شعبان المعظم و شب براءت؛ فضائل و احکام

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
 

شعبان المعظم و شب براءت؛ فضائل و احکام

متکلمِ اسلام حضرت مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ

اسلامی سال کاآغاز ماہِ محرم سے اور اختتام ماہِ ذوالحجہ پر ہوتا ہے۔ شعبان آٹھواں اسلامی مہینہ ہے جو رمضان  المقدس سے پہلے آتا ہے۔ اس مہینے کو اللہ تعالیٰٰ نے بہت فضیلت عطا فرمائی ہے، جس کی عظیم وجہ تو یہ معلوم ہوتی ہےکہ اس مہینہ میں ماہ ِرمضان کے روزوں، تراویح اور دیگر عبادات کی تیاری کا موقع ملتا ہے۔ رمضان جو اپنی برکتوں، رحمتوں اور عنایات ربانی کا موسم بہار ہے اس کی تیاری کا ماہِ شعبان سے شروع ہونا اس کی عظمت کو چار چاند لگا دیتاہے۔ گویا شعبان کو رمضان کا ”مقدمہ“ کہنا چاہیے۔

ماہ شعبان کی فضیلت:

ماہِ شعبان عظمت والا مہینہ ہے، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں خصوصیت  سے خیر و برکت کی دعا فرمائی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا دَخَلَ رَجَبُ قَالَ: اَللّهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ رَجَبَ وَ شَعْبَانَ وَ بَلِّغْنَا رَمَضَانَ (مشکوۃ المصابیح:رقم الحدیث 1396)

ترجمہ:جب رمضان کا مہینہ آتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے: اے اللہ! ہمارے لیے رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما اورہمیں رمضان کے مہینے تک پہنچا۔

چونکہ یہ رمضان کامقدمہ ہے، اس لیے اس میں رمضان کے استقبال کے لیے تیاری کی جاتی ہے۔ خودآپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس مہینہ میں رمضان  کی تیاری کی ترغیب دی ہے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں:

خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ شَعْبَانَ فَقَالَ: يا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ أَظَلَّكُمْ شَهْرٌ عَظِيمٌ مُبَارَكٌ الحدیث (صحیح ابن خزیمہ بحوالہ فضائل اعمال از شیخ الحدیث رحمہ اللہ ص472)

ترجمہ:آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نےہمیں شعبان کے مہینہ کی آخری تاریخ میں خطبہ دیااور فرمایا:اے لوگو!تم پر ایک عظمت و برکت والا مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےشبِ قدر، تراویح، مغفرت باری تعالیٰ اوررمضان میں اہتمام سےکیے جانے والے خصوصی اعمال کا تذکرہ فرمایا۔

شعبان کی فضیلت اس بات سے بھی اجاگر ہوتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کے چاند اور اس کی تاریخوں کے حساب کا بھی بہت اہتمام  فرماتے تھے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَحْصُوا ہِلَالَ شَعْبَانَ لِرَمَضَانَ (جامع الترمذی:رقم الحدیث687، وقال الحاکم: صحیح علی شرط مسلم ؛المستدرک علی الصحیحین: رقم الحدیث1548)

ترجمہ: شعبان کے چاند( تاریخوں) کو خوب اچھی طرح محفوظ رکھو تاکہ رمضان کا حساب ہو سکے۔

یعنی رمضان کے صحیح حساب کے لیے شعبان کا چاند اور اس کی تاریخوں کوخصوصیت سے یاد رکھا جائے۔ جب شعبان کی آخری تاریخ ہو تو رمضان کا چاند دیکھنے میں پوری کوشش کی جائے۔

ماہِ شعبان کے روزے:

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں کثرت سے روزے رکھا کرتے تھے، بلکہ رمضان کے بعد جس مہینہ میں روزوں کا زیادہ ا ہتمام فرماتے تھے وہ یہی شعبان کا مہینہ ہے۔ چند احادیث پیش کی جاتی ہیں:

1: عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللّهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللّهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ إِلَّا رَمَضَانَ وَمَا رَأَيْتُهُ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ (صحیح البخاری:رقم الحدیث:1969، صحیح مسلم:رقم الحدیث 1156)

ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب روزے رکھنا شروع فرماتےتو ہم کہتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اب روزہ رکھنا ختم نہ کریں گے اور جب کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ نہ رکھنے پہ آتے تو ہم یہ کہتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اب روزہ کبھی نہ رکھیں گے۔ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کورمضان شریف کے علاوہ کسی اور مہینہ کے مکمل روزے رکھتے نہیں دیکھا اورمیں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان کے علاوہ کسی اور مہینہ میں کثرت سے روزہ رکھتے نہیں دیکھا۔

2: عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ النبي صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِى شَهْرٍ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِى شَعْبَانَ كَانَ يَصُومُہُ شَعْبَانَ إِلاَّ قَلِيلاً بَلْ كَانَ يَصُومُہُ كُلَّهُ ( جامع الترمذی: رقم الحدیث736،سنن النسائی: رقم الحدیث2180)

ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نےآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی مہینہ میں شعبان کے مہینہ سے زیادہ روزے رکھتے نہیں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دنوں کے علاوہ پورے شعبان کے روزے رکھتے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو پورے شعبان کے روزے رکھا کرتے تھے۔

یہاں پورے شعبان کے روزے رکھنے سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر شعبان روزے رکھا کرتے تھے، کیونکہ بعض مرتبہ اکثر پر” کل“ کا اطلاق کر دیا جاتا ہے۔

3:فتاوی عالمگیریہ میں ہے: الْمَرْغُوبَاتُ من الصِّيَامِ أَنْوَاعٌ أَوَّلُهَا صَوْمُ الْمُحَرَّمِ وَالثَّانِي صَوْمُ رَجَبٍ وَالثَّالِثُ صَوْمُ شَعْبَانَ وَصَوْمُ عَاشُورَاءَ (ج1 ص202)

ترجمہ:مستحب روزوں کی کئی قسمیں ہیں؛ ۱: محرم کے روزے، ۲:رجب کے روزے، ۳: شعبان اور عاشوراء کے روزے۔

نصف شعبان کے بعد روزہ  نہ رکھنے کی تحقیق:

جامع الترمذی میں روایت ہے:

قَالَ رَسُولُ اللّهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِذَا بَقِیَ نِصْفٌ مِّنْ شَعْبَانَ فَلَا تَصُوْمُوْا (جامع الترمذی : رقم الحدیث 738)

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب شعبان کا مہینہ آدھا رہ جائے توروزہ نہ رکھا کرو۔

اس جیسی روایت کے پیش نظر فقہاءِکرام نے پندرہ شعبان کے بعد روزہ رکھنا مکروہ قرار دیا ہے، البتہ چند صورتوں کومستثنی فرمایا ہےکہ ان میں پندرہ شعبان کے بعد روزہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔وہ صورتیں یہ ہیں:

1: کسی کے ذمہ قضاءروزے ہوں یا واجب (کفارہ وغیرہ کے) روزے ہوں اور وہ انہیں ان ایام میں رکھنا چاہتا ہو۔

2:ایسا شخص جو شروع شعبان سے روزے رکھتا چلاا ٓ رہا ہو۔

3:ایسا شخص کہ جس کی عادت یہ ہےکہ مخصوص دنوں یا تاریخوں کے روزے رکھتا ہے، اب وہ دن یا تاریخ شعبان کے آخری د نوں میں آ رہی ہے تو روزہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ ایسی کمزوری کا خطرہ نہ ہو کہ جس سےرمضان کے روزوں کا حرج ہونے کا اندیشہ ہو۔ (درس ترمذی: ج2ص579 بتغیر یسیر)

نصف شعبان کے بعد روزہ کی کراہیت کی وجہ کیاہے؟ حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:”میرا تو ذوق یہ کہتا ہےکہ رمضان شریف میں جو جاگنا ہوگااس شب کا جاگنا اس کا نمونہ ہے اور یہ صوم ایام رمضان شریف کا نمونہ ہے۔ پس دونوں نمونے رمضان کے ہیں، ان نمونوں سے اصل کی ہمت ہو جاوے گی۔ پھر اس صوم کے بعد جو صوم سے منع فرمایا اس میں حقیقت میں رمضان کی تیاری کے لیے فرمایا ہےکہ جب شعبان آدھا ہو جائے تو روزہ مت رکھو۔ مطلب یہ کہ سامان شروع کرو رمضان کا یعنی کھاؤ، پیو اور رمضان کے لیے تیار ہو جاؤ اور یہ امید رکھو کہ روزے آسان ہو جائیں گے“(خطبات حکیم الامت:خطبات حکیم الامت: ج7 ص391)

شعبان کی پندرھویں رات؛ شب براءت:

ماہ شعبان کی پندرھویں رات بہت فضیلت والی رات ہے۔ احادیث مبارکہ میں اس کے بہت سے فضائل وارد ہوئے  ہیں اور اسلاف امت بھی اس کی فضیلت کے قائل چلے آ رہے ہیں۔ اس رات کو ”شب براءت“ کہتے ہیں، اس لیے کہ اس رات لا تعداد انسان رحمت باری تعالیٰ سے جھنم سےنجات حاصل کرتے ہیں۔

شب براءت کے متعلق لوگ افراط و تفریط کا شکار ہیں۔ بعض تو وہ ہیں جو سرے سے اس کی فضیلت کے قائل ہی نہیں بلکہ اس کی فضیلت میں جو احادیث مروی ہیں انھیں موضوع و من گھڑت قرار دیتے ہیں۔جبکہ بعض فضیلت کے قائل تو ہیں لیکن اس فضیلت کے حصول میں بے شماربدعات، رسومات اور خود ساختہ امور کے مرتکب ہیں، عبادت کے نام پر ایسے منکرات سر انجام دیتے ہیں کہ الامان و الحفیظ۔

اس بارے میں معتدل نظریہ یہ ہے کہ شعبان کی اس رات کی فضیلت ثابت ہے لیکن اس کا درجہ فرض و واجب کا نہیں بلکہ محض استحباب کا ہے، سرے سےاس کی فضیلت کا انکار کرنا بھی صحیح نہیں اور اس میں کیے جانے والے اعمال و عبادات کو فرائض و واجبات  کا درجہ دینا بھی درست نہیں۔

فضیلت شب براءت احادیث مبارکہ سے:

شبِ براءت کی فضیلت میں بہت سی احادیث مروی ہیں، اگرچہ ان میں سے بعض سند کے اعتبار سے ضعیف ہیں لیکن چونکہ فضائل میں ضعاف بھی مقبول ہیں (تفصیل کے لیے دیکھیے میری کتاب”فضائل اعمال اور اعتراضات کا علمی جائزہ“ ص:12،13) اورکثرتِ روایات و اسناد مل کر اس ضعف کو دور کر دیتی ہیں۔ مزید امت کا تعامل اور اسلاف کا اس رات کےقیام پر عمل پیرا چلے آنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ روایات مقبول ہیں اور لیلۃ البراءت کی اصل ضرور ہے۔ چند ایک روایات نقل کی جاتی ہیں۔

حدیث نمبر 1:حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہےکہ[ ایک رات] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

أَتَدْرِينَ أَيَّ لَيْلَةٍ هَذِهِ ؟ "، قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " هَذِهِ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَطْلُعُ عَلَى عِبَادِهِ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِلْمُسْتَغْفِرِينَ، وَيَرْحَمُ الْمُسْتَرْحِمِينَ، وَيُؤَخِّرُ أَهْلَ الْحِقْدِ كَمَا هُمْ ۔

قال الامام البیہقی: هَذَا مُرْسَلٌ جَيِّدٌ

(شعب الایمان للبیہقی: رقم الحدیث 3554،  جامع الاحادیث للسیوطی: رقم  7265،کنز العمال: رقم الحدیث 7450)

ترجمہ(اے عائشہ!) کیا تمھیں معلوم ہے کہ یہ کون سی رات ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شعبان کی پندرھویں رات ہے۔ اس رات اللہ رب العزت اپنے بندوں پر نظر رحمت فرماتے ہیں؛ بخشش چاہنے والوں کو بخش دیتے ہیں، رحم چاہنے والوں پر رحم فرماتے ہیں اور بغض رکھنے والوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں۔

حدیث نمبر 2: عَنِ أَبِي بَكْرٍالصِّدِّیْقِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَنْزِلُ اللهُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِكُلِّ شَيْءٍ إِلَّا رَجُلٍ مُشْرِكٍ أَوْ فِي قَلْبِهِ شَحْنَاءُ(شعب الایمان للبیہقی: رقم الحدیث3546، مجمع الزوائد للہیثمی: رقم 12957)

قال الہیثمی: رواه البزار وفيه عبد الملك بن عبد الملك ذكره ابن أبي حاتم في الجرح والتعديل ولم يضعفه وبقية رجاله ثقات (مجمع الزوائد للہیثمی:تحت الرقم 12957)

قال المنذری: اسنادہ لا باس بہ (الترغیب و الترہیب: تحت الرقم 4190)

ترجمہ:حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں رات آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتے ہیں (کما یلیق بشانہ)اس رات ہر ایک کی مغفرت کر دی جاتی ہے سوائے اس شخص کےجو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے والا ہویا وہ شخص جس کے دل میں ( کسی  مسلمان کے خلاف) کینہ بھرا ہو۔

حدیث نمبر 3: عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : هل تدرين ما هذه الليل ؟  يعني ليلة النصف من شعبان قالت : ما فيها يا رسول الله فقال : فيها أن يكتب كل مولود من بني آدم في هذه السنة وفيها أن يكتب كل هالك من بني آدم في هذه السنة وفيها ترفع أعمالهم وفيها تنزل أرزاقهم۔

(مشکوۃ المصابیح: رقم الحدیث1305)

ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سےروایت فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اے عائشہ!) کیا تمھیں معلوم ہے کہ اس رات یعنی شعبان کی پندرھویں رات میں کیا ہوتا ہے؟حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس میں کیا ہوتا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس سال جتنے انسان پیدا ہونے والے ہوتے ہیں وہ اس رات میں لکھ دیے جاتے ہیں اور جتنے لوگ اس سال میں مرنے والے ہوتے ہیں وہ  بھی اس رات میں لکھ دیے جاتے ہیں۔ اس رات بنی آدم کےا عمال اٹھائے جاتے ہیں اور اسی رات میں لوگوں کی مقررہ روزی اترتی ہے۔

تنبیہ: اس حدیث سے تو معلوم ہوتا ہے کہ شبِ براءت  کے بعد والے سال میں پیدا ہونے والے اور فوت ہونے والے انسانوں کے نام وغیرہ اس رات میں لکھے جاتے ہیں جبکہ یہ چیزیں تو لوحِ محفوظ میں لکھی جا چکی ہیں، پھر لکھنے کا کیا مطلب؟ جواب یہ ہے کہ اس رات میں لکھنے سے مراد یہ ہےکہ لوحِ محفوظ سے فہرستیں لکھ کران امور سے متعلقہ فرشتوں کے سپرد کی جاتی ہیں۔ و اللہ اعلم بالصواب

حدیث نمبر 4: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: هَذِهِ اللَّيْلَةُ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ وَلِلَّهِ فِيهَا عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ بِعَدَدِ شُعُورِ غَنَمِ كَلْبٍ، لَا يَنْظُرُ اللهُ فِيهَا إِلَى مُشْرِكٍ، وَلَا إِلَى مُشَاحِنٍ ، وَلَا إِلَى قَاطِعِ رَحِمٍ، وَلَا إِلَى مُسْبِلٍ ، وَلَا إِلَى عَاقٍّ لِوَالِدَيْهِ، وَلَا إِلَى مُدْمِنِ خَمْرٍ (شعب الایمان للبیہقی: رقم الحدیث3556، الترغیب و الترہیب للمنذری: رقم الحدیث 1547)

ترجمہ: حضرت جبرئیل علیہ السلام میرے پاس تشریف لائےاور فرمایا: یہ شعبان کی پندرھویں رات ہے۔ اس رات اللہ تعالیٰ قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابرلوگوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے لیکن اس رات مشرک، کینہ رکھنے والے، قطع رحمی کرنے والے، ازار ٹخنوں سے نیچے رکھنے والے، ماں باپ کے نافرمان اور شراب کے عادی کی طرف نظر(رحمت) نہیں فرماتے۔

مزید روایات کے لیے ”شبِ براءت کی فضیلت“ از مولانا نعیم الدین صاحب ملاحظہ فرمائیں۔

شب براءت اکابرین امت کی نظر میں:

1: جلیل القدر تابعی حضرت عطاء بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

مَا مِنْ لَيْلَةٍ بَعْدَ لَيْلَةِ الْقَدْرِ أَفْضَلُ مِنْ لَيْلَةِ النِّصْفِ من شَعْبَانَ (لطائف المعارف: ابن رجب الحنبلی: ص151)

ترجمہ: لیلۃ القدر کے بعد شعبان کی پندرھویں رات سے زیادہ افضل کوئی رات نہیں۔

2: علامہ ابن رجب الحنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

لَيْلَةِ النِّصْفِ من شَعْبَانَ كَانَ التَّابِعُوْنَ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ كَخَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ وَمَكْحُوْلٍ وَ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ وَ غَيْرِهِمْ ،يُعَظِّمُوْنَهَا وَ يَجْتَهِدُوْنَ فِيْهَا فِي الْعِبَادَةِ وَ عَنْهُمْ أَخَذَالنَّاسُ فَضْلَهَا وَ تَعْظِيْمَهَا۔

(لطائف المعارف: ابن رجب الحنبلی: ص151)

ترجمہ:اہلِ شام کے تابعین حضرات مثلاً امام خالد بن معدان، امام مکحول، امام لقمان بن عامر وغیرہ شعبان کی پندرھویں رات کی تعظیم کرتے تھےاور اس رات خوب محنت سے عبادت فرماتے تھے۔ انہی حضرات سے لوگوں نے شبِ براءت کی فضیلت کو لیا ہے۔

3:امام محمد بن ادریس الشافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وَبَلَغَنَا أَنَّهُ كان يُقَالُ إنَّ الدُّعَاءَ يُسْتَجَابُ في خَمْسِ لَيَالٍ في لَيْلَةِ الْجُمُعَةِ وَلَيْلَةِ الْأَضْحَى وَلَيْلَةِ الْفِطْرِ وَأَوَّلِ لَيْلَةٍ من رَجَبٍ وَلَيْلَةِ النِّصْفِ من شَعْبَانَ وأنا أَسْتَحِبُّ كُلَّ ما حُكِيَتْ في هذه اللَّيَالِيِ من غَيْرِ أَنْ يَكُونَ فَرْضًا

(کتاب الام للشافعی: ج1 ص231 العبادة لیلۃ  العيدين، السنن الکبریٰ للبیہقی: ج3، ص319)

ترجمہ: ہمیں یہ بات پہنچی ہےکہا جاتا تھا کہ پانچ راتوں میں دعا[زیادہ] قبول ہوتی ہے۔۱: جمعہ کی رات، ۲:عید الاضحیٰ کی رات،۳: عید الفطر کی رات، ۴:رجب کی پہلی رات، ۵:نصف شعبان کی رات۔ میں نے ان راتوں کے متعلق جو بیان کیا ہے اسے مستحب سمجھتا ہوں فرض نہیں سمجھتا۔

4:علامہ زین الدین بن ابراہیم  الشہیربابن نجیم المصری الحنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وَمِنْ الْمَنْدُوبَاتِ إحْيَاءُ لَيَالِي الْعَشْرِ من رَمَضَانَ وَلَيْلَتَيْ الْعِيدَيْنِ وَلَيَالِي عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ وَلَيْلَةِ النِّصْفِ من شَعْبَانَ كما وَرَدَتْ بِهِ الْأَحَادِيثُ وَذَكَرَهَا في التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيبِ مُفَصَّلَةً

(البحر الرائق لابن نجیم: ج2، ص56)

ترجمہ:رمضان کی آخری دس راتوں میں، عیدین کی راتوں میں، ذوالحجہ کی دس راتوں میں، شعبان کی پندرھویں رات میں شب بیداری کرنا مستحبات میں سے ہے جیسا کہ احادیث میں آیا ہےاور علامہ منذری رحمہ اللہ نے انہیں ترغیب و الترہیب میں مفصلاً بیان کیا ہے۔

5:خاتمۃ المحدثین حضرت علامہ مولانا محمد انور شاہ الکشمیری رحمہ ا للہ فرماتے ہیں:

اِنَّ هٰذِهِ اللَّيْلَةَ لَيْلَةُ الْبَرَاءَةِ وَصَحَّ الرِّوَايَاتُ فِي فَضّلِ لَيْلَةِ الْبَرَاءَةِ

(العرف الشذی: ج2 ص250 )

ترجمہ: یہ رات”لیلۃ البراءت“ ہے اور اس لیلۃ البراءت  کی فضیلت کے بارے میں روایات صحیح ہیں۔

6: حکیم الامت، مجدد الملت  حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”شبِ براءت کی اتنی اصل ہے کہ پندھویں رات اور پندرھواں دن اس مہینے کا بہت بزرگی اور برکت کا ہے ۔ “(بہشتی زیور:حصہ ششم، ص58)

7: شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم فرماتے ہیں:

”شب براءت کی فضیلت میں بہت سی روایات مروی ہیں، جن میں سے بیشتر علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے ”الدر المنثور“ میں جمع کر دی ہیں……ان روایات کے ضعف کے باوجود شبِ براءت میں اہتمامِ عبادت بدعت نہیں۔ اول تو اس لیے کہ روایات کا تعدد اور ان کا مجموعہ اس پر دال ہے کہ لیلۃ البراءت کی فضیلت بے اصل نہیں، دوسرے امت کا تعامل لیلۃ البراءت میں بیداری اور عبادت کا خاص اہتمام کرنے کا رہا ہے اور یہ بات کئی مرتبہ گزر چکی ہے کہ جو بھی ضعیف روایت مؤید بالتعامل ہے وہ مقبول ہوتی ہے۔ لہذا لیلۃ البراءت کی فضیلت ثابت ہے اور ہمارے زمانے کے بعض ظاہر پرست لوگوں نے احادیث کے محض اسنادی ضعف کو دیکھ کر لیلۃ البراءت کی فضیلت کو بے اثر قرار دینے کی جو کوشش کی ہے وہ درست نہیں“(درسِ ترمذی: ج2 ص579)

پندرہ شعبان کا روزہ:

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں:

عن علي بن أبي طالب قال  : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم  إذا كانت ليلة النصف من شعبان فقوموا ليلها وصوموا نهارها . فإن الله ينزل فيها لغروب الشمس إلى سماء الدنيا . فيقول ألا من مستغفر لي فأغفر له ألا من مسترزق فأرزقه ألا مبتلى فأعافيه ألا كذا ألا كذا حتى يطلع الفجر (سنن ابن ماجہ: رقم الحدیث 1388 ،شعب الایمان للبیہقی: ج3، ص378)

 ترجمہ: جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب شعبان کی پندرھویں رات آئے تو اس رات قیام کرو اور دن کو روزہ رکھو کیونکہ اللہ تعالیٰ سورج غروب ہونے سے (لے کر صبح صادق تک) آسمانِ دنیا پر (کما یلیق بشانہ) نزول فرماتے ہیں، اور ارشاد فرماتے ہیں: ” ہے کوئی بخشش طلب کرنے والا؟ تو میں اس کو بخش دوں! ہے کوئی رزق کا طالب؟ میں اس کو رزق دوں! ہے کوئی مصیبت زدہ ؟میں اس کو مصیبت سے نجات دوں! ہے کوئی ایسا؟ ہو کوئی ایسا؟ اللہ رب العزت کی طرف سے یہ اعلان صبحِ صادق تک جاری رہتا ہے۔“

قلت: اسنادہ ضعیف و الضعیف یعمل بہ فی فضائل الاعمال، راجع للتفصیل الی کتابی”فضائل اعمال اور اعتراضات کا علمی جائزہ“

اس حدیث میں پندرہ شعبان کے روزے کا تذکرہ ہے اور پہلے گزر چکا  ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں کثرت سے روزے رکھا کرتے تھے ۔ نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایام بیض ( ہر مہینہ میں ۱۳، ۱۴ ۱۵)کے روزے بھی رکھا کرتے تھے، اور پندرہ شعبان بھی انہی تاریخوں میں سے ہے۔ ان وجوہ سے بعض علماء کرام نےپندرہ شعبان کا روزہ مستحب قرار دیا ہے۔ لیکن یہ ملحوظ رہے کہ اسے سنت یا ضروری نہ سمجھا جائے۔ صدرمفتی دار العلوم دیوبند مفتی عزیز الرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”پندرھویں تاریخ  شعبان کا روزہ مستحب ہے، اگر کوئی رکھے تو ثواب ہے اور نہ رکھے تو کچھ حرج نہیں ہے“(فتاوٰی دار العلوم دیوبند: ج 6ص309)

شب براءت میں قبرستان میں جانا:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے :

فقدت رسول الله صلى الله عليه و سلم ليلة فخرجت فإذا هو بالبقيع فقال أكنت تخافين أن يحيف الله عليك ورسوله ؟ قلت يا رسول الله إني ظننت أنك أتيت بعض نساءك فقال إن الله عز و جل ينزل ليلة النصف من شعبان إلى السماء الدنيا فيفغر لأكثر من عدد شعر غنم كلب (جامع الترمذی رقم:739)

ترجمہ:ایک رات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس نہ پایا، تو میں آپ کی تلاش میں نکلی۔ پس کیا دیکھا کہ آپ جنت البقیع میں تشریف فرماتھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کیا تمہیں اندیشہ ہے کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر زیادتی کر سکتے ہیں؟ تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ!  مجھے یہ گمان ہوا کہ شاید آپ کسی دوسری اہلیہ کے پاس تشریف لے گئے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں رات آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتے ہیں قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ لوگوں کی بخشش فرماتے ہیں۔

اس روایت سے آنحضرت کا شب براءت میں قبرستان جانا معلوم ہوا لیکن آپ کا اس پر مداوت اختیار کرنا ثابت نہیں لہذا اسے سنت مستمرہ نہ کہا جائے گا بلکہ کبھی کبھی شب براءت میں زیارت قبور کے لیے چلا جائے تو مضائقہ نہیں۔ لیکن ہر شب براءت میں جانے کا اہتمام والتزام کرنا ،اسے ضروری سمجھنا، اسے شب براءت کے ارکان میں داخل کرنا اور قبرستان کی اس حاضری کو شب براءت کا جزوِ لازم سمجھنا منکرات میں سے ہے۔ قبور پر اجتماعی حاضری ،میلہ ٹھیلا کا سماں اور چراغاں کرنا وغیرہ ایسے امور میں جو بدعات ہیں ۔اس طرح یہ عمل مستحب نہیں بلکہ گناہ بن جائے گا۔  آنحضرت سے جس درجہ میں یہ عمل ثابت ہوا اسی میں رکھا جائے تاکہ وہ عمل منکر اور گناہ ہونے سے بچ جائے۔ شیخ الاسلام حضرت مولانامفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ فرماتے ہیں :

” حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی حدیث باب سے لیلۃ البراءت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بقیع جانا معلوم ہوا، جو شبِ براءت میں قبرستان جانے کی اصل ہے۔ لیکن چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پر مداومت ثابت نہیں اس لیے اس کو سنتِ مستمرہ کا درجہ دینا بھی صحیح نہیں۔ہاں کبھی کبھی چلا جائے تو مضائقہ نہیں“(درسِ ترمذی :ج2 ص581)

شب براءت کی چند بدعات ومنکرات:

1:مساجد میں شب بیداری کے لیے عوام کا اجتماع کرنا، اشتہارات واعلانات کے ذریعے لوگوں کو جمع کرنا ۔

2:شب براءت میں خاص قسم کی نمازیں پڑھنا۔مثلاً ایک موضوع ومن گھڑت روایت کی بنا پر سو رکعت والی نماز پیش کی جاتی ہے۔(درس ترمذی: ج2ص579)

3:شب براءت میں حلوہ کا پابندی سے پکانا اور اس کے بغیر شب براءت کی فضیلت سے محروم ہونے کا نظریہ رکھنا۔

4:شب براءت میں فوت شدہ لوگوں کی ارواح کا اپنے گھروں میں واپس آنے کا عقیدہ رکھنا۔

5:شب براءت میں قبرستان میں میلا کرنا،چراغاں کرنا اور جماعتوں اور ٹولیوں کی شکل میں جمع ہونا۔

6:شب براءت میں مسور کی دال پکانے کو ضروری سمجھنا۔

7:شب براءت میں آتش بازی کرنا۔