اقبال اور آزادی نسواں

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
اقبال اور آزادی نسواں
کوثر گل، سکھر
مفکر اسلام حضر ت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علامہ اقبال مرحوم نے اپنی تعلیمی زندگی کا خاصہ حصہ یورپ میں گزارا ان کی باقی زندگی اک ایسے شہر اور ماحول میں گزری جو آزادی نسواں اور مغرب کی تقلید کا شاید ہندستان میں سب سے بڑا مرکز تھا اس سب کے باوجود مسلمان عورت کے بارے میں ان کا عقیدہ اور ان کے خیالات میں کوئی تذبذب واقع نہیں ہوا۔ بلکہ مغربی ممالک کی زند گی کا انتشار اور انسانیت کی تباہی کے آثار دیکھ کر ان کا یہ عقیدہ اور زیادہ مضبوط ہو گیا کہ مسلمان عورت کے لئے زندگی کا بالکل الگ معیار ہے۔
اور اس کو مغربی عورت کی تقلید سے پوری احتیاط کرنی چاہیے دنیا میں اس وقت استحکام اور نظم و انتظام نہیں پیدا ہو سکتا جب تک کے عورت میں صحیح نسوانیت، عصمت وطہارت اور شفقت مادری نہ ہو ، جو قوم اس نکتے سے واقف نہیں اس کا نظام زندگی ہمیشہ درہم برہم اور متزلل رہے گا۔
وہ کہتے ہیں :
جہاں را محکمی ازا مہات است
نہادِ شاں امين ممکنات ا ست
ا گر ا يں نکتہ را قومے نداند
نِظام کاروبارش بے ثبات است
وہ اپنی ساری ترقیوں اور بے داریوں ایمان ذوق اور درد و سوز کو اپنی والدہ کی تربیت اور ان کی پاک باطنی کا نتیجہ سمجھتے ہیں :وہ کہتے ہیں مرے اندر ایمان و محبت کی جو چنگاری ہے جس کا علم وہنر سے کوئی بیر نہیں بلکہ میل ہے وہ میری پاک باطن ماں کی نگاہ کا فیض ہے جو کچھ ملا ان کی گود اور ان کی تربیت سے ملا۔
علامہ مرحوم کا اپنی والدہ سے کیا محبت کا تعلق تھا لندن میں جب والدہ کی وفات کی خبر سنی تو فرمایا :
اب کس کو ہو گا وطن میں آہ میرا انتظار
کون میرا خط نہ آنے سے رہے گا بے قرار
خاک مرقد پے تری لے کر یہ فریاد آؤں گا
اب دعاءِ نیم شب میں کس کو میں یاد آؤں گا
اقبال خو د فرماتے ہیں کہ یہ دولت تو کالجوں اور یونیورسٹیوں میں نہیں ملتی۔ یہاں سوائے قصہ کہانی کے کچھ نہیں۔ یہ دولت خدا اگر کسی ایمان والی ماں کو نصیب کرے تو اس کی آغوش ِتربیت سے مل سکتی ہے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ مسلمان عورت میں اسلامی صفات ہوں وہ انسانیت کی محسن اور انسانیت کی مربی ہے۔
قومیں آتی جاتی ہیں اور رہیں گئی ، تہذیبیں پھلتی پھولتی اور دم توڑتی رہیں گی ، ملک بستے اور اجڑتے رہیں گے۔ لیکن عورت انسانیت کا ایسا درخت ہے جس کو کبھی خزاں نہیں آتی۔
وہ مسلمان عورت سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں آے مسلمان عورت تیری صحیح جگہ زندگی کا شور ہنگامہ نہیں اگر تو نے مرد کے دوش بدوش کھانے کمانے کی سر گرمی دکھائی تو ملت سے بے وفائی اور اپنے ساتھ نا انصافی۔ تیرا فرض اور تیری سعادت تو یہ ہے کہ جگر گوشہ رسول حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کی طرح شوہر کے گھر کو آباد کر اور اس کو اپنی توجہ اور دلچسپی کا مرکز بنا اور وہاں بیٹھ کر ایسے فرزند کی پر ورش کر جو مسلمانوں کی مشکل آسان کرے اور ملت پر قربان ہو جائے۔ "آج اسلام کو حسن وحسین رضی اللہ عنہما جیسے فرزندوں کی ضرورت ہے "اور یہ دولت مسلمان ماؤں ہی سے مل سکتی ہے اقبال کا عقیدہ تھا کہ مسلمانوں کے دن بدلنے اور نئے دور کے لانے میں عورت بہت بڑا حصہ لے سکتی ہے۔
اللہ نے مسلمان عورت کو ایسا قوی ایمان ایسادرد مند دل ایسی پر سوز آواز اور ایسی پاک فطرت عطاء فرمائی ہے کہ آج بھی مسلمانوں کے دل ودماغ میں وہ ایمان کی چنگاری روشن کر سکتی ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ ہر مسلمان عورت اسلامی تاریخ کا یہ واقعہ یاد رکھے ایک پاک باطن عورت کے قرآن پڑھنے نے اپنے زمانے کے مضبوط ترین انسان کے دل میں ہلچل پیدا کر دی تھی۔ اور قرآں کے منکروں کو اسلام کے نور اورایمان کی حرارت سے بھر دیا تھا اور ملت اسلامیہ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسا صاحب ایمان ، صاحب عزم اور فاتح عالم عطاء کیا جس سے اسلام میں تر قی اور قوت کا ایک نیا دور شروع ہوااور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب شمشیر بکف ہو کر اسلام کے خاتمے کے لئے نکلے پہلے اپنی بہن فاطمہ بنت خطاب کے گھر گئے تاکہ اپنے گھر سے کام کا آغاز کریں تو ان کی بہن کے قرآن پڑھنے کی آواز نے ان کے دل کو موم کر دیا اور اسلام ان کے دل میں اتر گیا۔ اقبال چاہتے تھے کہ مسلمان عورت درد سوز اور تسخیر و تاثیر کی اس قوت کو پہچانے اور پھر اس سے دنیا کے انقلاب کا کام لے وہ مسلمان عورت کو خطاب کر کے کہتےہیں۔
ز شام مابروں آور سحر را
بہ قرآں باز خواں اہل نظر را
تو می دانی کہ سوز قرات تو
دگر گوں کرد تقدیر عمر را
خد اکے لئے ہماری شام غریبی کو پھر صبح امید سے بدل دے اور قرآن پھر اہل نظر کو پڑھ کو سنا۔ تجھے معلوم ہے کہ تیری قراءت کے سوز نے عمر کی تقدیر کو بدل دیا۔ زمانے کی عورت کے لئے وہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کو مثالی خاتون سمجھتے کہ وہ کس طرح چکی پیستے ہوئے قرآن بھی پڑھا کرتی تھیں اور گھریلو کاموں پر صبر فرماتی تھیں اور ان کی سیر ت کی اس پختگی سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ ان کی آغوش سے نکلے۔
یہ مسلمان عورت کی ہی خصوصیت کہ گھر میں چاہیے اس کی زندگی کیسی ہو یا خدمت کی زندگی ہو ، محنت وسادگی کی زندگی ہو لیکن ہر حال میں خوش اور راضی اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کا نام لے رہی ہو اور ملت کی خدمت میں اور خاندان کی خدمت اپنے گھر اور اس کی تر قی میں مشغول رہے۔ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان عورت کو ان اوصاف کا حامل بنا دے آمین۔