مرد و عورت کی نماز میں فرق

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
مرد و عورت کی نماز میں فرق
از افادات: متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
دعویٰ اہل السنۃ والجماعۃ:
مرد و عورت کے طریقہ نماز میں فرق؛ احادیث وآثار، اجماع امت اور ائمہ اربعہ کے اقوال سے ثابت ہے۔
دعویٰ غیرمقلدین:
1: یو نس قریشی صاحب لکھتے ہیں:
شریعت محمدیہ میں مردو عورت کی نماز میں کوئی فرق نہیں بلکہ جس طرح مرد نماز پڑھتا ہے اسی طرح عورت کو بھی پڑھنا چاہيے۔
( دستور المتقی ص151)
2: حکیم صادق سیالکوٹی صاحب لکھتے ہیں:
عورتوں اور مردوں کی نماز کے طریقہ میں کوئی فرق نہیں... پھر اپنی طرف سے يہ حکم لگانا کہ عورتیں سينے پر ہاتھ باندھیں اور مرد زیر ناف اور عورتیں سجدہ کرتے وقت زمین پر کوئی اور ہیئت اختیار کریں اور مرد کوئی اور ... يہ دین میں مداخلت ہے۔ یاد رکھیں کہ تکبیر تحریمہ سے شروع کر کے السلام علیکم و رحمۃ اﷲ کہنے تک عورتوں اور مردوں کےلئے ايک ہیئت اور شکل کی نماز ہے۔ سب کا قیام، رکوع، قومہ، سجدہ، جلسہ استراحت ، قعدہ اور ہر ہر مقام پر پڑھنے کی دعائیں یکساں ہیں۔ رسو ل اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم نے ذکور واناث کی نماز کے طریقہ میں کوئی فرق نہیں بتایا۔
(صلوٰة الرسول ص190، ص191)
3: مرد و عورت کے طریقہ نماز میں کوئی فرق نہیں۔
(عورتوں کا طریقہ نماز از صلاح الدین یوسف،عورت اور مرد کے طریقہ نماز میں کوئی فرق نہیں از حافظ محمد ابراہیم سلفی)
دلائل اہل السنت و الجماعت
تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھانے میں فرق:
مرد:
فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے:
وَكَيْفِيَّتُهَا إذَا أَرَادَ الدُّخُولَ في الصَّلَاةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حِذَاءَ أُذُنَيْهِ حتى يُحَاذِيَ بِإِبْهَامَيْهِ شَحْمَتَيْ أُذُنَيْهِ وَبِرُءُوسِ الْأَصَابِعِ فُرُوعَ أُذُنَيْهِ.
(الفتاویٰ الہندیۃ: ج1 ص80)
کہ مرد تکبیر تحریمہ کے وقت اپنے ہاتھ کانوں کے برابر اس طرح اٹھائے کہ انگوٹھے کانوں کی لو کے برابر اور ہاتھوں کی انگلیوں کے سرے کانوں کے اوپر والے حصہ کے برابر ہو جائیں۔
اس طرح گٹے بھی کندھوں کے برابر ہو جائیں گے۔
دلائل:
1: عن مالك بن الحويرث رضی اللہ عنہ أنه رأى نبي الله صلى الله عليه وسلم... وقال حتى يحاذي بهما فروع أذنيه.
(صحیح مسلم: ج1ص168باب استحباب رفع الیدین فی تکبیرۃ الاحرام)
ترجمہ: حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو (نماز پڑھتے ہوئے) دیکھا۔ (جب آپ نے تکبیر تحریمہ کہی تو) آپ کےدونوں ہاتھ کانوں کے اوپر والے حصے کے برابر ہو گئے۔
2: عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ اِنَّہٗ رَاَیٔ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا افْتَتَحَ الصَّلٰوۃَ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتیّٰ تَکَادَ اِبْھَامَاہُ تُحَاذِیْ شَحْمَۃَ اُذُنَیْہِ.
(سنن النسائی ج 1ص141 باب موضع الابھامین عند الرفع)
ترجمہ: حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے جب نماز شروع فرمائی تو دونوں ہاتھوں کو اٹھایا یہاں تک کہ آپ کے دونوں انگوٹھے آپ کے کانوں کی لو کے برابر ہو گئے۔
3: فَقَالَ اَبُوْحُمَیْدِ السَّاعِدِیُّ رضی اللہ عنہما اَنَا کُنْتُ اَحْفَظُکُمْ لِصَلٰوۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ و سلم رَاَ یْتُہٗ اِذَا کَبَّرَ جَعَلَ یَدَیْہِ حَذْوَ مَنْکَبَیْہِ الخ
(صحیح البخاری: ج1ص114‘ صحیح ابن خزیمۃ؛ ج1ص298)
ترجمہ: حضرت ابوحمیدساعدی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’میں تم سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازپڑھنے کے طریقے کو زیادہ یاد رکھنے والا ہوں۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کے طریقے کو بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب تکبیر تحریمہ کہی تو اپنے ہاتھوں کو اپنے کندھوں کے برابر اٹھایا۔“
فائدہ:
ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کانوں کے اوپر والے حصے کے برابر، کانوں کی لو کے برابر اور کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھائے ہیں۔ مردوں کے ہاتھ اٹھانے کا طریقہ جو احناف بیان کرتے ہیں اس سے تینوں روایات پر یوں عمل ہو جاتا ہے کہ مرد اپنے ہاتھ اس طرح اٹھائے کہ ہاتھوں کی انگلیوں کے سرے کانوں کے اوپر والے حصہ کے برابر، انگوٹھے کانوں کی لو کے برابر اور گٹے کندھوں کے برابر ہو جائیں۔
عورت:
المرأة ترفع يديها حذاء منکبيها، وهو الصحيح لأنه أسترلها.
(فتح القدير لابن الہمام: ج1ص246)
ترجمہ: تکبیر تحریمہ کے وقت عورت اپنے کندھوں کے برابر اپنے ہاتھ اٹھائے، یہ صحیح تر ہے کیونکہ اس میں اس کی زیادہ پردہ پوشی ہے۔
اس کا طریقہ یہ ہو گا کہ ہاتھوں کی انگلیوں کے سرے کندھے تک ہو جائیں گے اور گٹے سینے کے برابر، یوں دلائل میں آنے والی روایات میں تطبیق بھی ہو جائے گی۔
روایت نمبر1:
عَنْ وَائِلِ بن حُجْرٍ، قَالَ: جِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ... فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:يَا وَائِلُ بن حُجْرٍ، إِذَا صَلَّيْتَ فَاجْعَلْ يَدَيْكَ حِذَاءَ أُذُنَيْكَ، وَالْمَرْأَةُ تَجْعَلُ يَدَيْهَا حِذَاءَ ثَدْيَيْهَا.
(المعجم الکبیر للطبرانی: ج9ص144رقم17497، مجمع الزوائد: ج9 ص624 رقم الحدیث1605، البدر المنير لابن الملقن:ج3ص463)
ترجمہ: حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا (درمیان میں طویل عبارت ہے، اس میں ہے کہ) آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے ارشاد فرمایا: اے وائل! جب تم نماز پڑھو تو اپنے دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھاؤ اور عورت اپنے دونوں ہاتھ اپنی چھاتی کے برابر اٹھائے۔
اعتراض:
روایت کی سند میں ایک راویہ ام یحییٰ بنت عبد الجبار مجہول ہے کیونکہ امام ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ولم اعرفہا. (کہ میں اس کو نہیں جانتا)
(مجمع الزوائد ج2 ص103)
جواب:
اولاً: امام ہیثمی رحمہ اللہ کے نہ جاننے سے ام یحییٰ کا مجہول ہونا لازم نہیں آتا۔
ثانیاً: تاریخ دمشق (جزء 62ص390) میں ”باب وائل بن حجر بن سعد“ کے تحت ام یحییٰ کا نام ”کبشہ“ مذکور ہے۔ وہاں سند یوں ہے:
حدثنا میمونۃ بنت عبدالجبار بن وائل قال سمعت عمتی کبشۃ ام یحییٰ۔۔۔الخ
اور امام ابن مندہ نے حاشیہ اکمال الکمال جزء 2ص478پر فرمایا ہے کہ اس راویہ کی کنیت ”ام یحییٰ“ ہے اور ان سے میمونہ بنت حجر بن عبدالجبار نے روایت کی ہے۔
لہذا ام یحییٰ مجہول راویہ نہیں ہے۔
روایت نمبر2:
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شَيْخٌ لَنَا ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءً؛ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ كَيْفَ تَرْفَعُ يَدَيْهَا فِي الصَّلاَةِ ؟ قَالَ : حَذْوَ ثَدْيَيْهَا.
(مصنف ابن ابی شیبۃ: ج1ص270باب في المرأة إذَا افْتَتَحَتِ الصَّلاَةَ ، إلَى أَيْنَ تَرْفَعُ يَدَيْهَا)
ترجمہ: حضرت عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ عورت نماز میں ہاتھ کہاں تک اٹھائے؟فرمایا : اپنے سینے تک۔
اعتراض:
اس روایت کی سند میں حضرت ہشیم نے فرمایا: شیخ لنا،جب کہ شیخ کا نام معلوم نہیں۔
جواب:
مصنف ابن ابی شیبہ میں دوسرے مقام پر حضرت ہشیم فرماتے ہیں:
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شَيْخٌ ، يُقَالَ لَهُ : مِسْمَعُ بْنُ ثَابِتٍ الخ
(مصنف ابن ابی شیبۃ: ج2ص254باب فِي رَكْعَتَيَ الْفَجْرِ إِذَا فَاتَتْہ)
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہشیم کے شیخ کا نام ”مسمع بن ثابت“ ہے۔
روایت نمبر3:
عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ زَيْتُونَ ، قَالَ : رَأَيْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ تَرْفَعُ يَدَيْهَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهَا حِينَ تَفْتَتِحُ الصَّلاَةَ.
(مصنف ابن ابی شیبۃ: ج2ص421باب فی المرءۃ اذا افتتحت الصلوۃ الی این ترفع یدیہا؟)
ترجمہ: عبد ربہ بن زیتون سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ نماز شروع کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھاتی تھیں۔
نوٹ: حضرت ام الدرداء الکبریٰ رضی اللہ عنہا کا نام ”خیرۃ“ ہے اور یہ صحابیات میں سے ہیں۔
(تہذیب التہذیب: ج7 ص715 رقم الترجمۃ 12193 تحت ترجمہ ام الدرداء)
ان تین روایات سے عورت کے لیے ہاتھوں کو کندھے اور سینہ تک اٹھانے کا تذکرہ موجود ہے۔ لہٰذا عورت اپنے ہاتھ اس طرح اٹھائے گی کہ ہاتھوں کی انگلیاں کندھوں تک اور ہتھیلیاں سینہ کے برابر آ جائیں۔
مرد و عورت کے ہاتھ باندھنے میں فرق:
مرد:
مردوں کے ہاتھ باندھنے کا طریقہ یہ ہے کہ دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کی پشت پر رکھ کر، انگوٹھے اور چھنگلیا سے بائیں ہاتھ کے گٹے کو پکڑتے ہوئے تین انگلیاں کلائی پر بچھا کر ناف کے نیچے رکھتے ہیں۔امام محمد بن حسن الشیبانی فرماتے ہیں:
و یضع بطن کفہ الایمن علی رسغہ الایسر تحت السرۃ فیکون الرسغ فی وسط الکف.
[کتاب الآثار بروایۃ محمد: ج1 ص321]
ترجمہ: نمازی اپنی دائیں ہتھیلی کا اندرونی حصہ اپنی بائیں کلائی کے اوپر رکھ کر ناف کے نیچے رکھے، اس طرح گٹہ ہتھیلی کے درمیان میں ہو جائے گا۔
علامہ عینی فرماتے ہیں:
واستحسن كثير من مشايخنا…… بأن يضع باطن كفه اليمنى على كفه اليسرى ويحلق بالخنصر والإبهام على الرسغ.
[عمد ۃ القاری: ج4 ص389 باب وضع الیمنیٰ علی الیسریٰ فی الصلاۃ]
ترجمہ: ہمارے اکثر مشائخ نے اس بات کو پسند فرمایاہے کہ نمازی اپنی دائیں ہتھیلی کا اندرونی حصہ اپنی بائیں ہتھیلی (کی پشت) پر رکھے اور چھنگلیا اور انگوٹھے کے ساتھ گٹے پر حلقہ بنا لے۔
دلائل:
1:عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ رضی اللہ عنہ قَالَ کَانَ النَّاسُ یُؤْمَرُوْنَ اَنْ یَّضَعَ الرَّجُلُ الْیَدَ الْیُمْنٰی عَلٰی ذِرَاعِہِ الْیُسْریٰ فِی الصَّلٰوۃِ •
(صحیح البخاری ج 1ص 102باب وضع الیمنی علی الیسریٰ)
ترجمہ: حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگوں کو اس بات کا حکم دیا جاتا تھا کہ آدمی نماز میں اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں بازو پر رکھے۔
2: عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: لَاَ نْظُرَنَّ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم کَیْفَ یُصَلِّیْ؟ قَالَ فَنَظَرْتُ اِلَیْہِ قَامَ فَکَبَّرَ وَرَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی حَاذَتَا اُذُنَیْہِ ثُمَّ وَضَعَ یَدَہٗ الْیُمْنٰی عَلٰی ظَھْرِکَفِّہِ الْیُسْریٰ وَالرُّسْغِ وَالسَّاعِدِ •
(صحیح ابن حبان:ص577رقم الحدیث1860،سنن النسائی:ج1ص141،سنن ابی داؤد ج 1ص105 باب تفریع استفتاح الصلوٰۃ)
ترجمہ: حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں (نے ارادہ کیا کہ) دیکھوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نماز کیسے پڑھتے ہیں؟ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کھڑے ہوئے، تکبیر کہی اور دونوں ہاتھ اپنے دونوں کانوں کے برابر اٹھائے، پھر اپنے دائیں ہاتھ کو اپنی بائیں ہتھیلی (کی پشت)، گٹے اور بازو پر رکھا۔
3:عَنِ ابْنِ عَبَّاس رضی اللہ عنہما اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ اِنَّا مَعْشَرُ الْاَنْبِیَائِ اُمِرْنَااَنْ نُؤَخِّرَسُحُوْرَنَا وَنُعَجِّلَ فِطْرَنَاوَاَنْ نُمْسِکَ بِاَیْمَانِنَاعَلٰی شَمَائِلِنَا فِیْ صَلٰوتِنَا•
( صحیح ابن حبان ص 555.554ذکر الاخبار عما یستحب للمرء، رقم الحدیث 1770)
ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ہم انبیاء علیہم السلام کی جماعت کو اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ ہم سحری تاخیر سے کریں، افطار جلدی کریں اور نماز میں اپنے دائیں ہاتھوں سے اپنے بائیں ہاتھوں کو پکڑے رکھیں۔
4: عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رضی اللہ عنہ قَالَ رَاَیْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم وَضَعَ یَمِیْنَہٗ عَلَی شِمَالِہٖ فِی الصَّلٰوۃِ تَحْتَ السُّرَّۃِ•
(مصنف ابن ابی شیبۃ ج3 ص321،322، وضع الیمین علی الشمال،رقم الحدیث 3959)
ترجمہ: حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاکہ آپ نے نماز میں اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے رکھا۔
عورت:
عورت کے بارے میں اجماع ہے کہ وہ قیام کے وقت اپنے ہاتھ سینہ پر رکھے گی اور اجماع مستقل دلیل شرعی ہے۔
1: امام ابو القاسم ابراہیم بن محمد القاری الحنفی السمر قندی (المتوفیٰ بعد907ھ) لکھتے ہیں:
وَ الْمَرْاَۃُ تَضَعُ [یَدَیْھَا]عَلٰی صَدْرِھَا بِالْاِتِّفَاقِ.
(مستخلص الحقائق شرح کنز الدقائق: ص153)
ترجمہ: عورت اپنے ہاتھ سینہ پر رکھے گی،اس پر سب فقہاء کا اتفاق ہے۔
2: سلطان المحدثین ملا علی قاری رحمہ اللہ (م1014ھ) فرماتے ہیں:
وَ الْمَرْاَۃُ تَضَعُ [یَدَیْھَا]عَلٰی صَدْرِھَا اِتِّفَاقًا لِاَنَّ مَبْنٰی حَالِھَا عَلَی السَّتْرِ.
(فتح باب العنایۃ: ج1 ص243 سنن الصلوۃ)
ترجمہ:عورت اپنے ہاتھ سینہ پر رکھے گی،اس پر سب فقہاء کا اتفاق ہے، کیونکہ عورت کی حالت کا دارو مدار پردے پر ہے۔
3: علامہ عبد الحئی لکھنوی رحمہ اللہ (م1304ھ) لکھتے ہیں:
وَاَمَّا فِیْ حَقِّ النِّسَائِ فَاتَّفَقُوْا عَلٰی اَنَّ السُّنَّۃَ لَھُنَّ وَضْعُ الْیَدَیْنِ عَلَی الصَّدْرِ لِاَنَّھَامَا اَسْتَرُ لَھَا.
(السعایۃ ج 2ص156)
ترجمہ:رہا عورتوں کے حق میں[ہاتھ باندھنے کا معاملہ]تو تمام فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ان کے لیےسنت سینہ پر ہاتھ باندھناہے کیونکہ اس میں پردہ زیادہ ہے۔
مرد وعورت کی طریقہ رکوع میں فرق:
مرد:
مرد رکوع میں اپنی انگلیوں کو کشادہ کرتے ہوئے گھٹنوں کو پکڑے گا، اپنی کہنیوں کو پہلو سے جدا رکھے گا اور پشت کو سیدھا رکھے گا تاکہ اس کا سر اور پشت ایک سیدھ میں آ جائیں اور سر کو نہ اونچا کرے گا نہ نیچا بلکہ پشت کی سیدھ میں رکھے گا۔
1: عَنْ سَالِمٍ الْبَرَّادِ قَالَ أَتَيْنَا عُقْبَةَ بْنَ عَمْرٍو الأَنْصَارِىَّ أَبَا مَسْعُودٍ فَقُلْنَا لَهُ حَدِّثْنَا عَنْ صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَامَ بَيْنَ أَيْدِينَا فِى الْمَسْجِدِ فَكَبَّرَ فَلَمَّا رَكَعَ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَجَعَلَ أَصَابِعَهُ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ وَجَافىٰ بَيْنَ مِرْفَقَيْهِ.
(سنن ابی داود: ج1ص125، 126باب صَلاَةِ مَنْ لاَ يُقِيمُ صُلْبَهُ فِى الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ)
ترجمہ: حضرت سالم البراد فرماتے ہیں کہ ہم ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ہم نے عرض کیا ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ نمازبیان فرمائیں۔ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ مسجد نبوی کے اندر ہمارے سامنے کھڑے ہوئے اور تکبیر تحریمہ کہی۔ جب رکوع کیا تو اپنے ہاتھو گھٹنوں پر رکھے (یعنی انہیں مضبوطی سے پکڑا) اور اپنی انگلیاں گھٹنوں سے نیچے کیں اور اپنی کہنیاں پہلو سے جدا کیں۔
2: عن انس رضی اللہ عنہ (فی حدیث طویل: قال قال لی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم): یَابُنَیَّ اِذَارَکَعْتَ فَضَعْ کَفَّیْکَ عَلٰی رُکْبَتَیْکَ وَفَرِّجْ بَیْنَ اَصَابِعِکَ وَارْفَعْ یَدَیْکَ عَنْ جَنْبَیْکَ.
(المعجم الاوسط للطبرانی ج 4ص281 رقم الحدیث 5991 ،المعجم الصغیر للطبرانی ج2ص32)
ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے فرمایا: اے میرے بیٹے! جب تم رکوع کرو تو اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھو اور انگلیوں کو کشادہ رکھو اور اپنے بازؤوں کو پہلو سے جدا رکھو!
3: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا رَكَعَ اسْتَوَى , فَلَوْ صُبَّ عَلَى ظَهْرِهِ الْمَاءُ لاسْتَقَرَّ.
(المعجم الکبیر للطبرانی: ج10 ص312)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جب رکوع کرتے تو پشت مبارک کو اس طرح ہموار کرتے تھے کہ اگر آپ علیہ السلام کی پشت مبارک پر پانی بہا دیا جائے تو وہ ایک جگہ ٹک جائے۔
4: عن عائشة رضی اللہ عنہا قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يستفتح الصلاة بالتكبير والقراءة بالحمد لله رب العالمين وكان إذا ركع لم يُشْخِصْ رأسه ولم يُصوِّبْه ولكن بين ذلك.
(صحیح مسلم: ج1 ص194)
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نماز کو تکبیر سے اور قراءت کو ”الحمد للہ رب العلمین“ سے شروع فرماتے تھے اور جب آپ علیہ السلام رکوع فرماتے تھے تو سر مبارک کو نہ (زیادہ) اونچا کرتے اور نہ (زیادہ) نیچا بلکہ اس کے درمیان ہوتا تھا (یعنی پشت مبارک کے برابر)
عورت:
عورت رکوع میں مرد کی بنسبت کم جھکے گی، اپنے ہاتھ بغیر کشاد کیے ہوئے گھٹنوں پر رکھے گی اور کہنیوں کو پہلو سے ملا کر رکھے گی۔
دلائل:
1: عن عطاء قال تجتمع المراة إذا ركعت ترفع يديها إلى بطنها وتجتمع ما استطاعت.
(مصنف عبدالرزاق ج3ص50رقم5983)
ترجمہ: حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ عورت سمٹ کر رکوع کرے گی، اپنے ہاتھوں کو اپنے پیٹ کی طرف ملائے گی، جتنا سمٹ سکتی ہو سمٹ جائے گی۔
2: فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
والمرأة تنحنی فی الرکوع يسيرا ولا تعتمد ولا تفرج أصابعها ولکن تضم يديها وتضع علي رکبتيها وضعا وتنحنی رکبتيها ولا تجافی عضد تيها.
(فتاویٰ عالمگیری: ج1ص74)
ترجمہ: عورت رکوع میں کسی قدر جھکے گی،گھٹنوں کو مضبوطی سے نہیں پکڑے گی،اپنی انگلیوں کو کشادہ نہیں کرے گی البتہ ہاتھوں کو ملا کر اپنے گھٹنوں پر جما کر رکھے گی، گھٹنوں کو قدرے ٹیڑھا کرے گی اور اپنے بازو جسم سے دور نہ رکھے گی۔
فریقِ مخالف میں سے غیرمقلد عالم عبدالحق ہاشمی اپنی کتاب ”نصب العمود“ میں لکھتے ہیں:
عندی بالاختیار قول من قال ان المراءۃ لاتجافی فی الرکوع.
(نصب العمود فی مسئلۃ تجافی المراءۃ فی الرکوع والسجود والقعود ص52)
ترجمہ: مجھے ان حضرات کی بات پسند ہے جو کہتے ہیں کہ عورت رکوع میں اپنی کہنیاں پہلو سے جدا نہ کرے۔
مرد و عورت کے طریقہ سجدہ میں فرق:
مرد:
مرد سجدہ میں اپنا پیٹ رانوں سے دور رکھیں گے، اپنی کہنیوں کو زمین سے بلند رکھتے ہوئے پہلو سے جدا رکھیں گے اور سرین کو اونچا کریں گے۔
دلائل:
1: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ الْأَسْدِيِّ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ فَرَّجَ بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى نَرَى إِبْطَيْهِ قَالَ وَقَالَ ابْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا بَكْرٌ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ.
(صحیح البخاری: باب صفۃ النبی صلی اللہ علیہ و سلم، صحیح مسلم: باب ما یجمع صفۃ الصلاة وما یفتتح بہ ویختم بہ وصفۃ الركوع والاعتدال منہ والسجود الخ)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مالک بن بجینہ الاسدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں بازؤوں کو اچھی طرح کھول دیتے (یعنی اپنی پہلو سے جدا رکھتے) یہاں تک کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آ جاتی۔
2: عن ميمونة : أن النبي صلى الله عليه و سلم كان إذا سجد جافى يديه حتى لو أن بهمة أرادت أن تمر تحت يديه مرت.
(سنن النسائی: ج1ص167باب التجافی فی السجود)
ترجمہ: ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھ پیٹ سے اتنے دور رکھتے کہ بکری کا چھوٹا بچہ نیچے سے گزرنا چاہتا تو گزرسکتا۔
3: عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ قَالَ وَصَفَ لَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ فَوَضَعَ يَدَيْهِ وَاعْتَمَدَ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَرَفَعَ عَجِيزَتَهُ وَقَالَ هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَسْجُدُ.
(سنن ابی داؤد: ج1ص130باب صفۃ السجود)
ترجمہ: حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے ہمیں سجدہ کا طریقہ بتایا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھوں کو (زمین پر) رکھا، اپنے گھٹنوں پر سہارا لیا اور اپنی سرین کو اٹھایا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بھی اسی طرح سجدہ کرتے تھے۔
عورت:
عورت مرد کی طرح کھل کر سجدہ نہیں کرے گی بلکہ پیٹ کو رانوں سے ملائے گی، بازؤوں کو پہلو سے ملا کر رکھے گی اور کہنیاں زمین پر بچھا دے گی۔فقہ حنفی کی مشہور کتاب ہدایہ میں ہے:
والمرأة تنخفض فی سجودها و تلزق بطنها بفخذ يها لأن ذلک أسترلها.
(الہدايۃ فی فقہ الحنفی:ج1ص50)
ترجمہ: عورت سجدے میں سکڑجائے اور اپنے پیٹ کو اپنی رانوں سے ملا دے کیونکہ یہ صورت اس کے لئے زیادہ پردہ والی ہے۔
بدائع الصنائع میں ہے:
فأما المرأة فينبغی أن تفترش زرا عيها و تنخفض ولا تنتصب کإنتصاب الرجل و تلزق بطنها بفخذيها لأن ذلک أسترلها.
(بدائع الصنائع: ج1 ص210)
ترجمہ: عورت کو چاہیے اپنے بازو بچھا دے اور سکڑ جائے اور مردوں کی طرح کھل کر سجدہ نہ کرے اور اپنا پیٹ اپنی رانوں سے چمٹائے رکھے کیونکہ یہ اس کے لئے زیادہ ستر والی صورت ہے۔
دلائل:
1: عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى امْرَأَتَيْنِ تُصَلِّيَانِ ، فَقَالَ : إِذَا سَجَدْتُمَا فَضُمَّا بَعْضَ اللَّحْمِ إِلَى الأَرْضِ ، فَإِنَّ الْمَرْأَةَ لَيْسَتْ فِي ذَلِكَ كَالرَّجُلِ.
(مراسیل ابی داؤد: ص103 باب مِنَ الصَّلاةِ، السنن الکبری للبیہقی: ج2ص223, جُمَّاعُ أَبْوَابِ الاسْتِطَابَۃ)
ترجمہ : حضرت یزید بن ابی حبیب سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم دو عورتوں کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہی تھیں۔ آپ نے فرمایا: جب تم سجدہ کروتو اپنے جسم کا کچھ حصہ زمین سے ملالیا کرو کیونکہ عورت (کا حکم سجدہ کی حالت میں) مرد کی طرح نہیں ہے۔
2: عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ رضی اللہ عنہ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَاجَلَسَتِ الْمَرْاَۃُ فِی الصَّلٰوۃِ وَضَعَتْ فَخِذَھَا عَلٰی فَخِذِھَا الْاُخْریٰ فَاِذَا سَجَدَتْ اَلْصَقَتْ بَطْنَھَا فِیْ فَخِذِھَاکَاَسْتَرِمَا یَکُوْنُ لَھَا فَاِنَّ اللّٰہَ یَنْظُرُ اِلَیْھَا وَ یَقُوْلُ یَا مَلَائِکَتِیْ اُشْھِدُکُمْ اَنِّیْ قَدْغَفَرْتُ لَھَا.
(الکامل لابن عدی ج 2ص501، رقم الترجمۃ 399 ،السنن الکبری للبیہقی ج2 ص223 باب ما یستحب للمراۃالخ،جامع الاحادیث للسیوطی ج 3ص43 رقم الحدیث 1759)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب عورت نماز میں بیٹھے تو اپنی ایک ران دوسری ران پر رکھے اور جب سجدہ کرے تو اپنا پیٹ اپنی رانوں کے ساتھ ملا لے جو اس کے لئے زیادہ پردے کی حالت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی طرف دیکھتے ہیں اور فرماتے ہیں:اے میرے ملائکہ ! گواہ بن جاؤ میں نے اس عورت کو بخش دیا۔
3: عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍالْخُدْرِیِّ رضی اللہ عنہ صَاحِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَنَّہٗ قَالَ... کَانَ یَاْمُرُالرِّجَالَ اَنْ یَّتَجَافُوْا فِیْ سُجُوْدِھِمْ وَ یَاْمُرُالنِّسَائَ اَنْ یَّتَخَفَّضْنَ.
(السنن الکبریٰ للبیہقی: ج 2ص222.223 باب ما یستحب للمراۃالخ)
ترجمہ: صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کو حکم فرماتے تھے کہ سجدے میں (اپنی رانوں کو پیٹ سے) جدا رکھیں اور عورتوں کو حکم فرماتے تھے کہ خوب سمٹ کر (یعنی رانوں کو پیٹ سے ملا کر) سجدہ کریں۔
4: عن الحسن وقتادة قالا إذا سجدت المرأة فإنها تنضم ما استطاعت ولا تتجافى لكي لا ترفع عجيزتها.
(مصنف عبدالرزاق ج 3ص49 باب تکبیرۃ المراءۃ بیدیہا وقیام المراءۃ ورکوعہا وسجودہا)
ترجمہ:حضرت حسن بصری اور حضرت قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ جب عورت سجدہ کرے تو جہاں تک ہوسکے سکڑ جائے اور اپنی کہنیاں پیٹ سے جدا نہ کرے تاکہ اس کی پشت اونچی نہ ہو۔
5: عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ بَطْنَهُ عَلَى فَخِذَيْهِ إِذَا سَجَدَ كَمَا تَصْنَعُ الْمَرْأَةُ.
(مصنف ابن ابی شیبہ: رقم الحديث 2704)
ترجمہ: حضرت مجاہد رحمہ ﷲ اس بات کو مکروہ جانتے تھے کہ مرد جب سجدہ کرے تو اپنے پیٹ کو رانوں پر رکھے جیسا کہ عورت رکھتی ہے۔
6: عن عطاء قال... إذا سجدت فلتضم يديها إليها وتضم بطنها وصدرها إلى فخذيها وتجتمع ما استطاعت.
(مصنف عبدالرزاق ج3ص50رقم5983)
ترجمہ: حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ عورت جب سجدہ کرے تو اپنے بازو اپنے جسم کے ساتھ ملا لے، اپنا پیٹ اور سینہ اپنی رانوں سے ملا لے اور جتنا ہو سکے خوب سمٹ کر سجدہ کرے۔
مرد وعورت کے بیٹھنے میں فرق:
مرد:
مردوں کے بیٹھنے کا طریقہ یہ ہے کہ دائیں پاؤں کو انگلیوں کے بل کھڑا کر لیں اور بائیں پاؤں کو بچھا کر اس پر بیٹھ جائیں۔
دلائل:
1: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک طویل حدیث ہے، اس میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے تشہد کا ذکر ان الفاظ میں فرماتی ہیں:
وكان يقول في كل ركعتين التحية وكان يفرش رجله اليسرى وينصب رجله اليمنى وكان ينهى عن عقبة الشيطان.
(صحیح مسلم: ج1 ص194، 195 باب ما یجمع صفۃ الصلاة وما یفتتح بہ الخ)
ترجمہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے تھے کہ ہر دو رکعت کے بعد ”تشہد“ ہوتا ہے اور (آپ صلی اللہ علیہ و سلم کےتشہد میں بیٹھنے کاطریقہ یہ تھا کہ ) آپ صلی اللہ علیہ و سلم دائیں پاؤں کو نیچے بچھاتے تھے اور دایاں پاؤں کھڑا کرتے تھے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ و سلم شیطان کی بیٹھک سے بھی منع فرماتے تھے (یعنی سرین پر بیٹھ کر دونوں گھٹنے کھڑے کرنا شیطان کی بیٹھک ہے)
2: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا... وَقَالَ إِنَّمَا سُنَّةُ الصَّلَاةِ أَنْ تَنْصِبَ رِجْلَكَ الْيُمْنَى وَتَثْنِيَ الْيُسْرَى.
(صحیح البخاری: ج1ص114باب سنۃ الجلوس فی التشہد، مؤطا امام مالک: ص93)
ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں....نماز میں [مرد کے لیے] بیٹھنے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ بایاں پاؤں بچھادے(اور اس پر بیٹھ جائے) اور دایاں پاؤں کھڑا رکھے۔
عورت:
عورت کے بیٹھنے کا طریقہ یہ ہے کہ دونوں پاؤں دائیں جانب نکال کر سرین کے بل اس طرح بیٹھے کہ دائیں ران بائیں ران کے ساتھ ملا دی۔ علامہ ابن الہمام فرماتے ہیں:
جلست علی إليتهاالأيسری و أخرجت رجليها من الجانب الأيمن لأنه أسترلها.
(فتح القدير لابن الہمام:ج1ص274)
ترجمہ: عورت اپنے بائیں سرین پر بیٹھے اور دونوں پاؤں دائیں طرف باہر نکالے کیونکہ اس میں اس کا ستر زیادہ ہے۔
دلائل:
1: عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ رضی اللہ عنہ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَاجَلَسَتِ الْمَرْاَۃُ فِی الصَّلٰوۃِ وَضَعَتْ فَخِذَھَا عَلٰی فَخِذِھَا الْاُخْریٰ فَاِذَا سَجَدَتْ اَلْصَقَتْ بَطْنَھَا فِیْ فَخِذِھَاکَاَسْتَرِمَا یَکُوْنُ لَھَا فَاِنَّ اللّٰہَ یَنْظُرُ اِلَیْھَا وَ یَقُوْلُ یَا مَلَائِکَتِیْ اُشْھِدُکُمْ اَنِّیْ قَدْغَفَرْتُ لَھَا۔
(الکامل لابن عدی ج 2ص501، رقم الترجمۃ 399 ،السنن الکبری للبیہقی ج2 ص223 باب ما یستحب للمراۃالخ،جامع الاحادیث للسیوطی ج 3ص43 رقم الحدیث 1759)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب عورت نماز میں بیٹھے تو اپنی ایک ران دوسری ران پر رکھے اور جب سجدہ کرے تو اپنا پیٹ اپنی رانوں کے ساتھ ملا لے جو اس کے لئے زیادہ پردے کی حالت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی طرف دیکھتے ہیں اور فرماتے ہیں:اے میرے ملائکہ ! گواہ بن جاؤ میں نے اس عورت کو بخش دیا۔
2: عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍالْخُدْرِیِّ رضی اللہ عنہ صَاحِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَنَّہٗ قَالَ... وَکَانَ یَاْمُرُالرِّجَالَ اَنْ یَّفْرِشُوْا الْیُسْریٰ وَیَنْصَبُوْا الْیُمْنٰی فِی التَّشَھُّدِ وَ یَاْمُرُالنِّسَائَ اَنْ یَّتَرَبَّعْنَ.
(السنن الکبری للبیہقی ج 2ص222.223 باب ما یستحب للمراۃالخ،التبویب الموضوعی للاحادیث ص2639 )
ترجمہ: صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کو حکم فرماتے تھے کہ تشہد میں بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھیں اور دایاں پاؤں کھڑا رکھیں اور عورتوں کو حکم فرماتے تھے کہ چہار زانو بیٹھیں۔
3: عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهُ سُئِلَ: كَيْفَ كُنَّ النِّسَاءُ يُصَلِّينَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ كُنَّ يَتَرَبَّعْنَ ، ثُمَّ أُمِرْنَ أَنْ يَحْتَفِزْنَ.
(جامع المسانید از محمد بن محمود خوارزمی ج1ص400، مسند ابی حنیفۃ روایۃ الحصكفی: رقم الحديث 114)
ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عورتیں نماز کس طرح ادا کرتی تھیں۔انہوں نے فرمایا پہلے توچہار زانوہو بیٹھتی تھیں پھر ان کو حکم دیا گیا کہ دونوں پاؤں ایک طرف نکال کر سرین کے بل بیٹھیں۔
4: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنہ اَنَّہٗ سُئِلَ عَنْ صَلٰوۃِ الْمَرْاَۃِ فَقَالَ تَجْتَمِعُ وَتَحْتَفِزُ .
(مصنف ابن ابی شیبۃ ج 2ص505، المرا ۃ کیف تکون فی سجودھا، رقم الحدیث2794)
ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عورت کی نماز سے متعلق سوال کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خوب سمٹ کر نماز پڑھے اور بیٹھنے کی حالت میں سرین کے بل بیٹھے۔
فائدہ: چہار زانو بیٹھنے کا حکم شروع شروع میں تھا لیکن بعد میں یہ حکم تبدیل ہو گیا۔ اب حکم ”اِحْتِفَاز“ کا ہے یعنی ”سرین کے بل بیٹھنا“ (بحوالہ المنجد) جیسا کہ دلیل نمبر3 اور دلیل نمبر4 سے واضح ہے۔
کون کہاں نماز ادا کرے:
مرد:
عن أبی هريرة يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: صلاة مع الإمام أفضل من خمس وعشرين صلاة يصليها وحده
(صحیح مسلم ج1ص231باب فضل صلوۃ الجماعۃ)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ نماز جو امام کے ساتھ پڑھی جائے اس نماز سے جو اکیلے پڑھی ہو پچیس گناہ زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔
عورت:
1: عَنْ اُمِّ حُمَیْدٍ اِمْرَأۃِ اَبِیْ حُمَیْدِ السَّاعِدِیِّ اَنَّھَا جَائَتْ اِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!اِنِّیْ اُحِبُّ الصَّلٰوۃَ مَعَکَ۔ قَالَ قَدْ عَلِمْتُ اَنَّکِ تُحِبِّیْنَ الصَّلٰوۃَ مَعِیْ وَ صَلٰوتُکِ فِیْ بَیْتِکِ خَیْرٌ مِّنْ صَلاَ تِکِ فِیْ حُجْرَتِکِ وَ صَلٰوتُکِ فِیْ حُجْرَتِکِ خَیْرٌ مِّنْ صَلٰوتِکِ فِیْ دَاِرکِ وَ صَلٰوتُکِ فِیْ دَارِکِ خَیْرٌ مِنْ صَلٰوتِکِ فِیْ مَسْجِدِ قَوْمِکِ وَ صَلٰوتُکِ فِیْ مَسْجِدِ قَوْمِکِ خَیْرٌ مِّنْ صَلٰوتِکِ فِیْ مَسْجِدِیْ۔قَالَ فَاَمَرَتْ فَبُنِیَ لَھَا مَسْجِدٌ فِیْ اَقْصٰی شَیْئٍ مِنْ بَیْتِھَا وَ اَظْلَمِہٖ وَ کَانَتْ تُصَلِّیْ فِیْہِ حَتّٰی لَقِیَتِ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ.
(الترغیب والترھیب للمنذری ج1 ص225 باب ترغیب النساء فی الصلاۃ فی بیوتھن و لزومھا و ترھیبھن من الخروج منھا)
ترجمہ: حضرت ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ کی بیوی ام حمید رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اورعرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنا چاہتی ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میں جانتا ہوں کہ تم میرے ساتھ نماز پڑھنا پسند کرتی ہو (لیکن) تیرا اپنے گھر میں نماز پڑھنا تیرے حجرے میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے، تیرا حجرے میں نماز پڑھنا چار دیواری میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے‘چاردیواری میں نماز پڑھنا تیری قوم کی مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور قوم کی مسجد میں نماز پڑھنا میری مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔ حضرت ام حمید رضی اللہ عنہا نے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی منشا سمجھ کر) اپنے گھر والوں کو حکم دیا تو ان کے لیے گھر کے ایک کونے اور تاریک ترین گوشہ میں نماز کی جگہ بنا دی گئی۔ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہا اپنی وفات تک اسی جگہ نماز پڑھتی رہیں۔
2: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : صَلَاةُ الْمَرْأَةِ فِي بَيْتِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهَا فِي حُجْرَتِهَا ، وَصَلَاتُهَا فِي مَخْدَعِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهَا فِي بَيْتِهَا.
(سنن ابی داؤد: كتاب الصلاة- باب التشدید فی ذلک)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت کا کمرہ میں نماز پڑھنا گھر (آنگن) میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور (اندرونی) کوٹھڑی میں نماز پڑھنا کمرہ میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے (یعنی عورت جس قدر بھی پردہ اختیار کرے گی اسی قدر بہتر ہے)
3: عن عبدالله بن عمر عن النبي صلي الله عليه وسلم قال: صلاة المرة وحدها أفضل على صلواتها في الجمع بخمس و عشرين درجة.
(التيسير الشرح الجامع الصغير للمناوي:ج2 ص195،جامع الاحاديث للسیوطی: ج13 ص497- رقم الحديث13628)
ترجمہ: حضرت عبدالله بن عمر رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: عورت کا اکیلے نماز پڑھنا اس کی نماز باجماعت پر پچیس (٢٥) گنا فضیلت رکھتا ہے۔
ائمہ اربعہ کے اقوال کی روشنی میں
چاروں ائمہ کرام؛ امام ابوحنیفہ‘ امام مالک‘ امام شافعی اور امام احمد رحمہم اللہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عورت کا طریقہ نماز مرد کے طریقہ نماز سے مختلف ہے۔ چند تصریحات پیش خدمت ہیں:
[۱]: فقہ حنفی
قَالَ الْاِمَامُ الْاَعْظَمُ فِی الْفُقَھَائِ اَبُوْحَنِیْفَۃَ:وَالْمَرْاَۃُ تَرْفَعُ یَدَیْھَاحِذَائَ مَنْکَبَیْھَا ھُوَ الصَّحِیْحُ لِاَنَّہٗ اَسْتَرُ لَھَا.
(الھدایۃ فی الفقہ الحنفی ج1 ص84 باب صفۃ الصلوۃ)
ترجمہ: امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورت اپنے ہاتھوں کو اپنے کندھوں تک اٹھائے کیونکہ اس میں پردہ زیادہ ہے۔
وَقَالَ اَیْضاً:وَالْمَرْاَۃُ تَنْخَفِضُ فِیْ سُجُوْدِھَاوَتَلْزَقُ بَطْنَھَا بِفَخْذَیْھَا لِاَنَّ ذٰلِکَ اَسْتَرُ لَھَا.
(الھدایۃ فی الفقہ الحنفی ج1 ص92)
ترجمہ: مزید فرمایا: عورت سجدوں میں اپنے جسم کو پست کرے اور اپنے پیٹ کو اپنی رانوں کے ساتھ ملائے کیونکہ اس کے جسم کو زیادہ چھپانے والا ہے۔
[۲]: فقہ مالکی
قَالَ الْاِمَامُ مَالِکُ بْنُ اَنَسٍ:وَالْمَرْاَۃُ دُوْنَ الرَّجُلِ فِی الْجَھْرِ وَھِیَ فِیْ ھَیْاَۃِ الصَّلاَۃِ مِثْلَہٗ غَیْرَ اَنَّھَا تَنْضَمُّ وَ لاَ تُفَرِّجُ فَخْذَیْھَا وَلاَ عَضُدَیْھَاوَتَکُوْنُ مُنْضَمَّۃً مُتَرَوِّیَۃً فِیْ جُلُوْسِھَا وَسُجُوْدِھَا وَاَمْرِھَا کُلِّہ.
(رسالۃ ابن ابی زید القیروانی المالکی: ص34)
ترجمہ: اما م مالک بن انس رحمہ اللہ نے فرمایا:عورت کی نماز کی کیفیت مرد کی نماز کی طرح ہے مگر یہ کہ عورت سمٹ کر نماز پڑھے ‘ اپنی رانوں اور بازؤوں کے درمیان کشادگی نہ کرے اپنے قعود‘ سجود اور نماز کے تمام احوال میں۔
[۳]: فقہ شافعی
قَالَ الْاِمَامُ مُحَمَّدُ بْنُ اِدْرِیْسَ الشَّافَعِیّ:وَقَدْ اَدَّبَ اللّٰہُ النِّسَائَ بِالْاِسْتِتَارِ وَاَدَّبَھُنَّ بِذَالِکَ رَسُوْلُہٗ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاُحِبُّ لِلْمَرْاَۃِ فِی السُّجُوْدِ اَنْ تَنْضَمَّ بَعْضَھَااِلٰی بَعْضٍ وَتَلْصَقُ بَطَنَھَا بِفَخِذَیْھَا وَتَسْجُدُ کَاَسْتَرِمَایَکُوْنُ لَھَاوَھٰکَذَا اُحِبُّ لَھَا فِی الرُّکُوْعِ وَ الْجُلُوْسِ وَجَمِیْعِ الصَّلَاۃِ اَنْ تَکُوْنَ فِیْھَا کَاَسْتَرِ َمایَکُوْنُ لَھَا.
(کتاب الام للشافعی ج 1ص 286ص 287باب التجافی فی السجود)
ترجمہ:امام محمد بن ادریس الشافعی رحمہ اللہ نے فرمایا:اللہ تعالی نے عورت کو پردہ پوشی کا ادب سکھایا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی ادب سکھایا ہے۔ اس ادب کی بنیاد پر میں عورت کے لیے یہ پسند کرتا ہوں کہ وہ سجدہ میں اپنے بعض اعضاء کو بعض کے ساتھ ملائے اور اپنے پیٹ کو رانوں کے ساتھ ملا کر سجدہ کرے‘ اس میں اس کے لیے زیادہ ستر پوشی ہے۔ اسی طرح میں عورت کے لیے رکوع ،قعدہ اور تمام نماز میں یہ پسند کرتا ہوں کہ وہ نماز میں ایسی کیفیات اختیار کرے جس میں اس کے لیے پردہ پوشی زیادہ ہو۔
[۴]: فقہ حنبلی
قَالَ الْاِمَامَ اَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ:وَالْمَرْاَۃُ کَالرَّجُلِ فِیْ ذٰلِکَ کُلِّہٖ اَنَّھَا تَجْمَعُ نَفْسَھَا فِی الرُّکُوْعِ وَالسُّجُوْدِ وَتَجْلِسُ مُتَرَبِّعَۃً اَوْتَسْدُلُ رِجْلَیْھَافَتَجْعَلُھُمَا فِیْ جَانِبِ یَمِیْنِھَا۔۔۔۔۔ قَالَ اَحْمَدُ:اَلسَّدْلُ اَعْجَبُ اِلَیَّ.
(الشرح الکبیر لابن قدامۃ ج1 ص599 ‘ المغنی لابن قدامۃ ج1 ص635)
ترجمہ: امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا: سب احکام میں مرد کی طرح ہے مگر رکوع و سجود میں اپنے جسم کو سکیڑ کر رکھے اور آلتی پالتی مار کر بیٹھے یا اپنے دونوں پاؤں اپنی دائیں جانب نکال کر بیٹھے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا:’’عورت کا اپنے دونوں پاؤں اپنی دائیں جانب نکال کر بیٹھنا میرے ہاں پسندیدہ عمل ہے۔‘‘
غیرمقلدین کے ”دلائل“ کا علمی جائزہ
دلیل نمبر1:
صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي.
(صحیح البخاری)
کہ اس طرح نماز پڑھو جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھتے ہو۔
معلوم ہوا کہ مرد و عورت کی نماز میں کوئی فرق نہیں۔
جواب:
پہلے یہ حدیث مبارک مکمل دیکھ لی جائے تاکہ جواب سمجھنے میں آسانی ہو۔پوری حدیث یوں ہے۔
حَدَّثَنَا مَالِكٌ أَتَيْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ يَوْمًا وَلَيْلَةً وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَفِيقًا فَلَمَّا ظَنَّ أَنَّا قَدْ اشْتَهَيْنَا أَهْلَنَا أَوْ قَدْ اشْتَقْنَا سَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَكْنَا بَعْدَنَا فَأَخْبَرْنَاهُ قَالَ ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ فَأَقِيمُوا فِيهِمْ وَعَلِّمُوهُمْ وَمُرُوهُمْ وَذَكَرَ أَشْيَاءَ أَحْفَظُهَا أَوْ لَا أَحْفَظُهَا وَصَلُّواكَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي فَإِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ.
(صحیح البخاری: حدیث نمبر631)
ترجمہ: حضرت مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم چند نوجوان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت مبارک میں بیس دن قیام رہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے رحم دل اور رقیق القلب تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ ہمیں اپنے گھر جانے کا اشتیاق ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تم لوگ اپنے گھر کیسے چھوڑ کر آئے؟ ہم نے آپ کی خدمت میں (جو بات تھی) عرض کر دی۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے گھر جاو اور ان کے ساتھ قیام کرو انہیں دین سکھاو اور دین کی باتوں کا حکم کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی چیزوں کا ذکر فرمایا جن کے متعلق حضرت مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ مجھے یاد ہیں یا یہ کہا کہ یاد نہیں اور (پھر) فرمایا اس طرح نماز پڑھنا جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا اور جب نماز کا وقت ہوجائے تو کوئی ایک اذان دے اور جو تم میں سب سے بڑا ہو وہ نماز پڑھائے۔
حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ صحبتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بیس دن تک رہے اور جلدی واپس جانے کا اشتیاق ظاہر کیا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کچھ احکام بیان فرمائے۔ حدیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان حضرات کو سات احکامات ارشاد فرمائے تھے۔ اگر ان میں سے ایک ایک حکم میں غور کیا جائے تو بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ ان احکامات کا تعلق صرف مردوں کے ساتھ ہے، عورتوں کے ساتھ اس کا تعلق نہیں ہے۔ ”صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي“ سے پہلے چار اور اس کے بعد دو احکامات پر غور کریں۔
حکم نمبر1: ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ [اپنے گھروں کو جاؤ] یہ حکم مردوں کو ہونا واضح ہے۔
حکم نمبر 2: فَأَقِيمُوا فِيهِمْ [ان کے پاس جا کر قیام کرو] اس حکم کا مردوں کے لیے ہونا ظاہر ہے۔
حکم نمبر 3: وَعَلِّمُوهُمْ [ان کو دین سکھاو] یہ حکم بھی ان مرد حضرات کے لیے ہے جو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے تھے۔
حکم نمبر 4: وَمُرُوهُمْ [انہیں دن کی باتوں کا حکم دو] اس کا مردوں کے لیے ہونا ظاہر ہے۔
حکم نمبر 6: فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ [کوئی ایک اذان دے] اذان کا حکم بھی بالاتفاق مردوں کے لیے ہے۔ عورت اذان نہیں دے سکتی۔
حکم نمبر 7: وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ [تم میں سے جو بڑا ہو وہ نماز پڑھائے] اس قافلے میں مرد تھے اور انہیں خطاب تھا کہ تم میں سے جو بڑا ہو وہ امامت کرائے۔ ظاہر ہے کہ یہ خطاب بھی مردوں کو ہے، کوئی عورت مردوں کی امامت نہیں کرا سکتی۔
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ پہلے چار احکامات ، اسی طرح چھٹے اور ساتویں حکم کا تعلق بالاتفاق مردوں کے ساتھ ہے اور وہ لوگ جو فرق کے قائل نہیں وہ بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں…… تو یقینی بات ہے کہ درمیان کے حکم ”وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي “ [اس طرح نماز پڑھنا جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا] کا تعلق بھی صرف مردوں کے ساتھ ہو گا۔ کیونکہ کوئی وجہ نہیں کہ سات احکامات میں سے چھے احکام تو مردوں کے ساتھ خاص کر لیے جائیں اور ایک حکم میں مرد و عورت دونوں کو شریک سمجھا جائے۔
جو لوگ اس روایت کی بناء پر مرد وعورت کی نماز کو ایک جیسا سمجھتے ہیں وہ خود کئی باتوں میں فرق کرتے ہیں، مثلاً:
[۱]: جناب البانی صاحب غیر مقلد کی کتاب ”صفۃ صلاۃ النبی صلی اللہ علیہ و سلم“میں صفحہ نمبر165 میں مرد کے لیے نماز میں سر ننگا کرنے کی گنجائش اور سر ڈھانپ کر نماز پڑھنےکو افضل قرار دیا گیا ہے لیکن صفحہ نمبر171 پر عورت کے لیے سر ڈھانپ کر نماز پڑھنے کو لازمی قرار دیا گیا ہے اور بغیر اوڑھنی کے نماز پڑھنے پر ”نماز نہ ہونے“ کا حکم لگایا گیا ہے۔
[۲]: محمد حنیف منجا کوٹی صاحب غیر مقلد اپنی کتاب ”مرد و زن کی نماز میں فرق؟“ کے صفحہ نمبر7 ، 8 پر رقمطراز ہیں:
”اسی طرح اگر عورت عورتوں کی امامت کرائے تو وہ صف کے درمیان کھڑی ہو گی مردوں کی طرح آگے نہیں۔ (بیہقی ج1 ص131) لیکن مرد امامت کراتے وقت آگے کھڑا ہو گا۔ (بخاری و مسلم و سنن اربعہ) اسی طرح مرد نماز میں امام کے بھولنے پر سبحان اللہ کہے اور عورت ایک ہاتھ پر دوسرے ہاتھ کی پشت مارے (مسلم ج1 ص180)“
موصوف اپنی اسی کتاب کے صفحہ نمبر38 پر لکھتے ہیں:
”عورتیں جمعہ کی فرضیت سے مستثنیٰ ہیں“
سوال یہ ہے کہ جب فرق نہیں تو آپ نے خود یہ فرق کیوں کیا؟
لہٰذا روایت ”صلّواکما رایتمونی اُصلّی“ سے ”مرد و عورت کی نماز میں کوئی فرق نہیں“ کا استدلال کرنا کسی طرح بھی درست نہیں۔
دلیل نمبر2:
حضرت ام الدرداء رضی اللہ عنہا کا اثر بخاری شریف میں موجود ہے:
وَكَانَتْ أُمُّ الدَّرْدَاءِ تَجْلِسُ فِي صَلَاتِهَا جِلْسَةَ الرَّجُلِ وَكَانَتْ فَقِيهَةً.
(صحیح البخاری: ج1 ص114 بَاب سُنَّةِ الْجُلُوسِ فِي التَّشَهُّدِ)
ترجمہ: حضرت ام الدرداء نماز میں مردوں کی طرح بیٹھتی تھیں اور آپ فقیہہ تھیں۔
غیر مقلدین حضرات کی طرف سے یہ اثر پیش کیا جاتا ہے کہ اس میں عورت؛ مرد کی طرح بیٹھتی تھی۔ لہذا مردوں اور عورتوں کی نماز میں کوئی فرق نہیں ہے۔
جواب نمبر1:
”مردوں کی طرح بیٹھتی تھیں“ سے خود معلوم ہو رہا ہے کہ مردوں کے تشہد بیٹھنے کا طریقہ عورتوں سے مختلف تھا۔
جواب نمبر 2:
امام بخاری رحمہ اللہ اس ”باب سنۃ الجلوس فی التشہد“ میں حضرت ام الدرداء کے عمل کے بعد حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت لائے ہیں۔ ابواب قائم کرنے میں امام بخاری رحمہ اللہ کا طرز انتہائی عمیق اور دقیق ہوتا ہے۔ اس تبویب کا ایک انداز یہ ہے کہ ایک باب کے تحت جو روایات لاتے ہیں ان میں ترجمۃ الباب سے مناسبت کے ساتھ ساتھ آپس میں بھی قدرِ مشترک مناسبت ہوتی ہے۔ ان دو روایات کےقدرِ مشترک سے معلوم ہو گاکہ خود حضرت ام الدرداء کے اس اثر سے مرد و عورت کی نماز میں فرق ثابت ہوتا ہے۔ پہلے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت کا خلاصہ دیکھ لیا جائے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عبد اللہ ابن عمر بن خطاب فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کرتا تھا کہ آپ نماز میں چہار زانو بیٹھتے تھے۔ چنانچہ میں نے بھی چہار زانو بیٹھنا شروع کر دیا تو حضرت ابن عمر نے مجھے اس طرح بیٹھنے سے روکا اور فرمایا کہ تشہد میں بیٹھنے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ آپ دایاں پاؤں کھڑا رکھیں اور بایاں پاؤں بچھا کر بیٹھیں۔ حضرت عبد اللہ بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: آپ خود تو چہار زانوں بیٹھتے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میرے پاؤں کمزور ہیں، ان میں اتنی سکت نہیں ہے اس لیے چہار زانو بیٹھتا ہوں۔
اس روایت کا نتیجہ یہ ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نےتشہد میں بیٹھنے کا سنت طریقہ بتایا البتہ خود اس کے برخلاف بیٹھنے کی وجہ یہ ارشاد فرمائی کہ ان کا عذر تھا۔ واضح رہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فقیہ تھے اور ان کی فقاہت کا تقاضا تھا کہ عذر کی وجہ سے اصل ہیئت کے بر خلاف ہیئت سے بیٹھیں۔
اس نتیجہ کی روشنی میں حضرت ام الدرداء کی روایت پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ مردوں کے بیٹھنے کا طریقہ عورتوں سے یکسر الگ تھا کیونکہ امام بخاری نے روایت لا کر بتا دیا کہ حضرت ام الدرداء مردوں کے طریقہ پر بیٹھتی تھیں۔ نیز امام بخاری رحمہ اللہ نے ”وھی فقیہۃ“ کہہ کر بتا دیا کہ ان کا اصل ہیئت کے بر خلاف بیٹھنے کی وجہ ان کا کوئی عذر ہو گا اور عذر کی وجہ سے خلافِ ہیئت بیٹھنا شانِ فقاہت کا تقاضا ہے اسی لیے فرمایا: ”وھی فقیہۃ“۔ یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا خلافِ ہیئت بیٹھنا۔
اب مرد وعورت کی نماز میں فرق واضح ہے۔
اشکال:
صحیح بخاری (رقم الحدیث822) میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
وَلَا يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ انْبِسَاطَ الْكَلْبِ.
ترجمہ: تم میں سے کوئی (سجدہ کی حالت میں) اپنے بازؤوں کو کتے کی طرح نہ بچھائے۔
حنفی عورتیں بھی سجدہ میں اپنے بازو زمین پر بچھا دیتی ہیں تو یہ حدیث کی رو سے نائز عمل ہے۔
جواب:
صحیح البخاری کی اس روایت کا تعلق عورتوں کے ساتھ نہیں بلکہ صرف مردوں کے ساتھ ہے کیونکہ عورتوں کے لیے سجدہ میں جسم کو زمین کے ساتھ لگانے کا حکم خود حدیث میں موجود ہے۔ امام ابو دواؤد رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں:
عَنْ یَزِیْدَ بْنِ حَبِیْبٍ رحمہ اللہ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَرَّ عَلٰی اِمْرَاَتَیْنِ تُصَلِّیَانِ فَقَالَ اِذَاسَجَدْتُّمَا فَضُمَّا بَعْضَ اللَّحْمِ اِلَی الْاَرْضِ فَاِنَّ الْمَرْاَۃَ لَیْسَتْ فِیْ ذٰلِکَ کَالرَّجُلِ.
(مراسیل ابی داؤد: ص28،السنن الکبری للبیہقی ج 2ص223 باب ما یستحب للمراۃ الخ)
ترجمہ:حضرت یزید بن حبیب رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو عورتوں کے قریب سے گزرے جو نماز پڑھ رہی تھیں۔ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم سجدہ کرو تو جسم کا کچھ حصہ زمین سے ملا لیا کرو کیونکہ عورت کا حکم اس میں مرد کی طرح نہیں ہے۔
اس روایت سے ثابت ہوا کہ عورت کے لیے جسم کا کچھ حصہ لگانے کا حکم خود حدیث سے ثابت ہے۔ لہذا صحیح البخاری کی اس روایت کا تعلق صرف مردوں کے ساتھ ہو گا۔
جو لوگ مرد و عورت کی نماز میں فرق کے قائل نہیں انہوں نے بھی اس حقیقت کا اقرار کیا ہے کہ عورت کے لیے سجدے کی الگ کیفیت اگر حدیث سے ثابت ہو جائے تو قابل قبول ہے۔ چنانچہ حافظ صلاح الدین یوسف صاحب غیر مقلد صحیح البخاری کی مذکورہ روایت نقل کر کے یوں رقمطراز ہیں:
اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مسلمانوں کو خطاب کر کے سجدے کی حالت میں اپنے بازوں کو زمین پر بچھانے سے نہ صرف منع فرمایا بلکہ اس طرح کرنے کو کتے کے ساتھ بیٹھنے کے ساتھ تشبیہ دی۔ آپ کے اس خطاب میں مردو عورت دونوں شامل ہیں۔ ہاں اگر عورتوں کے لیے سجدے کی الگ کیفیت حدیث سے ثابت ہو گی تو پھر عورتیں اس میں شامل نہیں ہوں گی۔
(کیا عورتوں کا طریقہ نماز مردوں سے مختلف ہے؟ ص40)
عرض ہے کہ عورتوں کے لیے سجدے کی الگ کیفیت خود حدیث مذکور سے ثابت ہے