اہلسنت کی نشانیاں

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
اہلسنت کی نشانیاں
مولاناعابدجمشید
ہر کام اللہ کی عطاکردہ استطاعت سے ہی ہوتاہے:
باطل نظریات رکھنے والے گمراہ فرقوں سے اہل سنت کوممتازکرنے والی اورعلیحدہ رکھنے والی علامات میں سے آٹھویں علامت اہل السنت کے امام نے یہ بیان فرمائی کہ ہم اس بات کا اقرارکرتے ہیں بندہ جب بھی کوئی فعل سرانجام دیتاہے تواس کام کوکرنے کی طاقت اور استطاعت اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ودیعت ہوتی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ انسان جب چاہیے، جوچاہیے کر گذرے۔ نہیں بلکہ بندہ اپنے ہرہرفعل میں اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی طرف سے عطاکردہ استطاعت کامحتاج ہے۔ارشادباری تعالیٰ ہے۔’’واللہ الغنی وانتم الفقرائ‘‘کہ اللہ عزوجل غنی ہے اوراے اللہ کے بندو!تم سب کے سب اللہ تبارک وتعالیٰ کے دربارکے فقیر اور محتاج ہو۔
امام اعظم ابوحنیفہ کے دورمیں جوگمراہ اورباطل فرقے تھے ان میں سے ایک فرقہ کا عقیدہ تھاکہ انسان کواپنے تمام افعال بجالانے کی مکمل طاقت وقدرت اوراستطاعت حاصل ہے مطلب یہ کہ جب کوئی بندہ کسی فعل کوسرانجام دیتاہے تواس خاص وقت میں اس فعل کے سرانجام دیے جانے میں اللہ تعالیٰ کی مشیت کو دخل نہیں ہوتا،بلکہ یہ امر بندہ کے اپنے اختیار اور استطاعت میں ہوتا ہے اس گمراہ فرقے کو’’ قدریہ’ ‘کانام دیاگیاہے آج کل بھی ایسے نظریات کے حامل لوگ موجود ہیں جو مختلف اندازمیں قدرت باری تعالیٰ کاانکار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائیں اور تمام باطل نظریات اور گمراہ عقائد سے محفوظ رکھ کرہمیں اہل السنت والجماعت کے عقائد و نظریات اپنانے کی توفیق مرحمت فرمائیں۔
موزوں پرمسح کرنا:
امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں: ہم اہل السنت والجماعت اس بات کااقرارکرتے ہیں کہ موزوں پرمسح جائزہے اور اس کی مدت مقیم کے لیے ایک دن رات ہے اورمسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں اورجواس کاانکار کرتاہے تواس کے کفر میں مبتلا ہوجانے کاخطرہ ہے کیونکہ موزوں پر مسح متواتراحادیث سے ثابت ہے۔
موزوں پر مسح سے متعلق چند ضروری باتوں کا خیال رکھنا لازمی ہے۔ آج کل کچھ لوگ جرابوں پر بھی مسح کرلیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حدیث میں اس کا ذکر ہے۔یاد رکھیں کہ یہ بالکل غلط ہے، حدیث میں جس چیز پر مسح کا ذکر ہے وہ آج کل کی جرابوں کی طرح نہیں تھی بلکہ وہ بہت موٹے اور مضبوط قسم کے موزے ہوا کرتے تھے، جیسے چمڑے کے موزے ہوتے ہیں۔ جس قسم کے سوتی، اونی یا نائیلون کی جرابیں آج کل رائج ہیں، ان پر مسح کرنا ائمہ مجتہدین میں سے کسی کے نزدیک جائز نہیں، ایسے باریک موزوں کے بارے میں تمام مجتہدین اس پر متفق ہیں کہ ان پر مسح کرنا جائز نہیں ہے۔ چنانچہ ملک العلماء کاسانی لکھتے ہیں۔
فان کانا رقیقین یشفان الماء، لا یجوز المسح علیھما بالاجماع۔
اگر موزے اتنے باریک ہوں کہ ان میں سے پانی چھن سکتا ہو تو ان پر بالاجماع مسح جائز نہیں ہے
(بدائع الصنائع ص10ج 1]
جن موزوں میں مخصوص شرائط نہ پائی جاتی ہوں، یعنی ان میں پانی چھن جاتا ہو، یا وہ کسی چیز سے باندھے بغیر محض اپنی موٹائی کی بناء پر کھڑے نہ رہ سکتے ہوں، یا ان میں ایک کوس تک بغیر جوتے کے چلنا ممکن نہ ہو، ان پر مسح کرنا جائز نہیں۔
سورہ مائدہ میں جہاں وضو کا طریقہ بیان کیا گیا ہے وہاں پائوں دھونے کا ذکر ہے۔ لیکن چونکہ مسح علی الخفین کی احادیث معناً متواتر ہیں، اس لئے ان متواتر احادیث کی روشنی میں تمام امت کا اس پر اجماع منعقد ہو گیا کہ قرآن کریم کی آیت میں پاؤں دھونے کا حکم اس صورت کے ساتھ مخصوص ہے جب انسان نے خفین (یعنی چمڑے کے موزے) نہ پہن رکھے ہوں۔
چنانچہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:
ما قلت بالمسح حتی جاء نی فیہ ضوء النھار
(البحر الرائق ص371ج1]
میں مسح علی الخفین کا اس وقت تک قائل نہیں ہوا جب تک میرے پاس روز روشن کی طرح اس کے دلائل نہیں پہنچ گئے۔چنانچہ مسح علی الخفین کا حکم اسی(80) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے روایت کیا ہے۔ حافظ ابن حجر فتح الباری میں لکھتے ہیں۔
وقد صرح جمع من الحفاظ بان المسح علی الخفین متواتر وجمع بعضھم رواتہ فجاوزوا الثمانین منھم العشر۔
(نیل الاوطار ص 176ج1]
حفاظ کی ایک بڑی جماعت نے تصریح کی ہے کہ مسح علی الخفین کا حکم متواتر ہے، اور بعض حضرات نے اس روایت کرنے والے صحابہ کو جمع کیا تو وہ اسی (80) سے متجاوز تھے جن میں عشرہ مبشرہ بھی شامل ہیں اورحضرت حسن بصری فرماتے ہیں۔
ادرکت سبعین بدریا من الصحابۃ کلھم کانوا یرون المسح علی الخفین۔
[تلخیص الحبیر ج1ص158، بدائع الصنائع ج1 ص7]
اگر مسح علی الخفین کا حکم ایسے تواتر کے ساتھ ثابت نہ ہوتا تو قرآن کریم نے پاؤں دھونے کا جو حکم دیا اس میں کسی تخصیص یاتقیید کی گنجائش نہیں تھی، چنانچہ امام ابو یوسف فرماتے ہیں:
انما یجوز نسخ القرآن بالنسبۃ اذا وردت کورد المسح علی الخفین الاستفاضۃ
(احکام القرآن للجصاص ج 2 ص425]
سنت نبویہ سے قرآن کریم کے کسی حکم کو منسوخ (بمعنی مقید )کرنا اسی وقت جائز ہو سکتا ہے جب وہ سنت ایسے تواتر سے ثابت ہو جیسے مسح علی الخفین ثابت ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ وضو میں پاؤں دھونے کا قرآنی حکم ایسی چیز نہیں ہے جسے دو تین روایتوں کی بنیاد پر کسی خاص حالت کے ساتھ مخصوص کر دیا جائے، بلکہ اس کے لئے ایسا تواتر درکار ہے جیسا مسح علی الخفین کی احادیث کو حاصل ہے اب’ ’خفین’ ‘ (چمڑے کے موزوں )کے بارے میں تو یہ تواتر موجود ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر مسح خود بھی فرمایا اور دوسروں کو بھی اس کی اجازت دی، لیکن خفین کے سوا کسی چیز پر مسح کرنے کے بارے میں ایسا تواتر موجود نہیں ہے اور خفین کیونکہ عربی زبان میں صرف چمڑے کے موزوں کو کہتے ہیں۔ کپڑے کے موزوں کو خف نہیں کہا جاتا، اس لئے یہ صرف چمڑے ہی کے موزوں کے ساتھ مخصوص رہے گی۔ دوسرے موزوں کے بارے میں قرآن کریم کے اصلی حکم یعنی پاؤں دھونے پر ہی عمل ہو گا۔
ہاں اگر کپڑے کے موزے اتنے ثخین (موٹے ) ہوں کہ وہ اپنی خصوصیت اور اوصاف میں چمڑے کے ہم پایہ ہو گئے ہوں، یعنی نہ تو ان میں پانی چھنتا ہو، نہ انہیں کھڑا رکھنے کے لئے کسی بیرونی سہارے کی ضرورت ہو اور ان کو پہن کر میل دو میل چل سکتے ہوں تو ایسے موزوں کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہو گیا، بعض فقہاء نے فرمایا کہ چونکہ ایسے موزے چمڑے ہی کے معنی میں آگئے ہیں اس لئے ان پر بھی مسح جائز ہونا چاہیے، اور بعض حضرات نے فرمایا چونکہ مسح کرنا تواتر کے ساتھ صرف خفین (چمڑے کے موزوں ) پر ہی ثابت ہے، اس لئے ان پر مسح کرنا درست نہیں، گویا موزے تین قسم کے ہوگئے۔
[1] چمڑے کے موزے جنہیں خفین کہا جاتا ہے، ان پر مسح بالاجماع جائز ہے۔
[2] وہ باریک موزے یا جرابیں جو نہ چمڑے کے ہوں، اورنہ ان میں چمڑے کے اوصاف پائے جاتے ہوں، جیسے آجکل کی سوتی، اونی یا نائیلون کی جرابیں، ان کے بارے میں اجماع ہے کہ ان پر مسح جائز نہیں کیونکہ ایسے موزوں پر مسح کرنا ایسے دلائل سے ثابت نہیں جن کی بناء پر پاؤں دھونے کے قرآنی حکم کو چھوڑا جاسکے۔
[3] وہ موزے جو چمڑے کے تو نہیں ہیں، لیکن ان میں موٹے ہونے کی بناء پر اوصاف چمڑے ہی کے پائے جاتے ہیں۔ ان پر مسح کے جواز میں فقہاء کا اختلاف ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ جو موزے چمڑے جیسے نہ ہوں، ان پر مسح کے عدم جواز میں مجتہدین امت کا کوئی اختلاف نہیں اور اس کی وجہ یہی ہے کہ پاؤں دھونے کے قرآنی حکم کو اس وقت تک نہیں چھوڑا جا سکتا جب تک کہ مسح کا حکم ایسے تواتر سے ثابت نہ ہوجائے جس تواتر سے مسح علی الخفین کا جواز ثابت ہے۔لہذا فقہاء کرام نے کپڑے کے موزوں پر مسح کے لئے جو شرطیں لگائی ہیں وہ اپنی طرف سے نہیں لگائیں، بلکہ ان موزوں میں چمڑے کے اوصاف کے تحقق کے لئے لگائی ہیں۔ لہذا پوری امت کے فقہائ، محدثین اورمجتہدین کے مقابلے میں نام نہاد محققین کی رائے پر عمل کر کے باریک جرابوں پر مسح کرناایک سنگین جسارت ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو ہدایت عطا فرمائیں۔