احناف ڈیجیٹل لائبریری

دو ہاتھ سے مصافحہ

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
دو ہاتھ سے مصافحہ
از افادات متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
اہل السنت و الجماعت کا موقف:
السنۃ فی المصافحۃ بکلتا یدیہ.
(الدر المختار: ج9 ص629 باب الاستبراء و غیرہ)
ترجمہ: دو ہاتھ سے مصافحہ کرنا سنت ہے۔
غیر مقلدین کا موقف:
ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنا سنت ہے اور دو ہاتھ سے مصافحہ کرنے والے ناواقف لوگ ہیں۔
(ایک ہاتھ سے مصافحہ از عبد الرحمن مبارکپوری: ص6ملخصاً،
التحفۃ الحسنیٰ ااز حکیم محمد اسرائیل سلفی)
دلائل اہل السنت و الجماعت:
Read more ...

مسئلہ تقلید

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
مسئلہ تقلید
از افادات: متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
ابتدائیہ:
1: شریعت کے دو اجزاء ہیں؛ (1) عقائد (2) مسائل
عقائد میں بنیادی عقیدہ ”توحید“ ہے جبکہ مسائل میں بنیادی مسئلہ ”تقلید“ ہے۔
2: سورۃ الفاتحہ ام الکتاب یعنی قرآن مجید کا خلاصہ ہے۔ اس میں بنیادی دو مسئلے ہیں، آدھی میں توحید اور آدھی میں تقلید۔
مسئلہ تقلید کو سمجھنے کیلئے چارچیزوں کاسمجھنا ضروری ہے:
نمبر1: تعریف تقلید
نمبر2:دلائل تقلید
نمبر3:تقلیدپر ہونے والے شبہات کے جوابات
نمبر4:ترک تقلید کے نقصانات
Read more ...

ترک قراءت خلف الامام

User Rating: 4 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Inactive
ترک قراءت خلف الامام
از افادات: متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
مذہب اہل السنت والجماعت احناف:
مقتدی کے لیے امام کے پیچھے سورت فاتحہ اور اس کے بعد والی سورت کی قراءت کرنا مکروہ تحریمی ہے، خواہ نماز جہری ہو یا سری بلکہ اسے خاموش رہنے کا حکم ہے۔
الدر المختار میں ہے: ( وَالْمُؤْتَمُّ لَا يَقْرَأُ مُطْلَقًا) وَلَا الْفَاتِحَةَ فِي السَّرِيَّةِ اتِّفَاقًا…… ( فَإِنْ قَرَأَ كُرِهَ تَحْرِيمًا )…… ( بَلْ يَسْتَمِعُ ) إذَا جَهَرَ (وَيُنْصِتُ ) إذَا أَسَرَّ•
(الدر المختار مع رد المحتارج2ص326، 327، کذا فی اللباب فی شرح الكتاب للميدانی ج1ص39)
مذہب غیر مقلدین:
امام کے پیچھے سورۃفاتحہ پڑھنا فرض ہے، بغیر سورت فاتحہ پڑھے نماز نہیں ہوتی اور اس کے بعد والی سورت پڑھنا منع ہے۔
Read more ...

مسئلہ ترک رفع الیدین فی الصلوۃ

User Rating: 4 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Inactive
مسئلہ ترک رفع الیدین فی الصلوۃ
از افادات: متکلمِ اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
مذہب اہل السنت و الجماعت احناف:
نماز پنجگانہ شروع کرتے وقت صرف تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کیا جائے، اس کے علاوہ باقی پوری نماز میں نہ کیا جائے۔ رکوع کو جاتے ہوئے اور رکوع سے سر اٹھاتےہوئے رفع یدین کرنا خلاف سنت ہے۔
(بدائع الصنائع ج1 ص208 فَصْلٌ وَأَمَّا سُنَنُهَا فَكَثِيرَةٌ ، فتاویٰ عالمگیری ج 1 ص 72 الْفَصْلُ الثَّالِثُ في سُنَنِ الصَّلَاةِ وَآدَابِهَا وَكَيْفِيَّتِهَا)
مذہب غیر مقلدین:
نماز شروع کرتے ہوئے تکبیر تحریمہ کے وقت، رکوع کو جاتے ہوئے، رکوع سے سر اٹھاتےہوئے اور تیسری رکعت کے شروع میں رفع یدین کرنا فرض یا واجب ہے۔
(رفع یدین فرض ہےازمسعود احمد غیر مقلد ، فتاوی رفیقیہ از محمد رفیق پسروری حصہ چہارم ص153، مسئلہ رفع یدین از پروفیسر عبد اللہ ، اثبات رفع یدین از خالد گھر جاکھی، نور العینین از زبیر علی زئی, مجموعہ مقالات پر سلفی تحقیقی جائزہ از رئیس ندوی غیر مقلد ص246)
دلائل اہل السنۃ و الجماعۃاحناف
Read more ...

مسئلہ آمین بالسر

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
مسئلہ آمین بالسر
از افادات: متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
مذہب اہل السنت والجماعت:
جب کوئی شخص سورۃ فاتحہ پڑھنے سے فارغ ہو جائے تو آمین کہے ۔آمین آہستہ کہنا سنت ہے، چاہے وہ شخص امام ہو ،مقتدی ہو یامنفرد۔
(الدر المختار علی حامش رد المحتار ج2ص237 ، فتاوی العالمگیریہ ج1ص82)
مذہب غیر مقلدین:
آمین سورۃ فاتحہ کے تابع ہے۔ جب فاتحہ آہستہ پڑھی جائے تو آمین بھی آہستہ کہی جائے اور جب فاتحہ بلند آواز سے پڑھی جائے تو آمین بھی بلند آواز سے کہی جائے۔ امام اور مقتدی کا یہی حکم ہے ،البتہ اکیلے نماز پڑھنے والا آمین آہستہ کہے گا۔ لہذا ظہر اور عصر میں آمین آہستہ کہی جائے اور فجر، مغرب اور عشا ء میں بلند آواز سے۔ آہستہ آمین کہنے کی کوئی صحیح صریح حدیث نہیں ۔
(صلاۃ الرسول از صادق سیالکوٹی ص164،158 ، نبی کریم ﷺکی نماز ازابو حمزہ ص183، صلاۃ المصطفی ٰ از محمد علی جانبازص171 وغیرہ)
Read more ...

بیس رکعات تراویح کے دلائل پر اعتراضات کا علمی جائزہ

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
بیس رکعات تراویح کے دلائل پر منکرین کے اعتراضات کا علمی جائزہ

از قلم: متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ

                راقم نے پندرہ دلائل پر مشتمل ایک پوسٹر ”بیس رکعات تراویح کے دلائل“ کے عنوان سے ترتیب دیا تھا جسے علمی اور عوامی حلقوں میں بے حد پزیرائی اور مقبولیت حاصل ہوئی، خصوصاً وہ حضرات جن کو غیر مقلدین کے یہ بے بنیاد دعوے سننے پڑ رہے تھے کہ ”بیس رکعت تراویح کی کوئی دلیل نہیں“ انہیں یہ دلائل دیکھ کر قلبی تشفی ہوئی۔ وللہ الحمد

                چاہیے تو یہ تھا کہ یہ فرقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام رحمہم اللہ کے اس عمل پر دلائل سن کر عمل کی راہ اختیار کرتا لیکن افسوس صد افسوس کہ ان دلائل پر بے بنیاد اور غیر سنجیدہ اعتراضات کر کے اس فرقہ نے مسلمانوں کے اس اجماعی موقف پر ہاتھ صاف کرنے کی ناکام کوشش کی اور انکار حدیث  کرنے والوں کی صف میں شامل ہونے کی کوشش میں رہا۔

اس فرقہ کے عوام و خواص نے جو اعتراضات ان دلائل پر کیے ہیں ہم ترتیب وار ان کا جائز لیتے ہیں تاکہ عامۃ المسلمین کی تشفی اور غیر مقلدین کی ہدایت کا سامان بنے۔ وما توفیقی الا باللہ

Read more ...