خلفاء راشدین اورتراویح

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 

خلفاء راشدین اورتراویح

حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہ، حضوراکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی میں ہی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی اس سنت پر عمل کرنے لگے تھے، مختلف جماعتوں میں یامتفرق ہوکرالگ الگ ٹولیوں میں بٹ کر تراویح پڑھتے رہتے تھے۔ حضورعلیہ السلام دیکھتے تھے لیکن کبھی اس پر ناپسندیدگی یاناگواری کااظہار نہیں کیابلکہ پسندیدگی کااظہارفرماکر رضامندی کی سندعطافرمائی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ فرماتے ہیں:

خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَإِذَا أُنَاسٌ فِى رَمَضَانَ يُصَلُّونَ فِى نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ « مَا هَؤُلاَءِ ». فَقِيلَ هَؤُلاَءِ نَاسٌ لَيْسَ مَعَهُمْ قُرْآنٌ وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ يُصَلِّى وَهُمْ يُصَلُّونَ بِصَلاَتِهِ. فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « أَصَابُوا وَنِعْمَ مَا صَنَعُوا ». (سنن ابی داؤد ج1ص204،باب فی قیام شھررمضان)

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم  ایک رات تشریف لائے تودیکھا کہ لوگ مسجدکے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے ہیں۔آپ علیہ السلام نے پوچھا: یہ لوگ کیاکررہے ہیں؟ جواب دیاگیاکہ یہ لوگ حافظ قرآن نہیں ہیں اس لیے ابی بن کعب کی  اقتداء میں نماز (تراویح) اداکررہےہیں، تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم  نے فرمایا:انہوں نے اچھا کیااورصحیح کیا۔

اسی مضمون کی ایک دوسری روایت حضرت ثعلبہ بن ابی مالک القرظی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے کہ:

قَالَ :« قَدْ أَحْسَنُوا ، أَوْ قَدْ أَصَابُوا ». وَلَمْ يَكْرَهْ ذَلِكَ لَهُمْ. (السنن الکبریٰ للبیہقی :ج2ص495)

ترجمہ: آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:انہوں نے اچھا کیا یایہ فرمایا کہ صحیح کیااوریہ چیز آپ نے ان کے لیے ناپسند نہیں کی۔

آپ  صلی اللہ علیہ و سلم  کی وفات کے بعد تمام انصارومہاجرین نے سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ کوخلیفہ منتخب کرلیا۔آپ کے زمانہ خلافت میں بھی نماز تروایح کاوہی سلسلہ جاری رہا جو عہد نبوی کے آخری ایام میں موجود تھا یعنی انفرادی یا متفرق جماعتوں کی صورت میں۔ چنانچہ حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ثُمَّ كَانَ الْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا۔ ( صحیح البخاری :ج1 ص269،باب فضل من قام رمضان)

ترجمہ: عہدنبوی والا یہ معاملہ خلافت صدیقی رضی اللہ عنہ اورعہدفاروقی رضی اللہ عنہ کے ابتدئی دور تک اسی طرح قائم رہا۔

یعنی عہدصدیقی میں نہ مستقل طورپرباجماعت قیام رمضان تھا اورنہ متفرق جماعتوں میں رکعتوں کی کوئی تعیین۔ وجہ یہ تھی کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ  کو اپنے مختصر دور خلافت میں ارتداد،جھوٹے نبیوں اور مانعین زکوۃ  وغیرہ جیسے فتنوں سے نبرد آزما ہونا پڑا،اس لیے اس امر کی طرف باقاعدہ توجہ نہ دی جاسکی۔

باجماعت تراویح کااہتمام:

22جمادی الثانی13ھ کوسیدناصدیق اکبررضی اللہ عنہ نے سفر آخرت اختیار فرمایا اورانہی کے انتخاب پرحضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے خلافت سنبھالی۔ تقریبادوماہ بعد رمضان المبارک آگیا۔ اس موقع پرآغاز رمضان میں آپ رضی اللہ عنہ نے ایک خطبہ ارشادفرمایا۔چنانچہ حضرت عبداللہ بن عکیم الجھنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ماہ رمضان کی اول شب نماز مغرب کے بعد حضرت عمر نے ایک خطبہ ارشادفرمایاجس  میں آپ نے فرمایا:فان ھذا الشھرکتب علیکم صیامہ،ولم یکتب علیکم قیامہ، فمن استطاع منکم ان یقوم فلیقم فانھا نوافل الخیرفمن لم یسقطع فلینم علی فراشہ۔

(مصنف عبدالرزاق:  ج4ص204، باب قيام رمضان)

ترجمہ: یہ وہ مہینہ ہےجس کے روزے تم پر فرض کیے گئے  ہیں لیکن اس کاقیام تم پر فرض  نہیں کیاگیا۔ پس تم میں سےجو قیام کی طاقت رکھتا ہے وہ قیام کرے کیونکہ یہ نوافل خیرہیں اورجوقیام کی طاقت نہ رکھے وہ بستر پر نیند کرے۔

گویاخلافت فاروقی کے آغاز میں نماز تراویح کی سابقہ کیفیت برقرارتھی اوراس کا درجہ نوافل یااستحبابی سنت کارہا، لیکن اگلے سال فاروق اعظم رضی اللہ عنہ  نےباجماعت تراویح کے لیے سرکاری حکم جاری فرمادیا۔چنانچہ حضرت عبدالرحمن بن عبدالقاری رضی اللہ عنہ فرماتے  ہیں کہ رمضان المبارک کی ایک رات کومیں حضرت عمررضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد کی جانب نکلا، دیکھا کہ لوگ متفرق ٹولیوں کی صورت میں نماز پڑھ رہےتھے۔

فَقَالَ عُمَرُ إِنِّي أَرَى لَوْ جَمَعْتُ هَؤُلَاءِ عَلَى قَارِئٍ وَاحِدٍ لَكَانَ أَمْثَلَ ثُمَّ عَزَمَ فَجَمَعَهُمْ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ لَيْلَةً أُخْرَى وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ قَارِئِهِمْ قَالَ عُمَرُ نِعْمَ الْبِدْعَةُ هَذِهِ . (صحیح البخاری:  ج1ص269، باب فضل من قام رمضان)

ترجمہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگرمیں ان کو ایک امام پر جمع کردوں تو بہتر ہوگا۔ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے اس کاپختہ ارادہ کرلیا۔ کچھ دن بعد آپ نے لوگوں کو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں جمع کردیا۔ اس کے بعد ایک رات ہم نکلے تولوگ مسجد میں ایک امام کی اقتداء میں نمازپڑھ رہے تھے۔ یہ دیکھ کرحضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ اچھاطریقہ ہے۔

سابقہ صفحات میں واضح ہوا کہ با جماعت تراویح آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے صرف تین دن پڑھائی، اس پر مداومت نہ فرمائی۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ  اول شخص ہیں جنہوں نے باقاعدہ باجماعت قیام رمضان کااجراء فرمایا ۔

تراویح کے ”سنت فاروقی“ ہونے کامطلب:

نما زتراویح کو ”سنت فاروقی“ اس لیے کہا جاتاہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ  نے اس کے لیے باقاعدہ جماعت کا اہتمام کیا اورپورا مہینہ اس کی ادائیگی کاحکم فرمایاچنانچہ علامہ جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکر سیوطی لکھتے ہیں:

وفی الاوائل للعسکری: اول من سن قیام رمضان عمر سنۃ اربع عشرۃ۔ (الحاوی للفتاوی: ج1، ص336)

ترجمہ: علامہ عسکری کی کتاب ”الاوائل“ میں ہے کہ رمضان کی جماعت کاباقاعدہ قیام حضرت عمر نے سن چودہ ہجری میں جاری فرمایا۔

حضرت ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں:

ان عمر بن الخطاب اول من جمع الناس علی قیام شھر رمضان الرجال علی ابی بن کعب والنساء علی سلیمان بن ابی حثمۃ۔ (الحاوی للفتاوی ج1ص336، السنن الکبری للبیھقی ج2ص494)

ترجمہ: حضرت عمر بن خطاب پہلے شخص ہیں جنہوں نے لوگوں کوقیام رمضان یعنی تراویح پر مجتمع فرمایاچنانچہ مردوں کاامام حضرت ابی بن کعب اورعورتوں کاامام حضرت سلیمان بن ابی حثمہ کو بنایا۔

الحاصل نفس تراویح رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و سلم  کی سنت مبارکہ ہے اور اس کا باقاعدہ قیام اورباجماعت جاری کرنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سنت ہے۔

ایک سوال اوراس کاجواب:

یہاں یہ سوال پیداہوتاہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم  نے توتین دن جماعت  تراویح کروائی ہے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پوراماہ اس کا اہتمام کیوں کروایاہے؟

جواب:

اس کاجواب یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم  نے پوراماہ اسے اس لیے باجماعت ادا نہیں فرمایا  تاکہ یہ امت پر فرض نہ ہوجائے اورامت اس کی ادائیگی سے عاجز آکر گنہگارنہ ہو۔ چنانچہ حضرت زید بن ثابت روایت کرتے ہیں کہ آپ  صلی اللہ علیہ و سلم  نے فرمایا:خَشِيتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمْ وَلَوْ كُتِبَ عَلَيْكُمْ مَا قُمْتُمْ بِهِ۔ (سنن النسائی : ج1ص237، باب الحث على الصلاة فی البیوت الخ)

ترجمہ: مجھےاس بات کا ڈر ہواکہ یہ نماز کہیں تم پر فرض نہ ہوجائے، اگرفرض ہوجائے تو کہیں ایسا نہ ہوکہ تم اسے ادا نہ کرسکو۔

جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم  کی وفات ہوگئی تو سلسلہ وحی بھی بند ہوگیا۔اب اس کے فرض ہونے کا احتمال بھی ختم ہوگیا تو اب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے منشاء نبوت کوسامنے رکھتے ہوئے پورامہینہ اس کے باقاعدہ اہتمام کاحکم دیا۔ چنانچہ علامہ ابن حجر  رحمہ اللہ لکھتے ہیں:استنبط عمر ذلك من تقرير النبي صلى الله عليه و سلم من صلى معه في تلك الليالي وأن كان كره ذلك لهم فإنما كرهه خشية أن يفرض عليهم … فلما مات النبي صلى الله عليه و سلم حصل الأمن من ذلك ورجح عند عمر ذلك … وإلى قول عمر جنح الجمهور۔ (فتح الباری شرح صحیح البخاری: ج4ص320)

ترجمہ: صحابہ آپ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے اورآپ ناپسندیدگی کے باوجود منع نہیں فرمارہے تھے وجہ اس ناپسندیدگی کی یہ تھی کہ کہیں یہ نماز ان پر فرض نہ ہوجائے جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم  کی وفات ہوگئی تو اس کے فرض ہونے کا خوف نہ رہا تو حضرت عمررضی اللہ عنہ کے ہاں یہی بات راجح ٹھہری کہ تراویح کے باجماعت پڑھنے کا باقاعدہ اہتمام کیاجائے اورجمہور حضرات نے آپ کی بات کوقبول کیا۔