قباؤں میں پیوند،پتھرشکم پر

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
قباؤں میں پیوند،پتھرشکم پر
مولانامحمدطارق نعمان گڑنگی
انتشار سے قومیں کمزورہوجایاکرتی ہیں اور اتحاد واتفاق سے جنگیں جیتنا بھی آسان ہوجاتاہے قرآن پاک میں مسلمانوں کوجہاں جن باتوں میں زیادہ تاکید کی ہے ان میں ایک اتفاق واتحاد ہے۔
سورة اٰل عمران میں فرمایاکہ اورمضبوط پکڑے رہواللہ کی رسی کو اور تفرقوں میں نہ پڑو۔
آج کمزوراگر مسلمان دکھائی دیتاہے تواس کی بنیادی وجہ بے اتفاقی اورتفرقہ بازی ہے۔ مسلمان اپنے مسلم بھائی کے خونی دشمن دکھائی دیتاہے اگر اس کی پیاس بجھتی نظر آتی ہے توصرف بھائی ہی کے خون سے۔ اسلام نے ہمیں اخوت وبھائی چارے کے درس دیاتھامگر افسوس کی آج ہم ایک گھر ایک ملک ایک علاقے میں رہتے ہوئے ایک دوسرے سے اجنبی بنے ہوئے ہیں۔
حیرت ہے کہ یہ وہی امت ہے جسے میرے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ نے مسلسل محنت اورتربیت کے بعد باہم شیروشکربنادیاتھانبی پاک ﷺ کاایمان کی حالت میں دیدار کرنے والے صحابہ ؓ مختلف علاقوں کے رہنے والے تھے مختلف قبیلوں سے تعلق رکھتے تھے ان کی زبانیں اوررنگ بھی مختلف تھے مگر انہوں نے نسل زبان اورقومیت کے تمام امتیازات مٹادیے تھے اورآپس میں اس طرح رہتے دکھائی دیتے تھے جیساکہ آپس میں ان کاخونی رشتہ ہے اور بھی قریب کا۔
نبی پاک ﷺ میں سلمان فارسی بھی نظر آئے بلال حبشی بھی،صہیب رومی بھی ،ابوذر غفاری بھی ،طفیل دوسی بھی ،عداس نینوائی بھی ،ابوسفیان اموی بھی ،عدی طائی بھی ، ضمادازدی بھی ،سراقہ جعشمی بھی،تما م کے خاندان علیحدہ علیحدہ قبیلے علیحدہ علیحدہ مگر جوبھی تھے آپس میں بھائی بھائی نظر آئے۔ انماالمؤمنون اخوة کی عملی تفسیر تھے۔
اپنانہیں دوسروں کاخیال رکھنے والے لوگ تھے خود بھوکے رہ کردوسروں کاکھلاتے تھے خود پیاسے رہ کر دوسروں کاسیر کراتے۔
ابوجہم بن حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ یرموک کی لڑائی میں اپنے چچازاد بھائی کی تلاش میں نکلاکہ وہ لڑائی میں شریک تھے اپنے ساتھ میں نے ایک مشکیزہ پانی کابھی لیا کہ ممکن ہے وہ پیاسے ہوں توپانی پلاؤں اتفاق سے وہ جگہ اس حالت میں پڑے ہوئے ملے کہ دم توڑ رہے تھے ،میں نے پوچھاکہ پانی کاگھونٹ دوں ؟انہوں نے اشارے سے ہاں کی۔ اتنے میں دوسرے صاحب نے جوقریب ہی پڑے تھے اوروہ بھی مرنے کے قریب تھے ،آہ کی۔ میرے چچازاد بھائی نے آواز سنی تو مجھے ان کے پاس جانے کا اشارہ کیا ، میں ان کے پاس پانی لے کر گیا،وہ ہشام بن العاص تھے ،ان کے پاس پہنچا ہی تھا کہ ان کے قریب ایک تیسرے صاحب اسی حال میں پڑے دم توڑ رہے تھے،انہوں نے آہ کی،ہشام نے مجھے ان کے پاس جانے کا اشارہ کیا میں ان کے پاس پانی لے کر پہنچا ان کا دم نکل چکا تھا،ہشام کے پاس واپس آیاوہ بھی جاں بحق ہو چکے تھے۔
حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ایک صحابی کو کسی شخص نے بکرے کی سری ہدیہ کے طور پر دی،انہوں نے خیال فرمایاکہ میرے فلاں ساتھی زیادہ ضرورت مندہیں ،کنبہ والے ہیں اور ان کے گھر والے زیادہ محتاج ہیں ،اس لئے ان کے ہاں بھیج دی،ان کو ایک تیسرے کے متعلق یہی خیال پیدا ہوا اور ان کے پاس بھیج دی۔ غرض اسی طرح سات گھروں میں پھر کر وہ سری سب سے پہلے صحابی کے گھر لوٹ آئی۔
ایمان اور اتحاد کی طاقت جب تک مسلمانوں میں تھی اخوّت ومحبّت اور اتفاق واتحاد کا یہ رشتہ بر قرار رہا وہ ساری دنیا پر چھا ئے رہے،جب انہوں نے ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے اور ایک دوسرے کو گرانے کا عمل شروع کیا ہے،وہ اقوام عالم میں ذ لیل وخوار ہوتے جارہے ہیں۔ افرادی اعتبار سے دیکھئے تو اس وقت مسلمانوں کی تعدادزیادہ ہے وسائل کے لحاظ سے بھی پٹرول اورتیل مسلمانوں کے قبضہ میں ہے معدنیات کے ذخائر اورکانیں میں اسلامی ممالک میں زیادہ ہیں اسی طرح مالی لحاظ سے بھی اقوام عالم سے زیادہ مسلمان ہی طاقتور ہیں لیکن ان تمام باتوں کے باوجود مسلما ن کمزوراورمغلوب نظر آتے ہیں۔ آخر کیوں؟
اس کی وجہ ایمانی کمزوری اورآپس کی لڑائی ہے۔ پہلے مسلمانوں کے پاس سونے چاندی کی دولت نہیں بلکہ ایمانی دولت تھی۔مسلمانوں کے پاس پیٹرول اور معدنیات کے ذخائر نہیں تھے لیکن اللہ کی ذات پہ یقین اوراعتماد کاعظیم ذخیرہ ان کے پاس تھا۔مسلمانوں کے پاس پہلے جدیداسلحہ اورسازوسامان کی طاقت نہیں تھی لیکن ان کے پاس اتفاق واتحاد کی طاقت تھی۔ تین سوتیرہ ایک ہزار کے لشکر پہ حاوی دکھائی دیتے تھے۔ تین ہزار نے دولاکھ کے لشکر کوشکست دی ،ہم نے اتنی بڑی طاقت کبھی نہیں دیکھی کہ اتنے چھوٹے سے لشکر نے چودہ گناہ مسلح لشکر کونیست ونابود کیاہو۔
قباؤں میں پیوند ، پتھر

شکم پر قدم کے تلے تاجِ کسریٰ وقیصر

غذانانِ جو وہ بھی کم تر

میسر مگر ہاتھ میں زورِ تسخیرِ خیبر

کبھی اہل ایمان کی پہچان

یہ تھی

کبھی اہل اسلام کی شان

یہ تھی

آج ہماری کمزوری کی وجہ سازوسامان کی کمی نہیں ہماری کمزوری کی وجہ توپ وگولہ بارود نہیں ،ہماری کمزوری کی وجہ تربیت یافتہ فوجوں کی قلت نہیں ،ہماری کمزوری کی وجہ سائنس اورٹیکنالوجی کاعدم حصول نہیں،ہماری کمزوری کی وجہ مال ودولت کی قلت نہیں بلکہ ہماری کمزوری کی وجہ ایمان ویقین اتحادواتفاق کافقدان ہے کفریہ طاقتیں صحابہ کرام سے یقین محکم اوربے مثال اتحاد کی وجہ سے لرزاں تھیں۔
شاعر نے کیا ہی خوب کہا ہے :
تمہاری قوم کی توہے بناہی

دین وایماں پر

تمہاری زندگی موقوف

ہے تعمیل قرآں پر

تمہاری فتحیابی منحصر ہے

فضلِ یزداں پر

نہ قوت پر نہ شوکت پر نہ

کثرت پر نہ ساماں پر