نماز عید

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 

نماز عید

عیدین  کی نماز دو رکعت ہے جوچھ زائد تکبیروں کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔پہلی رکعت میں ثناء کے بعد قرأت سے پہلے تین زائد تکبیریں کہی جاتی ہیں اور دوسری رکعت میں قرأت کے بعد تین زائد تکبیریں کہہ کررکوع کی تکبیر کہہ کر رکوع میں چلے جاتے ہیں۔پہلی رکعت میں تین زائد تکبیرات چونکہ تکبیرِ تحریمہ کہہ کر ثناء کے متصل بعد کہی جاتی ہیں اور دوسری رکعت میں یہ تکبیرات کہہ کر متصل رکوع کی تکبیر کہی جاتی ہے، اس لیے اس اتصال کی وجہ سے پہلی رکعت میں تکبیرِ تحریمہ کے ساتھ مل کریہ تکبیرات چار ہوتی ہیں اور دوسری رکعت میں رکوع کی تکبیر سے مل کر چار۔گویا ہر رکعت میں چار تکبیرات شمار ہوں گی۔بعض روایات میں پہلی رکعت میں تکبیرِ تحریمہ، تین زائد تکبیرات اوررکوع کی تکبیر کو ملا کر پانچ اور دوسری رکعت میں تین زائد تکبیرات اوررکوع کی تکبیر کو ملا کرچاربتایا گیا ہے اور مجموعی طور پر نو تکبیرات شمار کی گئی ہیں۔ دونوں صورتوں میں زائد تکبیرات چھ ہی بنتی ہیں۔

1: عَنِ الْقَاسِمِ اَبِیْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ قَالَ حَدَّثَنِیْ بَعْضُ اَصْحَاب رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلّٰی بِنَا النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ عِیْدٍ فَکَبَّرَ اَرْبَعًا وَاَرْبَعًا ثُمَّ اَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْھِہٖ حِیْنَ انْصَرَفَ فَقَالَ لَاتَنْسَوْا کَتَکْبِیْرِ الْجَنَائِزِ وَاَشَارَ بِاَصَابِعِہٖ وَقَبَضَ اِبْھَامَہٗ۔ (شرح معانی الآثار ج2 ص 371 باب صلوۃ العیدین)

ترجمہ: ابو عبدالرحمٰن قاسم فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے کسی صحابی نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عید کی نماز پڑھائی تو چار چار تکبیریں کہیں جب نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری طرف متوجہ ہوکرفرمایا: بھول نہ جاناعید کی تکبیریں جنازہ کی طرح (چار) ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کی انگلیوں کا اشارہ فرمایا اور انگوٹھا بند کر لیا۔

2: عَنْ مَکْحُوْلٍ قَالَ اَخْبَرَنِیْ اَبُوْ عَائِشَۃَ جَلِیْسٌ لِّاَبِیْ ہُرَیْرَۃَ: اَنَّ سَعِیْدَ بْنَ الْعَاص رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ سَأَلَ اَبَامُوْسٰی الْاَشْعَرِیَّ وَحُذَیْفَۃَ بْنَ الْیَمَانِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا کَیْفَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُکَبِّرُ فِی الْاَضْحٰی وَالْفِطْرِ فَقَالَ اَبُوْ مُوْسیٰ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کَانَ یُکَبِّرُاَرْبَعًا تَکْبِیْرَۃً عَلَی الْجَنَائِزِ فَقَالَ حُذَیْفَۃُ  رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ صَدَقَ فَقَالَ اَبُوْمُوْسیٰ کَذٰلِکَ کُنْتُ اُکَبِّرُ فِی الْبَصْرَۃِ حَیْثُ کُنْتُ عَلَیْھِمْ۔ (سنن ابی داؤد ج1 ص170باب التکبیر فی العیدین ،السنن الکبریٰ للبیہقی ج3ص 289)

ترجمہ: حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت ابو ہریرہ کے ہمنشین ابو عائشہ نے بتایاکہ حضرت سعید بن العاص  رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابوموسیٰ اشعری  رضی اللہ عنہ اور حضرت حذیفہ بن یمان  رضی اللہ عنہ سے سوال کیا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  عیدالاضحیٰ اور عیدالفطر میں کتنی تکبیریں کہتے تھے ؟ حضرت ابوموسیٰ  رضی اللہ عنہ نے جواب دیا چار تکبیریں کہتے تھے،جیسا کہ آپ جنازہ میں کہتے تھے ۔ حضرت حذیفہ  رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ (حضرت ابوموسیٰ  رضی اللہ عنہ ) سچ کہتے ہیں ۔حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ جب میں بصر ہ کا گورنر تھا تو وہاں بھی اسی طرح تکبیریں کہا کرتا تھا۔

3: عَنْ عَلْقَمَۃَ وَالْاَسَوَدِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَا کَانَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ  جاَلِسًا وَعِنْدَہٗ حُذَیْفَۃُ وَاَبُوْمُوْسَیٰ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا فَسَألَھُمْ سَعِیْدُ بْنُ الْعَاص رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ التَّکْبِیْرِ فِی الصَّلٰوۃِ یَوْمَ الْفِطْرِ وَالْأضْحٰی فَجَعَلَ ھٰذَا یَقُوْلُ: سَلْ ھٰذَا وَ ھٰذَا یَقُوْلُ:سَلْ ھٰذَا حَتّٰی قَالَ لَہٗ حُذَیْفَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ  سَلْ ھٰذَا لِعَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ  رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ  فَسَألَہٗ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یُکَبِّرُ اَرْبَعًا ثُمَّ یَقْرَأ ثُمَّ یُکَبِّرُ فَیَرْکَعُ ثُمَّ یُکَبِّرُ فِی الثَّانِیَۃِ فَیَقْرَأثُمَّ یُکَبِّرُ اَرْبَعًا بَعْدَ الْقِرَائَۃِ۔ (المعجم الکبیر للطبرانی ج4 ص 593 رقم 9402،مصنف عبدالرزاق ج3ص167،رقم 5704)

ترجمہ: علقمہ اور اسود بن یزیدکہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے ، ان کے پاس حضرت حذیفہ  رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوموسیٰ  رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔تو ان سے حضرت سعیدبن العاص  رضی اللہ عنہ نے عید الفطر اور عید الاضحیٰ کی تکبیروں کے متعلق سوال کیا۔ حضرت حذیفہ نے کہا: ان(حضرت ابوموسیٰ) سے پوچھو، اور  حضرت ابوموسیٰ نے کہا:ان( حضرت حذیفہ) سے پوچھو،پھرحضرت حذیفہ  رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ مسئلہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھو ۔چنانچہ انہوں نے پوچھا تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا :نمازی چار تکبیریں (ایک تکبیر تحریمہ اور تین تکبیرات زائدہ)کہے، پھر قراء ت کرے ،پھر تکبیر کہ کر رکوع کرے دوسری رکعت میں تکبیر کہے، پھر قراء ت کرے ،پھر قرأت کے بعد چار تکبیریں کہے۔(تین تکبیرات زائدہ اور ایک تکبیر رکوع کے لیے)

4: عَنْ کُرْدُوْسٍ قَالَ:اَرْسَلَ الْوَلِیْدُاِلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ َو حُذَیْفَۃَ وَ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ وَ اَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ بَعْدَ الْعَتَمَۃِفَقَالَ: اِنَّ ہٰذَا عِیْدُالْمُسْلِمِیْنَ،فَکَیْفَ الصَّلٰوۃُ؟ فَقَالُوْا:سَلْ اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ فَسَاَلَہُ فَقَالَ:یَقُوْمُ فَیُکَبِّرُ اَرْبَعًا ثُمَّ یَقْرَئُ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ وَ سُوْرَۃٍ مِّنَ الْمُفَصَّلِ ثُمَّ یُکَبِّرُ وَ یَرْکَعُ فَتِلْکَ خَمْسٌ ثُمَّ یَقُوْمُ فَیَقْرَئُ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ وَسُوْرَۃٍ مِّنَ الْمُفَصَّلِ ثُمَّ یُکَبِّرُ اَرْبَعًا یَرْکَعُ فِیْ آخِرِہِنَّ فَتِلْکَ تِسْعٌ فِی الْعِیْدَیْنِ فَمَا اَنْکَرَہُ وَاحِدٌ مِّنْہُمْ۔ (المعجم الکبیر للطبرانی: ج4 ص393,392 رقم الحدیث9400)

ترجمہ:حضرت کردوس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت حذیفہ، حضرت ابو مسعود اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہم کے پاس تہائی رات گزرنے کے بعد پیغام بھیجاکہ یہ مسلمانوں کی عید کا دن ہے، اس میں نماز کا کیا طریقہ ہے؟ ان سب نے کہا: ابو عبد الرحمن یعنی عبد اللہ بن مسعود  سے پوچھو۔ چنانچہ قاصد نے ان سے  پوچھاتو آپ نے فرمایا: کھڑے ہو کر چار تکبیریں(ایک تکبیر تحریمہ اور تین تکبیرات زائدہ) کہے۔پھر سورۃ الفاتحہ اور مفصل سورتوں میں سے کوئی سورت پڑھے، پھر تکبیر کہہ کر رکوع میں چلا جائے، یہ پانچ تکبیریں ہوئیں۔ پھر(دوسری رکعت میں) کھڑے ہو کر سورت فاتحہ اور مفصل سورتوں میں سے کوئی سورت پڑھے، پھر چار تکبیریں کہے جن میں سے آخری تکبیر کہہ کر رکوع میں چلا جائے، عید الفطر اور عید الاضحیٰ میں یہ نو تکبیریں بنتی ہیں۔ان سب حضرات میں سے کسی نے بھی اس کا انکار نہیں کیا۔[جو کہ ان حضرات کی طرف سے زبر دست تائید ہے کہ یہی طریقہ صحیح ہے]

5: حضرت عمرفاروق  رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں تکبیراتِ جنازہ کے چارہونے پر تمام صحابہ اورکا اتفاق ہوا۔ حدیث کے الفاظ ہیں:فَاجْمَعُوْا اَمْرَھُمْ عَلٰی اَنْ یَجْعَلُوْا التَّکْبِیْرَ عَلَی الْجَنَائِزِ مِثْلَ التَّکْبِیْرِ فِی الْاَضْحیٰ وَالْفِطْرِ اَرْبَعَ تَکْبِیْرَات۔ (شرح معانی الآثار ج1ص319 باب التکبیر علی الجنائز کم ھو ؟)

ترجمہ: تو انہوں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ نماز عیدالاضحیٰ اور عیدالفطر کی چار تکبیروں کی طرح جنازہ کی بھی چار تکبیریں ہیں ۔

6: عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ:فِی الْاُوْلٰی خَمْسُ تَکْبِیْرَاتٍ بِتَکْبِیْرَۃِ الرَّکْعَۃِ وَ بِتَکْبِیْرَۃِ الْاِسْتِفْتَاحِ وَ فِی الرَّکْعَۃِ [الْاُخْرٰی] اَرْبَعَۃٌ بِتَکْبِیْرَۃِ الرَّکْعَۃِ. (مصنف عبد الرزاق: ج3 ص166رقم الحدیث 5702باب التکبیر فی صلوۃ العید)

ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز عید کی پہلی رکعت میں رکوع اور تحریمہ کی تکبیر کو ملا کرپانچ تکبیریں ہوتی ہیں اور دوسری رکعت میں رکوع والی تکبیر کو ملا کر چار تکبیریں بنتی ہیں[خلاصہ یہ کہ ہر رکعت میں زائد تکبیروں کی تعداد تین ہے]

7: عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ اَنَّہُ صَلّٰی خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فِی الْعِیْدِ فَکَبَّرَ اَرْبَعًا ثُمَّ قَرَئَ ثُمَّ کَبَّرَ فَرَفَعَ ثُمَّ قَامَ فِی الثَّانِیَۃِ فَقَرَئَ ثُمَّ کَبَّرَ ثَلَاثًا ثُمَّ کَبَّرَ  فَرَفَعَ. (سنن الطحاوی: ج2 ص372باب التکبیر علی الجنائز کم ھو ؟)

ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن الحارث نے حضرت ا بن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے عید کی نماز پڑھی ۔ حضرت ا بن عباس رضی اللہ عنہما نے پہلے چار تکبیریں کہیں، پھر قراء ت کی، پھر تکبیر کہہ کر رکوع کیا۔ پھر جب آپ دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو پہلے قراء ت کی پھر تین تکبیریں کہیں، پھر (چوتھی) تکبیر کہہ کر رکوع کیا۔

تکبیرات عیدین میں رفع یدین:

نماز عیدین میں تکبیرات کے ساتھ رفع یدین کیا جاتا ہے:

دلیل نمبر1:

عَنْ اِبْرَاہِیْمَ النَّخْعِیِّ اَنَّہُ قَالَ: تُرْفَعُ الْاَیْدِیْ فِیْ سَبْعِ مَوَاطِنَ؛فِی افْتِتَاحِ الصَّلٰوۃِ وَ فِی التَّکْبِیْرِ لِلْقُنُوْتِ فِی الْوِتْرِ وَ فِی الْعِیْدَیْنِ وَ عِنْدِ اسْتِلاَمِ الْحَجَرِ وَ عَلَی الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃِ وَ بِجَمْعٍ وَعَرَفَاتٍ وَ عِنْدَ الْمَقَامَیْنِ عِنْدَ الْجَمْرَتَیْنِ۔

(سنن الطحاوی:ج1ص417 باب رفع الیدین عند رویۃ البیت)

ترجمہ:جلیل القدر تابعی حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سات جگہوں میں رفع یدین کیا جاتا ہے۔(۱)  نماز کے شروع میں(۲)نمازِ وترمیں قنوت کے وقت (۳)عیدین میں (۴) حجر اسود کو سلام کے وقت، (۵) صفا و مروہ پر،(۶) مزدلفہ اورعرفات میں(۷)دو جمروں کے پاس ٹھہرتے وقت۔

دلیل نمبر2:

وَاتَّفَقُوْا عَلٰی رَفْعِ الْیَدَیْنِ فِی التَّکْبِیْرَاتِ۔

(مرقاۃ المفاتیح لعلی القاری: ج 3ص495 باب صلاۃ العیدین رحمۃ الامۃ فی اختلاف الائمۃ:  ص63)

ترجمہ: فقہاء کرام کا عیدین کی تکبیرات کے رفع یدین پر اتفاق ہے۔

دلیل نمبر3:

وَاَجْمَعُوْاعَلٰی اَنَّہُ یُرْفَعُ الْاَیْدِیْ فِی تَکْبِیْرِ الْقُنُوْتِ وَ تَکْبِیْرَاتِ الْعِیْدَیْنِ. (بدائع الصنائع للکاسانی: ج1ص484 ، رفع الیدین فی الصلوۃ)

ترجمہ: فقہاء کرام کا اس بات پر اجماع ہے کہ وتروں میں قنوت کی تکبیر اور عیدین کی تکبیرات کے وقت رفع یدین کیا جائے۔

فائدہ: پنجگانہ نمازوں میں رکوع کو جاتے، رکوع سے سر اٹھاتے اور تیسری رکعت کے شروع میں رفع یدین کرنا منسوخ اور ممنوع اور عیدین میں کیا جانے والا رفع یدین مشروع اور لازم ہے. نماز عید کے علاوہ رفع یدین کے منسوخ اور ممنوع ہونے پر دلائل کے لیے میری کتاب نماز اہل السنۃ والجماعۃ کا مطالعہ فرمائیں.