جلیل القدر صحابی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
 
جلیل القدر صحابی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما
مولانا محمد اکمل راجنپوری حفظہ اللہ
عبداللہ بن عمر بن خطاب ابو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہما کی ذات گرامی اوصاف نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی زندہ تصویر اور ایسا جامع مرقع تھی جو سینکڑوں درس اور ہزاروں تلقینات سے زیادہ کارآمد تھی۔(ولی کی نظر یا ولی پہ نظر پڑنے سے زندگی بدل جاتی ہے)جیسا کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرمایا کرتی تھیں کہ عہد نبوی کی حالت اور کیفیت کا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے زیادہ کوئی پابند نہیں رہا۔حضرت نافع رحمہ اللہ جو آپ رضی اللہ عنہما کے شاگرد اور خادم خاص تھے جنہوں نے 30برس آپ کی خدمت کی وہ اپنے شاگردوں سے کہتے کہ اگر اس زمانے میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہوتے تو ان کو آثار نبوی کی شدت سے اتباع کرتے ہوئے دیکھ کر تم یہی کہتے کہ یہ دیوانہ ہے۔
(مستدرک حاکم ج3ص561 ،ابن سعد تذکرہ ابن عمر)
آپ کی ذات دوسروں کے لیے نمونہ تھی لوگ دعا کرتے تھے کہ خدایا ہماری زندگی میں عبداللہ بن عمر ( رضی اللہ عنہما )کو زندہ رکھ کہ ان کی اقتداء سے فیض یاب ہوتے رہیں ان سے زیادہ عہد رسالت کا کوئی واقف کار نہیں
(ابن سعد جزء4قسم اول ص106)
صحبت نبوی:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت ان کا سرمایہ حیات اور جان حزین کی تسکین کا باعث تھی۔آپ کی وفات کے بعد ایسے دل شکستہ ہوئے کہ اس کے بعد نہ کوئی مکان بنایا اور نہ باغ لگایا (ازالۃ الخفاء ص189)سفر سے جب واپس آتے تو روضہ نبوی پر حاضر ہوکر سلام کہتے (ابن سعد تذکرۃ ابن عمر)شیخ الاسلام ابن عمر کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ آپ رضی اللہ عنہما کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت ،آپ کی بارگاہ کی دائمی حاضر باشی ،سفر حضر کی ہم رکابی سیدنا عمرفاروق کی تعلیم وتربیت اور خسد ان کی تلاش وجستجو نے مذہبی علوم کا دریا بنا دیا تھا قرآن تفسیر حدیث فقہ وغیرہ تمام مذہبی علوم کا بحر بیکراں تھے آپ کا شمار علمائے مدینہ کے اس زمرہ میں تھا جو علم وعمل کے مجمع البحرین سمجھے جاتے تھے۔
(تذکرۃ الحفاظ للذہبی ج1ص35طبع حیدرآباد)
< شیخ الاسلام اور تلاوت وفہم قران:
1:آپ کو تلاوت قرآن سے بڑا شغف تھا ایک رات میں پورا قرآن ختم کر لیتے تھے۔
(سیر الصحابہ مہاجرین حصہ دوم ج1ص25)
2:آپ کو تلاوت قرآن کے غیر معمول شغف کے ساتھ ساتھ اس کی سور وآیات پر فکر وتدبر میں عمر عزیز کا بہت بڑا حصہ صرف کیا اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتاہے کہ صرف سورہ بقرہ کے سیکھنے پر 8برس صرف کردئیے۔
(تفسیر قرطبی ص80)
اس غیر معمولی شغف نے آپ میں قرآن کی تفسیر وتاویل کا ملکہ پیدا کردیا تھا۔آپ رضی اللہ عنہما قرآن کا ملکہ جوانی میں ہی پیدا ہوگیا تھا ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد صحابہ کا مجمع تھا جس میں ابن عمر بھی موجود تھے تو آپ نے شجرہ طیبہ کے متعلق صحابہ سے سوال کیا کہ اس سے کیا مراد ہے تو اس کے جواب میں تمام صحابہ رضی اللہ عنہم جن میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما خود فرماتے ہیں کہ مجھے اس کا جواب آتا تھا لیکن میں اکابر صحابہ کی موجودگی اور خاموشی کی وجہ سے چپ رہا جواب نہیں دیا۔
(بخاری فتح الباری کتاب التفسیر سورہ ابراہیم وکتاب العلم باب الفہم)
طلب حدیث:
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو حدیث نبوی کا اتنا شوق اور اس کی اس قدر تلاش تھی کہ اپنی غیر حاضری کے اقوال اور افعال نبوی ان لوگوں سے جو آپ کی خدمت میں حاضر رہا کرتے تھے پوچھ لیا کرتے تھے۔اور ان کو یاد رکھتے تھے
(اصابہ ج2ص1097)
اگر کوئی ایسی حدیث یا مسئلہ سنتے جو ان کے علم میں نہ ہوتا تو فوراً رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یا راوی حدیث کے پاس جاکر اس کی تصدیق کرتے۔ایک مرتبہ کسی نے ایک مسئلہ بیان کیا جو ان کے علم میں نہ تھا فوراً خدمت نبوی میں حاضر ہوکر اس کی تصدیق کی.
s (صحیح مسلم کتاب صلوۃ المسافر وقصرہا)
اسی طرح ایک مرتبہ لیثی نے ابوسعید خدری کے حوالے سے بیان کیا کہ آپ نے سونا چاندی کی بیع صرف اس میں جائز رکھی ہے کہ برابر ہو۔ان کو اس کا علم نہ تھا اس لیے ابوسعید خدری کے پاس جاکر اس کی تصدیق کی.
(صحیح مسلم باب الرباء)
اسی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہما کا شمار اساطین حفاظ حدیث میں ہے اگر ان کی مرویات کی تعداد حدیث کی کتابوں سے علیحدہ کرلی جائے تو ان کے بہت سے اوراق سادہ رہ جائیں۔
اشاعت وتعلیم حدیث:
اس تلاش نے آپ رضی اللہ عنہما کو حدیث کا دریا بنا دیا تھا جس میں سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں مسلمانوں نے اپنی علمی پیاس بجھائی آپ کے ذریعے سے حدیث کا وافر حصہ اشاعت پزیر ہوا۔آپ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد60سال سے زیادہ حیات رہے اس عرصہ میں آپ کا مشغلہ صرف علم کی اشاعت تھا (الاستیعاب ص381)مدینہ منورہ میں آپ کا مستقل حلقہ درس تھا اس کے علاوہ اشاعت کے لیے سب سے بہترین موقع حج کا تھا جس میں تمام اسلامی ممالک کے مسلمان جمع ہوتے تھے چنانچہ آپ اس موقع پر فتوی دیتے تھے اس سے بہت جلد مشرق سے مغرب تک احادیث اور علم دین وشریعت پھیل جاتی۔
(اسد الغابہ ج3ص133)
احتیاط فی الحدیث:
آپ رضی اللہ عنہما اس وسعت علم اور دقت نظر کے باوجود حدیث بیان کرنے میں حد درجہ محتاط تھے۔محمد بن علی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام کی جماعت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے زیادہ حدیث بیان کرنے میں کوئی محتاط نہ تھا وہ حدیث میں کمی وبیشی سے بہت ڈرتے تھے.
(تذکرۃ الحفاظ ج1ص34)
ابوجعفر رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ابن عمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں میں کمی وزیادتی سے بہت زیادہ خائف رہتے تھے۔
(مستدرک حاکم ج3ص560)
حضرت سعید اپنے والد کی زبانی بیان کرتے ہیں کہ حدیث نبوی میں ابن عمر سے زیادہ محتاط میری نظر سے کوئی نہیں گزرا.
(اصابہ ص1096)
اس احتیاط کی بناء پر اکابر علماء آپ کی مرویات کو اتنی قابل اعتماد سمجھتے تھے کہ پھر کسی مزید توثیق کی ضرورت باقی نہیں رہتی .
امام شعبی فرماتے تھے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت بہت درست ہوتی تھی.
(اسد الغابہ ج3ص133)
امام ابن شہاب زہری ان کی رائے کے بعد پھر کسی دوسرے کی رائے کی ضرورت نہیں سمجھتے تھے۔
فقہ:
فقہ تشریع اسلامی کا دارومدار ہے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو تفقہ فی الدین میں درجہ کمال حاصل تھا۔ آپ کی ساری عمر علم افتاءمیں کٹی ،مدینہ کے مشہور صاحب فتاوی صحابہ رضی اللہ عنہم تھے جن کے فتاوی کی تعداد زیادہ ہے۔ان میں ایک ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے(اعلام الموقعین ج1ص13)اور فقہ مالکی کا دار ومدار ابن عمر رضی اللہ عنہما کے فتاوی پر ہے۔
تعداد مرویات:
آپ کی مرویات کی تعداد کے متعلق علامہ ذہبی اپنی مشہور کتاب سیر اعلام النبلاء کی ج4ص124پر لکھتے ہیں:
ولابن عمر (مسند بقی)الفان وست مائۃ وثلاثون حدیثا بالمکررواتفقالہ علی مائۃ وثمانیۃ وستین حدیثا وانفردلہ البخاری باحدو ثمانین حدیثا ومسلم باحد وثلاثین ،
آپ کی روایات کی کل تعداد2630،ان میں سے 168پر بخاری ومسلم متفق ہیں یعنی ان احادیث کو امام بخاری وامام مسلم دونوں نے اپنی اپنی صحیح میں درج کیا ہے اور 81صرف صحیح بخاری میں ہیں اور 31صرف صحیح مسلم میں موجود ہیں۔
چند مرویات کا تذکرہ:
1: ترک قراۃ خلف الامام اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے امام کے پیچھے قراءۃ کرنے کے متعلق سوال کیا گیا تو فرمایا آپ نے فتویٰ دیا کہ جو آدمی امام کے پیچھے نماز پڑھے تو امام کا قراءۃ کرنا مقتدی کے لیے کافی ہے۔اور جب اکیلا پڑھے تو قراءت کرلے اور خود اپنا عمل کان عبداللہ بن عمر لایقرء خلف الامام ،امام کے پیچھے قراءت نہیں کرتے تھے۔
(موطا مالک ص69)
2: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ترک رفع یدین کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب انہوں نے نماز شروع کی،تو آپ نے رکوع کرتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین نہیں کیا،
وان اراد ان یرکع وبعد ما یرفع راسہ من الرکوع فلایرفع
(مسند الحمیدی ج2ص277رقم614)
3: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مرد اور عورت کی نماز کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں
قال رسول اللہ اذا جلست المراۃ فی الصلوۃ وضعت فخذہا علی فخذہا الاخریٰ واذا سجدت الصقت بطنہا فی فخذہا کاستر مایکون لہا فان اللہ ینظر الیہا یقول یاملائکتی اشہدکم انی قد غفرت لہا،
کہ آپ فرمایا کہ جب عورت نماز میں بیٹھے تو ایک ران کو دوسری ران پر رکھے اور جب سجدہ کرے تو اپنے پیٹ کو رانوں سے چپکا لے اس طرح کہ اس کے لیے زیادہ سے زیادہ پردہ ہوجائے بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس کی طرف رحمت فرماکر ارشاد فرماتے ہیں کہ اے فرشتوں میں تمہیں گواہ بناتا ہوں اس بات پر کہ میں نے اس کو بخش دیاہے۔
(الکامل لابن عدی ج2ص501)
4: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما میت کی تدفین کے بعد سر اور پاوں کی جانب قرآن مجید پڑھنے کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں
ویقرا عند راسہ بفاتحۃ الکتاب وعند رجلیہ بخاتمۃ البقرۃ
(معجم الکبیر طبرانی ج6ص255رقم13438)
5حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تین طلاق کے بعد رجوع نہ کرنے اور جدائی ہوجانے کے متعلق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا سوال اور آپ کا جواب بیان کرتے ہیں
وقلت یا رسول اللہ افرائت لو انی طلقہا ثلاثا کان یحل لی ان اراجعہا،قال لا کانت تبین منک وتکون معصیۃ
(سنن الکبریٰ بیہقی ج7ص334)
گویا کہ آپ نے فرمایا کہ ایک طلاق کے بعد تو رجوع ہوسکتاہےلیکن تین طلاق کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا بلکہ عورت جدا ہوجاتی ہے اگر کوئی آدمی تین طلاق دینے کے بعد بھی بیوی کو اپنے گھر میں رکھتاہے تو یہ بہت بڑا گناہ ہے۔
آخر کار پیکر علم وعمل فاتبعونی اور اطیعوا الرسول کی عملی تصویر شیخ الاسلام سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مکہ المکرمہ 74ھ،عمر عزیز کی84بہاریں گزار کر اس دارفانی کو خیرباد کہہ گئے۔
(سیر اعلام النبلاء ج4ص121،اسد الغابہ ج3ص135،الاصابہ ج2ص1098)
شیخ الاسلام کی نماز جنازہ اور تدفین:
آپ رضی اللہ عنہما کی نماز جنازہ حجاج بن یوسف نے پڑھائی اور تدفین ذی طوی مقام یا فخ مقبرہ المہاجرین ہوئی
(اسد الغابہ ج3ص135،سیراعلام النبلاء ج4ص121)
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی آپ رضی اللہ عنہما کے جذبہ اتباع میں سے کچھ عطا فرمادے۔آمین