گستاخانِ رسول کی مذموم جسارت

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
گستاخانِ رسول کی مذموم جسارت
متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن
جس کے وجود پاک سے عالم ارض وسماء کو وجود بخشا گیا ، جس کی وجہ سے کائنات میں رنگینیاں بکھیری گئیں، جس کے طفیل حضرت انسان کا سر فخر سے بلند ہوا، جس کے وسیلے سے آفات ،حادثات ، سانحات اور مصائب و آلام سے چھٹکارا ملتا ہے ، جس کے سبب سے دولت ایمان سے مالا مال ہوا جاتا ہے ، جس کی عالمگیر اور حقیقی نبوت سے تمام انبیاء مستفید ہوئے ، جس کاتمام عالم بنی نوع انسان کے پیغمبروں نے کلمہ پڑھا، جس کے احسانات عالمِ ارواح ، عالمِ رنگ و بو ، عالمِ برزخ اور عالمِ آخرت میں چاروں اطراف سے احاطہ کیے ہوئے ہیں۔
جس کی حیاتِ طیبہ،نبوت و رسالت ، فرامین و تعلیمات اور اسوۂِ حسنہ کا اساسی اور حقیقی مقصد خالق دو جہاں کی معرفت ، رضا اور اس کے نازل کردہ نظام کا نفاذ تھا۔ جس نے عالمی اَمن کی صرف بنیادیں ہی نہیں بلکہ اس کا بلند و بالا خوبصورت محل تعمیر کیا جس کی چھت تلے بین الاقوامی تعلقات عامہ کی لٹکی قندیلوں میں وہ فانوس روشن کیے جن سے اقوام عالم کے ہر ہر فرد کواپنا تحفظ اور بقاء نظر آئی۔
آپ کے آفاقی نظام کے روشن آفتاب سے امن و آشتی کی کرنیں چھن چھن کر کرۂ ارضی کو رواداری ، مروت اور احترام کا گہوارا بناتی رہیں۔اقوامِ عالم میں بھائی چارے کے ماحول کو پروان چڑھایا۔ بالخصوص دنیا کی تین بڑی قوموں اور تہذیبوں نصاریٰ ، یہود اور مشرکین کے ساتھ مسلمانوں کے باہمی تعلقات اور پُرامن روابط کی ایسی مثال قائم کی جس کی نظیر نہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل تاریخ میں کہیں نظر آتی ہے اور نہ ہی آپ کے بعد کوئی ریفارمر ایسی ممکنہ اور مجوزّہ تھیوری پیش کر سکا ہے۔
لیکن کیا کِیا جائے احسان فراموشی کا ؟؟
حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنی قوم کو اس آخر الزمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشخبری اور نوید سنائی جس کا تذکرہ قرآن پاک میں بھی ملتا ہے اور انجیل )خواہ وہ موجودہ دور کی تحریف شدہ ہو یا سابقہ دور کی غیر محرف دونوں(میں موجود ہے۔
عالمی امن قائم کرنے کے لیے جن اداروں کی بنیاد رکھی گئی تھی ایسے بین الاقوامی ایشوز پر ان کی مبینہ خاموشی جہاں ان کی اسلام دشمنی کو بے نقاب کرتی ہے وہاں ان کے دوہرے معیار کا پتا بھی دیتی ہے ساتھ ساتھ ان کے دستور اور قوانین پر سوالیہ نشان بھی ہے۔ بارہا!اہل اسلام کی دل آزاری کی ناپاک مہم چلائی گئی ،قوموں کے بنیادوں حقوق کے لیے چیخنے چلانے والے سب گروہ ، ساری تنظیمیں، جماعتیں اور تمام این جی اوز اس سارے منظر نامے سے کیوں غائب ہیں اور کہاں غائب ہیں ؟؟
افسوس صدافسوس!چند مسلمانوں کے علاوہ باقی کہاں ہیں؟ جو اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے گھروں کو خیر باد کہہ کر کئی کئی دنوں تک دھرنوں اور ریلیوں میں تو شریک ہوتے ہیں لیکن رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور ناموس کے لیے بے حس ہو کر گھروں میں دبکے بیٹھے ہیں۔
محافظ ناموسِ آل محمدﷺ
8ربیع الاول 1436ھ بمطابق 31 دسمبر2014ء بروز بدھ کو مرجع العلماء، جامع المحاسن، عظیم مورخ اور محقق اسم با مسمیٰ حضرت مولانا محمد نافع رحمہ اللہ فاضل دار العلوم دیوبندداعی اجل کو لبیک کہہ گئے ،
انا للہ وانا الیہ راجعون ان للہ ما اعطیٰ ولہ ما اخذ وکل شیئ عندہ باجل مسمیٰ۔
مولانا محمد نافع بن مولانا عبدالغفور بن مولانا عبدالرحمان مرحوم و مغفور ضلع چنیوٹ کے مشہور قدیمی قصبے ”محمدی شریف“ میں تقریبا 1335ھ بمطابق 1915ء میں پیدا ہوئے۔ قرآن پاک اپنے والد ماجد سے حفظ کیا، ابتدائی دینی کتب اپنے برادر کبیرمولانا محمد ذاکر رحمہ اللہ اور مولانا حکیم عبدالمجید اعمیٰ رحمہ اللہ سے پڑھیں۔ متوسط کتب امام پاکستان مولانا سید احمد شاہ بخاری رحمہ اللہ اور مولانا غلام یاسین سے پڑھیں۔ )مذکورہ بالا اساتذہ کرام فضلاء دارالعلوم دیوبند ہیں (اعلیٰ تعلیم کے لیے مرکز علم و عمل دار العلوم دیوبندتشریف لے گئے اور شیخ الاسلام سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ، شیخ الادب مولانا اعزاز علی رحمہ اللہ امروہی، مولانامحمد ابراہیم بلیَاوی رحمہ اللہ،مفتی ریاض الدین رحمہ اللہ اور مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ سے 1363ھ میں دورہ حدیث پڑھ کر فارغ ہوئےاور وطن عزیز واپس آکر تعلیم و تدریس اور تصنیف و تحقیق کے کام کی طرف متوجہ ہوئے متعدد علمی تحقیقی کتابیں تصنیف فرمائیں۔
رحماء بینہم)چار جلدیں(، بنات اربعہ، حدیث ثقلین، سیرت حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ، سیرت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ)دو جلدیں(،فوائد نافعہ )دو جلدیں( مسئلہ ختم نبوت اورسلف صالحین ، حضرت ابو سفیان اور ان کی اہلیہ رضی اللہ عنہما وغیرہ علمی و تحقیقی دنیا میں اپنی قابلیت کا لوہا منوایا۔
حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی سیرت کے متعلق آپ کی کتب سند کا درجہ رکھتی ہیں آپ کی تحقیق کو وقت کے عظیم محققین نے بھر پور خراج تحسین پیش کیا ہے۔
شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی فرماتے ہیں: بلا شبہ رحماء بینہم؛ علم و تحقیق کے اعتبار سے انوکھی اور نہایت ہی بلند پایہ کتاب ہے ،جس نے اس موضوع پر ہمارے علمی و تحقیقی سرمایہ میں گراں قدر اضافہ کیا ہے۔ دوسرے مقام پر لکھتے ہیں کہ یہ کتاب صرف اردو ہی میں منفرد نہیں عربی لٹریچر میں بھی اس قسم کی کوئی مفصل کتاب احقر کے علم میں نہیں ہے، اور واقعہ یہ ہے کہ فاضل مؤلف نے اس اچھوتے مگر ضروری موضوع پر تحقیق کا پورا حق ادا کیا ہے۔
) تبصرے ص266(
موصوف نے افراط و تفریط سے الگ رہ کر اہل السنت کے صحیح موقف کی ترجمانی کی ہے اور اس موضوع پر تحقیق کا حق ادا کر دیا ہے ان کی ہر بات تاریخی حوالوں سے مزین ہے بلکہ انہوں نے صرف اہل السنت ہی کے نہیں اہل تشیع کے ماخذ سے بھی اپنے موقف کو ثابت کیا ہے جن پر ان کی بڑی وسیع اور گہری نظر ہے۔ پھر قابل تعریف بات یہ ہے کہ فاضل مولف کا انداز بیان مناظرانہ اور جارحانہ نہیں بلکہ باوقار اور متین ہے اور سنجیدہ علمی تحقیق کے معیار پر پورا اترتا ہے۔
)تبصرے ص 309(
علامہ ڈاکٹر خالد محمود پی ایچ ڈی لندن فرماتے ہیں: آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی چاروں صاحبزادیوں کے حالات کمالات اور درجات ایسے محققانہ اور نفیس پیرائے میں بیان فرمائے ہیں کہ اس کتاب کی اشاعت واقعی اس عہد کا ایک نہایت اہم علمی اضافہ ہے، مولانا کا انداز بیان محض تبلیغی نہیں تحقیقی بھی ہوتا ہے، ایک مؤرخ کی حیثیت سے آپ بات کی آخری تہ تک اترتے ہیں۔ )بنات اربعہ ص33(
استاذ المناظرین شیخ العرب والعجم علامہ عبدالستار تونسوی رحمہ اللہ آ پ کے متعلق فرماتے ہیں:”مولانا موصوف کی مذکورہ کتب میں درج شدہ دلائل ٹھوس حوالے صحیح اور مطابقی ہیں ان کی تحقیق سے اندازہ ہوتا ہے وہ ریت کے ذرات سے سونا الگ کرنا جانتے ہیں۔“
)فوائد نافعہ ص684 (
موصوف کی پوری زندگی دین کی خدمت میں گذری ، آپ کے علمی اور تحقیقی جواہر پاروں سے لاکھوں افراد مستفید ہوئے اور تا قیامت ہوتے رہیں گے۔ ایسےصاحبِ فضل و کمال رحلت ارشاد نبوی یرفع اللہ العلم بقبض العلماء کا عملی مظاہرہ ہے اور موت العالِم موت العالَم کا عین مصداق ہے۔
آپ کا جنازہ خواجہ خلیل احمد کی اقتداء میں کثیر خلق خدانے پڑھا مغرب سے قبل آپ کی تدفین عمل میں آئی گویا 8ربیع الاول 1436ھ 31 دسمبر2014ء کا سورج غروب ہوتے ہی محافظ ناموس آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہماری نظروں سے ہمیشہ کے لیے اوجھل ہو گئے۔
ایک چراغ اور بجھا
ملک کے معروف عالم دین‘مسلک اہل السنت والجماعت کے عظیم محقق اور بزرگ شخصیت حضرت مولانا نور محمد تونسوی بھی اجل کے راہی بن گئے۔ مرحوم نے مسلک اہل السنت والجماعت کے عقائد و نظریات کے تحفظ پر اپنی گراں قدر علمی خدمات امت کے سپرد کی ہیں۔ نفعنا اللہ بہا و متعنا بہا۔ ظاہری علوم کے ساتھ ساتھ اللہ رب العزت نے آپ کو باطنی اور روحانی علوم بھی خوب خوب نوازا ، بالخصوص سلسلہ عالیہ قادریہ میں آپ اپنا بلند مقام رکھتے تھے۔ درجن بھر سے زائد مسلکی و تحقیقی کتب آپ کی علمی یادگار ہیں۔ اللہ رب العزت آپ کے پسماندگان بالخصوص صاحبزادگان عزیزم مولانا احمد اللہ تونسوی ، مولانا عبید اللہ اور مولانا حامداللہ سمیت ہم سب کو صبر جمیل عطا فرمائے اور مرحوم کے درجات بلند فرمائے۔