قرض کے احکام و آداب

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
قرض کے احکام و آداب
اللہ تعالیٰ نے جو دین نازل فرمایا ہے اس میں عقائد، عبادات ، معاملات ، معاشرت اور اخلاقیات سب کے سب اہم ہیں۔ کسی میں بھی کوتاہی نہیں برتنی چاہیے اسلامی تعلیمات میں عقائد کی درستگی اور عبادات کے بعد جس چیز پر زور دیا گیا ہے وہ باہمی معاملات ہیں۔ معاملات کو سدھارنے کی تاکید اس لیے کی گئی ہے کہ اس کو اُخروی نجات میں بہت دخل ہے کیونکہ جس طرح مسلمان کے نامہ اعمال میں نیکیوں کا ہونا بہت ضروری ہے اس طرح یہ بھی ضروری ہے کہ اس کا نامہ اعمال حق تلفی اور بدمعاملگی سے پاک وصاف ہو۔ اگر کسی شخص کے نامہ اعمال میں عبادات کی نیکیاں تو موجود ہوں لیکن دوسروں کے حقوق کی پامالی کی برائیاں بھی ہوں تو جنت اور رضائے الہٰی کا حصول مشکل ہو جائے گا ۔ یہاں تک کہ اگرکوئی شخص اپنی عزیز ترین جان بھی اللہ کے راستے میں قربان کر ے بلکہ بار بار قربان کرے یعنی درجہ شہادت پر فائز ہو جائے اتنی بڑی سعادت کے باوجود اگر اس نے کسی کا حق ادا نہ کیا جو اس کے ذمہ واجب الادا تھا تو ایسا شخص جنت کی نعمتوں سے محروم رہے گاتاوقتیکہ اس کے ورثا اس کی طرف سے اس کے حق کو ادا کر دیں۔ ذیل میں قرض سے متعلق چند احکام و آداب ذکر کیے جارہے ہیں جن پر عمل کر کے ہم دنیاوی منافع کے حصول کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب سے بھی نجات پا سکتے ہیں۔
شدید مجبوری کے بغیر قرض نہ لیں:
ہماری زندگی میں کچھ چیزوں کا تعلق ہماری بنیادی ضروریات کے ساتھ ہے اور کچھ چیزوں کا تعلق ہماری خواہشات کے ساتھ ہے ۔انسان کو اپنا مزاج بنانا چاہیے کہ اپنی ضروریات کو میانہ روی سے پورا کرنے کی کوشش کرےاس کے لیے بسا اوقات انسان کو قرض بھی لینا پڑجاتاہے جس کی شرعاً اجازت ہے۔ باقی رہیں خواہشات کبھی تو یہ جائز اور مباح ہوتی ہیں اورکبھی ناجائز اور حرام۔ جہاں تک تعلق ہےمباح خواہشات کا تو ان کو اپنی مالی حیثیت کےمطابق پورا کرنے میں حرج نہیں اور گناہ بھی نہیں البتہ ناجائز اورحرام خواہشات کو مالی حیثیت کے باوجود بھی پورا نہیں کرنا چاہیے چہ جائیکہ قرض لے کر انہیں پورا کیا جائے۔
قرض کے معاملے کو لکھ لیں:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا تَدَایَنۡتُمۡ بِدَیۡنٍ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی فَاکۡتُبُوۡہُ ؕ
سورۃ البقرۃ، رقم الآیۃ:282
ترجمہ: اے ایمان والو!جب تم کسی متعین مدت کے لیے ادھار کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔
قرض کے معاملے پر گواہ بنا لیں:
وَ اسۡتَشۡہِدُوۡا شَہِیۡدَیۡنِ مِنۡ رِّجَالِکُمۡ ۚ فَاِنۡ لَّمۡ یَکُوۡنَا رَجُلَیۡنِ فَرَجُلٌ وَّ امۡرَاَتٰنِ مِمَّنۡ تَرۡضَوۡنَ مِنَ الشُّہَدَآءِ اَنۡ تَضِلَّ اِحۡدٰىہُمَا فَتُذَکِّرَ اِحۡدٰىہُمَا الۡاُخۡرٰی ؕ
سورۃ البقرۃ، رقم الآیۃ:282
ترجمہ: اور اپنے میں سے دو مَردوں کو )اس معاملے پر( گواہ بنالو ۔ اگر دو مرد میسر نہ ہوں تو ایک مرد اور دوعورتوں کو گواہ بنالو تاکہ ان دو میں سے ایک عورت بھول بھی جائے تو دوسری اسے یاد کرا دے۔
سودی قرض کا معاملہ نہ کریں:
عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: لَعَنَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَقَالَ: هُمْ سَوَاءٌ.
صحیح مسلم، رقم الحدیث:4100
ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے)لینے( والے پر، کھلانے)دینے( والے پر، سودی معاملے کو لکھنے والےپراور اس کے گواہوں پر لعنت)رحمت سے دوری کی بددعا( فرمائی ہے اور فرمایا ہے کہ یہ سب گناہ میں برابر کے شریک ہیں ۔
قرض کی ادائیگی کی نیت کریں:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَخَذَ أَمْوَالَ النَّاسِ يُرِيدُ أَدَاءَهَا أَدَّى (أَدَّاهَا) اللهُ عَنْهُ۔
صحیح البخاری، رقم الحدیث:2387
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص لوگوں سے مال )ادھار(لیتے وقت ادائیگی کی نیت رکھے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ادائیگی والا معاملہ آسان فرما دیتے ہیں ۔
قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول نہ کریں:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ۔
صحیح البخاری،رقم الحدیث:2287
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مال دار شخص کا ٹال مٹول سے کام لینا ظلم ہے ۔
فائدہ: جس شخص کے پاس قرض کی ادائیگی کے اسباب موجود ہوں اور اس کے باوجود بھی قرض ادا نہ کرے تو وہ ظالم ہے ۔
قرض کا مطالبہ نرمی سے کریں:
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رَحِمَ اللهُ رَجُلًا سَمْحًا إِذَا بَاعَ وَإِذَا اشْتَرَى وَإِذَا اقْتَضَى۔
صحیح البخاری، رقم الحدیث:2076
ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو خرید و فروخت اور (قرض کی (وصول یابی میں نرمی سے کام لیتاہے۔
قرض دار کو مہلت / کچھ معاف یا سارا معاف کر دیں:
وَ اِنۡ کَانَ ذُوۡ عُسۡرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ اِلٰی مَیۡسَرَۃٍ ؕ وَ اَنۡ تَصَدَّقُوۡا خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۸۰﴾
سورۃ البقرۃ، رقم الآیۃ:280
ترجمہ: اگر قرضدارتنگدست ہو تو اسے خوشحال ہونے تک مہلت دینی چاہیے اور اگر)قرض دار کو قرض( صدقہ ہی کردو )یعنی اس کو سارا معاف کر دو یا جس قدر گنجائش ہو اتنی مقدار ہی معاف کر دو( تویہ تمہارے حق میں کہیں زیادہ بہتر ہے۔ اگر تم اس بات کی اہمیت جانتے ہو تو ۔
قرض دار یہ دعا کریں:
عَنْ عَلِيٍّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ أَنَّ مُكَاتَبًا جَاءَهُ فَقَالَ: إِنِّي قَدْ عَجَزْتُ عَنْ مُكَاتَبَتِي فَأَعِنِّي قَالَ: أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ عَلَّمَنِيهِنَّ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ عَلَيْكَ مِثْلُ جَبَلِ صِيرٍ دَيْنًا أَدَّاهُ اللَّهُ عَنْكَ۔ قَالَ:قُلْ: اَللَّهُمَّ اكْفِنِيْ بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ۔
جامع الترمذی، رقم الحدیث:3563
ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کے پاس ایک مکاتب آیااور کہا میں بدلِ کتابت ادا کرنے سے عاجزآگیاہوں۔ میرے ساتھ تعاون کریں!حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تمہیں وہ دعا بتلاتا ہوں جو مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھلائی تھی۔ اگر آپ پر صیر پہاڑ کے برابر مقدار میں بھی قرض ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی ادائیگی کا انتظام فرما دیں گے۔ آپ نے فرمایا کہ یہ دعا مانگو! اَللَّهُمَّ اكْفِنِيْ بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ۔اے اللہ! آپ نے جن چیزوں کو حرام قرار دیا ہے ان سے بچا کر مجھے وہ عطا فرمائیے جو آپ کی حلال کردہ ہیں اور مجھے اپنی ذات کے علاوہ ہر کسی سے بے نیاز فرما دے۔
قرض دار کو مقروض بوقتِ ادائیگی یہ دعا دیں:
عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَعَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: اسْتَقْرَضَ مِنِّي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ أَلْفًا فَجَاءَهُ مَالٌ فَدَفَعَهُ إِلَيَّ وَقَالَ : بَارَكَ اللهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِك۔
السنن الکبریٰ للنسائی، رقم الحدیث:6236
ترجمہ: حضرت اسماعیل بن ابراہیم رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ مجھ سے اللہ کےنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس ہزارکا قرض لیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قرض مجھے ادا کرتے ہوئے یوں دعا دی: بَارَكَ اللهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِك۔ اللہ تعالیٰ تیری ذات، تیرے اہل وعیال اور تیرے مال میں برکتیں عطا فرمائے۔
قرض دار شہید کا معاملہ:
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا بِفِنَاءِ الْمَسْجِدِ حَيْثُ تُوْضَعُ الْجَنَائِزُ وَرَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ بَيْنَ ظَهْرَيْنَا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَصَرَهُ قِبَلَ السَّمَاءِ فَنَظَرَ، ثُمَّ طَأْطَأَ بَصَرَهُ وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ، ثُمَّ قَالَ: سُبْحَانَ اللهِ سُبْحَانَ اللهِ مَاذَا نَزَلَ مِنَ التَّشْدِيدِ؟قَالَ: فَسَكَتْنَا يَوْمَنَا وَلَيْلَتَنَا فَلَمْ نَرَهَا خَيْرًا حَتَّى أَصْبَحْنَا قَالَ مُحَمَّدٌ: فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا التَّشْدِيدُ الَّذِي نَزَلَ؟قَالَ: فِي الدَّيْنِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ رَجُلًا قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ عَاشَ ثُمَّ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ عَاشَ ثُمَّ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ عَاشَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ مَا دَخَلَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَقْضِيَ دَيْنَهُ۔
مسند احمد، رقم الحدیث:22493
ترجمہ: حضرت محمد بن عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگ مسجد نبوی کےصحن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس جگہ بیٹھے ہوئے تھے، جہاں جنازے رکھے جاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اچانک اپنی نظر مبارک اوپر کی طرف اٹھائی اور جُھکا لی۔اپنی پیشانی پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمایا: سبحان اللہ !سبحان اللہ !کیسے کیسے سخت عذاب نازل ہو رہے ہیں۔ )راوی کہتے ہیں کہ( ہم لوگ ایک دن اور ایک رات اس معاملے کے بارے میں )سہمے رہے اور (خاموش رہےمگر پھر ہم نے خیر اور بھلائی کے سوا کچھ نہ دیکھا )یعنی کوئی عذاب نازل نہ ہوا(دوسرے دن جب صبح ہوئی تو راوی فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سےاس بارے میں سوال کیاکہ کیسے عذاب نازل ہونے کے بارے میں آپ فرما رہے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاقرض کے سلسلے میں) یعنی اس حوالے سے سخت احکام نازل ہو رہے ہیں( پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس ذات کی قسم !جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر کوئی شخص راہِ خدا میں شہید کر دیا جائے اس کے بعد زندہ کیا جائے اور پھر شہید کر دیا جائے۔ پھر زندہ کیا جائے پھر شہید کر دیا جائے اور پھر زندہ ہو جائے اور اس کے اوپرقرض ہو تو وہ جنت میں داخل نہیں ہو پائے گا تاوقتیکہ اپنے قرض کو ادا نہ کرے (یا اس کی طرف سے ادا نہ کر دیا جائے(
قرض دار کا جنازہ:
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِجَنَازَةٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا فَقَالَ: هَلْ عَلَيْهِ مِنْ دَيْنٍ؟ قَالُوا: لَا۔ فَصَلّٰى عَلَيْهِ ۔ثُمَّ أُتِيَ بِجَنَازَةٍ أُخْرٰى فَقَالَ: هَلْ عَلَيْهِ مِنْ دَيْنٍ؟ قَالُوا: نَعَمْ! قَالَ صَلُّوا عَلٰى صَاحِبِكُمْ۔ قَالَ أَبُو قَتَادَةَ عَلَيَّ دَيْنُهُ يَا رَسُوْلَ اللهِ فَصَلّٰى عَلَيْهِ۔
صحیح البخاری، رقم الحدیث: 2295
ترجمہ: حضرت سلمہ بن اَکْوَع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک میت لائی گئی تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ کیا اس فوت ہونے والے شخص نے کسی کا قرضہ دینا ہے؟صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی : نہیں۔ اس کے بعد دوسرا جنازہ لایا گیا آپ نے وہی سوال دہرایا کہ کیا اس نے کسی کا قرض ادا کرنا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کی : جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود پڑھ لو۔ )میں نہیں پڑھاتا( حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول !اس کی طرف سے قرضہ میں اتاروں گا میرے ذمہ ہوگیا چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی نماز جنازہ پڑھائی۔
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا واقعہ:
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ شَابًّا سَخِيًّا وَكَانَ لَا يُمْسِكُ شَيْئًا فَلَمْ يَزَلْ يُدَانُ حَتَّى أَغَرَقَ مَالَهُ كُلَّهُ فِي الدَّيْنِ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَهُ لِيُكَلِّمَ غُرَمَاءَهُ فَلَوْ تَرَكُوا لِأَحَدٍ لَتَرَكُوا لِمُعَاذٍ لِأَجْلِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَاعَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَالَهُ حَتَّى قَامَ مُعَاذٌ بِغَيْرِ شَيْءٍ. رَوَاهُ سعيد فِي سُنَنِه مُرْسلا۔
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، رقم الحدیث:2918
ترجمہ: حضرت عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ایک سخی نوجوان تھے جن کے پاس کوئی چیز رکتی نہیں تھی) بلکہ اسے راہ خدا میں خرچ کر دیتے تھےاس وجہ سے(وہ قرض لیتے رہتے تھےیہاں تک کہ ان کا تمام مال قرض میں گھِر گیا وہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی کہ آپ قرض خواہوں سے یہ فرما دیں کہ اگر وہ کسی کو معاف کر سکتے ہوں تو معاذ بن جبل اس کے زیادہ حق دار ہیں کہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے چھوڑ دیا جائے یعنی معاف کر دیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا سارا مال قرض خواہوں کو بیچ دیا حتی کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس کوئی ایک چیز بھی باقی نہیں بچی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی بھی پرواہ نہیں کی کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ نہیں بچاتو ان کا کیا ہوگا؟ اس لیے ٹال مٹول سے کام نہیں لینا چاہیےاور قرضوں کی ادائیگی کی مناسب ترتیب بنا کر ادا کیے جائیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں احکامِ شریعت پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم ۔
والسلام
محمدالیاس گھمن
پیر ، 16نومبر ، 2020ء