ماہ صفر کے متعلق جاہلانہ خیالات

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
ماہ صفر کے متعلق جاہلانہ خیالات
مولانا خبیب احمد گھمن
اللہ تعالیٰ ہر زمانہ کے خالق ہیں، زمانہ مخلوق ہے کوئی وقت بھی بذات خود نہ تو اچھا ہے اور نہ برا پس ہر وہ وقت جس میں کوئی شخص نیک کام کرے اللہ کے فضل کے ساتھ تو وہ وقت اس کیلیے بابرکت ہے اورجس وقت میں گناہ، برائی اور فسق وفجورکا ارتکاب کرے تو وہ اس کے لیے منحوس ہے۔ لیکن آج کل کچھ لوگ اسی پرانے جہالت کے دورسے گزر رہے ہیں جو آپe سے پہلے کا تھا یعنی رسومات، بدعات اور شرک کچھ لوگ تھے جو زمانہ کو منحوس قرار دیتے تھے پرندکے اڑنے سے فال لیتے تھے۔ عورت کو منحوس قرار دیتے تھے۔ماہ صفر میں سفرکرنا شادی کرنا اورکوئی نیا کام کاروبار وغیرہ کو منحوس قرار دیتے تھے جس سے حضرت نبی اکرمe نے صاف طورپرمنع فرمایا۔
عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہe لاعدوی ولاطیرۃ ولاھامۃ ولا صفر وفرمن المجذوم کما تفر من الاسد [بخاری]
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ tرسول اللہe سے روایت کرتے ہیں کہ آپe نے فرمایا۔
’’ ایک کسی بیماری کا(اللہ کے حکم کے بغیرخودبخود)دوسرے کولگ جانابدفالی اورنحوست اورصفر(کی نحوست وغیرہ ) یہ سب باتیں بے حقیقت ہیں اورمجذوم(کوڑھی)شخص سے اس طرح بچوجس طرح شیر سے بچتے ہو۔
ماہ صفر کومنحوس یابراسمجھنے کالازمی نتیجہ یہ ہے کوئی زمانہ بذات خود برایامنحوس ہے یعنی ماہ صفر کی طرف نحوست کی نسبت کرنازمانہ کی طرف نسبت کرناہے یہ عقیدہ توکفارومشرکین مکہ کاتھا۔ حدیث قدسی ہے نبی اکرمe سے مروی ہے اللہ تعالیٰ ارشادفرماتے ہیں کہ’’ بنی آدم مجھے ایذا دیتا ہے یعنی میری شان کے خلاف باتیں کرتاہے اوروہ اس طرح کہ وہ زمانہ کوبرابھلاکہتاہے حالانکہ زمانہ میں ہوں (یعنی زمانہ میرے تابع اورماتحت ہے)میرے قبضہ اورقدرت میں تمام حالات اور زمانے ہیں اورمیں ہی دن اور رات کوپلٹتاہوں۔ بعض لوگوں کاخیال ہوتاہے کہ ہم توبڑے اچھے ہیں لیکن فلاں منحوس ہے فلاں کے اندر برائی ہے جیساکہ ایک کالے حبشی کوراستے میں پڑاہوا ایک آئینہ ملا اس نے اٹھایااورآئینے میں اپناچہرہ دیکھا۔ جب نظر آیاکہ موٹااورچپکا ہواناک، باریک آنکھیں۔ گھنے گھنگریالے بال، موٹے ہونٹ گندے اورلمبے لمبے دانت، غصے سے شیشے کو زور سے پتھر پرپھینک مارااورتوڑدیا۔کہنے لگا اتنا بدصورت تھا اسی لیے تجھے یہاں پر پھینکا ہواتھا۔ اپنی بدصورتی کو بھی اس کی طرف منسوب کیا۔
حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی aایک وعظ میں ارشاد فرماتے ہیں کہ کوئٹہ میں ایک دفعہ زلزلہ آیابہت بڑی تباہی ہوئی عمارتیں گرگئیں، مارکیٹیں ویران ہوگئیں، پلازے زمین بوس ہو گئے، زلزلے کی تباہی کولوگ ایک عبرت کے لیے دیکھنے جاتے تھے۔ دیکھنے والوں میں ایک دفعہ کچھ طوائف عورتیں بھی گئیں اوراپنے ناک پرہاتھ رکھ کرکہنے لگیں:’ ’ہائے اللہ! پتہ نہیں کس کے گناہوں کی مار ہے؟ کہنے کامقصد یہ ہے کہ ہرکوئی اپنی برائی کی نسبت دوسری کی طرف کرتاہے جو ہو تا خودمنحوس ہے اورسمجھتاہے عورت کو،بلی کے گزرنے کو،اُلّوکو،گھر کو،وقت کو،زمانہ کو،مہینہ کووغیرہ وغیرہ جیساکہ ایک بادشاہ نے سمجھاتھا ایک بادشاہ تھااس کے دربارمیں ایک غلام آیا بادشاہ نے غلام کو دیکھا اس کی شکل اس کو اچھی نہ لگی اس دن بادشاہ نے جوکوئی کام کرناتھا وہ نہ ہوا،توبادشاہ نے اپنے طورپرسمجھا کہ اس کے چہرے کی نحوست کی وجہ سے میراکام نہ ہوا۔بادشاہ نے غلام کو بلوایا اور کوڑے لگائے سارا دن کوڑے لگتے رہے شام کو بادشاہ نے کہا تو کتنا منحوس ہے تجھے کوڑے لگ رہے ہیں اورمیں کتنا مبارک ہوں کہ میں محفوظ ہوں۔ غلام نے کہا:’ ’بادشاہ سلامت! جان بخشی ہو تو عرض کروں ؟ حکم ہواکرو! غلام نے کہا جناب آج صبح میں نے آپ کاچہرہ دیکھاآپ نے میرا مجھے آپ کاچہر ہ دیکھنے کی وجہ سے کوڑے لگے اورآپ مجھے دیکھنے کی وجہ سے سارادن محفوظ رہے اب بتائومبارک میں ہوں یاآپ۔ منحوس آپ ہیں یامیں۔ بادشاہ کوسمجھ آئی پھر اس کوانعام دیا اکرام کیاآزاد کردیا۔
ہرماہ مبارک ہے ہر مہینہ افضل ہے ہروہ گھڑی بہتر ہے جس میں نیکی ہو۔ ہروہ لمحہ منحوس ہے جس میں گناہ فسق برائی ہواللہ جل شانہ کی نافرمانی ہوماہ صفر میں شادی کرنا، کاروبار کرنا، سفر کرنا یا اور کوئی کام کرناجائز ہیں اس کومنحوس سمجھنایابری فال لینازمانہ جاہلیت کی رسومات میں سے ہے اس سے بچناضروری بلکہ بہت ضروری ہے۔