سورۃ الشوریٰ

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
سورۃ الشوریٰ
بِسۡمِ اللہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
﴿حٰمٓ ۚ﴿۱﴾ عٓسٓقٓ ﴿۲﴾ کَذٰلِکَ یُوۡحِیۡۤ اِلَیۡکَ وَ اِلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۙ اللہُ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۳﴾﴾
سا ت سورتیں جن کے شروع میں حٰم ہے جنہیں حوامیم کہتے ہیں یہ ان میں سے تیسری سورت ہے۔
﴿حٰمٓ ۚ﴿۱﴾﴾...
یہ مقطعات میں سے ہے،
﴿عٓسٓقٓ ﴿۲﴾﴾
یہ بھی مقطعات میں سے ہے۔
﴿ کَذٰلِکَ یُوۡحِیۡۤ اِلَیۡکَ وَ اِلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۙ اللہُ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ﴾
یعنی جس طرح اس سورت کے ذریعے آپ کو دینی احکام بتائے جا رہے ہیں اسی طرح آپ کی طرف بھی اور گزشتہ انبیاء علیہم السلام کی طرف بھی اللہ جو غالب حکمت والا ہے، وحی بھیجتا رہا ہے۔
﴿تَکَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرۡنَ مِنۡ فَوۡقِہِنَّ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّہِمۡ وَ یَسۡتَغۡفِرُوۡنَ لِمَنۡ فِی الۡاَرۡضِؕ﴾
ایسے لگتا ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں گے- مطلب کہ آسمان میں اللہ کی معرفت رکھنے والے اور اللہ کی عبادت کرنے والے فرشتے اس کثرت سے ہیں کہ یوں لگتا ہے کہ آسمان پھٹ پڑے گا- اور فرشتے اللہ کی تسبیح اور تحمید بھی کرتے ہیں اور زمین والوں کے لیے استغفار بھی کرتے ہیں۔
اب بظاہر یہ ہے کہ یہاں لفظ ” مَنْ“ عام ہے کہ فرشتے ہر کسی کے لیے استغفار کرتے ہیں، خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر ہو حالانکہ استغفار صرف ان کے لیے ہوتا ہے جو مسلمان ہوں۔ اس لیے یہاں یہ کہنا پڑے گا کہ یہاں ”مَنْ“عام نہیں ہے بلکہ ”مَنْ“ خاص ہے۔
ترک قرأت خلف الامام پر ایک دلچسپ واقعہ:
ایک بار کچھ ساتھی چکوال سے ایک شخص کو یہاں پر لائے۔ اس نے کہا میں نے ترک قرأت خلف الامام پر بات کرنی ہے۔ وہ عالم نہیں تھے بلکہ عام آدمی تھے اور عام آدمی نے دو چار حدیثیں رٹی ہوتی ہیں جن پر ان کا اصرار ہوتا ہے۔ تو میں نے کہا کہ اچھا امام کے پیچھے آپ قرأت کرتے ہیں تو اس کی دلیل کیا ہے؟ اس نے کہا کہ بخاری شریف، حالانکہ بخاری شریف میں ایسی کوئی حدیث موجود نہیں، آپ کبھی دل چھوٹا نہ کیا کریں! اس نے کہا بخاری میں ہے :
لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ.
صحیح البخاری، رقم: 756
کہ جو فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی، اور یہ جو
”مَنْ“
ہے یہ عام ہے خواہ امام ہو، خواہ مقتدی ہو، خواہ اکیلا ہو سب کو یہ شامل ہے۔
میں نے کہا کہ
”مَنْ“
عام ہوتا ہے؟ کہاکہ جی ہاں۔ میں نے کہا کہ قرآن کریم میں ہے:
﴿وَ یَسۡتَغۡفِرُوۡنَ لِمَنۡ فِی الۡاَرۡضِ﴾
کہ ملائکہ استغفارکرتے ہیں اس شخص کے لیے جو زمین میں ہے خواہ مسلمان ہو خواہ کافر ہو، کیا یہی معنی ہے؟ کہا کہ نہیں جی، صرف مؤمنین کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ تو کہتے ہیں کہ
”مَنْ“
عام ہے تو یہ
”مَنْ“
تو خاص ہو گیا تو اس کا معنی یہ ہے کہ آپ کی یہ بات غلط ہو گئی کہ
”مَنْ“
عام ہوتا ہے۔وہ اس میں پھنس گیا اور اس کا جواب نہیں دے سکا۔
تو اگر اس سے مراد مؤمن ہوں تو
”مَنْ“
خاص ہو گا اور اگر اس سے مراد کفار اور مؤمنین دونوں ہوں تو پھر استغفار خاص ہوگا، استغفار عام نہیں ہو گا یعنی کفار کے لیے استغفار یہ نہیں ہے کہ ان کے گناہ معاف ہو جائیں بلکہ ان کے لیے استغفار یہ ہو گا کہ یا اللہ! ان کے کفر کے باوجود آپ ان کو عذاب نہ دیں، ان کو مہلت دیں شاید یہ ایمان قبول کریں۔ اب یہ استغفار خاص ہو جائے گا۔ یہ بات سمجھ میں آ گئی؟ (جی ہاں۔ سامعین)
ترک قرأت خلف الامام کی عوامی تقریر:
میں آپ سے کئی مرتبہ عرض کرتا ہوں کہ ایک زبان ہوتی ہے درسگاہ کی اور ایک زبان ہوتی ہے عوامی جلسوں کی۔ یہ بات تو میں نے آپ کو عالمانہ طرز اور طالب علمانہ طور پر بتا دی ہے لیکن جب عوام کو سمجھائیں تو اس کا طرز بالکل الگ ہوتا ہے۔ عوام کو میں یہ بات سمجھاتا ہوں کہ یہ جو لوگ ترجمہ کرتے ہیں اس حدیث کا کہ:
لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ.
اس شخص کی نماز ہی نہیں ہوتی جو [لفظ ”جو“ کو کھینچ کر ادا کیا] فاتحہ نہ پڑھے۔ یہ ”جو“ کو لمبا نہ کریں، یہ ”جو“ چھوٹا ہے، اور یہ جو آپ لوگ تشریح کرتے ہیں کہ خواہ امام ہو،خواہ مقتدی ہو،خواہ منفردہو․․․ میں نے کہا یہ خواہ، خواہ نہ کریں ورنہ
﴿وَ یَسۡتَغۡفِرُوۡنَ لِمَنۡ فِی الۡاَرۡضِ﴾
کا ترجمہ ہو گا کہ فرشتے استغفار کرتے ہیں ہر اس شخص کے لیے جو [لفظ ”جو“ کو کھینچ کر ادا کیا] زمین میں ہے خواہ آپ ہوں، خواہ ابوجہل ہو․․․ تو خواہ، خواہ، خواہ آپ کر لیں گے؟ کہتا ہے کہ جی نہیں۔ تو میں نے کہا کہ جس طرح یہاں
”من“
چھوٹا ہے تو وہاں بھی ”من“ چھوٹا سا ہے، لمبا نہیں ہے۔ بات سمجھ آئی ہے؟ (جی ہاں۔ سامعین)
الفاظ کے ساتھ لہجہ کا اثر:
پھر میں آگے بات سمجھاتا ہوں کہ بسا اوقات جب تک لفظ لمبا کھینچ کر ادا نہ کریں تب تک بات سمجھ میں نہیں آتی۔ جس طرح غیر مقلد کہتے ہیں کہ کوئی شخص اگر بڑی عمر میں عورت کا دودھ پینا چاہے تو پی سکتاہے۔ وہ کہتے ہیں:
وَیَجُوْزُ اِرْضَاعُ الْکَبِیْرِ وَ لَوْ کَانَ ذَا لِحْیَۃٍ لِتَجْوِیْزِ النَّظَرِ.
کنز الحقائق از علامہ وحید الزمان: ص 67 کتاب الرضاع
بڑی عمر کا بندہ دودھ پی سکتا ہے اگرچہ ڈاڑھی والا ہو۔
ویجوز
اور جائز ہے دودھ پینا
"ذالحیۃ"
(ذا کو کھینچ کر) اگرچہ و ہ لمبی ڈاڑھی والاہو اگرچہ وہ ڈاڑھی والاہو…
میں نے کہا کہ
”وَ لَوْ کَانَ ذَا لِحْیَۃٍ“
[لفظ ذا کو کھینچ کرادا کیے بغیر] کہو گے تو حنفی نکل آئے گا کیونکہ حنفی کی ڈاڑھی ایک مشت ہوتی ہے، اگر اس کو کھینچ کر کہو گے کہ
”ذَا لِحْیَۃٍ“
[لفظ ذا کو کھینچ کر ادا کرتے ہوئے] تو اب غیر مقلد ہو گا، عورت کا دودھ پینا جائز ہے اگرچہ
”ذَا لِحْیَۃٍ“
[ذا کو کھینچ کر ادا کرتے ہوئے] ہو، میں نے کہا کہ یہ مسئلہ تمہارا ہے اس لیے
”ذا“
کو لمبا رکھو اور اسی لحاظ سے تم اس کی طرز لگاؤ، ہماری طرح نہ لگاؤ۔ عوامی طرز میں ان باتوں کو سمجھانا بہت ضروری ہوتا ہے۔
گناہ چھڑوانے کے لیے گناہ کا ارتکاب کبھی نہ کریں!
﴿وَ لَوۡ شَآءَ اللہُ لَجَعَلَہُمۡ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ لٰکِنۡ یُّدۡخِلُ مَنۡ یَّشَآءُ فِیۡ رَحۡمَتِہٖ ؕ وَ الظّٰلِمُوۡنَ مَا لَہُمۡ مِّنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیۡرٍ ﴿۸﴾﴾
اگر اللہ چاہتا تو سب کو ایک امت بنا دیتا لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے لیکن ظالم لوگوں کے لیے نہ کوئی دوست ہو گا نہ کوئی مدد گار۔
اگر اللہ چاہتا تو سب کو مسلمان بنا دیتا، دنیا میں کوئی کافر بھی نہ رہتا لیکن اللہ کا نظام یہ نہیں ہے۔ جب اللہ کا یہ نظام ہی نہیں ہے تو پھر کافر کو مسلمان بنانے کے لیے ناجائز اعمال کا ارتکاب کرنے سے بچنا چاہیے۔ اللہ چاہتا تو سب کو نمازی بنا دیتا تو جب سب نے نمازی نہیں بننا تو بے نمازی کو نمازی بنانے کے لیے اپنی نمازیں خراب کرنے کی گنجائش کہاں ہو سکتی ہے؟! ہمارے ہاں چونکہ بعض چیزیں ایسی ہیں کہ ان کی قباحت بہت زیادہ ہوتی ہے لیکن ہم اس قبیح چیز سے بچنے کے لیے خود قباحت کا ارتکاب نہیں کرتے اور بعض چیزوں کی ہمارے ہاں اہمیت نہیں ہوتی اس لیے ان کا ارتکاب کر لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک شخص بدعتی آدمی کو نیک کام پر لگانے کے لیے بدعات کر لے گا، اس کا ذہن یہ ہے کہ اگر ہم بدعات میں شریک نہیں ہوں گے تو یہ ہمارے قریب نہیں آئیں گے، اگر قریب نہ آئے تو ان کو بات کیسے کہیں گے، ان کو قریب لانے کے لیے بدعات کا ارتکاب ہماری مجبوری ہے…… اور زانیہ عورت کا زنا چھڑانے کے لیے نہ بندہ اس کے ساتھ زنا کرنے کے لیے تیار ہے، نہ اس سے بوس وکنار کرنے کے لیے تیار ہے، اس کے لیے کوئی بندہ تیار نہیں کہ زنا کر لوں یا تھوڑا سا پیار کر لوں تاکہ یہ مجھ سے مانوس ہو جائے، اس کے دل میں میرا پیار آجائے تو پھر یہ میری بات بھی مانے گی، تو کوئی بندہ اس کے لیے تیار نہیں ہے۔
اس کی وجہ کیا ہے؟ زنا کی نفرت دل میں ہے تو زانیہ کا زنا چھڑانے کے لیے کوئی شخص زانیہ سے زنا کے لیے تیار نہیں ہو گا، اس کے ساتھ بوس وکنار کے لیے تیار نہیں ہو گا حتی کہ اس زانیہ کو دیکھنے کے لیے بھی تیار نہیں ہو گا لیکن بدعتی کو بدعت سے نکالنے کے لیے بدعات کا ارتکاب کر لے گا کیونکہ ہمارے دل میں بدعت کی نفرت نہیں ہے اور زنا کی نفرت ہے۔ شرابی کو شراب چھڑانے کے لیے کوئی شخص شراب پینے کے لیے تیار نہیں ہے، کسی فلم دیکھنے والے کو فلم سے بچانے کے لیے کوئی بندہ فلم دیکھنے کے لیے تیارنہیں ہوتا کہ آج میں اس کے ساتھ فلم دیکھ لوں کیونکہ میں نے اس سے فلموں کو چھڑانا ہے کوئی بندہ تیار نہیں ہوتا لیکن یہ عجیب بات ہے کہ بدعات کے معاملے میں اتنے نرم، اتنے نرم ہیں کہ الامان والحفیظ ․․․اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آپ وعیدیں سنیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سنیں، جو الفاظ بدعات کے رد کے لیے ارشاد فرمائے ہیں وہ شاید دوسرے گناہوں کے لیےنہیں ہوں گے۔ میں اپنے طلبہ سے کہتا ہوں کہ پہلے آپ خود سمجھیں گے تو دوسروں کو بات سمجھائیں گے، جب خود نہیں سمجھیں گے تو کسی اور کو آپ کیسے سمجھائیں گے؟
چھوٹوں کی خوشی چاول کھانا:
میں نے پرسوں لاہور میں بیان میں کہا اور میں آپ کو بھی سمجھاتا ہوں، میں نے کہا دیکھو، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذۡنِ اللہِ ؕ﴾
النساء4: 64
ہم جو بھی پیغمبر بھیجتے ہیں تو اس لیے بھیجتے ہیں تاکہ اس کی بات مانی جائے۔
کسی گھر میں کوئی بڑا عالم آئے تو گھر کے بڑے خوش ہوتے ہیں کہ ہماری سعادت ہے کہ کسی کام کے لیے انہوں نے ہم سے رابطہ کیا اور ہماری سعادت ہے کہ ہم بڑوں کے کام آئے اور ان کا جو مقصد ہے وہ ہم پوراکریں․․․ اور اس گھر کے چھوٹے خوش ہیں کیونکہ ان بڑوں کے آنے پر ہمارے گھر میں چاول، چکن یہ چیزیں پکیں گی۔ تو اب بڑوں کے آنے پر بڑوں کا خوش ہونا اس وجہ سے ہے کہ ان کا مقصد ہمارے ذریعے پورا ہو رہا ہے اور بڑوں کے آنے پر چھوٹوں کا خوش ہونا اس وجہ سے ہے کہ بڑوں کے آنے پر ہمیں پلاؤ ملنا ہے۔ میں نے کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے پر ایک خوشی وہ ہے جو بڑوں والی ہے اور ایک خوشی وہ ہے جو چھوٹوں والی ہے۔ وہ لوگ جو چھوٹوں والی خوشی کریں وہ چھوٹے ہیں اور جو بڑوں والی خوشی کریں وہ بڑے ہیں۔
میں نے کہا کہ میں اپنے ساتھیوں سے گزارش کیا کرتا ہوں کہ میں یہ نہیں کہتا کہ ان کو بھائی مت کہو، میں کہتا ہوں کہ بھائی کہو لیکن بڑا مت کہو، ان کو چھوٹا کہو! میں نے یہ کہا کہ ان کے پاس کیوں گئے ہو؟ میں نے کہا تم نے ان کو بھائی کیوں کہا ہے؟ میں نے کہا کہ ان کو بڑا نہ کہو بلکہ چھوٹا کہو، ان کو بڑے بھائی نہ کہو بلکہ ان کو چھوٹے بھائی کہو! تو چھوٹے کو بڑا نہیں کہنا چاہیے۔ اس سے نقصان یہ ہو گا کہ جب انہیں بڑا مانیں گے تو ان کی عظمت کریں گے، اور حدیث میں ہے:
مَنْ وَقَّرَ صَاحِبَ بِدْعَةٍ فَقَدْ أَعَانَ عَلٰى هَدْمِ الْإِسْلَامِ.
شعب الایمان للبیہقی: ج7 ص61 رقم الحدیث 9464
جو شخص بدعتی کی توقیر کرتا ہے وہ اسلام کے مٹانے میں مدد کرتا ہے۔
جب آپ انہیں چھوٹا سمجھیں گے تو
”مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا“
سنن ابی داؤد، رقم: 4943
آپ اس پر شفقت کریں گے اور یہ چھوٹے بھی ہیں، مریض بھی ہیں، مریض آدمی احترام کا مستحق نہیں ہوتا بلکہ مریض آدمی شفقت کا مستحق ہوتا ہے۔
جب مریض کو آپ ڈاکٹر کے پاس لے کر جائیں تو ڈاکٹر اس کو احترام کی نگاہ سے نہیں دیکھتا بلکہ شفقت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ڈاکٹر کی اس شفقت کو مریض سمجھتا ہے کہ میرا احترام کیا ہے حالانکہ وہ احترام نہیں کر رہا ہوتا، وہ شفقت کی نگاہ سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر کہہ رہا ہوتا ہے کہ بھائی! ان کو ذرا یہاں بٹھاؤ، ذرا منہ اوپر کرو، تھوڑا سا پانی اس کے لیے لاؤ․․․ اب یہ شفقت ہو رہی ہے یا احترام ہو رہا ہے؟ (شفقت ہو رہی ہے۔ سامعین) لیکن وہ مریض سمجھ رہا ہے کہ مجھے عزت دے رہا ہے، میرا احترام کر رہا ہے حالانکہ وہ شفقت ہو رہی ہے۔
ان کو بڑا بنا کر توقیر مت کرو بلکہ ان کو چھوٹا سمجھ کر ان پر شفقت کرو اور رحم کامعاملہ کرو۔ ہم مزاجِ شریعت آپ کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ اب جس نے ہماری پوری بات نہیں سنی تو وہ سمجھے گا کہ مولانا گھمن صاحب بہت سخت آدمی ہیں، دیکھو اہلِ بدعت کے بارے میں کیا کہہ رہے ہیں؟ میں نے تو کچھ بھی نہیں کہا، میں نے تو یہ کہا کہ شفقت کرو، محبت کرو، ترس کھاؤ ان پر، ان کو چھوٹاسمجھو، ہم منع تھوڑا کرتے ہیں ان کے پاس جانے سے۔
اللہ تعالیٰ کی مثال نہیں تو مثال کیوں دی؟
﴿لَیۡسَ کَمِثۡلِہٖ شَیۡءٌ ۚ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ ﴿۱۱﴾ ﴾
اللہ کی مثل کوئی نہیں ہے اور اللہ سننے والا ہے، دیکھنے والا ہے۔
یہاں ایک بات سمجھ لیں۔ جب ہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہرجگہ پر ہیں، پھر مثال دے کر سمجھاتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں کہ قرآن کہتا ہے :
﴿لَیۡسَ کَمِثۡلِہٖ شَیۡءٌ﴾
کہ اللہ تعالیٰ جیسا کوئی نہیں، قرآن کہتا ہے:
﴿فَلَا تَضۡرِبُوۡا لِلہِ الۡاَمۡثَالَ﴾
النحل 16: 74
کہ اللہ تعالی کے لیے مثالیں پیش نہ کیا کرو اور تم لوگ مثالیں دیتے ہو۔
میں نے کہا: اللہ نے خود مثال دی ہے، فرمایا:
﴿اَللہُ نُوۡرُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ مَثَلُ نُوۡرِہٖ کَمِشۡکٰوۃٍ فِیۡہَا مِصۡبَاحٌ﴾
النور 24: 35
کہ اللہ آسمانوں ا ور زمین کا نور ہے۔ اللہ کے نور کی مثال ایسے ہے جیسے ایک طاق ہو جس میں چراغ رکھا ہوا ہو۔
اللہ تو مثالیں دے رہے ہیں۔ ہاں اب یہ سمجھنا چاہیے کہ مثال دے بھی رہے اور ہمیں حکم بھی فرما رہے ہیں کہ مثال نہ دو۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اچھی اچھی مثالیں تو دو لیکن بری بری مثالیں نہ دو۔ جیسے مشرک کہتے تھے ہم تو اللہ کی عبادت کرتے ہیں، باقی ان بتوں کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ
﴿مَا نَعۡبُدُہُمۡ اِلَّا لِیُقَرِّبُوۡنَاۤ اِلَی اللہِ زُلۡفٰی﴾
الزمر39: 3
اس سے اللہ راضی ہوتا ہے، یہ اللہ کے قریب بھی ہیں، یہ خوش ہو جائیں گے تو ہمیں جلدی اللہ سے ملا دیں گے، ہم اس لیے ان کی عبادت کرتے ہیں۔ جیسے آج کے دور میں بھی لوگ کہتے ہیں کہ ایک بڑا ہوتا ہے، اس بڑے تک پہنچنے کے لیے درمیان میں کوئی واسطہ ہوتا ہے، جب تک واسطہ نہ ہو تو بڑے تک کیسے جائیں گے؟ فرمایا ایسی مثالیں نہ دو، کیونکہ تمہارے اور بڑے کے درمیان فاصلہ ہے جو واسطے کے بغیر طے نہیں ہوتا، اور
﴿وَ نَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَیۡہِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِیۡدِ﴿۱۶﴾﴾
ق50: 16
اللہ تو تمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے، یہاں تو فاصلہ ہی نہیں ہے تو واسطوں کی ضرورت کیا ہے؟
اس کا خلاصہ یہ نکلا کہ اچھی اچھی مثالیں دو اور بری بری مثالیں مت دو۔ تو دو باتوں میں فرق سمجھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ اگر آدمی نہ سمجھے تو پھر الجھنیں بہت ہوتی ہیں۔
امام ابو حنیفہ نے مناظرے سے روکا، اس کا مطلب:
دو باتوں میں فرق پر مجھے ایک واقعہ یاد آیا۔ ایک مولانا صاحب نے مجھے کہا: امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے اپنے بیٹے امام حماد کو وصیت فرمائی تھی کہ مناظرہ نہ کیا کرو اور آپ لوگ تو مناظرہ کرتے ہیں، آپ کیسے حنفی ہیں؟ میں نے کہا کہ امام صاحب نے وصیت فرمائی تھی کہ مناظرے نہ کیا کرو، تو خود امام صاحب مناظرے کرتے تھے یا نہیں؟ کہنے لگے جی کرتے تھے۔ تو میں نے کہا کہ امام صاحب خود کرتے ہیں اور بیٹے کو منع کرتے ہیں تو میرا سوال ہے کہ اگر مناظرہ اچھا کام تھا تو بیٹے کو منع کیوں کیا اور اگر اچھا کام نہیں تھا تو خود کیوں کیا؟
وہ مولانا صاحب کہنے لگے کہ بیٹے سے کہاتھا کہ ہم اللہ کے لیے کرتے تھے اور تم ذات کے لیےکرو گے۔ میں نے ان سے کہا کہ ہمارے بارے میں آپ کا کیا گمان ہے کہ ہم اللہ کے لیے کرتے ہیں یا اپنی ذات کے لیے کرتے ہیں؟ مجھے کہنے لگے: آپ کے بارے میں تو اچھا گمان ہے۔ تو میں نے کہا کہ پھر وصیت ہمیں کیوں سناتے ہو؟ ہمارے بارے میں کہو کہ مولانا صاحب اس لیے کرتے ہیں کہ امام صاحب کے مقلد ہیں، ان کا امام بھی کرتا تھا اور یہ بھی کرتے ہیں۔ تو ہمارے بارے میں یہ بات کرو! اصل میں جب آدمی حاسد ہوتا ہے تو پھر وہ اچھی تعبیر پیش نہیں کرتا، اچھی بات کو غلط انداز میں پیش کرتا ہے۔
میں نے کہا کہ علامہ علاء الدین حصکفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
أَلْمُنَاظَرَ ۃُ فِی الْعِلْمِ لِنُصْرَۃِ الْحَقِّ عِبَادَۃٌ.
الدر المختار: ج9 ص695 کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع
کہ حق کی مدد کرنے کے لیے مناظرہ کرنا عبادت ہے اور آپ کہتے ہیں کہ مناظرہ سے امام صاحب نے منع کیا ہے۔ پھر میں نے ان سے پوچھا کہ مناظرہ کرنا ذات کے لیے گناہ ہے تو بتائیں کہ نماز دکھلاوے کے لیے پڑھنا جائز ہے؟ کہا جی نہیں۔ میں نے کہا کہ پھر اس سے بھی منع کردیں۔ قیامت کے دن اللہ شہید کو جہنم میں بھیج دے گا، کیونکہ وہ اللہ کے لیے نہیں بلکہ اپنی ذات کے لیے لڑا تھا، جہادبھی چھوڑ دیں! قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مولوی صاحب کوجہنم میں بھیج دیں گے کیونکہ وہ اللہ کے لیے نہیں بلکہ دکھاوے کے لیے پڑھتا تھا تو قرآن بھی چھوڑ دیں! اللہ سخی کو جہنم میں بھیج دیں گے کہ یہ سخاوت دکھلاوے کے لیے کرتا تھا تو سخاوت بھی چھوڑ دیں!
میں نے کہاکہ ایک مناظرے کا کیا قصور ہے؟ دین کا کوئی بھی شعبہ ہو اور اس میں لوگ ریا کرتے ہوں تو اس کو ختم کر دو ! اصل مسئلہ یہ ہے کہ آج لوگوں کی طبیعت یہ بن گئی ہے کہ دین کے ایک شعبہ میں کام کرتے ہیں اور باقی شعبوں میں کام کرنے والوں کو منع کرتے ہیں تو منع کرنے کے لیے جھوٹے اور غلط جواز پیش کرتے ہیں!
دین کے کام میں اخلاص شرط ہے:
لیکن ہمارا مزاج یہ نہیں ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ مزاج وہ رکھو جو شریعت کا ہے۔ جو بندہ دین کا کام کرتا ہے، کام بہت بڑا ہو لیکن نیت ٹھیک نہ ہو تو وہ کام بہت چھوٹا ہو جاتا ہے، کام بہت چھوٹا ہو لیکن نیت ٹھیک ہو تو کام بہت بڑا ہو جاتا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اِتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ التَّمْرَةِ“
سنن النسائی، رقم: 2552
کہ جہنم کی آگ سے بچو اگر چہ تمہیں کھجور کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ دینا پڑے۔ اب اگر اخلاص کے ساتھ ہو گا تو یہ ٹکڑا بھی بہت بڑا ہو جائے گا۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَا تَسُبُّوْا أَصْحَابِىْ فَوَالَّذِىْ نَفْسِىْ بِيَدِهٖ لَوْ أَنْفَقَ أَحَدُكُمْ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلاَ نَصِيفَهُ.
سنن ابی داؤد، رقم:4658
میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہنا، کیونکہ اگر تم احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کر لو تو ان کے تقریباً کلو، آدھا کلو جو کے برابر بھی نہیں۔
اس کی وجہ سمجھنا! وجہ یہ ہے کہ ان کے کلو، آدھا کلو میں جو اخلاص تھا وہ بہت بڑا تھا اس لیے ان کا کلو بھی بہت بڑا تھا اور ہمارا احد پہاڑ کا سونا بہت چھوٹا ہے چونکہ ہمارا اخلاص ان کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
کبھی لوگ کہیں گے کہ ہم تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کا دفاع کرتے ہیں اور تم تو فروعی مسائل کا دفاع کرتے ہو۔ میں نے کہا: فروعی مسائل کی نسبت بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کی طرف ہے، اللہ کے نبی کی ذات نہ ہوتی تو فروعی مسائل کہاں سے نکلتے؟! اور فروعی مسائل کوئی معمولی چیز ہوتی ہے کیا؟ اس لیےمیں نے کہا کہ اس بات کو سمجھاکرو اچھی طرح!
اخلاص پرکھنے کا معیار:
آج امت کا عجیب مزج ہے۔ مثلاً ایک عنوان پر ہم کام کرتے ہیں اور اسی عنوان پر کوئی دوسرا فرد کرے تو ہم برداشت نہیں کرتے۔ اسی عنوان پر دوسری جماعت کام کرے تو ہم برداشت نہیں کرتے۔ یہ کتنی بڑی زیادتی ہے!
میں کسی فرد یا جماعت کا نام نہیں لیتا، میں اپنی بات کہتا ہوں کہ میں کام کرتا ہوں فرقِ باطلہ کے رد میں۔ اگر کوئی اور فرق باطلہ کے رد میں کام کرتا ہو اور میں اس پر خوش ہوتا ہوں تو آپ کو سمجھنا چاہیے کہ استاد جی ٹھیک ہیں، اگر میں اس پر ناراض ہوتا ہوں تو پھر آپ کو یقین کر لینا چاہیے کہ استاد جی ٹھیک آدمی نہیں ہیں۔ میں ٹھیک ہوتا تو مجھے خوش ہونا چاہیے تھا۔ اب دیکھو! دنیا بھر کے تمام فرق کا رد میں اکیلا کر سکتا ہوں؟ (نہیں۔ سامعین) تو جو دوسرے کر رہے ہیں وہ میرے معاون ہیں، مجھے تو خوش ہونا چاہیے، خواہ وہ میرے شہر میں ہوں، خواہ وہ میرے ملک میں ہوں، خواہ وہ کسی اور ملک میں ہوں۔
یہ معیار ہے کسی بندے کو پرکھنے کا لیکن آپ نے اس معیار پر دوسروں کو نہیں پرکھنا، اس معیار پر خود کو پرکھنا ہے۔ یہ معیار میں اس لیے نہیں بتا رہاکہ آپ اس کسوٹی پر دوسرے کو پرکھیں اور دوسروں پر فتوے دیں، آپ دوسروں کو پرکھنا شروع کر دیں گے تو ہم سمجھیں گے کہ آپ ہمارا مزاج نہیں سمجھ سکے، آپ ہمارے متخصص نہیں ہیں․․․ ہاں اگر اس معیار پر خود کو پرکھو گے تو میں سمجھوں گا کہ آپ ہمارےمتخصص ہیں، ہمارے شاگر د ہیں، آپ نے ہمارا مزاج سمجھا ہے۔
فراغت کے بعد اساتذہ سے رابطہ ضرور رکھیں!
آپ یہاں سے فارغ ہو کر جاتے ہیں لیکن آپ حفظ کے شعبے میں کام کرتے ہیں تو معمول کا رابطہ تمام اساتذہ سے رکھیں، عزت تمام اساتذہ کی کریں لیکن اصل رابطہ حفظ کے استاذ سے رکھیں، اپنے کام کی کار گزاری ان کو جا کے سنائیں، ان سے پھر مزید رہنمائی لیں، اس سے آپ کے حفظ کے کام میں برکت آ جائے گی۔ آپ درجہ کتب میں کام کر رہے ہیں تو درجہ کتب کے اساتذہ سے رابطہ رکھیں، ان کو کارگزاری سنائیں، ان سے رہنمائی لیں، اس سے آپ کا شعبہ کتب مضبوط ہو جائے گا، اور اگر فراغت کے بعد فرقِ باطلہ کے رد پہ کام کرنا ہے تو پھر رابطہ ہم سے رکھیں، پھر مشورہ ہم سے لیں، اس سے آپ کا کام بہت بڑھ جائے گا۔ اس اعتدال کو کبھی نہیں چھوڑنا! اور یہ میں اس لیے کہتا ہوں کہ یہ مزاج آپ بنائیں، آج آپ اُدھر بیٹھے ہیں[اشارہ طلبہ کی نشستوں کی طرف] اور کل آپ نے اِدھر بیٹھناہے [اشارہ مسند تدریس کی طرف]․․․ یہاں وہ مزاج ہو جو اِدھر والوں کا ہو تو بس پھر آپ کو لطف آئے گا، پھر آپ بہت خوش ہوں گے۔
بعض طلبہ یہ زیادتی کرتے ہیں کہ کتب کے استاذ کی وجہ سے حفظ کے استاذ کو چھوڑ دیتے ہیں اور بعض تخصص کے استاذ کی وجہ سے کتب کے استاذ کو چھوڑ دیتے ہیں، ایسا کبھی نہ کریں۔ ہاں یہ بات ضروری ہے کہ آپ حفظ سے لے کر تخصص تک آئے ہیں، اب اللہ جس شعبہ میں آپ سے کام لیتا ہے تو عزت سب اساتذہ کی کریں لیکن رابطہ اس شعبہ کے اساتذہ سے زیادہ رکھیں، رہنمائی ان سے زیادہ لیں۔
بس جب یہ مزاج بنا لیں گے تو کسی کے خلاف دل میں حسد نہیں ہو گا، آپ یہ سمجھیں گے کہ دنیا میں جو بھی دین کا کام کرتا ہے وہ ہمارا معاون ہے۔ اگر اس کے بارے میں کچھ خدشہ بھی ہو تو اس سے بات کریں، جب تک اس سے بات نہیں ہوتی تب تک اپنی زبان بند رکھیں، عوام میں ان کے بارے میں باتیں نہ کریں، اس کا نقصان بہت ہوتا ہے۔ اللہ ہمیں یہ باتیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
احتباء اور انابت میں فرق:
﴿اَللہُ یَجۡتَبِیۡۤ اِلَیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَہۡدِیۡۤ اِلَیۡہِ مَنۡ یُّنِیۡبُ ﴿۱۳﴾﴾
اللہ جس کو چاہتے ہیں اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں اور جو اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے اللہ اس کو اپنی طرف پہنچا دیتے ہیں، اپنی طرف اس کی رہنمائی کرتے ہیں۔
ایک ہے عام قانون اور عام ضابطہ اور ایک قانون اور ضابطہ نہیں ہے بلکہ وہ خواص کے لیے خاص ترتیب ہے۔ ترتیب عمومی یہ ہے
”وَ یَہۡدِیۡۤ اِلَیۡہِ مَنۡ یُّنِیۡبُ“
اور
”اَللہُ یَجۡتَبِیۡۤ اِلَیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ“
یہ عمومی ترتیب نہیں ہے بلکہ یہ خواص کی ترتیب ہے۔ اصل ترتیب تو یہ ہے کہ جو طالب ہو گا ہدایت اسے ملے گی اور جو طالب نہیں ہو گا اللہ اسے بھی کھینچ لیں تو یہ عام ترتیب نہیں ہے بلکہ یہ خواص کے لیے ہے اور یہ کبھی کبھی ہوتا ہے۔
عام قانون کسبی ہے، عام قانون وہبی نہیں ہے۔ مثلاً کوئی چاہے گا تو قرآن کا حافظ بن سکے گا، نہیں چاہے گا تو نہیں بن سکے گا لیکن امت میں ایسے بندے مل جائیں گے کہ ہو سکتا ہے کہ وہ ماں کا دودھ پینے سے فارغ ہوئے ہوں اور دو سال میں قرآن کے حافظ بن جائیں لیکن یہ عام ضابطہ نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے ہم محنت چھوڑ دیں!
متکلم اسلام کی تحدیث بالنعمۃ:
میں بہت ساری باتیں عرض کیا کرتا ہوں۔ میں نے مناظرے کا فن کسی سے نہیں پڑھا اور میں پڑھاتا ہوں، میں نے خطابت کسی سے نہیں سیکھی اور میں سکھاتا ہوں، میں نے گاڑی کی ڈرائیونگ کسی سےنہیں سیکھی اور میں ڈرائیونگ کرتا ہوں، کوئی خاص چیز کسی سے پوچھ لی کہ بھائی یہ کیا ہے․․․یہ کیا ہے․․․ یہ الگ چیز ہے لیکن میں بغیر سیکھے گاڑی پر بیٹھا ہوں اور ہم نے ڈرائیونگ کی تو چل پڑی ہے گاڑی۔
چپاٹا میں تدریس کا واقعہ:
سب سے پہلے میں نے کینیا، زمبیا میں گاڑی چلائی تھی۔ وہاں ایک جگہ ہے چپاٹا، وہاں مولانا محمد عبدالرحیم متالا رحمہ اللہ تھے حضرت جی حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاکاندھلوی رحمہ اللہ کے خلفاء میں سے تھے، میں وہاں ان کے پاس گیا۔ یہ 1992 یا 1993 کی بات ہے۔ میں نے وہاں درس دیا اور میرا درس ان کو پسند آیا۔ میں چونکہ اس وقت ایک جماعت میں کام کرتا تھا تو انہوں نے اس قیادت سے کہا کہ مولانا کو ہمیں دے دو۔ یوں انہوں نے مجھے وہاں اپنے مدرسے میں مدرس رکھ لیا۔
پھر انہوں نے صبح مجھے ایک فارم دیا،جو انگلش میں لکھا ہوا تھا، کہ آپ یہ فارم پُر کریں! میں نے نیچے دستخط کر دیے۔ انہوں نے کہا کہ اس کو پُر کر کے دیں۔ میں نے کہا کہ میں نے دستخط کر دیے ہیں بس میری طرف سے پُر ہے، اوپر آپ نے جو لکھنا ہے لکھ لیں، ہماری کوئی شرط نہیں ہے، ہم نے بس سبق پڑھانا ہے۔ تو یوں دو ماہ تک میں نے وہاں سبق پڑھایا۔ حضرت کے بیٹے تھے عبدالرشید اور عبد الحلیم وہ میرے پاس پڑھتے تھے اور ایک چھوٹا بیٹا تھا عبد الرؤف وہ حفظ میں تھا۔ میں عشاء کے بعد سو جاتا تھا۔ ایک دن انہوں نے مجھے بلا کر پوچھا آپ مطالعہ کرتے ہیں؟ میں نے کہا کرتا ہوں۔ کہا کہ آپ تو عشاء کے فوراً بعد سو جاتے ہیں، آپ کے سبق جلالین تک ہیں، ہر درجے کا سبق ہے۔ تو میں نے کہا جب میں سبق پڑھا رہاہو ں تو آپ اچانک میرے سبق میں تشریف لائیں اور سنیں کہ میں سبق کیسے پڑھا رہا ہوں۔ میں نے طالب علمی میں محنت اتنی کی ہے کہ اب مجھے مطالعہ کی الجھن نہیں ہے، بس سرسری سا دیکھتا ہوں کہ سبق کون سا پڑھانا ہے؟
خیر دو ماہ تک میں نے وہاں پڑھایا۔ پھر میں واپس آ گیا، میری مجبوری تھی۔ جب زمبیاسے واپس آیا تو چپاٹا میں لوساکا دار الحکومت ہے تو وہ لوگ وہاں مجھے ملنے کے لیے آئے کہ وہاں سے روانہ کریں گے۔ تو انہوں نے مجھے کچھ ڈالر دیے، کتنے تھے مجھے اب بھی نہیں پتا، میں نے نہ دیکھے نہ گنے کہ کتنے دیے۔ میں نے کہا کہ جی میں نہیں لوں گا۔ کہنے لگے: وجہ؟ میں نے کہا کہ میں نے تنخواہ کے لیے نہیں پڑھایا، میری تشکیل تھی تو میں نے سبق پڑھایا بس، اب میں واپس جا رہا ہوں۔ اگر آپ نے دینا ہی ہے تو ان کو دیں جنہوں نے میری تشکیل کی ہے، میں نہیں لوں گا، اور واقعتاً میں نے نہیں لیے۔ یہ بات میں 1992/ 1993 کی کر رہا ہوں جب میں کنوارہ تھا اور بالکل جوانی تھی، اس دور میں کون پیسے چھوڑتا ہے۔ اس کی برکت ہے کہ اللہ آج دیتا ہے۔
دین کی خدمت کا موقع ملے تو فوراً قبول کریں!
میں اس لیے کہتا ہوں کہ پیسہ چھوڑو․․․ امامت ملے تو فوراً قبول کرو، یہ طے نہ کرو کہ کتنی تنخواہ ہو گی،آپ مجھے کیا دیں گے، یہ باتیں چھوڑو! بس بسم اللہ پڑھ کر کام شروع کرو، کام اچھا ہوا تو لوگوں کا رجوع اتنا ہو گا کہ پیسے سنبھالے نہیں جائیں گے۔ اگر کام اچھا نہ ہوا تو بہت جلد امامت ختم ہو جائے گی۔ پھر تم لڑو گے اور وہ رکھیں گے نہیں، جبراً وہاں رہو گے تو ایسے رہنے کا مزا نہیں آتا۔ اس لیے اگر تدریس کی جگہ ملے تنخواہ کی بات چھوڑو، بس پڑھانا شروع کرو۔ آپ اچھے مدرس ہیں اور آپ جانا چاہتے ہیں تو مہتمم صاحب کہیں گے کہ کیوں جا رہے ہیں؟ جی میری معاشی مجبوری ہے تو وہ مہتمم خود پیسے دے گا کہ ہم آپ کا مسئلہ حل کرتے ہیں، آپ مت جائیں اور اگر پہلے ہی دن آپ تنخواہ کا مطالبہ شروع کریں گے تو آپ کی وقعت ان کے دل سے نکل جائے گی اور وہ کہہ دے گا کہ جاؤ کسی اور مدرسے میں مدرس بنو۔
میں بطورِ خاص اپنے طلبہ سے عرض کرتا ہوں کہ دن کو سبق پڑھاؤ، رات کو تہجد پڑھو، صبح اٹھ کر اللہ اللہ کی ضربیں لگاؤ، اعمال کی پابندی کرو تو ان شاء اللہ اتنی محبوبیت خدا عطا فرمائے گا کہ آپ مہتمم کی مجبوری بن جائیں گے، وہ کہے گا کہ اس مدرس کو مت نکالو، وہ تمہیں سونے سے تول لے گا لیکن جانے نہیں دے گا اور جب تنخواہوں پر لڑو گے، تنخواہ اتنی ہوئی تو میں رہوں گا ورنہ نہیں․․․ اس سے میرا گزارا نہیں ہوتا․․․ میرا گھر دورہے․․․ میرے بچے ہیں، اس تنخواہ سے گزارا نہیں ہوتا․․․ اگر یہ باتیں کرو گے تو پھر کچھ نہیں ہو گا۔
میں نے جس دن سے مسلک کا کام شروع کیا ہے اس دن سے صرف ایک یا دو مرتبہ شاید میں نے بس کا سفر کیا ہو اور وہ بھی کسی مجبوری کی وجہ سے- پیسوں کی وجہ سے نہیں، کوئی اور وجہ تھی- مثلاً میں کراچی سے آ رہا ہوں کبیر والا جلسہ تھا تو دھند میں فلائٹ کینسل تھی تو میں وہاں سے کوچ پر بیٹھا اور آ گیا، جلسہ میں نے نہیں چھوڑا، واپسی پر میں نے کراچی جانا تھا تو بس میں ٹکٹ نہیں تھا۔ میں ٹرین پر بیٹھا اور سکھر پہنچ گیا․․․ لیکن میں نے جلسہ نہیں چھوڑا۔ باقی جس دن سے میں نے کام شروع کیا ہے میں بس پر نہیں بیٹھا بلکہ رینٹ کی گاڑی پر بیٹھا ہوں۔ میں نے کہا : اللہ! مجھے ذلیل نہ کرنا، ہماری جنگ مخالف سے ہے، بسوں کے دھکے بہت مشکل ہیں، مخالف بھی خوش ہوتا ہے، اللہ! اپنا کرم فرما دیں۔ میں یہاں سے پشاور گیا ہوں تو مجھے انہوں نے پندرہ سو دیے، میں یہاں سے ڈیرہ غازیخان گیا ہوں رینٹ کی گاڑی پہ تو مجھے انہوں نے تین ہزار دیے، میں یہاں سے حیدر آباد گیا ہوں تو مجھے کسی نے ایک روپیہ نہیں دیا لیکن میں نے کام نہیں چھوڑا۔ آج گاڑی بھی دیکھ لو کہ اللہ نے کیسی قیمتی دی ہے۔
ہمارے ایک بہت بڑے عالم ہیں پنجاب کے، میں ایک بار ملتان گیا، آگے لودھراں جانا تھا تو میں نے ان سے فون پر پوچھا: مولانا !کدھر ہیں؟ کہا کہ میں وفاق کے دفتر میں ہوں۔ میں نے کہا کہ میں آ رہا ہوں اور آپ سے ملتا ہوں۔ مجھے انہوں نے کہا کہ کیا پروگرام ہے؟ میں نے کہا کہ میں نے لودھرا ں ایک جلسے میں جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے بھی اسی جلسے میں جانا ہے۔ میں نے کہا کہ چلیں پھر میری گاڑی میں بیٹھ جائیں۔ ہم گاڑی میں بیٹھے اور گپ شپ لگا رہے تھے۔ ان کے سیکیورٹی گارڈ دوسری گاڑی میں تھے۔ تو میں نے ان سے کہا کہ مولانا! میں نے زندگی بھر جلسے والوں سے پیسے نہیں مانگے،وہ خود دے دیں تو واپس نہیں کرتا اور نہ دیں تو مانگتا نہیں ہوں اور میں آج بھی قسم کھا لوں تو حانث نہیں ہوں گا کہ میں اس دن کے انتظار میں ہوں کہ اللہ مجھے اتنے اسباب دے دیں کہ جلسے والے کرایہ دیں اور میں واپس کر دوں کہ میرے پاس ہیں۔ بس یہ میری مجبوری ہے کہ میں لے لیتا ہوں، ابھی اتنا ہے کہ جو دیتا ہے تو میں لے لیتا ہوں اور نہیں دیتا تو مانگتانہیں ہوں، جتنے وہ دیں تو بس قبول کر لیتا ہوں۔
﴿اَللہُ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ وَ الۡمِیۡزَانَ ؕ وَ مَا یُدۡرِیۡکَ لَعَلَّ السَّاعَۃَ قَرِیۡبٌ ﴿۱۷﴾﴾
اللہ نے کتاب کو حق کے ساتھ اتارا ہے اور میزان کو بھی اتارا ہے اور آپ کو کیا معلوم شاید کہ قیامت قریب ہو۔
”اَللہُ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ“
یہ حقوق اللہ ہیں اور
”وَ الۡمِیۡزَانَ“
یہ حقوق العباد ہیں۔ ”میزان“ سے مراد ترازو ہے۔ اس کامعنی ہے کہ ترازو میں چیزیں تولی جاتی ہیں بندوں کے حقوق کے لیے۔ تو اللہ نے حقو ق اللہ اور حقوق العباد دونوں سمجھائے ہیں۔ لہذا ہمیں دونوں قسم کے حقوق کو ادا کرنا چاہیے۔
رشتہ داری کا خیال کرو!
﴿قُلۡ لَّاۤ اَسۡـَٔلُکُمۡ عَلَیۡہِ اَجۡرًا اِلَّا الۡمَوَدَّۃَ فِی الۡقُرۡبٰی ؕ﴾
اے میرے پیغمبر آپ ان سے کہیں کہ میں تمہیں جو دعوت دیتا ہوں اس پر پیسے نہیں مانگتا، بس یہ کہتا ہوں کہ رشتہ داری کا خیال کرو۔
اس کو سمجھنا! یہ جو
﴿اِلَّا الۡمَوَدَّۃَ فِی الۡقُرۡبٰی﴾
ہے یہ
”اَجۡرًا “
سے مستثنی ٰ متصل نہیں ہے۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں کہ ”میں آپ سے مزدوری نہیں مانگتا ہاں اتنا اجر مانگتا ہوں کہ رشتہ داری کا خیال کرو“․․․ یہ مطلب نہیں ہے۔ یہ استثناء مفرغ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں تم سے کچھ بھی نہیں مانگتا، ہاں البتہ اتنی بات کہتا ہوں کہ میں تمہارا رشتہ دار ہوں، تم لوگ رشتہ داری کا خیال کرو، میری بات کو توجہ سے سنو! میں تمہارا آدمی ہوں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم یوں فرما رہے ہیں۔ اور بسا اوقات مبالغے کے طور پر لوگ ایسی بات کہہ دیتے ہیں کہ میری مزدوری یہی ہے کہ تم میری قرابت کا خیال کرو۔ جیسے کسی عالم کو آپ بلائیں اور وہ کہے: بس! میرے پیسے یہی ہیں کہ تم مسئلہ سمجھ جاؤ، میں سمجھوں گا کہ مجھے تم نے بہت کچھ دے دیا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ یہ اس کی مزدوری تو نہیں ہے، یہ تو مبالغے کے انداز میں بات سمجھائی جا رہی ہے۔
تو اللہ کے نبی بھی یہ فرما رہے ہیں کہ میں تم سے کچھ نہیں مانگتا! بس میری قرابت کا خیال کرو،تمہارا رشتہ دار ہوں، تمہارا آدمی ہوں۔
دینی امور پر اجرت کا جواز:
اس پر میں بات کر چکا ہوں ﴿قُلۡ مَاۤ اَسۡـَٔلُکُمۡ عَلَیۡہِ مِنۡ اَجۡرٍ وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُتَکَلِّفِیۡنَ ﴿۸۶﴾﴾
ص38: 86
کے تحت کہ جماعۃ المسلمین والے ایسی آیات کو پیش کر کے یہ بات کہتے ہیں کہ اجرت علی تعلیم الدین جائز نہیں ہے۔ بنیادی جواب ذہن میں رکھ لیں کہ یہ خطاب کفار کو ہے اور ہم اجرت کفار سے نہیں بلکہ مسلمانوں سے لیتے ہیں، یہ اغیار سے ہے اور ہم غیروں سے نہیں بلکہ اپنے معتقد سے لیتے ہیں، غیر سے لیں تو بات اور ہوتی ہے اور اپنے معتقد سے لیں تو بات اور ہوتی ہے۔
مصیبت کا اکثری سبب گناہ ہیں:
﴿وَ مَاۤ اَصَابَکُمۡ مِّنۡ مُّصِیۡبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتۡ اَیۡدِیۡکُمۡ وَ یَعۡفُوۡا عَنۡ کَثِیۡرٍ ﴿ؕ۳۰﴾﴾
تمہیں جو مصیبت پہنچتی ہے تو یہ تمہارے گناہوں کی وجہ سے ہے اور بہت سارے گناہ تو اللہ ویسے ہی معاف کر دیتے ہیں، ان کے بدلے میں تمہیں تکلیف دیتے ہی نہیں۔جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات سمجھائی، فرمایا کہ بندے کو چھوٹی سے چھوٹی تکلیف بھی ہو تو یہ انسان کے گناہوں کی وجہ سے ہے۔
یہاں یہ بات ذہن نشین فرما لیں کہ اس آیت کا معنی یہ نہیں ہے کہ دنیا میں ہر بندے کو جو تکلیف آتی ہے تو وہ اس کے گناہوں کی وجہ سے آتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو انبیاء علیہم السلام اس سے مستثنیٰ ہیں کیونکہ انبیاء علیہم السلام معصوم ہیں، اسی طرح نابالغ بچے اس سے مستثنیٰ ہیں، مجنون اس سے مستثنیٰ ہیں۔ ان کی تکالیف گناہ کی وجہ سے نہیں ہیں کیونکہ ان کا تو گناہ ہوتا ہی نہیں تو گنا ہ پر تکلیف کیسے آئے گی! ان کی تکالیف ہوتی ہیں ابتلاء اور آزمائش کی وجہ سے۔ حدیث مبارک میں ہے:
"أَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً : اَلْأَنْبِيَاءُ."
المعجم الکبیر للطبرانی: ج10 ص280 رقم الحدیث 20096
یہاں بلاء؛ ابتلاء ہے کہ سب سے زیادہ تکلیف نبی کو ہوتی ہے ابتلاء کے لیے۔
تو انبیاء علیہم السلام پہ ابتلاء اور آزمائش آتی ہے اور جن کے گناہ نہیں ان پہ بھی ابتلاء آتی ہے، اور بسا اوقات مصیبت آنے کی وجہ رفع درجات ہوتی ہے، اس کی وجہ گناہ نہیں ہوتے بلکہ مقصود درجات کو بڑھانا ہوتا ہے۔
دنیا کی زندگی کی حقیقت:
﴿فَمَاۤ اُوۡتِیۡتُمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ فَمَتَاعُ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ﴾
جو کچھ تمہیں ملا ہے تو یہ دنیا کا سامان ہے جو بہت جلد ختم ہو جائے گا، یہ دنیا کے استعمال کی چیزیں ہیں، ان کی اللہ کے ہاں کوئی قیمت نہیں ہے۔
اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات سمجھائی ہے، فرمایا:
أَنَّ الدُّنْيَا كُلَّهَا مَتَاعٌ وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ .
السنن الکبریٰ للبیہقی : ج7 ص80 رقم الحدیث 13580
دنیا میں جو چیزیں خدا نے پیدا فرمائی ہیں یہ تمہارےاستعمال کی ہیں اور ان میں بہترین چیز نیک عورت ہے۔
اللہ آپ سب کو عطا فرمائیں۔ اللہ آپ کو خوب صورت بھی دیں اور خوب سیرت بھی دیں، اللہ ایسی بیوی دیں کہ دیکھ کر آپ کا دل خوش ہو جائے۔(آمین۔ سامعین) اور بہترین عورت کون سی ہوتی ہے!اس کے بارے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”خَيْرُ النِّسَاءِ امْرَأَةٌ إِذَا نَظَرْتَ إِلَيْهَا سَرَّتْكَ“
کہ بہترین عورت وہ ہے کہ جب تو اس کو دیکھے تو تجھے مزا آ جائے،
”وَإِذَا أَمَرْتَهَا أَطَاعَتْكَ“
جب تو اس کو بات کہے تو فوراً وہ تیری بات مانے،
”وَإِذَا غِبْتَ عَنْهَا حَفِظَتْكَ فِيْ مَالِهَا وَ نَفْسِهَا“
اور جب تو کہیں چلا جائے تو وہ تیرے مال اور تیری عزت کی حفاظت کرے۔
جامع الاحادیث للسیوطی: جزء12 ص365 رقم الحدیث12105
آخرت کے اجر کے مستحقین کی صفات:
﴿وَ مَا عِنۡدَ اللّٰہِ خَیۡرٌ وَّ اَبۡقٰی لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَلٰی رَبِّہِمۡ یَتَوَکَّلُوۡنَ﴾
جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر بھی ہے اور باقی رہنے والا بھی ہے۔ کن کے لیے؟
[1]:
﴿ اٰمَنُوۡا﴾
ان کے لیے جن کے عقیدے ٹھیک ہیں۔
[2]:
﴿وَ عَلٰی رَبِّہِمۡ یَتَوَکَّلُوۡنَ﴾
ان کے لیے جو اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں، اور وہ کون لوگ ہیں؟ تو ان کی چند صفات بیان فرمائی ہیں:
﴿وَ الَّذِیۡنَ یَجۡتَنِبُوۡنَ کَبٰٓئِرَ الۡاِثۡمِ وَ الۡفَوَاحِشَ﴾
[3]: یہ وہ لوگ ہیں جو بڑے بڑے گناہوں سے بچتے ہیں۔
یہاں
” کَبٰٓئِرَ الۡاِثۡمِ“
یعنی بڑے بڑے گناہ کا ذکر اس لیے فرمایا کیونکہ صغائر تو اللہ رب ا لعزت ویسے ہی معاف فرما دیتے ہیں، اور ”الۡفَوَاحِشَ“بھی کبائر ہی ہوتے ہیں۔ بے حیائی کے کام کو الگ بیان فرمایا اس لیے کہ عام گنا ہ اور فحاشی میں فرق ہے، یہ قبیح زیادہ ہوتے ہیں، عیب دار زیادہ ہوتے ہیں۔ دیکھو! پیغمبر کی بیوی کافرہ ہو سکتی ہے لیکن زانیہ نہیں ہو سکتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک ہوتا ہے شرعی عیب اور ایک ہوتا ہے انسانی سوسائٹی کا عیب۔ کفر بہت بڑا عیب ہے لیکن شرعی، انسانی سوسائٹی میں کفر عیب نہیں سمجھا جاتا۔ اور زنا ایسا عیب ہے جو انسانی سوسائٹی میں بڑا عیب سمجھا جاتا ہے۔ اللہ اس عیب سے اپنے نبی کی بیوی کو محفوظ رکھتے ہیں۔ اس لیے یہاں فواحش کا الگ مستقل ذکر فرمایا۔
﴿وَ اِذَا مَا غَضِبُوۡا ہُمۡ یَغۡفِرُوۡنَ ﴿ۚ۳۷﴾﴾
[4]: جب کبھی غصہ ہوتے ہیں تو معاف کر دیتے ہیں۔
یہاں یہ نہیں فرمایا کہ وہ غصہ ہوتے ہی نہیں بلکہ فرمایا کہ غصہ ہوتے ہیں لیکن معاف کر دیتے ہیں۔ حضرت امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے تھے: جو شخص غصے کی بات پر غصہ نہ ہو تو وہ گدھاہے اور کوئی معافی مانگے اور وہ پھر بھی معاف نہ کرے تو وہ شیطان ہے۔
غصے کی بات پر غصہ آنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ بسا اوقات خلافِ شرع بات دیکھتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنے غصے ہو جاتے کہ ایسا لگتا کہ جیسےآپ کے چہرۂ انور پر انار نچوڑ دیا گیا ہو، ایسے چہرہ سرخ ہو جاتا تھا غصے کی وجہ سے۔
﴿وَ الَّذِیۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِرَبِّہِمۡ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ ۪ وَ اَمۡرُہُمۡ شُوۡرٰی بَیۡنَہُمۡ ۪ وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ﴿ۚ۳۸﴾﴾
[5، 6، 7]: اور یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی بات مانتے ہیں بطورِ خاص نماز کی پابندی کرتے ہیں اور اپنے معاملات مشورے سے طے کرتے ہیں اور جو ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ نا کچھ خرچ بھی کرتے ہیں۔
میں اس لیے کہتا ہوں کہ ہر مہینے کچھ مرکز میں جمع کروایا کرو! یہ ہے ”مِنْ“ ہم یہ نہیں کہتے کہ جو کچھ گھر سے لاتے ہو وہ سارا جمع کروا دو، نہیں بلکہ اپنی چائے کے لیے بھی رکھو، اپنے کھانے پینے کے لیے بھی رکھو لیکن کچھ نا کچھ ہر مہینے مرکز میں بھی جمع کراؤ، یہ اپنا مزاج بناؤ۔
﴿وَ الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصَابَہُمُ الۡبَغۡیُ ہُمۡ یَنۡتَصِرُوۡنَ ﴿۳۹﴾﴾
[8]: اور یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان پر ظلم ہو تو بدلہ لیتے ہیں۔
یہ مؤمن کی شان ہے۔ پیچھے فرمایا تھا
”وَ اِذَا مَا غَضِبُوۡا ہُمۡ یَغۡفِرُوۡنَ“
کہ جب غصے میں ہوں تو معاف کر دیتے ہیں اور یہاں فرمایا کہ بدلہ لیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عام ان کا مزاج یہ ہے کہ وہ معاف کرتے ہیں لیکن جہاں سمجھیں کہ ظالم کو معاف کرنے سے وہ ظلم میں اور بڑھ جائے گا اور فاسق کو معاف کرنے سے وہ فسق میں اور ترقی کرے گا تو پھر اس سے بدلہ بھی لے لیتے ہیں۔
﴿وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثۡلُہَا ۚ﴾
اور تکلیف کا بدلہ تکلیف ہے اس جیسی۔یہاں
”سَیِّئَۃٌ“
سے مراد ہے تکلیف۔ تکلیف دینا برا کام ہے، یہ کوئی اچھا کام تو نہیں ہے، یہ معنی ہے کہ برے کام کا بدلہ اسی جیسا برا ہے۔ نقصان دہ چیز کا بدلہ اسی جیسا نقصان دہ ہے، یہ نہیں کہ کوئی تمہارے ساتھ گناہ کرے تو تم اس کے ساتھ گناہ کرو! یہ معنی نہیں․․․ اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ آمین
﴿ فَمَنۡ عَفَا وَ اَصۡلَحَ فَاَجۡرُہٗ عَلَی اللہِ ؕ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۴۰﴾﴾
جو معاف کر دیں اور صلح کر لیں تو اس کا اجر اللہ دیں گے۔ اللہ ظالموں کو پسند نہیں فرماتے۔
مطلب یہ کہ دنیا میں بدلہ لو گے تو تم نے خود بدلہ لیا ہے اور اگر تم چھوڑ دو گے تو آخرت میں اللہ دے گا اور اللہ کا بدلہ دنیا کے مقابلے میں بہت بڑا ہے۔
اولاد دینے والی ذات اللہ ہی کی ہے:
﴿لِلہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ یَخۡلُقُ مَا یَشَآءُ ؕیَہَبُ لِمَنۡ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَہَبُ لِمَنۡ یَّشَآءُ الذُّکُوۡرَ ﴿ۙ۴۹﴾ اَوۡ یُزَوِّجُہُمۡ ذُکۡرَانًا وَّ اِنَاثًا ۚ وَ یَجۡعَلُ مَنۡ یَّشَآءُ عَقِیۡمًا ؕ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌ قَدِیۡرٌ ﴿۵۰﴾﴾
آسمانوں اور زمین کی بادشاہت کا مالک اللہ ہی ہے، اللہ جو چاہتے ہیں پیدا کرتے ہیں، جس کو چاہتے ہیں بیٹیاں دیتے ہیں اور جس کو چاہتے ہیں بیٹے دیتے ہیں اور جس کو چاہتے ہیں بیٹے اور بیٹیاں دونوں دیتے ہیں اور جس کو چاہتے ہیں نہ بیٹا دیتے ہیں اور نہ بیٹی دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جانتے بھی ہیں کہ کس کو کیا دینا ہے، اور اللہ کو قدرت بھی ہے کہ اس کو کیا دینا ہے۔
آپ دعا کریں ہماری تو بڑی نیت ہے کہ اللہ اسباب عطا فرما دیں کہ قرآن کریم اس طرح مکمل ہو جائے کہ الحمد سے لے کر والناس تک ایک ایک آیت کی تفسیر کروں، یہ میں نے نیت پکی کی ہے کہ ویڈیو ریکارڈنگ کرائیں،ایک ایک آیت کی تفسیر کریں، پہلے خلاصہ بیان کریں، پھر ایک ایک آیت پر بولتے جائیں، جب آپ قرآن کریم کی کسی آیت کی تفسیر دیکھنا چاہیں تو بس ایک کلک کریں اور انٹرنیٹ آپ کو اس آیت کی تفسیر دے دے اور ترجمہ بامحاورہ ہو جس کو عام بندہ بھی سمجھ سکے۔
بیٹی خدا کی رحمت ہے:
یہاں یہ بات سمجھیں کہ ہر بندہ شادی کے بعد مانگتا ہے کہ اے اللہ! مجھے بیٹا عطا فرما! اور قرآنی ترتیب کیا ہے؟
”یَہَبُ لِمَنۡ یَّشَآءُ اِنَاثًا“
اللہ پہلے بیٹی کی بات کرتے ہیں۔ میں اس پر اللہ کا بہت شکر ادا کرتا ہوں کہ میری پہلی بیوی سے بڑی بیٹی ہے، اس کے بعد دوسری بیوی سے پہلی بیٹی ہے، اس کے بعد تیسری بیوی سے پھر پہلی بیٹی ہے۔ تینوں بیویوں سے ہماری پہلی بیٹیاں ہی پیدا ہوئی ہیں۔
میں یہ باتیں سمجھانے کے لیے کہا کرتا ہوں کہ دل بڑا رکھو! میں کچھ دن پہلے ایک جگہ بیان سے فارغ ہوا تو ایک بندہ مجھے کہنے لگا:مولانا صاحب! پانچ بیٹیاں ہیں، دعا کرو کہ اللہ بیٹا بھی دے۔ میں نے کہا کہ دیکھو! وہ بیٹا جو آپ کی بیوی سے ہو گا وہ کالا ہے یا گورا ہے آپ نے برداشت کرنا ہے، ضدی ہے یا اچھا ہے آپ نے برداشت کرنا ہے، جاہل ہے یا عالم ہے آپ نے برداشت کرنا ہے، وہ لنگڑا ہے یا ٹھیک ہے آپ نے برداشت کرنا ہے، وہ پاگل ہے یا سمجھدار ہے آپ نے برداشت کرنا ہے اور اللہ نے جو آپ کوبیٹی دی ہے اس بیٹی کی وجہ سے جو آپ کو بیٹا ملنا ہے نا داماد ․․․ وہ آپ ہزاروں میں سے جس کو چاہو منتخب کرو، میں نے کہا: کیسے تم سادے آدمی ہو یار! داماد بھی تو بیٹا ہوتا ہے لیکن داماد آپ لاکھوں میں سے اپنی پسند کا چنیں․․․ کالا نہ چنیں آپ سفید کو دے دیں، جاہل نہ چنیں آپ عالم کو دے دیں، لنگڑا نہ چنیں آپ صحیح چن لیں اور جو بیٹا آپ کا پیدا ہوا وہ جیسا بھی ہو آپ نے برداشت کرنا ہے۔ تو بیٹی اللہ کی ایسی نعمت ہے․․․ ایسی رحمت ہے․․․ کہ بیٹی کی وساطت سے جو بیٹے ملتے ہیں وہ اپنی پسند کے ہوتے ہیں اور جو براہ راست ہوتے ہیں وہ اپنی پسند کے نہیں ہوتے۔ میں نے کہا کہ کس الجھن میں پڑے ہو تم۔
حضرت مریم کی والدہ نے دعا مانگی تھی:
﴿رَبِّ اِنِّیۡ نَذَرۡتُ لَکَ مَا فِیۡ بَطۡنِیۡ مُحَرَّرًا﴾
آل عمران 3: 35
کہ اے اللہ! جو میرے پیٹ میں ہے بس یہ بیٹا ہو جائے، ”مُحَرَّرًا“ کہ بیٹا پیدا ہو تو میں اس کو طالب علم بناؤں گی، مدرسے میں داخل کراؤں گی اور جب بیٹا نہیں بلکہ بیٹی پیدا ہوئی تو انہوں نے کہا:
﴿رَبِّ اِنِّیۡ وَضَعۡتُہَاۤ اُنۡثٰی ؕ﴾
اے اللہ یہ تو بیٹی پیدا ہو گئی ہے۔ جواب ملا
﴿وَ لَیۡسَ الذَّکَرُ کَالۡاُنۡثٰی ۚ﴾
کہ جو بیٹا تونے مانگا تھا -
”الذَّکَرُ “
پر الف لام عہد کا ہے- وہ اِس بیٹی کی طرح نہیں ہے جو ہم نے دی ہے۔ تو نے بیٹا مانگا تھا اپنی حیثیت کے مطابق اور ہم نے بیٹی دی ہے اپنی شان کے مطابق۔
اس بیٹی کا اپنا لطف ہوتا ہے۔ اس لیے دل چھوٹا نہ کیا کریں۔بیٹیاں ہیں تو ہماری بیویاں ہیں، بیٹیاں ہیں تو آج ہم پیدا ہوئے ہیں، بیٹیاں نہ ہوتیں تو ہماری زندگیاں کتنی اجیرن ہو جاتیں، اس لیے گھبرایا نہ کرو۔ بیٹا ہے تب بھی ٹھیک ہے اور بیٹی ہے تب بھی ٹھیک ہے۔
﴿وَ مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنۡ یُّکَلِّمَہُ اللہُ اِلَّا وَحۡیًا اَوۡ مِنۡ وَّرَآیِٔ حِجَابٍ اَوۡ یُرۡسِلَ رَسُوۡلًا فَیُوۡحِیَ بِاِذۡنِہٖ مَا یَشَآءُ ؕ اِنَّہٗ عَلِیٌّ حَکِیۡمٌ ﴿۵۱﴾﴾
بشر کے ساتھ اللہ کلام کرے گا یا تو الہام کے ذریعہ یا اس سے کلام کرے گا پردے کے پیچھے سے یا کلام کرے گا فرشتہ بھیج کر فرشتہ کے واسطہ سے
1: ”الہام“ کہ اللہ دل میں کوئی بات ڈال دیں۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود فرماتے ہیں:
”أَلْقٰى فِيْ رُوْعِيَ “
کہ میرے دل میں اللہ نے یہ خیال ڈالا ہے۔
2: پردے کے پیچھے سے جیسے موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بات ہوئی۔
3: جبرائیل امین علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ بھیج دیتے ہیں۔
”پیغمبر بشر نہیں“ پر استدلال کا جواب:
اہلِ بدعت کہتے ہیں کہ پیغمبر کے بشر نہ ہونے پر دلیل یہ آیت ہے کہ بشر وہ ہوتا ہے جس سے اللہ بات کریں گے الہام کے ذریعے یا پردے کے پیچھے یا بذریعہ فرشتہ․․․ اور حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے عرش پر براہِ راست خطاب کیا ہے․․․ نہ الہام ہے، نہ پردہ ہے اور نہ ہی درمیان میں جبرائیل علیہ السلام ہیں۔ معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بشر نہیں ہیں، چونکہ بشر کے لیے طریقے تین ہیں اور یہ چوتھا طریقہ بشر کے ساتھ نہیں ہوتا۔
اس کا جواب ہمیں دینے کی ضرورت نہیں، تبیان القرآن یہاں لائبریری میں موجود ہے اس کے مصنف مولانا غلام رسول سعیدی بریلوی صاحب ہیں کراچی کے، فوت ہو گئے ہیں اب، انہوں نے خود اس کے دوجواب دیے ہیں :
• رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جب براہ راست بالمشافہ ملاقات تھی بغیر حجاب کے تو اس میں گفتگو نہیں تھی، گفتگو کے یہی تین طریقے ہیں۔
• یہ عمومی ضابطہ بیان کیا ہے اور اس ضابطہ سے ہٹ کر حضور سے گفتگو یہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہے، جس سے بشریت پر فرق نہیں پڑتا۔
﴿وَ کَذٰلِکَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ رُوۡحًا مِّنۡ اَمۡرِنَا ؕ مَا کُنۡتَ تَدۡرِیۡ مَا الۡکِتٰبُ وَ لَا الۡاِیۡمَانُ﴾
اے پیغمبر! ہم نے آپ کی طرف وحی بھیجی ہے، ایک وقت تھا کہ آپ کو علم نہیں تھا کہ کتاب کیا ہے اور آپ کو ایمان کے اس درجہ کا علم نہیں تھا جس پر اب ہیں!
پیغمبر کو جب نبوت ملتی ہے تو نبوت ملنے سے پیغمبر صاحبِ ایمان ہوتا ہے، کیونکہ ایمان کا تعلق تو عقل سے ہے وحی سے نہیں ہے۔ اگر عقل نہ ہو اور وحی ہو تو ایمان کا بندہ مکلف نہیں ہوتا اور عقل ہو اور زمانہ فترت وحی کا ہو تب بھی آدمی پابند ہے ایمان لانے کا، یہ تو عام بندے کے لیے ہے تو نبی کے پاس ایمان کیسے نہیں ہو گا؟! اس لیے نبی اعلانِ نبوت سے پہلے صاحبِ ایمان ہوتا ہے لیکن ایمان کی تفصیلات اور ایمان کا وہ مقام جواعلانِ نبوت کے بعد ہوتا ہے یہ پیغمبر کو معلوم نہیں ہوتا۔
﴿وَ لٰکِنۡ جَعَلۡنٰہُ نُوۡرًا نَّہۡدِیۡ بِہٖ مَنۡ نَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِنَا ؕ وَ اِنَّکَ لَتَہۡدِیۡۤ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿ۙ۵۲﴾﴾
لیکن ہم نے اس قرآن کو نور بنایا ہے جس کے ذریعے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں ہدایت عطا فرماتے ہیں اور آپ بھی سیدھے راستے کی طرف راہنمائی فرماتے ہیں۔ وہ راستہ کون سا ہے؟
﴿صِرَاطِ اللہِ الَّذِیۡ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ اَلَاۤ اِلَی اللہِ تَصِیۡرُ الۡاُمُوۡرُ ﴿٪۵۳﴾﴾
یہ راستہ اللہ کا ہے جس کی ملکیت میں آسمان اور زمین ہیں اور اللہ ہی کی طرف تمام معاملات لوٹیں گے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ․