تعدادِ رکعاتِ تراویح

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 

تعدادِ  رکعاتِ تراویح

دلیل نمبر1:

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي فِي رَمَضَانَ عِشْرِينَ رَكْعَةً وَالْوِتْرَ.

 (مصنف ابن ابی شیبۃ ج2 ص284 باب كم يصلی فِی رَمَضَانَ مِنْ رَكْعَةٍ. المعجم الکبیر للطبرانی ج5 ص433 رقم 11934، المنتخب من مسند عبد بن حميد ص218 رقم 653، السنن الكبرى للبیھقی ج2 ص496 باب مَا رُوِىَ فِى عَدَدِ رَكَعَاتِ الْقِيَامِ فِى شَهْرِ رَمَضَانَ.)

ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم  رمضان میں بیس رکعت تراویح اور وتر پڑھتے تھے۔

فائدہ: اس کی سند حسن ہے، امت کے تلقی بالقبول کی وجہ سے صحیح شمار ہو گی۔

شبہ:

زئی صاحب غیر مقلد نے لکھا:”یہ حدیث موضوع و من گھڑت ہے“ (تعدادِ رکعات قیام رمضان: ص28)

اور یہ بات نقل کی:”و ہو ضعیف- ہذا حدیث ضعیف(ایضاً)

نیز اس کے ایک راوی ابراہیم بن عثمان پر جرح بھی کی ہے۔ یہی کچھ غلام مصطفی غیر مقلد نے لکھا ہے۔ (آٹھ رکعت نماز تراویح:ص6)

جواب نمبر1:

اللہ تعالیٰ جناب کو فہم نصیب فرمائے۔ حدیث کے بارے میں نقل کیا کہ یہ ضعیف ہے اور حکم لگایا” موضوع و من گھڑت ہے“کیا ضعیف حدیث موضوع ہوتی ہے؟[جبکہ زیرِ بحث حدیث درجۂحسن کی ہے، اور مؤیدات کی وجہ سے قوی تر ہے۔تفصیل آگے آ رہی ہے] اگر یہی اصول جناب کے ہاں مسلم ہے تو سننِ اربعہ اور دیگر کتبِ حدیث کی جن روایات کومحدثین ضعیف بتلاتے ہیں ان پر شوق سے ”موضوع “ کا حکم لگائیے۔ جناب کی جانب سے حدیث کی ”عظیم خدمت “ہو گی۔

اولاً:۔۔۔ ’’ابراہیم بن عثمان ابوشیبہ العنبسی‘‘ جن  پر موصوف نے جرح کی ہے وہ  اتنا بھی مجروح نہیں کہ اس کی روایت کورد کردیا جائے،بلکہ  بعض محدثین سے اس کی تعدیل و توثیق اور مدح و ثناء بھی ثابت ہے۔

1: امام شعبہ بن الحجاج م 160ھ نے ابو شیبہ سے روایت لی ہے۔ (تہذیب الکمال للمزی: ج1، ص268، تہذیب التہذیب : ج1 ص136)

اور غیر مقلدین کے ہاں اصول ہےکہ امام شعبہ اس راوی سے روایت لیتے ہیں  جو ثقہ ہو اور اس کی احادیث صحیح ہوں۔

(القول المقبول فی شرح صلوۃ الرسول : ص386، نیل الاوطار: ج1 ص16)

اگر ابو شیبہ اتنا ضعیف راوی ہوتا جتنا منکرین فقہ  کہتے ہیں تو پھر امام شعبہ ان سے روایت نہ لیتے۔

2: امام بخاری رحمہ اللہ کے استاذ الاساتذہ حضرت یزید بن ہارون رحمہ اللہ، ابراہیم بن عثمان ابو شیبہ کے زمانۂ قضاۃ میں ان کے کاتب تھےاور ان کے بڑے مداح تھے، فرماتے ہیں:’’ماقضی علی الناس یعنی فی زمانہ اعدل فی قضاء منہ‘‘ ( تہذیب الکمال ج1ص270)

ترجمہ: ابراہیم بن عثمان کے زمانۂ قضاء میں ان سے بڑھ کر کوئی قاضی نہیں ہوا۔

3: امام ابن عدی فرماتے ہیں:لہ احادیث صالحۃ۔ ( تہذیب الکمال ج1ص270)

ترجمہ: ابوشیبہ کی احادیث درست ہیں۔

مزید فرماتے ہیں:   وهو وإن نسبوه إلى الضعف خير من إبراهيم بن أبي حية۔ (تہذیب الکمال ج1ص270)

ترجمہ: لوگوں نے ابراہیم بن عثمان ابوشیبہ  کی طرف ضعیف ہونے کی نسبت کی ہے، لیکن یہ ابراہیم بن ابی حیہ سے بہتر ہے۔ اور ابراہیم بن ابی حیہ کے بارے میں امام یحیٰ بن معین فرماتے ہیں:شیخ، ثقۃ کبیر ۔ (لسان المیزان ج1ص53، رقم الترجمۃ 127 )

ترجمہ: یہ شیخ ہیں اور بڑےثقہ ہیں۔

تو جب ابراہیم بن ابی حیہ امام یحییٰ بن معین کے ہاں ثقہ ہے تو ابراہیم بن عثمان ابوشیبہ حد درجہ ضعیف کیوں؟اور اس کی حدیث موضوع ومن گھڑت کیوں؟

ثانیاً:۔۔۔ ابراہیم بن عثمان پر کی گئی جروح میں سے بعض جروح مبہم و  غیرمفسر ہیں اور بعض جروح غیر مقبول اور مردود بھی ہیں۔ مثلاً زئی صاحب نے لکھا ہے:” اسے شعبہ نے جھوٹا کہاہے۔“(تعدادِ رکعات قیام رمضان: ص29)

حالانکہ علامہ ذہبی اور حافظ ابن حجر کی پوری عبارت سامنے رکھنے سے واضح ہوجاتاہے کہ امام شعبہ کی یہ جرح ناقابل قبول ہے۔ خود علامہ ذہبی کے ہاں بھی یہ جرح غلط ثابت ہوتی ہے۔ عبارت یہ ہے:

کذبہ شعبۃ لکونہ روی عن الحکم عن ابن ابی لیلیٰ انہ قال شہد صفین من اہل بدرسبعون فقال شعبۃ کذب واللہ لقد ذاکرت الحکم فما وجدنا شہد صفین احدا من اہل بدر غیر خزیمۃ ۔قلت: سبحان اللہ!  اما شہد ہا علی؟اما شہدہا عمار؟ (میزان الاعتدال للذہبی: ج1ص84)

ترجمہ: امام شعبہ نے ابراہیم بن عثمان کو جھوٹا اس وجہ سے کہا ہے کہ اس نے حکم سے روایت کی کہ ابن ابی لیلیٰ نے کہا کہ جنگ صفین میں ستر بدری صحابہ شامل تھے۔ شعبہ نے کہا: واللہ! ابراہیم بن عثمان نے تو جھوٹی بات کہی ہے ۔میں نے خود امام حکم سے مذاکرہ کیا تو سوائے حضرت خزیمہ کے کسی کو اہل بدر سے نہیں پایا۔ میں (ذہبی)کہتا ہوں: سبحان اللہ! کیا صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ حاضر نہ تھے ؟کیا صفین حضرت عمار رضی اللہ عنہ حاضر نہ تھے؟

اس تفصیل سے امام شعبہ کی تکذیب کی حقیقت واضح ہوگئی کہ انہوں نے  تکذیب صرف اس وجہ سے کی تھی کہ ابراہیم نے حکم کے واسطے سے ابن ابی لیلیٰ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ صفین میں ستر بدری صحابہ شریک تھے ۔تو اس سے ابراہیم کا جھوٹا ہونا کیسے ثابت ہوتاہے؟ بلکہ جھوٹ تو اس وقت ثابت ہوتا کہ جب شعبہ حکم کے پاس مذاکرہ کرنے گئے تو حکم سرے سے اس بیان کا انکار کردیتے لیکن حکم اس کا انکار نہیں کرتے، بلکہ مذاکرہ سے صرف ایک صحابی ثابت ہوا۔معلوم ہوا کہ امام حکم نے بیان کیا تھا لیکن اب وہ ستر کا عدد ثابت نہ کرسکے۔ تو اس میں ابراہیم کا کیا قصور ہے؟! علاوہ ازیں علامہ ذہبی نے بھی امام شعبہ کے اس بیان کو یوں رد کردیا کہ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عمار رضی اللہ عنہ بھی تو یقیناً شریک تھے ۔تو پھر متعین ایک ہی کیسے ثابت ہوا؟ کم سے کم تین کہیے یعنی اس طرح اور تحقیق کرلیجیے، ممکن ہے اور نکل آئیں۔معلوم ہوا کہ امام ذہبی کے نزدیک بھی شعبہ کی یہ جرح مردود ہے، لیکن علی زئی صاحب کی ”دیانت“ کو بھی داد دیجیے۔

ثالثاً:۔۔۔ ابراہیم بن عثمان ابوشیبہ پر کچھ کلام بھی کیا گیا ہے اور اسے ضعیف بھی بتلایا گیا ہے لیکن یہ اتنا بھی ضعیف نہیں کہ اس کی روایت کو مطلقاً ترک کردیا جائے  بلکہ دیگر مؤیدات کی وجہ سے (جن کا بیان آگے آرہاہے)یہ روایت اس قدر مستحکم وقوی ہوجاتی ہے کہ ضعیف کہہ کر جان چھڑانا ناممکن سی بات ہے۔چنانچہ محدث شہیر حضرت مولانا حبیب الرحمن  اعظمی فر ما تے ہیں :

’’ابو شیبہ کی یہ حدیث چا ہے اسناد کے لحا ظ سے ضعیف ہو مگر اس لحا ظ سے وہ بے حد قوی اور ٹھو س ہے کہ عہد فاروقی کے مسلمانو ں کا علانیہ عمل اس کے موافق تھایا کم از کم  آخر میں وہ لو گ اسی پر جم گئے اور روایتو ں سے حضرت علی کے زمانہ کے مسلمانو ں کا عمل بھی اسی کے موافق ثا بت ہوتا ہے اور ہر چار ائمہ مجتہدین کے اقوال بھی اسی کے مطابق ہیں اور عہد فاروقی کے بعد سے ہمیشہ امت کا عمل بھی بلا اضا فہ یا اضا فہ کے ساتھ اس کے موافق رہا ہے۔ ان باتو ں کے انضمام سے ابو شیبہ کی حدیث اس قدر قوی ومستحکم ہوجا تی ہے  کہ اس کے بعد اس کو ضعیف کہہ کر جا ن چھڑا نا نا ممکن سی با ت ہو جاتی ہے‘‘ (رکعات تراویح ص60)

جواب نمبر2:

اس روایت کو تلقی بالقبول حاصل ہے اور قاعدہ ہے کہ اگر کسی روایت کو تلقی بالقبول حاصل ہو جائے تو روایت صحت کا درجہ پا لیتی ہے۔

1: امام شافعی ؒ  (204ھ)فرماتے ہیں:

حديث لا وصيۃ لوارث إنه لا يثبته أهل الحديث ولكن العامه تلقته بالقبول وعملوا به حتى جعلوة ناسخا لآيۃ الوصيه له۔ (فتح المغیث شرح الفیۃ الحديث للسخاوی ج 1 ص 289)

ترجمہ: محدثین اس حدیث کو ثابت نہیں مانتے  لیکن  علماء نے اس کو قبول کر لیا ہے اور اس پر عمل بھی کرتے ہیں، حتیٰ کہ ان محدثین علماء نے اس حدیث کو آیت وصیت کا ناسخ قرار دیا ہے۔

2: امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ(911ھ) فرماتے ہیں:

قال بعضھم یحکم للحدیث بالصحة اذا تلقاہ الناس بالقبول وان لم یکن لہ اسناد صحیح. (تدریب الراوی ص29)

ترجمہ: بعض محدثین کا موقف ہے کہ حدیث پر صحیح ہونے کا حکم اس وقت )بھی( لگایا جائے گا جب امت اس  حدیث کو قبول کر لے، اگرچہ اس کی سند صحیح نہ ہو۔

3: حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

و ذہب بعضہم الی ان الحدیث اذاتاید بالعمل ارتقی من حال الضعف الی مرتبۃ القبول۔ قلت: و ھو الاوجہ عندی۔ (فیض الباری شرح  البخاری: ج3،ص:409 کتاب الوصایا، باب الوصیۃ لوارث)

ترجمہ: بعض محدثین کی رائے یہ ہےکہ  کسی حدیث کی تائید جب (امت کے)تعامل کے ساتھ ہوتو وہ درجہ ضعف سے درجہ قبولیت پا لیتی ہے۔ میں (علامہ  کشمیری رحمہ اللہ) کہتا ہوں کہ یہی رائے میرے ہاں زیادہ پسندیدہ ہے۔

4: غیر مقلد عالم ثناء اللہ امرتسری نے اعتراف کیا:’’بعض ضعف ایسے ہیں جو امت کی تلقی بالقبول سے رفع ہو گئے ہیں‘‘ (اخبارِ اہل حدیث مورخہ 19 اپریل1907 بحولہ رسائلِ اعظمی  ص331)

 لہذا یہ روایت تلقی بالقبول ہونے کی وجہ سے یہ روایت صحیح و حجت ہے۔

جواب نمبر3:

حدیث مذکور کو ابرا ہیم بن عثمان ابوشیبہ سے روایت کرنے والے چا ر محدثین ہیں :

1: یزید بن ہارون: (مصنف ابن ابی شیبۃ ج2 ص284)

2: علی بن جعد : (المعجم الکبیر للطبرانی ج5ص433 رقم 11934)

3: ابو نعیم فضل بن دکین : (المنتخب من مسند عبد بن حميد ص218 رقم 653)

4: منصور بن ابی مزاحم : (السنن الكبرى للبیھقی ج2ص496)

اور یہ چا روں حضرات ثقہ ہیں :

1: یزید بن ہارون :ثقہ ، متقن ۔ (تقریب التہذیب ص638)

2: علی بن جعد:ثقہ، صدوق ۔ (سیر اعلا م النبلاء للذہبی: ج10 ص466)

3: ابو نعیم فضل بن دکین : ثقہ ثبت۔ ( تقریب التہذیب ص475)

4: منصور بن ابی مزاحم :ثقہ ۔ ( تقریب التہذیب ص576)

ان ثقہ وعظیم محدثین کا ابرا ہیم بن عثمان ابو شیبہ سے بیس رکعت نقل کرنے میں  متفق ہونا قوی تا ئید ہے کہ یہ حدیث ثا بت وصحیح ہے ورنہ یہ ثقہ حضرات اس طرح متفق نہ ہو تے ۔

دلیل نمبر2:

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ خَرَجَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ فِیْ رَمَضَانَ فَصَلَّی النَّاسَ اَرْبَعَۃً وَّعِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَاَوْتَرَ بِثَلَاثَۃٍ ۔ (تاريخ جرجان للسہمی ص317، فی نسخۃ 142)

ترجمہ:حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:نبی  صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں ایک رات تشریف لائے اورلوگوں کوچار(فرض)بیس رکعت (تراویح) اورتین وترپڑھائے۔

فائدہ: اس حدیث کی سند حسن درجہ کی ہے۔اس روایت کو  تلقی امت بالقبول حاصل ہے کہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خصوصاً خلفاء راشدین میں سے حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم، تابعین ، ائمہ اربعہ اور مشائخِ امت رحمہم اللہ نے اس پر عمل فرمایا ہے اوربلادِ اسلامیہ و حرمین شریفین  میں اسی بیس رکعت کا معمول رہا ہے۔ محدثین حضرات نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ تلقی امت بالقبول سے حدیث درجہ صحت کو پا لیتی ہے۔[حوالہ جات گزر چکے ہیں] لہذا یہ روایت درجہ صحیح کو پہنچ جاتی ہے۔

شبہ:  اس میں دو راوی محمد بن حميد الرازی اور عمر بن ہارو ن البلخی ضعیف ہیں۔

جواب: یہ حسن الحدیث درجہ کے راوی ہیں۔

محمد بن حميد الرازی : (م248ھ)

آپ ابوداؤد ،ترمذی، ابن ماجہ، کے را وی ہیں ۔ ( تہذیب التہذیب  ج:5ص:547)

اگرچہ بعض محدثین سے جر ح منقول ہے لیکن بہت سے جلیل القدر ائمہ محدثین نے آپ کی تعدیل و تو ثیق اور مدح بھی فر ما ئی ہے مثلاً:

1: امام احمدبن حنبل :وثقہ (ثقہ قراردیا )۔ (طبقات الحفاظ للسیوطی ج:1ص:40)

اور ایک بار فر ما یا ”لایزال  با لری علم مادام محمد بن حمید حیاً“۔(جب تک محمد بن حمید زند ہ ہیں مقام ری میں علم با قی رہے گا ) (تہذیب الکمال للمزی  ج:8ص:652)

2: امام یحی بن معین:  ثقۃ ،لیس بہ باس،  رازی کیس [ثقہ ہے اس احا دیث پر کو ئی کلام نہیں ،  سمجھ دار ہے] (ایضاً)

3: امام جعفر بن عثمان الطیالسی: ثقۃ۔ ( تہذیب الکمال  ج:8ص:653)

4: علامہ ابن حجر :الحافظ [حافظ ہے]۔ ( تہذیب التھذیب  ج:5ص:547)

5: علامہ ہیثمی ایک حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں : ” وفی اسناد بزار محمد بن حمید الرازی وھو ثقۃ  “[بزاز کی سند میں محمد بن حمید الرازی ہے اور وہ ثقہ ہے ] (مجمع الزوائد ج:9ص:475)

چونکہ اس پر کلام ہے اور اس  کی توثیق بھی کی گئی ہے،لہذا اصولی طور پر یہ حسن درجہ کا راوی ہے ۔

عمر بن ہارو ن البلخی ﷫: (م294ھ)

آپ ترمذی اور ابن ماجہ کے را وی ہیں۔ بعض حضرات  نے جر ح کی ہے لیکن بہت سے ائمہ نے آپ کی تعدیل وتوثیق اور مدح وثناء میں یہ الفا ظ ارشاد فر ما ئے ہیں:

الحافظ،الامام ،المکثر، عالم خراسان ،من اوعیۃ العلم“[علم کا خزانہ تھے ] کثیر الحدیث ، وارتحل [حصول علم کے اسفار کئے ] ثقۃ ،مقارب الحدیث ۔

(تذکرۃ الحفاظ للذہبی ج:1ص:248،249،سیر اعلام النبلاء ج:7ص:148تا 152،تہذیب التہذیب ج:4ص:315تا317)

لہذا اصولی  طور پر آپ حسن الحدیث درجہ کے راوی ہیں ۔

تنبیہ:راقم نے سہ ماہی مجلہ ” قافلہ حق “ج:4ش:3 میں ایک تحقیقی مضمون ”مسئلہ 20 ترا ویح ۔۔۔۔ دلائل کی روشنی میں“ تحریر کیا تھابعض آل حدیث نے اپنے رسالے الحدیث ش76میں نازیبا اور بازرای  زبان استعمال کرکے اس پر لا یعنی اعتراض کئے جن میں سے ایک اعترا ض اس حدیث پر بھی تھا جس کا جوا ب ادارہ کی جانب سے  اگلے شمارہ میں  دے دیاگیا،  افادۃً پیش خدمت ہے :

غیر مقلدین نے لکھا کہ:” گھمن نے ترجمہ میں بددیا نتی کی ہے۔ چار رکعت فرض کا اپنی طرف سے اضا فہ کیا  ہے کیونکہ ا س من گھڑت روایت سے چوبیس رکعات ترا ویح کا ثبوت ملتا تھا “۔ (الحدیث ش76ص33)

جائزہ:

حدیث مبا رک کے متن میں الفا ظ موجود ہیں [اربعۃ وعشرین رکعۃ واوتر بثلاثۃ]اس میں جماعت کے ساتھ ادا کی گئی مکمل نماز کا ذکر ہے اور یہ  ہروہ شخص سمجھتا ہے جو عقل کی نعمت سے محرو م نہ کردیا گیا ہوکہ رمضا ن المبارک میں امام پہلے با جماعت چا ر فرض اور پھر بیس رکعات تراویح اور آخر میں تین رکعات وتر پڑھا تا ہے۔

1: امام ابن بطال م 449ھ نے حضرت عطاء بن ابی ربا ح سے ” یصلون ثلاثا وعشرین  رکعۃ“ نقل کیا یعنی وہ حضرات 23 رکعات اد ا فر ما تے تھے اور پھر یوں وضاحت فر ما ئی ” الوتر منھا ثلاثا “کہ ان میں تین رکعات وتر ہے۔ (شرح البخا ری لابن بطال ج3ص146)

2: امام ابن  عبد البر م 463ھ نے سائب بن یزید سے ”وکان القیا م علی عہدہ [یعنی علی عہد عمر] بثلاث وعشر ین رکعۃ “ یعنی حضرت عمر کے زمانہ مبارک میں23رکعت اداکی جا تی تھیں اور اس کے بعد فر ما تے ہیں کہ”وھذا محمول علی ان الثلاث للوتر “یہ اس با ت پر محمو ل ہے کہ تین رکعات وتر ہو تے تھے۔

 (التمہید لابن عبد البر ج3ص519،الاستذکار لابن عبد البر ج2ص96ومثلہ فی عمدۃ القاری علی البخاری لحافظ  العینی عن ابن عبد البرج8ص245 )

3: امام ابن عبد البر نے ہی سیدنا اب عباس سے مرفوعا ً یہ الفاظ تخریج فر ما ئے ہیں کہ” کا ن یصلی فی رمضا ن عشرین رکعۃ“ کہ آپ رمضان میں بیس رکعات ادا فرماتے تھے اس کے بعد فر ما تے ہیں کہ وھذا ایضا  سوی الوتر اور یہ وتر کے علاوہ کی نما ز ہے ۔ ( التمہید لابن عبد البر ج4ص519)

4:  امام ابن حجر ج852ھ نے سیدنا سائب بن یزید سے” عشرین رکعۃ “نقل فر ما یا  اورپھر یو ں وضا حت فرمائی کہ  وھذا محمو ل علی غیر الوتر اور یہ  وتر کے علاوہ پر محمو ل ہے ۔  (فتح البا ری ج4ص321)