نبی کریم ﷺ کے بنیادی حقوق حصہ دوم

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
نبی کریم ﷺ کے بنیادی حقوق)حصہ دوم(
اللہ تعالیٰ ہرآن ، ہر لحظہ، ہر گھڑی اور ہر لمحہ اپنے محبوب خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے درجات میں مسلسل اضافہ اور بلندیاں عطا فرمائےاور آپ کو ”مقامِ محمود“ تک پہنچائے۔
13: نبی کریم ﷺ پر درود وسلام بھیجنا:
امت پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاتیرہواں حق یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ بابرکات پر کثرت کے ساتھ درود و سلام پیش کرے۔
اِنَّ اللہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا ﴿۵۶﴾
سورۃ الاحزاب، رقم الآیۃ: 56
ترجمہ: )خود (اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی کریم )حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ( پر درودبھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو!تم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم )کی ذاتِ بابرکات ( پر درود اور خوب خوب سلام بھیجو۔
حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ کا رحمت)درود( بھیجنا تو رحمت فرمانا ہے اور مراد اس سے رحمتِ خاصہ ہے جو آپ کی شانِ عالی کے مناسب ہے۔ اور فرشتوں کا رحمت بھیجنا اور اسی طرح جس رحمت کے بھیجنے کا ہم کو حکم ہے اس سے مراد اُس رحمتِ خاصہ کی دعا کرنا ہے اور اسی کو ہمارے محاورے میں ”درود“ کہتے ہیں ۔ اور اس دعا کرنے سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مراتبِ عالیہ میں بھی ترقی ہو سکتی ہے اور خود دعا کرنے والے کو بھی نفع ہوتا ہے ۔ “
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ وَالْبُشْرىٰ فِي وَجْهِهِ فَقُلْنَا إِنَّا لَنَرَى الْبُشْرَى فِي وَجْهِكَ۔ فَقَالَ إِنَّهُ أَتَانِي الْمَلَكُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ !إِنَّ رَبَّكَ يَقُولُ: أَمَا يُرْضِيْكَ أَنَّهُ لَا يُصَلِّي عَلَيْكَ أَحَدٌ إِلَّا صَلَّيْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا وَلَا يُسَلِّمُ عَلَيْكَ أَحَدٌ إِلَّا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا.
سنن النسائی، رقم الحدیث : 1207
ترجمہ: حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور پر خوشی کے آثار تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ سے جبرائیل علیہ السلام نے آکر عرض کی کہ آپ کے رب تعالیٰ فرماتے ہیں: اےمحمدصلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ کو اس بات پر خوشی نہ ہو گی کہ آپ کی امت میں سے جوشخص آپ پر ہدیہ درود بھیجے گا میں اس پر دس رحمتیں نازل کروں گااور آپ کی امت میں سے جوکوئی آپ پر سلام پیش کرے گا میں دس بار اُس پر سلامتی نازل کروں گا۔
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَلّٰى عَلَيَّ صَلَاةً وَاحِدَةً صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عَشْرًا وَمَنْ صَلّٰى عَلَيَّ عَشْرًاصَلَّى اللهُ عَلَيْهِ مِائَةوَمَنْ صَلّٰى عَلَيَّ مِائَةً كَتَبَ اللهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ بَرَاءَةً مِنَ النِّفَاقِ وَبَرَاءَةً مِنَ النَّارِ وأَسْكَنَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ الشُّهَدَاءِ.
المعجم الاوسط للطبرانی ،رقم الحدیث : 7235
ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود پاک بھیجتا ہےاللہ تعالیٰ اس پر دس دفعہ رحمت بھیجتے ہیں اور جو مجھ پر دس دفعہ درود بھیجتا ہے اللہ جل شانہ اس پر سو مرتبہ رحمت بھیجتے ہیں اور جو شخص مجھ پر سو بار درود بھیجتا ہےاللہ تعالیٰ اس کی پیشانی پر لکھ دیتے ہیں کہ یہ شخص نِفاق )منافقت (سے بھی بَری ہے اور جہنم سے بھی بَری ہے اور قیامت والے دن اس کا حشر ونشر شہیدوں کے ساتھ فرمائیں گے۔
جو شخص دور سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی پر درود و سلام پیش کرتا ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس تک فرشتوں کے ذریعے پہنچا دیا جاتا ہے اور جو شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اطہر پر حاضر ہو کر صلوٰۃ وسلام پیش کرے اسےآپ صلی اللہ علیہ وسلم خود سُنتے ہیں اور جواب بھی دیتے ہیں۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَلّٰى عَلَيَّ عِنْدَ قَبْرِي سَمِعْتُهُ وَمَنْ صَلَّى عَلَيَّ مِنْ بَعِیْد اُعْلِمْتُہُ.
جلاء الافہام
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میری قبر کے پاس مجھ پر درود بھیجے گا میں اس کو خود سنوں گااور جو شخص دور سے مجھ پر درود بھیجے گا وہ مجھ تک )ملائکہ کے ذریعے ( پہنچا دیاجائے گا۔
14: نبی کریم ﷺ کی قبر اطہر پر استشفاع کرنا:
امت پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاچودہواں حق یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر اطہر پر جا کر دعا کی درخواست کرے۔
وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذۡنِ اللہ ِؕ وَلَوۡ اَنَّہُمۡ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ جَآءُوۡکَ فَاسۡتَغۡفَرُوا اللہَ وَ اسۡتَغۡفَرَ لَہُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا ﴿۶۴﴾
سورۃ النساء، رقم الآیۃ: 64
ترجمہ: اور ہم نے جو رسول بھی ان کی امت کی طرف بھیجا ان کا اس کے سوا کوئی اور مقصد نہیں تھا کہ اس رسول کی اللہ کے حکم کے مطابق اطاعت کی جائے۔ اور جب اُن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا، اگر یہ اس وقت آپ کے پاس آکر اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے اور رسول بھی ان کے لیے مغفرت کی دعا کرتے تو یہ اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا، بڑا مہربان پاتے۔
فائدہ: استشفاع کا معنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے دعا کی درخواست کرنا۔ یہ حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آج بھی روضہ اطہر پر حاضری کے وقت باقی ہے ۔
مفتی محمد شفیع عثمانی دیوبندی رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
”یہ آیت اگرچہ خاص واقعہ منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن اس کے الفاظ سے ایک ضابطہ نکل آیا کہ جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لئے دعا مغفرت کر دیں اس کی مغفرت ضرور ہو جائے گی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری جیسے آپ کی دُنیوی حیات کے زمانے میں ہو سکتی تھی اسی طرح آج بھی روضہ اقدس پر حاضر ی اسی حکم سے ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کر کے فارغ ہوئے تو اس کے تین روز بعد ایک گاؤں والا)دیہاتی( آیا اور قبر شریف کے پاس آکر گر گیا اور زار زار روتے ہوئے آیتِ مذکورہ کا حوالہ دے کر عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں وعدہ فرمایا ہے کہ اگر گناہ گار)شخص( رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوجائے اور رسول اس کےلئے دعائے مغفرت کردیں تو اس کی مغفرت ہو جائے گی، اس لئے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں کہ آپ میرے لئے مغفرت کی دعا کریں۔ اس وقت جو لوگ حاضر تھے ان کا بیان ہے کہ اس کے جواب میں روضہ اقدس کے اندر سے یہ آواز آئی " قد غفرلک" یعنی مغفرت کردی گئی ۔
معارف القرآن ،تحت آیت ھذہ
عَن مَالِكِنِالدَّارِ رَحِمَہُ اللہُ قَالَ )وَكَانَ خَازِنَ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَلَى الطَّعَامِ( قَالَ: أَصَابَ النَّاسَ قَحْطٌ فِي زَمَنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! اِسْتَسْقِ لِأُمَّتِكَ فَإِنَّهُمْ قَدْ هَلَكُوْا فَأَتَى الرَّجُلَ فِي الْمَنَامِ فَقِيْلَ لَهُ: اِئْتِ عُمَرَ فَأَقْرِئْهُ السَّلامَ وَأَخْبِرْهُ أَنَّكُمْ مُسْتَسْقَوْنَ وَقُلْ لَّهُ: عَلَيْكَ الْكَيْسُ عَلَيْكَ الْكَيْسُ۔ فَأَتَى عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ فَأَخْبَرَهٗ فَبَكٰى عُمَرُ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ ثُمَّ قَالَ: يَا رَبِّ لَا آلُوْ إِلاَّ مَا عَجَزْتُ عَنْهُ.
المصنف لابن ابی شیبۃ:رقم الحدیث:32665
ترجمہ: حضرت عمررضی اللہ عنہ کے وزیرِ خوراک حضرت مالک الدار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایک بار لوگوں پر قحط آگیا۔ ایک شخص (حضرت بِلال بن حارث مُزَنی رضی اللہ عنہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر حاضر ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہ! اپنی امت کے لئے بارش کی دعا کیجئے کیونکہ وہ قحط سے ہلاک ہورہے ہیں۔تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اس شخص کے خواب میں تشریف لائے اور فرمایا: عمر کے پاس جاؤ، ان کو سلام کہو اور یہ خبر دو کہ تم پر یقیناً بارش ہوگی اور ان سے کہو: تم پر )حکمت و (دانائی لازم ہے۔ یہ شخص حضرت عمررضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان کو یہ خبر دی۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ رونے لگے اور فرمایا: اے اللہ ! میں صرف اسی چیز کو ترک کرتا ہوں جس سے میں عاجز ہوتا ہوں۔
15: نبی کریم ﷺ کے توسل سے دعا مانگنا:
امت پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاپندرہواں حق یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وسیلہ دے کر اللہ سے دعا مانگے ۔
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ أَنَّ رَجُلًا ضَرِيْرَ الْبَصَرِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ادْعُ اللّٰہُ لِيْ أَنْ يُّعَافِيَنِيْ فَقَالَ إِنْ شِئْتَ أَخَّرْتُ لَكَ وَهُوَ خَيْرٌ وَإِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ فَقَالَ ادْعُهٗ فَأَمَرَهٗ أَنْ يَّتَوَضَّأَ فَيُحْسِنَ وُضُوْءَهُ وَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ وَيَدْعُوَ بِهٰذَا الدُّعَاءِ اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِمُحَمَّدٍ نَّبِيِّ الرَّحْمَةِ يَا مُحَمَّدُ إِنِّيْ قَدْ تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلٰى رَبِّيْ فِيْ حَاجَتِيْ هٰذِهٖ لِتُقْضٰى اَللّٰهُمَّ شَفِّعْهُ فِيَّ
سنن ابن ماجۃ: رقم الحدیث:1385
ترجمہ: حضرت عثمان بن حُنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک نابینا شخص رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور درخواست کی کہ آپ اللہ سے میرے لئے عافیت اور تندرستی کی دعا مانگیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر چاہو تو آخرت کے لئے دعا مانگوں، یہ تمہارے لئے بہتر ہے اور چاہو تو (ابھی) دعا کر دوں؟ اس نے عرض کی: دعا فرما دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کہا کہ اچھی طرح وضو کرو اور دو رکعتیں پڑھ کر یہ دعا مانگو: [دعا کے الفاظ کا ترجمہ یہ ہے : ]اے اللہ ! میں آپ سے سوال کرتا ہوں اور آپ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں رحمت والے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وسیلہ سے، اے محمد! میں نے آپ کے وسیلہ سے اپنے پروردگار کی طرف توجہ کی اپنی اس حاجت کے سلسلہ میں تاکہ یہ حاجت پوری ہو جائے، اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش میرے بارے میں قبول فرما لیجئے ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق ادا کرنے کی توفیق نصیب فرمائے ۔
آمین بجاہ النبی الامی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم۔
والسلام
محمدالیاس گھمن
پیر ،2نومبر ، 2020ء