سورۃ حٰم السجدۃ

User Rating: 4 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Inactive
 
سورۃ حٰم السجدۃ
بِسۡمِ اللہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
﴿حٰمٓ ۚ﴿۱﴾ تَنۡزِیۡلٌ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۚ﴿۲﴾ کِتٰبٌ فُصِّلَتۡ اٰیٰتُہٗ قُرۡاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ ۙ﴿۳﴾ ﴾
میں نے کہا تھا کہ سات سورتیں ایسی ہیں کہ جن کے شروع میں حٰم آیا ہے۔ انہیں حوامیم بھی کہتے ہیں اور آل حٰم بھی کہتے ہیں اور پھر ہر ایک کو الگ کرنے کے لیے ساتھ کوئی لفظ بڑھا دیتے ہیں جیسے حم المؤمن، حم السجدۃ و غیرہ۔
ابو الولید عتبہ بن ربیعہ کے قرآن سننے کا واقعہ:
﴿تَنۡزِیۡلٌ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۚ﴿۲﴾ ﴾
قرآن مجید اس ذات کی طرف سے نازل ہوا ہے جو رحمٰن اور رحیم ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حرم کعبہ کے ایک کونے میں الگ بیٹھے تھے اور عتبہ بن ربیعہ -ابو الولید جس کی کنیت تھی- وہ حرم کعبہ کے دوسرے کونے میں قریشیوں کی ایک جماعت کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے قریش سے کہا کہ اگر تم کہو تو میں جا کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرو ں، صلی اللہ علیہ وسلم، آپ کو کچھ پیشکش کروں کہ آپ تبلیغ چھوڑ دیں اور ہمارے مذہب کو برا نہ کہیں۔
ان لوگوں نے کہا کہ آپ چلے جائیں۔ تو عتبہ بن ربیعہ اٹھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس نے جا کر کہا کہ محمد! آپ ہم میں بڑے قابل احترام ہیں، آپ ایسی دعوت لے کر آئے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے خاندان میں پھوٹ پیدا ہو گئی ہے۔ اس لیے میں چند چیزیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں، آپ جس کو پسند فرما لیں ہم ماننے کے لیے تیار ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ نے جو بات کہنی ہیں وہ کہہ دیں، میں آپ کی ساری بات سنتا ہوں۔ اس نے کہا کہ بھتیجے! آپ نے جو دعوت اور تبلیغ شروع کی ہے اگر اس کا مقصد یہ ہے کہ آپ حکومت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو اپنا حاکم مان لیتے ہیں، بادشاہ بنا لیتے ہیں، اگر آپ کو دولت چاہیے تو ہم اکٹھی کر کے دے دیتے ہیں، یوں قریش میں سب سے بڑے مالدار آپ ہوں گے اور اگر آپ پر کوئی جن ہے، کوئی اثر ہے جس کی وجہ سے آپ ایسی باتیں کرتے ہیں تو ہم آپ کا علاج کرا لیتے ہیں۔
جب اس نے ساری بات کہہ لی تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت حٰم السجدۃ کی تلاوت شروع فرمائی، جب آپ یہاں پر پہنچے
﴿فَاِنۡ اَعۡرَضُوۡا فَقُلۡ اَنۡذَرۡتُکُمۡ صٰعِقَۃً مِّثۡلَ صٰعِقَۃِ عَادٍ وَّ ثَمُوۡدَ ﴿ؕ۱۳﴾﴾
تو ابو الولید پر خوف طاری ہو گیا۔ اس نے اپنا ہاتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ مبارک پر رکھا اور کہا کہ میں خاندان اور قرابت کا واسطہ دیتا ہوں کہ رک جائیں اور آگے نہ پڑھیں! ابو الولید ڈر گیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم پر عذاب آئے۔ ایک روایت میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت شروع کی تو ابو الولید غور سے سننے لگا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم آیتِ سجدہ پر پہنچے تو آپ نے سجدہ کیا اور پھر فرمایا کہ ابو الولید! آپ نے میرا پیغام سن لیا ہے، اب آپ کو پورا اختیار ہے کہ جو چاہو کرو!
ابو الولید واپس آیا تو اس کا چہرا اترا ہوا تھا۔ قریش نے سمجھا کہ اس پر محمد کے کلام کا اثر ہو گیا ہے، صلی اللہ علیہ وسلم، اس نے آ کر کہا کہ جو کچھ میں نے دیکھا ہے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ بہتر یہی ہے کہ تم لوگ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو۔ اگر قریش کے علاوہ باقی عرب ان پر غالب آ گئے تو وہ ختم کر دیں گے اور ہمارا کام بغیر لڑائی کے ہو جائے گا اور اگر یہ باقی عرب پر غالب آ گئے تو ان کی حکومت ہماری حکومت ہے، ان کی عزت ہماری عزت ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ تم ان کو چھوڑ دو! تو اس موقع پر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیات تلاوت فرمائی تھیں۔
رحمٰن اور رحیم کے معنی میں فرق:
﴿تَنۡزِیۡلٌ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۚ﴿۲﴾ ﴾
یہاں پر ایک لفظ الرحمٰن ہے اور ایک لفظ الرحیم ہے۔ رحمٰن اور رحیم کے معنی میں فرق ہے۔ رحمٰن کہتے ہیں عام الرحمۃ کو اور رحیم کہتے ہیں تام الرحمۃ کو۔
رحمٰن کہ جس کی رحمت عام ہو اور رحیم کہ جس کی رحمت خاص اور مکمل ہو۔ کسی شخص کے پاس جتنی شفقت ہو وہ ساری ایک کو دے دے تو یہ ہو سکتا ہے اور ایک شخص اپنی شفقت ہر کسی کو دے دے تو ایسا نہیں ہو سکتا۔ ایک شخص کے پاس جتنی بھی دولت ہے ساری ایک شخص کو دے دے یہ تو ہو سکتا ہے لیکن ایک شخص کے پاس اتنی دولت ہو کہ دنیا میں ہر بندے کو دے تو یہ نہیں ہو سکتا۔
توایک ہے عام الرحمۃ اور ایک ہے تام الرحمۃ۔ اللہ رب العزت کی رحمت عام بھی ہے اور تام بھی ہے۔ دنیا میں اللہ اپنی رحمت ہر کسی کو دیتے ہیں اور قیامت کے دن اللہ اپنی رحمت ہر کسی کو نہیں دیں گے بلکہ صرف ایمان والوں کو دیں گے۔ تو عام الرحمۃ والی صفت کا ظہور اس دنیا میں ہوتا ہے اور تام الرحمۃ والی صفت کا ظہور قیامت والے دن ہو گا۔
مخلوق کو رحمٰن کہنا جائز نہیں!
کسی بشر کے لیے رحیم کا لفظ استعمال کرنا جائز ہے اور رحمٰن کا لفظ استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔ قرآن کریم میں ہے:
﴿لَقَدۡ جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَا عَنِتُّمۡ حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۲۸﴾﴾
التوبۃ9: 128
کہ تمہارے پاس ایک رسول آیا ہے جو تم ہی میں سے ہے۔ تمہاری تکلیف اس کو بہت گراں گزرتی ہے، اس کو تو بس تمہاری ہی فکر لگی ہوئی ہے۔ اور پیغمبر ایمان والوں کے لیے شفیق اور رحیم ہیں۔
تو یہاں
”رحیم“
کا لفظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے استعمال ہوا ہے لیکن رحمٰن کا لفظ اللہ کے علاوہ کسی اور کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔
آپ تفسیر اٹھائیں گے تو وہاں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کا ترجمہ لکھا ہو گا کہ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ ”نہایت رحم والا“ یہ رحیم ہے، کہ جتنا اس کے پاس ہے وہ سارا دے دے، یہ ہے رحیم۔
اور بندے کے پاس جو کچھ ہو وہ سب کسی کو دے دے تو یہ بندے کے اختیار میں ہے لیکن ہر کسی کو دے تو یہ بندے کے بس میں نہیں ہے، اس لیے کسی شخص کو رحمٰن کہنا ٹھیک نہیں ہے۔ عبد الرحمٰن کو رحمٰن بھائی کہیں تو یہ ٹھیک نہیں ہے، عبد الرحیم کو رحیم بھائی کہیں تویہ ٹھیک ہے۔ رحیم کا اطلاق مخلوق پر ہوا ہے لیکن رحمٰن کا اطلاق مخلوق پر نہیں ہوا۔ تو دونوں میں فرق ہے۔
اس لیے اللہ کے بارے میں کہتے ہیں؛ الرحیم فی الدنیا والرحمٰن فی الآخرۃ۔ دنیا میں اللہ کی رحمت ہر کسی کو ملتی ہے، کافر کو بھی اور مسلمان کو بھی لیکن آخرت میں اللہ صرف ایمان والوں کو دیں گے، وہاں کافر کو رتی برابر بھی رحمت نہیں دیں گے یعنی ایسی رحمت جس سے بندے کا کام ہوتا ہو ورنہ قیامت کے دن کسی نہ کسی درجے کی رحمت تو کافر کو بھی ملے گی۔ مثلاً حساب کتاب شروع نہ ہو تو بہت پریشانی ہے، حساب کتاب کا شروع ہوجانا یہ رحمت ہے، کافر کو جتنا عذاب ہوتا ہے اللہ اس سے زیادہ دینے پر قادر ہیں لیکن نہیں دیتے تو یہ بھی رحمت ہے۔ تو کافر کو کسی درجے میں رحمت ملے گی لیکن ایسی رحمت کہ جس کو نعمتوں سے تعبیر کریں، جس سے آسانیا ں نظر آئیں یہ رحمت اللہ صرف مؤمن کو دیں گے، کفار کو نہیں دیں گے۔
قرآن کریم کو عربی میں نازل کرنے کی حکمت:
﴿کِتٰبٌ فُصِّلَتۡ اٰیٰتُہٗ قُرۡاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ ۙ﴿۳﴾﴾
یہ ایسی کتاب ہے کہ جس کے مضامین کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ قرآن عربی زبان میں ہے ایسے لوگوں کے لیے جو دانشمند ہیں۔ حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے اس قرآن سے وہی لوگ نفع حاصل کرتے ہیں جو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔
”فُصِّلَتْ“
یہ
”فَصْلٌ“
سے ہے۔مضمون الگ الگ بیان کریں تو بھی فَصْل ہوتا ہے اور مضمون ایک ہو اور کھل کر بیان کریں تب بھی فَصْل ہے۔
﴿بَشِیۡرًا وَّ نَذِیۡرًا ۚ فَاَعۡرَضَ اَکۡثَرُہُمۡ فَہُمۡ لَا یَسۡمَعُوۡنَ ﴿۴﴾﴾
یہ قرآن خوشخبری بھی دیتا ہے اور ڈراتا بھی ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگوں نے قرآن سے منہ موڑ لیا ہے اور اس کو سنتے ہی نہیں!
بشیر اور نذیر جیسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتیں ہیں ایسے ہی قرآن کریم کی بھی صفتیں ہیں۔ ”نذیر“ ہیں کہ پہلے نافرمانوں اور نہ ماننے والوں کو ڈراتے ہیں اور”بشیر“ ہیں کہ جب بندہ فرمانبردار بن جاتا ہےتو اسے خوشخبریاں دیتے ہیں۔ ”بشیر“ ہیں کہ مؤمنین کو خوشخبریاں دیتے ہیں اور ”نذیر“ ہیں کہ کفار کو ڈراتے ہیں۔ تو یہ بشیر اور نذیر دونوں جگہ پر چلتاہے، ہر ادارےمیں چلتا ہے، ہر تحریک میں چلتا ہے اور یہی اسلوب اللہ پاک نے قرآن کریم میں بھی اختیار فرمایا ہے۔
کفار کی ہٹ دھرمی:
﴿وَ قَالُوۡا قُلُوۡبُنَا فِیۡۤ اَکِنَّۃٍ مِّمَّا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَیۡہِ وَ فِیۡۤ اٰذَانِنَا وَقۡرٌ وَّ مِنۡۢ بَیۡنِنَا وَ بَیۡنِکَ حِجَابٌ فَاعۡمَلۡ اِنَّنَا عٰمِلُوۡنَ ؓ﴿۵﴾﴾
کافر کہتے ہیں کہ جس چیز کی طرف آپ ہمیں بلا رہے ہیں اس کے لیے ہمارے دل پردے میں ہیں اور ہمارے کانوں میں بوجھ پڑے ہوئے ہیں، ہمارے اور آپ کے درمیان حجاب ہے -اس لیے ہم آپ کی بات نہیں سن سکتے- آپ اپنا کام کریں اور ہم اپنا کام کریں۔
اب دیکھو! جتنی باتیں وہ لوگ کر رہے تھےاس کا معنی یہ نہیں تھا کہ کوئی درمیان میں کوئی پردہ تھا، پردہ نہیں تھا کیونکہ ہوتا تو نظر آ جاتا۔ یہ محض کفار کی ہٹ دھرمی تھی کہ ہم تمہاری بات نہیں سن رہے۔ اب پیغمبر کو حکم ہے:
﴿قُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ یُوۡحٰۤی اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰـہُکُمۡ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ فَاسۡتَقِیۡمُوۡۤا اِلَیۡہِ وَ اسۡتَغۡفِرُوۡہُ ؕ وَ وَیۡلٌ لِّلۡمُشۡرِکِیۡنَ ۙ﴿۶﴾﴾
آپ فرمائیں کہ میں بھی تم جیسا انسان ہوں البتہ مجھ پر یہ وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے، بس اسی کی طرف متوجہ رہو اور اسی سے مغفرت مانگو!، اور مشرکین کے لیے تباہی ہے۔ جو بات نہیں مانتا وہ دنیا میں بھی تباہ ہو گا اور آخرت میں بھی تباہ ہو گا۔
کفار احکام کے مکلف ہیں یا نہیں؟
﴿الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ ہُمۡ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ کٰفِرُوۡنَ ﴿۷﴾﴾
وہ مشرک تباہ ہوں گے جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے اور آخرت کا بھی انکار کرتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ زکوٰۃ ادا کرنا مسلمان کے ذمہ ہے احکام کا مکلف مسلمان ہوتاہے کافر نہیں جب کافر احکام کے مکلف ہی نہیں ہیں تو ان کی برائی میں یہ بات کیوں کی جاتی ہے کہ زکوٰۃ نہیں دیتے؟
اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ یہ مسئلہ علماء میں اختلافی ہے بعض کہتے ہیں کہ جیسے مسلمان احکام کے مکلف ہیں ایسے کافر بھی احکام کے مکلف ہیں۔
اور بعض کہتے ہیں مسلمان مکلف ہیں کافر مکلف نہیں ہیں۔
جوکہتے ہیں کہ کفار بھی ا حکام کے مکلف ہیں ان کے ہاں تو اعتراض ہی نہیں ہے۔ جن کے ہاں کافر احکام کے مکلف نہیں ہیں ان کے ہاں مطلب کیا ہے؟
ان کامطلب یہ ہے کہ اصل میں یہ بتایاجارہاہے کہ زکوٰۃ دینا مسلمان پر فرض ہے اگر تم مسلمان ہوتےتو تم بھی زکوٰۃ دیتے لیکن تم مسلمان نہیں ہو اس لیے تم زکوٰۃ بھی نہیں دیتے۔
﴿لَا یُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ﴾
کی اصل بنیاد ہے ایمان تباہی ہو مشرکین کے لیے کہ جو زکوٰۃ نہیں دیتے مسلمان ہوتے تو زکوٰۃ بھی دیتے چونکہ یہ مسلمان نہیں ہیں اس لیے زکوٰۃ بھی نہیں دیتے لہذا ان کے لیے تباہی ہے۔
اور یہ بات ان کو کیوں سمجھائی جارہی ہے حالانکہ مسلمان تو نماز بھی پڑھتا ہے، زکوٰۃ بھی دیتاہے لیکن یہاں نماز کی بات نہیں کی زکوٰۃ کی بات کی ہے یہ بتانے کے لیے کہ عرب لوگ مالدار تھے اور یہ لوگ صدقہ بھی کرتے تھے، خرچہ بھی کرتے تھے، غریبوں پر مال خرچ کرتے تھے اور مہمانوں پر بھی مال خرچ کرتے تھے لیکن جو کلمہ پڑھتا اس پر خرچ کرنا بند کردیتے تھے تو یہ طعنہ دیاجارہاہے کہ جب تمہارا خرچ کرنے کا مزاج ہے تو ایک مسلمان پر تمہارا ہاتھ کیوں تنگ ہوتاہے؟
تو یہاں
"لَایُصَلُّوْنَ"
کی بات نہیں کی
﴿لَا یُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ﴾
کی بات کی ہے کہ تمہارے پاس مال ہے تم خرچ بھی کرتے ہو لیکن جونہی مسلمان آتاہے تو تم زکوٰۃ بھی نہیں دیتے خرچ بھی نہیں کرتے۔ تو موافق اور مخالف میں خرچ کے حوالے سے آدمی کا دل تھوڑا ساکھلا ہونا چاہیے، تمہارا یہ مزاج ٹھیک نہیں ہے۔
یہاں
﴿لَا یُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ﴾
فرمایا تو دوسرا سوال یہ ہے کہ زکوٰۃ تو مکہ مکرمہ میں فرض ہی نہیں تھی مدینہ منورہ میں فرض ہوئی تھی تویہاں زکوٰۃ کی بات کیسے کی ہے؟
اس کا جواب یہ ہے اجمالی طور پر نماز اور زکوٰۃ مکہ مکرمہ میں ہی فرض تھی جس طرح سورت مزمل سے پتہ چل رہاہے۔ سورت مزمل مکی سورت ہے وہاں زکوٰۃ کا ذکر بھی ہے اور نماز کا ذکر بھی ہے تو نماز اور زکوٰۃ مکہ مکرمہ میں فرض تھی لیکن اجمالاً۔ نصاب اور تفصیلات مدینہ منورہ میں آئی تھیں۔ مکہ میں نماز فرض تھی چھپ کر دار ارقم میں پڑھتے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے تو نماز کھل کے پڑھی ہے تونماز تھی تبھی تو پڑھ رہے تھے لیکن باقاعدہ پانچ اذانیں ہو ں پانچ نمازیں ہوں پھر جماعت ہو پھر اتنی رکعات ہوں یہ اہتمام مکہ میں نہیں بلکہ مدینہ میں ہوا ہے۔
اس طرح زکوٰۃ خرچ کرنا یہ مکہ میں بھی تھا لیکن کتنا خرچ کرنا ہے، اس کی شرائط کیا ہیں، کس پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہے؟ یہ تفصیلات مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہیں۔
ایمان اور عمل صالح کا لامتناہی اجر:
﴿اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمۡ اَجۡرٌ غَیۡرُ مَمۡنُوۡنٍ ٪﴿۸﴾﴾
جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے تو ان کے لیے ایسا اجر ہو گا جو کبھی ختم نہیں ہو گا۔
ختم نہ ہونے کے دومعنی ہیں؛ ایک معنی یہ ہے کہ اجر دائمی ہوگا جو جنت کی صورت میں ملے گا اور کبھی ختم نہیں ہو گا۔ دوسرا اس کا معنی یہ ہے کہ یہ اجر ایسا ہو گا کہ آدمی اعمال کرے صحت کی حالت میں اور پھر کسی بیماری کی وجہ سے عمل نہ کر سکے تو اللہ بیماری کی حالت میں بھی اس اجر کو باقی رکھتے ہیں جو حالتِ صحت میں ہوتا تھا۔
زمین پہلے بنی یا آسمان؟ ایک تعارض کا حل:
﴿ قُلۡ اَئِنَّکُمۡ لَتَکۡفُرُوۡنَ بِالَّذِیۡ خَلَقَ الۡاَرۡضَ فِیۡ یَوۡمَیۡنِ وَ تَجۡعَلُوۡنَ لَہٗۤ اَنۡدَادًا ؕ ذٰلِکَ رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۚ﴿۹﴾ وَ جَعَلَ فِیۡہَا رَوَاسِیَ مِنۡ فَوۡقِہَا وَ بٰرَکَ فِیۡہَا وَ قَدَّرَ فِیۡہَاۤ اَقۡوَاتَہَا فِیۡۤ اَرۡبَعَۃِ اَیَّامٍ ؕ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِیۡنَ ﴿۱۰﴾ ثُمَّ اسۡتَوٰۤی اِلَی السَّمَآءِ وَ ہِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَہَا وَ لِلۡاَرۡضِ ائۡتِیَا طَوۡعًا اَوۡ کَرۡہًا ؕ قَالَتَاۤ اَتَیۡنَا طَآئِعِیۡنَ ﴿۱۱﴾ فَقَضٰہُنَّ سَبۡعَ سَمٰوَاتٍ فِیۡ یَوۡمَیۡنِ وَ اَوۡحٰی فِیۡ کُلِّ سَمَآءٍ اَمۡرَہَا ؕ﴾
آپ فرما دیں کہ کیا تم اس ذات کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دنوں میں پیدا کیا ہے اور تم اس ذات کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہو حالانکہ وہ ذات ایسی ہے جو تمام جہانوں کو پالنے والی ہے اور اسی نے زمین پر پہاڑ رکھ دیے اور اس میں برکت دی اور مخلوقات کی غذائیں اس زمین میں پیدا کیں تو یہ چار دن ہو گئے۔ اللہ نے یہ جو غذائیں پیدا فرمائی ہیں تو اس سے ضرورت مند یکساں طور پر فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس کے بعداللہ نے آسمان کا ارادہ فرمایا جو دھوئیں کی شکل میں تھا، آسمان اور زمین کو حکم فرمایا: جبراً ہو یا خوشی سے تم نے ہماری بات ماننی ہے تو آسمان اور زمین نے کہا کہ ہم خوشی سے مانتے ہیں۔ تو اللہ نے دو دنوں میں سات آسمان مکمل کر دیے - یوں چھ دن مکمل ہوئے – پھر ہر آسمان میں اس کے مناسب جو حکم تھا وہ بھیجا۔
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے زمین کو پہلے پیدا فرمایا اور سورۃ البقرۃ کی آیت سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ زمین پہلےبنائی گئی ہے اور آسمان بعد میں، اللہ نے فرمایا:
﴿ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ لَکُمۡ مَّا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا ٭ ثُمَّ اسۡتَوٰۤی اِلَی السَّمَآءِ فَسَوّٰىہُنَّ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ ؕ﴾
البقرۃ2 : 29
کہ اللہ نے پہلے زمین بنائی اور پھر آسمان کا ارادہ فرمایا اور سات آسمان تخلیق فرمائے۔
لیکن آخری پارے کی سورۃ النٰزعٰت سے معلوم ہوتا ہے کہ ترتیب اس سے الگ ہے کہ پہلے آسمان کو پیدا کیا گیا اور پھر زمین کو۔ سورۃ النٰزعٰت میں ہے:
﴿ءَاَنۡتُمۡ اَشَدُّ خَلۡقًا اَمِ السَّمَآءُ ؕ بَنٰہَا ﴿ٝ۲۷﴾ رَفَعَ سَمۡکہہا فَسَوّٰىہَا ﴿ۙ۲۸﴾ وَ اَغۡطَشَ لَیۡلَہَا وَ اَخۡرَجَ ضُحٰہَا ﴿۪۲۹﴾ وَ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ ذٰلِکَ دَحٰىہَا ﴿ؕ۳۰﴾﴾
النٰزعٰت79: 27 تا 30
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمان پہلے بنایا اور زمین بعد میں۔تو ان میں کیا تطبیق ہے؟
اس کا جواب جو حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے دیا ہے، وہ یہ کہ اللہ نے پہلے زمین کا مادہ بنایا اور پھر آسمان کا مادہ دُخانیہ بنایا۔ اس کے بعد آسمان کے مادہ دُخانیہ سے مکمل آسمان بنایا پھر زمین کے بنے ہوئے مادہ سے زمین کو مکمل کیا۔اب آیات کے درمیان کوئی تعارض نہیں ہو گا۔
بیان القرآن: ج3 ص325
تو یہاں جو ہے
”خَلَقَ الۡاَرۡضَ فِیۡ یَوۡمَیۡنِ“
کہ اللہ نے دو دنوں میں زمین کو بنایا تو اس سے مراد زمین کا مادہ ہے اور
”ثُمَّ اسۡتَوٰۤی اِلَی السَّمَآءِ وَ ہِیَ دُخَانٌ“
سے مراد یہ ہے کہ زمین کا مادہ بنانے کے بعد پھر آسمان کا مادہ دخانیہ بنایا، اور سورۃ النٰزعٰت سے جو معلوم ہوتا ہے کہ پہلے آسمان کو بنایا اور پھر زمین کو بنایا تو وہ اس طرح کہ آسمان کا جب مادہ دخانیہ بنایا تھا تو اس کو پہلے مکمل آسمان بنایا، پھر جو زمین کا مادہ تیار کیا تھا اس سے زمین کو مکمل بنا دیا۔ اب دونوں باتیں ٹھیک ہیں۔
کس دن کس چیز کی تخلیق ہوئی؟
یہ دن کون کون سے تھے؟ تو اکثر روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ اتوار، پیر، منگل اور بدھ کے دن تھے۔اتوار اور پیر کے دن زمین بنائی، منگل کے دن پہاڑ بنائے اور پہاڑوں سے متعلقہ جو چیزیں ہیں زمین کو مضبوط کرنے کے لیے وہ بنائیں، بدھ کو غذائیں، پانی اور چشمے بنائے۔ یہ چار دن ہو گئے۔ پھر جمعرات کے دن کو آسمان بنایا، آگے جو جمعہ کا دن تھا تو جمعہ کی تین ساعات میں سے کچھ وقت میں آسمان کو تیار کیا اور باقی جو ساعات رہ گئی تھیں تو اس میں مصائب و آلام، مشقتوں اور تکالیف کو پید ا کیا۔ پھر اس کے بعد آدم علیہ السلام کو پیدا کیا، جنت میں رکھا، پھر فرشتوں اور ابلیس کو سجدے کا حکم دیا، ملائکہ نے سجدہ کر لیا لیکن ابلیس نے انکار کیا۔ یوں جمعہ کے دن سارے کام مکمل ہو گئے صرف چھ دن میں۔
اس پر اتنا سوال ذہن میں آتا ہے کہ اس وقت دن تو تھے ہی نہیں، دن تو بنے ہیں سورج بنانے کے بعد، تو پھر ان دنوں کا مطلب کیا ہے؟ جواب یہ ہے کہ یہاں دن سے مراد حقیقی دن نہیں ہے بلکہ دن سے مراد دنوں کی مقدار ہے۔ جیسے چوبیس گھنٹے کا ایک دن ہوتا ہے تو یہاں چوبیس گھنٹے․․․ چوبیس گھنٹے ․․․ چوبیس گھنٹے․․․ یوں دنوں کی مقدار بیان فرمائی ہے۔
اعضائے جسمانی کی گواہی:
﴿وَ یَوۡمَ یُحۡشَرُ اَعۡدَآءُ اللہِ اِلَی النَّارِ فَہُمۡ یُوۡزَعُوۡنَ ﴿۱۹﴾ حَتّٰۤی اِذَا مَا جَآءُوۡہَا شَہِدَ عَلَیۡہِمۡ سَمۡعُہُمۡ وَ اَبۡصَارُہُمۡ وَ جُلُوۡدُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ﴿۲۰﴾ وَ قَالُوۡا لِجُلُوۡدِہِمۡ لِمَ شَہِدۡتُّمۡ عَلَیۡنَا ؕ قَالُوۡۤا اَنۡطَقَنَا اللہُ الَّذِیۡۤ اَنۡطَقَ کُلَّ شَیۡءٍ وَّ ہُوَ خَلَقَکُمۡ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۲۱﴾ ﴾
اس دن کو یاد کرو جب اللہ کے دشمنوں کو آگ کی طرف ٹولیوں کی شکل میں لے جایا جائے گا۔ جب یہ آگ کے قریب جا پہنچیں گے تو ان کے کان، ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں ان کے اعمال کی گواہی دیں گی۔ یہ لوگ اپنی کھال اور دیگر اعضا سے کہیں گے کہ ہمارے خلاف تم کیوں گواہی دیتے ہو؟ وہ کہیں گے : جس طرح اللہ نے اوروں کو بولنے کی توفیق دی ہے ایسے ہی اللہ نے ہمیں بھی قوتِ گویائی عطا کی ہے، اس لیے ہم تمہارے خلاف گواہی دیتے ہیں۔ اور وہی ہے جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا اور اسی کی طرف تمہیں لوٹایا جا رہا ہے۔
﴿وَ مَا کُنۡتُمۡ تَسۡتَتِرُوۡنَ اَنۡ یَّشۡہَدَ عَلَیۡکُمۡ سَمۡعُکُمۡ وَ لَاۤ اَبۡصَارُکُمۡ وَ لَا جُلُوۡدُکُمۡ وَ لٰکِنۡ ظَنَنۡتُمۡ اَنَّ اللہَ لَا یَعۡلَمُ کَثِیۡرًا مِّمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۲﴾﴾
اور تم اس بات سے تو چھپ ہی نہیں سکتے تھے کہ تمہارے کان، تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں تمہارے خلاف گواہی دیں بلکہ تمہارا خیال تو یہ تھا کہ اللہ کو تمہارے کئی اعمال کا پتا ہی نہیں! حالانکہ یہ تمہاری غلط فہمی ہے، یہ تمہارے اعضاء بھی دیکھتے ہیں اور اللہ بھی تمہیں دیکھتا ہے۔
﴿وَ ذٰلِکُمۡ ظَنُّکُمُ الَّذِیۡ ظَنَنۡتُمۡ بِرَبِّکُمۡ اَرۡدٰىکُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ مِّنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۲۳﴾﴾
اللہ کی ذات کے بارے میں تمہارا یہی گمان تمہیں لے ڈوبا اور تم تباہ وبرباد ہو گئے۔
حدیث پاک میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ بیٹھے بیٹھے مسکرا دیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم سمجھے کہ میں کیوں ہنسا ہوں؟ عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ! نہیں، فرمایا کہ میں ہنسا اس بات پر ہو ں کہ قیامت کے دن ایک بندہ اللہ سے کہے گا کہ یا اللہ! کیا آپ نے ہمیشہ مجھے ظلم سے بچا کر نہیں رکھا ہے؟ اللہ فرمائیں گے: بے شک بچا کر رکھا ہے۔اس پر بندہ کہے گا کہ یا اللہ! اگر یہی بات ہے تو پھر میں اپنے بارے میں کسی اور کی گواہی پر مطمئن نہیں ہوں، ہاں اگر میرے اپنے اعضاء گواہی دیں تو میں مطمئن ہو جاؤں گا۔ اس وقت اللہ فرمائیں گے کہ اچھا تو پھر تم اپنا حساب خود لے لو۔ اس وقت اس کی زبان کو بند کردیا جائے گا تواس کے ہاتھ بولنا شروع ہو جائیں گے، اس کے پاؤ ں بولیں گے،اس کا جسم بولے گا۔ یہ شخص سوچ رہا تھا کہ میرے خلاف کوئی گواہی دینے والا ہے ہی نہیں تو جن اعضاء سے اس نے گناہ کیے تھے وہی اعضا اس کے خلاف بولنے لگ جائیں گے۔ پھر اس شخص کی زبان کھول دی جائے گی تو وہ اپنے اعضاء سے کہے گا کہ یہ سارا کچھ تو میں تمہارے مزے کے لیے کرتا تھا، تمہیں آرام پہنچانے کے لیے کرتا تھا اور آج تم ہی میرے خلاف گواہی دیتے ہو۔
صحیح مسلم، رقم: 2969
اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائیں، اللہ ہم سب کو محفوظ رکھیں۔
اللہ تعالی سے عافیت مانگا کریں!
﴿اِنَّ الَّذِیۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللہُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا تَتَنَزَّلُ عَلَیۡہِمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ اَلَّا تَخَافُوۡا وَ لَا تَحۡزَنُوۡا وَ اَبۡشِرُوۡا بِالۡجَنَّۃِ الَّتِیۡ کُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ﴿۳۰﴾﴾
جن لوگوں نے یہ کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے، پھر اس پر ڈٹ گئے- ڈٹنے کا معنی ہے کہ اس بات پر قائم رہے اور اس موقف پر مضبوط رہے- تو ان پر ملائکہ نازل ہوتے ہیں، -جب موت کا وقت آتا ہے- ملائکہ کہتے ہیں کہ آئندہ کی زندگی کے بارے میں تمہیں خوف نہیں ہونا چاہیے اور جو پیچھے ہو چکا ہے اس پر تمہیں غم نہیں کرنا چاہیے کہ فلاں چیز چھوٹ گئی، فلاں چیز چھوٹ گئی، پچھلی پر غم نہ کرو اور آئندہ کا خوف نہ کرو، اور اس جنت پر خوش ہو جاؤ جس کا تمہارے ساتھ وعدہ ہے۔
﴿نَحۡنُ اَوۡلِیٰٓؤُکُمۡ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ فِی الۡاٰخِرَۃِ ۚ﴾
ہم تمہارے دوست ہیں دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی۔
مجھے سورت ہود نے بوڑھا کر دیا:
یہاں ”استقامت“ کا لفظ استعمال کیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم استقامت کے معاملے سے بہت خوف زدہ ہوتے تھے۔ آپ نے پڑھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک باسٹھ سال ہو رہی ہے اور بیس کے قریب بال آپ کی ڈاڑھی مبارک اورسر مبارک میں سفید تھے، باقی سارے بال سیاہ تھے یعنی آپ کا بڑھاپا ہے کہ صرف چند ایک بال سفید ہوئے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ کو کس چیز نے بوڑھا کر دیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:
”شَیَّبَتْنِیْ ہُوْدٌ وَ أَخَوَاتُها“
کہ مجھے سورت ھود اور اس جیسی دوسری سورتوں نے بوڑھا کر دیا۔عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ! سورت ھود کی کس آیت نے؟ فرمایا: اس آیت نے
﴿فَاسۡتَقِمۡ کَمَاۤ اُمِرۡتَ﴾
کہ تم ڈٹ جاؤ؟ اس آیت کے غم نے مجھے بوڑھا کر دیا ہے۔
المفردات: ص127
اس لیے اللہ تعالیٰ سے عافیت کی دعاکرنی چاہیے۔ استقامت بڑوں کا کام ہے، ہم بہت چھوٹے ہیں۔ ہمیں عافیت کی دعاکرنی چاہیے۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! اگر لیلۃ القدر مجھے مل جائے تو میں کون سی دعا مانگوں؟ فرمایا : یہ دعا مانگو!
"اَللّٰهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي."
سنن الترمذی، رقم: 3513
اے اللہ! آپ بہت زیادہ معاف فرمانے والے ہیں اور معاف فرمانے کو پسند بھی فرماتے ہیں، مولائے کریم مجھے معاف فرما دیں!
بھائی میرے لیے عافیت ہی مانگو!
اور میں کئی بار یہ عرض کر چکا ہوں کہ جب کوئی مجھے استقامت کی دعا دیتا ہے تو میں کہتا ہوں کہ استقامت کی دعا نہ دو بلکہ عافیت کی دعا دو۔ کئی بار ایسے ہوا ہے کہ میں جلسے سے فارغ ہوا ہوں اور کوئی دھڑلے دار بیان ہوا ہو تو لوگ فوراً کہتے ہیں کہ ماشاء اللہ! اللہ آپ کو استقامت دے۔ میں انہیں کہتا ہوں کہ استقامت کا معنی کہ اب اس تقریر پر پرچہ ہو، میں تھانے جاؤں، پھر جوتے کھاؤں، پھر جیل جاؤں، پھر رِہا ہوں اور پھر اسی طرح تقریر کروں... یہ ہے استقامت،اس لیے یہ دعا کرو کہ اللہ آپ کو عافیت دیں۔ عافیت کا معنی کہ مولانا صاحب بیان کریں، دیسی گھی میں دیسی مرغا کھائیں، بہترین سی مچھلی کھائیں، اچھی سی فیس ملے، آرام سے گھر واپس جائیں، پھر دوسرے دن واپس آ کر اسی طرح کا بیان کریں... یہ ہے عافیت۔ تو عافیت ٹھیک ہے یا استقامت ٹھیک ہے؟ (عافیت ٹھیک ہے۔ سامعین) اس لیے اللہ سے عافیت مانگا کریں۔ پھر میں ان سے کہتا ہوں کہ اپنے لیے استقامت مانگنی ہے تو شوق سے مانگو لیکن ہمارے لیے اللہ سے عافیت مانگو، ہم اللہ سے عافیت مانگتے ہیں۔
جنت عیش کی جگہ ہے:
﴿وَ لَکُمۡ فِیۡہَا مَا تَشۡتَہِیۡۤ اَنۡفُسُکُمۡ وَ لَکُمۡ فِیۡہَا مَا تَدَّعُوۡنَ ﴿ؕ۳۱﴾ ﴾
تمہیں جنت میں وہ کچھ ملے گا جو تم چاہو گے اور تمہیں جنت میں وہ کچھ ملے گا جو تم مانگو گے۔
حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ جنت کی تعریف میں فرماتے تھے کہ جنت چھوٹی خدائی کا نام ہے۔ بڑی خدائی تو یہ ہے:
﴿ اِنَّمَاۤ اَمۡرُہٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَیۡئًا اَنۡ یَّقُوۡلَ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿۸۲﴾﴾
یٰس 36: 82
کہ جو چاہو وہ ہو جائے، جس کا ارادہ کرو وہ ہو جائے۔ حضرت نانوتوی فرماتے ہیں کہ جنت میں انسان جو چاہے گا وہی ملے گا تو یہ چھوٹی خدائی ہے کیونکہ یہ اپنے اختیار میں نہیں ہے، یہ اختیار اللہ نے دیا ہے جب چاہیں واپس لے لیں۔
حدیث میں ہے کہ جنت میں ایک شخص اڑتے ہوئے پرندے کو دیکھے گا اور اس کا جی چاہے گا کہ میں اس کا گوشت کھاؤں تو بغیر آگ کے بغیر دھویں کے وہ بھنا ہوا پرندہ ا س کے سامنے پلیٹ میں آ جائے گا اور یہ اسی وقت کھا لے گا۔ حتی کہ بعض روایات میں ہے کہ آدمی جنت میں چاہے گا کہ میرے ہاں اولاد پیدا ہو تو آناً فاناً حمل ہو گا اور اسی وقت بچہ پیدا ہو جائے گا۔
جنت عجیب نعمت ہے اور آپ یقین فرمائیں بس عیش کرنے کی اصل جگہ جنت ہے اور یہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
"اَللّٰهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ."
صحیح البخاری، رقم: 6414
اے اللہ! اصل عیش تو جنت کی عیش ہے، میرے انصار اور مہاجر صحابہ کی مغفرت فرما!
اور یہ بات میں کئی بار عرض کرتا ہوں کہ اللہ نے انسان کی فطرت میں بعض چیزوں کی خواہش رکھی ہے لیکن اس کی تکمیل کی جگہ دنیا نہیں ہے بلکہ اس کی تکمیل کی جگہ جنت ہے۔ مثلاً ہر انسان کی خواہش ہے من مانی زندگی۔اگر من مانی زندگی انسان کی خواہش نہ ہوتی تو مان کے چلنا عبادت نہ ہوتا۔ مان کر چلنا عبادت اس لیے ہے کہ طبیعت میں من مانی کرنا ہے۔ اگر طبیعت میں بھی مان کے چلنا ہوتا اور پھر مان ہی کے چلتا تو یہ کون سی عبادت ہے؟ اصل عبادت تو بنتی ہی تب ہے کہ جی نہ چاہے اور انسان پھر بھی کام کرے، طبیعت نہ چاہے پھر بھی اعمال کرے لیکن من مانی کی خواہش جو طبیعت میں ہے اس کے پورا کرنے کی جگہ یہ دنیا نہیں ہے، اس خواہش کے مکمل ہونے کی جگہ آخرت ہے۔
ہمارے حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ نفس اتنا شرارتی ہے کہ دنیا جہان کے حسین اس کو دکھا دو، یہ ساری خوبصورت عورتیں دیکھ لے اور اس کے کان میں کہو کہ ایک باقی ہے تو یہ اس کو بھی دیکھے گا۔ یہ نفس کا مزاج ہے۔
بازارِ جنت:
دنیا میں ایسے زندگی گزارو جس طرح اللہ چاہتے ہیں، جنت میں ویسی زندگی گزارو گے جس طرح تم چاہو گے، دنیا میں اپنی شکل وصورت ایسی بناؤ جیسے اللہ کا حکم ہے اور جنت میں ایک بازار ہو گا ”سُوْق الصُّوَر“ جو تصویر وں کا بازار ہو گا، وہاں جاؤ، گھومو پھرو جیسی تصویر پسند آئے ویسی اپنی شکل بنا لو۔ یہاں حمام میں نائی کے پاس جاؤ توجو فوٹو لگے ہوئے ہوتے ہیں ان کے ڈیزئن کے مطابق اپنی کٹنگ نہیں کرانی اور جنت میں فوٹو لگے ہوئے ہوں گے تو یہ جو کٹنگ والی خواہش ہے یہ جنت میں پوری ہو جائے گی۔بس دنیا میں تھوڑا سا ضبط کر لو، پھر آخرت میں بس مزے ہی مزے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو جنت کی طلب عطا فرمائیں۔ جنت کی یہ صفتیں اس لیے اللہ نے بیان فرمائی ہیں کہ بندوں کو آخرت کی فکر ہو اور رغبت ہو۔
ہم عمر بیویاں:
جنتی بیویوں کی ایک صفت
”اَتْرَابًا“
ہے یعنی ہم عمر۔ مفسرین نے کہا ہے کہ ہم عمر کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ ان کی اور ان کے شوہروں کی عمر ایک جیسی ہو گی، اس سے مناسبت ہوتی ہے،اور ایک عجیب معنی یہ بھی لکھا ہے کہ شوہر کی ہم عمر نہیں بلکہ یہ آپس میں ہم عمر ہوں گی۔ کیونکہ اگر آپس میں ہم عمر نہیں ہوں گی تو سوکن کی رقابت ہو گی اور ایک جیسی ہوں گی تو کھیلتی رہیں گی۔ سوکنوں کا مزاج پیدا نہیں ہو گا۔ اللہ پاک نے کیسی عجیب نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔ اللہ پاک ہم سب کو عطا فرمائیں۔
اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:
"عَلَيْكُمْ بِالْأَبْكَارِ فَإِنَّهُنَّ أَعْذَبُ أَفْوَاهًا وَأَنْتَقُ أَرْحَامًا وَأَرْضٰى بِالْيَسِيْرِ."
السنن الکبریٰ للبیہقی: ج7 ص 81 رقم الحدیث 13855
کہ جب شادی کرو تو اس عورت سے کرو جو کنواری ہو کیونکہ ان کا منہ میٹھا ہوتا ہے، ان کا رِحم ستھرا ہوتا ہے اور یہ تھوڑے پر خوش ہو جاتی ہیں۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اوصاف بیان فرمائے، دیکھو! اللہ کے نبی کیسے انسانیت کا مزاج سمجھتے تھے!
اللہ کی میزبانی کے کیا کہنے!
﴿نُزُلًا مِّنۡ غَفُوۡرٍ رَّحِیۡمٍ ﴿٪۳۲﴾﴾
یہ مہمانی ہو گی اس ذات کی طرف سے جو غفور بھی ہے اور رحیم بھی ہے، معاف کرنے والا بھی ہے اور رحم کرنے والا بھی ہے۔
حدیث پاک میں ہے کہ جنت میں ایسی نعمتیں ملیں گی جن کو کسی آنکھ نے دیکھا نہیں ہو گا،
لَا عَيْنٌ رَأَتْ
اور کسی کان نے سنا نہیں ہو گا،
وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ
اور کسی بشر کے دل میں ان کا خیال بھی نہیں آیا ہو گا
وَلَا خَطَرَ عَلٰى قَلْبِ بَشَرٍ.
سنن الترمذی، رقم: 3197
اس کو سمجھنا بہت آسان ہے۔ مثلاً مہمان کسی کے ہاں جاتا ہے تو میز بان بعض ایسی چیزیں پیش کرتا ہے کہ جس کا مہمان کو تصور بھی نہیں ہوتا کہ یہ بھی دنیا میں ہے اور وہ تو جنت ہو گی۔ دنیا میں میز بان انسان ہوتا ہے تو مہمان کے لیے دستر خوان پر ایسی ڈشیں آتی ہیں کہ وہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ مجھے یہ ڈش بھی ملے گی اور جب میز بان اللہ ہو گا تو وہاں ایسی نعمتیں ملیں گی کہ جو کسی نے سوچی بھی نہ ہو ں گی۔
بہت سے واقعات پیش آتے ہیں جب میں سفر میں جاتا ہوں۔ صوبہ سندھ میں ایک جگہ ہے کھپرو، وہاں ایک بندے نے کوئی چیز دی، میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ کہا جی یہ مچھلی کا حلوا ہے اور میں کراچی سے آیا ہوں صرف آپ کو یہ کھلانے کے لیے۔ میں حیران ہوا کہ مچھلی کا حلوا بھی ہوتا ہے! اور واقعی بہت لذیذ تھا ۔اتنا کہ ہم انگلیاں چاٹتے رہ گئے۔
سب سے اچھی کس کی بات ہے؟
﴿وَ مَنۡ اَحۡسَنُ قَوۡلًا مِّمَّنۡ دَعَاۤ اِلَی اللہِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیۡ مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿۳۳﴾ وَ لَا تَسۡتَوِی الۡحَسَنَۃُ وَ لَا السَّیِّئَۃُ ؕ اِدۡفَعۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ فَاِذَا الَّذِیۡ بَیۡنَکَ وَ بَیۡنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیۡمٌ ﴿۳۴﴾﴾
اس سے بہتر کس آدمی کی بات ہو سکتی ہے جو لوگوں کو اللہ کی طرف بلائے اور نیک عمل بھی کرے اور پھر یہ کہے کہ میں اللہ کی بات مانتا ہوں۔ نیکی اور برائی برابر نہیں ہو سکتی، برائی کے مقابلے میں ایسے طریقے سے جواب دو جو بہتر ہو۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ ایسا بندہ کہ تمہارے اور اس کے درمیان سخت دشمنی ہو تو وہ بھی دوست بن جائے گا۔
یہاں یہ بات سمجھیں
﴿اِدۡفَعۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ﴾
کہ اگر کوئی تمہارے خلاف برا پلان بناتا ہے تو تم اس کا جواب اچھا دو، اس طرزِ عمل کی وجہ سے جو تمہارے اور اس کے درمیان عداوت تھی وہ محبت میں تبدیل ہو جائے گی۔ برائی کے جواب میں طرز عمل اچھا ہونا چاہیے۔ ہمارے خلاف غلط عقائد اور غلط دلائل پھیلائے جا رہے ہیں تو ہمیں جواب میں صحیح عقیدہ تو دینا چاہیے لیکن طرز سلجھا ہوا ہو۔ مطلب یہ کہ غلط عقیدہ کا جواب ہونا تو چاہیے، لوگ کہتے ہیں کہ ہونا ہی نہیں چاہیے، اب قرآن کہتا ہے
”اِدۡفَعۡ “
کہ مدافعت تو کرو لیکن اچھے طریقے سے کرو، یہ نہیں کہ مدافعت ہی نہیں کرنی! اللہ تعالی ہمیں یہ باتیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
الحاد کا انجام:
﴿اِنَّ الَّذِیۡنَ یُلۡحِدُوۡنَ فِیۡۤ اٰیٰتِنَا لَا یَخۡفَوۡنَ عَلَیۡنَا ؕ اَفَمَنۡ یُّلۡقٰی فِی النَّارِ خَیۡرٌ اَمۡ مَّنۡ یَّاۡتِیۡۤ اٰمِنًا یَّوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ اِعۡمَلُوۡا مَا شِئۡتُمۡ ۙ اِنَّہٗ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۴۰﴾﴾
وہ لوگ جو ہماری آیات میں الحاد کرتے ہیں ہم سے مخفی نہیں ہیں۔ یہ دیکھو کہ جو شخص جہنم میں ڈالا جائے وہ بہتر ہے یا وہ بہتر ہے جو قیامت کے دن امن اور امان کے ساتھ آئے؟ بے شک اللہ تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے۔
﴿اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِالذِّکۡرِ لَمَّا جَآءَہُمۡ ۚ وَ اِنَّہٗ لَکِتٰبٌ عَزِیۡزٌ ﴿ۙ۴۱﴾﴾
یہ
﴿اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا﴾
وہی
﴿اِنَّ الَّذِیۡنَ یُلۡحِدُوۡنَ﴾
ہیں، یہ دونوں ایک ہی ہیں۔ فرمایا بے شک یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اس ذکر یعنی قرآن مجید کا انکار کیا جب قرآن ان کے پاس آیا،حالانکہ یہ قرآن تو ایک زبردست کتاب ہے۔
﴿لَّا یَاۡتِیۡہِ الۡبَاطِلُ مِنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ وَ لَا مِنۡ خَلۡفِہٖ ؕ تَنۡزِیۡلٌ مِّنۡ حَکِیۡمٍ حَمِیۡدٍ ﴿۴۲﴾﴾
کتاب میں الحاد کرتے ہو اور آیات کا انکار کرتے ہو لیکن یہ ذہن میں رکھ لو ہماری یہ کتاب ایسی ہے کہ باطل اس کتاب میں نہ سامنے سے آ سکتا ہے نہ پیچھے سے۔ یہ ایسی ذات کی طرف سے نازل کردہ ہے جو حکمت والی اور خوبیوں والی ذات ہے۔
”الحاد“
کامعنی ہوتا ہے کہ آدمی آیت ٹھیک پڑھے اور معنی اس کا غلط کرے۔ مثلاً کہے خاتم النبیین لیکن معنی غلط کرے جیسے مرزا قادیانی کرتا تھاتو یہ الحاد ہے۔ جو لوگ الحاد کرتے ہیں، تفسیر غلط بیان کرتے ہیں وہ سنیں کہ
﴿لَّا یَاۡتِیۡہِ الۡبَاطِلُ مِنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ﴾
کہ اگر کوئی چاہے کہ میں قرآن کے الفاظ بدل لوں تو وہ نہیں بدل سکتا اور اگر چاہے کہ لفظ نہ بدلوں بلکہ معنی بدلوں تو
﴿وَ لَا مِنۡ خَلۡفِہٖ﴾
وہ معنی بھی نہیں بدل سکتا۔قرآن کا ظاہر بھی محفوظ ہے اور قرآن کا باطن بھی محفوظ ہے۔
﴿مِنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ﴾
سے مراد ظاہر ہے اور
﴿مِنۡ خَلۡفِہٖ﴾
سے مراد باطن ہے۔ جو سامنے ہے وہ نظر آتا ہے اور جو پیچھے ہے وہ نظر نہیں آتا۔ تو جو نظر آتے ہیں الفاظ ان کو قرآن نے
﴿مِنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ﴾
فرمایا اور جو نظر نہیں آتا معنی اس کو
﴿مِنۡ خَلۡفِہٖ﴾
فرمایا۔یعنی قرآن کا ظاہر بھی محفوظ رہے گا اور قرآن کا باطن بھی محفوظ رہے گا۔ نہ کوئی قرآن کا لفظ بدل سکتا ہے نہ ہی معنی بدل سکتا ہے۔کوشش تو کریں گے لیکن رسوا ہوں گے، بالآخر حق ہی غالب رہے گا۔ حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کی کتاب ہے ”اکفار الملحدین“ اس مسئلے پر، بہترین کتاب ہے، اس کا ہر بندے کو مطالعہ کرنا چاہیے۔
قرآن مجید فصیح ہے:
﴿وَ لَوۡ جَعَلۡنٰہُ قُرۡاٰنًا اَعۡجَمِیًّا لَّقَالُوۡا لَوۡ لَا فُصِّلَتۡ اٰیٰتُہٗ ؕ ءَؔاَعۡجَمِیٌّ وَّ عَرَبِیٌّ ؕ﴾
اگر ہم قرآن کو ایسا بنا دیتے کہ یہ فصیح نہ ہوتا تو لوگ کہتے کہ اس کی آیات وضاحت کے ساتھ کیوں بیان نہیں کی گئیں؟! لوگ کہتے کہ جس پر قرآن اترا ہے وہ تو فصیح ہے اور خود قرآن غیر فصیح ہے؟!
ایک لفظ ہے اعجم اور ایک ہے عجم۔ عجم کہتے ہیں غیر عرب کو اور اعجم کہتے ہیں غیر فصیح کو اگرچہ عربی ہی کیوں نہ ہو۔ اس لیے اعجمی کا معنی غیر عربی نہ کرنا بلکہ اس کا معنی غیر فصیح کرنا۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ہم قرآن کو ایسے بناتے جو فصیح نہ ہوتا تو لوگ کہتے کہ قرآن کے مضامین کھلے ہوئے کیوں نہیں ہیں۔ قرآن غیر فصیح ہوتا اور عرب جو اس کے اولین مخاطب ہیں وہ فصیح تھے تو جو ڑ کیسے ہوتا؟
مزاجِ انسانی:
﴿لَا یَسۡـَٔمُ الۡاِنۡسَانُ مِنۡ دُعَآءِ الۡخَیۡرِ ۫ وَ اِنۡ مَّسَّہُ الشَّرُّ فَیَـُٔوۡسٌ قَنُوۡطٌ﴿۴۹﴾﴾
یہاں سے اللہ رب العزت نے انسان کا مزاج بتایا ہے کہ جب بھلائی مانگتا ہے تو تھکتا نہیں ہے اور جب اسے کوئی تکلیف ملتی ہے تو مایوس ہو جاتا ہے اور امیدیں چھوڑ بیٹھتا ہے۔
﴿وَ لَئِنۡ اَذَقۡنٰہُ رَحۡمَۃً مِّنَّا مِنۡۢ بَعۡدِ ضَرَّآءَ مَسَّتۡہُ لَیَقُوۡلَنَّ ہٰذَا لِیۡ ۙ وَ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَۃَ قَآئِمَۃً ۙ وَّ لَئِنۡ رُّجِعۡتُ اِلٰی رَبِّیۡۤ اِنَّ لِیۡ عِنۡدَہٗ لَلۡحُسۡنٰی ۚ فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِمَا عَمِلُوۡا ۫ وَ لَنُذِیۡقَنَّہُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ غَلِیۡظٍ ﴿۵۰﴾﴾
جب انسان کو تکلیف پہنچنے کے بعد ہم اسے اپنی رحمت سے نوازتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ بھلائی تو میرا حق تھا، کہتا ہے کہ میرا نہیں خیال کہ قیامت قائم ہو لیکن بالفرض اگر قیامت قائم ہوئی بھی اور میں اپنے رب کی پاس گیا تو وہاں بھی مجھے خوشحالی ملے گی۔ کافروں کو ان کے اعمال کے بارے میں ہم ضرور بتائیں گے اور انہیں سخت عذاب کا مزا ضرور چکھائیں گے۔
﴿وَ اِذَاۤ اَنۡعَمۡنَا عَلَی الۡاِنۡسَانِ اَعۡرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِہٖ ۚ وَ اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ فَذُوۡ دُعَآءٍ عَرِیۡضٍ ﴿۵۱﴾﴾
جب ہم انسان کو نعمتوں سے نوازتے ہیں تو وہ منہ پھیر لیتا ہے اور اکڑ جاتا ہے اور جب اسے کوئی تکلیف پہنچے تو لمبی چوڑی دعائیں کرتاہے۔
یہاں
”عَرِیۡضٍ“
فرمایا
”طَوِیْلٍ“
نہیں فرمایا کیونکہ جس کا عرض بڑا ہو تو اس کا طول تو بڑا ہوتا ہی ہے۔ جنت کے بارے میں فرمایا:
﴿سَابِقُوۡۤا اِلٰی مَغۡفِرَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ جَنَّۃٍ عَرۡضُہَا کَعَرۡضِ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ﴾
سورۃ الحدید57: 21
کہ اپنے رب کی مغفرت کی طرف دوڑو اور اس جنت کی طرف دوڑو جس کا عرض آسمان و زمین کے برابر ہے۔ تو یہاں جنت کا عرض بتا رہے ہیں، اس کا طول نہیں بتا رہے۔ جب عرض بڑا ہوگا تو طول تو اور بھی بڑا ہو گا۔
تو انسان کو راحت بھی اللہ کی طرف سے ملتی ہے اور تکلیف بھی اللہ کی طرف سے ملتی ہے۔ راحت آئے تو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اگر تکلیف آئے تو بندے کو چاہیے کہ برداشت اور صبرکرے۔ اللہ ہم سب کو یہ بات سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ․