کیا بعض ائمہ احناف آٹھ تراویح کے قائل تھے ؟

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
 

کیا بعض ائمہ احناف آٹھ تراویح کے قائل تھے ؟

 سوال:

آج کل بعض غیر مقلدین کی طرف سے یہ سننے میں آرہا ہے کہ بعض حنفی علماء  بھی آٹھ رکعات تراویح کے قائل تھے اوران قائلین میں  بڑے بڑے حضرات علماء ہیں مثلا: امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ ، امام ابن ہمام  رحمہ اللہ،  علامہ ابن نجیم حنفی رحمہ اللہ، امام طحطاوی رحمہ اللہ ، ملا علی قاری رحمہ اللہ،علامہ عبد الحئی لکھنوی رحمہ اللہ ، علامہ سیوطی رحمہ اللہ ،علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ وغیرہ  یہ تمام حضرات آٹھ رکعات تراویح کے قائل تھے اور بطور دلائل کے یہ حوالہ جات پیش کرتے ہیں ۔

مثلا امام ابو حنیفہ کے متعلق یہ حوالہ دیتے ہیں :

 1 : عن ابی حنیفۃ رحمہ  اللہ عن ابی جعفر ان صلوۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم باللیل کانت ثلٰث عشرۃ رکعۃً منھن ثلاث رکعات الوتر ورکعتا الفجر ۔

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ؛ ابو جعفر سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تیرہ رکعتیں ہوا کرتی تھی جس میں تین وتر اور دو فجر کی سنتیں شامل تھیں. )مسند امام اعظم ص187باب التہجد(

2: امام ابن ہمام کے بارے میں کہتے ہیں :

امام ابن ہمام حنفی رحمہ اللہ نے ام المومنین رضی اللہ عنہا والی حدیث سے نتیجہ نکالاہے:فتحصل من ہذا کلہِ قیام رمضان سنتہ احدی عشررکعۃً بالوتر فعلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ )فتح القدیر شرح ہدایہ ج1ص334طبع مصر(

حاصل بحث یہ ہے کہ نماز تراویح وتر سمیت گیارہ رکعات ہی سنت  ہے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی قدر نماز تراویح ادا کی۔قال ابن ہمام ان ثمانیۃ رکعات سنۃ مؤکدۃ۔  )العرف الشذی ج1ص166(

3: علامہ ابن نجیم حنفی : ابن نجیم المصری حنفی اپنی کتاب” بحر الرائق“ میں فرماتے ہیں:وقد ثبت ان ذٰلک کان احدی عشرۃ رکعۃ بالوتر کما ثبت فی الصحیحین من حدیث عائشۃ فیکون المسنون علی اصول مشائخنا ثمانیۃ منھا ۔ (بحر الرائق ج2 ص66(

4: امام طحطاوی نے بھی درمختار میں یہی لکھا ہے جو ابن ہمام سےمنقول ہے۔

5: ملا علی قاری حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اعلم انہ لم یوقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فی التراویح عدداً معینا بل لا یزید فی رمضان ولا فی غیرہ علی احدیٰ  عشرۃ رکعۃً ۔ (مرقاۃ شرح مشکوۃ)

6: علامہ سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:وکان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قیامہ باللیل ھووترہ یصلی باللیل فی رمضان وغیرہ احدی عشر رکعۃً ۔

 علامہ سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لم یثبت انہ صلی اللہ علیہ وسلم صلی عشرین رکعۃ والوجہ الثانی انہ قد ثبت فی صحیح البخاری وغیرہ ان عائشۃ سئلت عن قیام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  فی رمضان فقالت ما کان یزید رمضان ولا فی غیرہ علی احدی عشرۃ رکعۃ۔ )المصابیح فی الصلوۃ التراویح ص603(

7: مولانا عبد الحئی لکھنوی رحمہ ا للہ لکھتے ہیں:

 آٹھ رکعتیں اور تین رکعات وتر با جماعت حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تین راتوں سے زیادہ منقول نہیں اس لئے کہ امت پر نماز تراویح فرض نہ ہو جائے۔ )مجموعہ فتاوی ج 1 ص 354(

8: سید محمد انور شاہ  کشمیری حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے یہی ثابت ہے کہ حضور کی تراویح آٹھ رکعات ہے :ولامناص من تسلیم ان تراویحہ علیہ السلام کانت ثمانیۃ رکعات ۔ )العرف الشذی ج1ص166،101(

9: مولانا اشفاق الرحمٰن کا ندھلوی رحمہ اللہ کشف الغطاء تعلیق مؤطا مالک ص96 میں لکھتے ہیں قال الکرمانی اتفقوا علی ان المراد بقیام رمضان صلوۃ التراویحکرمانی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ بالاتفاق قیام رمضان سے مراد نماز تراویح ہے۔ما جاءَ فی قیام شہر رمضان ویسمی التراویح کما تقدم قال الکرمانی اتفقو اعلی ان المراد بقیام رمضان التراویح وبہ جزم النووی وغیرہ.)ص97 کشف الغطا(

یہ وہ مذکورہ حوالاجات ہیں جن کے پیش نظر کہتے ہیں کہ حنفی علماء بھی آٹھ رکعات تراویح کے قائل تھے۔مذکرہ بالا حوالوں کی  روشنی میں وضاحت طلب  مسئلہ یہ ہے کہ کیا واقعی ان حضرات کا یہی موقف تھا جو اوپر بیان ہوا یا ۔۔۔؟

السائلکاشف احمد، گجرات

الجواب بعون الوہاب :

 اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے اورہمیشہ اہل حق اہل السنۃ والجماعۃ سے وابستہ رہنے کی توفیق عطا فرمائے آپ نے سوال میں جن بعض اکابر کے نام لیے ہیں یقینا وہ اہل السنۃ والجماعۃ سے تعلق رکھتے ہیں اور جمہور اہل علم کے ساتھ متفق ہیں اللہ ہم سب کا انہی کے ساتھ تعلق قائم ودائم رکھے ۔

1:امام اعظم ابو حنیفہ کا مسلک :

مسند امام اعظم سے جو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی حدیث نقل کی ہے وہ تہجد کے متعلق ہے نہ کہ تراویح کے ۔خود حدیث میںصلوۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم باللیلکے الفاظ موجود ہیں جن کا معنیٰ ہے حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی رات کی نماز تیرہ رکعات ہوتی تھی اور رات کی نماز سے مراد تہجد ہے یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی نماز تہجد تیرہ رکعات ہوتی تھی وتر بھی اس میں شامل ہوتے تھے۔

حدیث مبارک میں لفظ صلوۃالنبی صلی اللہ علیہ وسلم باللیلاس بات کی واضح دلیل ہے کہ امام صاحب تو نماز تہجد کی رکعات ثابت کر رہے ہیں نہ کہ نماز تراویح کی ۔

مناسب ہے کہ آپ کے سامنے امام صاحب رحمہ اللہ کا مسلک بھی نقل کر دیا جائے تاکہ بات کھل کر سامنے آجائے ۔کتاب الآثار لابی یوسف میں روایت موجود ہےابو حنیفۃ عن حماد عن ابراھیم ان الناس کا نو ایصلون خمس ترویحات فی رمضان۔

ترجمہ: امام  ابو حنیفہ رحمہ اللہ حماد سے وہ ابراھیم سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک لوگ رمضان میں پانچ ترویحے یعنی بیس رکعات پڑھاتے ۔

فتاوی قاضی خان میں ہے: التراویح سنۃ مؤکدۃ للرجال والنساء توارثھا الخلف عن السلف من لدن تاریخ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الیٰ یومنا و ہٰکذا رویَ الحسن عن ابی حنیفۃ رحمہ اللہ انہا سنۃ لاینبغی ترکھا ۔۔۔۔وقد واظب علیھا الخلفاء الراشدون رضی اللہ عنہم وقال علیہ السلام علیکم بسنتی وسنۃالخلفاء من بعدی۔ )فتاویٰ قاضی خان برھامش فتاویٰ عالمگیریہ ج1ص332(

ترجمہ: نماز تراویح مردوں اور عورتوں کے لیے سنت مؤکدہ ہےحضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے زمانے سے لے کر آج تک ہر دور کے اخلاف)بعد والوں ( نے اپنے اسلاف)پہلے والوں ( سے اس کو توارث سے پایا ہے اور اسی طرح حسن رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ  اللہ سے روایت کیا ہے کہ بے شک تراویح سنت ہے اس کو چھوڑنا، نا مناسب ہے ،پھر لکھتے ہیں:مقدار التراویح عند اصحابنا والشافعی رحمہ اللہ ماروی الحسن عن ابی حنیفۃ رحمہ اللہ قال القیام فی شھر رمضان سنۃ لاینبغی ترکھا یصلی اھل کل مسجد فی مسجد ھم کل لیلۃ سوی الوتر عشرین رکعۃ خمس ترویحات بعشر تسلیمات یسلم فی کل رکعتین ۔ )فتاویٰ قاضی خان ص234(

ترجمہ: تراویح کی مقدار ہمارے اصحاب وامام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک وہ ہے جو حسن رحمہ اللہ نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے روایت کی ہے فرمایا قیام رمضان)تراویح(سنت ہے اس کو ترک کرنا، نا مناسب ہے ۔ہر مسجد والے اپنی مسجد میں ہر رات وتروں کے علاوہ بیس رکعات تراویح پڑھیں ۔پانچ ترویحے ۔دس سلاموں کے ساتھ اور ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیر دیں ۔

بدایۃ المجتہد میں ہے: فاختار مالک فی احد قولیہ وابو حنیفۃ والشافعی و احمد وداؤد رحمہم اللہ القیام بعشرین رکعۃ سوی الوتر ۔

)بدایۃ المجتہد ج1ص210(

ترجمہ: امام مالک رحمہ اللہ  نے اپنے دو قولوں میں سے ایک میں اور امام ابو حنیفہ ، امام شافعی ، امام احمد اور داؤد ظاہری نے بیس رکعات تراویح کا قیام پسند کیا ہے،سوائے وتر کے۔

رحمۃالامۃ میں ہے:

فالمسنون عند ابی حنیفۃ والشافعی و احمد رحمہم اللہ عشرون رکعۃً۔ )رحمۃالامۃ ص23(

ترجمہ: امام ابو حنیفہ ، امام شافعی اور احمد  رحمہم اللہ کے نزدیک مسنون تراویح بیس رکعات ہیں۔

محترم قارئین!فقہ حنفیہ کے تمام متون اور شروحات میں التراویح عشرون رکعات اور خمس ترویحات کی تصریح موجود ہے لیکن اتنی بڑی تصریحات کے باوجود معترضین  کا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نام پر عوام الناس کو دھوکہ دینا اور ان کی طرف آٹھ رکعات تراویح کی جھوٹی نسبت کرنا  نہایت تعجب خیز ہے اور حیران کن ۔

2: امام ابن ہمام کا شاذ قول :

محترم قارئین مذکرہ بالا امام ابن ہمام کے قول کی حیثیت  شاذ اور مرجوح  ہے اور ان کا ذاتی تفرد ہے ہمارے علماء اہل السنت اس کی تصریح  بارہا کر چکے ہیں کہ شاذ اور تفرادت کا کوئی اعتبار نہیں چنانچہ امام ابن ہمام رحمہ اللہ کے عظیم شاگرد علامہ قاسم بن قطلوبغا فرماتے ہیں: لاعبرۃ بابحاث شیخنا یعنی ابن الہمام التی خالفت المنقول یعنی فی المذہب۔ )شامی ج1ص225(

ترجمہ : ہمارے شیخ ابن ہمام رحمہ اللہ کی وہ بحثیں جن میں منقول فی المذہب مسائل کی مخالفت ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔

باقی  معترضین  کا یہ کہنا کہ امام ابن ہمام آٹھ رکعات تراویح کے قائل ہیں یہ  بات سراسر  بددیانتی ہے ہے کیونکہ امام ابن ہمام آٹھ رکعات تراویح کے قائل نہیں  بلکہ وہ بھی پوری امت کی طرح بیس رکعات تراویح کے قائل ہیں ۔

 چنانچہ لکھتے ہیں:ثم استقر الامر علی العشرین فانہ المتوارث۔ )فتح القدیر ج1ص407(

یعنی بالآخر تراویح کے مسئلہ نے بیس رکعات پر استقرار پکڑا پس عمل توارث کے ساتھ چلا آرہاہے۔

امام ابن ہمام رحمہ اللہ بیس رکعات تراویح کے ہی قائل ہیں البتہ ان کا صحابہ کرام رضی اللہ  عنہم کے عمل کو مستحب سمجھنا  او رتہجد وتراویح کی الگ الگ حدیثوں کو ایک دوسرے کا معارض سمجھنا  شاذ، خلافِ اجماع ہے اور تفرد ہے۔

اہل السنت والجماعت کا  اصول ہے:وان الحکم والفتیا بالقول المرجوح جھل وخرق للاجماع .)درمختارج1ص31(

یعنی قاضی کا حکم کرنا یا مفتی کا فتویٰ دینا مرجوح قول پر جہالت اور اجماع کی مخالفت ہے ۔ یعنی باطل اور حرام ہے۔

3:امام ابنِ نجیم حنفی کا مسلک :

  ابن نجیم حنفی رحمہ اللہ کے بارے میں بھی معترضین ان کی ایک عبارت سے  یہ ثابت کرنے کی کوشش کر تے ہیں کہ وہ آٹھ رکعات تراویح کے قائل تھے  حالانکہ امام ابن نجیمرحمہ اللہ فرماتے ہیں:قولہ عشرون رکعۃ‘‘بیان لکمیتھا وھو قول الجمھور لما فی المؤطا عن یزید بن رومان قال کان الناس یقومون فی زمن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ بثلاث وعشرین رکعۃ و علیہ عمل الناس شرقاً و غرباً۔ (البحر الرائق شرح کنز الدقائق ج2ص66(

ترجمہ : مصنف کا قول ہے کہ تراویح بیس رکعات ہےیہ نماز تراویح کے عدد کا بیان ہے  کہ وہ بیس رکعات ہے اور یہی جمہور کا قول ہے اس لئے کہ مؤطا امام مالک رحمہ اللہ میں یزید بن رومان رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے  زمانہ میں لوگ 23رکعات پڑھتے تھے (بیس رکعات تراویح اورتین رکعات وتر) مشرق اور مغرب میں لوگوں کا اسی پر عمل ہے۔

4:امام طحطاوی کا مسلک :

امام طحطاوی حنفی رحمہ اللہ آٹھ رکعات تراویح کےقائل نہیں بلکہ وہ بھی دوسرے علماء احناف کی طرح بیس کے قائل ہیں بلکہ کہتے ہیں کہ بیس رکعات تراویح پر توارث کے ساتھ اجماع ہے ۔ ) طحطاوی ج 1ص 468 (

5:ملا علی قاری  حنفی کا مسلک :

ملا علی قاری رحمہ اللہ کے نام سے جو عبارت پیش کی گئی وہ عبارت ملاعلی قاری رحمہ اللہ  کی نہیں بلکہ انہوں نے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے۔ ملا علی قاری رحمہ اللہ  حنفی بذات خود  بیس رکعات تراویح کے قائل ہیں ۔ چنانچہ فرماتے ہیں:لکن اجمع الصحابۃ علی ان التراویح عشرون رکعۃً

یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بیس رکعات تراویح پر اجماع ہے ۔ )  مرقاۃ ج 3ص194 (

اسی طرح ملا علی قاری رحمہ اللہ نے شرح نقایہ ص 104 میں بھی بیس رکعات تراویح پر اجماع نقل کیا ہے ۔

6:امام سیوطی کا مسلک :

   امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ  بیس رکعات تراویح کے قائل ہیں ،چنانچہ امام  موصوف ؛ علامہ سبکی رحمہ اللہ کے حوالے سے لکھتے ہیں:

ومذھبنا ان التراویح عشرون رکعۃلما روی البیہقی وغیرہ بالا سناد الصحیح عن السائب بن یزید الصحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال کنا نقوم علی عہد عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بعشرین رکعۃ والوتر ۔ )الحاوی للفتاویٰ ج1ص350(

اور ہمارا مذہب یہ ہے کہ نماز تراویح بیس رکعات ہے اس لیے کہ بیہقی وغیرہ نے صحیح اسناد کے ساتھ حضرت سائب بن یزید صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے کہ ہم لوگ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں بیس رکعات تراویح اور وتر پڑھتے تھے ۔پھر لکھا ہے :استقر العمل علی ہذا ۔یعنی بالآخر بیس رکعات تراویح پر عمل پختہ ہوا یعنی خلفاء راشدین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بیس رکعات پر اتفاق اور اجماع کیا ہے۔

اور پھربعض لوگ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کو اپنا ہم خیال سمجھ کر ان کی یہ عبارت نقل کر دیتےہیں:واما ما رواہ ابن ابی شیبۃمن حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یصلی فی رمضان عشرین رکعۃً والوترفاسنادہ ضعیف وقد عارضہ حدیث عائشۃ ھذاالذی فی الصحیحین مع کو نھا اعلم بحال النبی صلی اللہ علیہ وسلم لیلامن غیرھا واللہ اعلم۔ )فتح الباری ج4ص319(

حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ مسئلہ تراویح میں امام شافعی رحمہ اللہ کے  سچے پیروکار تھے اور شافیعہ کا بیس رکعات تراویح پر اتفاق چلاآرہا ہے ۔

 امام موصوف؛ امام رافعی رحمہ اللہ  کے واسطے سے نقل کرتے ہیں:انہ صلی اللہ علیہ وسلم صلی بالناس عشرین رکعۃ لیلتین فلما کان فی اللیلۃالثالثۃ اجتمع الناس فلم یخرج الیھم ثم قال من الغد خشیت ان تفرض علیکم فلا تطیقو نہا ۔

اس کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں ”متفق علی صحتہ“اس کی صحت پر تمام محدثین کا اتفاق ہے۔ )تلخیص الحبیر فی تخریج احادیث الرافع الکبیر ج1ص540(

معلوم ہوا حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کے نزدیک جس روایت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بیس رکعات تراویح پڑھنا ثابت ہے اس کی صحت پر محدثین کا اتفاق ہے ۔

7: علامہ عبد الحئی لکھنوی کا مسلک:

آپ  کے مجموعہ فتاویٰ سے سوال اور جواب ملاحظہ فرمائیں۔

سوال :حنفیہ بست رکعت تراویح سوائے وتر میخوانند و در حدیث صحیح از عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا وارد شدہ ماکان یزید فی رمضان ولا فی غیرہ علی احدی عشرۃ رکعۃ پس سند بست رکعت چیست؟

جواب:روایت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا محمول بر نماز تہجد است کہ در رمضان و غیر رمضان یکساں بود و غالباً بعد یازدہ رکعت مع الوتر بر سند و دلیل بریں محل آنست کہ راوی ایں حدیث ابو سلمہ است درنیہ ایں حدیث میگویدقالت عائشہ رضی اللہ عنہا فقلت یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تنام قبل ان توتر قال یا عائشۃ ان عینی تنامان ولا ینام قلبیکذا رواہ البخاری ومسلم و نماز تراویح در عرف آں وقت قیام رمضان مےگفتند و حد صحاح ستہ بروایات صحیحہ مرفوعہ الی النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تعین عدد قیام رمضان مصرح نشدہ این قدر ہست کہقالت عائشہ کان رسول اللہ یجتہد فی رمضان مالا یجتہد فی غیرہ رواہ مسلم لیکن در مصنف ابن ابی شیبہ و سنن بیہقی بروایت ابن عباس وارد شدہکان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یصلی فی رمضان جماعۃ بعشرین رکعۃ والوتر و رواہ البیہقی فی سننہ باسناد صحیح عن السائب بن یزید قال کانو ا یقومون فی عہد عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ فی شھر رمضان بعشرین رکعۃ۔ )مجموعہ فتاوی مولانا عبد الحئی لکھنوی رحمہ اللہ ص 59,58 (

اس عبارت میں وضاحت کے ساتھ مولانا عبد الحئی لکھنوی رحمہ اللہ فرما رہے ہیں کہ بیس رکعات تراویح صحیح اسناد کے ساتھ ثابت ہے اور امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا والی روایت تہجد پر محمول ہے پھر بھی ان کے نام  لے کر یہ کہنا کے وہ آٹھ رکعات تراویح کے قائل تھے بہر حال ہماری سمجھ سے دور ہے ۔

مولانا موصوف اپنی ایک اور کتاب میں لکھتے ہیں:ان مجموع عشرین رکعۃ فی التراویح سنۃ موکدۃ  لانہ مما واظب علیہ الخلفاء وان لم یواظب علیہ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وقد سبق ان سنۃ الخلفاء ایضاً لازم الاتباع وتارکھا آثم و ان کان اثمہ دون اثم تارک السنۃ النبویۃ فمن اکتفٰی علی ثمان رکعات یکون مسیئاً لترکہ سنۃ الخلفاء وان شِئت ترتیبہ علی سبیل القیاس فقل عشرون رکعۃ فی التراویح مما واظب علیہ الخلفاء الراشدون وکل ما واظب علیہ الخلفاء سنۃ موکدۃ ثم تضمہ مع ان کل سنۃ موکدۃ یاثم تارکھا  فینتبع عشرون رکعۃ یا ثم تارکھا و مقدمات ھذا القیاس قدا ثبتنا ھا فی الاصول السابقہ ۔ )تحفۃ الاخیار فی احیاء سنۃ سید الابرار ص 209 (

ترجمہ: تراویح میں بیس رکعات سنت مؤکدہ ہیں اس لئے کہ اس پر خلفائے راشدین نے مداومت کی ہے اگرچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مداومت نہیں کی اور پہلے بتایا جا چکا ہے کہ خلفاء راشدین کی سنت بھی واجب الاتباع ہے اور اس کاچھوڑنے والا گنہگار ہے اگرچہ اس کا گناہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ترک کرنے والے سے کم ہے لہٰذا جو شخض آٹھ رکعات پر اکتفاء کرے وہ برا کام کرنے والا ہے کیونکہ اس نے خلفا راشدین کی سنت ترک کر دی اگر تم قیاس کے طریقے پر اس کی ترتیب سمجھنا چاہو تو یوں کہو بیس رکعات تراویح پر خلفاء راشدین نے مواظبت کی اور جس پر خلفاء راشدین نے مواظبت کی ہو وہ سنت مؤکدہ ہے لہٰذا بیس رکعات تراویح بھی سنت مؤکدہ ہے پھر اس کے ساتھ یہ بھی ملاؤ کہ سنت مؤکدہ کا تارک گنہگار ہوتا ہے لہٰذا بیس رکعات کا تارک بھی گنہگار ہو گا۔ اس قیاس کے مقدمات ہم اصول سابقہ میں ثابت کر چکے ہیں۔

قارئین! مولانا عبد الحئی لکھنوی رحمہ اللہ  تو فرماتے ہیں کہ آٹھ رکعات تراویح پڑھ کر باقی  رکعتوں کو چھوڑنے والا گنہگار ہے کیونکہ بیس رکعات تراویح سنت مؤکدہ ہے ۔ مولانا عبد الحئی لکھنوی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:فمودی ثمان رکعات یکون تارکا للسنۃ المؤکدہ ۔ )حاشیہ ہدایہ ج 1 ص 131مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان (

یعنی صرف آٹھ رکعات تراویح ادا کرنے والا سنت مؤکدہ کا تارک )گناہ گار( ہے  کیونکہ سنت مؤکدہ کو ترک کرنا گناہ ہے ۔

علاوہ ازیں علامہ عبدالحئی لکھنوی رحمہ اللہ نے مؤطا امام محمد کے حاشیہ پر  لکھا: بیس رکعات تراویح پر اجماع ہے اور نمازتراویح سنت مؤکدہ ہے ۔

8: علامہ انور شاہ  کشمیری کا مسلک :

امام العصر خاتم المحدثین  علامہ انور شاہ کشمیری خود بیس تراویح کے قائل ہیں اور آٹھ رکعات پڑ ھنے والے کو سواد اعظم )اہل السنت والجماعت(سے خارج سمجھتے ہیں ،چنانچہ فرماتے ہیں:واما من اکتفیٰ بالرکعات الثمانیہ وشذ عن السواد الاعظم و حبل یر میہم بالبدعۃفلیر عاقبۃ۔ )فیض الباری شرح صحیح بخاری ج3ص181(

یعنی جوشخص آٹھ رکعات پر اکتفا کر کے سواد اعظم سے کٹ گیا اورسواد اعظم کو بدعتی کہتا ہے وہ اپنا انجام سوچ لے ۔

حضرت شاہ  صاحب رحمہ اللہ مزید لکھتےہیں:لم یقل احد من الائمۃ الاربعۃ  باقل من عشرین رکعۃ فی التراویح والیہ جمہور الصحابۃرضی اللہ عنہم   وقال ابن ہمام ان ثمانیۃ رکعات سنۃ مؤکدۃ وثنتی عشررکعۃً مستحبۃ وماقال بھذا احد اقول ان سنۃ الخلفاء الراشدین ایضاًیکون سنۃ الشریعۃ  لما فی الا صول ان السنۃ سنۃ الخلفاء وسنۃ علیہ السلام وقد صح فی الحدیث علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین فیکون فعل الفاروق الاعظم ایضاسنۃً۔۔۔ففی التاتارخانیۃ سئل ابو یوسف ابا حنفیۃ رحمہ اللہ ان اعلان عمر بعشرین رکعۃً ھل کان لہ عھد منہ علیہ السلام قال ابو حنیفۃ رحمہ اللہ  ما کان عمر مبتدعا ای لعلہ یکون لہ عہد فدل علی ان عشرین رکعۃً لا بدلہ من ان یکون لھا اصل منہ علیہ السلام واستقر الامر علی عشرین رکعۃً ۔ )العرف الشذی علی ھامش الترمذی ج1ص100،99(

ترجمہ: ائمہ اربعہ میں سے کسی نے نہیں کہا کہ نماز تراویح بیس رکعات سے کم ہے اور اسی طرف جمہور صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم گئے ہیں اور ابن ہمام رحمہ اللہ نےجو کہا ہے کہ آٹھ رکعات سنت  مؤکدہ ہے اور بارہ رکعات مستحب ہے اور یہ بات کسی اور نے نہیں کہی )یعنی ابن ہمام رحمہ اللہ  کا تفرد ہے (

خلفاء راشدین کی سنت بھی شریعت کی سنت ہے کیونکہ اصول میں ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی سنت اور خلفاء راشدین کی سنت، سنت ہے اور یہ بات صحیح حدیث میں ہے کہ تم پر میری سنت اور خلفاء راشدین مھدیین کی سنت لازم ہے،فاروق اعظم کا عمل بھی سنت ہے۔فتاویٰ تاتارخانیہ میں ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو بیس رکعات تراویح کا اعلان کیا ہے کیا انہوں نے اس کا علم حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  سے پایا ہے ؟امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ  نے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ )معاذ اللہ (مبتدع نہیں تھے یعنی شاید ان کے پاس اس کا علم تھا یہ بات دلالت کرتی ہے کہ لامحالہ بیس رکعات تراویح کی اصل خود حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے اور تراویح کا استقرار بیس رکعات پر ہے ۔

9:مولانا اشفاق الرحمن  کاندھلوی کا مسلک :

مولاناموصوف بیس رکعات تراویح کے قائل ہیں: والظاہر عندی مارحجہ ابن عبدالبر لان جل المروایات نص فی انہا کانت عشرین رکعًۃ۔ ) کشف الغطاءحاشیہ مؤطا امام مالک ص98 (

 میرے نزدیک بھی بات وہی ہے جس کوابن عبدالبر نے ترجیح دی ہے بیس رکعات تراویح کیونکہ بڑی بڑی روایات اس بار ے میں واضح ہیں  کہ نماز تراویح بیس رکعات ہے۔  

مندرجہ بالا دلائل سے یہ معلوم ہوا کہ علمائے اہل السنت والجماعت بالخصوص علمائے احناف کو آٹھ رکعات تراویح کا قائل ماننا سراسر ناانصافی ہے ۔تمام علمائے احناف کثراللہ سوادھم امت مرحومہ کے اجماعیت کو تسلیم کرتے ہوئے 20 رکعات تراویح ہی ادا کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں انہیں کے نقش قدم پر چلائے ۔