قرآن کی تاثیر

User Rating: 1 / 5

Star ActiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
قرآن کی تاثیر
ظل ہما،کراچی
جاہلیت کا دور تھا عرب کے بدو اور اعرابی شعر وادب میں مہارت رکھتے تھے انہی میںسے ایک شاعر جس کا نام ”لبید“تھا۔ اپنے وقت کا بہت بڑا شاعر اور ادیب تھا۔اہل زبان ،اہل ادب اور شعراءاسے اپنے ”امام“ تصور کرتے تھے اور” ملک الشعرائ“ مانتے تھے۔اس کی عظمت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے جب ایک دفعہ شعر پڑھا تو ”سوق عکاظ“ میں تمام موجود شعراءنے اسے سجدہ کیا۔
عرب کی ایک رِیت تھی ،ایک دستور تھا کہ وہاں جو شاعر غیرمعمولی قابلیت کا حامل ہوتا اسے یہ اعزاز ملتا کہ اس کا کلام ریشمی کپڑے پر سونے سے دھاگوں سے لکھ کر خانہ کعبہ میں لٹکا دیا جاتا۔ چنانچہ وہاں سات شعراءکا کلام بیت اللہ میں لٹکایا جاچکا تھا انہیں” سبعہ معلقہ “کہا جاتاہے (جو آج بھی وفاق المدارس پاکستان کے نصاب میں شامل ہے )یہ لبید سبعہ معلقہ کا آخری شاعر تھا
آرتھر این ولاسٹن نے اپنی کتاب ”دی سورڈ آف اسلام “میں اس”لبید“ کا ایک واقعہ نقل کیا ہے۔آرتھر نے کہاکہ ایک روز لبید نے اپنا تازہ کلام بیت اللہ کے دروازے پر آویزاں کر دیا ایک مسلمان نے چند قرآنی آیات لکھ کر اس کے برابر لگا دیں۔دوسرے روز جب لبید کا وہاں سے گزرہو ا تو کیا دیکھتا ہے کہ اس کے اشعار کے مقابل چند کلمات بیت اللہ کے دروازے پر آویزاں ہیں۔اسے اس جرات پر حیرت ہوئی وہ آگے بڑھا قریب آیا اور غور سے ان کلمات کو دیکھا قرآن پاک کی آیات پڑھیں اوربے اختیار بول اٹھا کہ ”یہ کسی انسان کا کلام نہیںہوسکتا۔“بس اسی وقت حلقہ بگوش اسلام ہوگیا اور شاعری کو خیر آباد کہہ دیا۔
طفیل بن عمرو دوسی یہ بھی ایک مشہور شاعرتھے وہ اپنی آپ بیتی بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب میں مکہ میں گیا تو وڈیروں نے میرے کان بھرے اور کہا کہ” محمد (ﷺ)“سے بچ کے رہنا۔جب میں حرم میں پہنچاتو وہاں آپ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے میرے کان میں بھی ان کے چند جملے پڑ گئے میںنے اچھا محسوس کیا اور دل میں اپنے آپ کو کہنے لگا کہ میں بھی شاعر ہوں اور جوان مرد ہوں عقل رکھتا ہوں بچہ تونہیں کہ غلط صحیح کی تمییز نہ کرسکوں۔اس شخص سے ملنا تو چاہیے چنانچہ میں ان کے پیچھے ان کے مکان تک جاپہنچا اور اپنی ساری کیفیت بیان کی اور عرض کیا کہ آپ ﷺ ذراتفصیل سے بتائیں کہ آپ کیا کہتے ہیں۔آپ ﷺ نے میری اس بات کے جواب میں قرآن پاک کا کچھ حصہ سنایا اور میں اتنا متاثر ہوا کہ اسی وقت ایمان لے آیا اور واپس جاکر اپنے باپ اور بیوی کو بھی مسلما ن کیا اور پھر اپنے قبیلے اور اپنی قوم میں ساری زندگی مسلسل تبلیغ کرتا رہا۔