امی مجھے معاف کر دو

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
امی مجھے معاف کر دو
امامہ ،مری
زبیر کی شادی ہوئی اس کو بیوی سے بہت محبت تھی کچھ دن تو اچھے گزرے اب بیوی کی کام چوری والی طبیعت ظاہر ہونا شروع ہوئی وہ اس کے ماں باپ کی خدمت کو بوجھ سمجھتی تھی کچھ عرصے کے بعد جب اس کو اس بات کا یقین ہوگیا کہ یہ مجھ سے محبت کرتا ہے تو اس نے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ چال چلی کہ ناراض ناراض سے رہنے لگی شوہر سے برداشت نہ ہوا اس نے پوچھا کہ کیا بات ہے ؟کہنے لگی میں تیرے ساتھ اس وقت ٹھیک رہوں گی جب تو مجھے میرے گھر واپس لے جائے اور تم بھی میرے ساتھ رہو۔میں آپ کے ساتھ تو خوش رہ سکتی ہوں ان بوڑھوں کی خدمت کرنا پڑتی ہے یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا۔
زبیرنے اپنی اہلیہ کی بات مان لی اور اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر دوسرے شہر میں زندگی گزارنے لگا۔زبیر کو اس کی ماں اور باپ نے بہت سمجھایا کہ تیرے سوا ہمارا کوئی نہیں ہے مگر زبیر کے سر پر تو محبت کا بھوت سوار تھا اس کو اپنے ماں باپ کی بات سمجھ نہ آئی دن اچھے گزرتے رہے کچھ عرصے بعد زبیرکو سعودی عرب جانے کا موقع مل گیا jobاچھی تھی مہینے بعد بیوی کو تنخواہ بھیج دیا کرتا تھا اس دوران اس نے اپنے والدین سے کوئی رابطہ نہ کیا اس کو بیوی نے کہہ رکھا تھا اگر تو ان سے رابطہ رکھے گا تو میں تجھ سے رابطہ ختم کرلوں گی زبیرنے اپنے والدین کو بیوی کے کہنے پر (NEGLECT)کر دیا۔ کئی سال گزر گئے ایک مرتبہ یہ طواف کررہا تھا ایک بزرگ بھی طواف کررہے تھے طواف کے بعد یہ بزرگ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں نے یہاں آکر بارہ حج کیے سینکڑوں عمرے کیے ہیں لیکن میرے دل پر کوئی تالا لگا ہوا ہے میرے دل پر کوئی ظلمت ہے نہ عبادت کرنے کو جی چاہتا ہے نہ کسی اور کام کو۔
ان بزرگوں نے اس سے پوچھاکہ تونے کسی کا دل تونہیں دکھا یا تب اس کو ماں باپ یاد آئے کہنے لگا ہاں !میں بوڑھے ماں باپ کو چھوڑ کر یہاں آیا ہوں اور میں سمجھا کہ میرے حجوںاور
عمروں سے وہ سارے گناہ دھل جائیں گے بزرگ نے کہا کہ مزید حج کرنے کی ضرورت نہیں جاﺅ اور جاکر اپنے والدین سے معافی مانگو۔
زبیراپنے ملک واپس آیا اپنے والدین کے گاﺅں میں گیا بارہ سال کا عرصہ بیت چکا تھا کچھ خبر نہ تھی کہ اس کے ماں باپ کے ساتھ کیا بیتی اس بستی کے کنارے پر ایک آدمی ملا زبیر نے ڈرتے ڈرتے ماں باپ کے بارے میں پوچھا بتانے والا زبیر کو نہ پہچان سکاکہ یہ ان کا بیٹا ہے اس نے زبیر کو بتلایا کہ ”دومیاں بیوی بہت بوڑھے تھے ان کا بیٹا ان کو چھوڑ کر کہیں چلاگیا بہت تنگی اور عسرت کی زندگی گزاری بالآخر اس بوڑھی عورت کا خاوند فوت ہوگیا اب اکیلی ماں رہ گئی ہے وہ گھر میں اکیلی رہتی ہے پڑوسی رحم کھا کر اس کو کھانا بھیج دیتے ہیں کبھی نہ بھیجیں تو شکر کر کے رات گزار لیتی ہے پھر اس بوڑھی عورت کو فالج ہوگیا اب سنا ہے کہ چند دنوں سے اس کی آنکھوں کی بینائی چلی گئی ہے بڑھاپے کی وجہ سے نابینا ہوچکی ہے فالج زدہ ہے ہروقت کسی کو یاد کرکے روتی رہتی ہے دعائیں مانگتی رہتی ہے۔
زبیر اپنے گھر میں آیا دروازہ کھول کر دیکھا کہ ماں بستر پر لیٹی ہوئی ہے ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکی ہے زبیرسوچنے لگا کہ اس نے اپنی ماں کو اس قدر ستایا ہے کہ وہ اس سے کہے گی دفعہ ہوجا میں تمہیں کبھی معاف نہیں کرتی لیکن جب زبیر کے پاﺅں کی آہٹ ماں نے سنی تو پوچھنے لگی ،کون ہے ؟اس نے بتایا کہ میں زبیرہوں آپ کا بیٹا زبیر۔ماں کی آنکھوں میں آنسو آگئے بیٹے تو نے بہت انتظار کروایا میں اس گھر میں اکیلی مصیبتوں کی ماری لیٹی ہوں دل کی آخری تمنا تھی تم آجاتے بیٹے میں تمہاری شکل تو نہیں دیکھ سکتی تمہاری آوازتو سن سکتی ہوں بیٹا تمہارا چہرہ کہاں ہے ؟مجھے ہاتھ لگانے دو ،بیٹے قریب آﺅ میرے سینے سے لگ جاﺅ۔ زبیرنے جب ماں کے یہ الفاظ سنے اور یہ رویہ دیکھا تو بہت نادم ہوا اورعہد کیا کہ اب میں بقیہ زندگی اپنی ماںکی خدمت کے لیے وقف کرتا ہوں زبیر کی زبان پر یہ الفاظ جاری تھے۔ امی مجھے معاف کردو! امی مجھے معاف کردو

!