُ عِيْسىٰ شَيْئاً مِنْ ذٰلِكَ ؟
قَالُوْا:لَا۔
قَالَ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُوْنَ أَنَّ اللهَ لَا يَخْفىٰ عَلَيْهِ شَيء فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ ، فَهَلْ يَعْلَمُ عِيْسىٰ شَيْئاً مِنْ ذٰلِكَ إلَّا مَا عُلِمَ ؟
قَالُوْا:لَا۔
قَالَ فَإنَّ رَبَّنَا صَوَّرَ عِيْسىٰ فِي الرّحْمِ كَيْفَ شَاءَ ، فَهَلْ تَعْلَمُوْنَ أَنَّ رَبَّنَا لَا يَأكُلُ الطَّعَامَ وَلَا يَشْرَبُ الشَّرَابَ وَلَا يَحْدثُ الْحَدَثَ وَتَعْلَمُوْنَ أَنَّ عِيْسىٰ حَمَلَتْهُ اِمْرَأَة كَحَمْلِ الْمَرْأَةِ وَوَضَعَتْهُ كَمَا تَضَعُ الْمَرْأَةُ ثُمَّ كَانَ يَطْعَمُ الطَّعَامَ وَيَشْرَبُ الشَّرَابَ وَيَحْدثُ الْحَدَثَ ۔
قَالُوْا : بَلٰى ۔
فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَيْفَ يَكُوْنُ كَمَا زَعَمْتُمْ ؟
(مفاتح الغیب المعروف التفسیر الکبیر:سورۃ آل عمران آیت 1)
ترجمہ:حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے مناظرہ شروع کرتے ہوئے سوال کیا:
کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ پاک ہمیشہ زندہ رہیں گے ان پہ کبھی موت نہیں آئے گی اور حضرت عیسی علیہ السلام پہ موت آئےگی؟
نصاری نے جواب دیا جی بالکل ایسے ہی ہے ۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا : کیا تمہیں معلوم ہےکہ بیٹا باپ کے مشابہ ہوتا ہے؟
نصاری نے جواب دیا جی بالکل ایسے ہی ہے ۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا : کیا تمہیں معلوم ہےکہ ہماری رب کی ذات ہر چیز پہ نگران ہے ،اللہ پاک ہر چیز کی حفاظت کرنے والے اور سب کو رزق دینے والے ہیں ۔کیا حضرت عیسی علیہ السلام ان چیزوں میں سے کسی کے مالک ہیں ؟
تو انہوں نے جواب دیا نہیں ۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا : کیا تمہیں معلوم ہےکہ اللہ پاک سے آسمان وزمین کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ۔اور حضرت عیسی علیہ السلام صرف وہ چیزیں جانتے ہیں جن کا انہیں علم عطاکیاگیا؟
نصاری نے جواب دیا : جی بالکل ایسے ہی ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہمارے پروردگار نے حضرت عیسی علیہ السلام کو ان کی والدہ کے پیٹ میں اپنی مرضی کے مطابق شکل وصورت عطافرمائی۔کیا تمہیں معلوم ہے کہ ہماراخدا نہ تو کھاناکھاتاہے اور نہ ہی پانی پیتاہے نہ ہی اللہ کو طبعی تقاضے پیش آتے ہیں ؟
اور تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ سیدہ مریم نے حضرت عیسی علیہ السلام کو دوسری عورتوں کی طرح پیٹ میں اٹھایا اور جیسی دوسری عورتیں بچہ کو پیداکرتی ہیں آپ کی والدہ نے آپ کو جنا۔ولادت کے بعد حضرت عیسی علیہ السلام کھانا بھی کھاتے ،پانی بھی پیتے اور آپ کو طبعی تقاضے بھی پیش آتے؟
نصاری نے جواب دیا جی بالکل ایسے ہی ہے۔
تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: پھر تمہاراعقیدہ الوہیت وابنیت والاکیسے درست ہوسکتا ہے؟
یہ واقعہ نقل کرنے کے بعد امام فخر الدین محمد بن عمر بن الحسین بن الحسن الرازی رحمۃ اللہ علیہ (ت604ھ) فرماتے ہیں:
وَاعْلَمْ أَنَّ هٰذِه الرِّوَايَةَ دَالَّة عَلىٰ أَنَّ الْمُنَاظَرَةَ فِيْ تَقْرِيْرِالدِّيْنِ وَإِزَالَةَ الشُّبْهَاتِ حِرْفَةُ الْأَنْبِيَاءِعَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَام وَأَنَّ مَذْهَبَ الْحَشْوِيَّة فِي إنْكَارِ الْبَحْثِ وَالنَّظْرِ بَاطِل قَطْعاً
(مفاتح الغیب المعروف التفسیر الکبیر:سورۃ آل عمران آیت 1 )
ترجمہ: یقین کرلو: یہ روایت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ دینی عقائد کے اثبات کے لئے اور شبہات کے جوابات دینے کے لئے مناظرہ کرنا حضرات انبیاء کرام علیھم السلام کی طریقہ ہے ۔فرقہ حشویہ کا مناظروں سے انکار کا نظریہ اپنانا یقیناباطل ہے۔
حدیث موقوف:
دلیل نمبر7:
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُنَيْن أنَّ عَبْدَ اللهِ بنَ عباس والْمِسْوَر بنَ مَخْرَمَةَ اِخْتَلَفَا بِالْأَبَوَاءِ فَقَالَ ابنُ عَبَّاس:يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ وَقَالَ الْمِسْوَرُ:لَا يَغْسِلُ رَأْسَهُ قَالَ: فَأَرْسَلَنِي ابنُ عباس إلٰى أبي أيوبَ الأنصاريَّ رَضِي اللهُ عَنْهُ فَوَجَدتُهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ الْقَرْنَيْنِ وَهُوَ يَسْترُ بِثَوْب فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ:مَنْ هٰذَا؟ فَقُلْتُ:أنَا عَبْد الله بن حُنَين أَرْسَلَنِيْ إِلَيْكَ ابنُ عبَّاس يَسْأَلُكَ:كَيْفَ كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صلَّى اللهُ عليْهِ وسلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِم؟ فَوَضَعَ أبُو أيُّوبَ يَدَهُ عَلىَ الثَّوْبِ فَطَأْطَأَهُ حَتّٰى بَدَا لِيْ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ لِإنْسَان يَصُبُّ عَلَيْهِ الْمَاء اصبب فَصَبَّ عَلىٰ رَأْسِه ثُمَّ حَرَّكَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهمَا وَأَدْبَرَ ثُمَّ قَالَ: هٰكَذَا رَأَيْتُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَفْعَلُ
(إحكام الأحكام شرح عمدة الأحكام: ج 1ص325باب الغسل للمحرم)
ترجمہ :حضرت عبد اللہ بن حنین سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنھما کا آپس میں مقام ابواء پہ محرم کے سردھونے یانہ دھونے کے مسئلہ پراختلاف ہوا۔حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھماکی رائے یہ تھی کہ محرم ا پنا سر دھو سکتا ہے جبکہ مسور کی رائے یہ تھی کہ سر نہیں دھو سکتا۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نےعبداللہ بن حنین کوحضرت ابو ایوب الانصاری رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا عبداللہ بن حنین کہتے ہیں میں نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو دو ٹیلوں کے درمیان غسل کرتے ہوئے دیکھا ،انہوں نے اپنے آپ کو کپڑے سے ڈھانپا ہوا تھا ۔ میں نے انہیں سلام کیا توانہوں نے پوچھا : تو کون ہے؟ میں نے کہا: میں عبد اللہ بن حنین ہوں ، مجھے حضرت عبداللہ بن عباس نے آپ کی طرف یہ پوچھنے کے لیے بھیجا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں اپنا سرمبارک کیسے دھوتے تھے ؟حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ کپڑے پہ رکھا اور اپنے سر کو میری طرف موڑااور پھر کسی آدمی سے کہا کہ وہ ان کے سر پر پانی ڈالتا رہے تو اس نے ایسے ہی کیا حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے اپنے سر کو اپنے دونوں ہاتھوں سے حرکت دی پہلے ہاتھ آگے لے گئے پھر پیچھے اس کے بعد ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح غسل کرتے ہوئے دیکھا۔
علامہ تقی الدين ابو الفتح محمد بن علی بن وہب بن مطیع القشیری المعروف بابن دقيق العيد (م702ھ) فرماتے ہیں:
وَفِي الْحَدِيْثِ دَلِيْل عَلٰى جَوَازِ الْمُنَاظَرَةِ ِفيْ مَسَائِلِ الْاِجْتِهَادِ
(إحكام الأحكام شرح عمدة الأحكام: ج 1ص325باب الغسل للمحرم)
ترجمہ: یہ حدیث مبارک اجتہادی مسائل میں مناظرہ کے جواز کی دلیل ہے۔
اجماع:
دلیل نمبر8:
امام ابوبکر احمد بن علی الخطیب البغدادی رحمہ اللہ (ت463ھ ) فرماتے ہیں:
وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بنِ الْخَطابِ وَعَلِيّ بن أَبِي طَالِب وغَيْرهِمَا مِنَ الصَّحَابَةِ أَنَّهُمْ تَكَلَّمُوْا في أحْكَامِ الحَوَادِثِ قَبْلَ نُزُوْلِهَا وَتَنَاظَرُوْا فِيْ عِلْمِ الْفَرَائِضِ وَالْمَوَارِيْثِ وَتَبِعَهُمْ عَلٰى هٰذِهِ السَّبِيْلِ التَّابِعُوْنَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنْ فُقَهَاءِ الأَمْصَارِفَكَانَ ذٰلِكَ إِجْمَاعًا مِنْهُمْ عَلىٰ أَنَّهُ جَائِز غَيْرُ مَكْرُوْه وَمُبَاح غَيْرُ مَحْظُوْر
(الفقیہ والمتفقہ لابی بکرخطیب بغدادی ج1ص344باب القول فی السوال عن الحادثۃ والکلام )
ترجمہ:حضرت عمر بن خطاب ،حضرت علی المرتضی ٰ رضی اللہ عنھما اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کے بارے میں منقول ہے کہ ان حضرات نے جدیدمسائل کے بارے حکم نازل ہونے سے پہلے کلام کیا ہے نیز ان حضرات نے میراث کے مسائل میں آپس میں مناظرہ بھی فرمایاہے۔
حضرات تابعین اور بعد کے فقہاء کرام رحمھم اللہ نے بھی صحابہ کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے مناظرے فرمائے ہیں ۔ان حضرات کا یہ طرز عمل اس بات پہ اجماع ہے کہ مناظرہ جائز ہے مکروہ نہیں اور مناظرہ کرنا مباح ہے ممنوع نہیں ۔
[7]:حکم مناظرہ
علامہ علاء الدین محمد بن علی الحصکفی الحنفی (م1088ھ) فرماتے ہیں :
أَلْمُنَاظَرَ ۃُ فِی الْعِلْمِ لِنُصْرَۃِالْحَقِّ عِبَادَۃٌ وَلِاَ حَدِ ثَلاَثَۃٍ حَرَامٌ، لِقَھْرِ مُسْلِمٍ، وَاِظْہَارِ عِلْمٍ، وَنَیْلِ دُنْیَا أَوْمَالٍ أَوْقُبُوْلٍ.
(الدر المختار للحصکفی: ج9ص406 کتاب الحظر والاباحۃ، باب الاستبراء و غیرہ)
ترجمہ: دین حق کی مدد کیلئے مناظرہ کرنا عبادت ہے اور مسلمان کو ذلیل کرنے،اپنے علم کے اظہاراور دنیا،دولت یا عوام میں مقبولیت پیدا کرنے کیلئے مناظرہ کرنا حرام ہے۔
[8]:آداب مناظرہ
۱:مناظر صاحب علم ہو۔
۲:مافی الضمیر کو وضاحت کے ساتھ بیان کرسکتاہو۔
۳:مناظر بے جھجک ہو۔
۴:آواز قدرے بلند ہو۔
۵:گرفت مضبوط ہو۔
۶:الفاظ مہذب اور شائستہ استعمال کرے۔
۷:اپنے مخالف کو کمزور نہ سمجھے۔
۸:اپنے اصولوں سے پیچھے نہ ہٹے۔
۹:دوران مناظرہ سامعین کو اپنی طرف متوجہ کئے رکھے۔
۱۰:اگر مناظرہ اہل علم میں ہوتو اصطلاحی الفاظ استعمال کرے ا ور اگر عوام میں ہوتو عام فہم الفاظ استعمال کرے۔
[9]:متعلقات مناظرہ
مناظرہ طے کرتے وقت دس چیزیں مخالف مناظر سے لکھوالینی چاہئیں۔
موضوع، دعوی، مناظر، معاون مناظر، صدر مناظر، شرائط، دلائل، مقام، تاریخ اور وقت
۱:موضوع
اس سے مراد وہ عنوان ہے جس پر مناظرہ ہورہا ہے۔ مثلا عقائد پر مناظرہ ہے تو کون سا عقیدہ ہے؟اگر مسائل پر ہے تو کون سا مسئلہ ہے؟
۲:دعویٰ
جس عقیدہ یا مسئلہ پر مناظرہ ہو اس عقیدہ یا مسئلہ کے بارے میں موقف کو ’’دعویٰ‘‘ کہتے ہیں۔
۳:مناظر
مدعی کے دعوی کو ثابت کرنے یا منکر کی طرف سے اس کے دعوی کو توڑنے والے شخص کو ’’مناظر‘‘ کہتے ہیں۔
فائدہ نمبر1: بہتر یہ ہے کہ مناظر کا تعین مناظرہ طے کرتے وقت کر لیا جائے ورنہ مناظرہ کے وقت بھی مناظر کا تعین کیا جاسکتاہے۔
فائدہ نمبر2: مناظر کوچاہئے کہ اپنے پاس ایک نوٹ بک رکھے اور فریق مخالف کی گفتگو کے دوران جو بات ذہن میں آئے یا جوبات اپنی نشست میں بیان کرنی ہو اس کو نمبروارلکھتاجائے۔
۴:معاون
مناظر کی معاونت کیلئے جو آدمی مقرر کیا جائے اس کو ’’معاون‘‘ یا’’ معین مناظر‘‘ کہتے ہیں ،جس کے ذمہ حوالہ جات تلاش کرکے مناظر کو دینا یا مناظر کو کوئی بات یاد دلانا ہوتاہے۔
فائدہ نمبر1: معاون مناظر ایک سے زائد بھی مقررکئے جاسکتے ہیں۔
فائدہ نمبر2: معاون مناظر کو چاہئے کہ مناظر کو زبانی بات یاددلانے کی بجائے پرچی پر لکھ دے۔
۵:صدر مناظر
مناظرہ کی نگرانی کرنے والے،مناظرہ سنبھالنے والے آدمی کو صدر مناظر کہتے ہیں۔
فائدہ نمبر1: مخالف مناظر اگر موضوع سے ہٹ کر بات کرے یا شرائط کے مطابق بات نہ کرے تو صدر مناظر بواسطہ مخالف صدر مناظر کے مناظر سے موضوع اور شرائط کی پابندی کراتا ہے۔
فائدہ نمبر2: صدر مناظر مضبوط ہو تو مناظر کی بعض کوتاہیوں کا تدارک بھی کرسکتاہے۔
فائد نمبر3: صدر مناظر کو’’ صدر مناظر ہ‘‘ بھی کہتے ہیں۔
۶: شرائط
مناظرہ کیلئے جوقواعد طے کئے جاتے ہیں ان کو’’ شرائط‘‘ کہتے ہیں۔
فائدہ: مناظرکو چاہئے کہ لکھی ہوئی شرائط کے مطابق گفتگو کرے ا ور مخالف مناظر کو بذریعہ صدر مناظر کے اس کا پابند کرے۔
۷: دلائل
مناظرہ طے کرتے وقت یہ بات لکھو الینی چاہیے کہ مخالف مناظر ادلہ اربعہ [قرآن، سنت، اجماع اورقیاس] میں سے کن دلائل کو مانتا ہے اور کن دلائل سے گفتگوکرے گا۔
فائدہ: اگر ایک ہی نسبت رکھنے والے دوفریقوں کے درمیان مناظرہ ہوتو مناظرہ طے کرتے وقت یہ بات لکھوالیں کہ ہر فریق بطور دلیل صرف اس منسوب الیہ شخصیت کی عبارات کو پیش کرنے کا پابند ہو گا، جن کی طرف یہ اپنی نسبت کرتا ہے۔ مثلاً اگر دیوبندی اور بریلوی میں مناظرہ ہو اور موضوع مثلا انگوٹھے چومنا ،جنازہ کے بعددعا،قل وغیرہ ہوتو فریقین اپنے اپنے موقف پر فقہ حنفی کی عبارات پیش کرنے کے پابند ہوں گے ،ا س لئے کہ فریقین خود کو’’ حنفی ‘‘کہلاتے ہیں۔ اگر دیوبند کی طرف نسبت کرنے والے دو فریقین کے درمیان مثلاً حیات النبی صلی اللہ علیہ و سلم، سماع الصلوۃ والسلام عند قبر النبی صلی اللہ علیہ و سلم ،استشفاع عند قبر النبی صلی اللہ علیہ و سلم، عرض اعمال ،مسئلہ توسل اور سماع موتی پر مناظرہ ہوتو فریقین متفق علیہ اکابر کی عبارات کو پیش کرنے کے پابند ہوں گے ،اس لئے کہ دونوں خود کو دیوبندی کہلاتے ہیں۔
۸:مقام:
وہ جگہ جہاں پر مناظرہ کرنا ہے۔
فائدہ: مقام مناظرہ ممکن حد تک ہمیشہ ایسی جگہ کو طے کرناچاہئے جو سو فیصد اپنی ہو۔ ورنہ آپ کو دونقصان ہونگے :
(1) آپ مخالف کے پاس جائیں گے تو وہ انتظامیہ کو اطلاع کردے گا کہ یہ مولوی صاحبان ہمارے ساتھ جھگڑنے آئے ہیں۔ نتیجۃًقانونی کارروائی آپ کے خلاف ہو گی۔
(2) جگہ اگر مخالف کی ہو تو اختتام ِمناظرہ پر آپ نے واپس آنا ہے ،اب مخالف ویڈیو وغیرہ بناکر یہ پروپیگنڈہ کرے گاکہ آپ دوڑ گئے ہیں۔
۹:تاریخ
مناظرہ طے کرتے وقت تاریخ متعین کرنی چاہئے اور تاریخ لکھتے وقت مہینہ اور سن ضرور لکھنا چاہئے اور یہ لکھیں کہ تاریخ ہجری ہوگی یا عیسوی۔
۱۰:وقت
وقت سے مراد مناظرہ شروع کرنے کا وقت ہے ،کہ کتنے بجے مناظرہ ہوگا۔
فائد ہ نمبر 1: مناظرہ شروع کرنے کا وقت لکھتے وقت یہ ضرور لکھیں۔
٭ وقت دن کا ہوگا یا رات کا ہوگا؟
٭ مناظرہ کا دورانیہ کتنے وقت پر مشتمل ہوگا؟
٭ مناظرہ کی ہر نشست کا وقت کتنا ہوگا؟ یعنی ہر نشست کتنے وقت پر مشتمل ہوگی؟
فائدہ نمبر 2: پہلی نشست کا وقت نسبتاً زیادہ رکھنا چاہئے کیونکہ پہلی نشست میں ہر مناظر نے اپنے دلائل کے علاوہ اپنے خطبہ،اپنے دعوی اور اس کی وضاحت بھی کرنی ہوتی ہے۔
فائدہ نمبر3: وقت بتانے کیلئے ایک شخص بھی متعین کرنا چاہیے جو ہر مناظر کو اس کا وقت ختم ہونے پر روکے۔
[10]:حیثیت واہمیت مناظرہ
مناظرہ علمی دلائل کی جنگ کا نام ہے اور جنگ کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے:
عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفیٰ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أیُّھَا النَّاسُ لَا تَمَنَّوْا لِقَائَ الْعَدُوِّ وَسَلُوا اللّٰہَ الْعَافِیَۃَ، فَاِذَا لَقِیْتُمُوْہُمْ فَاصْبِرُوْا وَاعْلَمُوْ ااَنَّ الْجَنَّۃَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّیُوْفِ.
(صحیح البخاری: ج1ص424 کتاب الجہاد ،باب لاتمنوا لقاء العدو )
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ سے روایت ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے لوگو!دشمن سے لڑائی کی تمنا نہ کرواوراللہ سے عافیت مانگو۔ ہاں جب ان سے لڑائی ہوجائے تو ڈٹے رہو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔
ہمارے حضرات اکابر کے ہا ں مناظرہ کی اہمیت معلوم کرنے کیلئے زبدۃ المحدثین حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ ت1346ھ کا ایمان افروز واقعہ کافی ہے۔ چنانچہ حضرت مولانا محمد عاشق الہی مدنی رحمہ اللہ ت 1422لکھتے ہیں:
”مولوی فاروق احمد صاحب انبیٹھوی کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ سفر حج کو جاتے ہوئے راستہ میں مولوی دیدار علی اَ لْوَرِی کی طرف سے آپ کو عین اس وقت دعوت مناظرہ دی گئی جب کہ آپ جہاز میں سوار ہونے کو تیار تھے۔ آپ کے رفقاء نے جواب دیا کہ اس وقت تو گنجائش نہیں کہ جہاز تیار اور آخری ہے۔ البتہ واپسی پر مناظرہ ہوگا ،مگر آپ نے سناتو بے ساختہ فرمایا کہ نہیں !نہیں! ہم تیار ہیں۔ کل کو ہم قیام کریں گے اور صبح مناظرہ ہوگا۔ مولوی صاحب سے کہنا کہ مقام اور مباحث مناظرہ آج طے کرلیں اور رفقاء کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا کہ مولوی صاحب مناظرہ کرتے ہیں تو ہمیں انکار نہ کرنا چاہئے حج بشرط زندگی دوسرے سال کرلیں گے یہ بھی تو ایک دینی کام ہے۔ یہ جواب سن کر فریق ثانی پر اَوس پڑگئی اور کوئی میدان مناظرہ میں نہ آیا۔ حضرت چند دن قیام فرماکربمبئی روانہ ہوگئے ،حالانکہ جہاز کی تاریخ َروانگی گزر چکی تھی مگر اللہ کی شان کہ اس کو چار دن کسی غیر معمولی عذرسے ٹھہرنا پڑگیا اور آپ اس میں سوار ہوکر عرب پہنچ گئے۔ “
(تذکر ۃ الخلیل :ص151)
فائدہ : اصول ِ جنگ
(1) جرنیل پسند کامیدان سجاتاہے ، مناظر کو بھی چاہیے کہ پسند کامیدان سجائے جو مناظرہ کے مفید اورکامیاب ہونے میں معاون ثابت ہو۔
(2)جرنیل اہتمام کرتا ہے کہ کمک کا سلسلہ منقطع نہ ہو ، مناظر کوبھی چاہیے کہ ایسا معاون تیا ر کرے جو دلائل کی فراہمی میں کمی نہ آنے دے۔
(3) جرنیل میدان جنگ میں خاص طور پر میمنہ اور میسرہ کو مضبوط کرتاہے ، مناظر کوبھی چاہیے کہ ٹیم مضبوط رکھے۔
(4)جرنیل ایسے اسباب اختیار کرتاہے کہ بغیر لڑائی کے فتح ہو ،مناظر بھی ایسی تدابیر اختیار کرے کہ بغیر مناظرہ کے فتح ہو۔
(5)جرنیل جس طرح مخالف فوج سے لڑتاہے اسی طرح اپنی فوج کو حوصلہ بھی دیتاہے،مناظرکو بھی چاہیے کہ مخالف کے دلائل توڑنے کے ساتھ ساتھ اپنی ٹیم کا حوصلہ بڑھاتارہے۔
(6)جرنیل جنگ بھی کرتاہے اور منفی پروپیگنڈہ بھی توڑتاہے ،مناظر کو بھی مناظرہ کرتے ہوئے منفی پروپیگنڈے حکمت سے توڑتارہے۔
(7) جنگ اللہ سے مانگتے نہیں لیکن اگر آجائے تو دوڑتے نہیں ،مناظرہ بھی مانگانہ جائے ہاں اگر آجائے تو ہمت و جرأت سے کرناچاہیے۔
قرآن کریم میں بھی ﴿اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ﴾ (النحل:125) سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ طرق دعوت دو ہیں۔ اس لئے ہم بھی کہتے ہیں کہ باطل کو سمجھانے کیلئے اول نمبر پر حکمت یعنی دلائل قطعیہ، دوسرے نمبر پر موعظہ حسنہ یعنی دلائل ظنیہ سے کام لینا چاہئے اور اگر احقاق حق اور ابطال باطل کی مناظرہ کے علاوہ کوئی اور صورت ممکن نہ ہو تو اتمامِ حجت کے لیے اللہ کا حکم اور عبادت سمجھ کر مناظرہ کرنا چاہیے۔
چندمناظرے
امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت اور امام اوزاعی رحمھما اللہ :
امام قاضی صدر الدین موسی بن زکریا الحصکفی رحمہ اللہ ت650ھ
امام کمال الدین محمد بن عبدالواحدبن عبدالحمید المعروف ابن الھمام رحمہ اللہ ت 861ھ
سلطان المحدثین امام علی بن سلطان المعروف ملاعلی قاری رحمہ اللہ ت1014ھ نقل فرماتے ہیں :
قَالَ ابْنُ عُیَیْنَۃَ:اِجْتَمَعَ اَبُوْ حَنِیْفَۃَوَالْأَوْزَاعِيُّ فِي دَارِ الْحَنَّاطِينَ بِمَكَّةَ فَقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ لِاَبِیْ حَنِیْفَۃَ:مَا بَالُكُمْ لَا تَرْفَعُونَ اَیْدِیَکُمْ فِی الصَّلَاۃِ عِنْدَ الرُّكُوعِ وَعِنْدَالرَّفْعِ مِنْهُ ، فَقَالَ اَبُوْ حَنِیْفَۃَ: لِأَجْلِ أَنَّهُ لَمْ يَصِحَّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْءٌ ، قَالَ: كَيْفَ لَا يَصِحُّ وَقَدْ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَعِنْدَ الرُّكُوعِ وَعِنْدَ الرَّفْعِ مِنْهُ فَقَالَ لَہُ أَبُو حَنِيفَةَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ إبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِعَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ { أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ إلَّا عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ وَلَا يَعُودُ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ فَقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ : أُحَدِّثُكَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ وَتَقُولُ حَدَّثَنِي حَمَّادٌ عَنْ إبْرَاهِيمَ ؟ فَقَالَ لَہُ أَبُو حَنِيفَةَ : كَانَ حَمَّادٌ أَفْقَهَ مِنَ الزُّهْرِيِّ ، وَكَانَ إبْرَاهِيمُ أَفْقَهُ مِنْ سَالِمٍ ، وَعَلْقَمَةُ لَيْسَ بِدُونٍ مِنْ ابْنِ عُمَرَ فِي الْفِقْهِ ، وَإِنْ كَانَتْ لِابْنِ عُمَرَ صُحْبَةٌ اَوْلَهُ فَضْلُ صُحْبَةٍ فَالْأَسْوَدُ لَهُ فَضْلٌ كَثِيرٌ ، وَعَبْدُ اللَّهِ ھُوَعَبْدُاللّٰہِ فَسَکَتَ الْاَوْزَاعِیُّ
مسندالامام الاعظم بروایۃ الحصکفی ص67
فتح القدیرشرح الھدایہ لابن الھمام ج2ص100باب صفۃ الصلاۃ ،مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح لعلی القاری ج3ص302باب صفۃ الصلاۃ
ترجمہ: سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ:امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی ملاقات مکہ مکرمہ دار حناطین {گندم کی منڈی} میں امام اوزاعی رحمہ اللہ سے ہوئی تو امام اوزاعی رحمہ اللہ نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سوال کیا: تم لوگ رکوع جاتے وقت اوررکوع سے اٹھتے وقت رفع الیدین کیوں نہیں کرتے؟
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے جواب دیا: اس لئے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میںایسی کوئی حدیث ثابت ہی نہیں ہے ۔{جس سے رفع الیدین کا سنت متواترہ ہونا ثابت ہو}
تو امام اوزاعی رحمہ اللہ نے کہا:کیسے ثابت نہیں۔ جبکہ مجھ سے امام زہری نے بیان کیا ، انہوں نے سالم سے نقل کیا انہوں نے اپنے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے نقل کیا انہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے وقت ، رکوع جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع الیدین کرتے تھے ۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نےفرمایا: ہم سے حماد نے بیان کیا ، انہوں نے ابراہیم سے روایت کیا ،انہوں نے علقمہ اور اسود سے نقل کیا ، ان دونوں نے حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم صرف نماز کے شروع میں ہی رفع الیدین کرتے تھے ، اور اس کے بعد آخر نماز تک رفع الیدین نہیں کرتے تھے ۔
امام اوزاعی رحمہ اللہ نے کہا: میں تمہیں زہری عن سالم عن ابیہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق سے روایت کررہاہوں اور تم حماد عن ابراہیم کے طریق سے روایت کررہے ہو ؟
امام ابوحنیفہ نے جواب میں فرمایا:اما م حماد یہ امام زہری سے بڑے فقیہ ہیں اورامام ابراہیم امام سالم سے بڑے فقیہ ہیں اور امام علقمہ حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنھما سے فقہ میں کم نہیںا گرچہ حضرت ابن عمررضی اللہ عنھما صحابی ہیں اور یہ شرف انہیں حاصل ہے ،باقی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس کے بعد امام اوزاعی رحمہ اللہ خاموش ہوگئے۔
امام شافعی اور امام احمدرحمھمااللہ:
امام تاج الدین ابوالنصر عبد الوھاب بن علی بن عبدالکافی السبکی رحمہ اللہ ت771ھ لکھتے ہیں:
مُنَاظَرَة بَيْنَ الشَّافِعِىِّ وَأحْمَد ابن حَنبل رضى الله عنهما
حُكِىَ أَنَّ أحْمَدَ نَاظَرَ الشَّافِعِىَّ فِىْ تَاِركِ الصَّلاةِ فَقال لَهُ الشَّافِعِىُّ يَا أحْمَدأَتَقُوْلُ إنَّهُ يكفر؟قالَ نعَمْ قال إذَا كَانَ كَافِرًا فَبِمَ يُسْلِمُ؟قال يَقُوْلُ لَا إلٰه إلا اللهُ مُحَمد رسُولُ الله ( صلى الله عليه وسلم ) قَالَ الشَّافِعىُّ فَالرَّجُلُ مُسْتَدِيْم لِهٰذاَ الْقَوْلِ لَمْ يَتْرُكْهُ؟
قَالَ يسلم بِأَنْ يُّصَلِّىْ۔قَالَ صَلَاةُ الْكَافِرِ لَا تَصِحُّ وَلاَ يُحْكَمُ بِالْإِسْلَامِ بِهَا فَانْقَطَعَ أَحْمَد وَسَكَتَ
طبقات الشافعیۃ الکبری ج2ص61
ترجمہ: امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور امام شافعی رحمہ اللہ کا تارک نماز کے بارے مناظرہ ہوا۔
امام شافعی نے پوچھا :کیا آپ کے نزدیک نماز چھوڑنے والاکافرہوجاتا ہے ؟
امام احمد بن حنبل نے جواب دیا : جی ہاں۔
امام شافعی نے پوچھا :اگر وہ کافر ہوجاتا ہے تو اس کے مسلمان ہونے کا کیاطریقہ ہے؟
امام احمد بن حنبل نے جواب دیا :کلمہ طیبہ لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ پڑھ لے مسلمان ہوجائے گا۔
امام شافعی نے فرمایا:یہ کلمہ تو وہ پہلے بھی پڑھ رہا ہے اس نے اس کلمہ کو کبھی نہیں چھوڑا۔
امام احمد بن حنبل نے فرمایا: وہ نماز شروع کردے تو مسلمان ہوجائےگا۔
امام شافعی نے فرمایا:کافر کی تو نماز ہی نہیں ہوتی اس لئے نماز سے تو مسلمان ہونے کا فیصلہ نہیں کیاجاسکتا۔
اس پہ امام احمد بن حنبل لاجواب ہوکے خاموش ہوگئے۔
حکیم الامت مولنا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ1362ھ :
عقل پرستوں کی بے عقلی
جتنے عقل پرست ہیں ان کو سوجھتی ہیں تو سب بے عقلی ہی کی باتیں سوجھتی ہیں، باقی دین کوتو ان لوگوں نے تختہ مشق بنا رکھا ہے۔ خاندان ریاست میں سے ایک صاحب نے مجھ سے ریاست رام پور میں معراج کے متعلق سوال کیا کہ آپ کی اس کے متعلق کیا رائے ہے؟ میں نے کہا کہ رائے کیا چیز ہے ،میں تو ایک مذہبی شخص ہوں ،مجھ سےمیرا مذہب پوچھئے۔ یہ بھی آج کل کےنو تعلیم یافتوں میں مرض ہے کہ ہرچیز میں رائے کو دخل ہے ۔ کہنے لگے کہ کیا عقیدہ ہے آپ کا؟ میں نے کہا کہ یہ عقیدہ ہے کہ معراج ہوئی ہے۔ انہوں نے پوچھا: کیا جسم کے ساتھ ہوئی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں ،جسم کے ساتھ ہوئی ہے۔ کہنے لگے: اس کی دلیل ؟ میں نے کہا : واقعہ عقلاممکن اور نقلاً ثابت اور جس ممکن کے وقوع پر نقل صحیح دال ہو وہ ثابت پس اس کا وقوع ثابت ۔کہا اس سے پہلے کہااس سے پہلے کوئی اس کی نظیر بھی ہے میں نے کہا کہ آپ جو نظیر مانگتے ہیں تو اس نظیر کے لئے بھی نظیر کی ضرورت ہو گی پھر اسی طرح اس نظیر کوبھی نظیر کی ضرورت ہوگی آخر کہیں جاکر آپ کو کوئی واقعہ بلا نظیر کے ماننا پڑھے گا تو معلوم ہوا کہ ہر واقعہ کے ماننے کے لئے نظیر کی ضرورت نہیں لہذا اس کوہی بلانظیرکے مان لیجئے جو کام آخر میں کاکر کرنا پڑھے گا وہ شروع میں ہی کر لیجئے مگر ان کی سمجھ میں نہیں آیایہی کہتے رہے کہ نظیر کی ضرورت ہے ۔میں نے کہا کہ آپ سمجھتے ہی نہیں میرے پا س اس کا کیا علاج ہے اگر اس قاعدے کو سمجھ لیتے اور کچھ عقل اور فہم ہوتا تو عمر بھر کے لئے نظیر کا سبق بھول جاتے ۔ایسے اعتراضات بد فہمی اور بد عقلی ہی سے پیدا ہوتے ہیں سمجھ میں کیسے آوے۔
(ملفوظات حکیم الامت جلد 7 ص 317

)