نبی کریم ﷺ کی قُربت

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
نبی کریم ﷺ کی قُربت
اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا میں آزمائشوں اور فتنوں سے محفوظ رکھے اور آخرت میں اپنی ناراضگی اور عذاب سے نجات عطا فرمائے۔ قیامت کا دن بہت سخت ہوگا اس دن ہر شخص اس فکر میں ہوگاکہ اس کے گناہ معاف ہو جائیں، اس کی نیکیاں قبول ہو جائیں،پل صراط سے عافیت سے گزر جائے، اَعمال نامہ دائیں ہاتھ میں مل جائے، مغفرت کا فیصلہ ہو جائے اور وہ جنت میں داخل ہو جائے۔ ان کا مدار اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت پر ایمان لانے اور اس پرعمل کرنے سے ہے اس کے ساتھ ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کو انسان کی نجات میں بہت بڑا دخل ہے جس شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت صحیح معنوں میں نصیب ہو گئی اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت نازل ہو گی اور وہ شخص جنت داخل ہوجائے گا اور جس شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب نہ ہوئی اسے کہیں جائے پناہ نہیں ملے گی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنی ایک حدیث مبارک میں چند ایسے خوش نصیب لوگوں کا تذکرہ فرمایا ہے جن کو قیامت والے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قُربت نصیب ہوگی جس کی برکت سے وہ قیامت کی ہولناکیوں سے محفوظ ہو جائیں گے اور چند ایسے بد نصیب لوگوں کا بھی ذکر فرمایا ہے جن سے قیامت والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوں گے اور ان کی طرف توجہ نہیں فرمائیں گے جس کی وجہ سے وہ قیامت کی ہولناکیوں کا شکار ہوکر ذلت و خواری میں مبتلا ہو جائیں گے۔
قیامت کے دن دو طرح کے لوگ:
عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ مِنْ أَحَبِّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبِكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ القِيَامَةِ أَحَاسِنَكُمْ أَخْلَاقًا وَإِنَّ أَبْغَضَكُمْ إِلَيَّ وَأَبْعَدَكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ القِيَامَةِ الثَّرْثَارُونَ وَالْمُتَشَدِّقُوْنَ وَالْمُتَفَيْهِقُوْنَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ عَلِمْنَا الثَّرْثَارُوْنَ وَالْمُتَشَدِّقُوْنَ فَمَا المُتَفَيْهِقُونَ؟ قَالَ: اَلمُتَكَبِّرُوْنَ۔
جامع الترمذی، رقم الحدیث:2018
ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت والے میں میرے سب سے زیادہ محبوب اور قریب وہ لوگ ہوں گے جن کے اخلاق سب سے اچھے ہوں گے اور قیامت والے دن مجھے سب سے زیادہ ناپسند اور مجھ سے دور وہ لوگ ہوں گے جن کی زبانیں بے لگام ہوں گی ، لوگوں کو بے عزت اور بے آبرو کرنے والے ہوں گے اور جو غرور تکبر میں مبتلا ہوں گے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی کہ ثرثارون )بدزبان(اور متشدقون (بداخلاق(کامعنی تو ہمیں معلوم ہے لیکن متفیہقون کے مرادی معنی آپ ارشاد فرما دیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد تکبر کرنے والے لوگ ہیں۔
حُسنِ اَخلاق کا وسیع مفہوم:
حُسنِ اَخلاق یہ ایسا جامع اور معنویت سے لبریز لفظ ہے جو تمام احکامِ شرعیہ کو اپنے اندرسموئے ہوئے ہے۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ فحاشی و بے حیائی اور دیگر تمام گناہوں سے بچنا حُسنِ اَخلاق کی تکمیل کےلیے ضروری ہے ۔
حُسنِ اخلاق کے لیے ضروری ہے کہ مخلوقِ خدا کے بارے انسان کے دل میں جذبۂ خیرخواہی موجود ہو، لوگوں سے خندہ پیشانی سے پیش آئے، اس کا کردار اچھا ہو اور اس کی گفتار سے کسی دوسرے مسلمان کو تکلیف نہ پہنچے۔
حُسنِ اَخلاق کے تین بنیادی اوصاف:
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ المُبَارَكِ رَحِمَہُ اللہُ أَنَّهُ وَصَفَ حُسْنَ الخُلُقِ فَقَالَ: هُوَ بَسْطُ الوَجْهِ وَبَذْلُ المَعْرُوفِ وَكَفُّ الأَذٰى۔
جامع الترمذی، رقم الحدیث: 2005
ترجمہ: امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ حُسنِ اَخلاق کے بنیادی اوصاف ذکر کرتےہیں کہ بااخلاق شخص وہ ہے۔ 1:جو لوگوں سے خندہ پیشانی سے ملے ۔ 2: ان سے بھلائی کا برتاؤ کرے۔ 3: انہیں تکلیف دینے سے خود بچائے۔
حُسنِ اَخلاق سب سے وزنی عمل:
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا شَيْءٌ أَثْقَلُ فِي مِيزَانِ المُؤْمِنِ يَوْمَ القِيَامَةِ مِنْ خُلُقٍ حَسَنٍ وَإِنَّ اللهَ لَيُبْغِضُ الفَاحِشَ البَذِيءَ۔
جامع الترمذی، رقم الحدیث: 2002
ترجمہ: حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت والے دن مومن کے نیک اعمال میں سے حسن اخلاق سے بڑھ کر کوئی نیک عمل زیادہ وزنی نہیں ہوگا اور بے شک اللہ تعالیٰ بے حیائی اور گندی باتیں کرنے والے شخص کو بہت ناپسند فرماتے ہیں ۔
حُسنِ اَخلاق کی بدولت جنت :
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْثَرِ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ الجَنَّةَ، فَقَالَ:تَقْوَى اللهِ وَحُسْنُ الخُلُقِ۔
جامع الترمذی، رقم الحدیث:2004
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ پوچھا گیا کہ جنت میں زیادہ تر لوگ کس عمل کی وجہ سے جائیں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ خداخوفی اور حسن اخلاق کی وجہ سے جائیں گے ۔
خُلق حَسن، خُلق کریم اور خُلق عظیم:
حکیم الاسلام قاری محمد طیب قاسمی رحمہ اللہ نے اپنے خطبات میں ایک جگہ یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ خُلق کی تین قسمیں ہیں:) 1) خلق حسن)2(خلق کریم )3(خلق عظیم۔خلق حسن یہ ہے کہ برائی کا بدلہ لیا جائے ، خلق کریم یہ ہے کہ برائی کا بدلہ نہ لیا جائے بلکہ معاف کر دیا جائے جبکہ خلق عظیم یہ ہے کہ برائی کرنے والے کو معاف کر کے اس پر احسان بھی کیا جائے۔ تینوں کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے۔
1:اَخلاقِ حسنہ کی تعلیم:
فَمَنِ اعۡتَدٰی عَلَیۡکُمۡ فَاعۡتَدُوۡا عَلَیۡہِ بِمِثۡلِ مَا اعۡتَدٰی عَلَیۡکُمۡ
سورۃ البقرۃ، رقم الآیۃ:194
ترجمہ: جو شخص تم پر زیادتی کرے )بشرطیکہ وہ کام شرعاً گناہ نہ ہو(تو تم بھی اس سے اسی کے برابر بدلہ لے لو جتنی اس نے تم پر زیادتی کی ہے۔
2: اَخلاقِ کریمانہ کی تعلیم:
فَمَنۡ عَفَا وَ اَصۡلَحَ فَاَجۡرُہٗ عَلَی اللّٰہِ
سورۃ الشوریٰ، رقم الآیۃ:40
ترجمہ: جو شخص )بدلہ لینے کے بجائے(معاف کر دے اور صلح کرلے تو اس کا اجر وثواب اللہ تعالیٰ نے بطور احسان خود اپنے ذمہ لے لیا ہے۔
3: اَخلاقِ عظیمہ کی تعلیم:
وَالۡکٰظِمِیۡنَ الۡغَیۡظَ وَالۡعَافِیۡنَ عَنِ النَّاسِ وَاللہُ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ
سورۃ آل عمران، رقم الآیۃ:134
ترجمہ: جو)بدلہ لینے کی قدرت کے باوجود(غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو )ان کی غلطیاں( معاف کرنے والے ہیں اللہ تعالیٰ ایسے نیک لوگوں سے محبت فرماتے ہیں ۔
فائدہ: تفسیرعثمانی میں مذکورہ بالا آیت کی تفسیر اس طرح ملتی ہے کہ غصہ کو پی جانا ہی بڑا کمال ہے اس پر مزید یہ کہ لوگوں کی زیادتی یا غلطیوں کو بالکل معاف کر دیتے ہیں اور نہ صرف معاف کرتے ہیں بلکہ احسان اور نیکی سے پیش آتے ہیں۔
جو مسلمان حُسنِ اَخلاق کے وسیع تر اور جامع مفہوم کو سمجھ کر اس خوبی کو اپنے اندر پیدا کر لے وہ قیامت والے دن میدانِ محشر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب رہے گا جس کا معنی یہ ہے کہ ایسے شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت ملے گی اور جسے شفاعت نصیب ہوگئی اس کی برائیاں معاف کر دی جائیں گی ، نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں مل جائے گا ، ہمیشہ ہمیشہ کے لیےجہنم سے پناہ اور جنت میں داخل ہونا نصیب ہوجائےگا ۔اس لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ لوگوں سے خندہ پیشانی سے پیش آئیں، ملاقات کے وقت ہنس مکھ رہیں، تواضع اور محبت کا برتاؤ کریں۔ منہ پر ناگواری کےآثار نہ لائیں ، لہجے میں تلخی نہ لائیں، گفتگو میں سختی نہ لائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کے بارے نیک جذبات اور نیک نیتی کا رویہ رکھیں، جہاں تک ممکن ہو لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے اور انہیں سکھ دینے کی کوشش کریں کسی کو اپنی ذات بالخصوص اپنی زبان سے تکلیف نہ دیں ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اَخلاق حسنہ، اَخلاقِ کریمانہ اور اَخلاقِ عظیمہ اپنانے کی توفیق عطا فرمائے ۔
آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم ۔
والسلام
محمدالیاس گھمن
پیر ،23نومبر ، 2020ء