اسلام میں خواتین کے حقوق

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
اسلام میں خواتین کے حقوق
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ساری انسانیت کو ارشاد فرماتے ہیں :
یٰاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ خَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَ بَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّ نِسَآءً وَ اتَّقُوْا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِہٖ وَ الْاَرْحَامَ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا۔
سورۃ النساء ، رقم الآیۃ: 1
ترجمہ: اے لوگو!اپنے رب )کی نافرمانی اور عذاب (سے ڈرو جس رب نے تمہیں ایک جان سے پیدا فرمایا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا فرمایا پھر ان دونوں سے بہت سے مرد اور بہت ساری خواتین کو )ساری دنیا میں (پھیلا دیا اور اس اللہ سے ڈرتے رہو جس کا واسطہ دے کر تم اپنے باہمی حقوق مانگتے ہو ۔ اور رشتہ داریوں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو ۔ یقیناً اللہ تمہارا نگہبان ہے ۔
اللہ رب العزت مختلف انداز میں خطاب فرماتے ہیں ، کبھی اہل ایمان کو بطور خاص خطاب فرماتے ہیں اور طرز یہ اختیار فرماتے ہیں: یا ایھا الذین اٰمنوا اے ایمان والو! اور کبھی تمام انسانوں سے عمومی خطاب فرماتے ہیں اور انداز یہ اختیار فرماتے ہیں: یا ایھا الناس اے لوگو!
خدا خوفی مقدم ہے :
مذکورہ بالا آیت مبارکہ میں اللہ رب العزت عمومی خطاب فرما رہے ہیں کہ اے لوگو!اپنے رب کی نافرمانی اور اس کے عذاب سے ڈرو ۔ آنے والی چند آیات میں چونکہ خواتین کے حقوق کی ادائیگی کا ذکر تفصیلی طور پر آ رہا ہے اس لیے شروع میں خداخوفی کی تلقین کی گئی ہے تاکہ عمل کرنے میں دشواری نہ ہو ۔
خاندانی نظام میں عورت کا کردار:
کسی بھی معاشرے میں اس وقت تک استحکام نہیں آسکتا جب تک اس کا خاندانی نظام درست نہ ہو ، اور خاندان کی تربیت میں عورت کا کردار بنیادی حیثیت کا حامل ہوتا ہے ۔بطور خاص ماں ہونے کے ناطے اولاد کی پرورش ، اخلاقی و تعلیمی تربیت اور اچھی تہذیب اسی کے دم قدم سے ہوتی ہے ۔
سورۃ کا نام …النساء:
اس لیے قرآن کریم میں خواتین کے لیےتفصیلی احکام نازل فرمائے بلکہ مستقل طور پر ایک سورۃ کا نام” نساء “رکھا گیا ،جس کے اندر زمانہ جاہلیت میں خواتین کے ساتھ معاشرتی جبری تشدد کی نشان دہی کر کے ان کے خاتمے کی ہدایات دی ہیں اور ساتھ ساتھ حقوق نسواں کے بارے احکامات ذکر کیے گئے ہیں۔
قبل از اسلام عورت کی حیثیت:
اسلام سے پہلے عورت کی زندگی اجیرن تھی ، اْس دور میں عورت کا وجود محض ایک کھلونے کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔ عورت معاشرے میں نہ صرف یہ کہ مظلوم تھی بل کہ سماجی و معاشرتی عزت و توقیر اور ادب و احترام سے بھی محروم تھی۔
یونانی تہذیب میں عورت کی حیثیت:
یونان جیسی تہذیب جو خود کو روشن خیال اور ترقی یافتہ کہتی تھی، عورت کو ثانوی حیثیت دینے کے لیے بھی تیار نہ تھی یہی وجہ تھی کہ یونانی فلاسفروں نے عورت کو ’’شجرہ مسمومہ‘‘ یعنی ایک زہر آلود درخت قرار دے کر عام خیال میں مرد سے کئی گنا زیادہ معیوب، بدکردار، آوارہ اور ترش و تلخ گو باور کیا۔
رومی تہذیب میں عورت کی حیثیت:
رومی تہذیب نے عورت کا کیا مقام بتایا ہے تاریخ کے جھرونکوں میں آج بھی دھندلے سے الفاظ چیخ چیخ کر یہ کہہ رہے ہیں کہ ’’عورت کے لیے کوئی روح نہیں بل کہ یہ عذابوں کی صورتوں میں سے ایک صورت ہے۔‘‘
ہندی تہذیب میں عورت کی حیثیت:
ہندی ویدوں کے احکام کے مطابق:”عورت مذہبی کتاب کو چھو بھی نہیں سکتی اور اگر کوئی عورت کسی متبرک بت کو چُھولے تو اس بت کی الوہیت اور تقدس تباہ ہوجاتا ہے لہٰذا اس کو پھینک دینا چاہیے۔‘‘
جب اسلام آیا:
لیکن جب اسلام آیا اور ہدایت کا نیّر تاباں جلوہ فگن ہوا، قرآن کا آفتاب عالم تاب چمکا تو یونانی تہذیب سے لے کر نصرانی ثقافت تک تمام کلچر اور تمام تہذیبیں پاش پاش ہوگئیں، سارے تمدن دھڑام سے نیچے آگرے۔ اسلام ساری انسانیت کے لیے احترام کا دستور لایا، اسلام نے عورت کو وہ مقام بخشا کہ جس کی مثال کسی اور مذہب اور کسی دین میں نہیں ملتی۔توقیر عورت کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے۔
اسلامی تہذیب میں عور ت کی حیثیت:
اسلام نے عورت کو بے جا غلامی، ذلت اور ہتک آمیز رویوں سے نجات دلائی۔ اسلام صنف نازک کے لیے نوید صبح مسرت بن کر آیا اور عورت کے لیے احترام کا پیام بر ثابت ہوا، اب اگر یہی عورت ماں بن جائے تو اس کے قدموں میں جنت کو لاکر بسا دیا، بیٹی ہو تو نعمت عظمیٰ، اگر رشتہ بہن کا ہو تو احترام کا پیکر اور اہلیہ ہو تو اس کو خوشگوار گھریلو زندگی کا ضامن قرار دیا۔اسلام عورت کو حقوق کے تحفظ کے ساتھ پرامن، خوش گوار، پرسکون ، راحت بخش اور اطمینان والی زندگی گزارنے کی ضمانت فراہم کرتا ہے جن کی بہ دولت اس کی عزت و آبرو، عفت و حیا اور پاک دامنی محفوظ رہتی ہے۔
رسول اکرم ﷺ کی عملی تعلیم:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے سماجی ، تمدنی ، معاشی ، تعلیمی اور سب سے بڑھ کر انسانی حقوق کو اپنے عملی رویوں سے ایسا واضح کیا ہے کہ تا صبح قیامت وہ ہدایت کے چراغ بن کر راہنمائی کرتے رہیں گے ۔
زندگی کا حق :
اسلام سے پہلے عرب کے بعض قبائل بچیوں کو زندہ زمین میں گاڑ دیتے تھے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان رحمت کا حصہ بچیوں کو نصیب ہوا اور انہیں زندہ رہنے کا حق ملا۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أُنْثَى فَلَمْ يَئِدْهَا وَلَمْ يُهِنْهَا وَلَمْ يُؤْثِرْ وَلَدَهُ عَلَيْهَا- قَالَ يَعْنِى الذُّكُورَ- أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ۔
سنن ابی داؤد، باب فضل من عال یتامی،الرقم: 5148
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کی لڑکی پیدا ہو وہ نہ تو اسے زندہ دفن نہ کرے اور نہ ہی اس کے ساتھ برا سلوک کرے اور نہ اس پر اپنے لڑکے کو ترجیح دے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا۔
پرورش کا حق :
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَنْ عَالَ ثَلَاثَ بَنَاتٍ، فَأَدَّبَهُنَّ، وَزَوَّجَهُنَّ، وَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ، فَلَهُ الْجَنَّةُ۔
سنن ابی داؤد، باب فضل من عال فی یتامیٰ، الرقم: 5147
ترجمہ: حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے تین بیٹیوں کی پرورش کی، انہیں )اخلاقی و معاشرتی( ادب سکھلایا ،ان کی )اچھی جگہ (شادی کی اور )بعد میں( ان کے ساتھ حسنِ سلوک کیا تو اس کے لیے جنت ہے۔
تعلیم کا حق:
جب سے اللہ تعالی نے انسانیت کو وجود بخشا اسی وقت سے مرد و عورت لازم و ملزوم کی حیثیت سے برابر چلے آرہے ہیں۔ مرد کو اللہ تعالی نے خارجی امور کا ذمہ دار قرار دیا اور عورت کو امور خانہ داری کے فرائض سونپے۔ مرد گھر سے باہر کے تمام معاملات کا نگہبان ہے اور عورت کو گھر کے اندرکے سارے امورتفویض ہوئے ہیں۔ چونکہ مرد وزن دونوں ہی معاشرے میں اپنی اپنی الگ الگ حیثیت کے حامل ہیں اس لیے دونوں کو آفاقی و سماوی ہدایات و احکامات کا مکلف بنایا گیا ہے۔ احکام اسلامیہ پر عمل دونوں کے لیے ضروری ہے۔اب دوسری طرف یہ بات اپنی جگہ پر مسلم ہے کہ عمل کا مدار علم پرہے۔ علم صحیح ہو گا تو عمل بھی درست ہوگا اور اگر علم صحیح نہ ہوا تو عمل بیکار ہوگا۔ اس تناظر میں جیسے مرد کی تعلیم اس کی ضرورت ہے ایسے ہی خاتون کی تعلیم بھی اس کی زندگی کا جزو لاینفک ہے۔ اگر مرد تعلیم کے حصول کے بغیر زندگی گزارے گا تو معاشرے کے لیے وبال جان اور سراسر خسارے اٹھانے والا ہوگا۔ اسی طرح اگر عورت تعلیم حاصل نہیں کرے گی تو زمانے پر بوجھ بنے گی۔معلوم ہوا کہ مرد کی طرح عورت کی تعلیم بھی ناگزیر ہے۔ یہاں تک تو سب اس پر متفق ہیں ،اس سے آگے جھگڑا شروع ہوتا ہے۔ اسلام کے نظام ِتعلیم میں عورت کی محض تعلیم ہی نہیں بلکہ اس کے حیاء ، تقدس اور عزت و شرافت کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے کہ یہ تعلیم تو بہر حال حاصل کرے ہی لیکن اسلام کے مقرر کردہ دائرے کے اندر رہتے ہوئے ، ایسی تعلیم جس سے اس کی دنیا بھی سنور جائے اور آخرت بھی۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح البخاری میں خواتین کی تعلیم کے بارے باب قائم کیا ہے:باب عظة الامام النساء وتعلیمہنّ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تعلیم و تربیت سے نوازتے ویسے ہی صحابیات کے درمیان بھی تعلیم و موعظت فرمایا کرتے تھے۔
حصول تعلیم کی شرعی حدود کی پاسداری:
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ اور منہج کو دیکھتے ہوئے شارحین حدیث یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اسلام میں خواتین کی تعلیم ضروری ہے لیکن حصولِ تعلیم کے وقت اس بات کا بخوبی جائزہ لینا چاہیے کہ جو امور اسے زندگی میں پیش آتے رہتے ہیں انہی امور کی تعلیم سے آراستہ کرنا چاہیے۔ یعنی لکھنا پڑھنا ،عقائد و اعمال کی اصلاح ، تہذیب و شائستگی ، وہ علوم جن پر دنیوی و اخروی فلاح و کامیابی منحصر ہے ، تربیت اولاد ، اطاعت زوج اور حقوق العباد وغیرہ۔اس حدتک تو اسلام کے نظام تعلیم میں خواتین کے حصول علم کی اجازت اور ضرورت ثابت ہےبچیوں کو اپنی عزت و آبرو ، حیا و وقار اور شرافت کی حدود میں رہ کر تعلیم حاصل کرنی چاہیے تاکہ اس کی عفت ، پاکدامنی ، اسلامی تمدن و تہذیب پامال نہ ہونے پائے۔
تربیتی حق:
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسے مردوں کی تعلیم و تربیت فرمائی ہے اسی طرح خواتین کی تعلیم و تربیت فرمائی ہے ۔ تربیت کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں متعدد احادیث میں خواتین کو زندگی گزارنے کی تعلیمات ارشاد فرمائی ہیں وہیں پر بطور خاص ان کی اخلاقی و روحانی تربیت کے پیش نظر ان سے چند اہم امور پر بیعت بھی لی ہے ۔
يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ يَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْجُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ فَبَايِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ۔
سورۃ الممتحنۃ ، رقم الآیۃ: 12
ترجمہ: اے نبی!جب آپ کے پاس ایمان والی خواتین ان باتوں پر بیعت کرنے آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی ، چوری نہیں کریں گی ، زنا نہیں کریں گی ، اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی ، نہ کوئی ایسا بہتان باندھیں گی جو انہوں نے اپنے ہاتھوں اور پاؤں سے گھڑ لیا ہو اور نہ ہی کسی اچھے کام میں تمہاری نافرمانی کریں گی تو آپ انہیں بیعت کر لیا کریں اور ان کے حق میں اللہ سے مغفرت کی دعا کیا کریں ، یقیناً اللہ بہت زیادہ بخشنے والا اور بے حد مہربان ہے ۔
مسئلہ: آج بھی عورتیں باپردہ ہو کر کسی متبع سنت شیخ سے بیعت ہو سکتی ہیں ۔
معاشی حقوق:
مضبوط معیشت اچھی معاشرت کا سنگ میل ہوتی ہے اس لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کی اچھی معیشت کے لیے اقدامات کیے ہیں ۔ عورت کے حیاء وتقدس اور عفت و وقار کا اسلام اس قدر خیال کرتا ہے کہ اس کے کندھوں پر کمانے کے بوجھ نہیں لادتا بلکہ اس کا نان و نفقہ ہر حالت میں مرد کے ذمہ لگاتا ہے ۔ اسلام سے پہلے اور اسلام کے علاوہ کسی دین میں عورت کو اس قدر عزت نہیں بخشی گئی جتنی اسلام نے اسے دی ہے ۔ اگر بیٹی ہے تو باپ کے ذمہ، بہن ہے تو بھائی کے ذمہ، بیوی ہے تو شوہر کے ذمہ اور اگر ماں ہے تو اولاد کے ذمہ ۔ شادی بیاہ ہو تو حق مہر کی صورت میں ، مورث فوت ہوجائے تو میراث کی صورت میں اسلام عورت کو معاشی طور پر خود کفیل بناتا ہےاور خودمختار بناتا ہے اور ہر ہر موقع پران کے حسنِ سلوک کا سبق دیتا ہے۔
آزادی نسواں کا دلفریب نعرہ:
آزادی نسواں کے دلفریب نعرے کی آڑ میں مغرب اور مغربی نظام نے عورت کو روزی کمانے میں لگا کر اسے تمام فطری اور اخلاقی قیود سے آزاد کر دیا ہے جس کی وجہ سے معاشرہ تباہی کے دہانے پر جا کھڑا ہوا ہے ۔
تمدنی حقوق:
انسانی زندگی میں مرد اور عورت باہم لازم ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اس بارے بھی عورت کو خودمختاری فراہم کرتی ہے ۔ عورت کو نکاح کے معاملے میں آزای دی ہے، سن بلوغ کو پہنچنے کے بعد وہ اپنے نکاح کا فیصلہ خود کر سکتی ہے۔
خلع کا حق:
مزید یہ کہ نکاح کے بعدباہمی معاملات سنگینی کی طرف جانے لگیں تو فسخ نکاح کے لیے خلع کا حق بھی اسلام نے عورت کو دیا ہے لیکن ایسی آزاد آزادی کی آگ میں بھی نہیں جھونکا کہ وہ خاندانی طور پر محرومی کا شکار ہو یا فسق و فجور میں مبتلا ہو جائے ایسے وقت میں اسلام اولیاء کونکاح کے معاملے میں دخل اندازی کی اجازت دیتا ہے تاکہ عورت کا مستقبل برباد ہونے سے بچ جائے ۔ یہ سراسر شفقت ہے جسے مسلم معاشرے کی بعض مغربی اقدار سے متاثرہ بچیاں اپنے اوپر ظلم سمجھتی ہیں ۔
اظہار رائے کا حق:
ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دوران خطبہ خواتین کے مہنگے مہنگے حق مہر کے بارے ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا تو ایک عورت نے کہا : اے عمر!آپ ہمارے مہروں کو کس طرح کم کرسکتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سونے کے ڈھیر تک مہر لینے کا حق دیا ہے ۔ اور قرآن کریم سورۃ النساء کی آیت نمبر 20 بھی تلاوت کی ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس پر بہت خوش ہوئے اور خواتین کے اظہار رائے کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے فرمایا: مدینہ کی خواتین عمر سے زیادہ دین کی سمجھ رکھتی ہیں۔
ہر گھر میں عورت کے چار روپ نظر آتے ہیں۔ ماں ، بہن ، بیوی اور بیٹی۔ چاروں کے بارے ایک ایک حدیث مبارک ملاحظہ فرمائیں۔
ماں کا مقام:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِي قَالَ أُمُّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ أُمُّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ أُمُّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أَبُوكَ۔
صحیح البخاری،باب من احق الناس بحسن الصحبۃ، الرقم: 5971
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی : اے اللہ کے رسول!سب سے زیادہ میرے حسن سلوک کا مستحق کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ کی والدہ اس نے عرض کی کہ پھر کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے)دوسری بار ( فرمایا :آپ کی والدہ ۔ اس نےعرض کی پھر کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے )تیسری بار بھی یہی (فرمایا: آپ کی والدہ ۔ سائل نے جب چوتھی بار سوال دہرایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے آپ کے والد ۔
بہن کا مقام:
عَنْ أَبِي سَعِيدِ نِ الخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ أَوْ ثَلَاثُ أَخَوَاتٍ أَوْ ابْنَتَانِ أَوْ أُخْتَانِ فَأَحْسَنَ صُحْبَتَهُنَّ وَاتَّقَى اللَّهَ فِيهِنَّ فَلَهُ الجَنَّةُ۔
جامع الترمذی ، باب ماجاء فی النفقۃ علی البنات والاخوات ، الرقم: 1916
ترجمہ: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں یا پھر دو بیٹیاں یا دو بہنیں ہوں اس نے ان کی اچھی تربیت کی ہو اور ان کی حق تلفی کے بارے اللہ سے ڈرتا رہے تو اس کے لیے جنت ہے ۔
بیوی کا مقام:
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي۔
جامع الترمذی ، باب فضل ازواج النبی ، الرقم: 3830
ترجمہ: سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سب سے بہترین وہ لوگ ہیں جو اپنی بیویوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں اورمیں تم میں اپنی بیویوں کے ساتھ بہترین برتاوٴ کرنے والا ہو۔
بیٹی کا مقام:
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ ابْتُلِيَ بِشَيْءٍ مِنَ البَنَاتِ فَصَبَرَ عَلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ حِجَابًا مِنَ النَّارِ۔
جامع الترمذی ، باب ماجاء فی النفقۃ علی البنات والاخوات ، الرقم: 1913
ترجمہ: ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص کو کچھ بیٹیوں کے ذریعے آزمائش میں ڈالا گیا اس نے اس پر صبر کیا تو وہ بیٹیاں قیامت کے دن جہنم سے ڈھال بن جائیں گی ۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
آمین بجاہ سیدالانبیاء والمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
والسلام
محمدالیاس گھمن
مسجد الکوثر الخوض ، مسقط ، سلطنت عمان
24 جنوری ،جمعرات ، 2019ء