احناف ڈیجیٹل لائبریری

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ
مولانا محمد اکمل راجنپوری
حضرت ابوسعید سعدبن مالک بن سنان خدری رضی اللہ عنہما کا شمار ان اہلِ علم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ہوتا ہے جو اپنے زمانے کے جبال علم سمجھے جاتے تھے اور انہی کے چشمہ فیض سے متلاشیانِ علوم نبوت نے اپنی پیاس بجھائی۔
غربت اور زمانہ طالبعلمی:
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ابتداءً مالی اعتبار سے کمزور اصحاب رسول کی صف میں شامل تھے، کیونکہ آپ کے والد مالک بن سنان رضی اللہ عنہ جنگ احد میں شہید ہوئے تو پیچھے کوئی جائیداد نہیں چھوڑی ،جس کی وجہ سے آپ پر فاقہ اور پیٹ پر پتھر باندھنے کی نوبت آپڑی لیکن تھوڑے دنوں بعد اللہ تعالیٰ نے علومِ دین کے ساتھ ساتھ مال ودولت سے بھی نواز دیا۔
اپنے زمانہ طالبعلمی کی حالت بیان کرتے ہیں کہ قرآن مجید کی کلاس تھی،قاری صاحب قراءت کررہے تھے۔ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ ہم مالی اعتبار سے کمزور تھے---کپڑے نہ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کی آڑ میں چھپ چھپ کر بیٹھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اشارہ کیا
Read more ...

نماز اہل السنت والجماعت

User Rating: 4 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Inactive
قسط نمبر 9
نماز اہل السنت والجماعت
مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
سجدہ میں جاتے ہوئے پہلے گھٹنے ، پھر ہاتھ، پھر پیشانی کو زمین پررکھنا:
:1 عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَضَعُ رُکْبَتَیْہِ قَبْلَ یَدَیْہِ اِذَاسَجَدَ۔
(صحیح ابن خزیمۃ ج 1ص342 باب البدء بوضع الرکبتین علی الارض قبل الیدین۔۔،رقم الحدیث 626)
ترجمہ: حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو ہاتھوں سے پہلے اپنے گھٹنے زمین پر رکھتے تھے۔
:2 عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَبَّرَفَحَاذٰی بِاِبْھَامَیْہِ اُذُنَیْہِ ثُمَّ رَکَعَ حَتّٰی اسْتَقَرَّکُلُّ مَفْصَلٍ مِّنْہُ وَانْحَطَّ بِالتَّکْبِیْرِحَتّٰی سَبَقَتْ رُکْبَتَاہُ یَدَیْہِ۔
(المستدرک للحاکم ج 1ص 3()(49۔ باب التامین، رقم الحدیث 822)
ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے تکبیر کہی اور اپنے دونوں انگوٹھے کانوں کے برابر کر لیے پھر رکوع فرمایا
Read more ...

فجر کی جماعت کھڑی ہو جائے تو سنتیں ادا کرنا

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active

>

فجر کی جماعت کھڑی ہو جائے تو سنتیں ادا کرنا
مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
سوال: میرے ایک دوست نے جو اپنے آپ کو اہلحدیث کہتے ہیں، ایک دن مجھے کہا: آپ لوگ جو فجر کی جماعت کھڑی ہونےکے وقت سنتیں ادا کرنے لگتے ہو یہ حدیث کے خلاف ہے، کیونکہ حدیث میں آتا ہے:
اذا اقیمت الصلاۃ فلا صلاۃ الا المکتوبۃ
(جب اقامت ہو جائے تو فرض کے علاوہ کوئی صلاۃ جائز نہیں)۔ نیز اس نے یہ بھی کہا : اس حدیث کے آخر میں ”الا رکعتی الفجر“ کا جھوٹا اضافہ کر کے آپ لوگ فجر کی سنتوں کو مستثنیٰ قرار دیتے ہو جو محض ضد وتعصب کا نتیجہ ہے۔اقامت کے بعد اور تکبیر تحریمہ کے بعد مسجد میں جلدی جلدی ٹکریں مارنے کا قطعاً کوئی جواز نہیں،جھوٹے اضافہ پر ضد چھوڑیں اور صحیح حدیث پر عمل کریں۔
براہِ کرم اس مسئلہ کو واضح فرمائیں۔
السائل
محمد سعود میمن
کلفٹن۔ کراچی
جواب: حامداً و مصلیاً
اہل السنۃ و الجماعۃ احناف کا موقف یہ ہےکہ اگر کسی شخص کو اطمینان ہےکہ وہ سنتیں ادا کرنے کے بعد جماعت کی دوسری رکعت (بلکہ تشہد میں) مل جائے گاتو اسے چاہیے
Read more ...

فقہ کی اہمیت محدثین کی نظر میں

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
آثار التشریع:
فقہ کی اہمیت محدثین کی نظر میں
حضرت مولانا خالد محمود حفظہ اللہ
پی ایچ ڈی لندن
8: حضرت امام احمد رحمہ اللہ (م241ھ)
حافظ ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
عن الامام احمد قال:اذا کان عندالرجل الکتب المصنفۃ ،فیہا قول الرسول صلی اللہ علیہ وسلم واختلاف الصحابۃ والتابعین فلا یجور ان یعمل بماشاء و یتخیر فیقضی بہ و یعمل بہ حتی یسئل اھل العلم ما یوخذ بہ فیکون یعمل علی امر صحیح۔
اعلام الموقعین جلد 1صفحہ44
ترجمہ : امام احمد سے مروی ہے کہ اگر کسی شخص کے پاس حدیث کی کتابیں ہوں تو اس کے لئے جائز نہیں کہ جس پر چاہے عمل کر لے اور جو قول چاہے اختیارکرلے اور اس کے مطابق فیصلہ دے جب تک علماء سے نہ پوچھ لے کہ کون سی بات اختیار کرنی ہے۔ اس صورت میں اس کا عمل صحیح طریق پر ہوسکے گا۔
یہاں” اہل علم“ سے کون لوگ مراد ہیں، محمد عوامہ لکھتے ہیں :
Read more ...

روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا شرعی حکم

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا شرعی حکم
مولانا محمد ارشد سجاد
مکہ مکرمہ کی حاضری اور حج کے ارکان ادا کرنے کے سے حج مکمل ہوجاتا ہے مکہ مکرمہ کی حاضری کے ساتھ ساتھ اگر مدینہ منورہ حاضری نہ ہو تو گویا یہ سفر نا تمام اور نامکمل رہتا ہے۔ کیونکہ مکہ مکرمہ کی حاضری سے عبادت کی تکمیل جبکہ مدینہ منورہ کی حاضری سے عشق ومحبت کی تکمیل ہوتی ہے۔ حج کے ا بتدائی دنوں میں جانے والے حجاج کرام کو اکثر وبیشتر پہلےمدینہ طیبہ بھیج دیا جاتا ہے۔ایسے حجاج کرام کے لئے شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”میرے نزدیک اور علماء کے ایک گروہ کے نزدیک پہلے مدینہ منورہ جانا افضل ہے :
وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَحِيمًا۔
ہمارے آقانامدار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام امت بلکہ تمام عالم کے لئے رحمت ہیں۔آپ کے پاس حاضری د ے کر عرض کرو: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم حاضر ہوئے ہیں۔ ہمارے لئے حج کی قبولیت کی دعا فرمائیے، شفاعت فرمائیے۔
Read more ...

کیا یہی آزادی ہے

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
کیا یہی آزادی ہے؟
متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن
ایک بار پھر پورے عالمِ اسلام کو ایک دلآزار فلم نےسراپا احتجاج بنا دیا۔ دنیا بھر کے مسلمان اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں جو ایک طرف آزادی رائے کا نعرہ لگانے والے ان وحشیوں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے جو آئے روز اسلام اور پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموس پر حملہ آور ہوتے ہیں اور دوسری طرف یہی مظاہرے مسلمانوں کے ایمانی جذبات کا مظہر ہیں کہ دنیا کا کوئی بھی مسلمان خواہ وہ کسی بھی علاقہ سے تعلق رکھتا ہو،جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی شانِ اقدس میں کسی قسم کی گستاخی کو برداشت نہیں کر سکتا۔
نائن الیون کی گیارھویں برسی کے موقع پر جاری ہونے والی اس گستاخانہ فلم Innocence Of Muslims [مسلمانوں کی معصومیت] کا رائٹر اور پروڈیوسر امریکی ریاست کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والا ایک امریکی یہودی سام باسل ہے۔52 سالہ اس ملعون کا کہنا ہے:
Read more ...

بچوں کو سلام کرنے کے بیان میں

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
آداب معاشرت
بچوں کو سلام کرنے کے بیان میں
مولانا محمد ابوبکر اکاڑوی حفظہ اللہ
عَنْ سَيَّارٍ قَالَ:كُنْتُ أَمْشِيْ مَعَ ثَابِتٍ الْبُنَانِيْ فَمَرَّ عَلٰى صِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ ثَابِتٌ : كُنْتُ مَعَ أَنَسٍ فَمَرَّ عَلٰى صِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ وَقَالَ أَنَسٌ: كُنْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهٖ وَ سَلَّمَ فَمَرَّ عَلٰى صِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ
جامع الترمذی رقم :2620
ترجمہ:حضرت سیار فرماتے ہیں کہ میں حضرت ثابت بنانی کے ہمراہ جارہاتھا، وہ بچوں کے پاس سے گزرے تو ان کو سلام کیا۔ پھر حضرت ثابت نے بتایا کہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ جارہا تھا، وہ بچوں کے پاس سے گزرے تو بچوں کو سلام کیا
Read more ...

پنجہ آفتاب کا سفرِپنجاب

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
پنجہ آفتاب کا سفرِپنجاب
مولانا محمد عبد اللہ معتصم
متکلم اسلام،سفیر احناف حضرت مولانا محمد الیاس گھمن دامت فیوضہم نے پنجاب کے مختلف علاقوں کا مختصر تبلیغی دورہ کیا۔
اس دعوت ایمان واتقان کا آغاز درس قرآن سے ہوا جو 11 اکتوبر کو فیصل آباد میں ہوتا ہے۔ موقع کی مناسبت سے درس کا عنوان ’’فضائل ومسائل قربانی‘‘ تھا، اہل علم اور عوام کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔رات قیام استاد جی کی تیسری اہلیہ کے گھر فیصل آباد تھا۔
12 اکتوبر کو ہم لاہور عازم سفر ہوئے وہاں حضرت الاستاذ انوار القرآن مرکزی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھائی خطبہ جمعہ میں تحفظ ناموس رسالت کے حوالے سے حضرت استاذ محترم نے مفصل گفتگوفرمائی۔بعداز جمعہ لاہور بیدیاں کے مقام پرواقع مسجد بلال کی افتتاحی تقریب میں شرکت فرمائی۔استاد جی نے کلمات تبریک ارشاد فرمائے اور مسجد کی تعمیر وترقی کے لیے دعا فرمائی۔
Read more ...

نبوت کے مقاصد

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
مجلس الشیخ:
نبوت کے مقاصد
ترتیب و عنوانات: مفتی شبیر احمد حنفی حفظہ اللہ
4-اکتوبر2012ء بروز جمعرات حضرت الشیخ متکلم اسلام حضرت مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ نے خانقاہ اشرفیہ اختریہ مرکز اہل السنۃ و الجماعۃ 87 جنوبی سرگودھا میں منعقدہ ماہانہ مجلسِ ذکر سے خطاب فرمایا، جس میں نبوت کے مقاصد پر مدلل اور دلنشین گفتگو فرمائی۔ افادۂ عام کے لیے اس بیان کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
البقرۃ:129
[اے ہمارے رب!ان لوگوں میں خود اِنہی کی قوم سے ایک رسول بھیجیے ، جو انہیں تیری آیات سنائے ، ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوارے۔ بے شک آپ غالب اور حکمت والے ہے۔ ]
اللہ رب العزت نے جنات اور انسانوں کی ہدایت کے لیے حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کا سلسلہ جاری فرمایا، اس کا ظہور حضرت آدم علیہ السلام سے ہوا۔ حضرت آدم علیہ السلام پہلے شخص ہیں جنہوں نے کرہ ارض پر اپنی نبوت کا اعلان فرمایا۔ آدم علیہ السلام کے بعد انبیاء کا سلسلہ چلتا رہا اور کچھ انبیاء کے بعد حضرت نوح علیہ السلام وہ نبی ہیں کہ جب لوگوں نے ان کی بات کو نہیں مانا تو اللہ رب العزت نے کرہ ارض کے تمام انسانوں کو ختم کیا سوائے ان کے جنہوں نے نوح علیہ السلام کی بات مانی۔اس لیے اگر یہ بات کہی جائے تو بے جا نہیں کہ قیامت تک آنے والی نسل حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے ہے۔
جس طرح ہمارے سب سے پہلے والد کا نام حضرت آدم علیہ السلام ہے تو کچھ وقفے کے بعد والد کا نام حضرت نوح علیہ السلام ہے۔ نوح علیہ السلام نے نبوت کا اظہار فرمایا پھر یہ سلسلہ نبوت حضرت ابراہیم علیہ السلام تک چلتا رہا۔ابراہیم علیہ السلام کے دو بیٹے تھے؛ ایک کا نام اسحاق،ایک کا نام اسماعیل۔حضرت اسحاق علیہ السلام کی نسل میں سے 4000انبیاء تشریف لائےاورحضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل میں سے صرف ایک نبی حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم آئے ہیں۔
بیت اللہ کی تعمیر:
جب کعبہ کی دیواروں کو کھڑا کیا جارہاتھاتوحضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اللہ سے دعا مانگی۔کعبہ کی بنیاد تو آدم علیہ السلام کے دور سے ہے۔حوادث زمانہ کی وجہ سے کعبہ نظر نہیں آتا تھا، بنیاد آدم علیہ السلام نے رکھی ہے اس بنیاد پر حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام نے دیواریں کھڑی کی ہیں۔حکیم الامت حضرت تھانوی
’’وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِد‘‘
[البقرۃ:127]
کا معنیٰ ’’بنیادیں‘‘ نہیں کرتے بلکہ ’’دیواریں‘‘ کرتے ہیں،حالانکہ قواعد ’’قاعدۃ‘‘کی جمع ہے اور قاعدہ بمعنیٰ ’’بنیاد‘‘ ہے ،لیکن حضرت کا ذوق دیکھیں!! اور خود فرماتے ہیں کہ
Read more ...

فتاویٰ عالمگیری

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
تعارف کتب فقہ حصہ سوم
فتاویٰ عالمگیری
مفتی محمد یوسف حفظہ اللہ
ترتیب دینے کا طریق کار:
مختلف شعبہ ہائے زندگی سے متعلق ہزاروں مسائل کا مجموعہ نہایت احتیاط اور کڑی نگرانی میں تیار ہوا۔ اس کی جامعیت اور حسن معیار کو چار چاند لگانے کے لیے تمام ممکنہ ذرائع اور ضعف ونقص سے تحفظ کےلیے سخت احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں۔بہت منظم انداز سے مسائل کو یکجا کرتے ہوئے قابل ستائش طریق عمل میں لایا گیا۔سہولت کے پیش نظر علماء کرام کی مختلف جماعتیں بنا کر کتاب کے مضامین ومباحث کو ان میں تقسیم کردیا گیا،جس کی وجہ سے ہر جماعت نہایت جانفشانی سے اپنے متعلقہ حصہ کی ترتیب میں کوشاں رہتی۔ہر جماعت کا ایک صدر ہوتا اور ان تمام جماعتوں کے نگران اعلیٰ شیخ نظام الدین رحمہ اللہ تھے جو فتاویٰ کی تیاری سے متعلق پیدا ہونے والے مسائل وحالات براہ راست سلطان عالمگیر کے سامنے پیش کرتے۔
عالمگیر کا علمی ذوق اور فتاوی سے دلچسپی:
فتاویٰ کی تالیف میں عالمگیر نے بذات خود بے پناہ دلچسپی لی ہے
Read more ...