قضائے عمری کا مسئلہ

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
 

قضائے عمری کا مسئلہ

قرآن کریم کےپانچویں پارے میں سورۃ نساء کی آیت نمبر 103میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ إنَّ الصَّلـوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُوْمِنِیْنَ کِتَابًا مَّوْقُوْتًا اللہ تعالی نے اہل ایمان پر نماز کو مقررہ اوقات میں فرض کیا ہے۔ اس لیے اپنے وقت پر نماز کو ادا کرنا ضروری ہے، ہاں اگر کبھی کبھار کسی عذر، بیماری یا کسی مجبوری کی وجہ سے نماز وقت میں ادا نہ کر سکیں تو شریعت نے اس عبادت کی اہمیت کے پیش نظر اسے بعد میں ادا کرنے کا سختی سے حکم دیا ہے۔ آج کل تساہل پسندی کا زمانہ ہے، اول تو بہت سے مسلمان نماز ادا ہی نہیں کرتے، اگر کبھی پڑھ بھی لیں تو شرائط و آداب کا بالکل خیال نہیں کرتے اور خشوع خضوع سے خالی نماز محض اٹھک بیٹھک کا نمونہ پیش کرتی ہے اور بس۔

چاہیے تو یہ تھا کہ مسلمان اہم العبادات )نماز(کے چھوٹ جانے پر نادم ہوتے، توبہ تائب ہوتے، اور شریعت کے حکم کے مطابق اپنی قضاء شدہ نمازوں کو جلد ادا کرتے۔ افسوس صد افسوس کہ بعض دین کے ٹھیکے داروں نےاپنی کم علمی اور کوتاہ فہمی سے اس معاملے کو بھی اپنی اوٹ پٹانگ خواہشات کے حوالے کردیا۔ چنانچہ افراط تفریط کا شکار ہو کر رہ گئے۔

ایک گروہ نے یہ نظریہ بنالیا کہ قضاء شدہ نمازوں کو ادا کرنے کی ضرورت نہیں محض توبہ ہی سے کام چلا لیا جائے۔ جبکہ دوسری طرف بعض اہل بدعت نے اس عبادت کا حلیہ بگاڑتے ہوئے یہ حل نکالا کہ ساری زندگی کی نمازیں ادا کرنا بہت دشوار ہے اس لیے رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو قضائے عمری کے نام سے ایک نئی نماز ایجاد کی اور یہ کہا کہ صرف چار رکعتوں کو مخصوص طریقے سے ادا کر لینے سے ساری عمر کی نمازیں ادا ہو جائیں گی۔

اس طبقہ فکر کے افراد رمضان المبارک میں اس مخصوص نماز کے جھوٹے میسجز پھیلاتے ہیں، جس کی وجہ سے امت کا ایک بہت بڑا طبقہ ان کے فریب کا شکار ہو جاتا ہے، عام سادہ لوح مسلمان بھی اسے صحیح سمجھ کر اپنی زندگی بھر کی نمازیں ادا نہیں کرتے اور اس نماز کو پڑھ لینے کے بعد یہ سمجھتے ہیں کہ اب ہمیں قضاء شدہ نمازوں کو ادا کرنے کی ضرورت بھی نہیں رہی۔

جبکہ اہل السنت والجماعت کا نظریہ بالکل الگ ہے وہ یہ ہے کہ قضاء شدہ نمازیں نہ تو محض توبہ سے ذمہ سے ساقط ہوتی ہیں اور نہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو چار رکعات کی مخصوص نماز کو ادا کرلینے سے ساری نمازیں ادا ہوتی ہیں۔ بلکہ قضاء شدہ نمازوں کو ادا کرنا ضروری ہے۔ چند دلائل پیش خدمت ہیں ۔

احادیث مبارکہ :

1: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مروی ہے کہ من نسی صلاۃ فلیصل  اذا ذکرھا لا کفارۃ لھا الا ذالک. )صحیح بخاری ج 1 ص 84 باب من نسی صلاۃ(

ترجمہ : جو شخص نماز کو) اپنے وقت پر پڑھنا (بھول جائے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ جب بھی اس کو یاد آئے )کہ اس نے فلاں نماز نہیں پڑھی (تو اسے چاہیے کہ وہ نماز پڑھے اس کے علاوہ اس کا کوئی کفارہ نہیں ۔

2: جبکہ صحیح مسلم میں کچھ الفاظ کے اختلاف کے ساتھ یہ حدیث موجود ہے :

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَسِيَ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَكَفَّارَتُهَا أَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا۔ )صحیح مسلم:ج 1ص 27 (

ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے یا سوتا رہ جائے تو اس کا کفارہ یہی ہے کہ جب یاد آجائے تو نماز پڑھ لے۔

3: امام نسائی رحمہ اللہ نے اپنی سنن میں ایک روایت لائے ہیں : سئل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن الرجل یرقد عن الصلوٰۃ او یغفل عنہا قال : کفارتھا ان یصلیھا اذا ذکرھا ۔ )سنن نسائی ج1 ص 100باب فی من نام عن صلوٰۃ(

ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو نماز کے وقت میں سو جائے یا غفلت کی وجہ سے چھوڑ دے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس کا کفارہ یہی ہے کہ جب بھی اسے اپنی قضاء شدہ نماز یاد آئے تو وہ اسے پڑھ لے ۔

اقوالِ صحابہ :

1: امام مالک رحمہ اللہ نے اپنی کتاب موطا امام مالک میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ  کا فرمان نقل فرماتے ہیں :

عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلَمْ يَذْكُرْهَا إِلَّا وَهُوَ مَعَ الْإِمَامِ فَإِذَا سَلَّمَ الْإِمَامُ فَلْيُصَلِّ الصَّلَاةَ الَّتِي نَسِيَ ثُمَّ لِيُصَلِّ بَعْدَهَا الْأُخْرَى۔ )موطا امام مالک:۱۵۵(

ترجمہ: حضرت نافعؒ سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے، پھر امام کے ساتھ نماز پڑھتے وقت اس کو اپنی چھوڑی ہوئی قضاء نماز یاد آجائے تو جب امام سلام پھیرے تو اس کو چاہئے کہ پہلے وہ بھولی ہوئی قضاء نماز پڑھے پھر اس کے بعد دوسری نماز پڑھے۔

2: امام ترمذی رحمہ اللہ نے اپنی جامع میں حضرت ابو عبیدہ بن عبداللہ بن مسعود کی ایک روایت نقل کی ہے ، چنانچہ فرماتے ہیں:

عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ إِنَّ الْمُشْرِكِينَ شَغَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَرْبَعِ صَلَوَاتٍ يَوْمَ الْخَنْدَقِ حَتَّى ذَهَبَ مِنْ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ۔ )جامع ترمذی ص43(

حضرت ابو عبیدہ بن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ  نے فرمایا کہ غزوۂ خندق والے  دن مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کو چار نمازیں پڑھنے سے رو ک دیا تھا یہاں تک رات کا کچھ حصہ گذر گیا، جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا تو انہوں نے اذان دی اور پھر اقامت کہی، پس ظہر کی نماز پڑھی، پھر اقامت کہی تو عصر کی نماز پڑھی، پھر اقامت کہی تو مغرب کی نماز پڑھی، پھر اقامت کہی اور عشاء کی نماز پڑھی۔

اقوال فقہاء:

1: امام بخاری حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا قول نقل کرتے ہیں :

وقال ابراہیم من ترک صلاۃ واحدۃ عشرین سنۃ لم یعد الا تلک الصلوٰۃ الواحدۃ ۔ )صحیح بخاری ج 1 ص 84(

جس شخص نے ایک نماز چھوڑ دی تو )اگرچہ(بیس سال بھی گزر جائیں تو وہ شخص اسی اپنی قضاء شدہ  نماز کو ادا کرے ۔

2: امام ابن نجیم حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

فالاصل فیہ ان کل صلوٰۃفاتت عن الوقت بعد ثبوت وجوبہا فیہ فانہ یلزم قضاؤھا۔ سواء ترکھا عمدا او سھوا او بسبب نوم وسواء کانت الفوائت قلیلۃ او کثیرۃ۔ )بحر الرائق ج 2 ص 141(

ترجمہ : اصول یہ ہے کہ ہر وہ نماز جو کسی وقت میں واجب ہونے کے بعد رہ گئی ہو ، اس کی قضاء لازم ہے خواہ انسان نے وہ نماز جان بوجھ کر چھوڑی ہو یا بھول کر ، یا نیند کی وجہ سے نماز رہ گئی ہو ۔ چھوٹ جانے والی نمازیں زیادہ ہوں یا کم ہوں ۔ )بہر حال قضا لازم ہے ۔(

3: مشہور شارحِ مسلم علامہ نووی شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:فِيهِ وُجُوب قَضَاء الْفَرِيضَة الْفَائِتَة سَوَاء تَرَكَهَا بِعُذْرٍ كَنَوْمٍ وَنِسْيَان أَوْ بِغَيْرِ عُذْر۔ )شرح مسلم للنووی:ج1ص231 (

ترجمہ: جس شخص کی نماز فوت ہوجائے اس کی قضاء اس پر ضروری ہے خواہ وہ نماز کسی عذر کی وجہ سے رہ گئی ہو جیسے نیند، اور بھول یا بغیر عذر کے چھوٹ گئی ہو۔

4: امام جصاص رحمہ اللہ فرماتے ہیں:وهذا الذي ورد به الأثر من إيجاب قضاء الصلاة المنسية عند الذكر لا خلاف بين الفقهاء فيه، وقد روي عن بعض السلف فيه قول شاذ ليس العمل عليه ۔ )احکام القرآن للجصاص:ج 3ص288(

ترجمہ: یہ جو اثر بھولے سے نماز قضاء کے ادا کرنے پر ہے یاد آنے پر اس کی قضاء میں فقہاء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے اور جو بعض سلف سے قول مروی ہے وہ شاذ ہے اس پر عمل نہیں۔

5: صاحبِ رحمۃ الامۃ فرماتے ہیں: و اتفقوا علی وجوب قضاء الفوائت۔ )رحمۃ الامامۃ:146 (

ترجمہ: علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ فوت شدہ نمازوں کی قضاء کرنا ضروری ہے۔

نوٹ : احناف کی طرح دیگر ائمہ کرام کے مقلدین کا بھی قرآن و سنت کی روشنی میں یہی موقف ہے ۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیں :

6: امام مالک رحمہ اللہ کے مقلدین کا مذہب  ………المدونۃ الکبریٰ ج 1 ص 215

 7مام شافعی رحمہ اللہ کے مقلدین کا مذہب……………فتح الجواد ج 1 ص 223

8: امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ  کے مقلدین کا مذہب الانصاف ج 1 ص 442

جلیل القدر محدث کا دو ٹوک فیصلہ:

علامہ ملا علی قاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

حدیث" من قضی صلاۃ من الفرائض فی آخر جمعۃ من شہر رمضان کان ذالک جابرا لکل صلاۃ فائتۃ فی عمرہ الی سبعین سنۃ باطل قطعا لانہ مناقض للاجماع علی ان شیئا من العبادات لا یقوم مقام فائتۃ سنوات ۔

)الموضوعات الکبریٰ ص 356(

ترجمہ : یہ روایت کہ جو شخص رمضان کے آخری جمعہ میں ایک فرض نماز قضاء پڑھ لے تو ستر سال تک اس کی عمر میں جتنی نمازیں چھوٹی ہوں گی ان سب کی ادائیگی ہو جائے گی یہ روایت قطعی طور پر باطل ہے اس لیے کہ یہ حدیث اجماع کے خلاف ہے ۔ جبکہ اجماع اس پر ہے کہ کوئی بھی عبادت سالہا سال کی چھوٹی ہوئی نمازوں کے قائم مقام نہیں ہو سکتی ۔

نوٹ : فقہاء نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ قضاء شدہ نمازوں میں سے صرف فرض نمازوں اور وتروں کو ادا کیا جائے سنتوں اور نوافل کی  قضاء نہیں  کی جائے گی ۔