بیس رکعات تراویح

User Rating: 4 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Inactive
 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
بیس رکعات تراویح
از افادت: متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
مذہب اہل السنت و الجماعت :
تراویح بیس رکعت سنت مؤکدہ ہے۔
(رد المحتار: ج2ص496، 597، بدایہ المجتہد ج1ص214، قیام اللیل ص159، جامع الترمذی : ج1 ص166 باب ما جاء في قيام شہر رمضان)
مذہب غیر مقلدین:
تراویح کی تعداد آٹھ رکعت ہے۔
(تعداد رکعات قیا م رمضا ن از زبیر علی زئی، آٹھ رکعت نما ز تراویح از غلام مصطفیٰ ظہیر وغیرہ)
دلائل اہل السنت و الجماعت
احادیث مرفوعہ
دلیل نمبر1: قال الامام الحافظ المحدث أبو بكر عبد الله بن محمد بن أبي شيبة العبسي الكوفي (مـ 235 هـ) : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي فِي رَمَضَانَ عِشْرِينَ رَكْعَةً وَالْوِتْرَ.
(مصنف ابن ابی شیبۃ ج2 ص284 باب كم يصلي فِي رَمَضَانَ مِنْ رَكْعَةٍ. المعجم الکبیر للطبرانی ج5ص433 رقم 11934، المنتخب من مسند عبد بن حميد ص218 رقم 653، السنن الكبرى للبیہقی ج2ص496 باب مَا رُوِىَ فِى عَدَدِ رَكَعَاتِ الْقِيَامِ فِى شَهْرِ رَمَضَانَ.)
تحقیق السند: اسنادہ حسن و قد تلقتہ الامۃ بالقبول فہو صحیح.
اعتراض: اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عثمان ابوشیبہ ہے جو عند المحدثین ضعیف ہے۔
جواب1: ابراہیم بن عثمان ابوشیبہ پر بعض ائمہ نے جرح کی تو ہے لیکن یہ اتنا بھی ضعیف نہیں کہ اس کی روایت کو چھوڑدیا جائے، کیونکہ کئی محدثین نے اس کی توثیق بھی کی ہے۔
1: امام شعبہ بن الحجاج م 160ھ نے ابو شیبہ سے روایت لی ہے۔
(تہذیب الکمال للمزی: ج1 ص268، تہذیب التہذیب : ج1 ص136)
اور غیر مقلدین کے ہاں اصول ہےکہ امام شعبہ اس راوی سے روایت لیتے ہیں جو ثقہ ہو اور اس کی احادیث صحیح ہوں۔
(القول المقبول فی شرح صلوۃ الرسول : ص386، نیل الاوطار: ج1 ص36)
2: امام بخاری رحمہ اللہ کے استاذ الاساتذہ حضرت یزید بن ہارون رحمہ اللہ، ابراہیم بن عثمان ابو شیبہ کے زمانۂ قضاۃ میں ان کے کاتب تھےاور ان کے بڑے مداح تھے، فرماتے ہیں:
’’ماقضی علی الناس یعنی فی زمانہ اعدل فی قضاء منہ‘‘.
( تہذیب الکمال ج1ص270)
3: امام ابن عدی فرماتے ہیں: لہ احادیث صالحۃ
( تہذیب الکمال ج1ص270)
مزید فرماتے ہیں: وهو وإن نسبوه إلى الضعف خير من إبراهيم بن أبي حية
. (تہذیب الکمال ج1ص270)
اور ابراہیم بن ابی حیہ کے بارے میں امام یحیٰ بن معین فرماتے ہیں:شیخ، ثقۃ کبیر.
(لسان المیزان ج1ص53، رقم الترجمۃ 127 )
لہذا جب ابراہیم بن ابی حیہ ثقہ ہے تو ابراہیم بن عثمان ابوشیبہ بدرجہ اولی ثقہ ہونا چاہیے۔
جواب2:اس روایت کو تلقی بالقبول حاصل ہے۔ اور قاعدہ ہے کہ اگر کسی روایت کو تلقی بالقبول حاصل ہو جائے تو روایت صحت کا درجہ پا لیتی ہے۔ مثلاً
1: قال السیوطی: قال بعضھم یحکم للحدیث بالصحة اذا تلقاہ الناس بالقبول وان لم یکن لہ اسناد صحیح
. (تدریب الراوی ص29)
2:قال الشیخ العلامۃ محمد انور شاہ الکشمیری:و ذہب بعضہم الی ان الحدیث اذاتاید بالعمل ارتقی من حال الضعف الی مرتبۃ القبول۔ قلت: و ھو الاوجہ عندی
. (فیض الباری شرح البخاری: ج3،ص:409 کتاب الوصایا، باب الوصیۃ لوارث)
3: غیر مقلد عالم ثناء اللہ امرتسری نے اعتراف کیا:’’بعض ضعف ایسے ہیں جو امت کی تلقی بالقبول سے رفع ہو گئے ہیں‘‘
(اخبارِ اہل حدیث مورخہ 19 اپریل1907 بحولہ رسائلِ اعظمی ص331)
لہذا تلقی بالقبول ہونے کی وجہ سے یہ روایت بھی صحیح و حجت ہے۔
جواب نمبر3: اس حدیث کو ابرا ہیم بن عثمان ابوشیبہ سے روایت کرنے والے چا ر محدث ہیں :
1: یزید بن ہارون:
(مصنف ابن ابی شیبۃ :ج5 ص225)
2: علی بن جعد :
(المعجم الکبیر للطبرانی: ج5ص433 رقم 11934)
3: ابو نعیم فضل بن دکین :
(المنتخب من مسند عبد بن حميد: ص218 رقم 653،)
4: منصور بن ابی مزاحم :
(السنن الكبرىٰ للبیہقی: ج2ص496)
اور یہ چا روں حضرات ثقہ ہیں :
1: یزید بن ہارون :ثقہ ، متقن۔
(تقریب التہذیب ص637)
2: علی بن جعد:ثقہ، صدوق۔
(سیر اعلا م النبلاء للذہبی: ج7 ص579)
3: ابو نعیم فضل بن دکین : ثقہ ثبت۔
( تقریب التہذیب ص475)
4: منصور بن ابی مزاحم :ثقہ۔
( تقریب التہذیب ص576)
ان ثقہ وعظیم محدثین کا ابرا ہیم بن عثمان ابو شیبہ سے بیس رکعت نقل کرنے میں متفق ہونا قوی تا ئید ہے کہ یہ حدیث ثا بت وصحیح ہے ورنہ یہ ثقہ حضرات اس طرح متفق نہ ہو تے۔
دلیل نمبر2:
روی الامام المورخ أبو القاسم حمزة بن يوسف السهمي الجرجاني (م427ھ): حدثنا أبو الحسن علي بن محمد بن أحمد القصري الشيخ الصالح رحمه الله حدثنا عبد الرحمن بن عبد المؤمن العبد الصالح قال أخبرني محمد بن حميد الرازي حدثنا عمر بن هارون حدثنا إبراهيم بن الحناز عن عبد الرحمن عن عبد الملك بن عتيك عن جابر بن عبد الله قال خرج النبي صلى الله عليه و سلم ذات ليلة في رمضان فصلى الناس أربعة وعشرين ركعة وأوتر بثلاثة.
(تاريخ جرجان للسہمی ص317، فی نسخۃ 142)
اسنادہ حسن و رواتہ ثقات۔
فائدہ: اس روایت میں چار رکعت فرض، بیس رکعت تراویح اور تین رکعت وتر کا ذکر ہے۔
اعتراض: اس میں دو راوی ہیں؛ محمد بن حميد الرازی اور عمر بن ہارو ن البلخی اور دونوں ضعیف ہیں۔
جواب: یہ حسن الحدیث درجہ کے راوی ہیں۔
محمد بن حميد الرازی : (م248ھ)
آپ ابوداؤد ،ترمذی اور ابن ماجہ کے را وی ہیں۔
( تہذیب التہذیب: ج5ص547)
اگرچہ بعض محدثین سے جر ح منقول ہے لیکن بہت سے جلیل القدر ائمہ محدثین نے آ پ کی تعدیل و تو ثیق اور مدح بھی فر ما ئی ہے مثلاً:
1: امام فضل بن دکین (م218ھ): عَدَّلَہٗ.
(تاریخ بغداد: ج2 ص74)
2: امام یحییٰ بن معین (م233ھ): ثقۃ ،لیس بہ باس، رازی کیس.
( تاریخ بغداد: ج2 ص74، تہذیب الکمال للمزی: ج8ص652)
3: امام احمدبن حنبل (م241ھ):وثقہ
(طبقات الحفاظ للسیوطی ج1ص40)
وقال ایضاً: لایزال با لری علم مادام محمد بن حمید حیاً.
(تہذیب الکمال للمزی : ج8ص652)
4: امام محمد بن یحییٰ الذہلی (م258ھ): عَدَّلَہٗ.
(تاریخ بغداد: ج2 ص73)
5: امام ابو زرعہ الرازی (م263ھ): عَدَّلَہٗ.
(تاریخ بغداد: ج2 ص73)
6: امام محمد بن اسحاق الصاغانی (م271ھ): عَدَّلَہٗ.
(سیر اعلام النبلاء: ج8 ص293)
7: امام جعفر بن ابی عثمان الطیالسی (م282ھ): ثقۃ.
( تہذیب الکمال : ج8ص653)
8: امام ابو نعیم عبد الملک بن محمدبن عدی الجرجانی(م323ھ): لان ابنَ حمیدٍ من حفاظِ اہلِ الحدیثِ.
(تاریخ بغداد: ج2 ص73)
9: امام الدار قطنی (م385ھ): اسنادہ حسن. [و فیہ محمد بن حمید الرازی].
(سنن الدار قطنی: ص27 رقم الحدیث27)
10: امام خلیل بن عبد اللہ بن احمد الخلیلی (م446ھ): کان حافظاً عالماً بھذا الشان، رضیہ احمد و یحییٰ.
(تہذیب التہذیب: ج5 ص550)
11: علامہ شمس الدین ذہبی (م748ھ): العلّامۃ، الحافِظ الکبِیر.
(سیر اعلام النبلاء: ج8 ص292)
وقال ایضاً: الحافظ و کان من اوعیۃ العلم.
(العبر فی خبر من غبر: ج1 ص223)
12: علامہ نور الدین علی بن ابی بکر الہیثمی (807): ” وفی اسناد بزار محمد بن حمید الرازی وھو ثقۃ.
(مجمع الزوائد: ج9ص475)
13: حافظ ابن حجر (م852ھ): حافظ ضعیف و کان ابن مَعین حسنَ الرای فیہ.
( تقریب التہذیب : ص505)
14: علامہ جلال الدین سیوطی (م911ھ): وثقہ احمد و یحییٰ و غیر واحد.
(طبقات الحفاظ للسیوطی: ص216 رقم 479)
15: امام احمد بن عبد اللہ الخزرجی (م923ھ): الحافظ، و کان ابن مَعین حسنَ الرای فیہ.
(خلاصۃ تذہیب تہذیب الکمال للخزرجی: ص333)
چونکہ اس پر کلام ہے اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے،لہذا اصولی طور پر یہ حسن درجہ کا راوی ہے۔
عمر بن ہارو ن البلخی : (م294ھ)
آپ ترمذی اور ابن ماجہ کے را وی ہیں۔ بعض حضرات نے جر ح کی ہے لیکن بہت سے ائمہ نے آپ کی تعدیل وتوثیق اور مدح وثناء میں یہ الفا ظ ارشاد فر ما ئے ہیں:
الحافظ،الامام ،المکثر، عالم خراسان ،من اوعیۃ العلم، کثیر الحدیث ، وارتحل، ثقۃ ،مقارب الحدیث.
(تذکرۃ الحفاظ للذہبی: ج1ص248،249،سیر اعلام النبلاء: ج7ص148تا 152،تہذیب التہذیب: ج4ص762 تا 765)
لہذا اصولی طور پر آپ بھی حسن الحدیث درجہ کے راوی ہیں۔
احادیث موقوفہ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے تعدادِ رکعتِ تراویح:
حضرت عمر فارو ق رضی اللہ عنہ کے دور خلا فت کی تراویح کی رکعات کی تعدادبیان کر نے والے سات حضرات ہیں۔یہ تمام حضرا ت بیس رکعات ہی روایت کرتے ہیں ( مضطرب وضعیف روایات کا کو ئی اعتبار نہیں ) ذیل میں روایات پیش خد مت ہیں:
1:حضرت ابی بن کعب:
عن أبي بن كعب أن عمر أمر أبيا أن يصلي بالناس في رمضان فقال إن الناس يصومون النهار ولا يحسنون أن يقرؤا فلو قرأت القرآن عليهم بالليل فقال: يا أمير المؤمنين هذا شيء لم يكن فقال قد علمت ولكنه أحسن فصلى بهم عشرين ركعة.
(مسند احمد بن منیع بحوالہ اتحاف الخیرۃ المہرۃ للبوصیری: ج2 ص424 باب فی قیام رمضان وما روی فی عدد ركعاتہ)
اسنادہ صحیح و رواتہ ثقات.
اعتراض :
آل حدیث نے لکھا: ’’یہ روایت اتحا ف الخیرۃ المہرۃ للبوصیری میں بغیر کسی سند کے احمد بن منیع کے حوالے مذکور ہے۔ سر فرازصفدر ویوبندی لکھتے ہیں کہ ’’بے سند با ت حجت نہیں ہو سکتی‘‘
(تعدار رکعات قیا م رمضا ن ص74 از علی زئی غیر مقلد )
ایک اور صاحب نے با زاری زبان استعمال کرتے ہو ئے لکھا:’’بے سند روایات وہی پیش کرتے ہیں جنکی اپنی کوئی سند نہ ہو۔ ‘‘
(آٹھ رکعت نما ز تراویح ص8)
جواب:
اولاً... الاحادیث المختارہ للمقدسی میں یہ روایت سند کے ساتھ موجود ہے جو کہ پیشِ خدمت ہے :
أخبرنا أبو عبدالله محمود بن أحمد بن عبدالرحمن الثقفي بأصبهان أن سعيد بن أبي الرجاء الصيرفي أخبرهم قراءة عليه أنا عبدالواحد بن أحمد البقال أنا عبيدالله بن يعقوب بن إسحاق أنا جدي إسحاق بن إبراهيم بن محمد بن جميل أنا أحمد بن منيع أنا الحسن بن موسى نا أبو جعفر الرازي عن الربيع بن أنس عن أبي العالية عن أبي بن كعب أن عمر أمر أبيا أن يصلي بالناس في رمضان الحدیث.
[الاحادیث المختارۃ للمقدسی ج3ص367 رقم 1161]
ثانیاً:... علامہ ابن تیمیہ حضرت ابی بن کعب کے بیس رکعت پڑھا نے کو ثا بت مانتے ہیں ،چنانچہ لکھتے ہیں:
قد ثبت ان ابی بن کعب کان یقوم بالناس عشرین رکعۃ ویوتر بثلاث فرأی اکثر من العلماء ان ذلک ھو السنۃ لانہ قام بین المہا جر ین والانصار ولم ینکرہ منکر.
(فتاویٰ ابن تیمیہ قدیم: ج1 ص186،فتاویٰ ابن تیمیہ جدید: ج23 ص56)
2:حضرت سائب بن یزید:
1: عن يزيد بن خصيفة عن السائب بن يزيد قال : كانوا يقومون على عهد عمر في شهر رمضان بعشرين ركعة وإن كانوا ليقرءون بالمئين من القرآن.
(مسند ابن الجعد ص413 رقم الحدیث 2825، معرفۃ السنن والآثار للبیہقی ج2ص305 باب قیام رمضان رقم الحدیث 1365،السنن الكبرى للبیہقی ج2ص496 باب مَا رُوِىَ فِى عَدَدِ رَكَعَاتِ الْقِيَامِ فِى شَهْرِ رَمَضَانَ. )
اسنادہ صحیح علی شرط البخاری.
2: روی مالک من طریق یزید بن خصیفۃ عن السائب بن یزید عشرین رکعۃ
. (نیل الاوطارللشوکانی ج3ص57)
فائدہ: یہ طریق صحیح البخاری (ج1ص312) پر موجود ہے۔
3: عن السائب بن یزید قال…القیام علی عہد عمر ثلاثۃ وعشرین رکعۃ.
(مصنف عبدالرزاق ج4ص201،حدیث نمبر7763)
4: عن السائب بن یزید قال: کنا نقوم فی زمان عمر بن الخطاب بعشرین رکعۃ والوتر.
(معرفۃ السنن والآثار للبیہقی ج2ص305 باب قیام رمضان رقم الحدیث 1365)
تصحیح روایت سائب بن یزید:
1: نیز امام نووی نے اس کی سند کو”صحیح“ کہا ہے۔
(مرقات المفاتیح: ج3ص345)
2: علامہ نیموی نے فرمایا:یہ حدیث ”صحیح“ ہے
(التعلیق الحسن علی آثار السنن: ص222)
3: حضرت محمد بن کعب القرظی:
قال محمد بن کعب القرظی کان الناس یصلون فی زمان عمر بن الخطاب فی رمضان عشرین رکعۃ.
(قیام اللیل للمروزی ص157)
شبہ :
یہ روایت مرسل ہے، کیو نکہ محمد بن کعب القرظی کی حضرت عمر بن الخطاب سے ملاقات ثا بت نہیں۔
جواب :
محمد بن کعب القرظی [م 120ھ] خیر القرو ن کے ثقہ محد ث ہیں۔
(تقریب التہذیب ص534)
اور خیر القرو ن کاارسال جمہور محدثین خصوصا ً احنا ف وموا لک کے ہاں صحت حدیث کے منا فی نہیں۔
4: حضرت یزید بن رومان:
عن یزید بن رومان انہ قال کان الناس یقومون فی زمان عمر بن الخطاب فی رمضان بثلث وعشرین رکعۃ.
(موطا امام مالک ص98)
اسنادہ صحیح علی شرط البخاری و مسلم.
شبہ :
غیر مقلد شبہ کرتے ہیں کہ یزید بن رو مان نے حضرت عمر کا زمانہ نہیں پا یا ، اس لئے یہ سند منقطع ہے۔
(تعداد رکعات قیام رمضا ن ص77)
جواب نمبر1:
یہ اثر موطا امام مالک (ص98) میں موجود ہے اور موطا امام مالک کے متعلق محدثین کی رائے یہ ہے :
قال الشافعي : أصح الكتب بعد كتاب الله موطأ مالك، واتفق أهل الحديث على أن جميع ما فيه صحيح على رأي مالك ومن وافقه، وأما على رأي غيره فليس فيه مرسل ولا منقطع إلا قد اتصل السند به من طرق أخرى ، فلا جرم أنها صحيحة من هذا الوجه ، وقد صنف في زمان مالك موطآت كثيرة في تخريج أحاديثه ووصل منقطعه ، مثل كتاب ابن أبي ذئب وابن عيينة والثوري ومعمر. (حجۃ اللہ البا لغۃ: ص281، باب طبقات كتب الحديث، و فی نسخۃ: ج1 ص305 قدیمی کتب خانہ)
جواب نمبر2:
یزید بن رو مان م 130ھ ثقہ راوی ہیں۔ (تقریب التہذیب ص632) اورخیر القرو ن کے ثقہ محدث ہیں۔
اور جمہور محدثین خصوصا ً احنا ف وموا لک کے ہا ں خیر القرو ن کا ارسال وانقطا ع مضر صحت نہیں۔
(قواعد فی علوم الحدیث للعثما نی ص138وغیرہ) پس اعترا ض باطل ہے۔
جواب نمبر3:
حافظ ابن حجر عسقلانی فر ما تے ہیں :
وقال الشافعي: يُقْبَلُ إن اعْتَضَد بمجيئه مِن وجهٍ آخرَ يُبايِنُ الطريقَ الأُولى، مسنَداً أو مرسَلاً.
(نزہۃ النظر فی توضیح نخبۃ الفکر: ص101، فی نسخۃ: ص86 مکتبہ رحمانیہ)
اور یزید بن رو مان کے اثر کو دیگر کئی مرسلوں سے تا ئید حاصل ہے ( جن کا بیان آگے آرہا ہے) پس یہ اثر اب با لاتفاق مقبو ل ہے۔
5:حضرت یحیٰ بن سعید:
عن یحییٰ بن سعید ان عمر بن الخطاب امر رجلایصلی بھم عشرین رکعۃ.
(مصنف ابن ابی شیبۃ: ج5ص223)
شبہ :
بعض آل حدیث نے لکھا : یحی بن سعید نے عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کو نہیں پایا، لہذا یہ روا یت منقطع ہے۔
(ملخصاً مقدار قیام رمضا ن ص76)
جواب :
امام یحی بن سعید م 144ھ خیر القرو ن کے ثقہ ونیک محد ث ہیں۔
( تقریب التہذیب ص622)
اور پہلے وضا حت سے گزرچکا ہے کہ خیر القرو ن کا انقطاع و ارسال عند الجمہور خصوصاً عند الاحنا ف صحت حدیث کے منا فی نہیں۔ پس اثرصحیح ہے۔
6: :حضرت عبد العزیز بن رفیع
آپ رحمہ اللہ مشہور تابعی ہیں۔ حضرت انس، حضرت ابن زبیر، حضرت ابن عباس، حضرت ابن عمر اور دیگر صحابہ کے شاگرد ہیں، صحاح ستہ کے راوی ہیں۔
(تہذیب التہذیب: ج4 ص189، 190)
آپ فرماتے ہیں:
كَانَ أُبَيّ بْنُ كَعْبٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فِي رَمَضَانَ بِالْمَدِينَةِ عِشْرِينَ رَكْعَةً وَيُوتِرُ بِثَلاَثٍ.
(مصنف ابن ابی شیبہ: ج5ص224 کم یصلی فی رمضا ن من رکعۃ)
اسنادہ صحیح و رواتہ ثقات
فائدہ: مشہور قول کے مطابق حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی وفات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ہوئی۔ (تہذیب التہذیب: ج1 ص178) گویا عبد العزیز بن رفیع نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کی تراویح کو ذکر کیا ہے، اس لیے ہم ان کی روایت اس باب میں لائے ہیں۔
7: حضرت حسن بصری:
عن الحسن ان عمر بن الخطاب جمع الناس علی ابی بن کعب فی قیام رمضان فکان یصلی بھم عشرین رکعۃ۔
(سنن ابی داؤد ج1ص203باب القنوت فی الوتر)
اس روایت کے راوی ثقہ ہیں۔
شبہ :
بعض الناس نے لکھا : ”عشرین رکعۃ“ کے الفاظ دیو بندی تحریف ہے۔ محمود الحسن دیوبندی (1268۔1339) نے یہ تحریف کی ہے ، ”عشرین لیلۃ“بیس راتیں کی بجا ئے ”عشرین رکعۃ“ بیس رکعتیں کردیا۔
(آٹھ رکعت نماز تراویح ص9)
بعض نے یو ں لکھا: یہ بات سفید جھوٹ ہے۔
(مقدار رکعات قیام رمضا ن ص30)
جواب :
اولاً :.... حضرت اوکاڑوی رحمہ اللہ ایک غیر مقلد سلطان محمود جلالپوری کے جواب میں فر ما تے ہیں :
’’ ابو داؤد کے دو نسخے ہیں، بعض نسخو ں میں عشرین رکعۃ اور بعض میں عشرین لیلۃ ہے۔ جس طرح قر آ ن پاک کی دو قرأتیں ہو ں تو دونوں کوماننا چا ہیے، ہم دونو ں نسخو ں کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن حیلہ بہا نے سے انکا ر حد یث کے عا دی سلطان محمود جلا لپوری نے اس حدیث کا انکار کر دیا اور الٹا الزا م علماء دیوبند پر لگا دیا۔ ‘‘
(تجلیا ت صفدر ج3ص316)
ثانیاً:.... جلیل القدر محدثین و محققین نے اس روا یت کو ”عشرین رکعۃ“ کے الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے ، مثلاً:
1: علامہ ذہبی نے ابوداؤد کے حوالے سے ”عشرین رکعۃ“ نقل کیا۔
(سیر اعلام النبلاء ج3ص176،177 تحت تر جمہ ابی بن کعب)
2: علامہ ابن کثیر۔
(جامع المسانید والسنن ج1ص55)
3: الشیخ محمد علی الصابونی۔
(الھدی النبوی الصحیح فی صلوۃ التراویح ص56)
4: شیخ الہند مولانا محمود حسن۔
(سنن ابی داؤدبتحقیق شیخ الہند ج1ص211)
5: نسخہ مطبوع عر ب۔
( ص1429 بحوالہ تجلیا ت صفدر ج3ص316)
یہ 5حوالہ جات لاعلم لوگو ں کو چپ کرا نے کے لیے کا فی ہیں۔
فائدہ : حضرت عمر کے زمانے میں پڑھی جا نے والی تراویح کے چھ راوی گزر چکے ہیں جو ”عشرین رکعۃ“ نقل کرتے ہیں ، یہ زبر دست تا ئید ہے کہ ”عشرین رکعۃ“ والا نسخہ ابی داؤد بھی صحیح وثا بت ہے۔ والحمد للہ
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے تعدادِ رکعتِ تراویح:
كَانُوا يَقُومُونَ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُ فِى شَهْرِ رَمَضَانَ بِعِشْرِينَ رَكْعَةً وَكَانُوا يَقْرَءُونَ بِالْمِئِينِ ، وَكَانُوا يَتَوَكَّؤنَ عَلَى عُصِيِّهِمْ فِى عَهْدِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ شِدَّةِ الْقِيَامِ.
(السنن الكبرىٰ للبیہقی: ج2ص496 باب مَا رُوِىَ فِى عَدَدِ رَكَعَاتِ الْقِيَامِ فِى شَهْرِ رَمَضَانَ)
اسنادہ صحیح علی شرط البخاری و مسلم.
حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ سے تعدادِ رکعتِ تراویح:
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دورِخلافت میں بیس تراویح کو روایت کرنے والے تین حضرات ہیں۔ ان کی مرویات پیشِ خدمت ہیں:
1: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما:
حدثنی زید بن علی عن ابیہ عن جدہ عن علی انہ امرالذی یصلی بالناس صلاۃ القیام فی شھر رمضان ان یصلی بھم عشرین رکعۃ یسلم فی کل رکعتین ویراوح مابین کاربع رکعات فیرجع ذوالحاجۃ ویتوضأالرجل وان یوتر بھم من آخر اللیل حین الانصراف.
(مسند الامام زیدص158،159، فی نسخۃ: ص155)
2: حضرت ابو عبد الرحمن السلمی:
عن ابی عبدالرحمن السلمی عن علی قال دعا القراء فی رمضان فأمر منھم رجلایصلی بالناس عشرین رکعۃ وکان علی یوتربھم.
(السنن الکبری للبیہقی ج2ص496)
شبہ نمبر1:
غیر مقلدین کہتے ہیں کہ اس میں ایک راوی حماد بن شعیب ضعیف ہے۔
جواب :
اولاً:... اگرچہ حماد بن شعیب کی بعض ائمہ نے تضعیف کی ہے لیکن دیگر ائمہ نے اس کی تو ثیق بھی کی ہے مثلاً:
1: امام ابن عدی فر ما تے ہیں : یکتب حدیثہ مع ضعفہ
(لسا ن المیزان: ج2 ص348)
یعنی اس کی حدیث اس کے ضعف کے باوجود لکھی جا سکتی ہے۔
ارشاد الحق اثری کے نزدیک ’’یکتب حدیث‘‘کا جملہ الفا ظ تعدیل میں شما ر ہو تا ہے۔
(تو ضیح الکلام ج1ص547، فی نسخۃ: ص496)
2: امام ابن حبا ن نے انہیں ثقات میں شما ر کیا ہے۔
( تہذیب الکمال: ج8 ص378)
3: علامہ ابن تیمیہ نے اسی حماد بن شعیب والی روایت سے استدلال کیا ہے۔
(منہا ج السنہ ج2ص224)
4: امام بیہقی نے اس اثر علی کو اثر شتیر بن شکل کی قوت کے لیے روایت کیا ہے جو دلیل ہے کہ یہ امام بیہقی کے نزدیک قوی ہے۔
(السنن الکبریٰ للبیہقی: ج2ص496)
5: علامہ ذہبی جیسے نا قد فن نے اس پر المنتقیٰ ص542پر سکوت فر ما یا ہے۔
(تجلیا ت صفدر ج3ص323)
6: امام تر مذی حضرت علی سے مروی اس بیس رکعت والی روایت کو صحیح ما نتے ہیں جب ہی تو استدلال کرتے ہیں چنانچہ فر ما تے ہیں :
واکثر اہل العلم علی ما روی عن علی وعمر وغیرہما من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم عشرین رکعۃ۔
(سنن الترمذی ج1ص166)
لہذا اصولی طور پر حماد بن شعیب حسن الحدیث درجہ کا راوی ہے اور حدیث مقبول ہے۔
ثانیاً:.... حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور کی تراویح کے راوی حضرت حسین اور ابو الحسنا ء بھی ہیں۔ لہذا اس سند میں اگر ضعف ہو ( جبکہ یہ حسن درجہ کی روایت ہے ) تو ان مویدات کی وجہ سے ختم ہو جا ئے گا۔
شبہ نمبر2:
عطا ء بن السائب“مختلط راوی ہے ، حماد بن شعیب ان لوگو ں میں سے نہیں جنہوں نے اس سے قبل الاختلاط سنا ہے۔
(آٹھ رکعت نماز تراویح ص13)
جواب :
اولاً:.... عطا ء بن السائب اگر آخر عمر میں مختلط ہو گئے تھے لیکن اتنے بھی نہیں کہ ان کی احا دیث ضعیف قرار دی جا ئیں بلکہ باجو د اختلاط کے محدثین کے ہا ں ان کی احادیث کم ازکم ”حسن “ درجہ کی ضرور ہیں۔ مثلاً:
1: قال الہیثمی تحت حدیث:”وفیہ عطا ء بن السائب وفیہ کلام وھو حسن الحدیث“
(مجمع الزوائد ج3 ص142 ، باب التکبیر علی الجنازۃ)
2: علامہ ذہبی :تابعی مشہور حسن الحدیث
(المغنی فی الضعفا ء ج ج2 ص59، رقم الترجمۃ 4121)
3: امام حاکم عطا ء بن السائب کی ایک روایت جسے جریر بن عبد الحمید نے روایت کیا ہے ، کو نقل کر نے کے بعد فر ما تے ہیں: صحیح الاسناد.
(المستدرک للحاکم ج5 ص350، 351 كتاب التوبۃ و الانابۃ)
حالانکہ جریرکا سما ع بعد الاختلاط کا ہے۔
( الشذا الفياح من علوم ابن الصلاح: ج1ص453 . طبع دار ابن حزم)
معلوم ہو ا آپ اختلاط کے با وجود ’’حسن الحدیث‘‘ ہیں۔
4: حا فظ ابن حجر :وکان اختلط بآخرہ ولم یفحش حتی یستحق ان یعتدل بہ عن مسلک العدول۔
( تہذیب التہذیب ج4 ص493)
کہ عطا ء بن السائب آخر ی عمر میں اختلاط کا شکا ر ہو گئے تھے لیکن اتنے فاحش اور زیا دہ مختلط بھی نہیں ہو ئے کہ وہ اختلاط کی وجہ سے عادل (وثقہ) ہیں راویوں کی راہ سے تجاوز کر جا ئیں۔
5: امام مسلم: انہوں نے عطا ء بن السائب کو مقدمہ مسلم میں قابل اعتماد اور طبقہ ثا نیہ کا راوی شما ر کیا ہے جن سے صحیح مسلم میں روایت لی ہے۔
( مقدمہ مسلم: ص3)
لہذا یہ حسن الحدیث راوی ہےاور روایت حسن درجہ کی ہے۔
ثا نیاً : .... اس روا یت کی مؤید دیگر روایات بھی ہیں جن میں حضرت حسین اور حضرت ابو الحسنا ء کے طریق ہیں۔ پس یہ روایت مؤیدات کی وجہ سے حجت وقابل اعتما د ہے۔
3:حضرت ابو الحسناء:
عَنِ أَبِي الْحَسْنَاءِ : أَنَّ عَلِيًّا أَمَرَ رَجُلاً يُصَلِّي بِهِمْ فِي رَمَضَانَ عِشْرِينَ رَكْعَةً. (مصنف ابن ابی شیبۃ: ج5ص223، السنن الکبریٰ للبیہقی: ج2ص497)
اسنادہ حسن
فائدہ: اس روایت میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ’’حکم‘‘ دینے کا ذکر ہے۔
شبہ : غیر مقلدین کہتے ہیں کہ ابو الحسنا ء مجہو ل ہے، لہذا روا یت ضعیف ہے۔
جواب : اولاً:۔۔۔۔ عند الاحناف خیر القرو ن کی جہا لت ، تدلیس اور ارسال جرح ہی نہیں اور شوافع کے ہا ں متا بعت سے یہ جرح ختم ہو جاتی ہے۔ اس روایت میں بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بیس رکعت ترا ویح روا یت کر نے میں ابو الحسنا ء اکیلے نہیں بلکہ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اور امام ابو عبد الرحمن سلمی بھی یہی روایت کرتے ہیں۔
(تجلیا ت صفدر ج3ص324)
ثانیاً:۔۔۔۔ ابو الحسنا ء سے دوراوی یہ روایت نقل کر رہے ہیں :
1: عمرو بن قیس۔
(مصنف ابن ابی شیبہ: ج5ص223)
2: ابو سعید البقال۔
(السنن الکبر یٰ للبیہقی: ج2ص497)
اور یہ دونوں با لترتیب ثقہ اور صدوق ہیں۔
(تقریب التہذیب ص456وص299)
حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: من روی عنہ اکثر من واحد ولم یوثق الیہ الاشارۃ بلفظ مستو ر او مجہول الحال
.(تقریب التہذیب ص111)
یہاں ابو الحسناء سے بھی دو راوی یہ روایت کر رہے ہیں۔ لہذا اصولی طور پر یہ مجہو ل نہیں بلکہ مستور راوی بنتا ہے۔ غیر مقلدین کا اسے مجہول العین کہہ کر روایت کو رد کرنا شرمناک ہے۔
الحاصل ابو الحسنا ء مستور راوی ٹھہرتا ہے اور محدثین کے ہا ں قاعدہ ہے کہ مستور کی متا بعت کوئی دوسرا راوی کرے جو مرتبہ میں اس سے بہتر یا برابر ہو تو اس کی روایت حسن ہو جا تی ہے۔ چنانچہ حافظ ابن حجر لکھتے ہیں :
’’ ومتی تو بع السئی الحفظ بمعتبر کا ن یکون فوقہ او مثلہ لا دو نہ وکذا المختلط الذی لا یتمیزوا المستور والاسنا د المرسل وکذا المدلس صار حدیثہم حسنا لا لذاتہ بل وصفہ باعتبار المجموع ‘‘
(نزہۃ النظر فی توضیح نخبۃ الفکر:ص120)
ترجمہ : جب سئی الحفظ راوی کی متا بعت کسی معتبر راوی سے ہو جا ئے جو مرتبہ میں اس سے بہتر یا برابر ہو کم نہ ہو۔ اسی طرح مختلط راوی جس کی روا یت میں تمییز نہ ہو سکے اور اسی طرح مستور ،مرسل اور مدلس کوئی تا ئید کر دے تو ان سب کی روا یات حسن ہو جائیں گی اپنی ذا ت کی وجہ سےبلکہ مجمو عی حیثیت کے اعتبا ر سے۔
ابو الحسنا ء کی متا بعت ابو عبد الرحمن نے کی ہے۔
(السنن الکبریٰ للبیہقی: ج2ص496)
اور یہ ابو الحسنا ء سے بڑھ کر ثقہ راوی ہے۔ اس لئے ابو الحسناء کی یہ روایت جمہور کے نزدیک بھی مقبول ہے۔
دیگر صحابہ کرام وتابعین عظام
1:حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ:
کان ابن مسعودرضی اللہ عنہ یصلی بنا فی شھر رمضان فینصرف وعلیہ لیل قال الاعمش کان یصلی عشرین رکعۃ ویوتربثلاث.
(قیام اللیل للمروزی ص157)
فائدہ:اس روایت کی مکمل سند عمدۃ القاری شرح البخاری للعلامۃ العینی میں ہے جو کہ یہ ہے:
رواه محمد بن نصر المروزي قال أخبرنا يحيى بن يحيى أخبرنا حفص بن غياث عن الأعمش عن زيد بن وهب قال كان عبد الله بن مسعود .
(عمدۃالقاری ج8 ص 246 باب فضل من قام رمضان)
اسنادہ صحیح علی شرط البخاری و مسلم.
2:حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ:
حضرت عبدالعزیز بن رفیع رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ:
کان ابی بن کعب یصلی بالناس فی رمضان بالمدینۃ عشرین رکعۃ ویوتربثلاث۔
(مصنف ابن ابی شیبہ: ج2ص224 کم یصلی فی رمضا ن من رکعۃ)
اسنادہ صحیح و رواتہ ثقات.
حضرت عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ:
آپ فرماتے ہیں:
ادرکت الناس وھم یصلون ثلاثاوعشرین رکعۃ بالوتر۔
(مصنف ابن ابی شیبہ: ج5ص224)
اسنادہ صحیح علی شرط البخاری و مسلم.
امام ابراہیم النخعی:
آپ فرماتے ہیں:
ان الناس کانوا یصلون خمس ترویحات فی رمضان.
(کتاب الآثار بروایہ ابی یوسف ص41 باب السہو)
اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین
سیدنا شتیر بن شکل:
عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ : أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي فِي رَمَضَانَ عِشْرِينَ رَكْعَةً وَالْوِتْرَ.
( مصنف ابن ابی شیبۃ: ج5ص222)<
اسنادہ حسن و رواتہ ثقات
سیدنا ابو البختری :
عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ : أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي خَمْسَ تَرْوِيحَاتٍ فِي رَمَضَانَ وَيُوتِرُ بِثَلاَثٍ.
(مصنف ابن ابی شیبۃ: ج5ص224 باب كم يصلي فِي رَمَضَانَ مِنْ رَكْعَةٍ)
اسنادہ حسن و رواتہ ثقات
سیدنا سویدبن غفلہ:
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِى إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ : مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْخَصِيبِ قَالَ : كَانَ يَؤُمُّنَا سُوَيْدُ بْنُ غَفَلَةَ فِى رَمَضَانَ فَيُصَلِّى خَمْسَ تَرْوِيحَاتٍ عِشْرِينَ رَكْعَةً.
(السنن الكبرىٰ للبیہقی: ج2ص496 باب مَا رُوِىَ فِى عَدَدِ رَكَعَاتِ الْقِيَامِ فِى شَهْرِ رَمَضَانَ)
سیدنا ابن ابی ملیکہ :
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ يُصَلِّي بِنَا فِي رَمَضَانَ عِشْرِينَ رَكْعَةً.
( مصنف ابن ابی شیبہ: ج5 ص223، 224. باب كم يصلي فِي رَمَضَانَ مِنْ رَكْعَةٍ)
اسنادہ صحیح علی شرط البخاری و مسلم.
سیدنا سعید بن جبیر:
عن إسماعيل بن عبد الملك قال كان سعيد بن جبير يؤمنا في شهر رمضان فكان يقرأ بالقراءتين جميعا يقرأ ليلة بقراءة بن مسعود فكان يصلي خمس ترويحات.
(مصنف عبدالرزاق ج4ص204باب قیام رمضان)
سیدنا علی بن ربیعہ :
عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ : أَنَّ عَلِيَّ بْنَ رَبِيعَةَ كَانَ يُصَلِّي بِهِمْ فِي رَمَضَانَ خَمْسَ تَرْوِيحَاتٍ وَيُوتِرُ بِثَلاَثٍ.
( مصنف ابن ابی شیبہ: ج5ص224 باب کم یصلی فی رمضان من رکعۃ )
اسنادہ حسن و رواتہ ثقات.
سیدنا حارث:
عَنِ الْحَارِثِ : أَنَّهُ كَانَ يَؤُمُّ النَّاسَ فِي رَمَضَانَ بِاللَّيْلِ بِعِشْرِينَ رَكْعَةً وَيُوتِرُ بِثَلاَثٍ.
( مصنف ابن ابی شیبہ: ج5ص224 باب کم یصلی فی رمضان من رکعۃ)
جمہور علماء کا موقف اور اجماع امت
(1)۔۔ ملا علی قاری فرماتے ہیں: اجمع الصحابہ علی ان التراویح عشرون رکعۃ.
(المرقات ج3ص346)
وقال ایضاً: فصاراجماعالماروی البیھقی باسناد صحیح انھم کانویقیمون علی عھد عشرین رکعۃ وعلی عہد عثمان وعلی رضی اللہ عنہ.
(شرح نقایہ: ج1ص342)
(2)۔۔ علامہ سید محمد بن محمد الزبیدی المعروف مرتضیٰ بلگرامی فرماتے ہیں:
وبالاجماع الذی وقع فی زمن عمر اخذ ابوحنیفۃ والنووی والشافعی واحمد والجمھور واختارہ ابن عبدالبر.
(اتحاف السادۃ المتقین بشرح احیاء علوم الدین للبلگرامی: ج3ص422)
(3)۔۔ امام ترمذی فرماتے ہیں:
واکثر اہل العلم علی ماروی عن علی وعمر وغیرھما من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ و سلم عشرین رکعۃ.
(سنن الترمذی ج1ص166)
(4)۔۔مشہورفقیہ، ملک العلماء علامہ ابوبکر الکاسانی رحمہ اللہ اپنی مشہور کتاب بدائع الصنائع میں اس اجماع کاتذکرہ ان الفاظ سے کرتے ہیں:
والصحیح قول العامۃ لماروی ان عمررضی اللہ عنہ جمع ابی بن کعب فصیلی بھم فی کل لیلۃ عشرین رکعۃ ولمینکر علیہ احدفیکون اجماعامنھم علی ذلک.
(بدائع الصنائع ج1ص644)
(5)۔۔مشہورمحدث علامہ ابوزکریا یحیی بن شرف نووی مشقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اعلم ان صلاۃ التراویح سنۃ باتفاق العلماء وھی عشرون رکعۃ.
(کتاب الاذکارص226)
(6)۔۔علامہ ابن عبدالبر مالکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وھوقول جمھور العلماء وبہ قال الکوفیون والشافعی واکثر الفقھاء وھوالصحیح عن ابی بن کعب من غیر خلاف من الصحابۃ.
(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری ج8ص246)
(7)۔۔خاتمہ المحققین وسیع النظر عالم علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
(وھی عشرون رکعتہ)ھوقول الجمھور وعلیہ عمل الناس شرقا وغربا.
(رد المحتار لابن عابدین الشامی: ج2ص599)
(8)۔۔استاذ المحدثین فقیہ النفس، قطب الارشاد حضرت مولانا رشید احمدگنگوہی قدس اللہ سرہ اپنے رسالہ الحق الصریح میں فرماتے ہیں:
الحاصل ثبوت بست رکعت باجماع صحابہ رضی اللہ عنہ درآخر زمان عمررضی اللہ عنہ ثابت شد پس سنت باشد وکسیکہ از سنت آہ انکار دار وخطاست۔
(الحق الصریح ص14)
خلاصہ یہ کہ بیس رکعات کاثبوت اجماع صحابہ سے آخر عہد فاروقی میں ثابت شدہ ہے لہذا یہی سنت ہے اورجوشخص اس کے سنت ہونے کا انکارکرے وہ غلطی پرہے۔
بلاداسلامیہ میں تعداد تراویح
اہل مکہ:
1:قال الامام مالک بن انس: وبمکۃ بثلاث وعشرین
(نیل الاوطار ج3ص57)
2:قال الامام عطاء بن ابی رباح المکی التابعی: ادرکت الناس وھم یصلون ثلاث وعشرین رکعۃ بالوتر.
( مصنف ابن ابی شیبہ ج5ص224)
3:قال الامام محمد بن ادریس الشافعی:ھکذا ادرکت ببلدنا بمکۃ یصلون عشرین رکعۃ
(جامع ترمذی ج1ص166)
اہل مدینہ:
1:حضرت ابن ابی ملیکہ مشہور تابعی ہیں تیس صحابہ کرام کی زیارت کی ہے آپ مدینہ منورہ کے رہنے والے ہیں
(تہذیب ج3ص559)
آپ کے متعلق نافع بن عمر فرماتے ہیں :
کان ابن ابی ملیکہ یصلی بنا فی رمضان عشرین رکعۃ.
( مصنف ابن ابی شیبہ ج5ص223، 224 باب كم يصلي فِي رَمَضَانَ مِنْ رَكْعَةٍ)
2:حضرت داؤد بن قیس رحمہ اللہ جو مدینہ کے رہنے والے تھے مشہور محدث وحافظ تھے، فرماتے ہیں :
ادرکت الناس بالمدینۃ فی زمن عمر بن عبدالعزیز وابان بن عثمان یصلون ستا وثلاثین رکعۃ ویوترون بثلاث.
( مصنف ابن ابی شیبہ ج5ص224 باب كم يصلي فِي رَمَضَانَ مِنْ رَكْعَةٍ)
فائدہ: 36رکعات تراویح کیسے بنی ؟امام جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں:
تشبیھا باھل مکۃ حیث کانوا یطوفون بین کل ترویحتین طوافا ویصلون رکعتیہ ولایطوفون بعدالخامسۃ فاراد اھل المدینۃ مساواتھم فجعلوا مکان کل طواف اربع رکعات.
(الحاوی للفتاوی ج1ص336)
گویا ان کی اضافی رکعات تراویح کا حصہ نہ تھیں بلکہ درمیان کی نفلی عبادت میں شامل تھیں۔تراویح فقط بیس رکعات تھیں۔
اہل کوفہ:
کوفہ ایک اسلامی شہر ہے جو عہد فاروقی میں 17ھ میں بحکم امیرالمومنین تعمیر کیا گیا حضرت عبداللہ بن مسعود جیسے عظیم المرتبت صحابی کو تعلیم وتدریس کے لیے کوفہ شہر بھیجا گیا۔ حضرت علی نے اسے دارالخلافہ بنایا ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اس شہر میں چار ہزار حدیث کے طلبہ اور چارسو فقہاء موجود تھے امام بخاری فرماتے کہ میں شمار نہیں کرسکتا کہ کوفہ طلب حدیث کے لیے کتنی مرتبہ گیا ہوں(مقدمہ نصب الرایۃ للکوثری ملخصاً)
1: کوفہ کے مشہور فقیہ ومفتی حضرت ابراہیم بن یزید نخعی فرماتےہیں:
الناس کانوا یصلون خمس ترویحات فی رمضان.
(کتاب الاثار براویۃ ابی یوسف القاضی: ص41)
2:مشہور تابعی حضرت سعید بن جبیر جنہوں حضرت ابن عباس ،حضرت ابن عمر وغیرہ جیسے القدر صحابہ سے علم حاصل کیا، کوفہ ہی میں شہید کیے گئے،آپ کے بارے میں منقول ہے: عن إسماعيل بن عبد الملك قال كان سعيد بن جبير يؤمنا في شهر رمضان فكان يقرأ بالقراءتين جميعا يقرأ ليلة بقراءة بن مسعود فكان يصلي خمس ترويحات.
(مصنف عبدالرزاق ج4ص204باب قیام رمضان)
3:حضرت شتیر بن شکل ،حضرت علی کے شاگرد تھے کوفہ میں رہائش پذیر تھے آپ کے بارے میں روایت ہے کہ:
عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ : أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي فِي رَمَضَانَ عِشْرِينَ رَكْعَةً وَالْوِتْرَ.
( مصنف ابن ابی شیبۃ: ج5ص 222 باب كم يصلي فِي رَمَضَانَ مِنْ رَكْعَةٍ. اسنادہ حسن و رواتہ ثقات)
4: حارث ہمدانی (م65ھ): حضرت علی اور حضرت ابن مسعود کے شاگرد تھے، کوفہ میں وفات پائی۔ آپ کے بارے میں روایت ہے:
عَنِ الْحَارِثِ : أَنَّهُ كَانَ يَؤُمُّ النَّاسَ فِي رَمَضَانَ بِاللَّيْلِ بِعِشْرِينَ رَكْعَةً وَيُوتِرُ بِثَلاَثٍ.
( مصنف ابن ابی شیبۃ ج5ص224)
5:مشہور تابعی امام سفیان ثوری کوفہ کے رہنے والے تھے 161ھ میں وفات پائی آپ بھی بیس رکعات تراویح کے قائل تھے،
قال الترمذی رحمہ اللہ : روي عن عمر و علي وغيرهما من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم عشرين ركعة وهو قول الثوري.
(سنن الترمذی ج1ص166 باب ما جاء في قيام شهر رمضان)
اہل بصرہ:
حضرت یونس بن عبید جو حضرت حسن بصری اور امام ابن سیرین کے شاگرد اور سفیان ثوری وشعبہ کے استاد ہیں، فرماتے ہیں:
ادرکت مسجدالجامع قبل فتنۃ ابن الاشعث یصلی بھم عبدالرحمن بن ابی بکر وسعید بن ابی الحسن وعمران العبدی کانوا یصلون خمس تراویح.
(قیام اللیل للمروزی ص158)
ابن الاشعث کا فتنہ 83ھ میں پیدا بصرہ میں برپا ہوا تھا گویا کہ 83ھ تک بصرہ میں بھی 20رکعات تراویح کا ہی رواج تھا۔
ائمہ اربعہ رحمہم اللہ اور بیس رکعات تراویح
امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت رحمہ اللہ :
امام اعظم فی الفقہاء اما م ابوحنیفہ اور آپ کے تمام مقلدین بیس رکعات تراویح کے قائل ہیں۔
1:علامہ ابن رشد اپنی مشہور کتاب بدایۃ المجتہد میں لکھتے ہیں:
فاختار۔۔۔ ابو حنیفۃ۔۔۔ القیام بعشرین رکعۃ سوی الوتر۔
(ج1ص214)
2:امام فخرالدین قاضی خان حنفی اپنے فتاوی میں لکھتے ہیں:
عن ابی حنیفۃ: قال القیام فی شھررمضان سنۃ... کل لیلۃ سوی الوتر عشرین رکعۃ خمس ترویحات.
(ج1ص112)
3:علامہ ابن عابدین شامی جو فقہ حنفی کے عظیم محقق ہیں، فرماتے ہیں:
( قولہ وعشرون رکعۃ) وھوقول الجمھور وعلیہ عمل الناس شرقاوغربا.
(رد المحتار: ج2ص599)
امام مالک بن انس رحمہ اللہ:
امام مالک نے ایک قول کے مطابق بیس رکعت تراوین کو مستحسن کہا ہے چنانچہ علامہ ابن رشد فرماتے ہیں:
واختار ماکل فی احد قولیہ... القیام بعشرین رکعۃ
. (بدایۃ المجتہد: ج1ص214)
دوسرا قول چھتیس رکعت کا ہے جن میں بیس رکعت تراویح اور سولہ نفل تھیں۔ (تفصیل گزر چکی ہے)
امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ:
ائمہ اربعہ میں سے مشہور امام ہیں، آپ فرماتے ہیں:
احب الی عشرون... وکذالک یقومون بمکۃ
(قیام اللیل ص159)
وقال ایضاً:وھکذا ادرکت ببلدنا بمکۃ یصلون عشرین رکعۃ .
(الترمذی ج1ص166 باب ما جاء في قيام شهر رمضان)
مشہور شافعی عالم محقق العصر امام نووی دمشقی فرماتے ہیں:
اعلم ان صلوۃ التراویح سنۃ باتفاق العلماء وھی عشرون رکعۃ۔
(کتاب الاذکارص226)
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ:
آپ مجتہد اور بہت بڑے محدث تھے۔ بیس رکعت تراویح کے قائل تھے۔ چنانچہ فقہ حنبلی کے ممتاز ترجمان امام ابن قدامہ لکھتے ہیں:
والمختار عندابی عبداللہ (احمد بن حنبل)فیھا عشرون رکعۃ وبھذا قال الثوری وابوحنیفہ والشافعی
(المغنی: ج2ص366)
مشائخ کرام اور بیس رکعت تراویح
امت مسلمہ میں جو مشائخ کرام گزرے ہیں ان کا عمل واخلاق حسن کردار اس امت کے لیے قابل اتباع ہے ان کی زندگی پر نظر ڈالی جائے تو وہ بھی بیس رکعت پر عمل پیرا نظر آتے ہیں جو یقیناً رشد وہدایت کی دلیل ہے چند مشہور مشائخ کی تصریحات پیش خدمت ہیں۔
1:شیخ ابو حامد محمد غزالی م 505ھ:
التراویح وھی عشرون رکعۃ وکیفیتھا مشھورۃ وھی سنۃ موکدۃ.
(احیاء العلوم ج1ص242، 243)
2:شیخ عبدالقادر جیلانی م561ھ:
صلوۃ التراویح سنۃ النبی وھی عشرون رکعۃ.
( غنیۃ الطالبین ص267،268)
3:شیخ امام عبدالوہاب شعرانی م973ھ:
التراویح فی شھر رمضان عشرون رکعۃ
(المیزان الکبریٰ: ص217)
حرمین شریفین اور بیس رکعات تراویح
اسلام کے دو مقدس حرم ،حرم مکہ وحرم مدینہ میں چودہ سوسال سے بیس رکعت سے کم تراویح پڑھنا ثابت نہیں بلکہ بیس رکعت ہی متوارث ومتواتر عمل رہا ہے۔چنانچہ مسجد نبوی کے مشہور مدرس اور مدینہ منورہ کے سابق قاضی شیخ عطیہ سالم نے مسجد نبوی میں نماز تراویح کی چودہ سوسالہ تاریخ پر’’التراویح اکثر من الف عام‘‘ کے نام سے ایک مستقل کتاب تالیف فرماکر ثابت کیا ہے کہ چودہ سوسالہ مدت میں بیس رکعت متواتر عمل ہے اس سے کم ثابت نہیں۔جامعہ ام القری مکہ مکرمہ کی طرف سے کلیۃ الشریعۃ والدراسات الاسلامیۃ مکہ مکرمہ کے استاد شیخ محمدعلی صابونی کا ایک رسالہ الھدی النبوی الصحیح فی صلوۃ التراویح کے نام سے شائع کیا گیا ہے جس میں شیخ صابونی نے عہد خلافت راشدہ سے لے کر عہد حکومت سعودیہ تک مکہ مکرمہ ومسجد حرام میں ہمیشہ بیس رکعات تراویح پڑھے جانےکا ثبوت دیا ہے۔
غیرمقلدین کےدلائل اور ان کے جوابات
نمبر1:
غیر مقلدین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کو بڑے زور و شور سے پیش کرتے ہیں کہ اس سے آٹھ رکعت تراویح ثابت ہے۔ روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت سلمہ بن عبد الرحمن نے ایک بار حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی نماز رمضان میں کیسی ہوتی تھی؟حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نےجواب دیا:
’’ماکان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یزید فی رمضان ولا فی غیرہ علی احدی عشرۃ رکعۃ یصلی اربعا فلاتسئل عن حسنھن وطولھن ثم یصلی اربعا فلاتسئل عن حسنھن وطولھن ثم یصلی ثلاثا‘‘
(صحیح بخاری )
کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ پہلے چار رکعتیں پڑھے ، پس کچھ نہ پوچھو کتنی حسین و لمبی ہوتی تھیں، اس کے بعد پھر چار رکعت پڑھتے ، کچھ نہ پوچھو کتنی حسین اور لمبی ہوتی تھیں، پھر تین رکعت وتر پڑھتے تھے۔
جواب نمبر1:
اس روایت سے آٹھ رکعت تراویح پر استدلال باطل ہے، اس لیے کہ:
1:اس میں’’رمضان وغیررمضان‘‘میں ہمیشہ گیارہ رکعت پڑھنے کا ذکر ہے جبکہ تراویح صرف رمضان میں پڑھی جاتی ہے ،غیررمضان میں نہیں۔ حدیث کے جملہ ’’ماکان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یزید فی رمضان ولا فی غیرہ ‘‘سے یہی بات سمجھ میں آرہی ہے۔
اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ اس سے وہ نماز مراد ہے جو رمضان اور غیر رمضان دونوں میں پڑھی جاتی ہے اور وہ نمازِ تہجد ہے نہ کہ نمازِ تراویح[وضاحت آگے آ رہی ہے]
2:اس حدیث میں گیارہ رکعت تنہا پڑھنے کا ذکر ہے نہ کہ جماعت کے ساتھ اورتراویح جماعت سے پڑھی جاتی ہے۔
3:اس میں ایک سلام سے چار رکعت کا ذکر ہے جبکہ تراویح ایک سلام سے دو دو رکعت پڑھی جاتی ہیں۔
جواب نمبر2:
محدثین کے نزدیک بھی یہ حدیث تراویح کے متعلق نہیں۔ کیونکہ عام طور پر حضرات محدثین کا طرز یہ ہے کہ تہجد کے لیے ’’باب قیام اللیل‘‘ اور تراویح کےلیے ’’باب قیام رمضان‘‘ قائم کرتے ہیں۔ مثلاً...
نام کتاب
باب تہجد
باب تراویح
صحیح البخاری
باب فضل قیام اللیل
باب فضل من قام رمضان
صحیح مسلم
باب صلوۃ اللیل
باب الترغیب فی قیام رمضان وھو التروایح
سنن ابی داؤد
باب فی صلوۃ اللیل
باب قیام شھر رمضان
سنن ترمذی
باب فی فضل صلوۃ اللیل
باب ماجاء فی قیام شھر رمضان
سنن نسائی
کتاب قیام اللیل
ثواب من قام وصام
سنن ابن ماجہ
باب ماجاء فی قیام اللیل
باب ماجاء فی قیام شھر رمضان
موطا امام مالک
با ب فی صلوۃ اللیل
باب فی قیام رمضان
موطا امام محمد
با ب فی صلوۃ اللیل
باب قیام شھر رمضان
مشکوۃ شریف
با ب فی صلوۃ اللیل
باب قیام شھر رمضان
ریاض الصالحین
باب فضل قیام اللیل
باب استحباب قیام رمضان وھو التراویح
صحیح ابن حبان
فصل قیام اللیل
فصل فی التراویح
مجمع الزوائد
با ب فی صلوۃ اللیل
قیام رمضان
سنن کبری للبیہقی
با ب فی صلوۃ اللیل
باب فی قیام شھر رمضان
جمع الفوائد
صلوۃ اللیل
قیام رمضان والتراویح وغیر ذالک
قیام اللیل للمروزی
با ب فی صلوۃ اللیل
قیام رمضان
بلوغ المرام
صلوۃ التطوع
قیام رمضان
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مذکورہ روایت کو محدثین نے باب صلوۃ اللیل (یعنی تہجد کے باب) میں ذکر فرمایا ہے۔ مثلاً
صحیح البخاری ج1ص154 کتاب التہجد
صحیح مسلم ج1ص254باب صلاۃ اللیل وعددرکعات النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی اللیل
سنن ابی داؤد ج1ص198باب صلاۃ اللیل
سنن الترمذی ج1ص99 باب ما جاء فی وصف صلاۃ النبی صلی اللہ علیہ و سلم باللیل
مؤطاامام مالک ص102، 103باب ما جاء فی صلوٰۃ اللیل
سنن النسائی ج1ص237 کتاب قیام اللیل
زاد المعاد لابن القیم ص 127 قیام اللیل
حضرات محدثین کا اس حدیث کو قیام اللیل(یعنی تہجد کے باب) میں ذکر کرنا دلیل ہے کہ یہ تہجد سے متعلق ہے نہ کہ تراویح سے متعلق۔
جواب نمبر 2 پر اعتراض:
اس روایت کو امام بخاری ’’باب فضل من قام رمضان‘‘اور امام محمد’’باب قیام شھر رمضان‘‘میں بھی لائے ہیں۔ معلوم ہوا کہ یہ تراویح کے متعلق ہے۔
جواب:
امام بخاری اور امام محمد اس روایت کو تہجد اور قیام رمضان وغیرہ میں لائے تاکہ ثابت کریں کہ تہجد جس طرح غیر رمضان میں پڑھی جاتی ہے اسی طرح رمضان میں بھی پڑھی جاتی ہے۔
فائدہ:غیر مقلدین کا خود بھی اس روایت پر عمل نہیں، اس لیے کہ اس روایت میں رمضان اور غیر رمضان میں تین رکعات وتر کا ذکر ہے لیکن غیر مقلدین ایک وتر پڑھ کر گھر کی راہ لیتے ہیں۔ ع
میں الزام ان کو دیتا تھا قصور اپنا نکل آیا
نمبر2:
غیر مقلدین آٹھ رکعت تراویح پر یہ روایت بھی پیش کرتے ہیں:
عن جابر بن عبداللہ قال صلی بنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی شھر رمضان ثمان رکعات واوتر ،فلما کانت القابلۃ اجتمعنا فی المسجد ورجونا ان یخرج ،فلم نزل فیہ حتی اصبحنا ثم دخلنا،فقلنا یا رسول اللہ اجتمعنا البارحۃ فی المسجد ورجونا ان تصلی بنا فقال انی خشیت ان یکتب علیکم .
(المعجم الصغیر للطبرانی: ج1 ص190)
یہی روایت صحیح ابن خزیمہ (ج1 ص531)،صحیح ابن حبان (ص710 باب الوتر) اور قیام اللیل للمروزی (ص155) میں بھی موجود ہے۔
جواب:
مذکورہ کتب میں یہ روایت دو سندوں سے آتی ہے۔
1:اسحاق – ابوالربیع - یعقوب قمی -عیسی بن جاریۃ - جابر بن عبداللہ
2:محمد بن حمید الرازی - یعقوب قمی - عیسی بن جاریۃ - جابر بن عبداللہ
ان دونوں طریق میں درج ذیل رواۃ ضعیف و مجروح ہیں۔
عیسی بن جاریہ :
حضرت جابر بن عبداللہ سے نقل کرنے والے صرف ایک راوی ہیں عیسی بن جاریہ ،انہی پر اس روایت کا مدار ہے ، ابن خزیمہ کے حاشیہ پر اس کے بارے میں لکھا ہے:عیسی بن جاریہ فیہ لین
(صحیح ابن خزیمۃ ج1ص531)
دیگر محدثین نے بھی اس پر جروح کی ہیں:
1:امام یحیٰ بن معین:لیس بذاک عندہ مناکیر
2:امام نسائی: منکرالحدیث
3:امام ابوداؤد:منکرالحدیث
4:امام نسائی:متروک الحدیث
5:امام ا بن عدی:احادیثہ غیرمحفوظۃ
6:امام ساجی: ذکرہ فی الضعفاء
7:امام عقیلی: ذکرہ فی الضعفاء
(میزان الاعتدال ج3 ص312، تہذیب التہذیب ج5ص192،193)
یعقوب قمی :
یہ راوی دونوں سندوں میں موجود ہے۔ اس کا نام یعقوب بن عبداللہ القمی ہے۔یہ بھی مجروح راوی ہے۔
امام دار قطنی فرماتے ہیں:لیس بالقوی.
(میزان الاعتدال ج5ص178)
پس یہ روایت ضعیف، متروک اور صحیح روایات کے مقابلے میں نا قابل حجت ہے۔
نمبر3:
حدثنا عبد الاعلی حدثنا یعقوب عن عیسی بن جا ریۃ حدثنا جا بر بن عبد اللہ قال جا ء ابی ابن کعب الی رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فقا ل یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ان کا ن منی اللیلۃ شئی یعنی فی رمضا ن قال وما ذاک یا ابی قال: نسوۃ فی دا ری قلن انا لا نقرأالقرآ ن فنصلی بصلا تک قال فصلیت بھن ثمان رکعات ثم او ترت قال فکا ن شبہ الرضا ء ولم یقل شیئاً.
(مسند ابی یعلیٰ: ج3 ص336)
جواب نمبر1:
اس سند میں وہی عیسی بن جا ریہ اور یعقوب القمی موجود ہیں، جو سخت مجرو ح اور ضعیف ہیں۔ ان پر جر ح ہم ما قبل میں ذکر کر آئے ہیں۔ لہذا یہ روایت سخت ضعیف ہونے کی وجہ سے قابل استدلال نہیں۔
جواب نمبر2:
اس روایت کے تمام طرق جمع کر یں تو کئی قرا ئن ملتے ہیں کہ اس روایت میں اضطرا ب ہے۔
1: یہ روایت تین کتا بو ں میں ہے۔ مسند احمد میں سرے سے "رمضا ن'' کا لفظ ہی نہیں ، مسند ابی یعلی میں'' یعنی رمضا ن ''کا لفظ ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فہم راوی ہے نہ کہ روایت ، قیا م اللیل مروزی میں ''فی رمضا ن'' کا لفظ ہے جو یقیناً کسی تحتا نی راوی کا ا دراج ہے۔ جب اس روایت میں ''فی رمضا ن'' کا لفظ ہی مدر ج ہے تو اسے تراویح سے کیا تعلق رہا ؟
2: مسند ابی یعلی اور قیام اللیل للمروزی سے ظا ہر ہو تا ہے کہ یہ واقعہ خو د حضرت ابی بن کعب کا ہے جبکہ مسند احمد کی روایت میں الفا ظ ہیں: عن جا بر عن ابی بن کعب قال جا ء رجل الی النبی صلی اللہ علیہ و سلم الخ۔۔ [حضرت جابر حضرت ابی سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا ]جس سے معلو م ہو تا ہے کہ یہ واقعہ کسی اور کا ہے، حضرت ابی بن کعب کا نہیں۔
3:۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ آٹھ رکعت پڑ ھنےوالا یہ کہتا ہے: ''انہ کا ن منی اللیلۃ شئی''[رات مجھ سے یہ کام سرزد ہو گیا] اور ''عملت اللیلۃ عملاً ''[میں نے آج رات ایسا عمل کیا]۔ معلوم ہو اکہ اس نے اسی رات آٹھ پڑھیں تھیں اس سے پہلے معمول آٹھ کا نہیں تھا، اس لئے تو اس نے کہا کہ میں نے یہ انو کھا کا م کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم خا موش رہے کہ جب یہ خود اس کام کو انو کھا سمجھ رہا ہے تو خوا ہ مخوا ہ اس کی تر دید کیو ں کی جا ئے۔
نمبر4:
سائب بن یزید سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ابی بن کعب اور تمیم داری کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو گیارہ رکعت پڑھائیں۔
(موطا امام مالک: ص98)
جواب1:
یہاں چند امور قابل غور ہیں۔
امر اول:حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے کی تراویح کے ناقل یہ راوی ہیں:
نمبر شمار
راوی
تعداد رکعت
ماخذ
1
السائب بن یزید
تفصیل آگے
۔۔۔۔
2
یزید بن رومان
23[مع الوتر]
موطا امام مالک
3
عبدالعزیز بن رفیع
20
مصنف ابن ابی شیبہ
4
ابی بن کعب
20
مسند احمد بن منیع
5
یحیی بن سعید
20
مصنف ابن ابی شیبہ
6
محمد بن کعب القرظی
20
قیام اللیل للمروزی
7
حسن بصری
20
سنن ابی داؤد
ان میں سے چھ روات تو بیس رکعت تراویح ہی روایت کرتے ہیں، رہے سائب بن یزید تو ان کی روایت کی تفصیل درج ذیل ہے:
سائب بن یزید کے تین شاگرد ہیں:
نمبر شمار
راوی
تعداد رکعت
ماخذ
1
یزید بن خصیفہ
20
السنن الکبری ٰ
2
حارث بن عبدالرحمن ابی ذہاب
23[مع الوتر]
مصنف عبدالرزاق
3
محمد بن یوسف
تفصیل آگے
۔۔۔
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ سائب بن یزید کے تین شاگردوں میں سےیزید بن خصیفہ بیس اور حارث بن عبدالرحمن ابی ذہاب تیئس[مع الوتر] نقل کرتے ہیں ، البتہ محمد بن یوسف نے دو باتوں میں اختلاف کیا ہے۔
1: یزید بن خصیفہ اور حارث بن عبدالرحمن ابی ذہاب قاریوں کی تعداد نہیں بتاتے لیکن محمد بن یوسف نے بتائی ہے کہ دو تھے؛ ابی بن کعب اور تمیم داری۔
2: اول الذکر دو راوی تراویح بیس ہی نقل کرتے ہیں لیکن اس نے تراویح کی تعداد گیارہ، تیرہ اور اکیس نقل کی۔
محمد بن یوسف کے شاگردوں کی تفصیل کچھ یوں ہے۔
نمبر شمار
راوی
تعداد رکعت
ماخذ
1
امام مالک
11
موطا امام مالک
2
یحیی بن سعید القطان
11
مصنف ابن ابی شیبہ
3
عبدالعزیز بن محمد الدَّرَاوَرْدِی
11
سعید بن ابی منصور
4
محمد بن اسحاق
13
قیام اللیل للمروزی
5
داؤد بن قیس وغیرہ
21
مصنف عبدالرزاق
اس سے واضح ہوتا ہے کہ محمد بن یوسف کے پانچوں شاگردوں کے بیانات عدد وکیفیت کے لحاظ سے باہم مختلف ہیں کہ:
1: پہلے تین شاگرد گیارہ نقل کرتے ہیں اور محمد بن اسحاق تیرہ ،جبکہ پانچواں شاگرد داؤد بن قیس اکیس رکعات نقل کرتا ہے۔
2:امام مالک کی روایت میں گیارہ رکعت پڑھانے کا حکم ہے عمل کا ذکر نہیں ،یحیی القطان کی روایت میں حکم کا ذکر نہیں ،عبدالعزیز بن محمد کی روایت میں گیارہ رکعت تو ہیں لیکن نہ حکم ہے اور نہ ابی بن کعب اور تمیم داری کا ذکر۔ محمد بن اسحاق کی روایت میں تیرہ رکعت کا ذکر ہے لیکن نہ حکم ہے اور نہ ابی وتمیم کا ذکر،اور داؤد بن قیس کی روایت میں حکم تو ہے لیکن گیارہ کی بجائے اکیس کا ذکر ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ محمد بن یوسف کی یہ روایت شدید مضطرب ہے اور اضطراب فی المتن وجہ ضعف ہوتا ہے:
والاضطراب يوجب ضعف الحديث.
(تقریب النووی مع شرحہ التدریب: ص133 النوع التاسع عشر: المضطرب)
لہذا یہ روایت ضعیف ہے۔
جواب2:
امام مالک کا اپنا عمل اس کے خلاف ہے کیونکہ وہ بیس کے قائل ہیں۔ علامہ ابن رشد لکھتے ہیں:
واختار مالک فی احد قولیہ۔۔۔۔۔ القیام بعشرین رکعۃ.
(بدایۃ المجتہد: ج1ص214)
اور اصول حدیث کا قاعدہ ہے کہ راوی کا عمل اگر اپنی روایت کے خلاف ہو تو اس بات کی دلیل ہے کہ روایت ساقط ہے۔
(المنار مع شرحہ نور الانوار: ص190)
لہٰذا یہ روایت ساقط العمل ہے۔
جواب3:
اس روایت کے مرکزی راوی سائب بن یزید کا اپنا عمل اس کے خلاف ہے کیونکہ ان سے بسند صحیح مروی ہے:
عن السائب بن یزید قال کنا نقوم فی زمان عمر بن الخطاب بعشرین رکعۃ والوتر۔
(معرفۃ السنن والآثار للبیہقی: ج2ص305کتاب الصلوۃ)
فائدہ:چونکہ یہ روایت تمام رواۃ کی مرویات کے خلاف تھی اس لیے علماء نے اس کے بارے میں دو موقف اختیار کیے ہیں۔
(۱) ترجیح (۲) تطبیق
ہر ایک کے متعلق محققین کی آراء پیش کی جاتی ہیں:
ترجیح :
اس روایت (گیارہ رکعت)کو راوی کا وہم قرار دے کر مرجوح قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ ابن عبدالبر لکھتے ہیں:
ان الاغلب عندی ان قولہ احدی عشرۃ وھم
(الزرقانی شرح موطا: ج1ص215)
کہ میرے نزدیک غالب (راجح ) یہی ہے کہ راوی کا قول ”احدی عشرۃ“ [گیارہ رکعت]وہم ہے۔
تطبیق: بعض حضرات نے یوں تطبیق دی ہے۔مثلاً:
1: قال العینی: لعل ھذا کان من فعل عمر اولا ثم نقلھم الی ثلاث وعشرین.
(عمدۃ القاری: ج8ص246)
2: قال علی القاری : وجمع بینھمابانہ وقع اولا (ای احدی عشرۃ رکعۃ فی زمان عمر)ثم استقر الامر علی العشرین فانہ المتوارث
(مرقاۃ المفاتیح: ج3ص345)
3:قال العلامۃ محمد بن علی النیموی: وجمع البیھقی بینھما کانوا یقومون باحدی عشرۃ ثم قاموا بعشرین واوتروا بثلاث وقدعد وا ماوقع فی زمن عمر کالاجماع.
( حاشیۃ آثارالسنن ص221

)

Download PDF File