احناف ڈیجیٹل لائبریری

فقیہ یمن سیدنا حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
تذکرۃ الفقہاء:
فقیہ یمن سیدنا حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ
مولانا محمد عاطف معاویہ حفظہ اللہ
نام ونسب:
آپ کا اسم گرامی معاذ بن جبل بن عمرو ہے اور کنیت ابوعبدالرحمن ہے۔ نسب نامہ یہ ہے: معاذ بن جبل بن عمرو بن اوس بن عائذ بن عدی بن کعب بن عمرو بن ادی بن علی بن اسد ابوعبدالرحمن الانصاری الخزرجی۔
(الاصابہ فی تمییز الصحابہ: ج3ص1847،رقم الترجمۃ:8040)
قبول اسلام :
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا تعلق مدینہ منورہ سے تھا، اس لیے جب مدینہ منورہ میں اسلام کی دعوت شروع ہوئی تو آپ نے اسلام قبول کرلیا۔
فضائل ومناقب ا ورقوتِ اجتہاد:
1: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ایسی جماعت عطا فرمائی جنہوں نے آپ کے اوصاف کو اپنے اندر محفوظ کیا۔ہر صحابی میں کوئی ایک صفت نمایا ں تھی۔ مثلاً حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میں صفتِ صداقت،حضرت عمر رضی اللہ عنہ میں صفتِ عدالت،حضرت عثمان رضی اللہ عنہ میں صفتِ سخاوت اور حضرت علی رضی اللہ عنہ میں صفتِ شجاعت نمایاں تھی۔آپ علیہ السلام کی ایک صفت علم اور فقہ بھی تھی۔
Read more ...

نماز اہل السنت والجماعت

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
قسط نمبر 8:
نماز اہل السنت والجماعت
متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
کیفیت رکوع:
:1 حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا :
یَابُنَیَّ اِذَارَکَعْتَ فَضَعْ کَفَّیْکَ عَلٰی رُکْبَتَیْکَ وَفَرِّجْ بَیْنَ اَصَابِعِکَ وَارْفَعْ یَدَیْکَ عَنْ جَنْبَیْکَ۔
(المعجم الاوسط للطبرانی ج 4ص281 رقم الحدیث 5991 ،المعجم الصغیر للطبرانی ج 2ص32 )
ترجمہ: اے میرے بیٹے ! جب تم رکوع کرو تو دونوں ہتھیلیوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھو اور انگلیاں کشادہ رکھو اور اپنے بازؤوں کو پہلو سے جدا رکھو۔
:2 عَنْ اَبِیْ حُمَیْدٍ رضی اللہ عنہ قَالَ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم رَکَعَ فَوَضَعَ یَدَیْہِ عَلٰی رُکْبَتَیْہِ کَاَنَّہٗ قَابِضٌ عَلَیْھِمَاوَوَتَّرَ یَدَیْہِ فَنَحَاھُمَا عَنْ جَنْبَیْہِ… وَفِیْ رِوَایَۃِابْنِ عُمَرَ رضی اللہ عنہ قَالَ فَاِذَا رَکَعْتَ فَضَعْ رَاحَتَیْکَ عَلٰی رُکْبَتَیْکَ ثُمَّ فَرِّجْ بَیْنَ اَصَابِعِکَ ثُمَّ امْکُثْ حَتّٰی یَاْخُذَکُلُّ عُضْوٍمَّاْخَذَہٗ۔
(جامع الترمذی ج 1ص60 باب ما جاء انہ یجا فی یدیہ عن جنبہ فی الرکوع ، صحیح ابن حبان ص586 باب ذکر وصف بعض السجود والرکوع، رقم الحدیث 1887)
ترجمہ:
Read more ...

فضائل و مسائل قربانی

User Rating: 1 / 5

Star ActiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
فقہ المسائل
فضائل و مسائل قربانی
متکلمِ اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
قربانی کی اہمیت:
قربانی ایک عظیم الشان عبادت ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے شروع ہوئی اور اُمتِ محمدیہ علی صاحبہا السلام تک مشروع چلی آرہی ہے، ہرمذہب وملت کا اس پرعمل رہا ہے۔ قرآن کریم میں ایک جگہ ارشاد ہے:
’’وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکاً لِیَذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہ عَلٰی مَا رَزَقَہُمْ مِنْ بَہِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ‘‘الآیۃ
(حج:34)
ترجمہ: ہم نےہر امت کےلئے قربانی مقرر کی تاکہ وہ چوپائیوں کےمخصوص جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ تعالیٰ نےعطاء فرمائے۔
قربانی کاعمل اگرچہ ہرامت میں جاری رہا ہے لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں خصوصی اہمیت اختیار کر گیا، اسی وجہ سے اسے’’سنتِ ابراہیمی‘‘کہاگیاہے۔ کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے محض خدا کی رضامندی کے لیے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربانی کیلئے پیش کیا تھا۔
Read more ...

فقہ کی اہمیت محدثین کی نظر میں

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
آثار التشریع:
فقہ کی اہمیت محدثین کی نظر میں
حضرت مولانا خالد محمود صاحب
پی ایچ ڈی لندن
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر مسئلہ چلا کہ قبر مبارک بصورتِ لحد کھودی جائے یا بصورتِ شق۔صحابہ رضی اللہ عنہم جنھوں نے دن رات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس پائی تھی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئی جنازے بھی پڑھے تھے سب موجود تھے۔ بایں ہمہ ان کی نظر ان بزرگوں پر تھی جو فقہاء سمجھے جاتے تھے۔مشہور محدث، جلیل القدر تابعی ہشام بن عروہ رحمہ اللہ م146ھ کہتے ہیں: فقہاءِ کرام نے اسے بصورت لحد تجویز کیا۔اس سے پتہ چلتاہے کہ اسلام میں فقہاء کی اہمیت اور برتری شروع سے مسلم چلی آرہی ہے۔
1: مشہور محدث حافظ ابوبکر عبداللہ بن محمد بن ابی شیبہ رحمہ اللہ م235ھ المصنف باب اللحد للمیت میں ایک سند اس طرح لائے ہیں:
Read more ...

تجلیات جذب کے زمان ومکان

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
خزائن السنن:
تجلیات جذب کے زمان ومکان
مفتی شبیر احمد حنفی
حدیث مبارک ”ان لربکم فی ایام دھرکم نفحات“ میں نفحات کی جو تشریح عارف باللہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم نے فرمائی وہ ہدیہ قارئین ہے جو نفحات کے معنیٰ ومفہوم اور مصداق کو واضح کرتی ہے۔
عارف باللہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم نے فرمایا:سرورِعالم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ
ان لربکم فی ایام دھرکم نفحات، فتعرضوا لہ لعلہ ان یصیبکم نفحۃ منہا فلاتشقون بعدہا ابدا۔
اے لوگو! تمہارے رب کی طرف سے تمہارے زمانے ہی کے دنوں میں نفحات آتے ہیں،
Read more ...

فتنوں کا تعاقب؛ ضرورت اور اہمیت

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
فتنوں کا تعاقب؛ ضرورت اور اہمیت
متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن
معاشرتی بگاڑ کی وجوہات میں سے ایک وجہ علم وعمل سے دوری ہے۔ علم کا فقدان لوگوں میں فتنہ وفساد کا سبب بنتا ہے۔ فتنہ وفساد کی یہ آگ جہاں عقائد ونظریات کو ٹھیس پہنچاتی ہے وہاں اعمال وافعال کو بھی اپنی زد میں لے لیتی ہے۔ حالیہ دور بلامبالغہ سابقہ ادوار سے اس حوالے ابتر ہے کہ اس میں فتنوں کی تعداد سابقہ دور سے کہیں زیادہ ہے۔ عقائد سے اعمال تک،اصول سے جزئیات اور فرائض سے سنن ونوافل تک ہر مرحلہ پر باطل کوششیں حملہ آور ہیں۔باطل کہیں تو دین کے ثابت شدہ مسائل کا انکار کررہا ہے
Read more ...

سلام پہنچانے کے بیان میں

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
آداب مجلس:
سلام پہنچانے کے بیان میں
مولانا محمد ابوبکر اوکاڑوی حفظہ اللہ
عن ابی سلمۃ ان عائشۃ حدثتہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال لہا: ان جبرئیل یقرئک السلام قالت وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
جامع الترمذی:رقم2317
ترجمہ: ابوسلمہ فرماتے ہیں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے انہیں یہ بات بتائی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:جبرئیل علیہ السلام تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا :
Read more ...

شوال کے چھ روزے اور امام اعظم رحمہ اللہ کا موقف

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
شوال کے چھ روزے اور امام اعظم رحمہ اللہ کا موقف
مولانا محمد عادل منصور
باطل نے ہر دور میں عوام کو اہلِ حق سے دور کرنے کے لیے کئی قسم کے حربے استعمال کیے؛تقریروتحریر کے ذریعے اہلِ حق کی عبارات کو اپنے مطلب کے مطابق ڈھال کر عوام کو بدظن کرنے کی کوشش کی۔
ان دنوں موبائل کے ذریعہ ایک میسج عام کیا جارہا ہےکہ فقہ حنفی قرآن وحدیث کے خلاف ہے۔ اس کی ایک مثال یوں دی کہ حدیث مبارکہ میں ہے: جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو اس کو سال بھر روزے رکھنے کا ثواب ملے گا۔دوسری طرف فتاویٰ عالمگیریہ کے ایک مسئلہ سے تقابل کیا کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک شوال کے چھ روزے رکھنا مکروہ ہے۔حالانکہ یہ بات بالکل غلط ہے۔ فقہ حنفی کی معتبر کتب یہاں تک کہ اسی فتاویٰ عالمگیریہ میں بھی شوال کے 6روزوں کو مستحب کہا گیا۔باقی جہاں ان کو مکروہ کہا گیا ہے وہ مطلق نہیں بلکہ یہ حکم خاص صورتوں کے متعلق ہے۔ جیسےاگر کوئی شخص ایک روزہ عید کے دن رکھے اور پانچ بعد میں تو یہ مکروہ ہے۔اسی طرح جو شخص ان روزوں کو رمضان کی طرح فرض سمجھے
Read more ...

اللہ کی نعمتیں اور ان پر شکر کی اہمیت

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
مجلس الشیخ:
اللہ کی نعمتیں اور ان پر شکر کی اہمیت
ترتیب و عنوانات: مفتی شبیر احمد حنفی حفظہ اللہ
6 ستمبر 2012ء بروز جمعرات حضرت الشیخ متکلم اسلام حضرت مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ نے خانقاہ اشرفیہ اختریہ مرکز اہل السنۃ و الجماعۃ 87 جنوبی سرگودھا میں منعقدہ ماہانہ مجلسِ ذکر سے خطاب فرمایا، جس میں اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں اور ان پر شکرکرنے کی اہمیت و ضرورت پر دلنشین گفتگو فرمائی۔ افادۂ عام کے لیے اس بیان کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔
خطبہ مسنونہ:
قال اللہ تعالیٰ: Īمَا يَفْعَلُ اللَّهُ بِعَذَابِكُمْ إِنْ شَكَرْتُمْ وَآمَنْتُمْ وَكَانَ اللَّهُ شَاكِرًا عَلِيمًاĨ [النساء:147]
اللہ رب العزت نے انسان کو اس قدر نعمتیں عطا فرمائی ہیں کہ ساری کائنات مل کر اس کو شمار کرنا چاہے تو شمار نہیں کر سکتی۔یہ بات اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں خود فرمائی ہے:
Īوَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَاĨ
[ابراہیم:34]
اگر اللہ کی نعمتوں کو تم شمار کرنا چاہو تو شمار نہیں کر سکتے۔
پہلی نعمت: ایمان
اللہ تعالیٰ نے جو ہمارے نعمتیں ہمیں عطا کی ہیں
Read more ...

امام العصر علامہ انور شاہ محدث کشمیری رحمہ اللہ

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active

تذکرۃ الاکابر

حصہ دوم
امام العصر علامہ انور شاہ محدث کشمیری رحمہ اللہ
مولانا محمد عبداللہ معتصم
تبحر علمی:
علامہ کشمیری کے علمی وعملی کمالات میں سے جو چیز آپ کو اقران واعیان میں ممتاز کرتی ہے وہ آپ کی جامعیت اور تبحر علمی ہے۔عقلی اور شرعی علوم میں آپ کو مہارت تامہ حاصل تھی۔اور شاید یہ کہنا بے جانہ ہوگاکہ علماء متقدمین میں سے ہر حیثیت سے ایسی جامع شخصیت شاذ ونادر ہی ملتی ہے۔آپ سینکڑوں علماء وفضلاء کے مجمع میں بیٹھ کر ہر ایک علم وفن کے مسائل پر ایسی گفتگو فرماتے تھے گویا کہ تمام مسائل فن آپ کو مستحضر اور ازبر ہیں۔حتیٰ کہ بعض دفعہ خیال ہوتا تھا کہ اپنے ارادہ سے کلام نہیں فرمارہے بلکہ واردات والہامات سے ارشاد فرمارہے ہیں۔جب کسی مسئلہ میں کوئی دقت پیش آتی تو وہ حضرت علامہ سے مراجعت فرماتے تھے۔امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ سے ایک مرتبہ حضرت کشمیری کے حالات پر تبصرہ کرنے کے لیے کہا گیا تو حضرت شاہ صاحب نے فرمایا:”میرے جیسا کم علم ان کے حالات کیا بیان کرسکتاہے البتہ صرف اتنا کہہ سکتا ہوں صحابہ کا قافلہ جارہاتھا یہ پیچھے رہ گئے“
Read more ...