میرا جرم کیا ہے

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
میرا جرم کیا ہے ؟؟
……مولانا امان اللہ
سفیان ابھی سکول سے گھر واپس آیا ہی تھا، بستہ رکھا، یونیفارم تبدیل کر کے کھانے کے لیے بیٹھا ہی تھا۔ بڑے بھائی نے دیکھا کہ سفیان گھر آگیا ہے سفیان کو دیکھتے ہی کمپیوٹر سے توجہ ہٹا کر کہنے لگا: سفیان میں کافی دیر سے تیرا انتظار کررہا تھا کھانا کھالینے کے بعد جلدی سے میرے نمبر پر ایزی لوڈ کروا دینا یہ لو پیسے۔ سفیان کھانے کے بعد ایزی لوڈ کروانے کے لیے چلا گیا۔ گھر واپس پہنچا تو اس کی کی امی نے کہا بیٹا سفیاں ابھی تک پکانے کے لیے سبزی نہیں آئی یہ لو پیسے اور بھاگ کر ذرا بازار سے سبزی تو لے آؤ اور ہاں ساتھ میں سبز دھنیا اور ہری مرچیں بھی لے آنا۔ بازار؛ سفیان کے گھر سے کافی دور تھا اس لیے بار بار جانا آسان کام نہ تھا، خیر امی کی بات سفیان کیسے ٹال سکتا تھا، امی سے سبزی کے پیسے لیے اور بازار کی طرف چل پڑا ابھی بازار پہنچا بھی نہیں تھا راستے میں چاچا جان مل گئے پوچھا: سفیان کدھر جارہے ہو؟بتایا سبزی لینے جارہا ہوں ، چچا جان کہنے لگے بیٹا ایک کام میرا بھی کرتے جانا یہ کہتے ہوئے کہا چلو پہلے میرے ساتھ آجاؤ میں کچھ سامان دیتا ہوں وہ میرے گھر دے دینا وہ سامان بھی تھوڑا نہ تھا گھر کا پورے ہفتے کا کھانے کا راشن تھا، سفیان نے سامان کندھے پر رکھا اور سبزی خریدی گھر پہنچ کر اپنا سامان نکال کر چچا جان کا سامان دینے ان کے گھر چلا گیا۔ ابھی ان کے گھر کی گلی میں مڑا ہی تھا کیا دیکھتا ہے کہ چچی جان دروازے میں کھڑی ہے دیکھتے ہی خوشی سے کہنے لگی سفیان شکر ہے تو آگیا میں تو کافی دیر سے انتظار کررہی تھی کہ کوئی آئے، یہ پانچ سو روپے پکڑ اور میرے مہمان آرہے ہیں جلدی سے ان کے لیے دس سموسے ایک کلو پکوڑے اور دو بوتلیں لے آ اور ہاں آنا ذرا جلدی مہمان آنے ہی والے ہیں ذرا بھاگ کر۔ سفیان نے یہ سارا سامان لیا چچی کو دینے کے بعد اپنے گھر چلا گیا جیسے ہی گھر کے دروازے میں داخل ہو باجی کی نظر سفیان پر پڑی تو خوشی میں اچھل کر کہنے لگی او آگیا سفیان! یہ کہتے ہوئے دروازے کی طرف دوڑی اور کہا سفیان بھیا ان میں پچاس روپے تیرے ہیں ذرا جلدی سے دیکھ میں سلائی کررہی ہوں میرا دھاگا ختم ہوگیا بھاگ کر جا اور ایک نیلی نلکی اور یہ دس روپے کی بکرم لے کر آ جا میں تیرا انتظار کر رہی ہوں۔ سفیان یہ سامان لے کر گھر پہنچا تو بڑے بھائی پھر کمپیوٹر سے توجہ ہٹاتے ہوئے بولے : سفیان! تو شعیب کو تو جانتا ہے نا؟ سفیان جی، یہ بلا اور گیند لے جاؤ وہ گراونڈ میں ہیں ان کو دے دینا اور ہاں مغرب کی اذان کے وقت وہ کھیل بند کر دیتے ہیں اس وقت یاد سے واپس لے کر آنا۔ سفیان بوجھل سا ہوکر جی ٹھیک ہے جی۔ سفیان گھر واپس پہنچا اور اپنا بستہ کھول کر سکول کا کام کرنے کے لیے اپنی کاپیاں اور کتابیں نکالیں سکول کا کام کرنے کے لیے بیٹھا ہی تھا کہ باہر سے کسی نے گھنٹی بجادی، ابو کی آواز آئی سفیان دیکھو باہر کون ہے؟سفیان نے آکر بتایا کہ بھائی جان کے دوست ان کو ملنے آئے ہیں وہ بھائی کو باہر ہی بلا رہے ہیں کچھ دیر کے بعد دودھ والے نے موٹر سائیکل کا ہارن دیا جو اپنی آمد کا احساس دلانے کے لیے تھا۔ بھائی نے دروازے سے منہ اندر داخل کرتے ہوئے قدرے زور سے کہا :سفیان سفیاااااان! دودھ لے لو۔سفیان دودھ لے کر جب گھر میں داخل ہوا تو رورہا تھا اور روتے ہوئے امی کے پاس دودھ لے کر آیا تو امی یکدم اٹھی سفیان بیٹا !کیا ہوا بھائی نے مارا ہے کیا؟ یا دودھ والے نے کچھ کہا؟رو کیوں رہا ہے ؟ ماں بولتی چلی گئی سفیان نے کہا میرا جرم کیا ہے؟ کیا یہی کہ میں گھر میں سب چھوٹا ہوں پھر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع ہوگیا اور اس طرح وہ اپنی تھکاوٹ کا احساس دلا رہا تھا۔