نافرمانی
نافرمانی
بنت ِمسعود، کراچی
جہاز کے ارد گرد بگلے جیسے سفید بادل کے ٹکڑوں کے منظر نے روح میں تراوٹ بھردی تھی، سورج کی طلائی کرنوں میں نہائے یہ ٹکڑے قدرت کی صنّاعی کا بہترین مظہر تھے۔ میں سیٹ کی پشت سے سر ٹکائے محویت سے اس حسین منظر میں گم تھی، جب کہ میرے شوہر ہمیشہ کی طرح دوران سفر بھی اپنے دفتر کا باقی ماندہ کام لیپ ٹاپ پر نمٹارہے تھے۔ ہمیشہ کی طرح اپنے ارد گرد کے ماحول سے بے خبر اور غافل ان کے دفتری کام میں اس حد تک انہماک پر ؛جہاں میں کبھی زچ ہوتی تو کبھی جھگڑتی مگر آفریں ہے کہ ان صاحب کے کان پر جوں بھی رینگی ہو ۔اسی کھینچا تانی اور کش مکش میں بعض اوقات شگوفے بھی کہتے جیسا کہ پچھلے دنوںعیدالاضحیٰ کی چھٹیوں میں بھی وہ مجھے اور بچوں کو بہلا پھسلا کر آفس کا کام کرنے کا کچھ وقت نکال ہی رہے تھے ۔ اب چونکہ کام تو ہر وقت اعصاب پر سوار ہی رہتا تھا لہٰذا ایک رات سوتے ہوئے محترم بڑبڑائے”ہاں ہاں کیپری کورن والے نے گائے کی سب سے مناسب قیمت دی ہے اسی کو فائنل کریں گے۔“عید الاضحیٰ میں گائے ،بکروں اور آفس کی فکروں نے مل کر ایک مزیدار جملہ بنوادیا جو ہفتوں مہمانوں کو خوش کرنے کے لیے نقل کیا جاتا رہا۔ ”سنیے“اچانک مجھے یاد آیا اتفاق سے یہ موقع بلکہ سنہری موقع ملا ہے کہ جس میں مَیں اپنی ”سنائیے“ ہنوز اسکرین پر نظریں جمائے مسکراتے لہجے میں گویا ہوئے۔ ایسے نہیں بہت اہم بات ہے پہلے یہ بند کریں، میرے اٹل مطالبے پر پہلے تو پریشان ہو کرسر کھجلاتے ہوئے بولے :”بند کردوں؟ مگر میں تو ابھیskype پرlogin ہوں ۔“اچھا چلو! اس کا بھی حل ہے ۔اور پھر 5 منٹ کا اشارہ کر کے عثمان کے لیے اس کی پسندیدہ گیم ڈاؤن لوڈ نگ پر لگا کر میری طرف متوجہ ہوئے ۔ ان کی خود کو جبری فراغت دینے پر میرا دل کلس کر رہ گیا، گویا لیپ ٹاپ سے لمحاتی جدائی بھی بڑی مشکل ہے میں نے کینہ توز نگاہوں سے لیپ ٹاپ کو دیکھا اور سر جھٹک کر اپنی بات کا سرا پکڑا۔ ابھی سردیوں میں جس ماسی نے ہمارے ہاں کپڑے دھوئے تھے کیا آپ کو یاد ہے؟ میرے استفسار پر جواب دیا۔ ہاں ہاں!وہی ماسی ناں جو اپنی دو سال کی بچی بھی لے کر آتی تھی؟ جی وہی پتہ ہے وہ اپنے گاؤں گئی ہوئی تھی تو وہاں سیلاب آگیا، وہ بے چاری اسی مصیبت میں پھنس گئی تھی،جبھی ایک دم غائب ہوئی تھی۔ اف خدایا…… اس قدر برا حال ہے…… پرانے کپڑے پہنے ……ستے ہوئے پیلے زرد چہرے…… جس پر خوف و دہشت جیسے چپک کر رہ گئے ہوں……… بچے صرف بنیان اور نیکروں میں……. اور سب کے جسموں پر موٹے موٹے کریہہ دانے …… سب سے بڑھ کر کہ بے چاری نجانے کیسے سمیٹ سماٹ کر یہاں تک پہنچ گئی تھی ۔بھوک کے مارے سب گویا گرے جارہے تھے میں نے صابرہ سے سب سے پہلے کھانا لگانے کا کہا پھر کھا کر بچے تو بے چارے اتنے تھکے ہوئے تھے کہ وہیں دسترخوان کے پاس پڑ کے سوگئے اور کلثوم نے کہانی سنائی۔ بتارہی تھی کہ اس کے شوہر نے جب آکر بتایا کہ اعلان ہوگیا ہے بستی چھوڑنے کا ،جلدی چلو !تو وہ ضرورت کی اہم چیزیں اٹھانے لگی یہ دیکھ کر اس کا شوہر چیخ اٹھا کہ باہر پانی دِکھ رہا ہے بس حواس باختہ گرتے پڑتے سوا مہینے کا چھوٹا بچہ لے کر بھاگی ۔کہنے لگی :باجی !باہر آکر جو دیکھا تو لگتا تھا کہ اللہ کا قہر ٹوٹ پڑا ہو ۔پانی کے غضبناک ریلے اور منہ زور لہریں بڑے بڑے درخت جڑوں سے اکھاڑ کر پھینک رہے تھے، عمارتیں نمک کی طرح گھلی جارہی تھیں۔ اپنی آنکھوں سے چیخیں مارتے بچے اور بوڑھے دیکھے، لہریں انہیں اٹھا اٹھا کر پٹخ رہی تھیں اور وہ دم توڑ رہے تھے، بڑی بڑی مچھلیاں سن سن دائیں بائیں گزررہی تھیں۔ سمندری خوفناک کیڑے تو کیڑے سمندری سانپ بھی تیرتے آرہے تھے، یہاں تک کہ پرانے دفن شدہ مردوں کی لاشیں اوپر آکر ہمارے ارد گرد تیر رہی تھیں خوف اور دہشت کی شاید کوئی چیز نہ بچی ہو جو ہم نے نہ دیکھی ہو بس ایک بات ذہن میں تھی کہ اللہ بس جان بچالے۔دل یہ سوچ سوچ کہ کانپ رہا تھا کہ میرا ایک بھی بچہ نہ رہا تو کیا ہوگا؟ میں نے پوچھا: کھانے پینے کا کیا ہوتا تھا؟ کہنے لگی: کبھی امدادی ٹیمیں دینے آتیں کبھی ہیلی کاپٹر سے پھینکتے خشک ڈبل روٹیاں یا چاول لوگ اس قدر بھوکے ہوچکے تھے کہ لانے والوں پر ایک دم ہلہ بول دیتے جس سے بعض دفعہ کھانا بھی ضائع ہوجاتا اور وہ ڈر کر پھینک جاتے اور پانی بھی کبھی بوتلیں مل جاتیں اور کبھی یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگئی۔ میں نے گھبرا کر پوچھا کہ ہاں کلثوم بتاؤ ناں !اگر نہ ملیں تو کیا وہی سیلاب کا پانی پی لیتے تھے؟ سوال پوچھتے ہوئے میرا جی متلا گیا وہ نظر چرا کر بولی پھر کیا کرتے باجی زندہ رہنے کے لیے کچھ تو کرنا تھاناں۔ لیکن یہ ساری تکلیفیں ایک طرف اوروہ اذیت بھری خبر ایک طر ف ۔ کہنے لگی امدادی ٹیمیں آئیں اور جہاں جہاں خشک زمین تھی وہاں کیمپ لگا کر ہمیں منتقل کرنے لگیں، دو تین دن ہی گزر تھے کہ خشک ہوتے آنسو پھر ابل پڑے چُور چُور جسم والے لوگ جب پیٹ بھر کر سوئے تو؛ دو تین راتیں تو محسوس بھی نہ ہوا ، مگر پھر سب چونکنا شروع ہوئے،کھانے میں نشہ ملا کر دیا جاتا تھا اور راتوں رات لڑکیا ں اور عورتیں غائب ہوجاتیں ۔ یہ بات سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے !!!!!کون تھے وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کا قہر و غضب دیکھنے کے باوجود اتنی ڈھٹائی سے ایسا شرمناک کھیل کھیل رہے تھے؟ میرے سوال پر میرے شوہر نے ایک سرد آہ بھری ۔ بتائیے ناں اشعر !کیا کوئی مسلمان اتنا بھی گر سکتا ہے؟ میں نے پھر سوال کیا یہ در اصل امدادی ٹیموں میں گھس کے جانے والی کالی بھیڑیں تھیں اور کوئی ضروری نہیں کہ وہ واقعی مسلمان ہی ہوں ایسے لوگ تو درحقیقت لا مذہب ہتے ہیں انکا دین ایمان صرف پیسہ ہوتا ہے صرف پیسہ۔ میں سوچنے لگی کہ واقعی مسلمان کے لیے تو یہ سننا ہی کافی ہوتا ہوگا اسی سے اتنی عبرت حاصل ہورہی ہے کجا یہ کہ جنہوں نے خود یہ خونیں مناظر دیکھے ہوں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم مسلمانوں کے اعمال اس حد تک خراب ہوچکے ہیں اور نافرمانی اتنی بڑھ گئی ہے کہ کہیں سیلاب تو کہیں زلزلے کی صورت میں تنبیہ آتی ہے کہ سنبھل جاؤ، اب بھی وقت ہے۔ میں انہی سوچوں میں ہی گم تھی کہ ایئر ہوسٹس نے بیلٹس باندھنے کی ہدایت کی کیونکہ جہاز لینڈ کرنے کا وقت آچکا تھا۔ گھرمیں داخل ہوتے ہی ہمارا پر تپاک استقبال ہوا ، اس کے بعد میرے میاں تو اپنی والدہ کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئے اور ممتا سے سیراب ہونے لگے، عثمان نے جو اپنے بابا کو لاڈ اٹھواتے دیکھا تو چپکے سے چھیڑا ۔ماماز بوائے، در اصل اشعر ؛عثمان کو اس کی بچگانہ ضدوں کہ ماما کے ہاتھ سے کھانا ہے، ماما کے ساتھ سونا ہے، پر ماماز بوائے کہہ کر چھیڑتے ہیں لہذا یہی وہ مناسب وقت تھا کہ وہ اپنا بدلہ لیتا ،سب باپ بیٹا کی کہانی سن کر ہنسنے لگے ۔

